Baaghi TV

Tag: چین

  • ایران کو امریکی فوجی اڈے پر حملے کیلیے سیٹلائٹ تصاویر چین نے فراہم کیں، وال اسٹریٹ جرنل

    ایران کو امریکی فوجی اڈے پر حملے کیلیے سیٹلائٹ تصاویر چین نے فراہم کیں، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار نےایران کو اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کی حملے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر چینی اداروں کی جانب سے فراہم کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چینی اداروں نے ایران کو اردن میں واقع موافق السَلطی ایئر بیس کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں جہاں امریکی فوجی موجود تھے،اسی اڈے پر 17 جولائی کو ایران نے میزائل حملہ کیا تھا جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، واقعے کو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ایران کے اہم ترین حملوں میں شمار کیا گیا، امریکی حکام نے چینی اداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ الزام عائد کیا کہ چینی حکومت براہ راست اس حملے میں ملوث تھی۔

    تاہم اس معاملے نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں امریکی حکام کے مطابق حملے سے قبل اور اس کے بعد اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر ایران تک پہنچائی گئی تھیں ان تصاویر سے مبینہ طور پر ایران کو اڈے کی صورتحال اور حملے کے اثرا ت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی تھیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے اس معاملے کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا ہے جب امریکی حکام نے چینی حکام سے سیٹلائٹ تصاویر ایران کو منتقل کیے جانے کے بارے میں سوال کیا تو چینی حکام نے اس منتقلی کے ثبوت طلب کیےچینی حکام نے مبینہ طور پر اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا کہ چینی کمپنیوں نے ایران کو یہ سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں۔

    رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی چینی کمپنیاں یا ادارے مبینہ طور پر تصاویر کی فراہمی میں ملوث تھے یہ معاملہ آئندہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے ٹرمپ 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں شی جن پنگ کی میزبانی کرنے والے ہیں ایسے میں ایران کو مبینہ طور پر چینی سیٹلائٹ معلومات کی فراہمی کا معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان حساس سکیورٹی امور میں شامل ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ چین کو براہ راست ایرانی حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا امریکی حکام نے صرف یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا ہے کہ آیا چینی تجارتی یا دیگر اداروں نے ایران کو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں گر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے ایران کی فوجی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں نئی بحث شروع ہو سکتی ہےساتھ ہی واشنگٹن میں چینی تجارتی سیٹلائٹ کمپنیوں کی سرگرمیوں اور حساس فوجی مقامات کی تصاویر کی ممکنہ منتقلی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے ہی کئی محاذوں پر کشیدہ ہیں تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، جدید ٹیکنالوجی، تجارتی پابندیوں اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے تعلقات کو پیچیدہ بنا رکھا ہے اگر امریکی حکام یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ چینی اداروں نے ایران کو امریکی فوجی اڈے کی حساس نوعیت کی تصاویر فراہم کی تھیں تو یہ معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سکیورٹی تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

  • چین: بے تحاشا کھانا کھانے والی 24 سالہ انفلوئنسر اچانک انتقال کر گئی

    چین: بے تحاشا کھانا کھانے والی 24 سالہ انفلوئنسر اچانک انتقال کر گئی

    چین کی معروف مک بانگ انفلوئنسر چن زیئی، جو سوشل میڈیا پر ینگ ینگ کے نام سے مشہور تھیں، صرف 24 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    ینگ ینگ کے والدین نے 4 ستمبر کو ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی 17 اگست کو دنیا سے رخصت ہو گئی تھی، تاہم اہلِ خانہ نے موت کی باضابطہ وجہ ظاہر نہیں کی، ینگ ینگ کے سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز تھے اور وہ مک بانگ ویڈیوز اور لائیو اسٹریمز میں بڑی مقدار میں کھانا کھانے کیلئے مشہور تھیں انہوں نے خود بتایا تھا کہ زیادہ کھانے سے لائیو اسٹریم پر ناظرین کی تعداد اور کارکردگی بہتر ہونے کے باعث ان پر مسلسل کھانے کا دباؤ رہتا تھا۔

