Baaghi TV

Tag: چین

  • کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    بیجنگ: چین نے کورونا وائرس سے متعلق امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کی رپورٹ مسترد کر دی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ میں چینی سفارتخانے کے ترجمان لیو بنگ یو نے کہا کہ سی آئی اے کی رپور ٹ پر کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتاہم کورونا وائرس کی اصل کو سیاسی بنانے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور ہم سب سے ایک بار پھر سائنس کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم سازشی نظریات سے بھی دور رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے گزشتہ ہفتے کو جاری ہونے والی اپنی حالیہ رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ ممکنہ طور پر اس وبائی مرض کا ذمہ دار وائرس لیبارٹری سے لیک ہوا ہےایجنسی نے چین پر الزام عائد کیا تاہم یہ اعتراف بھی کیا کہ اسے حاصل کردہ اپنے ہی نتائج کے بارے میں مکمل اعتماد نہیں ہے۔

    محسن نقوی کا 4 فروری کو سرینا چوک انٹرچینج پراجیکٹ کے افتتاح کا اعلان

    یاد رہے کہ کووڈ 19 کی ابتدا کے بارے میں پچھلی رپورٹس اس بات پر منقسم تھیں کہ آیا کورونا وائرس کی ابتدا چینی لیبارٹری سے ہوئی یا شاید غلطی سے پیدا ہوا یا یہ قدرتی طور پر پیدا ہوانئے تجزیے سے بات چیت کے حل ہونے کا امکان نہیں ہے انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چینی حکام کے تعاون کی کمی کی وجہ سے یہ کبھی حل نہیں ہو سکتا، اگرچہ وائرس کی اصلیت ابھی تک نامعلوم ہے تاہم سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر مفروضہ یہ ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں میں پھیلتا ہے پھر یہ وائرس دیگر جانوروں میں آتا ہے اور ان جانوروں سے انفیکشن انسانوں میں پھیل جاتا ہے۔

    او آئی سی رکن ممالک کا اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا عزم

  • چین اور بھارت کا  دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر  اتفاق

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    چین اور بھارت نے پانچ سال بعد براہ راست فضائی سروس دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری سے ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک دوبارہ براہ راست فضائی سروسز کے آغاز پر رضامند ہوگئے ہیں۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کی بہتری کی سمت میں یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام اس سلسلے میں ایک فریم ورک پر بات چیت کریں گے، جس کے لیے ملاقات جلد متوقع ہے۔ اس بات چیت کا مقصد فضائی سروسز کے دوبارہ آغاز کے لیے عملی اقدامات طے کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں چین اور بھارت کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں فوجی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں براہ راست فضائی سروسز معطل کردی گئی تھیں۔ اس کشیدگی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سفری رابطوں میں رکاوٹ آئی، اور یہ اقدام ایک طویل عرصے کے بعد تعلقات میں نرمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    چین اور بھارت کے درمیان فضائی سروسز کا دوبارہ آغاز دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات میں بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان کے اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام کی توقع کی جارہی ہے۔یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اپنی موجودہ چیلنجز کے باوجود دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور تعاون کی راہ پر آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • وزیر اعلیٰ مریم نواز کےدورہ چین کے ثمرات،  چھ ہفتے میں تیز ترین فارن انویسٹمنٹ کا آغاز

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کےدورہ چین کے ثمرات، چھ ہفتے میں تیز ترین فارن انویسٹمنٹ کا آغاز

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کےدورہ چین کے ثمرات، چھ ہفتے میں تیز ترین فارن انویسٹمنٹ کا آغاز ہو گیا

    پنجاب میں پہلی مرتبہ ماحول دوست ایگریکلچر اینڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ای میکانائزیشن کا آغازہو گیا،بیجنگ اے آئی فورس ٹیک اور ڈائیوو پاکستان کے درمیان سالڈ ویسٹ کے لیے جدید اے آئی بیسڈ مشینری کے لئے ایم او یو پر دستخط کر دیئے گئے، وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی موجودگی میں اے آئی فورس ٹیک کے سی ای او ڈاکٹر ہان وے اور ڈائیوو پاکستان کے محمدخالد نے ایم او یو پر دستخط کیے،

