Baaghi TV

Tag: ڈبلیو ایچ او

  • ملک میں موسم کیسا رہے گا؟

    ملک میں موسم کیسا رہے گا؟

    محکمہ موسمیات نے ملک کے بعض میدانی علاقوں میں موسم گرم رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق پنجگور اور آواران میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جب کہ دیر اور کوہستان میں چند مقامات پرتیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے آزاد کشمیراورگلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی پیش گوئی کی ہے، پنجاب کے بیشتر اضلاع اور اسلام آباد میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    دوسری جانب شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ای پی آئی سی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ایئر کوالٹی لائف انڈیکس (اے کیو ایل آئی) میں پاکستانیوں کیلئے فضائی آلودگی کے باعث اوسط عُمرمیں کمی کی گھنٹی بجادی گئی۔

    رحیم یارخان میں گٹر میں گر کر بہن بھائی جاں بحق ہوگئے

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ملک کے آلودہ ترین علاقوں لاہور، شیخوپورہ، قصور اور پشاور میں متوقع عمر کو کم از کم سات سال تک کم کر سکتی ہے،فضائی آلودگی پاکستان میں انسانی صحت کے لیے (دل کی بیماریوں کے بعد) دوسرا سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے اوسطاً 3.9 سال کی زندگی کم ہوتی ہے۔

    اگر پاکستان عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے پی ایم 2.5 کی اوسط سالانہ مقدار کو 5 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک محدود کرنے کی ہدایات پر پورا اترتا ہے تو ملک میں اوسط رہائشی کی عمر 3.9 سال بڑھ سکتی ہے، بچے اور زچگی کی غذائی قلت، اور زچہ و بچہ کی بیماریاں اوسط عمر کو 2.7 سال تک کم کرتی ہیں۔

    سمندری طوفان آئیڈیلیا فلوریڈا کے ساحل سے ٹکرا گیا

    پاکستان کی تمام 240 ملین آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں آلودگی کی سالانہ اوسط سطح عالمی ادارہ صحت کے رہنما خطوط سے زیادہ ہے ملک کی 98.3 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جو اس کے اپنے قومی فضائی معیار 15 مائیکروگرام فی کیوبک میٹرسے تجاوز کرتے ہیں 1998 سے 2021 تک پاکستان میں اوسط سالانہ ذرات کی آلودگی میں 49.9 فیصد اضافہ ہوا جس سے متوقع عمر میں 1.5 سال کی کمی واقع ہوئی-

    ملک کے سب سے آلودہ صوبوں پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں 65.5 ملین رہائشی، یا پاکستان کی 69.5 فیصد آبادی ڈبلیو ایچ او کے رہنما خطوط کے مقابلے میں اوسطاً 3.7 سے 4.6 سال اور اگر آلودگی کی موجودہ سطح برقرار رہتی ہے تو قومی معیار کے مقابلے میں 2.7 سے 3.6 سال کے درمیان متوقع عمر کھو سکتی ہے۔

    سیالکوٹ :تھانہ ستراہ ، مبینہ طورپر 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائن پر پورا اترتا ہے تو کراچی کے رہائشیوں کی اوسط عمر 2.7 سال ہوگی جبکہ لاہور کے رہائشیوں کی اوسط عمر 7.5 سال اور اسلام آباد کے رہائشیوں کی اوسط عمر 4.5 سال ہوگی رپورٹ میں 2013 کے بعد سے دنیا میں آلودگی میں تقریبا 59 فیصد اضافے کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا گیا ہے۔

  • بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا

    بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا

    بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روئٹرز کے مطابق حکومت نے منگل کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ بھارت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپریل میں مشال جزائر اور مائیکرونیشیا میں پائے جانے والے کھانسی کے شربتوں میں آلودگی کی نشاندہی کرنے کے بعد منشیات بنانے والی کمپنی کا لائسنس معطل کر دیا ہے-

    گذشتہ سال گیمبیا اور ازبکستان میں 89 بچّوں کی اموات کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپریل میں مارشل جزائر اور مائیکرو نیشیا میں اس بھارتی کمپنی کےتیارکردہ کھانسی کےشربت میں زہرآلود اجزا کی نشان دہی کی تھی اس کے بعد سے ہندوستانی ریگولیٹرز دوا سازاداروں کامسلسل معائنہ کررہے ہیں اس نے عالمی سطح پرسستی ادویہ مہیا کرنےوالے’’دنیا کی فارمیسی‘‘ کے طور پر مشہور بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے۔

