سمارٹ فون تو ہر کوئی رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کی گھنٹوں چارجنگ کرنے والی اذیت سے ہر کوئی پریشان ہے ۔ لیکن اب یہ پریشانی بھی حل ہونے کے قریب ہے ۔ چین کی ایک ویوو نامی کمپنی نے سمارٹ فون رکھنے والوں کی الجھن کو آسانی میں بدل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ویوو نامی کمپنی نے جدید تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کی وجہ سے اب سمارٹ فومن رکھنے والے لوگ اپنا فون صرف 13 منٹ میں چارج کر لیں گے ۔
چینی کمپنی ویوو نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ہے۔ اس کی بدولت پچاس فیصد بیٹری صرف پانچ منٹ میں چارج ہوجاٸے گی ۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت ویوو کمپنی ، ون پلس، ہواوے اور اوپو کے مقابلے پر آگئی ہے۔ اس چارجنگ ٹیکنالوجی کی بدولت 4000 ایم اے ایچ بیٹری صرف اور صرف 13 منٹ میں چارج ہوجائے گی ۔
ویوو کمپنی اس سے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیلات اگلے ہفتے ایونٹ میں سامنے آئیں گے جس میں یہ کمپنی اپنا پہلا 5 جی اسمارٹ فون اپیکس 2019 بھی پیش کرے گی ۔
Tag: چین
-

موبائل اب چند مینٹ میں چارج
-

ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد
عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔
بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ
—چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔
—سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔
—پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔
—خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔
—جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔
—خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔
—جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔
—ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔
اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