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بیجنگ اے آئی فورس ٹیک کے سی ای او اور چیئرمین ہان وی کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی،پنجاب میں ای ایگریکلچر میکانائزیشن کے لئے اسمبلینگ اور مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے پر اتفاق کیا گیا،چین کی اے آئی فورس ٹیک کمپنی پنجاب میں روبوٹک ایگریکلچر آلات تیار کرنے کا پلانٹ لگائے گی،ایگریکلچر سیکٹر کے لئے ٹرانسپورٹیشن روبوٹ اور ہار ویسٹنگ روبوٹس کے استعمال کا جائزہ لیا گیا،پنجاب میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سیکٹر میں جدید اور خودکار اے آئی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے گا ،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خودکار مشینری کا استعمال کیا جائے گا، بیجنگ اے آئی فورس ٹیک لاہور کے مضافات میں ای میکانائزڈ ماڈل فارم ڈویلپ کرے گی،17ایکڑ پر مشتمل ماڈل فارم میں الیکٹرک ٹریکٹر، ہارویسٹر، لینڈ لیولر اور دیگر مشینری استعمال ہوگی،اے آئی فورس ٹیک چارجنگ کے لئے گرین ہاؤس پر سولر انرجی سسٹم لگائے گی،اے آئی فورس ٹیک پنجاب میں بغیر ڈرائیور الیکٹرک ٹریکٹر بھی متعارف کراے گی،چین کی کمپنی اے آئی فورس ٹیک ای ٹریکٹر اور دیگر الیکٹرک مشینری کے لئے چارجنگ سٹیشن بھی قائم کرے گی، اے آئی فورس ٹیک،لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو بھی ای ٹریکٹر اور دیگر زرعی مشینری فراہم کرے گا،اے آئی فورس ٹیک روبوٹک فارمنگ، سیڈز، ویدر فورکاسٹ، زمین کی فرٹیلیٹی بڑھانے میں بھی معاونت کرے گی ،اے آئی فورس ٹیک ماڈرن ایگریکلچر فارمنگ میں پانی کے کم از کم استعمال سے پیداوار کے حصول کے لئے رہنمائی کرے گی،ڈیجیٹل پلانٹیشن، ڈیجیٹل لیب کے قائم، سیٹلائٹ کے ذریعے مانیٹرنگ اور ایڈوانس ریسرچ میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جلد از جلد 15 سے 16 فارن انویسٹمنٹ کا ہدف پورا کیا جائے گا۔ بیجنگ اے آئی فورس سے شراکت ستھرا اور سرسبز پنجاب کے وژن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔حکومت پنجاب عوامی خدمت کے ہر شعبے میں جدت لانے پر کاربند ہے۔بیجنگ اے آئی فورس سے معاہدہ پنجاب ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ مسٹر ہان وی کا کہنا تھا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پر پنجاب حکومت کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    اس دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید اے آئی مشینری کے ذریعے کوڑے کو مؤثر طریقے سے جمع، ٹرانسپورٹ اور ٹھکانے لگایا جائے گا- سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے اے آئی کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی کم ور صفائی کا معیار بہتر ہوگا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے وفد کے ہمراہ دورہ چین میں روبوٹک فارمنگ اور دیگر ای مشینری کا مشاہدہ کیا تھا
    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف اور وفد نے ای ایگریکلچر مشینری کے لئے معروف اے آئی فورس ٹیک کو پنجاب مدعو کیا تھا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ ن کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے فارن انویسٹمنٹ کے لئے بے مثال کامیابی حاصل کی

    حکومت نے مذاکرات ختم نہیں کیے،عرفان صدیقی

    قومی اسمبلی سے منظور شدہ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 مسترد کرتے ہیں۔لاہور پریس کلب

  • طلبہ کی چین میں جدید زرعی تربیت کا تمام خرچ حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم

