Baaghi TV

Tag: ڈبلیو ایچ او

  • یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ جای

    یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ جای

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے-

    جنیوا میں ڈبلیو ایچ او یورپ کے زیر اہتمام منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خطے کے نصف سے زائد ممالک اس خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں یورپی ممالک شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کریں اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

    اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او یورپ کےعلاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کےباعث یورپ میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید، طویل اور بار بار آنے لگی ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ خطے کے نصف سے زیادہ ممالک اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتیں گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلائیں، ہیٹ ایکشن پلانز کو مؤثر بنائیں اور صحت، سماجی بہبود، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں، مو سمیا تی تبدیلی کے باعث مستقبل میں شدید گرمی کی لہروں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے صرف ہنگامی ردعمل کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔

    موسمیاتی ماہرین کے مطابق رواں ہفتے پرتگال اور اسپین میں بحرِ اوقیانوس سے اٹھنے والی گرم ہواؤں کے باعث درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے اسی خدشے کے پیش نظر فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ سمیت متعدد یورپی ممالک نے ہیٹ الرٹس جاری کرتے ہوئے طبی سہولیات، کولنگ سینٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کو فعال کر دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق یورپ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی سے متعلق قبل از وقت انتباہی نظام، صحت عامہ کے منصوبوں اور شہری انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے، جبکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کے لیے تیار نہیں،فرانس میں صرف گزشتہ بدھ سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں قریباً 1,000 اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ جرمنی، چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ سمیت کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،اتوار کے روز یورپ کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 40 ° C (104 ° F) تک پہنچ گیا، جب کہ طوفان دیگر علاقوں میں بہہ گئے، زیادہ تر اموات بوڑھے لوگوں کی تھیں-

    پبلک ہیلتھ فرانس نے بتایا کہ بدھ سے اب تک فرانس میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق 24 جون سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    فرانسیسی اخبار کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے دوران 18 جون سے اب تک فرانس میں دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہانے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہوگئی ہے اور پیر کی صبح تک بند رہے گی شدید گرمی سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں،یورپ شدید گرمی میں پگھل رہا ہے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور لاکھوں افراد اس سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،یہ صرف ایک اور موسم گرما نہیں ہے، یہ ایک انتباہ ہے آب و ہوا پہلے سے زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔

  • سوڈان میں ہسپتال پرحملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق

    سوڈان میں ہسپتال پرحملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ سوڈان کے علاقے دارفور میں ایک ہسپتال پر حملے میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 13 بچے بھی شامل ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینام کے مطابق یہ حملہ مشرقی دارفور کے دارالحکومت الڈائن میں واقع ایک تدریسی ہسپتال پر کیا گیا، جس میں مریضوں کے ساتھ ساتھ دو نرسیں اور ایک ڈاکٹر بھی جاں بحق ہوئے،حملے میں مزید 89 افراد زخمی ہوئے جن میں طبی عملہ بھی شامل ہےاس واقعے کے بعد ہسپتا ل کے بچوں، زچگی اور ایمرجنسی وارڈز شدید متاثر ہوئے اور ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان کی جاری جنگ کے دوران صحت کے مراکز پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2023 سے اب تک 213 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملہ مبینہ طور پر فوج کے ڈرون کے ذریعے کیا گیا، تاہم ڈبلیو ایچ او نے کسی فریق کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

    واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی فورس کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

    پی ایس ایل 11 بغیر تماشائیوں کے کرانے اور افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان

  • مصطفیٰ کمال کی ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈپینگ سے ملاقات

    مصطفیٰ کمال کی ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈپینگ سے ملاقات

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے صحت کے شعبے میں کئی دہائیوں سے جاری تعاون اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ڈبلیو ایچ او نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈپینگ کے ہمراہ آئے ہوئے وفد کے شرکاء سے ملاقات میں کیا۔ ملاقات میں صحت کے شعبے میں جاری تعاون، ترجیحات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے پورے پاکستان میں جاری پروجیکٹس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ بعد ازاں سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC )کے پریزیڈنٹ رضوان تاج سے ملاقات کی۔

    پریزیڈنٹ پی ایم ڈی سی نے وزیر صحت کو موجودہ میڈیکل ایجوکیشن کے نظام پر بریفننگ دی۔ ملاقات میں میڈیکل کا معیار تعلیم عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ سید مصطفیٰ کمال نے عالمی سطح پر پاکستانی ڈاکٹروں کے کردار کو بھی سراہا۔

