Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عدنان خان نیازی

  • کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ملک میں جاری حالیہ آٹا بحران میں زیادہ تر لوگ حکومت کو کوس رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی صرف حکومت کا قصور ہے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ جو گندم ہمارے ملک میں پیدا ہوتی ہے اس کا کم سے کم چالیس فیصد ہم سب مل کر ضائع کر دیتے ہیں۔ اور اس ضائع کرنے میں امیر غریب سب شامل ہیں۔ ہر گھر میں روزانہ ایک سے دو روٹی زیادہ بنتی ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ مختلف تقریبات خاص طور پر شادیوں پر تو بے انتہا کھانا ضائع ہوتا ہے۔ تب زیادہ تر لوگ یہی سوچ رہے ہوتے کہ مفت کا ہے، جیسے مرضی ضائع کرو لیکن وہی ضائع کرنا آج ہمارے سامنے آ رہا ہے۔

    پھر جب ہوٹلوں میں کھاتے ہیں تب بھی ذرا سی روٹی ٹھنڈی ہونے پر نئی منگوا لیتے ہیں کہ پر ہیڈ ہی پیسے دینے ہیں تو کیوں نہ تازہ منگوائی جائے۔

    ہمارے ملک میں گندم کی پیداوارتو ایک خاص حد تک ہے۔ اب اس میں سے جو بھی روٹی ضائع کرتے ہیں تو وہ ہمارے ملک کی گندم ہی ضائع ہوتی ہے۔ اس طرح جو ہم چالیس فیصد ضائع کر دیتے ہیں وہی گندم پھر ہمیں باہر سے منگوانی پڑتی ہے اور باہر سے منگوانے کے لیے ہمیں ڈالر چاہیں جو نہیں ہوتے۔ کیونکہ ڈالر تب آنے ہیں جب ہم ملک میں سے چیزیں باہر بیچیں اور پھر ان کے بدلے دوسری چیزیں منگوائیں۔

    اب یہ تو ہم سب کر سکتے ہیں کہ جو بھی ہمارے بس میں ہو وہ روٹی ضائع نہ کریں بلکہ جو بھی بچے بڑے ، مردو خواتین ضائع کر رہے ہوں انھیں سمجھائیں۔ خواتین گھر میں روٹی بنانے سے پہلے سب گھر کے افراد سے پوچھیں کہ کس کس نے کھانی ہے اور کتنی کھانی ہے تاکہ اتنی بنائیں۔ جس دن بچ جائے اگلے دن اتنی کم بنائیں۔ جو بچ جائے وہ کوشش کریں کہ کسی غریب کو دے دیں تاکہ اس کا پیٹ بھر جائے۔

    اسی کے ساتھ کچن گارڈننگ کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ گھر میں جو بھی ممکن ہو لازمی اگائیں۔ جیسے اگر ہم خود اپنا پیاز، لہسن بھی اگا لیں تو ملک کو ان پر جو ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں وہ بچ جائیں گے۔ تو ہم تھوڑا سا بھی حصہ ڈالیں تو تھوڑا تھوڑا کر کے ہی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

    حکمران نااہل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہم اپنے حصے کا کام تو کریں۔ اس سے ہی بہت زیادہ فرق پڑ سکتا ہے۔
    شئیر کریں، اگر ہم صرف پانچ فیصد ضائع ہونے والی روٹی ہی بچا لیں تو ہمارا ملک کبھی گندم کے بحران کا شکار نہ ہو۔

  • مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر بچوں کا بھی حق ہے!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عشاء کی نماز میں جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے ساتھ شروع ہو گئے کہ چھوٹے بچے کو مسجد میں کیوں لائے ہیں۔ نابالغ بچوں کو مسجد میں نہ لایا کریں۔ وہ شخص تو خاموش رہا لیکن میں نے اس بزرگ سے کہا کہ بقیہ نماز کے بعد اس کا جواب آپ کو میں دیتا ہوں، ابھی آپ خاموش ہو جائیں پلیز۔

    باقی نماز مکمل کرنے کے بعد میں ادھر ہی بیٹھ گیا۔ اس بزرگ نے نماز مکمل کی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بیٹے ہیں؟
    انھوں نے جواب دیا ماشاءاللہ تین ہیں اور ادھر ہی سب کے گھر ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

    میں نے پھر پوچھا کہ پوتے کتنے ہیں؟

    کہنے لگے، ماشاءاللہ تینوں بیٹے صاحبِ اولاد ہیں۔ تینوں سے پانچ پوتے ہیں۔

    میں نے پوچھا کہ ابھی عشاء کی نماز پر آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے کوئی آیا تھا؟

    انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    میں نے انھیں کہا کہ بزرگو! اگر بچپن سے ہی بچوں کو مسجد میں ساتھ لانے کی عادت ڈالی ہوتی تو ابھی آپ کے بیٹوں اور پوتوں میں سے بھی یہاں مسجد میں موجود ہوتے۔ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو وہ مسجد آنے کی ضد کرتے ہیں تب ہم انھیں منع کر دیتے ہیں، وہ روتے ہیں، ضد کرتے ہیں لیکن انھیں روتا چھوڑ کر آجاتے ہیں۔ بعد میں بڑے ہو جاتے تو آپ کہتے ہیں تو وہ نہیں آتے۔ بچپن سے ہی عادت بنانی پڑتی ہے۔

