Baaghi TV

Tag: چین

  • اسحاق ڈار  سے  چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے ملاقات کی-

    چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات میں پاک چین تعلقات، حالیہ سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیر خارجہ نے پاکستانی سفیر کو تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالو جیز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے سفیر خلیل ہاشمی کو ہدایت کی کہ وہ شنگھائی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے دوران طے پانے والی مفاہمت پر فعال انداز میں عمل درآمد کو آگے بڑھائیں۔

    اسحاق ڈار نے اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے۔

    نائب وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے-

  • لیبیا کا بینکاری نظام چین کے بینکاری نظام سے منسلک

    لیبیا کا بینکاری نظام چین کے بینکاری نظام سے منسلک

    لیبیا نے اپنے بینکوں کو چین کے ادائیگی کے نظام سے منسلک کردیا جس کے بعد ڈالر پر انحصار کم ہوگیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لیبیا کے مرکزی بینک کے گورنر ناجی محمد عیسیٰ اور پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پین گونگ شینگ نے لیبیا کے تجارتی بینکوں کو چین کے ادائیگی اور تصفیہ کے نظام سے منسلک کرنے پر اتفاق کیا-

    لیبیا کے مرکزی بینک نے کہا کہ ناجی محمدعیسیٰ، جو بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں، نے پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر سے ملاقات کی انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حجم کا جائزہ لیا اور اسے مضبوط بنانے اور اس کی شرح نمو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں مرکزی بینکوں کے درمیان حقیقی تزویراتی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا، لیبیا کے کمرشل بینکوں کو چین کے کراس بارڈر انٹربینک ادائیگی کے نظام سی آئی پی ایس سے جوڑنے پر اتفاق کیا گیا، جو مالیاتی منتقلی کو آسان بنائے گا۔

    سی آئی پی ایس کو پیپلز بینک آف چائنا نے 2015 میں چینی یوآن کا استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔ یہ ایک ایسے بنیادی ڈھانچے کے طور پر کام کرتا ہے جو بینکوں کے ذریعے لین دین پر کارروائی کرنے کی ضرورت کو ختم کرکے امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرتا ہے۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں،چینی سفیر

    پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں،چینی سفیر

    پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کے نئے مواقع روشن مستقبل کی نوید ہیں۔

    اسلام آباد میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پاک چین بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے بزنس ٹو بزنس (B2B) تعاون کا وژن پیش کیا ہے، جو عملی شراکت داری کے لیے ایک نئی راہ ثابت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کاروباری اداروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خصوصی دلچسپی اور تعاون کا اظہار کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے پاکستان میں مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر تعمیراتی کام جاری ہے، جن کی تکمیل سے 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بالخصوص صحت، فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جبکہ ان شعبوں میں پاک چین تعاون نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور استعداد کار میں اضافے کا بھی باعث بنے گا اور امید ہے کہ دونوں مما لک کے نجی شعبوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

  • ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں ‘ڈیٹا ہیکنگ’ کا الزام، بیجنگ کا بھی ردعمل آگیا

    ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں ‘ڈیٹا ہیکنگ’ کا الزام، بیجنگ کا بھی ردعمل آگیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے،چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا، بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔

    ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔

    یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔

    تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی دوسری جانب چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

  • روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، کے لیے مجوزہ سخت ٹیرف میں نرمی کی گئی ہے۔

    امریکی سینیٹ میں منگل کو روس پر نئی پابندیوں کے بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا گیا، جسے آنجہانی لنزے گراہم کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے بل کے نئے مسودے میں روسی تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر مجوزہ 500 فیصد یکساں ٹیرف کی تجویز نرم کرتے ہوئے دنیا کے پانچ بڑے خریداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف کی حد مقرر کی گئی ہے بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اس کے تحت روسی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور بھار ت جیسے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کریں۔

    سینیٹر لنزے گراہم نے اپنی وفات سے ایک روز قبل یوکرین کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے یہ بل ایک سال سے زائد عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا سینیٹ کے معاونین کے مطابق اس وقت بل کے 26 سینیٹرز شریکِ سرپرست ہیں اور مزید ارکان کی حمایت بھی متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔

    نظرثانی شدہ بل اپریل 2025 میں لنزے گراہم اور ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کی جانب سے پیش کیے گئے اصل مسودے سے مختلف ہےنئے مسود ے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ ممالک جو روس کی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اپنی درآمدات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنا دیا جا سکے گا۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم مستفید ہو سکتے ہیں۔

    سینیٹ کے معاونین کے مطابق روسی خام تیل کے پانچ بڑے خریدار چین، بھارت، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان ہیں، جبکہ روسی قدرتی گیس درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم شامل ہیں۔

