Baaghi TV

Tag: چین

  • چین کا ڈیرہ بگٹی میں سیمنٹ فیکٹری بنانے کا اعلان

    چین کا ڈیرہ بگٹی میں سیمنٹ فیکٹری بنانے کا اعلان

    چین نے ڈیرہ بگٹی میں سیمنٹ فیکٹری بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے ڈیرہ بگٹی میں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کا اعلان کرتے کہا ہے کہ چین آفات کے بعد تعمیر نو میں مدد اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، چینی لوگ اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کو بہت اہمیت دیتے ہیں،چینی حکومت نے پاکستان کی مدد کے لیے 4 ملین یوآن مالیت کے سامان کا اعلان کیا ہے۔

    گوادر پرو کے مطابق چین کےسفیر نونگ رونگ نےڈیرہ بگٹی میں ایک تقریب کےدوران سیمنٹ فیکٹری کےقیام کا اعلان کیا اورکہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں، میں نے موسلا دھار بارشوں سے بہت سے مکانات کو تباہ ہوتے دیکھا،ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کیلیے کچھ کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا تھا اور سیلاب متاثرین میں امداد تقسیم کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ وزیر شاہ زین کے ساتھ بلوچستان میں بگٹی قبیلے کا میرا پہلا دورہ ہے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے خوراک کے پیکجز تقسیم کیے گئے۔


    انہوں نے کہا کہ یہ چینی حکومت اور پی پی ایل کی طرف سے خیر سگالی ہے آفات کے بعد کی تعمیر نو میں مدد کرنے اور باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔

    امریکا کا افغان مرکزی بینک کے منجمد 3.5 ارب ڈالرسوئس میں قائم ٹرسٹ کےذریعے منتقل کرنے کا اعلان

    انہوں نے کہا تھا کہ چین اور پاکستان کی دوستی سمندر سے زیادہ گہری اور ہمالیہ سے زیادہ اونچی ہے مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ مدد و تعاون ہمارے روایات کا مشترکہ حصہ ہے چین کے لوگ کبھی یہ نہیں بھول سکتے کہ سن 2008 کے وینچوآن زلزلے میں پاکستانی نے کس طرح اپنے اسٹاک میں پڑے ہوئے تمام خیمے اپنی مصیبت زدہ چینی بھائیوں کے لئے وقف کر دئیے تھے ٹھیک اسی طرح سیلاب کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار پاکستانی بہن بھائیوں کے دکھ درد کا ہمیں بھرپور احساس ہے اور عوامی جمہوریہ چین کی بھرپور کوشش ہے کہ ہم ان کی ہرممکن مدد کریں ہمیں یقین ہے کہ ہر مشکل سے لڑنے والی بہادر پاکستانی قوم اس مشکل حالات سے بھی جلد نکل آئے گی-

    انہوں نے کہا تھا کہ چین صرف سیلاب یا بارش سے متاثر افراد کی مدد ہی نہیں کررہی بلکہ چائنا سی پیک جیسے اہم پروجیکٹ میں بھی کلیدی کردار ادا کررہی ہے سی پیک کے بہت ہی اچھے ثمرات نظر آرھے ہیں جیسے کہ نئے بجلی گھر اور نئے شاہراہ بنانا ہے انہوں نے کہا کہ اب ہمارا اگلا ہدف جدید زراعت پہ ہوگا جس سے ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی لوگوں کے ہنر میں بھی اضافہ ہوگا-

    ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى

    مثلاَ میں اپنے ساتھ چائنیز چلی کمپنی کا ایک نمائندہ ساتھ لایا ہوں یہ کمپنی پاکستان میں موجود زرعی ماہرین کے ساتھ ملکر مرچ اگائے گی اور چین میں برآمد کرے گی نیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ اپنے آخری مراحل میں ہے جو کہ اگلے سال مکمل ہوگا پیشہ ورانہ ٹریننگ سینٹر میں مقامی لوگوں کو بھارتی کیا گیا –