    بات تھوڑی سی انھیں سمجھ آئی ، مگر کہنے لگے کہ ٹھیک ہے لیکن نابالغ بچوں کو نہیں لانا چاہیے، وہ دوسروں کی نماز خراب کرتے ہیں۔
    میں نے کہا کہ بزرگو!بچوں کو سات سال میں ہی نماز پڑھانے کا حکم ہے اور دس سال تک نہ پڑھیں تو سختی کا حکم ہے۔ اب سات سال کا کونسا بچہ بالغ ہو جاتا ہے؟

    کیا آپ نے احادیث شریف میں پڑھا ہے کہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھ جاتے تھے اور انھیں سجدہ بھی لمبا کرنا پڑ جاتا تھا۔ پھر خطبہ جمعہ کے دوران بھی جب یہ دونوں آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اٹھا کر پاس ممبر پر بٹھا لیتے تھے۔ اور بھی کئی بچوں کا ذکر ملتا ہے۔ تو کیا یہ بچے چھوٹے نہیں تھے؟

    اور نماز کیسے خراب ہوتی؟بچوں کے شور سے؟ تو باہر گلی سے شور نہیں آ رہا کیا؟

    آگے گزرنے سے؟ تو آگے سے بچے گزر جائیں، انھیں کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ چھوٹے ہیں۔

    کوئی بھی بچہ چند دن بھی مسجد آجائے تو اسے سارے ادب و آداب کو پتہ چل جاتا ہے۔

    پھر میں نے پچھلی صف کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دو بچے بیٹھے ہیں، دونوں میرے بیٹے ہیں۔ ایک دس سال کا اور دوسرا چار سال کا۔ بڑا خود شوق سے آیا ہے کہ اسے پتہ ہے اب اس پر نماز فرض ہے اور چھوٹا خود ضد کر کے آیا ہے۔ میں نے کہا بھی تھا کہ ابھی بہت سردی ہے، آج نہ آؤ لیکن اس نے جرسی کوٹ پہنا، بوٹ پہنے اور آگیا۔ ابھی دیکھیں سکون سے بیٹھے ہیں۔ دونوں کو مسجد کے آداب کا پتہ ہے۔
    میرے والد صاحب مجھے چھوٹے ہوتے سے ہی مسجد ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اس کے بعد اللہ کے کرم سے ایسی عادت بنی کہ کسی وجہ سے جماعت رہ جائے تو بے چینی لگی رہتی ہے ۔

    فرانس میں دیکھا کہ وہاں بسنے والے عربوں اور ترکوں میں نماز کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اس کی باقی کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو چھوٹے وقت سے ہی مسجد میں ساتھ لاتے ہیں۔ جبکہ یہاں برصغیر پاک و ہند میں کوئی بچہ مسجد آجائے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے، کئی مساجد میں شور کرنے یا شرارتیں کرنے پر مارا جاتا ہے ، اور یوں اسے شروع سے ہی مساجد سے متنفر کر دیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مسجد جو جمعہ کی نماز پر بھری ہوتی ہے، اسی میں باقی نماز کے اوقات میں پانچ دس فیصد سے زیادہ نمازی نہیں ہوتے۔

    مسجد اللہ کا گھر ہے۔ اس پر بچوں کا بھی اتنا حق ہے جتنا بڑوں کا۔ جو بچے آئیں انھیں پیار دیں اور پیار سے سمجھائیں۔ جو بچوں کا ساتھ لائے اسے ایسے نہ گھوریں کہ جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ وہ پیار سے سمجھاتا ہے بچوں کا، اسے سمجھانے دیں۔

    میں نے ادب سے انھیں سلام کیا اور آگیا۔

    اگلے دن اس بزرگ کے ساتھ اس کے دو پوتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

  • مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال خرچ کرنے کی توفیق!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مال وزر کمانے کی توفیق جیسے سب کو برابر نہیں ملتی ایسے ہی مال خرچ کرنے کی توفیق بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ ہر کسی کو مال و زر کی محبت سے بچائے رکھے کیونکہ جو مال و زر کی محبت میں مبتلا ہو جائے اس کا دھیان ہر وقت مال کمانے میں لگا رہتا ہے اور مال خرچ کرتے ہوئے اسے موت پڑتی ہے۔

    آپ جو بھی کما رہے ہوں، اس کو ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کریں، ایک حصہ آج کے لیے اور دوسرا حصہ کل کے لیے۔ جو حصہ آج کے لیے ہے اس کے مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اپنے اوپر خرچ کریں اور دوسرا حصہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں ۔ اسی طرح جو حصہ کل کے لیے ہے اس کے بھی مزید دو حصے ہونگے، ایک حصہ اس دنیا میں اپنے کل کے لیے بچائیں اور دوسرا حصہ آخرت میں اپنے کل کے لیے غریبوں مسکینوں پر خرچ کریں۔

    اگر آپ کی آمدن کم ہے تو جو حصہ غریبوں مسکینوں پر خرچ کرنا ہے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں تو اس کے ثواب کے بھی مستحق ٹھہریں گے اور جو حصہ اس دنیا میں اپنے لیے بچا رہے وہ بھی اسی لیے ہے کہ جب ضرورت ہو اس میں سے خرچ کر لیاجائے۔