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شمالی صوبہ پنجاب میں واقع کیو پی فارماکیم لمیٹڈ کے تیار کردہ کھانسی کے شربت کی ایک کھیپ سے لیے گئے نمونوں میں ڈائی تھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول مقدار کی نشان دہی کی ہے یہ زہرآلود مواد کھانے پر انسانوں کے لیے ضرررساں ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں مگر کمپنی نے اس کی تیاری میں کسی بھی غلط یا نقصان دہ مواد سے انکار کیا ہے۔

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    بھارت کے نائب وزیر صحت پروین پوار نے پارلیمنٹ کو بتایاکہ دوا ساز ادارے کے احاطے سے شربت کے حاصل کردہ نمونوں کو معیاری نہیں قرار دیا گیا ہے کیو پی فارماکیم لمیٹڈ اور دو دیگر کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ لائسنس معطل کردیے گئے ہیں۔ان کی مصنوعہ ادویہ ہی سے بچوں کی اموات ہوئی تھیں۔ان کے علاوہ میڈن فارماسیوٹیکل اور ماریون بایوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے لائسنس بھی معطل کردیئےگئے ہیں اور ان کی تیار کردہ ادویہ کی برآمد روک دی گئی ہے تاہم میڈن فارماسیوٹیکل اور ماریون بائیوٹیک نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    یمن میں37 سال پرانے سمندر میں تیرتے بحری جہاز سے تیل نکالنا شروع

    واضح رہے کہ بھارت نے جون سے کھانسی کے شربت کی برآمدات کی جانچ سخت کر دی ہے، جس کے تحت کمپنیوں کے لیے مصنوعات برآمد کرنے سے قبل سرکاری لیبارٹری سے تجزیے کا سرٹی فکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست  بھارت پہلے نمبر پر

    بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست بھارت پہلے نمبر پر

    پاکستان دنیا میں تعداد کے لحاظ سے بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست میں 8ویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ بھارت زیرو ڈوز بچوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت نے بچوں کی زیرو ویکسی نیشن فہرست جاری کردی، جس میں بھارت پہلے نمبر پرہےرپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال 6 لاکھ 11 ہزار بچوں کو ایک بھی ویکسین ڈوز نہیں لگی گزشتہ سال پاکستان میں 12 لاکھ بچے خسرے کی ویکسین سے محروم رہے جبکہ بھارت میں 27 لاکھ بچے ہر طرح کی ویکسین سے محروم رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 1کروڑ 43 لاکھ تھی۔ جس میں پاکستان میں 12 لاکھ، نائیجیریا میں 31 لاکھ بچوں کو خسرے کی ویکسین نہیں لگی تھی نائجیریا خسرے کی ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں میں سرفہرست ملک ہے-

    خیبر پختونخوا میں ایچ ائی وی ایڈز بے قابو

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد 1 کروڑ 43 لاکھ تھی جبکہ 2021 میں ایک یا زیادہ ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ کے قریب تھی۔

    ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں بچوں میں ویکسی نیشن کے عمل کو بڑھانےکی ضرورت پر زور دیا ہےعالمی ادارہ صحت پاکستان کے مطابق پاکستان میں زیرو ڈوز بچوں میں ویکسی نیشن بڑھانے کی ضرورت ہے، بچوں کی ویکسی نیشن بڑھانے پر بہت زور دیا جا رہا ہے۔

    نئے انتخابات سے قبل آئی ایم ایف کی نئی شرائط پر پاکستان کی یقین دہانی

    اس حوالے سے ڈاکٹر خالد شفیع کا کہنا ہے کہ سندھ میں بریسٹ فیڈنگ پروموشن اینڈ پروٹیکشن بل منظور کر لیا گیا ہے، نیا قانون بچوں کی جان بچانے میں انتہائی معاون ہو گا پاکستان میں ویکسی نیشن کے غلط اعداد و شمار فراہم کیے جاتے ہیں۔

    پروفیسر شہزاد علی کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن کی شرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑھائی جا سکتی ہے وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے کہا کہ ویکسی نیشن بڑھانے کے لیے نجی اداروں کا تعاون حاصل کر نا ہو گا۔

    اعظم خان گواہ، عمران خان کی کمر ٹوٹ گئی، اسی کوڑے

  • کھانسی کے شربت سے ہلاکتیں،بھارتی دوا ساز کمپنی کے 3 ملازمین گرفتار،2 کی تلاش جاری

    کھانسی کے شربت سے ہلاکتیں،بھارتی دوا ساز کمپنی کے 3 ملازمین گرفتار،2 کی تلاش جاری

