Baaghi TV

Tag: چیف جسٹس

  • بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ ،خیبرپختونخوامیں شیشم کے درخت کاٹنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اخبار میں تھا نئی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کوئی شق شامل کی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا ہر شہری صحت مندانہ ماحول کا حقدار ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ کی شق شامل کرنا قابل تعریف ہے،پاکستان کے آئین میں بھی ماحولیات کے تحفظ کا ذکر اب موجود ہے، سائنسی طور پر بھی ثابت ہے قوموں کی اچھی صحت اچھے ماحول پر منحصر ہے، اسلام نے بھی صاف ستھرے ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ماحولیاتی آلودگی کے سبب کئی شہروں میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اور لا افسر کیوں نہیں آتا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے جواب دیا کہ اب آگے باقی لا افسران بھی آیا کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ آپکے اس جملے میں کہیں کوئی مطلب تو نہیں چھپا ہوا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزز جیسے الفاظ آئینی اداروں کیلئے استعمال نہ کیا کریں، آئینی اداروں کیلئے وہی الفاظ استعمال ہونے چاہیئں جو آئین میں لکھے ہوئے ہیں،بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، ایسا نہیں ہے ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا،عدالت نے خیبرپختوامیں جنگلات کے تحفظ سے متعلق کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری،پارلیمنٹیرین پر دباؤ کا معاملہ،سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست افرسیاب خٹک نے دائر کر دی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، 26ویں آئینی ترمیم میں ارکان اسمبلی نے ووٹ رضا کارانہ طور پر ڈالا یا دباؤ کے تحت انکوائری کی جائے،سپریم کورٹ معاملے کے خود انکوائری کرے یا جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے ارکان پر دباؤ کے معاملے کی انکوائری کروائے، 26ویں آئینی ترمیم درست طریقے سے منظور نہیں کی گئی،ارکان اسمبلی کے انتخابی تنازعات الیکشن ٹریبونل میں زیر التوا ہیں،26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دے کر خارج کیا جائے، عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادہ ڈھانچہ ہے،ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ ، چیف جسٹس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی، اور آئینی بینچوں کا قیام عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر آئینی بینچز سماعت نہیں کر سکتے، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست میں ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک اور خط لکھ کر ایک بار پھر مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کی ہے

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو نیا خط 23 اکتوبر کو لکھا، خط چیف جسٹس کو بطور سربراہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی لکھا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھے گئے خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا پہلے بھی لکھا تھا ترمیمی آرڈیننس پر فل کورٹ بیٹھنے تک خصوصی بینچز کا حصہ نہیں بنوں گا،جسٹس منصورعلی شاہ کے خط میں سر تھامس مورے کا قول بھی لکھا گیا ہے، سر تھامس مورکہتےہیں جب سیاستدان اپنے عوامی فرائض کی خاطر اپنے ذاتی ضمیر کو ترک کر دیتے ہیں تو وہ اپنے ملک کی تباہی کی جانب مختصر راستے پر رہنمائی کرتے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ ہم اقتدار میں رہتے ہوئے اکثر بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کے لوگ ہمارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں، تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ، آئینی بنچز کو مقدمات کی منتقلی کا سلسلہ جاری ہے

    عدالت نے اسلام آباد میں شُفہ سے متعلق مقدمہ آئینی بنچ کو بھجوا دیا ،جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں تو آئینی شقوں کی تشریح کرنا ہوگی،یہ مقدمہ تو اب آئینی بنچ کو منتقل ہونا چاہیے، وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن ہونا یہی چاہیے، نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،آفس کو ہدایت کی ہے جن مقدمات میں کوئی قانون چیلنج ہوا ہے انکی الگ کیٹیگری بنائی جائے، جن مقدمات میں آئین کی تشریح کی ضرورت ہوئی وہ ساتھ ساتھ منتقل کرتے رہیں گے،

    نامزد چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ کے مختلف بنچز نے گزشتہ روز بھی مقدمات آئینی بنچ کو منتقل کیے تھے