    اکثر لوگ ان میں سے کوئی نہ کوئی بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ سب کچھ ہی اپنے اہل و عیال پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن خود پر کچھ خرچ نہیں کرتے۔ یہ درست رویہ نہیں ہے، جو کما رہے ہیں اس میں سے خود پر بھی خرچ کرنا سیکھیں۔ ایسے ہی کچھ لوگ کل کے لیے ہی بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور حد درجہ کنجوسی کرتے ہیں۔ ایک چوتھائی سے زیادہ اگر آپ بچا رہے ہیں تو کنجوسی کے زمرے میں ہی آئے گا کیونکہ آپ کی آمدن کے لحاظ سے آپ کا آج بہتر ہونا ضروری ہے، پہلے آج ہے اور بعد میں کل۔

    ایسے ہی ضرورت کے تحت صدقہ والا حصہ بھی اہل و عیال پر خرچ کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ضرورت ہے یا فضول خرچی۔ ضرورت ہو تو یہ خرچ بھی باعث ثواب ہو گا اور فضول خرچی ہوئی تو وبال کا باعث۔

    صدقے والے حصہ میں یہ یاد رکھیں کہ سب سے زیادہ حق آپ کے غریب رشتہ داروں کا ہے، اس کے بعد محلے والوں کا اور اس کے بعد کسی اور کا۔

    اللہ ہمیں اپنے دیے ہوئے مال میں سے صحیح طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    کیا ہم سب پر تبلیغ فرض ہے؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ آیت 143 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط “بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔

    ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دُوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔

    کسی شخص یا گروہ کا اس دُنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔

    اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسُول صلی اللہ علیہ وسلم اس اُمّت کے لیے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اِس اُمّت کو بھی تمام دُنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتا ؤ ، ہر چیز کو دیکھ کر دُنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔

    پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، اُسی طرح دُنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت ، جو تیرے رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بُری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔

    ہماری امامت کے دَور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دُنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، اُن سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطینِ انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔

    ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دُنیا میں معصیت ، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں تھے۔
    (تفہیم القرآن)

  • دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ کے قریب دینی مدارس ہیں جس میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یتیم، مسکین اور غریب طلباء ہیں جو مدارس میں ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں یعنی ان کے چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی گزرتے ہیں۔ کئی کئی سالوں کی تعلیم کے بعد جب طالب علم باہر نکلتے ہیں تو بڑی مشکل سے انھیں کوئی نوکری ملتی ہے۔

    مل بھی جائے تو زیادہ تر کیسز میں کسی مسجد کے خادم، مؤذن، امام مسجد یا پھر کسی مدرس میں قاری ، عالم وغیرہ کے طور پر ہوتی ہے۔ اس میں تنخواہ بہت ہی تھوڑی ہوتی ہے جو کے سات سے پندرہ ہزار تک ہوتی ہے۔ یعنی اتنے سال مدرسے میں لگانے کے باوجود جیسے غریب مسکین پہلے ہوتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں۔

    دینی تعلیم کوئی اتنی مشکل بھی نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی دوسری تعلیم یا ہنر کے لیے کچھ وقت نہ نکالا جا سکے۔

    مدارس اگر دن میں صرف ایک یا دو گھنٹے کسی ہنر کے سکھانے کے لیے مختص کر دیں یا پھر ہفتے میں کوئی ایک دن اس کام کے لیے مختص کر دیں تو یہی طالب علم کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزی بھی کما سکیں گے اور یہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان میں سے اکثریت امامت وغیرہ کے فرائض مفت میں ہی انجام دینے کو راضی ہوجائے گی۔

    پھر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ابھی انھیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ ان کی کوئی بات مسجد کمیٹی کو بری نہ لگ جائے اس لیے بہت سے موضوعات پر بالکل ہی خاموش رہتے ہیں جس پر جمعہ کے خطبے میں بات کرنی چاہیے، جب یہ مسجد کے تنخواہ دار نہیں ہونگے تو بلاجھجھک حق بات کہہ سکیں گے۔

    کورسزاور سکلز میں آنلائن سکلز بھی ہوسکتی ہیں جس میں بنیادی انگریزی تعلیم کے ساتھ آنلائن قرآن کی تعلیم تاکہ باہر سے زرمبادلہ پاکستان لا سکیں۔ اس طرح صرف آدھا گھنٹہ باہر کے کسی ملک میں پڑھا کر امام مسجد کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے کما سکتے ہیں۔
    ایسے ہی باقی بھی بہت سی آنلائن سکلز جیسے گرافک ڈیزائننگ، ٹائپنگ، کانٹینٹ رائٹنگ، وغیرہ جیسی کئی ہیں۔

    آنلائن کے علاوہ کئی آف لائن کام بھی سکھائے جاسکتے ہیں جیسے درزی، پلمبر، الیکٹریشن، اے سی سروس، واشنگ مشین سروس، گیس کا کام، فریجوں کا کام، گاڑیوں کا میکنک ، یو پی ایس ٹھیک کرنے والے، وغیرہ وغیرہ جیسی بڑی لمبی لسٹ ہے۔

