Baaghi TV

Tag: چین

  • بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    بھارت میزائل کی پاکستان میں دراندازی اورپاک فوج کا منہ توڑ جواب:امریکہ اورچین بھی میدان میں آگئے

    ہندوستان نے حال ہی میں غلطی سے ایک میزائل داغا جو پاکستان میں گرا۔ ہندوستان نے اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ اس کی معمول کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ میزائل ہندوستان نے داغے تھے۔ اسی دوران آج راجیہ سبھا میں بیان کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے لیکن راحت کی بات ہے کہ اس حادثے میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور باضابطہ اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوگی۔ فی الحال ایس او پی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی خرابی پائی جاتی ہے تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا۔ ہمارا میزائل سسٹم انتہائی محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔

    اس معاملے پر امریکہ اور چین کا موقف الگ ہے۔ جہاں امریکہ ہندوستان کی حمایت میں نظر آ رہا ہے تو وہیں چین پاکستان کا ساتھ دے رہا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی میزائل کے فائر ہونے کے واقعے میں حادثے کے علاوہ کسی دوسری وجہ کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پاکستان نے اس کی مشترکہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ہندوستان نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    ایک ایسے وقت جب ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے اندر برہموس میزائل فائر کیے جانے کے واقعے پر طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے، امریکہ نے بھارتی موقف کی تائید کر دی ہے۔ دوسری جانب چین نے پاکستان کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ فریقین کو مشترکہ طور پر مل کر یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے پاکستان نے ہندوستان پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور اس حوالے سے بطور احتجاج ہندوستانی حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے دو روز بعد بھارت نے یہ بات تسلیم کی کہ اس کا ایک میزائل غلطی سے فائر ہو گیا اور وہ پاکستان کے اندر جا گرا۔

    ہندوستان نے اس پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی وجوہات کے سبب یہ غلطی سرزد ہوئی اور اسی لیے اس کی اعلی سطح پر تفتیش کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا میں اس حوالے سے اور بھی بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں اور اس پر طرح طرح کے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی سرزمین پرہندوستانی میزائل فائر کیے جانے کے اسی معاملے پر جب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے سوال کیا گیا کہ آخر امریکہ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہو سکتی تو ترجمان نیڈ پرائس نے کہا، ”جیسا کہ آپ نے ہمارے بھارتی شراکت داروں سے بھی سنا ہے، ہمارے پاس ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ ایک حادثے کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔”

    اس حوالے سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ”ہم اس بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ کو یقیناً ہندوستانی وزارت دفاع سے رجوع کرنے کو کہیں گے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے نو مارچ کو ایک بیان جاری کیا تھا۔ اس معاملے میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔”

    پیر کے روز ہی جب ایک پاکستانی صحافی نے چینی وزارت خارجہ سے ہندوستانی میزائل کی ”حادثاتی فائرنگ” پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا تو چینی ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین نے اس حوالے سے متعلقہ معلومات کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان اور ہندوستانی دونوں جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں، جن پر علاقائی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”چین دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ اس پر جلد از جلد مکالمہ اور رابطہ کریں اور غور سے واقعے کا جائزہ لیں، معلومات کے تبادلے کو تیز کریں، اور فوری طور پر رپورٹنگ کا طریقہ کار قائم کریں تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اور غلط فہمی اور غلط اندازے سے بچا جا سکے۔”

    واضح رہے کہ پاکستان نے ہندوستان کی جانب سے غلطی تسلیم کرنے کے بعد اس واقعے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ چونکہ میزائل پاکستان میں گرا اس لیے اس کی تفتیش دونوں ملکوں کو مل کر مشترکہ طور پر کرنی چاہیے۔ بھارت نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے، تاہم چین کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے موقف کا حامی ہے۔

    ہندوستان نے نو مارچ 2022ء کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میزائلوں کی معمول کی نگرانی کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثاتی طور پر ایک میزائل فائر ہو گیا اور وہ پاکستان میں تقریباً 124 کلو میٹر اندر تک جا کر گرا۔