    طلبہ کی چین میں جدید زرعی تربیت کا تمام خرچ حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ طلبہ کی چین میں جدید زرعی تربیت کا تمام خرچ حکومت اٹھائے گی۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت چین میں جدید زراعت کی تربیت کے حصول کیلئے جانے والے پاکستانی طلبا و طالبات کے حوالے سے اجلاس ہوا، وزیر اعظم نے اجلاس کے دوران زرعی شعبے کی تربیت کے لئے بھیجے جانے والے طلباء کا انتخاب میرٹ پر کرنے کی ہدایت کی، پورٹل سے درخواستوں کی اسکروٹنی کے دوران سلیکشن سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے کمیٹی بنانے کا بھی حکم دے دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس کی زرعی شعبے میں ترقی بے مثال ہے، دورہ چین کے دوران چینی قیادت سے زرعی شعبے میں پاکستانی طلبہ کی جدید تربیت کی درخواست کی تھی، طلبہ کی چین میں جدید زرعی تربیت کا پورا خرچ حکومت پاکستان اٹھائے گی، بہت جلد طلبہ کا پہلا بیچ زراعت کے شعبے میں جدید تربیت کیلئے چین روانہ ہوگا، چین جانے والے طلبہ میں 10 فیصد خصوصی کوٹہ بلوچستان کے طلباء کیلئے مختص کیا گیا، چین کے مشکور ہیں جنہوں نے پاکستانی طلبہ کو جدید زرعی تربیت کا موقع دیا۔

    بگ میک اور ڈائیٹ کوک کے عادی ٹرمپ 78 سال کی عمر میں کیسے لڑ رہے ہیں؟

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو حکمناموں کی فہرست جاری

    مختلف ممالک سے 200 سے زائد پاکستانی بے دخل

  • چین  میں گھناؤنے جرائم کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی

    چین میں گھناؤنے جرائم کے الزام میں 2 افراد کو پھانسی

    بیجنگ: چین نے گھناؤنے جرائم کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی،چین دنیا میں سب سے زیادہ پھانسی دینے والا ملک بن گیا

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین میں آج اس شخص کو پھانسی دی گئی جس نے نومبر میں کھیل کے میدان میں اپنی کار شہریوں پر چڑھا دی تھی اس واقعے میں 35 افراد کو ہلاک ہوگئے تھے جسے گزشتہ 10 برسوں میں چین میں کسی واقعے میں اتنی ہلاکتوں کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا گیا تھا قاتل ایک 62 سالہ شخص فان ویکیو تھا جس نے اپنی طلاق پر شرا ب کے نشے میں کار چلائی اور درجنوں افراد کو موت کی نیند سلادی تھی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب اور یو اے ای صدر کیخلاف سوشل میڈیا مہم کیس، مزید 4 افراد گرفتار

    اسی طرح ایک اور ملزم کو بھی پھانسی دیدی گئی جس نے نومبر میں ہی کالج کیمپس میں چاقو کے وار کے 8 افراد کی جان لی تھی 21 سالہ سو جیاجین اسی کالج میں گریجویشن کا طالب علم تھا اور فیل ہونے، سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرپانے اور انٹرن شپ معاوضے سے خوش نہ ہونے پر حملہ کیا تھا۔

    علی امین پختونوں کی غیرت پر سیاہ دھبہ ہے،عظمی بخاری

  • ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے ذاتی طور پر یہ کہا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ تین مختلف ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ کے ساتھ کھلے ڈائیلاگ کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ چین کے بارے میں سخت موقف اپنانا بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کئی ممالک کے دورے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں بھارت بھی شامل ہے، جہاں وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

    ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعہ کو فون پر بات کی تھی، ٹرمپ نے شی کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت بھی دی تھی، مگر چین نے اس کی بجائے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹرمپ نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی صدور کو غیر ملکی حریفوں سے براہِ راست بات کرنی چاہیے، اور وہ اپنے انتخابی مہم کے دوران اکثر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی شی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن جیسے رہنماؤں سے بہترین تعلقات ہیں۔

    ٹرمپ کے مشیر جیسن ملر نے سی این این کو بتایا، "ٹرمپ نے اپنے پہلے چار سالوں میں یہ بات بہت مؤثر طریقے سے کی کہ اگر آپ کسی ملک کے ساتھ کچھ بدلنا چاہتے ہیں، چاہے وہ دشمن ہو یا حریف ہو، یا چین کے معاملے میں، تو آپ کو ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے اور کہنا ہوگا، ‘یہ وہ چیز ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔’” ملر نے مزید کہا، "کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوست بن جائیں گے؟ نہیں، بالکل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ صدر ان کے ساتھ براہِ راست سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔”ایک مشیر نے سی این این کو بتایا کہ "ٹرمپ کا مقصد شی کے ساتھ سودے کرنا ہے”۔