    امام مسجد کے لیے فجر کی نماز سے ظہر کی نماز تک کم سے کم بھی چھ سے سات گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ باقی وقت نہ بھی دے ، صرف اسی میں کام کر لے تو اچھی خاص کمائی کی جاسکتی ہے۔ اگر باہر پڑھانا ہے تو اس وقت سو لیا جائے اور رات کو عشاء سے فجر کے درمیان بھی کئی گھنٹوں کا وقت ہوتا ہے۔

    کوئی رول ماڈل مدرسہ اس طرز پر شروع ہونا چاہیے تاکہ وہاں سے صرف عالم دین نہ نکلیں بلکہ اچھے ٹیکنیشن بھی ہوں ۔ یہ لوگ اپنے بہترین طرز عمل سے اسلام کے بہترین داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ روزی روٹی کے ساتھ مختلف لوگوں کو دینی مسائل کے بارے بتانا اور دین کی تبلیغ بھی زیادہ لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا سے بے رغبتی دین اسلام نہیں سکھاتا بلکہ دنیا میں رہ کر دین و دنیا دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے تو دنیا والے آپ کی دین سے متعلق بات بھی غور سے سنتے ہیں۔

    اگر کوئی ایسا مدرسہ آپ کی نظر میں ہے تو اس کا بتائیں تاکہ لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجیں اور اگر کوئی نہیں ہے تو کوئی ایسا دوست ہے جو اس کی بنیاد رکھ سکے؟

  • پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار؟ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ہفتے والے دن صبح کے وقت گیس سے چلنے والی ککنگ رینج میں کوئی مسئلہ ہوا اور گیس لیک ہونے لگی۔ گیس والے کچھ مکینکس کو کال کی۔ ایک نے کہا کہ رات ساڑھے نو کے بعد آ سکتا ہوں اور کم سے کم تیرہ سو لونگا۔ دوسرے نے کہا کہ ایک ہزار صرف آنے کا لونگااور دیکھ کر بتاؤں گا کہ مسئلہ کیا ہے اور مزید کتنا خرچ آئےگا۔ دو نے کہا کہ آج وقت ہی نہیں ہے، کل ہو سکتا ہے۔

    اس کے بعد گاڑی لے کر نکلاکہ گیس والی دکانوں پر گیا کہ کوئی مکینک ڈھونڈھ لاؤں۔ جہاں بھی گیا تو پتہ چلا کہ مکینک تو کہیں نہ کہیں کام پر گیا ہوا ہے ، سب نے فون نمبر دیا کہ بات کر کے پتہ کر لیں کب تک آ سکتا ہے۔ مزید تقریباً سب نے یہ کہا کہ اگر ادھر دکان سے ٹھیک کروانا ہے تو پھر دے جائیں اور کل مل جائے گا۔ بالآخر ایک ہماری کالونی میں ہی کسی کے گھر کام کر رہا تھا، وہ تھوڑی دیر تک آیا۔ مسئلہ دیکھا اور کہا کہ دو ہزار روپے لگیں گے، اگر کہتے ہیں تو ٹھیک کردوں ورنہ میں چلا جاؤں۔ پندرہ سو کروانے کی کوشش کی لیکن وہ بیگ اٹھا کر باہر آگیا۔ دو ہزار پر ہی اوکے کرنا پڑا کہ باقی چھ سات سے تو پہلے ہی بات ہوچکی تھی۔ اس کے بعد اس نے ککنگ رینج کھولی، صفائی کی، ایک وال لیک تھا، اسے ٹھیک کیا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ کام کیا، دو ہزار پکڑے اور چلا گیا۔ اس دوران اسے مسلسل مختلف لوگوں کے فون آرہے تھے اور وہ مختلف ٹائم دے رہا تھا۔

    ایسا ہی کچھ پلمبر، الیکٹریشن، اے سی کی سروس کرنے والے، فریج واشنگ مشین ٹھیک کرنے والے،گاڑیوں کے مکینک، کھڑکیاں دروازے لگانے والے، ویلڈنگ کرنے والے، وغیرہ کے ساتھ بھی دیکھ چکا ہوں۔

    ہمارے پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ آٹھ آٹھ سال مدارس میں لگانے والے سات سے پندرہ ہزار تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ ہنر سیکھنا اتنا مشکل ہے؟کیا اس کے لیے کئی سال درکار ہیں؟ کیا یہ سیکھنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ چاہیے؟

    مشکل بھی نہیں، پیسہ بھی زیادہ نہیں چاہیے، وقت بھی اتنا نہیں چاہیے تو پھر سیکھتے کیوں نہیں؟ جتنا ایک امام صاحب پورے مہینے میں کماتے ہیں اس سے کہیں زیادہ یہ ایک دن میں کما لیتے ہیں۔ اور ایم فل کرنے کے بعد بھی ایک شخص جتنی تنخواہ لیتا ہے اتنی یہ ایک ہفتے میں کما لیتے ہیں۔

    یہاں شاید کوئی یہ کہے کہ اس میں عزت کم ہے اور جاب میں زیادہ ہے تو اس نے شاید جاب کرکے دیکھی نہیں ہے۔ اور امام صاحب کو مسجد کمیٹی اور بعض دفعہ تو نمازیوں کی طرف سے بھی بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