    انہوں نے اپنی آخری ویڈیو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پوٹاشیم کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے، پیسہ کمانا اہم ہے لیکن صحت ہمیشہ پہلے آنی چاہیے ینگ ینگ نے ایک مرتبہ لائیو اسٹریم کے دوران 60 سے 70 محفوظ کیے گئے انڈے کھانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

    شدید پوٹاشیم کی کمی دل کی دھڑکن میں خطرناک بے ترتیبی سمیت سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے بعض رپورٹس میں ینگ ینگ کی موت کو طویل عرصے سے جاری پوٹاشیم کی کمی کے بعد دل بند ہونے سے جوڑا گیا ہے، تاہم اہلِ خانہ یا کسی سرکاری طبی ذریعے نے موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

    ینگ ینگ کی اچانک موت کے بعد سوشل میڈیا پر انتہائی مقدار میں کھانا کھانے والے مک بانگ ٹرینڈ اور اس سے جڑے ممکنہ صحت کے خطرات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔

  • چین نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا

    چین نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا

    چین میں شمسی توانائی کے فارمز نے تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت کے لحاظ سے کوئلے کے پلانٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق جولائی میں شمسی توانائی کے فارمز نے تنصیب شدہ بجلی کی صلاحیت کے لحاظ سے کوئلے کے پلانٹس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اگرچہ شمسی توانائی کی بجلی کی کل پیداوار اب بھی کوئلے سے کافی کم ہے، لیکن تنصیب شدہ صلاحیت میں یہ برتری ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے۔

    توانائی کے انتظامیہ کے اعداد و شمار اور سرکاری میڈیا کے مطابق، جولائی کے آخر تک چین کے پاس 1,288 گیگا واٹ (GW) شمسی توانائی کی صلا حیت تھی،جبکہ کوئلے کی صلاحیت 1,285 گیگا واٹ تھی،بجلی کی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ کم ہے، کیونکہ یہ سورج کی چمک کے بغیر بجلی پیدا نہیں کر سکتی توانائی انتظامیہ نے پہلے بتایا تھا کہ سال کی پہلی چھ ماہی میں بجلی کی آمیزش میں ونڈ اور سولر پاور کا حصہ 24.6 فیصد تھا، جبکہ کوئلہ 49.7 فیصد تھا، یہ پہلا موقع تھا جب کوئلے کا حصہ 50 فیصد سے نیچے آگیا۔

    قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت پہلے ہی کوئلے کی صلاحیت سے تجاوز کر چکی تھی،پچھلے سال مارچ میں، چین کی تنصیب شدہ ونڈ اور سولر پاور پہلی بار کوئلے کے فلیٹ سے تجاوز کر گئی تھی،اگرچہ چین کے مجموعی فلیٹ میں اضافہ جاری ہے، تاہم اس سال چین کی نئی شمسی تنصیبات میں پچھلے سال کے مقا بلے میں کمی آئی ہےاس کی وجہ فکسڈ فیڈ ان ٹیرف سے مارکیٹ پر مبنی قیمتوں میں تبدیلی ہے۔

  • نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز ،  ہزاروں تاحال لاپتہ

    نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز ، ہزاروں تاحال لاپتہ

    نیپال اور چین کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق منگل کے روز نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 987 تک پہنچ گئی، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے تبت کے علاقے میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس سے بدھ کے روز آنے والی اس آفت میں جاں بحق افراد کی کل تعداد 1,003 ہو گئی ہے۔

    ساتویں روز بھی امدادی کارروائیوں کے جاری رہنے اور مزید لاشیں ملنے کے بعد نیپال میں لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر 3,916 رہ گئی ہے، دوسری جانب چین میں سرکاری ذرائع کے مطابق 546 افراد لاپتہ ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 4,462 ہو چکی ہے نیپال میں لاپتہ افراد میں 30 سے زائد ممالک کے 583 غیر ملکی سیاح اور شہری شامل ہیں، جبکہ چین میں 23 ممالک کے 261 غیر ملکی لاپتہ ہیں۔