    وفاقی وزیر انسداد منشیات نوابزدہ شاہ زین بگٹی نے مشکل وقت میں ساتھ دینے پر حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کا شکریہ ادا کیا بعد ازاں چینی سفیر مسٹر نانگ رانگ نے وفاقی وزیر نوابزادہ شاہ زین بگٹی کے ہمراہ بارش سے متاثر ہونے والے افراد کے منہدم ہونے والے مکانات کا بھی دورہ کیا

  • قابلِ تجدید توانائی ہی پاکستان کا مستقبل ہے:وزیراعظم

    قابلِ تجدید توانائی ہی پاکستان کا مستقبل ہے:وزیراعظم

    اسلام آباد:قابلِ تجدید توانائی کے استعمال سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔ شمسی توانائی منصوبوں کے حوالے سے کل ایک پری بڈنگ (Pre-Bidding) کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو گی

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور متبادل توانائی کا استعمال کرتے ہوئے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے درآمدی بل کا بڑا حصہ بجلی پیدا کرنے کے لیے مہنگا ایندھن درآمد کرنے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی جانب بڑھیں تاکہ قیمتی زرِ مبادلہ بچ سکے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ شمسی توانائی منصوبوں کے حوالے سے کل ایک پری بڈنگ (Pre-Bidding) کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔

    وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار آج اسلام آباد میں ایک چینی کمپنی Zonergy کے ایک وفد سے ملاقات میں کیا۔ وفد کی صدرات ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور صدر Zonergy Corporationجناب Richard J. Guo نے کی .وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست ہیں۔ چین نے ہر داخلی اور خارجی محاز پر پاکستان کی حمایت کی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری، جو کہ چین کے وسیع تر منصوبے Belt and Road Initiative کاحصہ ہے ,کے ذریعے چین پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، صنعت اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے قائداعظم سولر پاور بہاولپور کا 300 میگاواٹ کا منصوبہ ریکارڈ مدت میں پورا کیا تھا اور ہماری آئندہ بھی یہی کوشش رہے گی کہ ہم قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر , وِنڈ انرجی کے حوالے سے سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔

    ملاقات میں وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ چوہدری سالک حسین، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی جناب احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر جہانزیب خان، جناب ظفرالدین محمود اور جناب فہد حسین نے شرکت کی۔ زانرجی کارپوریشن کی جانب سے وزیراعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے ایک خطیر رقم کا چیک بھی عطیہ کیا گیا ۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    چین نےکہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح گزشتہ سال بھی پاک چین دوستی ہر طرح کے حالات میں لوہے کی طرح مضبوط رہی،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،پاکستان کو کئی دہائیوں کے شدید ترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے باعث 1 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ)سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،سیٹلائٹ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے کل رقبے کا بڑا حصہ زیر آب آچکا ہے۔اس بات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیوجن سونگ نے دوسرے پاک چائنہ تھنک ٹینک سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