    ایک دفعہ اپنے خول سے باہر نکلیے ، انا کو سائیڈ پر رکھیے، چند دن کسی بھی ہنر مند شخص کے ساتھ لگائیے اور پھر چاہے اپنی دکان پر بیٹھ کر کام کریں، چاہے گھروں میں جا کر، باعزت روٹی کمانے والے ہو جائیے۔

  • عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں نے عورتوں کو وراثت میں حصہ دینے سے متعلق پوسٹ کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے علمبردار لبرل ہوں یا اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار مذہبی لوگ، عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے معاملے پر دونوں ہی ڈنڈی مارتے ہیں۔

    اس پر ایک عورت نے رابطہ کیا اور کہا کہ عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے والے معاملے میں عورتیں بھی قصووار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے والد صاحب وراثت میں بہت سی زمین جائیداد چھوڑ کر گئے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدہ صاحبہ بھی حیات ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد تک اس زمین جائیداد کی ساری آمدن اکیلے بھائی ہی کھاتے رہے اور بہنوں کو کسی نے کچھ نہ دیا۔ میرے علاوہ کسی بہن نے کبھی اس بارے کوئی بات نہیں کی۔ والدہ صاحبہ ایک عورت ہونے کے باوجود اس بات کی قائل ہیں کہ جائیداد پر صرف بیٹوں کا حق ہے۔ میں نے جب بھی بات کی مجھے ہمیشہ لالچی اور پیسے کی حریص ہونے کا طعنہ ملا حالانکہ میں صرف اپنے جائز حق کی بات کرتی تھی۔ آخر والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد بھائیوں کو جائیداد اپنے نام لگوانے کی سوجھی۔ وراثت میں ہمارا بھی حصہ تھا تو ہماری دستخط کے بنا تو ان کے نام نہیں لگ سکتی تھی۔ رسمی کاروائی کے لیے ہمیں بھی بلایا گیا اور رسماً کہا گیا کہ آپ تینوں بہنوں نے بھی حصہ لینا ہے تو دے دیتے ہیں۔ یا پھر ہمارے نام لگوانے کے لیے بیان دے دیں اور دستخط کر دیں۔ اس موقع پر والدہ صاحبہ کا بھی یہی موقف تھا کہ آپ لوگوں یعنی بیٹیوں کو زمین دی تو وہ غیروں میں چلی جائے گی۔

    میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ زمین ہو یا جائیداد ، ہمیشہ کسی ایک کی نہیں رہتی بلکہ کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کےپاس ہوتی ہیں۔ یہ زمینیں ہزاروں لاکھوں سال سے یہی ہیں اور یہی رہیں گی۔ ہر صدی میں کئی بار ان کے مالکان بدل جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کسی صورت درست نہیں کہ غیروں کے پاس چلی جائے گی۔ پھر بھی اس کا یہ حل بھی ہے کہ یہ مہنگی گاڑیاں بیچ کر ہمیں جائیداد کی بجائے اس کی قیمت ادا کر دیں یا ابھی ہمارے نام لگوا دیں اور جیسے جیسے اس قابل ہوتے جائیں ہم سے خریدتے جائیں۔

    اس ساری بحث میں میری بہنیں گونگی بہری بنی رہیں۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ میری ماں کی کوشش تھی مجھے چپ کروا دیں۔

    میری بہنیں اگلے دن عدالت جا کر ساری جائیداد بھائیوں کے نام کروانے پر تیار تھیں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ یہ بھی تو ہمارے نام لگوا رہی ہیں، صرف آپ ہی لالچی ہو۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ صرف اور صرف معاشرے میں رائج اس رسم ورواج کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ان میں اپنے حق کے لیے اس سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں ہے۔ میرا ایک چیلنج قبول کریں آپ لوگ۔ کل ان کا حصہ ان کے نام لگوائیں یا اس کی قیمت انھیں ادا کریں، پھر انھیں گھر جانے دیں اور اس سے اگلے دن آپ انھیں کہیں کہ اب وہ حصہ آپ کو واپس کر دیں کیونکہ پہلے بھی تو ہمارے نام لگوانے پر راضی تھیں۔ اگر تب پورا کیا آدھا حصہ بھی یہ آپ کو دینے پر راضی ہو جائیں تو میرا سارا حصہ آپ لے لیجیے گا۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔

    ساری رات اس بحث و مباحثہ کے بعد بالآخر اسی پر بات طے ہوگئی۔ اگلے دن ہمارا حصہ ہمارے نام کروا دیا گیا۔ اس میں بھی ڈنڈی ماری گئی کہ جو اچھی زمین تھی وہ خود رکھ لی ۔ لیکن یہ بھی غنیمت تھی کہ ہمیں حصہ مل گیا۔

    سب کے نام لگنے کے کچھ دن بعد بھائیوں نے بہنوں سے کافی کہا، تحائف بھی دیے، میٹھے بنے، اچھے سے پیش آئے لیکن کوئی بھی اب اپنا حصہ کسی بھائی کے نام لگوانے پر راضی نہیں تھی۔

    مجھے اس کا نقصان یہ ہوا کہ میرے ساتھ میرے بھائیوں اور والدہ صاحبہ نے ہر تعلق توڑ لیا اور آج تک ٹوٹا ہوا ہے۔ میں نے کوشش کی لیکن مجھے اپنے گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیتے۔ میری بہنوں نے بھی اپنا حصہ لے لیا لیکن وہ خاموش رہی تھیں تو ان سے تعلقات ہیں۔