    نئی دہلی کے مطابق لاپتہ غیر ملکیوں میں بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جن میں 275 بھارتی شہری اور 128 بھارتی نژاد افراد نیپال میں لاپتہ ہیں،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 85 امریکی شہری بھی لاپتہ ہیں، جبکہ سیاحتی بورڈ اور سفارت خانوں کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد میں 62 یوکرینی، 51 ملائیشین، 42 آسٹریلین اور 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے نیپال سے بہنے والے دریاؤں سے 17 لاشیں برآمد کی ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ اسی سیلاب کے متاثرین ہیں۔ بھارتی حکام ان کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں اور فی الحال انہیں سرکاری ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

    سیلاب کے تقریباً ایک ہفتے بعد، نیپالی امدادی ٹیموں نے دور دراز کے علاقوں تک پہنچنے کے لیے عارضی پل تعمیر کر لیے ہیں اور ہمالیہ میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے ملبے سے 300 کے قریب پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکال لیا ہے۔

    تباہ شدہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز میں اب بھی تقریباً 600 افراد پھنسے ہوئے ہیں جو امدادی کارروائیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم شاہ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 11,000 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے اور متعدد علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام بحال کر دیا گیا ہے۔ شدید متاثرہ ضلع نوواکوٹ تک سڑکوں کا رابطہ بحال کر دیا گیا ہے جس سے امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی ہو رہی ہے۔

    پولیس اہلکار بپن ریگمی نے بتایا کہ سرچ ٹیم نے نوواکوٹ کے گاؤں بترا بتی میں ایک مکان سے 24 لاشیں برآمد کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں نئے علاقوں تک پہنچ رہی ہیں اور مزید لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • امریکا کا  چین کے ایک بڑے ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ،چین کی تردید

    امریکا کا چین کے ایک بڑے ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ،چین کی تردید

    امریکی وزارتِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چین کے ایک بڑے ہیکنگ نیٹ ورک کو ناکارہ بنا دیا ہے-

    امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ہیکنگ نیٹ ورک نے امریکی وزارتِ انصاف، ناسا، فیڈرل ریزرو، امریکی سینیٹ اور دیگر اہم اور حساس اداروں کے نیٹ ورکس میں داخل ہونے اور رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کی تھیں ‘کیو اسکین’ اور ‘کیو ٹی راؤٹرز’ نامی 2 ہیکنگ پلیٹ فارمز کے ڈومینز کو ضبط کر لیا گیا ہےان پلیٹ فارمز کو چین کی نانجنگ سن جیووے نیٹ ورک ٹیکنالوجی کمپنی چلا رہی تھی، جس کے گاہکوں میں چین کا شہری انٹیلیجنس ادارہ اور فوج شامل ہیں۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق یہ ہیکرز 2018 سے امریکی انفراسٹرکچر، محکمۂ توانائی، ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز اور امریکا و جنوبی کوریا کی چند کمپنیوں کے ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنا رہے تھے ،دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین تمام قسم کے سائبر حملوں کی مخالفت کرتا ہے امریکہ سائبر سیکیورٹی کے موضوع کو چین کو بدنام کرنے اور اس کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    ایف بی آئی اور دیگر امریکی اداروں کی مشترکہ ایڈوائزری کے مطابق اس نیٹ ورک نے حالیہ سالوں میں دفاعی کنٹریکٹرز، مالیاتی اداروں اور یونیورسٹیوں سے ڈیٹا چوری کیا، تاہم ناسا اور سینیٹ کے نیٹ ورکس میں داخلے کی کچھ کوششیں ناکام بھی رہیں۔

  • نیپال، چین سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 165 سے زائد ہوگئی، سینکڑوں لاپتا

    نیپال، چین سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 165 سے زائد ہوگئی، سینکڑوں لاپتا

    نیپال اور چین کے خطے تبت میں ہمالیائی دریا میں مٹی اور چٹانوں کا بڑا تودہ گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 1,500 افراد لاپتا ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شامل ہیں-