    بھارتی دوا ساز کمپنی Marion Biotech کے کھانسی کا شربت پینے سے بچوں کی اموات کے معاملے میں کمپنی کے 3 ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔

    بھارتی ریاست اترپردیش اسٹیٹ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق دوا کے 36 میں سے 26 نمونوں میں زہریلے مادے پائے گئے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے کھانسی کا شربت بنانے والی کمپنی کے 3 ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 2 ڈائریکٹرز کی تلاش جاری ہے۔

    بھارتی دوا ساز کمپنی پرگیمبیا میں 69 بچوں کی ہلاکت کا جرم ثابت،انکوائری کمیٹی کا سخت کاروائی کا مطالبہ

    کھانسی کے شربت میں زہریلے مادوں کے انکشاف کے بعد بھارت کی جانب سے الرٹ جاری ہونے کا امکان ہےدوسری جانب بھارتی وزارت صحت نے واقعے پرکوئی بیان جاری نہیں کیا۔

    رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنی کی دوا پینے سے گیمبیا میں 70 جبکہ ازبکستان میں 19 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جب بھارتی ادویات کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں انتہائی زہریلا کیمیکل ایتھلین گلیکول پایا گیا۔

    بھارتی کھانسی کی دوا سے افریقی ملک کے 66 بچے ہلاک

    عالمی ادارہ صحت ڈبلیوایچ او کے مطابق جعلی ادویات سے گزشتہ سال گیمبیا،انڈونیشیا اورازبکستان میں 300 سے زائداموات ہو ئی تھیں، مرنے والوں میں زیادہ تر کی عمریں 5 سال سے کم تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اکتوبر میں اس سیرپ سمیت بھارت میں بننے والی چار دواؤں سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے ان پر پابندی کا حکم دیا تھا ادارے نے کہا تھا کہ ان ادویات میں ایسے کیمیکلز ہیں جو انسانی جان کےلیے زہر ہیں۔

    گیمبیا میں بھارتی دوا پینے سے بچوں کے گردے میں شدید زخم ہوگئے تھے جس کے نتیجے میں 69 بچے ہلاک ہوگئے۔

    دوسری جانب میڈن فارما سیوٹیکلزنے الزامات کی تردید کردی تھی جبکہ بھارت میں سرکاری لیبارٹریز سے اس کمپنی کی دواؤں کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں ان ادویات کے ٹھیک ہونے کی رپورٹ آئی ہے بھارتی حکام نے بھی عالمی ادارہ صحت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

    انڈونیشیا:100بچوں کی ہلاکت کے بعد کھانسی کے شربت پر پابندی

    لیکن عالمی ادارہ صحت نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صرف اپنے مینڈیٹ کی پیروی کر رہی ہے اور "کی گئی کارروائی پر قائم ہے-

    ہفتوں کی تحقیقات کے بعد، گیمبیا کی پارلیمانی کمیٹی نے اب سفارش کی ہے کہ حکام کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں ملک میں میڈن فارماسیوٹیکل کی تمام مصنوعات پر پابندی لگانا اور فرم کے خلاف قانونی کارروائی کرنا شامل ہے۔

    کمیٹی نے کہا کہ وہ "اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ میڈن فارماسیوٹیکلز مجرم ہے اور اسے آلودہ ادویات برآمد کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے”۔

  • ڈی سی عمر کوٹ سےگاڑی واپسی کیلیے ڈبلیو ایچ او کا وزارت خارجہ کو مراسلہ

    ڈی سی عمر کوٹ سےگاڑی واپسی کیلیے ڈبلیو ایچ او کا وزارت خارجہ کو مراسلہ

    کراچی:ڈی سی عمر کوٹ سے گاڑی کی واپسی ، عالمی ادارے کو میدان میں آنا پڑگیا،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے سیلاب میں سروے کیلئے ڈی سی عمر کوٹ کو دی گئی گاڑی کی واپسی کے لیے پر وزارت خارجہ کو مراسلہ لکھ دیا۔

    آرمی چیف کا فوجی فاؤنڈیشن کا دورہ،طبی سہولیات اورکردارپراظہار اطمینان

    عالمی ادارے صحت کے مراسلے پر وزارت خارجہ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی سی مٹیاری کو گاڑی واپس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے چیف سیکریٹری سندھ سے جواب طلب کر لیا جبکہ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گاڑی جس کے بھی استعمال میں ہے واپس کی جائے۔