    ہندوستان کا کہنا تھا، ”معلوم ہوا ہے کہ یہ میزائل پاکستان کے ایک علاقے میں گرا۔ یہ ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ تاہم یہ سن کر اطمینان بھی ہوا کہ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔”

    تاہم میڈیا میں اس حوالے سے بہت سی چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں۔ اس طرح کی بھی باتیں کہی جا رہی ہیں کہ کیا بھارت نے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی قوت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے اور آخر میزائل کے اتنے طویل فاصلے تک پرواز کرنے کے باوجود اسے روکا کیوں نہیں کیا جا سکا۔

    ادھر آج بھی تھوڑی دیر پہلے کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں بھارتی میزائل فائر کرنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران اہم عالمی، علاقائی پیشرفت، ملک میں داخلی سلامتی کی صورتحال، مغربی سرحدوں پر پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس نے بھارت کی طرف سے خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والے میزائل کے حالیہ واقعہ کو حادثاتی قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    شرکاء کے مطابق بھارتی میزائل سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔ غلطی کے بھارتی اعتراف کے باوجود متعلقہ بین الاقوامی فورمز کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ عالمی فورمز کوبھارتی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، ایسے خطرناک واقعات خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دہشت گردی کے خلاف جاری کامیاب آپریشنز کو سراہا۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی کہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس، یوم پاکستان پریڈ کے پر امن انعقاد کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فارمیشنوں کی آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور مشن پر مبنی تربیت پر زور دیا۔

  • یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    واشنگٹن: امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ کیلئے چین سے ہتھیار مانگے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے چین کو وارننگ دی ہے کہ وہ روس کی عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد کرنا بند کرے، امریکہ اس چیز کو بالکل برداشت نہیں کرے گا۔

    روس کا امریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام

    جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ دنوں میں روس نے چین سے مدد مانگی ہے، یہ مدد فوجی آلات کی شکل میں طلب کی گئی ہے۔

    جوبائیڈن انتظامیہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ چین جھوٹی خبریں پھیلانے میں روس کی مدد کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اور چینی حکام روم میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج

    قبل ازیں روس نےامریکا پر یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا تھا روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا تھا کہ دستاویزی ثبوت ہیں کہ امریکہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیار بنارہا ہے-

    ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ماسکو زیلنسکی کا تختہ الٹنے کے لیے یہ کام نہیں کر رہا،امریکہ عالمی برادری کے سامنے یوکرین میں اپنے اس پروگرام کی وضاحت دینے کا پابند ہے

    دوسری جانب امریکہ نے روس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی جانب سے لگائے گئے یہ الزامات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماسکو جلد ہی یہ ہتھیار یوکرین میں استعمال کر سکتا ہے۔

  • بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا شکار

    روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے کے بعد بھارت روسی ہتھیاروں کی فراہمی میں بڑی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے مختلف راستے تلاش کرنے لگا ہے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو سرحد میں چین کے ساتھ درپیش مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ بھارت کے 60 فیصد دفاعی ہتھیار روس سے آتے ہیں، اور بیک وقت بھارت چین سے ایک علاقائی تنازع پرمشرقی لداخ میں دو سال سے سرحدی تناؤ کا سامنا ہے جہاں ہزاروں فوجی ہمہ وقت تیار ہیں۔

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    قبل ازیں 2020 میں اس تنازع میں فائرنگ کے نتیجے میں بھارت کے 20 جبکہ چین کے 4 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

    بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ شیام سارن نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اگر امریکا اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسے روس کی طرف سے بڑے خطرے کا سامنا ہے اور یہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک سہولیات کا جواز پیش کرے اور ایشیا میں چینی تسلط کے پیش نظر اپنے یورپی حصے کی حفاظت کرے گا تو یہ بھارت کے لیے یہ ڈراؤنا خواب ہوگا۔

