Baaghi TV

Tag: چین

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • متحدہ عرب امارات کی امریکا کو ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنانے کی دھمکی

    متحدہ عرب امارات کی امریکا کو ڈالر کی جگہ چینی کرنسی اپنانے کی دھمکی

    متحدہ عرب امارات نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اسے مالیاتی تحفظ کے لیے ایک حفاظتی نظام فراہم کیا جائے۔

    یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کو خدشہ ہے کہ ایران جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے نہ صرف اس کے زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ وہ سرمایہ کار بھی خوفزدہ ہو سکتے ہیں جو اسے ایک مستحکم اور محفوظ سرمایہ کاری مرکز سمجھتے تھے۔

    اماراتی حکام نے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں زور دیا کہ اگرچہ یو اے ای اب تک اس تنازع کے سب سے بڑے معاشی اثرات سے بچا ہوا ہے لیکن مستقبل میں اسے کسی معاشی سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے یو اے ای کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاامہ نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو اور ٹریژری حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کرنسی سوئپ لائن کا تصور پیش کیا۔

    اماراتی حکام نے امریکی فریق کو بتایا کہ اگر ملک میں ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو وہ تیل کی فروخت اور دیگر مالی لین دین کے لیے چینی یوآن یا دیگر کرنسیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے اماراتی حکام نے امریکا کو آگاہ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے نے خطے کو ایک تباہ کن جنگ میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات ابھی ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

    امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کے کرنسی سوئپ معاہدے عام طور پر فیڈرل ریزرو کے ذریعے کیے جاتے ہیں، تاہم فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے لیے یو اے ای کے ساتھ ایسا معاہدہ منظور کرنا ممکنہ طور پر مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ سہولت عموماً صرف ان ممالک کو دی جاتی ہے جنہیں امریکی معیشت کے لیے خطرہ بننے والے مالیاتی بحران کا سامنا ہو۔

    فیڈرل ریزرو کے پاس برطانیہ، کینیڈا، جاپان، سوئٹزرلینڈ اور یورپی یونین کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مستقل کرنسی سوئپ معاہدے موجود ہیں، جبکہ شدید مالیاتی بحران جیسے 2020 کی کووڈ-19 وبا کے دوران اس نے میکسیکو، جنوبی کوریا اور برازیل سمیت نو دیگر مرکزی بینکوں کو بھی یہ سہولت فراہم کی تھی، تاہم یو اے ای کے امریکا کے ساتھ مالیاتی روابط ان روایتی شراکت داروں کے مقابلے میں نسبتاً کمزور سمجھے جاتے ہیں۔

    یو اے ای کی کرنسی درہم امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک (پیگڈ) ہے اور ملک کے پاس تقریباً 270 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث سرمایہ کے انخلاء، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق یو اے ای کے مضبوط مالیاتی اور بیرونی ذخائر اسے اس بحران کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، تاہم طویل جنگ کی صورت میں تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان بڑے خطرات کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں یہ جنگ یو اے ای کو امریکا کے مزید قریب لے آئی ہے، جبکہ ماضی میں ایران کے ساتھ سفارتی اور مالیاتی روابط قائم کرنے کی کوششوں سے دور کر رہی ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

    امریکی ٹریژری حکام نے حال ہی میں واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں کے موقع پر خلیجی ممالک کو انفراسٹرکچر اور بحالی کے منصوبوں پر بات چیت کی دعوت دی، جسے ضرورت پڑنے پر امریکی حمایت کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں میں شریک وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی فوری معاشی بحالی کے امکانات کم ہیں۔

  • روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔

    روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

    ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔

    انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔

    چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔

    روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

  • یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    یو اے ای اور چین کے درمیان 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط

    متحدہ عرب امارات اور چین نے دوطرفہ غیر تیل تجارت کو 100 بلین ڈالر سے زائد تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اور قدم ہے۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد تجارتی حجم کو بلند ترین سطح پر لانا ہے ان معاہدوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے سرکاری دورے کے ساتھ بیجنگ میں منعقدہ یو اے ای-چین بزنس پروموشن کانفرنس کے دوران کیا گیا، جو ایک سینئر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان شراکت داری پچھلی دہائی کے دوران مسلسل بڑھی ہے، جس کی حمایت بڑھتے ہوئے تجارتی حجم اور سیکٹر کے روابط میں توسیع سے ہوئی ہے،خارجہ تجارت کے وزیر ڈاکٹر تھانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں-

    قبل ازیں چینی وزیر خا رجہ وانگ ای نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے چینی امور کے خصوصی ایلچی خالدون المبارک سے ملاقات کی ۔خالدون المبارک متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے دورہ چین میں ان کے ہمراہ ہیں ۔ پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی حکمت عملی کی رہنمائی میں ، چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے ایک اہم دورہ ہے۔

    وانگ ای نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے یہ دورہ کامیاب ہوگا۔چینی وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے موجودہ حالات پر چینی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی عرب ممالک کی جائز حفاظتی تشویش کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی قومی خود مختار ی، سلامتی اور جائز حقوق کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد کے مطابق نہیں ہے، اور مسئلہ کے حل کا بنیادی طریقہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مکمل اور دیرپا جنگ بندی کا حصول ہے ۔

    وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ امن کے قیام اور جنگ روکنے میں سرگرم رہا ہے، اور دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر مشرق وسطی کے حالات کو جلد از جلد امن اور استحکام کی جانب واپس لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے-

  • ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    ایران نے چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو ہدف بنایا، فنانشل ٹائمز

    فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر چین میں تیار کردہ ایک جدید جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس حاصل کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیک شدہ ایرانی عسکری دستاویزات کے مطابق یہ نظام 2024 کے آخر میں پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا یہ سیٹلائٹ،جسے ٹی ای ای-01بی کہا جاتا ہےچین سےخلا میں بھیجنے کےبعد ایک نجی کمپنی کے ذریعے ایران کے کنٹرول میں آیایہ سیٹلائٹ تقریباً آدھے میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایران کے اپنے موجودہ سیٹلائٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ایرانی عسکری کمانڈروں نے مارچ کے دوران اس سیٹلائٹ کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی ان میں پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر اہم عسکری تنصیبات شامل ہیں، جہاں حالیہ کشیدگی کے دوران حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

    سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی چینی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا نظام صرف زرعی، سمندری اور شہری منصوبہ بندی کے لیے ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوجی استعمال بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران نے اس منصوبے کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت حاصل کیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق چین کی بعض کمپنیوں اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنازعات میں اضافے کے بجائے امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

  • چینی نائب وزیر خارجہ اچانک عہدے سے برطرف

    چینی نائب وزیر خارجہ اچانک عہدے سے برطرف

    چین میں سینئر سفارتکار سن ویڈونگ کو اچانک نائب وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے-

    چین کی وزارت انسانی وسائل نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک مختصر بیان میں برطرفی کی تصدیق کی، تاہم اس فیصلے کی وجوہات یا وقت کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین حکومتی اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا۔

    چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق سن ویڈونگ کی آخری عوامی سرگرمی 13 مارچ کو سامنے آئی، جب انہوں نے برونائی اور ملائیشیا کے سفیروں سے ملاقات کی اس سے دو روز قبل انہوں نے چین میں تعینات پاکستان کے سفیر سے بھی دوطرفہ تعاون کے امور پر بات چیت کی تھی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین میں اعلیٰ سطحی عہدیداروں کی اچانک برطرفیاں اکثر اندرونی احتسابی عمل یا پالیسی تبدیلیوں کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم حکام کی جا نب سے خاموشی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے

  • چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھو ئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں، واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کاررو ائیوں کا آغاز کر دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔

    اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے،مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان،چین کی کھل کر مخالفت

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان،چین کی کھل کر مخالفت

    امریکا کے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر چین نے کھل کر مخالفت کردی-

    چین کے وزیر دفاع ایڈ مرل ڈونگ جن نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کے ایران کے ساتھ اہم تجارتی اور توانائی کے معاہدے موجود ہیں، جن کا احترام کیا جائے گا،انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ چین اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا اور دیگر ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ ان معاملات میں مداخلت نہ کریں بنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور یہ چین کے لیے کھلی ہے، جبکہ چینی بحری جہاز اس راستے سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے،چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ توانائی کی فراہمی کے تسلسل کے لیے تمام فریقین کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

    چین نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں گے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے، جبکہ ترکی اور جاپان نے تنازع کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

  • ہیکر کا چین کے سرکاری سُپر کمپیوٹنگ سینٹر  پر حملہ ، 10 پیٹا بائٹس ڈیٹا چوری کر لیا

    ہیکر کا چین کے سرکاری سُپر کمپیوٹنگ سینٹر پر حملہ ، 10 پیٹا بائٹس ڈیٹا چوری کر لیا

    چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر سائبر حملے میں ہیکر نے دس پیٹا بائٹس سے زیادہ کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری کر لیا ہے،اب یہ تمام معلومات انٹرنیٹ پر بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے-

    سی این این کے مطابق ایک ہیکر نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر حساس ڈیٹا چوری کیا ہے – جس میں انتہائی خفیہ دفاعی دستاویزات اور میزائل سکیمیٹکس شامل ہیں – ایک سرکاری چینی سپر کمپیوٹر سے جو کہ ممکنہ طور پر چین سے ڈیٹا کی سب سے بڑی ہیٹ ہو سکتی ہے۔

    اس چوری شدہ مواد کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پیٹا بائٹ ایک ہزار ٹیرا بائٹ کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ایک عام اچھے لیپ ٹاپ میں صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا ہی سما سکتا ہے اس لحاظ سے یہ چوری چین کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے جس میں دفاعی دستاویزات سے لے کر میزائلوں کے نقشے تک شامل ہیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیٹا تیانجن میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ مرکز سے نکالا گیا ہے جو چین کا پہلا بڑا کمپیوٹنگ مرکز ہے اور اسے 6000 سے زائد ادار ے استعمال کرتے ہیں ان اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے مراکز کے ساتھ ساتھ دفاعی کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔

    اس حملے کے پیچھے فلیمنگ چائنا نامی ایک ہیکر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے جس نے فروری کے آغاز میں ٹیلی گرام کے ایک گمنام چینل پر اس چوری شدہ ڈیٹا کے کچھ نمونے بھی دکھائے ہیں اس ڈیٹا میں خلائی انجینئری، فوجی تحقیق، انسانی خلیوں کی ساخت (بائیو انفورمیٹکس) اور ایٹمی توانائی (فیوژن سیمیولیشن) جیسے اہم شعبوں کی معلومات موجود ہیں، یہ چوری کسی بہت پیچیدہ طریقے سے نہیں بلکہ سسٹم کی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی گئی۔

    ہیکر نے ایک وی پی این کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور مسلسل 6ماہ تک خاموشی سے ڈیٹا نکالتا رہا پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیکر نے ایک ساتھ سارا ڈیٹا نکالنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معلومات منتقل کیں تاکہ سیکیورٹی کے نظام کو شک نہ ہو۔

    سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامیاں موجود تھیں، اگرچہ ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے لیکن جن ماہرین نے نمونے کے طور پر دی گئی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان پر سرکاری مہریں اور خفیہ کے الفاظ درج ہیں۔