    بل میں روس کے نام نہاد ”شیڈو فلیٹ“ یعنی ایسے آئل ٹینکروں پر بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے جو مغربی بحری خدمات پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ روس کے مرکزی بینک، دیگر مالیاتی اداروں اور یامال ایل این جی اور آرکٹک ایل این جی منصوبوں سمیت بڑے سرکاری توانائی منصوبوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔

    بل میں ایک شق یہ بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر امریکی صدر اسے قومی مفاد میں سمجھیں تو وہ ان پابندیوں کو معطل کرنے کا اختیار رکھیں گےبل کی بعض شقوں میں نرمی سے متعلق سوال پر سینیٹ کے ایک معاون نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرا ت کے بعد ہی اس مسودے پر اتفاق ممکن ہو سکا یہی وہ بل ہے جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں اور جس کے منظور ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پابندیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بڑا قدم ہوگا،صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ بل کانگریس سے منظور ہو کر قانون بن جائے گا ان کا کہنا تھا کہ یہ آنجہانی لنزے گراہم کا مشن تھا اور وہ اس بل کی منظوری کے لیے سب سے زیادہ پُرعزم تھے۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان فارما انڈسٹری میں تعاون کی نئی شراکت داری کا امکان

    پاکستان اور چین کے درمیان فارما انڈسٹری میں تعاون کی نئی شراکت داری کا امکان

    پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس 17 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔

    اعلامیے کے مطابق اس 2 روزہ کانفرنس کا انعقاد اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھار ٹی آف پاکستان کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے کانفرنس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ ، جد ت طرازی کی حوصلہ افزائی اور فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے یہ کانفرنس ایک اعلیٰ سطح کے بزنس ٹو بزنس پلیٹ فارم کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پاکستا ن کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ چینی سرمایہ کار، صنعت کار، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اور دیگر کاروباری ر ہنما شریک ہوں گے۔

    اعلامیے کے مطابق، کانفرنس کے دوران شرکا کو تجارتی شراکت داری قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے مواقع میسر آئیں گے،کانفرنس میں منظم بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے، جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیق میں تعاون اور مقامی سطح پر پیداوار کے فروغ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس سے پاکستان کے ہیلتھ کیئر نظام کی جدید خطوط پر ترقی، فارماسیوٹیکل صنعت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ اور دونوں ممالک کے درمیان بامعنی کاروباری روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 دونوں ممالک کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، طویل المدتی صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور پائیدار اقتصادی ترقی و مشترکہ خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • طوفان ‘باوی’ نے چین میں  تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    طوفان ‘باوی’ نے چین میں تباہی مچا دی، لاکھوں افراد متاثر

    رواں سال چین سے ٹکرانے والے طاقتور ترین طوفان ’باوی‘ نے تائیوان کے بعد چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی تباہی مچا دی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوفان باوی ہفتہ کی رات چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے ساحلی شہر یوہوان سے ٹکرایا، جس کے بعد اس نے وینژو کے علاقے یوئیکنگ میں دوسری بار لینڈ فال کیاموسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ طوفان کی شدت کم ہو کر ٹراپیکل اسٹورم کی سطح پر آ گئی ہے، تاہم آئندہ چند روز کے دوران مشرقی اور شمالی چین میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے، جس سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں،چینی حکام نے طوفان کی آمد سے قبل صوبہ ژی جیانگ سمیت مختلف علاقوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صرف یوئیکنگ شہر میں 1,300 سے زائد درخت گر گئے، جن میں سے 700 سے زیادہ جڑوں سمیت اکھڑ گئے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑے بڑے پتھر شاہراہوں پر آ گرے، ریسکیو ٹیموں نے بھا ری مشینری اور چین سا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں سے گرے ہوئے درخت ہٹانے اور نکاسی آب کا کام شروع کر دیا ہے۔

    یوہوان کے ساحلی قصبے کانمین کے رہائشیوں نے بتایا کہ طوفان کے باعث گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور پوری رات جاگ کر صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑا، مقامی دکانداروں کے مطابق کئی عمارتوں، دکانوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل طوفان باوی تائیوان سے بھی ٹکرایا تھا، جہاں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے، تائیوان کے محکمہ فائر سروس کے مطابق 134 افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی طوفان کے باعث تائیوان میں 137 بین الاقوامی اور 62 اندرون ملک پروازیں منسو خ کی گئیں، جبکہ چین کے صوبہ ژی جیانگ میں 327 پروازیں اور متعدد ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں،شنگھائی میں بھی 1,620 ٹرینیں اور 684 پرواز یں منسوخ کر دی گئیں، جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔

    ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طوفان کمزور پڑ رہا ہے، لیکن اس کا وسیع نظام کئی سو کلومیٹر اندرونِ ملک تک شدید بارشیں برسا سکتا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات برقرار رہیں گے رواں سال ایل نینو موسمی رجحان کے باعث چین کو مزید شدید موسمی حالات اور طاقتور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ہنگامی امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

  • طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    چین نے سمندری طوفان ’باوی‘ کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے سے قبل شدید بارشوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں بارشوں کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے ہفتے کے روز شدید بارشوں کے لیے 4 درجوں پر مشتمل انتباہی نظام کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ’باوی‘ کے اتوار کی علی الصبح مشرقی چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے ، جس کے باعث متعدد علاقوں میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں اتوار دوپہر 2 بجے تک کے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسلاد ھار اور بعض مقامات پر انتہا ئی شدید بارشیں ہوں گی، جس سے شہری علاقوں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ژی جیانگ، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، جنوبی آن ہوئی، بیجنگ کے بعض علاقوں اور صوبہ ہیبئی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے،حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی اور جنوبی ژی جیانگ کے بعض علاقوں اور شمالی فوجیان میں مجموعی بارش 250 سے 500 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ تائیوان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں 250 سے 800 ملی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو سیلابی صورتحال پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

    چینی حکام نے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے، ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھنے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے،ماہرین کے مطابق طوفان ’باوی‘ کے ساتھ آنے والی تیز ہوائیں اور شدید بارشیں مشرقی چین کے ساحلی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ زرعی اراضی، ٹرانسپورٹ کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

  • چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین-2 تقریباً 400 روزہ اور ایک ارب کلومیٹر طویل سفر مکمل کرنے کے بعد کامیابی سے سیارچے 2016HO3 سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا ہے۔

    چین کی قومی خلائی انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس پیشرفت کے ساتھ ہی مشن نے سائنسی تحقیق کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے،چین نے 29 مئی 2025 کو اپنے پہلے سیارچہ سیمپل ریٹرن مشن تیان وین 2 کا آغاز کیا تھا تقریباً 10 برس پر محیط اس مشن کا مقصد زمین کے قریب موجود سیارچے 2016HO3 سے نمونے حاصل کرنا اور بعد ازاں مریخ سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع مرکزی سیارچہ پٹی کے دمدار ستارے 311P کا سائنسی جائزہ لینا ہے۔

    قومی خلائی انتظامیہ کے مطابق سیارچے کے قریب پہنچنے کے مرحلے کے دوران خلائی جہاز نے اس کی تصاویر حاصل کیں،مشن ٹیم نے قریبی فاصلے سے حاصل ہونے والے آپٹیکل نیویگیشن ڈیٹا کی مدد سے سیارچے کے مدار سے متعلق معلومات کو مزید درست بنایا۔

    جس کے نتیجے میں پہلے زمینی مشاہدات کی بنیاد پر سینکڑوں کلومیٹر پر محیط محلِ وقوع کی غیر یقینی کیفیت کم ہو کر صرف چند کلومیٹر تک محدود ہو گئی،سیارچے کی جانب سفر کے دوران تیان وین 2 نے گہرے خلا میں متعدد پروازی تبدیلیاں اور مدار کی درستی کے آپریشن بھی انجام دیے6 جون 2026 کو خلائی جہاز ، نے پہلی مرتبہ سیارچے کا سراغ لگایا، 7 جون کو 30 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر اس کے ساتھ ہم سطح مدار میں داخل ہوا، جبکہ 19جون کو یہ سیارچے سے صرف 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا۔

    قومی خلائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں تیان وین 2 سیارچے کی ساخت، مادی ترکیب اور اندرونی ڈھانچے کے بارے میں مزید تفصیلی سائنسی مشاہدات کرے گا، تاکہ مستقبل میں وہاں سے نمونے جمع کرنے کے عمل کی تیاری مکمل کی جا سکے۔

  • محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چینی وزیر مملکت داخلہ سے ملاقات

    محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چینی وزیر مملکت داخلہ سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں چین کے وزیر مملکت داخلہ و سربراہ اسپشل سروس بیورو لنگ ژیفینگ اور سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں انسداد دہشت گردی تعاون اور اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    پاک چین وزراء نے داخلی سلامتی کے امور پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ، بارڈر مینجمنٹ ، غیر قانونی امیگریشن اور انسداد منشیات کے حوالے سے باہمی معاونت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کو ہر سطح پر روکنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ میں ملوث ممالک کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سپشل پروٹیکشن پولیس فورس قائم کی ہے۔​دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان عوامی روابط بہت اہم ہیں۔اس ضمن میں ویزا رجیم میں آسانی ضروری ہے۔

    چینی وزیر مملکت داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انسداد دہشت گردی کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا چاہئے​ویزہ اور امیگریشن کے حوالے سے ایشوز کا جائزہ لیا جائے گا۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور سری لنکا نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے مؤثر روابط اور پولیس ٹریننگ کیلئے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا –

    اس موقع پر غیرقانونی امیگریشن اور جعلی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کی روک تھام کیلئے اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیادونوں وزراء نے جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورکس اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے ایم او یو پر تبادلہ خیال کیا ملاقات کے دوران پاکستان اور سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں ویزہ سے متعلق ایشوز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر نے پر بھی اتفاق کیا گیا-