    بدھ کو پیش آنے والی اس قدرتی آفت نے نیپال کے پہاڑی قصبوں اور وادیوں کو شدید متاثر کیا، جبکہ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ریسکیو اہلکار جمعرات کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش کر رہے ہیں جہاں اچانک آنے والے سیلاب نے گھروں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 165 تک پہنچ گئی ہے جبکہ چین کی جانب سے 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے ریسکیو کارروائیوں میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی راستوں، خراب موسم، سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے جبکہ نیپال ٹورازم بورڈ کے ترجمان سنیل شرما کے مطابق لاپتا سیاحوں میں177 بھارتی، 63 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری شامل ہیں جنوبی کوریا نے بھی اطلاع دی ہے کہ ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے اس کے8شہری لاپتا ہیں، جبکہ ملائیشیا اور جاپان کے کچھ شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    چین کی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ تبت کے گیریونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ چین اور نیپال کی جانب سے بتائے گئے لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں ایک ہی افراد شامل ہیں یا نہیں۔ چینی حکام نے گیریونگ میں تین ہلاکتوں کی بھی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اعداد و شمار کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

    واقعے کے دوران پانی، کیچڑ اور پتھروں کا ایک بڑا ریلا چین کی جانب سرحدی علاقے سے گزرتا ہوا نیپال کی طرف آیا تصدیق شدہ ویڈیوز میں لوگوں کو اچانک آنے والے تیز ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ متعدد عمارتیں اور گاڑیاں پانی اور ملبے کی زد میں آ گئیں۔

    نیپال کے متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے کئی گھروں پر کیچڑ کی موٹی تہہ جم گئی ہے، گاڑیاں بہہ گئی ہیں اور ایک دھاتی پل بھی پانی میں بہہ گیا۔ دریائے لہینڈے کے قریب ہونے والی تباہی کے نتیجے میں دریا کے کنارے آباد کئی بستیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

    راسوا کے ایک صحت کارکن تولا بہادر بی کے نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ دریا کے قریب موجود آبادیاں تقریباً مکمل طور پر بہہ گئی ہیں اور ان کے اپنے پانچ رشتہ دار بھی لاپتا ہیں۔

    ایک 68 سالہ زندہ بچ جانے والے کیشَو پرساد برال نے بتایا کہ انہوں نے مٹی اور پانی کا ایک بہت بڑا ریلا اپنی طرف آتے دیکھا ان کے مطابق کیچڑ تیزی سے بلند ہوتا گیا اور جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چھت پر لے جانے کی کوشش کی، لیکن وہ سیلابی ملبے میں بہہ گئیں برال کو تقریباً چار گھنٹے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، تاہم ان کی اہلیہ تاحال لاپتا ہیں۔

    ابتدائی طور پر بعض نیپالی حکام نے امکان ظاہر کیا تھا کہ علاقے میں آنے والے زلزلے سے گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹا ہوگا، جس کے نتیجے میں سیلاب آیا۔ تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جس زلزلے کی شدت ابتدا میں 4.4 بتائی گئی تھی، وہ دراصل گلیشیئر کی چٹان اور برف کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی زمینی توانائی تھی، جس کے بعد ملبے کا سیلاب آیا۔

    سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی جائزے سے بھی اشارہ ملا ہے کہ برف اور چٹانوں کے تودے گرنے سے دریائے لہینڈے میں شدید سیلاب آیا یہ مقام نیپال اور چین کے رسوواگڑھی سرحدی راستے سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے امدادی کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثر ہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ نیپالی فوج کے مطابق ان امدادی سامان میں پڑوسی ملک بھارت کی جانب سے فراہم کی گئی اشیا بھی شامل ہیں۔

    بجلی کے پن بجلی منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ لاپتا افراد کے رشتہ دار نیپالی فوج کے ایک تربیتی مرکز کے باہر جمع ہیں، جہاں سے ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ کیے جا رہے ہیں۔ بجلی منقطع ہونے کے باعث بعض مقامات پر پولیس اہلکار موبائل فون کی روشنی میں لاپتا افراد کے نام درج کر رہے ہیں۔

    چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق گیریونگ بندرگاہ کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے رابطے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ سرحدی راستے تک پہنچنے کی کوششوں میں تاحال کامیابی نہیں ملی، جبکہ ڈرون سے کیے گئے جائزے میں سرحدی گزرگاہ تک جانے والی تمام سڑکیں مکمل طور پر تباہ دکھائی دیں۔

    اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے افراد میں بڑی تعداد ان زائرین اور سیاحوں کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ کوہِ کیلاش ہندو مذہب میں بھگوان شیو سے منسوب ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے جبکہ مانسروور جھیل بھی مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر بھی متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امریکا نے بتایا ہے کہ وہ ایک آفات سے نمٹنے کے ماہر کو بھیج رہا ہے اور 5 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ کینیڈا نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے بھی متاثرہ نیپالی آبادیوں تک امدادی سامان اور عملہ پہنچا رہے ہیں۔

    سائنس دانوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر ٹوٹ کر وادی میں گرا، جس نے لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات کو مزید شدید کر دیا۔ چین کے علاقے گیریونگ میں مٹی اور ملبے نے اہم راستے بند کر دیے ہیں جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بعض مقامات پر تقریباً ڈیڑھ میٹر موٹا ہے، جس کے باعث چینی امدادی ٹیموں کو متاثرہ سرحدی بندرگاہ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    ریسکیو ٹیموں کی جانب سے تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے، اس لیے ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں آنے والے وقت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

  • چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو نشانہ بنانے والا ہائپرسونک تیار کرلیا

    چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو نشانہ بنانے والا ہائپرسونک تیار کرلیا

    بیجنگ: چین نے ایسے جدید ہائپرسونک ہتھیار تیار کرلیے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر دور موجود اہم فوجی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی فوج نے ایسے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز تیار کیے ہیں جو طویل فاصلے پر موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول طیاروں اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکرز کو نشانہ بنا سکتے ہیں ایسے طیارے جدید فضائی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے لڑاکا طیاروں کو معلوما ت، رابطے اور فضائی ایندھن کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر کسی جنگ میں ایسے طیاروں کو دور سے نشانہ بنایا جائے تو اس سے دشمن کی فضائی کارروائیوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی صلاحیت کو شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے،بلومبرگ کو معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین نے بعض ہائپرسونک کروز میزائلوں میں فضا سے فضا میں حملہ کرنے کی صلاحیت بھی شامل کی ہے، بعض دیگر اقسام کے میزائلوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پیدا کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق چین کے DF-17 میزائل سے داغا جانے والا ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل تقریباً 2,414 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہےیہ فاصلہ بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام تک کے فاصلے کے قریب ہے،گوام امریکا کا ایک اہم فوجی مرکز ہے چین کے DF-27 میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 8 ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس طویل فاصلے کی وجہ سے اس نوعیت کے ہتھیار بحرالکاہل کے بڑے حصے میں موجود اہم اہداف کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز عام بیلسٹک وار ہیڈز سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں یہ انتہائی تیز رفتاری سے فضا میں سفر کرتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پیش گوئی اور انہیں راستے میں روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق چین کے پاس اس وقت ایسی صلاحیتوں کے امتزاج کے حوالے سے نمایاں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، جس میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار ایک ہی نظام کا حصہ ہوسکتے ہیں،چین نے حالیہ برسوں میں میزائلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اندازوں کے مطابق 2024 تک چین کے پاس کم از کم 3,150 بیلسٹک میزائل اور تقریباً 300 زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل موجود تھے۔