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری کر دی گئی ہے، دیکھتے ہیں اب سینئر ججز کام کرتے ہیں یا مستعفی ہوں گے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان تقرری کر دی گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے.اب سوال یہ ہے کہ وہ سینئر ججز جن کو بائی پاس کیا گیا، کیا وہ استعفیٰ دیں گے،جیسا کہ مسلح افواج میں روایت ہے ،یا وہ سینئر ججز سپریم کورٹ میں اب کسی جونیئر کے ماتحت کام کرتے رہیں گے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے لیے روز آنا اور کسی جونیئر سے آرڈر وصول کرنا بہت مشکل ہے۔ میں صرف متجسس ہوں کہ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تقرر کر دیا گیا ہے، وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،

    پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے ناموں پر بطور چیف جسٹس غورکیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر ،دونوں ججز جسٹس یحییٰ آفریدی سے سینئر ہیں تا ہم پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر بطور چیف جسٹس اتفاق کیا.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ملاقات

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

  • جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری کو پاکستان کی مختلف بار کونسلز نے خوش آئند قرار دے دیا

    سندھ، لاہور، خیبر پختونخوا، بہاولپور اور اسلام آباد بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان نامزدگی کا خیر مقدم کیا،بار کونسلز نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس نامزد ہونے پر مبارکباد دی اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا،لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی خوش آئند ہے،انکی نامزدگی سے انصاف کی فراہمی کی توقع ہے،اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتی ہے،ملکی مفاد کے لئے جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی اہم قدم ہے،لائق تحسین ہے.

    خیبر پختونخوا بار کے وائس چیئرمین صادق علی اور دیگر کا کہنا تھا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری احسن قدم ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک طویل عرصے کے لئے خیبر پختونخوا کے کسی جج کو چیف جسٹس تقرر کیا گیا،خیبر پختونخوا بار انصاف کی فراہمی، قانون کی بالا دستی کے لئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی.

    واضح رہے کہ وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے،صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

  • جسٹس  یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس  آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزارت قانون نے نئے جسٹس یحییٰ آفریدی کا بطور نئے چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،جسٹس یحییٰ آفریدی کی تعیناتی 3سال کیلئے کی گئی ہے۔

    صدر مملکت نے تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت کی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی سے 26 اکتوبر کو چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کی بھی منظوری دے دی۔

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی …

    واضح رہے کہ چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جج یحیٰی آفریدی کو اگلے چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر نامزد کیا تھا چیف جسٹس پاکستان کی تقریری کیلئے سنیارٹی کے لحاظ سے جسٹس منصور علی شاہ پہلے، جسٹس منیب اختر دوسرے اور جسٹس یحییٰ آفریدی تیسرے نمبر پر تھےتاہم پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں دوتہائی اکثریت نے یحییٰ آفریدی کے نام کی منظوری دی۔

    کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے یحییٰ آفریدی کے نام پر اصرار کیا جب کہ پی ٹی اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا کمیٹی نے یحییٰ آفریدی کا نام وزیر اعظم کو ارسال تھا اور ان کی ایڈوائس پر اسے صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ آفریدی بطور چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری دے دی وہ پاکستان کے 30 ویں چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے جو 26 اکتوبر کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت نے جسٹس یحییٰ کی تقرری آئین کے آرٹیکل 175 اے (3)، 177 اور 179 کے تحت 26 اکتوبر سے اگلے تین سال تک کے لئے کی ہےجبکہ موجودہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی مدت 25 اکتوبر کو مکمل ہو رہی ہے۔

  • 26 ویں آئینی ترمیم نافذ، نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی

    26 ویں آئینی ترمیم نافذ، نیا چیف جسٹس کون ہوگا؟نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی

    اسلام آباد: 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد قومی اسمبلی سے منظور ترامیم منظوری کے بعد باقاعدہ آئین کا حصہ بن گئی ہیں تاہم اب 26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نام بھجوانے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کیلئے نام بھیجنے کیلئے 35 گھنٹے کا وقت باقی ہے،سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس 22 اکتوبر رات 12 بجے تک تین نام آئینی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 175 اےکی ذیلی شق 3 کے تحت 3 سینئر ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کوبھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا تقرر کرے گی۔