    عشرت العباد کی جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت

    آئی ٹی برآمدات میں 24 فیصد کا شاندار اضافہ

    زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر مہنگا

    جعفر ایکسپریس کے بازیاب مسافروں کا پاک فوج اور ایف سی کو خراج تحسین

  • عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    دمشق:عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ یمن میں کی گئی اسرائیلی فضائی کارروائی کا نشانہ بننے سے بال بچ گئے۔

    باغی ٹی وی: ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ہفتے کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر اسرائیل کے مہلک حملوں میں بال بال بچے ہیں،اسرائیلی فضائیہ نے جمعرات کو صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور یمن کے دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔

    ٹیڈروس اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس کی جانب سے زیر حراست اقوام متحدہ کے عملے کی رہائی اور جنگ زدہ ملک میں صحت اور انسانی صورتحال کا جائزہ لینے کے مشن پر یمن کا دورہ کر رہے تھے-

    انہوں نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ جمعرات کو ہوئے حملے کے بعد ان کے کان ابھی تک بج رہے ہیں، وہ صنعا میں پرواز میں سوار ہونے کی تیاری کر رہے تھےبین الاقوامی قانون کے تحت شہری تنصیبات کے تحفظ کا احترام کیا جانا چاہیےہم نے قریب ہی ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی، اور پھر میں نے سوچا کہ حملہ دوبارہ ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ آواز اانتہائی تیز اور بہرا کر دینے والی تھی، ’24 گھنٹے سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اب بھی میرے کان بج رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس آواز نے میرے کان کو متاثر کیا یا نہیں دھماکہ بہت شدید تھا،نشانہ ڈیپارچر لاؤنج کو بنایا گیا تھا جو ہمارے برابر میں ہی تھااس کے بعد کنٹرول ٹاور پر حملہ ہوا یہ قسمت کی بات ہے ورنہ اگر میزائل ذرا سا بھی ہٹ جاتا تو یہ ہمارے سر پر لگ سکتا تھا میر ے ساتھی نے کہا کہ ہم موت سے بال بال بچے ہیں‘۔

    دوسری جانب حوثی نائب وزیر ٹرانسپورٹ یحییٰ السیانی نے بتایا کہ ان حملوں میں چار افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

  • نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی

    نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی

    کنشاسا: افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے جنوب مغربی صوبے میں نومبر کے دوران ایک نامعلوم بیماری نے 143 افراد کی جان لے لی۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کے مطابق متاثرہ افراد کو فلو جیسی علامات تھیں، جن میں شدید بخار اور سر درد شامل تھے۔ کوانگو صوبے کے ڈپٹی گورنر ریمی ساکی اور صوبائی وزیر صحت اپولینائر یومبا نے بتایا کہ ایک طبی ٹیم پانزی ہیلتھ زون بھیجی گئی ہے تاکہ نمونے جمع کر سکے اور بیماری کی شناخت کے لیے تجزیہ کر سکے۔

    سول سوسائٹی کے رہنما سیفورین مانزنا نے روئٹرز کو بتایا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ متاثرہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جہاں یہ بیماری پھیل رہی ہے وہ ایک دیہی علاقہ ہےبیمار افراد علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے گھروں میں ہی دم توڑ رہے ہیں،وبائی امراض کے ایک مقامی ماہر کے مطابق خواتین اور بچے اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی کو پچھلے ہفتے اس بیماری کی موجودگی سے آگاہ کیا گیا تھا اور وہ کانگو کی پبلک ہیلتھ وزارت کے ساتھ مل کر مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • منکی پاکس،ڈبلیو ایچ اے نے ویکسین کی منظوری دے دی

    منکی پاکس،ڈبلیو ایچ اے نے ویکسین کی منظوری دے دی

    ڈبلیو ایچ او نے منکی پاکس کی پہلی ویکسین ایم وی اے، بی این کی منظوری دی ہے

    منکی پاکس کے خلاف ویکسین 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو 4 ہفتوں کے فرق سے 2 خوراکوں میں دی جا سکے گی،ویکسین منکی پاکس کے خلاف ایک خوراک کے بعد 76 فیصد اور 2 خوراکوں کے بعد 82 فیصد مؤثر ہے،عالمی ادارہ صحت منکی پاکس کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے چکا ہے، منکی پاکس 121 ممالک میں پھیل چُکا ہے، رواں سال 500 افراد اس سے جاں بحق ہو چُکے ہیں، ہائی رسک گروپس اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد میں منکی پاکس کی شرحِ اموات 10فیصد تک ہو سکتی ہے،منکی پاکس ویکسین حاصل کرنے سے انفیکشن کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے، ویکسین کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے کے 4 دن کے اندر دی جانی چاہیے جس میں منکی پاکس ہے، زیادہ خطرے والے لوگوں کے لیے سفارش کی جاتی ہے کہ وہ منکی پاکس کے انفیکشن کو روکنے کے لیے ویکسین لگوائیں۔