    چین کی میزائل صلاحیت میں اضافے کے ساتھ امریکا بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی تیاری پر توجہ بڑھا رہا ہے امریکی بحریہ نے حال ہی میں AIM-424 MALICE نامی طویل فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی آزمائش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق MALICE کا وزن تقریباً 1,500 پاؤنڈ ہے اور اس کی رینج 463 کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے امریکی دفاعی منصوبہ ساز طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے ہتھیاروں کی تیاری پر بھی کام کررہے ہیں جو مستقبل میں ایک ہزار میل تک موجود اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔

    دفاعی ماہرین کے لیے چین اور امریکا کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی دوڑ خاصی اہم ہے، کیونکہ جدید جنگ میں صرف لڑاکا طیاروں کی تعداد ہی نہیں بلکہ دشمن کے کمانڈ، نگرانی، مواصلات اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کو محفوظ فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی فیصلہ کن ہوسکتی ہے۔

    تاہم چین کے نئے ہائپرسونک نظام سے متعلق بعض تفصیلات خفیہ ہیں اور دستیاب معلومات میں ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق موجود نہیں اس کے باوجود یہ پیشرفت امریکا اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی مقابلے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔

  • ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی دھمکی پر چین کا ردعمل سامنے آ گیا

    ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی دھمکی پر چین کا ردعمل سامنے آ گیا

    چینی وزارتِ خارجہ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی دھمکی پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ ڈالنے کے حربے مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔

    چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان کا بیجنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام فریق سمجھ داری اور تحمل سے کام لیں چین متعلقہ صورتِ حال کو قریب سے مانیٹر کرے گا،اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکا ان ممالک کے خلاف، جو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کر رہے ہیں، اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی“ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے دنیا سے ایران کے ساتھ ہر قسم کا معاشی تعلق ختم کرے ، ایران سے تیل کی اسمگلنگ سمیت ہر قسم کا معاشی تعلق ختم کیا جائے، بصورت دیگر بڑے اقتصادی نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں اور حکومتی اداروں کو ایران کے لیے کسی بھی قسم کی لائف لائن کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے گا تو اسے شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، تیل کی اسمگلنگ، کیش منتقلی، تبادلے، شپ رجسٹریز اور فرنٹ کمپنیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ اس کے اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں اور ایران کو تنہا کرکے شکست سے دوچار کریں۔

  • چین چاند پر برف کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگانے کیلئے تیار

    چین چاند پر برف کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگانے کیلئے تیار

    سرکاری اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق چین اپنے اگلے قمری مشن ’چانگ ای 7‘ کی تیاری مکمل کر رہا ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی کی برف کے ممکنہ ذخائر کا سراغ لگانا ہے،یہ مشن چاند کے اس حصے کا تفصیلی جائزہ لے گا جہاں مستقل طور پر سایہ رہنے والے گڑھوں میں پانی کی موجودگی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔

    چین کی خلائی ایجنسی کے مطابق ’چانگ ای 7‘ خلائی جہاز اور اسے خلا میں لے جانے والا ’لانگ مارچ 5 وائی 14‘ راکٹ بدھ کی صبح جنوبی صوبے ہینان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز منتقل کردیے گئے ہیں،لانچ سے قبل آنے والے دنوں میں خلائی انجینیئرز راکٹ اور خلائی جہاز کے آخری تکنیکی معائنے، مشترکہ ٹیسٹنگ اور ایندھن بھرنے کے مراحل مکمل کریں گے۔

    ’چانگ ای 7‘ کو چین کا اب تک کا سب سے پیچیدہ روبوٹک قمری مشن قرار دیا جارہا ہے یہ 4 اہم حصوں پر مشتمل ہے جن میں ایک مدار میں گردش کرنے والا خلائی جہاز، ایک لینڈر، سطح پر چلنے والا روور اور ایک خصوصی چھلانگ لگانے والا چھوٹا تحقیقاتی روبوٹ شامل ہےاس مشن کا مقصد چاند پر انتہائی درست لینڈنگ، ٹانگوں کی مدد سے حرکت کرنے والی ٹیکنالوجی اور ایسے گڑھوں کی تحقیق میں اہم پیشرفت حاصل کرنا ہے جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی۔