    انہوں نے گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالے دیتےہوئے کہا کہ پاکستان میں بارش اور سیلاب نے پلوں اور سٹرکوں کو بہادیا جبکہ خشک زمین دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے،متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل کا سلسلہ رک چکا ،کھیتی باڑی اور مکانات تباہ جبکہ باشندے بے گھر ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بچے حصول علم سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام پاکستانیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستانی عوام کے مضبوط کردار کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے خود کو ریلیف کے لیے اکٹھا کیا اور تیزی سے اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کی۔انہوں نے چین اور پاکستان کو آئرن برادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ 2008 میں وینچوان زلزلے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر فوجی طیاروں کے ذریعے ٹینٹ اور دیگر سامان بھیجا،چین اس کابدلہ اس سے کئی گنا اتارے گا۔لیو جن سونگ نے کہا کہ اپنے آئرن برادر کی مشکلات کو سمجھتا ہے،یہاں سیلاب کے بعد صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے بالترتیب صدر عارف علوی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو تعزیتی پیغامات بھیجے۔انہوں نے کہا کہ چین نے سی پیک فریم ورک کے تحت پاکستان کو 4,000 خیمے، 50,000 کمبل اور 50,000 واٹر پروف سائبان فراہم کیے ہیں اور ان سب کو سیلاب کے خلاف فرنٹ لائن پر استعمال میں لایا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے ذریعے چین نے پاکستان کو 100 ملین یوآن ہنگامی انسانی امداد فراہم کی، اگست کے آخر میں کل 25,000 میں سے پہلے 3,000 خیموں کو چینی فوجی ہوائی جہازوں کے ذریعے صوبہ سیچوان سے پاکستان بجھوایا اور استعمال میں لایا گیا،جیسے جیسے سیلاب کی صورتحال تیار ہوئی سیڈا نے انسانی امداد کے 300 ملین یوآن کا اضافہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دیگر فوری امدادی سامان جیسے سبزیوں اور خیموں کا فوری بندوبست کیا جا رہا ہے،چینی عوام بھی مدد کر رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کے ہنگامی امدادی اکاؤنٹ کو کھلنے کے چند گھنٹوں کے اندر 1 ملین یوآن کے عطیات موصول ہو گئے یہاں تک کہ بیجنگ سے تعلق رکھنے والے پرائمری سکول کے طالب علم لوان منگ سوان نے اپنی تمام جیب خرچ عطیہ کردی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی شہری امدادی رضاکاروں کی ٹیمیں بھی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چینی کمپنیوں نے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے پہل کی، حال ہی میں، وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے صوبہ سیچوان کی لوڈنگ کاؤنٹی میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں پر اظہار ہمدردی کیا۔ سیلاب بے رحم ہیں لیکن انسان رحم دل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی تباہی پر غالب آ جائیں گے اور اپنا گھر دوبارہ بنائیں گے۔

    سی پیک بارے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے مضبوط معاونت فراہم کر رہا ہے، کچھ عرصہ قبل کروٹ پلانٹ، سی پیک کے تحت پہلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے سات سال کی تعمیر کے بعد کام شروع کر دیا ۔ اس منصوبے نے ہزاروں مقامی ملازمتیں پیدا کی ہیں اور 3.2 بلین کلوواٹ آور کی سالانہ پیداوار کے ساتھ یہ اب 50 لاکھ خاندانوں کے لیے سستی صاف توانائی فراہم کرتا ہے،اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں 3.5 ملین ٹن کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے پاکستان کو توانائی کی حفاظت اور سبز معیشت میں منتقلی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، وزیر اعظم محمد شہبازشریف سی پیک کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو بار گوادر پورٹ کا دورہ کیا، چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی درخواستوں کا موقع پر ہی جواب دیا۔

    رشکئی انڈسٹریل پارک زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے،سی پیک کے تحت صنعتی، زرعی اور سماجی ذریعہ معاش میں تعاون ٹھوس پیش رفت کر رہا ہے جو پاکستان کی صنعت کاری اور جدید کاری میں نئے کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے تائیوان اور سنکیانگ جیسے چین کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر چین کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کو بھی تسلیم کیا۔امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے گزشتہ ماہ چین کے علاقے تائیوان کے دورے پر پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے آگے بڑھ کر 100 سے زائد ممالک کے ساتھ انصاف کا پیغام دیتے ہوئے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • چین کے جنگی طیاروں کی آبنائے تائیوان کی  حدود میں پرواز

    چین کے جنگی طیاروں کی آبنائے تائیوان کی حدود میں پرواز

    تائیوان کا کہنا ہے کہ چین کے 17 جنگی طیاروں نے ایک بار پھر آبنائے تائیوان کو عبور کرتے ہوئے پروازیں کیں۔

    باغی ٹی وی : چین اور تائیوان کے درمیان مہینوں سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق ہفتہ کی شام چین کے 43 جنگی طیارے اور 9 بحری جنگی جہاز ہفتہ کی شام تائیوان کی سمندری حدود میں دیکھے گئے ہیں جس کےبعد تائیوان کی مسلح افواج نے فضائی اور بحری گشت میں اضافہ کردیا۔

    امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

    تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق چین کے چار سخوئی ایس یو تھرٹی اور چینگڈو جے ٹین طرز کے چار لڑاکا طیارے اور نو شینیانگ جے سولہ طرز کے طیاروں نے آبنائے تائیوان کو عبور کیا اینٹی سب میرین ائیر ڈیفنس آئی ڈنٹفکیشن زون میں ایک اینٹی سب مرین طرز کے تیارے نے بھی اڑان بھری اس کے ساتھ ہاربن طرز کا طیارہ بھی محو پرواز تھا۔

    تائیوان نے بتایا کہ اس نے چین کا مقابلہ کرنے کیلئے میزائل ڈیفنس سسٹم تعینات کر دیا ہے۔

    دریں اثنا، چین اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہاؤس سپیکر نینسی پیلوسی کے تائی پے کے متنازعہ دورے کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے امریکی بحریہ کے دو جنگی بحری جہاز آبنائے تائیوان میں داخل ہوئے جو کہ ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے خود ساختہ جزیرے کے دورے کے بعد سے امریکہ کی پہلی بحری راہداری ہے۔

    امریکا نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے سامان اورآلات فروخت کرنےکی منظوری دیدی

    یاد رہے گزشتہ کچھ عرصہ سے چین نے تائیوان کے اوپر اپنی پروازوں کو تیز کر دیا ہے ان کارروائیوں کا مقصد نیم خود مختار جزیرے تائیوان کو سخت پیغامات پہنچانا ہے تائیوان سمجھتا ہے کہ اس کی23 ملین آبادی کو بیجنگ سے خود ارادیت اور مستقل آزادی کا حق حاصل ہے۔ بیجنگ تائیوان کا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرتا اور اس جزیرے کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے تائیوان کی مدد کے مسلسل تکرار کی جا رہی ہے۔ امریکہ تائیوان کو اسلحہ کے معاہدوں کے ذریعہ بھی تعاون فراہم کر رہا گزشتہ ہفتے ہی امریکہ اور تائیوان کے درمیان 1.1 بلین ڈالر کا معاہدہ ہوا جس میں 60 اینٹی شپ میزائل اور 100 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں ان ہی وجوہات کی بنا پر چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی ممکنہ فروخت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جزیرے کے ساتھ اپنا فوجی رابطہ فوری طور پر بند کر دے ہ خود مختار جزیرے کے ساتھ کوئی بھی فوجی رابطہ "ایک چین” کے اصول کی خلاف ورزی ہے تاہم امریکہ فوری طور پر اسلحے کی فروخت کو منسوخ کرے اور تائیوان کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات ختم کرے۔

    امریکی بمبار طیارے کو دوران پرواز 6 سعودی لڑاکا طیاروں نے سیکیورٹی فراہم کی

  • چین کی ترقی کا انحصارچینی عوام کی محنت کےجذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے

    چین کی ترقی کا انحصارچینی عوام کی محنت کےجذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے

    بیجنگ:چین کی ترقی کا انحصار چینی عوام کی محنت کے جذبےسے وابستہ ہے:پاکستانی طالبعلم نےحقائق بیان کردیئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد فہد بقا چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ایرو اسپیس انفارمیشن انوویشن میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔چین میں قیام کے سات برسوں میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور ان کے خیال میں چین کی تیزرفتار ترقی کا انحصار چینی عوام کی محنت اور خدمت کے جذبات سے وابستہ ہے۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں چین نے پائیدار ترقیاتی ایجنسی کے لیے پہلا سائنس سیٹلائٹ لانچ کیا جس سے ڈیٹا کا پوری دنیا میں اشتراک کیا جائے گا۔محمد بقا کے انسٹی ٹیوٹ نے اس سیٹلائٹ کی تیاری میں حصہ لیا تھا اور انہیں اس بات پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اس شعبے میں ٹیکنالوجی سے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرتا آرہا ہے۔