    انہوں نے کہا، "ٹرمپ اپنے تعلقات کو چینی صدر کے ساتھ امریکی تعلقات کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔” اس مشیر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں شی کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی تھی ،”ٹرمپ نے اس بات کو اس طرح سمجھا کہ شی یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ان کی کتنی عزت کرتے ہیں”، مشیر نے کہا، جو اس دورے میں شامل تھا۔ "وہ اس تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔”

    شی جن پنگ نے بھی ٹرمپ کے ساتھ ایک زیادہ کھلے رویے کا اشارہ دیا ہے، جس میں نومبر میں ٹرمپ کی فتح کے بعد انہیں مبارکباد دینا شامل ہے اور کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کو "نئے دور میں ایک دوسرے کے ساتھ مناسب طریقے سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک اور دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو”۔

    چیمپئنز ٹرافی:ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے،روہت شرما

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واشنگٹن میں خطاب کےاہم نکات

  • ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    ٹرمپ کی حلف برداری،چین سے کون ہو گا شریک

    چینی صدر شی جن پنگ نے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی دعوت خود قبول نہیں کی، لیکن بیجنگ نے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو واشنگٹن میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے اتوار کو امریکی نائب صدر جے ڈی ونسے سے ملاقات کی، اور پیر کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام بیجنگ کے لیے ایک اہم، خیرسگالی کا اظہار ہے کیونکہ چین ٹرمپ اور ان کی نئی کابینہ کے ساتھ بڑے تناؤ سے بچنا چاہتا ہے۔

    ہان ژینگ چین کے سب سے سینئر حکومتی اہلکار ہیں جو امریکی حلف برداری میں شرکت کر رہے ہیں، تاہم چین کے سیاسی نظام میں نائب صدر کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے۔ اصل اقتدار چینی کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولیٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے، جس سے ہان نے 2022 میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔اس کے باوجود، ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کو امریکہ بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ بیجنگ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے دلچسپی رکھتا ہے۔ ہان نے مختلف بین الاقوامی ایونٹس میں شی جن پنگ کی نمائندگی کی ہے، جن میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کا تاجپوشی بھی شامل ہے۔

    ہان نے اس دورے کے دوران امریکی کاروباری برادری کے افراد سے ملاقات کی، جن میں ٹیسلا کے سی ای او اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی ایلون مسک بھی شامل ہیں۔ چینی خبر ایجنسی کے مطابق، ہان نے مسک کے ساتھ ملاقات میں امریکی کمپنیوں سے کہا کہ وہ چین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات کو فروغ دیں۔ ٹیسلا کا سب سے بڑا پیداواری پلانٹ امریکہ کے باہر چین کے شہر شنگھائی میں واقع ہے۔

    ہان کا امریکہ پہنچنا چینی صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ایک ٹیلیفونک بات چیت کے بعد ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی نے ٹرمپ کو دوبارہ انتخاب پر مبارکباد دی اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔

    ماہرین کے مطابق ہان کا ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کرنا بیجنگ کی جانب سے اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی دعوت کو سنجیدہ لے رہا ہے اور ایک نئے تعلقات کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، یہ بھی خطرات کا سامنا کرسکتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں چین پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جو چین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔اگرچہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں اقتصادی، تجارتی، اور سیکیورٹی مسائل کی بنا پر تناؤ رہا ہے، لیکن چین کو ٹرمپ کے دور میں ان تعلقات کو بہتر کرنے کا ایک موقع نظر آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اقتصادی مقابلہ بازی کو اہمیت دیں گے، نہ کہ چین کی جانب سے امریکی عالمی حکم کے لیے خطرے کو۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ نے شی جن پنگ کو "کامیاب” اور "طاقتور” رہنما قرار دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی کوشش کرسکتے ہیں۔

    بیجنگ کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرے، خاص طور پر جب ٹرمپ کی پالیسی کا فوکس اقتصادی تعلقات پر ہوگا۔