    کیا چین یوکرین سے سبق حاصل کرتے ہوئے متنازع لداخ یا تائیوان میں جارحیت کرے گا؟

    بھارت کے سابق سفارت کار اور جندال اسکول آف انٹرنیشل افئیرز کے فیلو جیتندر ناتھ مشرا نے اس سوال کا جواب دیا کہ بالکل یہ ممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے یوکرین میں روسی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ووٹنگ سے باز رہنے کے بعد ہندوستان کے ساتھ حل نہ ہونے والے اختلافات کے بارے میں بات کی ہےبھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے تاحال روس کی یوکرین میں جارحیت پر اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد میں روس کے خلاف ووٹ ڈالنے یا روسی صدر پر تنقید کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔

    ہم دنیا کوتیسری عالمی سےبچانا چاہتے،لیکن روس تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہا…

    1990 کی دہائی کے اوائل میں، تقریباً 70% ہندوستانی فوج کے ہتھیار، 80% فضائیہ کے نظام اور 85% بحریہ کے پلیٹ فارم سوویت نژاد تھے تاہم ہندوستان اب روسی ہتھیاروں پر اپنا انحصار کم کر رہا ہے اور اپنی دفاعی خریداری میں تنوع پیدا کر رہا ہے، امریکہ، اسرائیل، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک سے زیادہ خریداری کر رہا ہے۔

    انٹرنیشنل پیس رسرچ انسٹیٹیوٹ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق،2016 سے 2020 تک روس سے بھارت کو تقریباً 49% تک دفاعی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں جب کہ فرانس سے 18% اور اسرائیلی سے 13% دفائی ہتھیاروں کی برآمدات ہوئیں۔

    بھارت کے سابق فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہڈا نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف روسی ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے بلکہ وہ اپنے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہوئے فوجی اپ گریڈیشن اور جدت کے حوالے سے ماسکو پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    گیند لگنے پر انتہا پسند ہندوؤں نے 17 سالہ مسلم نوجوان کو قتل کر دیا

    انہوں نے کہا کہ روس وہ واحد ملک ہے جس نے بھارت کے لیے ایک جوہری آبدوز لیز پر دی، کیا کوئی دوسرا ملک بھارت کو جوہری آبدوز لیز پر دے گا ؟

    سنٹر فار پالیسی ریسرچ کے ایک سینئر فیلو سوشانت سنگھ نے کہا کہ بھارت کی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ یہ روسی ہے صرف یہی نہیں بلکہ بھارت کے لڑاکا طیارے اور اس کے تقریباً 90 فیصد جنگی ٹینک روسی ہیں۔

    1987 میں، بھارتی بحریہ نے تربیت کے لیے سابق سوویت یونین سے ایک چارلی کلاس جوہری کروز میزائل آبدوز چیکرا ون لیز پر لی تھی اور اس کے بعد اس کی جگہ ایک اور آبدوز میزائل چیکرا ٹو حاصل کی تھی۔

    بھارت نے 2019 میں نے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ کرکے 10 سال کی لیز پر جوہری طاقت سے حملہ کرنے والی آبدوز اکولاون بھی حاصل کی تھی جو ممکنہ طور پر 2025 تک فراہم کی جائے گی۔

    بھارت نے اپنا واحد طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرمادتیہ 2004 میں روس سے خرید کیا تھا اور پہلا 40 ہزار ٹن بحری طیارہ اگلے سال تک بیڑے میں شامل ہونے سے پہلے سمندری مشقوں سے گزر رہا ہے۔

    بھارت کے پاس چار جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزیں بھی زیر مراحل ہیں۔

    مودی اورمودی نوازوں نےاقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کو دھمکیاں دینی شروع کردیں