    گزشتہ سال جون میں انہوں نے مختلف ممالک کے پچاس سے زائد نوجوانوں کے ساتھ چین کے شمال مغربی علاقے کے دیہات کا دورہ کیا اور چینی عوام کی محنت سے متاثر ہو کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ چینی صدر شی جن پھنگ کے نام ایک خط بھیجا۔بڑی خوشی کی بات ہے کہ انہیں بہت جلد صدر شی کا جوابی خط ملا۔محمد فہد بقا نے کہا کہ جناب شی جن پھنگ نے اپنے جوابی خط میں لکھا کہ “خوشحالی کے لیے محنت کرنی ہوگی۔” اس جملے سے وہ بہت متاثر ہیں۔ان کے خیال میں چین کی ترقی میں عوام کی انتھک کوششوں اور خدمت کے بے لوث جذبات کا بہت کلیدی کردار ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    اسلام آباد:چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیو جن سونگ نے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اور چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل ریلیشنز کی طرف سے منعقدہ دوسرے “چین پاکستان تھنک ٹینک فورم” میں شرکت کی اور تقریر کی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق انہوں نے کہا کہ اس سال چین پاکستان تعلقات بہت سی آزمائشوں سے گزرے اور چین پاک دوستی مزید مضبوط ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تین چیزوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ چین نے پاکستان کو سیلاب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس سال جون سے پاکستان دہائیوں میں بدترین سیلاب کا شکار ہوا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 33 ملین سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ چینی عوام پاکستانی عوام کے لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور بہت پریشان ہیں۔ پاکستانی عوام کی امداد کے لیے چین نے ہنگامی طور پر امدادی سازوسامان اور مالی امداد فراہم کی۔مجھے یقین ہے کہ پاکستانی بھائی اس آفت پر قابو پا کر اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں گے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ چین پاک اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک مضبوط سہارا بن رہی ہے۔ اب سی پیک کا منصوبہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سی پیک کی تعمیر کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو دفعہ گوادر پورٹ کا معائنہ کیا اور وہاں چینی کاروباری اداروں کے ساتھ سیمپوزیم کا انعقاد کیا اور موقع پر ہی چینی کاروباری اداروں کے مطالبات کا جواب دیا۔

    تیسری چیز چین کے بنیادی مفادات جیسے تائیوان اور سنکیانگ سے متعلق معاملات پر پاکستان کی چین کی مضبوط حمایت ہے۔کووڈ-19 کی وبا، یوکرین کے بحران اور کچھ ترقی یافتہ ممالک کی مالیاتی پالیسیوں کے اثرات کی وجہ سے “پانچ سیکیورٹی” کے مسائل جیسے کہ خوراک ،توانائی،مالیات، پیداوار اور سپلائی چین کی سلامتی، اور ماحولیاتی سلامتی تیزی سے نمایاں ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں چین اور پاکستان کو چاروں موسموں کے اسٹریٹجک شراکت داروں کے طور پر، مندرجہ ذیل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے دونوں ممالک کو یکجہتی، تعاون اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہئیے۔دوسرا یہ ہے کہ سی پیک کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔ تیسرا یہ ہے کہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو لاگو کرنے میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔

    ایک اور اطلاع کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے چائنا ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلال احمد نے 5 ستمبر کو چین کے صوبہ سی چھوان کے شہر لوڈنگ میں آنے والے زلزلے کے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین پاکستان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو سراہتا ہے۔ تصادم سے کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہوگا اور تعاون اور ترقی وقت کا مرکزی دھارا ہے۔ پاکستان “دی بیلٹ اینڈ روڈ” خصوصاً چین پاک اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کوشش کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا جاسکے۔

  • امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

    امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

    بیجنگ:چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی ممکنہ فروخت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جزیرے کے ساتھ اپنا فوجی رابطہ فوری طور پر بند کر دے۔

    حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے تائیوان کو 1.1 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکج کی فروخت کی تجویز دینے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں 60 اینٹی شپ میزائل اور 100 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔

    چینی وزارت قومی دفاع کے ترجمان، سینئر کرنل تان کیفی نے تائیوان کے ساتھ امریکی فوجی رابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ چینی فوجی دستے بیجنگ کے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔

    انہوں نے کہا، "چین کے تائیوان کے علاقے کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک چین کے اصول اور تین چین امریکہ مشترکہ اعلامیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”

    چین نے تائیوان کو 1.1 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ برآمد کرنے کے امریکی حکومت کے نئے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود مختار جزیرے کے ساتھ کوئی بھی فوجی رابطہ "ایک چین” کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
    ترجمان نے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اسلحے کی فروخت کو منسوخ کرے اور تائیوان کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات ختم کرے۔

    تان نے کہا، "تائیوان چین کا تائیوان ہے، اور تائیوان کے سوال میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں ہے۔ کوئی اور کوئی طاقت مادر وطن کے مکمل دوبارہ اتحاد کے تاریخی رجحان کو نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کا ہتھیار خرید کر آزادی حاصل کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔

    دریں اثنا، چین اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہاؤس سپیکر نینسی پیلوسی کے تائی پے کے متنازعہ دورے کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے۔

    امریکی بحریہ کے دو جنگی بحری جہاز آبنائے تائیوان میں داخل ہوئے ہیں جو کہ ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے خود ساختہ جزیرے کے دورے کے بعد سے امریکہ کی پہلی بحری راہداری ہے۔

    پانچ فرانسیسی قانون سازوں اور امریکی کانگریس کے ایک اور گروپ کا ایک وفد اس ہفتے تائیوان کا دورہ کرے گا۔ فرانسیسی وفد کا یہ دورہ امریکی حکام اور قانون سازوں کے مسلسل دوروں کے بعد اعلیٰ سطحی یورپیوں کا پہلا دورہ ہوگا جس نے چین کو ناراض کیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فرانسیسی وفد بدھ کو 4 روزہ دورے پر پہنچے گا۔ اس میں کہا گیا کہ وفد نائب صدر ولیم لائی سے ملاقات کرے گا۔

    دریں اثنا، تائیوان کی منصوبہ بند ملاقاتوں سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ فلوریڈا کی ڈیموکریٹ امریکی نمائندہ سٹیفنی مرفی کی قیادت میں دو طرفہ ایوان کا وفد بھی بدھ کے روز تائیوان کے 2 روزہ دورے پر آنے والا تھا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    چینی سائنسدانوں کا خلاء میں چاول اگانے کا کامیاب تجربہ

    برف کے پودوں کو پہلی بار ایک تجربے میں خلا میں بیجوں سے کاشت کیا گیا ہے تجربے کے مستقبل کے طویل مدتی مشنز پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: چینی خلاء نوردوں جن کو ٹائیکونوٹس کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ تجربہ وینٹیئن اسپیس لیبارٹری پر کیا اس لیبارٹری کو 24 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا جو ابھی ٹیانگونگ اسپیس اسٹیشن کے مرکزی موڈیول سے جُڑی ہے۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    ایسا پہلی بارہوا ہے کہ سائنس دانوں نے چاول کے اگنے کا مکمل عمل، یعنی بیج سے ایک ایسا پودا بننا جو خود بیج پیدا کر سکے، عدم کششِ ثقل کے ماحول میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ٹائیکوناٹس یعنی چینی خلانورد خلا میں عربائیڈوپسِس تھالیانا نامی ایک پودےکا بھی تجربہ کررہےہیں یہ پودا سرسوں کے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور اکثرموسمیاتی تغیرات کے مطالعے کے استعمال کیا جاتا ہے۔

    چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر پلانٹ سائنسز کے ایک محقق پروفیسر ہوئی قیونگ ژینگ کا کہنا تھا کہ چاولوں کی اچھی نمو ہو رہی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کی تحقیقات کرنا چاہتے ہیں کہ مالیکیولر سطح پر مائیکرو گریویٹی کس طرح پودے کے پھول دینے کے وقت کو متاثر کر سکتی ہے اور آیامتعلقہ عمل کو قابو کرنے کے لیے مائیکرو گریویٹی ماحول کااستعمال ممکن ہے۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سب سے مقبول غذاؤں میں سے ایک غذا چاول ہے اور اپولو مشنز کے بعد سے یہ خلاء بازوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

    ناسا کے خلاء باز نیل آرمسٹرونگ، مائیکل کولنس اور بز آلڈرِن اپولو 11 مشن کے دوران خشک جمی ہوئی چکن اور چاول کی غذا کھاتے تھے۔

    تب سے، خلابازوں نے زمین پر اگائی اور کاشت کی جانے والی خوراک پر انحصار کیا ہے، تاہم مریخ اور اس سے آگے طویل مشنوں کی امیدیں خلا میں پودوں اور فصلوں کو اگانے کی صلاحیت پر منحصر ہو سکتی ہیں۔

    پروفیسرژینگ نے کہا کہ اگر ہم مریخ پر جانا اور دریافت کرنا چاہتے ہیں، تو زمین سے خوراک لانا خلابازوں کے طویل سفر اور خلا میں مشن کے لیے کافی نہیں ہے ہمیں طویل مدتی خلائی تحقیق کے لیے ایک پائیدار خوراک کا ذریعہ تلاش کرنا ہوگا-

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

  • اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے چین کے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایک خبر کے مطابق: اقوام متحدہ کی جانب سے یکم ستمبر کو جاری رپورٹ میں طویل عرصے کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ذکر کے ساتھ ساتھ سرگرم گروپوں، مغربی ممالک میں جلاوطن ایغور کمیونٹی کی طرف سے طویل عرصے سے لگائے جانے والے بہت سے الزامات پر اقوام متحدہ کی مہر لگائی گئی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حراست بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
    تحریر جاری ہے‎

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے فیصلہ کیا کہ سنکیانگ کے ایغور خود مختار خطے میں صورتحال کی مکمل تشخیص کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار ہونے میں ایک سال لگا اور رپورٹ جاری ہونے کی چین نے سخت مخالفت کی ہے۔

    اے ایف پی کو لکھی گئی ای میل میں مشل بیچلیٹ نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ اپنی مدت پوری ہونے سے قبل میں یہ رپورٹ جاری کروں گی اور میں نے کر دکھایا۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سیاست کی نظر کرنا مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

    اس رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے کثیرالجہتی عزم کے ساتھ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ان تمام اصولوں و ضوابط پر یقین رکھتا ہے جن میں سیاسی آزادی، خودمختاری اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا احترام شامل ہے۔

    ڈان کے مطابق: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ مستقل مؤقف ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لیے سیاست سے بالاتر، عالمگیریت، معروضیت، مکالمہ اور تعمیری بات چیت اہم ترین ذرائع ہونے چاہییں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سنکیانگ میں سماجی و معاشی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران 70 سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اس طرح سے وہاں کے عوام کے حالات زندگی میں بہتری آرہی ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ساتھ چین کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تمام انسانی حقوق کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے اپنے مستقل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں سبکدوش ہونے والی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل چین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق پہلے سے تیار رپورٹ جاری کی تھی۔

    خیال رہے کہ: چین پر کافی عرصے سے اپنے اس خطے میں ایغور برادری سمیت دیگر 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے جبکہ بیجنگ سختی سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور وضاحت پیش کی ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مراکز چلائے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ جبکہ تشخیص میں چین کے نام نہاد پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز میں قید لوگوں کے علاج پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات، بشمول جبری طبی علاج اور حراست کے منفی حالات، قابل اعتبار ہیں، جیسا کہ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے انفرادی واقعات کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

    تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ چین کے پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز میں کتنے لوگ متاثر ہیں مگر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خطے میں یہ سسٹم وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔
    جنیوا میں چین کے مشن نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی اور اسے جاری کرنے کے خلاف اپنی سخت مخالفت کو برقرار رکھتے ہوئے سنکیانگ کی صوبائی حکومت کی جانب سے خطے میں بیجنگ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والی 121 صفحات پر مشتمل دستاویز شیئر کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چین مخالف قوتوں کی طرف سے من گھڑت جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر مبنی نام نہاد ‘تشخیص’ چین کے قوانین اور پالیسیوں کو مسخ کرتی ہے، اور چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتی ہے، جبکہ یہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔‘

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا تحفظ اور انسانی حقوق کا بہترین عمل ہے۔‘ غیر سرکاری تنظیموں اور مہم گروپوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو مزید کارروائی کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

    ایغور کون ہیں؟

    چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘ایغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔ کئی سال سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

  • چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، 46 افراد ہلاک ،درجنوں زخمی اور 16 لاپتہ

    چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، 46 افراد ہلاک ،درجنوں زخمی اور 16 لاپتہ

    بیجنگ : چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلہ، کم از کم 46 افراد ہلاک درجنوں زخمی اور 16 افراد لاپتہ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : چین کے سرکاری میڈیا نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے میں چھیالیس افراد ہلاک ہوئے۔

    چینی میڈیا کے مطابق چین کے مغربی صوبے سچوان میں شدید زلزلے سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے ریکٹر سکیل پر 6.8 کی شدت نوٹ کی گئی-

    سعودی عرب : الباحہ میں ہفتے میں دوسری بار زلزلے کے جھٹکے

    چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز لوڈنگ میں تھا، جو چنگڈو سے تقریباً 226 کلومیٹر (110 میل) جنوب مغرب میں پہاڑوں میں واقع ہے۔

    سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، زلزلے کے مرکز کے قریب کچھ سڑکوں اور گھروں کو پیر کو لینڈ سلائیڈنگ سے نقصان پہنچا، جب کہ کم از کم ایک علاقے میں مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مغربی صوبہ سچوان کے دارالحکومت چنگڈو میں زلزلے کے جھٹکوں سے کئی عمارتیں لرز گئیں جہاں لاک ڈاؤن کے باعث پہلے ہی لوگ اپنے گھروں تک محدود تھے جبکہ یان شہر میں 17 جبکہ گانزی میں 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں، 50 افراد زخمی اور 16 افراد لاپتہ ہیں-

    صوبہ سچوان کے ایک شہر میں زلزلے سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک اور شہر میں سڑک بند ہونے سے آمد و رفت تعطل کا شکار رہی اور مواصلاتی لائنیں متاثر ہوئی ہیں زلزلے کے مرکز کے 50 کلومیٹر (31 میل) کے اندر ڈیم اور ہائیڈرو پاور اسٹیشنز محفوظ رہے-

    افغانستان کے شہر جلال آباد میں زلزلہ،11 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    مغربی صوبے کے قریبی علاقوں میں زلزلے کے بعد بھی وقفے وقفے سے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ چینی حکومت نے زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو اورریلیف سرگرمیوں میں مدد کے لیےایک ہزار سے زائد فوجی بھجوائے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کے لیے خیمے، کمبل اور دیگر سامان بھی پہنچایا گیا ہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زندگیاں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائےچین کا جنوب مغربی علاقے سیچوان میں زلزلے عام ہیں، خاص طور پر اس کےمغربی پہاڑوں میں، جو کہ چنگھائی تبتی سطح مرتفع کی مشرقی حدود کے ساتھ متحرک زلزلہ زون میں واقع فعال علاقہ ہے-

    قبل ازیں سال 2008 میں بھی صوبہ سچوان میں ریکٹر سکیل پر 8 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد ہلاک ہو ئے تھے-

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