    حج 2025 کی تیاری میں کسی قسم کی لاپرواہی قبول نہیں،وزیراعظم

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

  • ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک کی ممکنہ بندش،صارفین پر کیا اثرات مرتب ہوں گے

    ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو "ڈارک” ہو سکتا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے اس کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس کے ذریعے اس نے ایک ممکنہ پابندی سے بچنے کی کوشش کی تھی جو ایپ کو امریکہ میں بند کر سکتی ہے۔

    یہ پابندی 2024 کے اس قانون کا نتیجہ ہے جو قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر منظور کیا گیا، جس کے تحت ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کو مشہور شارٹ ویڈیو ایپ کو بیچنے یا 19 جنوری کو امریکہ میں بند کر دینے کا کہا گیا تھا۔ اسی دوران، ڈونلڈ ٹرمپ، جو پیر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا "سیاسی حل” تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے اس بارے میں چینی رہنما شی جن پنگ سے بات کی ہے۔

    ٹک ٹاک کے اندازاً 170 ملین امریکی صارفین ابھی بھی ایپ استعمال کر سکیں گے کیونکہ یہ پہلے ہی ان کے فونز میں ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، سافٹ ویئر اور سیکیورٹی اپڈیٹس نہ ملنے کی وجہ سے ایپ کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق، ایپ کا ایک ویب ورژن دستیاب ہو سکتا ہے جس میں ایپ کے مقابلے میں کم خصوصیات ہوں گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کام نہ کرے۔ بعض صارفین وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کا استعمال کرکے ٹک ٹاک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی لوکیشن اور انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کو چھپاسکیں۔

    ٹک ٹاک پر اپنا کاروبار بنانے والے ،مواد تخلیق کرنے والے اس ایپ کی ممکنہ بندش کے لئے تیاری کر رہے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو متبادل ایپس جیسے انسٹاگرام اور یوٹیوب کی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔

    ٹفنی سیانسی، جو ایک مواد تخلیق کرنے والی شخصیت ہیں، نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تجویز کردہ پابندی سے "ہمارے منتخب نمائندوں نے امریکی عوام کو ناکام کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ٹک ٹاک کے اصل اثرات کو نہیں سمجھا”۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام ہے جس نے امریکی معیشت کا ایک بڑا حصہ تخلیق کیا ہے”۔اسی طرح، مواد تخلیق کرنے والی شخصیت جینیٹ اوک نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے انہیں برانڈ ڈیلز حاصل کرنے اور اپنی موسیقی کو فروغ دینے میں مدد دی، جس سے "ایسی مواقع ملیں جو میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں سوچا تھا”۔

    مشتہرین اس پابندی کے اثرات سے بچنے کے لئے ہنگامی منصوبے تیار کر رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے اشتہاری مہمات کو متاثر کرے گا۔ ٹک ٹاک نے مشتہرین کو نئے فیچرز کی پیشکش کی ہے، جیسے ایک نیا ٹول جس کی مدد سے اشتہارات کو بڑے پیمانے پر تخلیق، ترمیم اور شامل کرنا آسان ہوگا۔اگر پابندی عائد ہو جاتی ہے تو امریکہ میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کی اشتہاری سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان آ جائے گا۔

    اس پابندی سے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر چینی حکومت پر امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندی کے بعد۔ٹرمپ اس مسئلے کے حل کے لئے ایگزیکٹو آرڈر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق، وہ چین سے کچھ اہم چیزیں حاصل کرنے کے لئے اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ امریکہ میں پابندی کا براہ راست اثر برطانیہ کے صارفین پر نہیں پڑے گا کیونکہ وہاں ٹیکنالوجی کی نگرانی برطانوی قوانین کے تحت کی جاتی ہے، تاہم برطانیہ کے ٹک ٹاک صارفین نے اس پابندی کے اثرات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ایڈن ہیلننگ، جو ٹک ٹاک پر @etherealgames کے نام سے کام کرتے ہیں، نے کہا کہ انہیں اپنے کاروبار کے حوالے سے تشویش ہے کیونکہ پابندی کی صورت میں انہیں ایپ کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "بہت سے تخلیق کار اس ایپ پر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور یہ ایپ ان کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔”یہ پابندی نہ صرف ٹک ٹاک کے صارفین بلکہ مواد تخلیق کرنے والوں اور مشتہرین کے لئے بھی ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے، اور اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