    بھارت کی فضائیہ کے پاس اس وقت 410 سے زیادہ سوویت یونین ساختہ اور روسی لڑاکا طیارے ہیں، جس میں درآمد اور لائسنس شدہ پلیٹ فارم بھی شامل ہیں ہندوستان کی روسی ساختہ فوجی ساز و سامان کی فہرست میں آبدوزیں، ٹینک، ہیلی کاپٹر، آبدوزیں، فریگیٹس اور میزائل بھی شامل ہیں۔

    جیتندر ناتھ مشرا نے کہا کہ امریکا نے بھارت کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے کوئی امادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنے امریکی دوستوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ نے ہمیں کس قسم کی دفاعی ٹیکنالوجی دی ہے؟ امریکا ایف-16 طیاروں کو دوبارہ تیار کرکے ایف-21 کے طور پر پیش کر رہا ہے بھارت کے نکتہ نظر میں ایف-16 طیارہ پرانا ہو چکا ہے، ہم نے 1960 میں ایم آئی جی-21 لیا تھا کیونکہ بھارت کو ایف- 104 سے انکار کیا گیا تھا اور ہمیں چیزیں ویسی ہی نظر آرہی ہیں۔

    امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے سیکیورٹی معاہدے AUKUS کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا آبدوز کی تیاری کے لیے جوہری ٹیکنالوجی آسٹریلیا کو تو دے رہا ہے مگر بھارت کو دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔

    آسٹریلیا نے گزشتہ برس ستمبر میں فرانس سے ڈیزل الیکٹرک آبدوز خریدنے کے لیے اپنا اربوں ڈالرز کا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ہم انڈو پیسفک دفاعی معاہدے کے تحت امریکا سے جوہری طاقت رکھنے والے ہتھیار خریدیں گے۔

    بھارت میں اوباش نوجوانوں کے گروہ کا دو خواتین کا سرعام جنسی استحصال

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران، امریکہ اور بھارت نے 3 بلین ڈالر سے زائد کے دفاعی معاہدے کیے تھے۔ دو طرفہ دفاعی تجارت 2008 میں صفر کے قریب سے بڑھ کر 2019 میں 15 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    بھارت کی امریکا سے اہم خریداری میں ہتھیاروں میں دور تک مار کرنے والا سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ، سی-130 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ، میزائل اور ڈرون شامل تھے۔

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، ہندوستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو کیسے روکا جائے۔

    امریکا کی جانب سے اپنے شراکت داروں کو روسی فوجی ساز وسامان کی خریدار سے گریز کرنے کے مطالبے کے بعد بھارت کو ماسکو کے ساتھ روسی ایس-400 میزائل سسٹم کے معاہدے نے امریکی پابندیوں کے خطرات میں ڈال دیا ہے۔

    ایس-400 ایک جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہے اور اس سے بھارت اپنے حریفوں چین اور پاکستان کے خلاف اسٹریٹجک برتری حاصل ہونے کی امیدلگائے بیٹھا ہے۔

    نئی دہلی خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن اور ‘کواڈ’ کے طور پر قائم انڈو-پیسفک سیکیورٹی اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مدد مانگ چکا ہے، جس میں آسٹریلیا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

    بھارتی بحریہ کے ایک ریٹائر ایڈمرل ایس سی ایس بنگارا نے بھارت کی سوویت ہتھیاروں کے حصول کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی خریداری شروع کی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے نتیجے میں امریکا نے چین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی، پاکستان کے پاس ایک سہولت کار کے طور پر ترپ کا پتہ ہے جس کو پاک-بھارت تنازع کی صورت میں امریکی حکومت کی مکمل حمایت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران امریکا نے پاکستان کی حمایت میں خلیج بنگال میں یو ایس ایس انٹرپرائز کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس تعینات کی تھی جبکہ اسی طرح کی تعیناتی سوویت یونین کی بحریہ نے بھی بھارت کی حمایت میں کی تھی۔

    دونوں طرف سے تعینات کی جانے والی فورسز کا جنگ کے دوران مداخلت کرنا یا نتائج پر اثر انداز ہونا نہیں تھا لیکن دونوں طاقتوں کی طرف سے اپنا سفارتی مؤقف پیش کردیا گیا۔