    کاش کہ ہمارے معاشرے کی خواتین اپنے اس حق کے لیے بولنا سیکھ جائیں۔ یہ کوئی خیرات نہیں، حق ہے جو اللہ نے خود ہمیں دیا ہے۔ صرف اس لیے نہ چھوڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس لیے بھی اس کی کوشش کریں کہ آپ کا یہ لڑنا کئی دوسری خواتین کے لیے بھی مشعل راہ ہوگا اور ان کے لیے ایک راستہ کھولے گا کہ وہ اپنا حق لے سکیں۔

  • بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    انیلہ کے کئی رشتے آئے لیکن والدین کو خالد ہی پسند آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ خالد پاکستان سے باہر کسی عرب ملک میں کام کرتا تھا اور ہر ماہ ایک اچھی رقم پاکستان اپنی فیملی کو بھیجتا تھا۔اس رشتے کو ہاں کرنے سے پہلے انیلہ سے کسی نے رائے طلب ہی نہیں کی۔

    شادی کے بعد سب خوش تھے سوائے انیلہ کے۔ اس کا شوہر خالد شادی کے دوہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا اور اس کی واپسی ایک سال کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اب بھی چند دنوں کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ انیلہ اسے فون پر تو اکثر کہتی ہی تھی لیکن اب کی بار اس کے آنے پر اس کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھاکہ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی پاکستان آجاؤ۔

    خالد کی ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ میں سے سب کو خالد کے پیسے سے غرض تھی، کسی کو بھی اس کے پاکستان سے باہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن انیلہ کو جسمانی طور پر بھی خالد کی ضرورت تھی۔ شادی سے پہلے تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد مجرد زندگی گزارنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ بات اس کے والدین نے بھی نہیں سوچی تھی کہ شادی پیسے سے نہیں انسان سے ہوتی ہے۔ اگر صرف کھانا پینا پہننا وغیرہ ہی چاہیے تو یہ ضروریات تو والدین کے گھر میں بھی پوری ہو رہی تھیں۔ شادی کے جو مقاصد ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے جسمانی (جنسی) ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور نسل ِانسانی کی بقا ہے۔

    اس شادی کے بعد اس کو پیسہ تو مل رہا تھا لیکن جسمانی ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان یہ جسمانی تعلق ہو جائے تو پھر خود کو لمبے عرصے تک اس سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک دوسرے سے لمبی جدائی ہو تو دونوں کا خود کو گناہ سے محفوظ رکھ پانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

    یہی بات انیلہ اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا موقف یہی تھا کہ پیسے کم ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لو لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ آخری بات اس نے یہ کہ جتنے پیسے ہر ماہ پاکستان بھیجتے ہو، وہ آدھے کر دو اور آدھے اپنے پاس بچاتے رہو اور اگلے سال جب واپس آؤ تو ان پیسوں سے یہاں کام کا آغاز کر لینا۔

    انیلہ کی یہ بات جب خالد کے گھروالوں کو معلوم ہوئی تو گویا گھر میں بھونچال آگیا۔ ان سب کو یہی تھا کہ خالد واپس آگیا تو ان سب کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ خالد جب پاکستان سے گیا تو انیلہ کے ساتھ سب گھروالوں کا رویہ بہت زیادہ برا ہو گیا۔ اس نے اس سب کے بارے خالد سے فون پر بات کی۔ خالد اور اس کے گھروالوں نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انیلہ کے گھر والے خالد کو یہاں کوئی بزنس سیٹ کر کے دے دیں تو وہ واپس پاکستان آجائے گا۔ یہ مطالبہ ماننا انیلہ کے گھر والوں کے بس سے باہر تھا۔

    اگلے دو سال بھی انیلہ نے اسی طرح گزارے۔ شادی کے ان تین سالوں میں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ تیسرے سال جب خالد واپس جانے لگا اور انیلہ کی بات نہیں مانی تو وہ ناراض ہو کر میکے آگئی۔ خالد یا اس کے گھروالوں نے منانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ چھ ماہ کے بعد انیلہ نے خلع لے لی کہ جو ایک خواہ مخواہ کی آس ہے وہ بھی ٹوٹ ہی جائے کہ کہیں اور بھی رشتہ جڑنے کا کوئی چانس ہو سکے۔

    لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ بچوں والی عورت سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا چاہے مرد خود بھی بچوں والا کیوں نہ ہو۔ جس اذیت سے بچنے کے لیے اس نے خلع لی تھی وہ اذیت اس کا شاید زندگی بھر کا مقدر تھی۔ ہر مرد چاہے وہ کنوارا ہو، شادی شدہ یا رنڈوہ۔۔۔ وہ انیلہ سے حرام تعلق تو قائم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کوئی بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انیلہ بس یہی سوچتی ہے کہ

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    والدین سے یہی کہوں گا کہ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت یہ لازمی یاد رکھیں کہ خوشیاں صرف پیسوں سے نہیں، میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ملتی ہیں۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے تو وہ سب کچھ آپ کے پاس بھی مل رہا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اس رشتے کو اہمیت دیں جس میں میاں بیوی ساتھ رہیں اور الگ گھر بسائیں۔ پیسہ ضرورت تو ہے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ سال میں دو چار ہفتوں کا رشتہ ہی رہ جائے۔

  • حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میرے ایک دوست نے اپنے سکول میں کچھ اساتذہ کو بھرتی کرنا تھا تو انٹرویوز والے دن مجھے بھی بلا لیا۔ صرف دو اساتذہ کو رکھنا تھا لیکن بہت سے لوگ انٹرویو دینے آئے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کےہم انھیں بلا رہے تھے۔ ساتویں آٹھویں نمبر پر ایک لڑکی حدیقہ انٹرویو دینے آئی تو ایسی علیک سلیک ہوئی جس سے مجھے لگا کہ یہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں اس لیے اس انٹرویو میں میں خاموش رہا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔

    رسمی سلام دعا کے بعد دوست نے کہا کہ آپ کو اس جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ اس تنخواہ میں تو آپ کا ایک سوٹ بھی نہیں آئے گا۔
    حدیقہ نے کہا کہ اب وہ یونیورسٹی والا دور نہیں رہا جب میں بڑی سی گاڑی میں آتی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
    میرے دوست نے حالات کا مزید پوچھا کہ آپ کے والد کی تو بہت زیادہ زمینیں تھیں، بنگلے کوٹھیاں اور گاڑیاں۔۔۔ ان سب کا کیا ہوا کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    کہنے لگی، تب میرے والد صاحب زندہ تھے، وہ میرے سارے نخرے اٹھاتے تھے اور میرا خیال بھی رکھتے تھے۔ میری ہر خواہش بھی پوری کرتے تھے۔ ایم فل کے آخری سال میں تھی تو والد صاحب ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد صاحب کے بعد ساری دولت اور جائیداد دونوں بڑے بھائیوں کے پاس آگئی۔ مجھے بڑی مشکل سے آخری سمسٹر کے امتحانات دینے کی اجازت ملی۔

    پھر میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر میں تقریباً قید رکھا گیا۔ وہاں ہر سہولت میسر تھی لیکن نہ باہر نکل سکتی تھی نہ کسی سے بات چیت کی اجازت تھی۔ والدہ صاحبہ کو میری حالت پر ترس آتا تھا لیکن انھیں بھی یہ تھا کہ جائیداد صرف بیٹوں کو ہی ملنی چاہیے۔ کئی بار میرے بھائیوں نے مجھے والد صاحب کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا۔ اس پر مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کئی سال گزرے۔ میری عمر ڈھلنے لگی، والدہ صاحبہ بھی وفات پا گئیں تو میری ہمت بھی جواب دے گئی۔ مجھے اس گھر سے اب وحشت ہونے لگی تھی۔

    بالآخر میں نے ہار مان لی اور ساری وراثت سے دستربردار ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک غریب رشتہ دار کےساتھ میری شادی کر کے مجھے اپنی آبائی حویلی سے بھی نکال دیا گیا۔ غریب شخص کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوں کہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ لڑ سکوں۔ لیکن میں نے اپنا مقدمہ اب یہاں کسی عدالت میں نہیں لڑنا ، نہ ہی مجھے میری زندگی میں انصاف مل سکتا ہے۔ ہاں ایک عدالت آخرت میں ہونی ہے، اس میں اللہ میاں سے یہ ضرور کہوں گی کہ جیسے ان دونوں نے مجھے میرے حق سے محروم رکھا ہے، انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھ۔

    حدیقہ خاموش ہوئی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ شاید کسی میں کچھ کہنے سننے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ سب بس بمشکل آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے۔

    چند لمحے بعد میرے دوست نے کہا کہ آپ کا ایک بھائی تو خاصا مذہبی تھا۔اور چھوٹا لبرل تھا جس سے اکثر یونیورسٹی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوجاتی تھی۔

    حدیقہ نے میرے دوست کی بات پوری ہونے سے بھی پہلے کہا، جی میں نے بڑے بھائی کو اسلامی حوالے بھی دیے اور کہا تھا کہ آپ کے حج اور عمرے کا آپ کو کیا فائدہ جب آپ میرا حق دبا کے بیٹھے ہیں۔

    چھوٹے لبرل بھائی سے بھی کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں لیکن اپنی بہن کو اس کا جائز حق دینے کے حق میں بھی نہیں۔ آپ کے لبرلزم میں تو میرا تیسرا حصہ بنتا ہے جبکہ آپ مجھے پانچواں حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

    لیکن اس جائیداد والے معاملے میں مذہبی ہوں یا لبرل، سارے مرد ایک جیسے ہیں۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیتے سب کو موت پڑتی ہے۔

    پتہ نہیں کتنی حدیقائیں اپنے ہی بھائیوں کی لالچ کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہوتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی شخص مال و دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں کہ جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھی ان کے جائز حصے سے محروم کر کے خوش رہتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو عذابِ قبر اور جہنم سے کیسے بچا پائیں گے؟

  • لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    آج سے تقریباً پانچ سال پہلے قندیل کی شادی اپنے خالہ زاد کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے دوسال بعد ہی اس نے خلع کا کیس دائر کیا تو ایک بزرگ کے ہمراہ مجھے بھی اس کیس میں صلح صفائی کے لیے مدعو کیا گیا کیونکہ میرے اس گھرانے کے ساتھ پرانے تعلقات تھے۔ میں نے قندیل سے پوچھا کہ آپ خلع کیوں لینا چاہتی ہیں؟

    اس نے بالکل سیدھی اور صاف بات کہی کہ شادی سے پہلے میری خالہ میری بلائیں لیتے نہیں تھکتی تھی۔ میرے گھر والے شادی تھوڑی لیٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ماہ قبل ہی میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی اور اب میرے جہیز کے لیے والدین کو کچھ وقت چاہیے تھا۔ لیکن میری خالہ نے ضد کی کہ قندیل کونسا پرائے گھر جا رہی۔ بس سادگی سے شادی کر دیں، ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ میرے خالہ کی بہت زیادہ ضد اور اصرار پر گھروالوں نے میری شادی سادگی سے بغیر جہیز کے ہی کر دی۔ بس ضرورت کی چند چیزیں اور کپڑے برتن وغیرہ ہی دے سکے۔

    لیکن کے ایک دو ماہ بعد ہی اس بات پر خالہ اور میری نندوں کے ہلکے پھلکے طعنے شروع ہوئے جسے میں نے اگنور کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ میں نے کئی بار کہا کہ آپ لوگوں نے ہی جلدی مچائی تھی اس لیے جہیز نہیں لائی ورنہ کچھ وقت دیتے تو ہو جانا تھا۔

    ان کا یہ طعنہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری بڑی بہن کو تو اتنا جہیز دیا لیکن تم شاید سوتیلی تھیں اس لیے خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اس میں مجھے اتنا گلہ خالہ اور نندوں سے نہیں ہے جتنا اپنے شوہر عدیل سے ہے کیونکہ اس نے بھی کہا تھا کہ جہیز نہیں چاہیے لیکن ان طعنوں کے دوران وہ اکثر خاموش رہتا تھا بلکہ کبھی کبھار وہ بھی شامل ہو جاتا تھا۔ جب طعنے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے الگ رہنے کی بات کی تاکہ سکون سے رہ سکوں کیونکہ عدیل کی تنخواہ ماشاءاللہ اچھی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے۔ وہ آدھی تنخواہ والدین کو بھی دے دے تب بھی ہمارا گزارا بہت اچھے سے ہو سکتا ہے۔ والدین کی اپنی آمدن بھی ہے جو زمینوں سے ، دکانوں کے کرایوں سے آتی ہے۔
    لیکن اس پر بھی عدیل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔

    اب مزید طعنے سہنا ممکن نہیں رہا اور کوئی بہتری کے بھی چانس نہیں کہ میں کچھ وقت ایسے طعنے سہہ کر گزار لوں۔

    اس کی یہ بات اس کے شوہر کے سامنے رکھی اور اس سے پوچھا کہ اتنی تنخواہ ہے، دکانوں کا کرایہ، زمین کی آمدن پھر بھی جہیز نہ لانے کے طعنے کس لیے جب کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے؟

    بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا، اس کا یہی کہنا تھا کہ جہیز نہ لانے کا سب کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ والدین خالی ہاتھ ہی بیٹی کو رخصت کر دیں۔

    میں نے اسے کہا کہ اسلامی لحاظ سے بھی شادی اور بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے کہ بیوی جہیز لائے۔ جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز کی مثال دی جاتی ہے اس میں بھی یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا اور اس میں بھی صرف ضرورت کی چند ایک چیزیں تھیں۔

    پھر اگر تم لوگوں نے طعنے ہی دینے تھے تو اس وقت اچھے بننے کے لیے کیوں کہا کہ جہیز نہ دیں، تب ہی بھکاری بن کر کہہ دیتے کہ ہمیں تو جہیز چاہیے ہے تاکہ اس بیچاری کی زندگی اجیرن تو نہ کرتے۔

    چونکہ عدیل اور اس کے گھر والے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں تھے تو اس علیحدگی کو نہ روکا جا سکا۔ عدت کے بعد قندیل کی بھی ایک جگہ شادی ہو گئی جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی اور عدیل نے بھی پھپھوکی بیٹی صبیحہ سے شادی کر لی جو ڈھیر سارا جہیز لائی۔

    اب تقریباً خلع کے تین سال کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ قندیل کا گھر بہترین چل رہا۔ ایک بیٹا اس کا اپنا ہے اور شوہر کی پہلے والی بیٹی کو بھی وہ اپنی اولاد کی طرح سنبھال رہی۔ اس کے گھر جاؤ تو گھر میں ہر طرف خوشیوں کا راج نظر آتا ہے۔

    جبکہ عدیل کی دوسری بیوی جو ڈھیر سارا جہیز لائی تھی اس نے اپنی ساس کو نوکرانیوں کی طرح رکھا ہوا ہے، اپنی نندوں کی بھی شادیاں کروا کر انکا گھر میں اثرورسوخ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ عدیل کو صبیحہ کے والد نے کاروبار سیٹ کروا کر دیا ہے اس لیے وہ کوئی بھی چوں چراں نہیں کرتا۔ جہیز کے بل پر صبیحہ نے سب کو آگے لگا رکھا ہے لیکن ایسے لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