    26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر جسٹس منصور اور جسٹس عائشہ کے ریمارکس

    ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے کیلئے جن تین سینئر ترین ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا، اُن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مُنیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو ممکنہ طور پر پاکستان کا آئندہ چیف جسٹس مقرر کیا جا سکتا ہے،-

    26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی عمل کا جائزہ لے رہے …

  • مخصوص نشستوں کا کیس: 8 ججوں کی دوسری وضاحت پر چیف جسٹس  کا اظہار برہمی

    مخصوص نشستوں کا کیس: 8 ججوں کی دوسری وضاحت پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی

    اسلام آباد:مخصوص نشستوں کے کیس میں 8 ججوں کی دوسری وضاحت پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں 8 ججوں کی دوسری وضاحت پر ڈپٹی رجسٹرار مجاہد محمود سے وضاحت طلب کرلی، چیف جسٹس نے اسسٹنٹ رجسٹرار شاہد حبیب اور ویب ماسٹر عاصم جاوید سے بھی وضاحت طلب کر لی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وضاحت طلب کی کہ اوریجنل فائل جمع کیے بغیر وضاحت کیسے جاری ہوئی؟

    ذرائع کے مطابق ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار عمل درآمد کو وضاحت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا جبکہ ویب ماسٹرسے جواب طلب کیا گیا ہے کہ بغیراوریجنل فائل جمع کرائے وضاحت سپریم کورٹ ویب سائٹ پرکیسےآئی؟

    واضح خیال رہے کہ گزشتہ روز مخصوص نشستوں کے کیس پر سپریم کورٹ کے اکثریتی 8 ججز نے دوسری مرتبہ وضاحت جاری کی تھی، اکثریتی ججز کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے 12 جولائی کا فیصلہ غیر مؤثر نہیں ہو سکتا، الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ماضی سے اطلاق کو وجہ بنا کر فیصلہ غیر مؤثر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا، مختصر حکمنامے کے بعد الیکشن ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس کے جواب میں ذرائع کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن نے تاحال مخصوص نشستوں پر الیکشن ایکٹ ترمیم پر عملدرآمد کا فیصلہ نہیں کیا تاہم کمیشن کا الیکشن ایکٹ ترمیم پر عملدرآمد کا امکان ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ قانون میں ترمیم کی صورت میں نئے قانون پر عملدرآمد ہوگا۔

  • آٹھ ججز سے نہیں سپریم کورٹ سے وضاحت مانگی تھی،ذرائع الیکشن کمیشن

    آٹھ ججز سے نہیں سپریم کورٹ سے وضاحت مانگی تھی،ذرائع الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ کے آٹھ اکثریتی ججز کی وضاحت پر ردعمل سامنے آیا ہے

    الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی آج کی وضاحت غیر قانونی ہے اور الیکشن کمیشن اسکا بالکل بھی پابند نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے جو صرف آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے وضاحت مانگی تھی سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی یا 13 رکنی بنچ سے کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی ۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس میں الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف کی فیصلہ کی وضاحت کی دوسری درخواست پر وضاحت جاری کردی ہے،اکثریتی آٹھ ججز کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے 12 جولائی کا فیصلہ غیر موثر نہیں ہو سکتا،الیکشن کمیشن 12 جولائی کے فیصلے پر عمل درآمد کا پابند ہے،الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا ماضی سے اطلاق سپریم کورٹ پر نہیں ہوسکتا،اکثریتی ججز نےاپنی وضاحت الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم دے دیا،

    مخصوص نشستیں،سپیکر کے خط کے بعد الیکشن کمیشن نے کی رائے طلب

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    الیکشن کمیشن جلد از جلد مخصوص نشستوں کا اعلان کرے،بیرسٹر گوہر

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اکثریتی ججز کی وضاحت، چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ،جواب مانگ لیا

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کیا جائے،اسپیکر کے پی اسمبلی کا خط

    قومی اسمبلی،تحریک انصاف کا ایک بھی رکن نہیں،پارٹی پوزیشن جاری