    تمام ارکان اسمبلی چھوڑنےکے لیے تیار ہیں: سپیکرپختونخوا اسمبلی

    ڈبلیو ایچ او کا مؤقف تھا کہ ہماری گاڑی ذاتی استعمال میں نہیں لائی جا سکتی اور وہ ایک مخصوص وقت اور کام کے لیے دی گئی تھی اس لیے اب تک واپس نہیں ملی اس سلسے میں اقدام اٹھائے جائیں تاکہ گاڑی کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    ذرائع کی مطابق ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بم پروف گاڑی ڈی سی عمر کوٹ کو دی گئی تھی تاکہ سیلاب کے دوران سروے میں کوئی رکاوٹ نا ہو سیلاب گزر جانے کے باوجود جب ایچ ڈبلیو او کو گاڑی واپس نہیں کی گئی تو عالمی ادارے صحت نے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا۔

  • دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    جنیوا: عالمی ادارہ صحت نےخبردار کیا کہ برسوں بعد، دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں پریشان کن اضافہ ہو رہا ہے-

    باغی ٹی وی: ہیضہ اور اسہال کی وبائی امراض پر ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے سربراہ فلپ باربوزا نے جنیوا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس سال کے پہلے نو مہینوں میں، 26 ممالک میں ہیضے کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے، اس نے مزید کہا کہ 2017 اور 2021 کے درمیان، 20 سے کم ممالک میں ہر سال وبا پھیلنے کی اطلاع ملی۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    فلپ باربوزا نے کہا کہ کئی سالوں کی گرتی ہوئی تعداد کےبعد، ہم گزشتہ چند سالوں کےدوران دنیا بھر میں ہیضےکی وباء میں تشویشناک اضافہ دیکھ رہےہیں نہ صرف ہمارے ہاں پھیلنے کی تعداد زیادہ ہے، بلکہ یہ وبا خود بھی بڑی اور زیادہ مہلک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2021 میں رپورٹ ہونے والی اوسط اموات کی شرح پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے میں تقریبا تین گنا بڑھ گئی ہے باربوزا نے کہا کہ ہیضے کے روایتی محرکات جیسے کہ غربت اور تنازعات کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی تبدیلی تیزی سے اس مرکب کا حصہ تھی۔

    اسپیلنگ میں معمولی غلطی پرٹیچرنےدلت طالبعلم کوقتل کردیا

    باربوزا نےکہا کہ سیلاب، طوفان اور خشک سالی جیسے انتہائی موسمیاتی واقعات صاف پانی تک رسائی کومزید کم کر دیتے ہیں اور ہیضے کے پھلنے پھولنے کے لیے ایک مثالی ماحول بناتے ہیں جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی کےاثرات شدت اختیار کر رہےہیں، ہم صورتحال کے مزید خراب ہونے کی توقع کر سکتے ہیں جب تک کہ ہم ہیضے کی روک تھام کو فروغ دینے کے لیے ابھی سے کام نہ کریں۔

    فلپ باربوزا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے پاس ہیضے سے ہونے والی اموات کی تعداد کا کوئی اعداد و شمار نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ ممالک ڈیٹا تیار نہیں کرتے ہیں طلب سےزیادہ سپلائی کےساتھ ویکسین کی دستیابی انتہائی محدود ہےحالانکہ چند ملین خوراکیں باقی ہیں جو سال کے اختتام سے پہلے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق متعدد ماہرین اور ممالک کی جانب سے’منکی پاکس‘ کے نام کو توہین آمیز اور نسل پرستانہ قرار دیئےجانے کے بعد عالمی ادارے نے اس کا نام تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے افراد سے مدد مانگ لی۔

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ادارے کو ایسے ناموں کی تجاویز دی جائیں، جس سے کسی علاقے، جنس، قوم، خطے، مذہب، نسل، گروہ یا ثقافت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ اس نے منکی پاکس کے دونوں پرانی قسموں کے وائرسز کے نام تبدیل کرکے اس میں رومن ہندسے بھی شامل کرلیے ہیں، تاکہ اس سے وائرسز کو بھی کسی ثقافت، خطے یا علاقے سے نہ جوڑا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب سے وسطی افریقہ میں پائے جانے والے ’کانگو بیسن‘ وائرس کو ’کلیڈ I‘ جب کہ مغربی افریقی خطے میں پائے جانے والے وائرس کو ’کلیڈ II‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسی طرح بعد میں یورپ سمیت دیگر خطوں میں میں پائے گئے ’منکی پاکس‘ کے وائرسز کو ’کلیڈ I اے‘ اور ’کلیڈ II بی‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ جلد ہی عالمی ادارہ بیماری کا نام بھی تبدیل کردے گا ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ فیصلہ اس ہفتے سائنسدانوں کی میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    عالمی ادارے کی جانب سے منکی پاکس کے مختلف قسموں کو الگ الگ نام دیئے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری کی بھی کورونا کی طرح متعدد قسمیں ہیں۔