    امریکا میں چین کی معروف سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر 19 جنوری 2025 سے پابندی کا نفاذ ہونے والا ہے، کیونکہ کمپنی نے اس ایپ کے امریکی آپریشنز کو فروخت کرنے کا عمل ابھی تک مکمل نہیں کیا۔صدر جو بائیڈن نے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے کہ کیا ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو نافذ کیا جائے یا نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، حکام نے بتایا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے اس پابندی کے نفاذ کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے مستقبل کا حتمی فیصلہ اب 20 جنوری کو صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپریل 2024 میں اس قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کو 19 جنوری تک اپنی سوشل میڈیا ایپ کو امریکا میں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر بائیٹ ڈانس اس ایپ کو فروخت نہیں کرتا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو "بچانے” کے لیے اقدامات کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ اس قانون پر عملدرآمد کو 90 دن تک موخر کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ مائیک والٹز، جو کہ ٹرمپ کے نامزد قومی سلامتی کے مشیر ہیں، نے 16 جنوری کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہم ٹک ٹاک کو بند ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے”۔

    ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو، شاؤ زی چیو نے دسمبر 2024 میں فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا تھا تاکہ وہ اس ایپ پر پابندی کے خلاف ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔ شاؤ زی چیو اب ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • دنیا کو  پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اور چینی صدر شی جن پنگ دنیا کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اچھا ہوگا اور دونوں ممالک کی قیادت مستقبل میں مزید مثبت تعاون کے لیے مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عالمی طاقتیں ہیں اور ان کے تعلقات دنیا کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    بعد ازاں، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ اور شی جن پنگ مل کر مختلف مسائل جیسے تجارت، فینٹانل، ٹک ٹاک اور دیگر عالمی امور پر بات چیت کریں گے اور ان کا حل نکالیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہ عزم ہے کہ وہ اس کام کا آغاز فوری طور پر کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کے لیے بہترین حل تلاش کیا جا سکے۔

    دریں اثناء، نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔ تاہم، شدید سردی کی پیشگوئی کی وجہ سے اس بار ان کی حلف برداری کی تقریب انڈور یعنی اندرونِ عمارت منعقد ہونے کا امکان ہے۔ حکام سرد موسم کے باعث مہمانوں کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ تقریب حلف برداری کا انڈور ہونا اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے قبل، 1985 میں صدر رونلڈ ریگن کی حلف برداری کے دوران بھی شدید سردی کے باعث یہی فیصلہ کیا گیا تھا۔

    طلاق کی افواہیں، اوباما کی اہلیہ کے ساتھ مسکراہٹ بھری تصویرجاری

    کراچی کے تین نوجوانوں کا گھوٹکی سے اغوا، سندھ حکومت کی فوری کارروائی کی یقین دہانی

  • چین میں مسلسل کئی سال سے شرح پیدائش میں کمی

    چین میں مسلسل کئی سال سے شرح پیدائش میں کمی

    دنیا کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والے ملک چین میں مسلسل 3 سالوں سے شرح پیدائش میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    بیجنگ کے قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 6 دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل اضافے کے بعد اب شرحِ پیدائش میں کمی کی وجہ سے چین کی آبادی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024ء کے آخر تک چین کی آبادی 1.408 بلین ہو گئی جو 2023ء میں 1.410 بلین تھی۔رپورٹ کے مطابق 2024ء میں آبادی میں کمی کی رفتار 2023ء کے مقابلے میں کم تھی جبکہ 2023ء میں چین کی آبادی میں جو کمی کی رفتار ریکارڈ کی گئی وہ 2022ء کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ تھی۔چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق چینی عوام ملک میں شرحِ پیدائش میں کمی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے افرادی قوت میں شامل ہونے کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

    ننکانہ صاحب: دانش سکول میں سالانہ آرٹ اینڈ سائنس میلے کا شاندار انعقاد

    آئینی عدالتوں کیخلاف سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی

    70سالہ خاتون سے گینگ ریپ کرنےوالادرندہ صفت ملزم گرفتار