    بنگارا کا کہنا تھا کہ 1960 میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے سوویت یونین سے متعدد معاہدے کیے جو 40 سال تک جاری رہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا، خاص طورپر جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا، جب سوویت یونین متعدد چھوٹی ریاستوں کی صورت میں بکھر گیا تو امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تربیتی سہولیات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

    بنگارا نے کہا کہ یہاں تک کہ اگر بھارت اپنے دفاعی ضرورت کے لیے امریکا، اسرائیل، فرانس اور دیگر ممالک سے راہ ہموار کرتا بھی ہے تو اس کو روسی سازوسامان اور آلات پر اپنا انحصار ختم کرنے میں 20 سال لگ سکتے ہیں۔

    شدید مالی مشکلات کا سامنا:امریکا میں افغان سفارت خانہ ایک ہفتے میں بند ہوجائے گا

  • تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن و استحکام کیلئے ملکر کام کرنیکی ضرورت ہے،آرمی چیف

    تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن و استحکام کیلئے ملکر کام کرنیکی ضرورت ہے،آرمی چیف

    پاکستان میں چینی ناظم الامور پینگ چنکسو نے آج جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی تعاون، سی پیک پر پیشرفت اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی معاملات میں چین کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام علاقائی ممالک کو پائیدار امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    مہمان معزز نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کو محفوظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کے لیے کیے گئے خصوصی اقدامات پر سی او اے ایس کا شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے سی پیک پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو یقینی بنایا۔

  • یوکرین شرائط پوری کرے ،فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا،روس

    یوکرین شرائط پوری کرے ،فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا،روس

    ماسکو: روس کا کہنا ہے کہ یوکرین شرائط پوری کرے تو فوجی ایکشن ایک لمحے میں رک جائے گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترجمان کریملن نے کہا کہ یوکرین فوجی کارروائی بند کرے، غیرجانبداری کو یقینی بنانے کیلئے یوکرین اپنے آئین میں تبدیلی کرے، کریمیا کو روسی علاقہ کے طور پر تسلیم کیا جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈونیسک، لوگانسک کی علیحدگی پسند جمہوریہ کو آزاد علاقوں کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

    نیٹ فلکس نے روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    دوسری جانب روس یوکرین مذاکرات میں تیسرا دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، روس اور یوکرین کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، یوکرین کا موقف ہے کہ بات چیت میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں سے متعلق ’کچھ مثبت‘ پیش رفت ہوئی ہے، وسیع صورتحال کی بہتری کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا ہے، بیلاروس میں مذاکرات ہماری توقعات پر پورے نہیں اترے۔

    روس پر پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جہاں کینیڈا نے روسی مداخلت میں شریک 10 شخصیات پر نئی پابندیاں لگا دی ہیں، وہیں برطانوی وزیراعظم اور مغربی رہنماوں نے روسی تیل پر انحصار کم کرنے پر حمایت ظاہر کی ہے-

    یوکرین نے شہریوں کے محفوظ انخلا کی روسی پیشکش مسترد کر دی

    روسی نائب وزیراعظم ایلگزینڈر نواک کا کہنا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنا تباہ کن ہوگا، یورپ کو روسی تیل کے علاوہ تیل فراہم کرنے میں ایک سال لگ جائے گا، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    دوسری جانب چین کی دوستی روس سے اب بھی انتہائی مظبوط ہے، اس میں کوئی دراڑ نہیں، تایم یوکرین مسئلہ پر مزاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ چینی دوستی ’چٹان جیسی‘ ہےمختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور تعاون بہت وسیع ہیں۔