    مشن کا خصوصی ’ہاپنگ منی پروب‘ تھرسٹرز کی مدد سے چاند کے ان تاریک گڑھوں میں داخل ہوگا جہاں براہ راست سورج کی روشنی نہیں پہنچتی یہ روبوٹ چاند کی سطح کے نیچے موجود مٹی میں پانی کے سالمات، ہائیڈروجن رکھنے والے عناصر اور دیگر اتار چڑھاؤ رکھنے والے مرکبات کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا۔

    چین کی خلائی ایجنسی کے مطابق یہ مشن چاند کے جنوبی قطب کے ماحول اور وہاں موجود ممکنہ وسائل کا بڑے پیمانے پر جائزہ لے گا جبکہ اس میں بین الاقوامی تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے اب تک چین چھ کامیاب روبوٹک قمری مشن مکمل کرچکا ہے۔ اس کا گزشتہ مشن ’چانگ ای 6‘ تھا، جو 2024 میں مکمل ہوا53 روزہ اس مہم میں چین نے تاریخ میں پہلی مرتبہ چاند کے دور دراز حصے (فار سائیڈ) سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے زمین پر واپس لانے میں کامیابی حاصل کی،اس مشن کے ذریعے چاند سے 1,935.3 گرام (تقریباً 4.27 پاؤنڈ) مواد زمین پر لایا گیا جسے سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

  • چینی راکٹ نے زمین کے مدار میں پرواز کے بعد زمین پر دوبارہ اترنے میں کامیابی حاصل کرلی

    چینی راکٹ نے زمین کے مدار میں پرواز کے بعد زمین پر دوبارہ اترنے میں کامیابی حاصل کرلی

    چین کی نجی خلائی کمپنی LandSpace کے تیار کردہ راکٹ ژوچوئے-3 (Zhuque-3) نے زمین کے مدار میں پرواز اور مشن کی تکمیل کے بعد اپنے پہلے مرحلے کو زمین پر بالکل سیدھا اور بحفاظت اتارنے میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہےجبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی راکٹ نے مدار تک جانے کے بعد خودکار طریقے سے زمین پر ورٹیکل لینڈنگ کی ہے-

    چینی نجی کمپنی ’لینڈ اسپیس‘ کے تیار کردہ راکٹ ’زیوکیو 3‘ نے زمین کے مدار میں مشن مکمل کرنے کے بعد اپنی لینڈنگ لیگز کی مدد سے زمین پر بالکل سیدھا اتر کر کامیابی سے لینڈنگ کی ہے،یہ پہلا موقع ہے جب کسی چینی نجی ایرو اسپیس کمپنی نے مدار میں پرواز کے بعد فرسٹ اسٹیج بوسٹر کو بحفاظت اور خودکار طریقے سے زمین پر واپس اتارنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

    اس سے قبل 10 جولائی کو سرکاری ادارے چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کے ‘لانگ مارچ 10 بی’ نے بھی واپسی کی آزمائش کی تھی، تاہم زیوکیو 3 نے مکمل طور پر اپنی لینڈنگ لیگز کے بل بوتے پر سیدھا کھڑے ہو کر لینڈنگ مکمل کی،کمپنی کے مطابق شمال مغربی چین کے ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس زون سے لانچ کیے گئے اس دوسرے آزمائشی مشن نے مدار میں سیٹلائٹ پہنچانے کے بعد راکٹ کے دوبارہ قابلِ استعمال ڈیزائن اور پائیداری کو ثابت کر دیا ہے۔

    ساخت اور لفٹنگ صلاحیت کے اعتبار سے زیوکیو 3 امریکی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے معروف ‘فالکن 9’ راکٹ سے کافی مماثلت رکھتا ہے، تاہم دونوں کا ایندھن مختلف ہے، فالکن 9 مائع آکسیجن اور کیروسین پر کام کرتا ہے جبکہ زیوکیو 3 میں مائع آکسیجن اور مائع میتھین کا جدید امتزاج استعمال کیا گیا ہے، جس سے آئندہ خلائی مشنز کے اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