    اس بیماری پر ’منکی پاکس‘ نام 1958 میں اس وقت رکھا گیا تھا جب اسے پہلی بار یورپی ملک ڈنمارک میں پایا گیا تھا، جس کے بعد یہ بیماری 1970 کے بعد بڑے پیمانے پر افریقہ میں پائے گئی۔

    مئی 2022 سے اب تک منکی پاکس کے افریقہ کے باہر 31 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ بیماری دنیا کے 80 کے قریب ممالک تک پہنچ چکی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے،جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 13ہوگئی جبکہ دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس مرض کی علامات دو سے چار ہفتوں تک رہ سکتی ہیں متحدہ عرب امارات میں پہلے کیس کی 24 مئی کو تصدیق کی گئی تھی غیرملکی مسافر مغربی افریقا سے یو اے آئی جہاں اس میں ٹیسٹ کے بعد وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    واضح رہے کہ جانوروں سے لگنے والی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یو اے ای میں ابتدائی طور پرسخت اقدامات متعارف کرائے گئے تھے۔جن میں مکمل صحت یاب ہونے تک مریضوں کو مکمل تنہائی میں رہناشامل ہوگا اور جوکوئی بھی متاثرہ افراد کے رابطے میں آیا ہے،اسے کم سے کم 21 دن کے لیے گھرمیں قرنطینہ کردیا جائے گا۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو…

    ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا تھا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا تھا کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    برٹش ایئرویز کا 15 جون سے اسلام آباد کیلئے پروازیں معطل کرنے کا اعلان

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

  • آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا ہے کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ منکی پاکس انفیکشن کے 11 ممالک میں 80 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    خوراک کی شدید قلت کے باعث ہم بھوک سے مرنے والے ہیں، سری لنکن وزیراعظم کی دنیا سے…

    خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    سری لنکا میں ایمرجنسی کا نفاذ ختم کر دیا گیا

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل بنانےکا فیصلہ

  • 2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 2022 میں کورونا کی وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 2022 میں کورونا کی وبا ختم ہونے کی توقع ہے کیونکہ دنیا کے پاس اب وبا پرقابو پانے کے لئے آلات موجود ہیں۔

    اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ…

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ جب تک عدم مساوات برقراررہے گی اس وقت تک وبا بھی جاری رہے گی افریقہ میں طبی عملے کی بھی مکمل ویکسین نہیں ہوئی جبکہ یورپ میں عوام کو بوسٹرخوراک لگائی جارہی ہے عدم مساوات کی وجہ سے ویرینٹ کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے عدم مساوات ختم ہوگی تو وبا بھی ختم ہوجائے گی اوریہ ڈراؤنا خواب بھی جس میں ہم اب جی رہے ہیں۔

    ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ دنیا بھر میں ویکسین کی ساڑھے 8ارب خوراکیں لگائی جا چکی ہیں جس سے اموات کی شرح کم کرنے میں مدد ملی ۔لوگوں کی جان بچانے کے لیے علاج کے نئے طریقے بھی دریافت ہو چکے ہیں۔

    امریکا میں اومی کرون بے قابو ہوگیا:کیسزکا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    اس سے قبل ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے دنیا کو کورونا کی وبا پر خبردار کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ڈیلٹا اور اومی کرون کی مختلف اقسام کا ایسا سونامی آئے گا کہ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا گیبریئس نے کہا تھا کہ دنیا کا نظام صحت اسی طرح اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کر رہا ہےاس کے بعد ڈیلٹا اور اومی کرون جیسے دونوں خطرات انفیکشن کے اعداد و شمار کو ریکارڈ بلندی تک لے جائیں گے اس سے اسپتال میں داخل ہونے اور اموات میں اضافہ ہوگا-

    ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن نے کہا تھا کہ موجودہ ویکسین اومیکرون کے خلاف اب بھی موثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں موجود ٹی سیل امیونٹی نئے قسم کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے انہوں نے کہاتھا ‘ایسا لگتا ہے کہ ویکسین اب بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے تاہم، مختلف ویکسین کا اثر مختلف ہوتا ہےڈبلیو ایچ اوکے ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل زیادہ تر ویکسین سنگین بیماری کو روکنے اور ڈیلٹا ویرینٹ کےخلاف تحفظ فراہم کرنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    کرونا کا ایک اور ریکارڈ،دنیا بھر میں ایک روز میں دس لاکھ مریض