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ یوکرین معاملے پر چین کا موقف واضح ہے، روس اور یوکرین باہمی اختلافات کو پرامن انداز سے حل کریں، مذاکرات ہی مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہیں اور تمام ممالک کی علاقائی خودمختاری کا احترام اور تحفظ ضروری ہے خطے کی طویل المدتی سلامتی اور امن، متوازن اور پائیدار یورپی سکیورٹی ڈھانچے سے وابستہ ہے اس سلسلے میں چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یاد رہے چین پہلے ہی اس تنازعے کے حل کے لیے ثالثی کی پیش کش کر چکا ہے، لیکن روس کے خلاف تجارتی اور معاشی پابندیوں پر تنقید کرتا ہے۔

    یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

  • مزید 2 چینی شہروں کے لیے  پی آئی اے کو پروازیں چلانے کا لائسنس مل گیا

    مزید 2 چینی شہروں کے لیے پی آئی اے کو پروازیں چلانے کا لائسنس مل گیا

    کراچی:مزید 2 چینی شہروں کے لیے پی آئی اے کو پروازیں چلانے کا لائسنس مل گیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے پاکستان کی قومی ایئر لائن کو بیجنگ کے علاوہ گوانگ زو اور ژیان کے لیے مزید دو آپریٹنگ لائسنس دے دیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کو مزید 2 چینی شہروں کے لیے پروازیں چلانے کا لائسنس مل گیا ہے، اب گوانگ زو اور ژیان کے لیے بھی قومی پرچم بردار کمپنی مسافروں کی پروازوں کا شیڈول بنانا شروع کرے گی۔

    پی آئی اے کے کنٹری منیجر قادر بخش سانگی نے اتوار کو کہا اس سے قبل پی آئی اے کے پاس صرف بیجنگ کے لیے آپریٹنگ لائسنس تھا، اب چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (سی اے اے سی) نے ایئر لائن کو پاکستان اور چین کے مزید دو شہروں کے درمیان فلائٹ آپریشنز چلانے کے لیے لائسنس دے دیے۔

    چینی سی اے اے کے موجودہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی کیریئر چین کے لیے ہفتہ وار ایک پرواز چلا سکتے ہیں۔

    کنٹری منیجر کے مطابق پی آئی اے نے چینگڈو اسٹیشن کے آپریٹنگ لائسنس کے حصول کے لیے بھی درخواست دی ہے، جو زیر غور ہے، امید ہے اگلے ماہ اس کی منظوری بھی مل جائے گی۔

    پی آئی اے کو چینی حکام کی جانب سے کنمنگ اور شینزن کے لیے چارٹرڈ کارگو پروازیں چلانے کی منظوری بھی حاصل ہے، جب کہ کاشغر (سنکیانگ) کے لیے منظوری کا عمل جاری ہے۔

    کنٹری منیجر نے کہا کہ چین کے مختلف شہروں کے لیے چارٹرڈ کارگو پروازیں پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو مزید بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان مملکت میں ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ہفتے کے روز ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی (ACES) نے سعودی عرب میں مقامی طور پر ڈرون پے لوڈ سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک عالمی سائنسی کی منتقلی کمپنی کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    سعودی عرب نے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی

    یہ ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی کی جانب سے مملکت میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے ایریل سلوشنز کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    نئے معاہدے پر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ (CETC) کے ساتھ دستخط کیے گئے جو کہ دوہری استعمال کے الیکٹرانکس میں مہارت رکھنے والی سرکاری چینی دفاعی کمپنی ہے۔ یہ دُنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ چینی کمپنی کو ایک تحقیقی اور ترقیاتی مرکز کے قیام میں مدد کرے گی۔

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    مختلف قسم کے UAV پے لوڈ سسٹم کے لیے مینوفیکچرنگ ٹیم بشمول کمیونیکیشن یونٹس، فلائٹ کنٹرول یونٹس، کیمرہ سسٹم، ریڈار سسٹم، اور وائرلیس ڈٹیکشن سسٹم، تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے-

    معاہدہ اور کمپنی کی حکمت عملی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ سعودی عرب کا مقصد فوجی صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانا، اسے سعودی معیشت کا ایک اہم معاون بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سرمایہ کاروں کی مدد، اس میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے امید افزا شعبہ اور قومی معیشت میں اس شعبے کی شراکت کو زیادہ سے زیادہ کرنا۔

  • چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    نئی دہلی :چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام،اطلاعات کے مطابق کواڈ اتحاد کے سربراہوں نے تائیوان کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔ اجلاس میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس طرز پر انڈوپیسیفیک خطے میں کوئی کارروائی ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی ورچوئل میٹنگ میں امریکی صدر جو بائیڈن، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا، آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حصہ لیا۔اس وقت جب کہ دنیا اور بالخصوص مغرب کی نگاہیں روس اور یوکرین میں جاری جنگ پر مرکوز ہیں، تائیوان کے حوالے سے چین کے رویے پر تشویش کواڈ اتحادی ممالک کی مزید بڑھ گئی ہے۔

    اس ضمن میں جاپانی وزیر اعظم کیشیدا نے روس یوکرین تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم اس بات پر متفق تھے کہ اس طرح کی کسی طاقت کا استعمال کرکے انڈوپیسیفیک میں صورت حال کو یکطرفہ طورپر تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم اس بات پر بھی متفق تھے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا شدہ حالات کے مدِنظر ایک آزاد اور کھلے انڈوپیسیفیک خطے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرنا اور بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے میٹنگ کے بعد اپنےجاری کردہ بیان میں کہا یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے انڈوپیسیفیک خطے میں ہم ویسا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایک آزاد اور کھلا خطہ برقرار رکھنے کے لیے پرعز م ہیں،جہاں چھوٹی طاقتوں کو بڑی طاقتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہ ہو

    مزید براں، امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ اس میٹنگ میں کواڈ رہنماؤں نے انڈوپیسیفیک سمیت پوری دنیا میں خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

    بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈ انڈوپیسیفیک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے اپنے اصل ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔

    یاد رہے، کواڈ ملکوں میں بھارت واحد ملک ہے جس نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت نہیں کی ہے بلکہ اقو ام متحدہ میں روس کے خلاف پیش کردہ قرارداد پرووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا۔

    ادھرجاپان نے یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کا سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان ،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج چین اور روس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوجیوں کی تعداد اور اڈوں میں اضافہ کرے گی جبکہ ایران اور جہادی گروپوں کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو برقرار رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے افسران کا پیر کو کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع گوام اور آسٹریلیا میں فوجی تنصیبات کو اپ گریڈ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ دفاع چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دفاعی حریف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک نیا دفاعی اتحاد قیام میں آیا ہے جسے آکوس کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں اور ان کا مقصد چین کی ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

    چین اپنی بحریہ تشکیل دے رہا ہے اور ایشیا میں دہائیوں سے امریکی فوجی تسلط کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔یہ اتحاد اس وقت بنا جب بیجنگ نے متنازع جنوبی چائنہ سمندر میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور تائیوان کے خلاف اپنے فوجی خطرات میں اضافہ کیا۔

    رواں سال کے آغاز میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے کمیشن کیے گئے جائزے ’گلوبل پوسچر رویو‘ کے بارے میں پینٹاگون کے افسران کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات کو ابھی خفیہ رکھا جائے گا تاکہ امریکہ کے منصوبے حریف ممالک کو پتا نہ چلیں۔یاد رہے کہ ’گلوبل پوسچر رویو‘ وہ جائزہ ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔

    پنٹاگون کی اعلٰی افسر مارا کارلن کا کہنا ہےکہ اس جائزے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کا ترجیحی علاقہ انڈو پیسیفک ہے۔مارا کارلن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جائزہ ’خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اضافی تعاون کی ہدایت کرتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو علاقائی استحکام میں معاون ہوں اور چین کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت اور شمالی کوریا کی طرف سے خطرات کو روکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جائزہ یورپ میں روس کی جارحیت کے خلاف مدد دیتا ہے اور نیٹو فورسز کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    تاہم عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اب بھی پینٹاگون کے لیے مشکل علاقہ ہے۔