    منکی پاکس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے،وزیراعظم
    دوسری جانب وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں منکی پاکس کی صورتحال پر جائزہِ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منکی پاکس سے بچاؤ کی تمام تر احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔ عوام کو منکی پاکس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدی داخلی راستوں پر اسکیننگ یقینی بنائی جائے۔اللّٰہ کے فضل و کرم سے پاکستان کو فی الحال منکی پاکس کے حوالے سے کسی قسم کی ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں۔ تمام ادارے بالخصوص وزارتِ صحت، این ڈی ایم اے منکی پاکس کے حوالے سے اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کیلئے قرنطینہ سینٹرز کا قیام یقینی بنایا جائے۔

    اوچ شریف :منکی پاکس کا اندیشہ،3بچے جاں بحق

    پاکستان میں اس سال منکی پاکس کا ایک،گزشتہ برس 10 مریض سامنے آئے تھے،ڈاکٹر مختار

    پاکستان میں منکی پاکس کے پہلے مریض کی تصدیق

    ترجمان وزارت قومی صحت کا کہنا تھا کہ ایم پاکس ایک نیا وائرس ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرانے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر کسی میں علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ایم پاکس کی علامات میں بخار، جسم پر دانے، سر درد، اور دیگر فلو جیسی علامات شامل ہیں۔ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے، لہذا اس حوالے سے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت پاکستان اور وزارت قومی صحت ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں

    منکی پاکس عالمی ایمرجنسی قرار،پاکستان بھی متحرک، اقدامات

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

    کانگو وائرس کے مریض کی موت

  • پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن ہیڈ کوارٹر میں عالمی یوم صحت پر تقریب

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن ہیڈ کوارٹر میں عالمی یوم صحت پر تقریب

    پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نیشنل ہیڈ کوارٹرز نے 17 اپریل 2024 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان کے تعاون سے ورلڈ ہیلتھ ڈے منایا۔ 150 سے زیادہ گائیڈز (6 سے 16 سال کی عمر ) نے شرکت کی۔ اس دن کا تھیم ’’میری صحت میرا حق‘‘ تھا۔
    تقریب کے دوران لڑکیوں کو خوشگوار سرگرمیوں اور گیمز کا تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ اس موقع پر عالمی یوم صحت کی مناسبت سے پینٹنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ مقابلے کا مقصد بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا کہ وہ صحت کے مثبت رویوں کو سمجھیں، اور اس علم کو اپنے ساتھیوں میں بھی پھیلائیں۔ پینٹنگ مقابلے کی 2 کیٹیگریز میں 50 گائیڈز نے حصہ لیا۔ پہلی کیٹیگری 6 سے 11 سال کی عمر کے گائیڈز اور دوسری کیٹیگری 11 سے 16 سال کی تھی۔ تقریب کے اختتام پر دونوں کیٹیگریز کے فاتحین کو انعامات دیے گئے۔

    مسائل کے حل اور اختراعی سوچ کو فروغ دینے اور لڑکیوں کو الفاظ اور خیالات کے درمیان روابط استوار کرنے میں مدد کرنے کے لیے ایک مباحثے کا مقابلہ بھی منعقد کیا گیا ۔ مقابلے میں 20 گرل گائیڈز نے حصہ لیا۔
    تقریب کے دوران آنکھوں، کانوں اور بی ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) کے حوالے سے ہیلتھ اسکریننگ اسٹالز بھی لگائے گئے۔ لڑکیوں کی صحت سے متعلق اسکریننگ سے بصارت، سماعت اور دیگر عام مسائل کا پتہ لگانے میں مدد ملی جس سےکم عمری میں ہی ممکنہ مسائل کی نشاندہی اور انتظامی حکمت عملیوں پر کے لیے مناسب حوالہ جات میسر آئے ۔تولیدی صحت، ٹی بی، ملیریا/ڈینگی، اور دماغی صحت/نفسیاتی مدد کے بارے میں آگاہی کے لیے چند سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

    پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو و ڈاپینگ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کی نیشنل کمشنر مسز ماریہ معود صابری نے ان کا اور دیگر مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے انہیں تقریب کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ گائیڈ پروگرام صحت کےروز مرہ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے، صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرتا ہے، اور حفظان صحت کے اچھے طریقوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ اچھی صحت کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے مختلف بیماریوں سے آگاہی اور روک تھام کے حوالے سے گائیڈز کے کام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے تیار کردہ صحت سے متعلقہ بیجزکے نصاب کے بارے میں بھی بتایا۔

    گائیڈز سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے آگاہی بڑھانے کے حوالے سے گائیڈز کے کام کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نوجوان ملک میں صحت کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو اب بھی صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہے۔ اس سال کے تھیم کا انتخاب ہر ایک تک ہر جگہ معیاری صحت کی خدمات تک رسائی کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم صحت، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ صحت اور صحت کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی فراہم کرتا ہے۔ صحت ہر فرد کی زندگی کا سب سے بنیادی پہلو ہے۔ بچوں کو فلاح و بہبودکے اس کام میں شامل کرنا ان کی آئندہ زندگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد کو یقینی بنائے گا۔ وہ بچے جو صحت مند طرز زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں زندگی کا جوش ہوتا ہے جو ان کی بہتر نشوونما میں مدد کرتا ہے اور تمام شعبوں میں سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔بعد ازاں انہوں نے پینٹنگ ، تقریری مقابلوں اور گیمز کے فاتحین میں انعامات بھی تقسیم کئے۔

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • ‏عالمی ادارہ صحت کا پاکستان پر سفری پابندیوں کا فیصلہ برقرار

    ‏عالمی ادارہ صحت کا پاکستان پر سفری پابندیوں کا فیصلہ برقرار

    اسلام آباد: ‏عالمی ادارہ صحت کا پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے-

    ڈبلیو ایچ او ایمرجنسی کمیٹی برائے پولیو کی پابندیوں میں توسیع کی سفارش کی گئی جس پر پاکستان پر پولیو کے باعث عائد سفری پابندیوں میں تین ماہ کی توسیع کردی گئی اور پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس کے عالمی پھیلاوؤکے ذمہ دار قرار دیا-

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان، افغانستان کے مابین پولیو وائرس کی منتقلی جاری ہے، پاکستانی سیوریج میں پولیو کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کراچی، پشاور، کوئٹہ بلاک پولیو وائرس کے گڑھ ہیں، افغانستان میں پولیو ویکسین سے محروم بچے پاکستان کیلئے خطرہ ہیں، رواں سال جون تک 175 ملین پاک افغان بچوں کی ویکسینیشن ہو گی-

    سعودی وفد پاکستانی وزراء اور حکام کی تیاری سے متاثر ہوا ،وزیراعظم

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان سے مہاجرین انخلا سے پولیو افغانستان منتقل ہوا ہے، پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین سے پولیو پھیل رہا ہے، پاک افغان کراسنگ پوائنٹس پر پولیو ویکسینیشن بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جنوبی کے پی میں بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی اہم ہے، پاکستان کی پولیو بارے سرویلنس مزید تین ماہ جاری رہے گی، پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کی پولیو ویکسینیشن لازم ہو گی، ڈبلیو ایچ او 3 ماہ بعد انسداد پولیو کیلئے پاکستانی اقدامات جائزہ لے گا ، پاکستان پر پولیو کی وجہ سے سفری پابندیاں مئی 2014 میں عائد ہوئی تھیں-

    صدرعالمی بینک کی پاکستانی معیشت کے استحکام اور ٹیکس بڑھانے کے پروگراموں کی حمایت …

  • دوائیں بنانیوالی پاکستانی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث

    دوائیں بنانیوالی پاکستانی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث

    پاکستان کی ایک دوائیں بنانے والی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث پائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ”روئٹرز“ کے مطابق عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق امریکہ، مشرقی بحیرہ روم، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی بحرالکاہل کے علاقوں میں بھیجی گئی ان دواؤں کی شناخت کی گئی ہیں ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ غیرمعیاری دوائیں پاکستان میں ”فارمکس لیبارٹریز“ نامی کمپنی تیار کر رہی ہے اور ان کی شناخت پہلی بار مالدیپ میں ہوئی تھی،کچھ مصنوعات بیلیز، فجی اور لاؤس میں بھی پائی گئی ہیں،فارمکس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا-

    ن لیگ کو بھی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض،عدالتی کارروائی کا اعلان

    ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے فعال اجزاء پر مشتمل ان مائع ادویات میں ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول سطح پائی گئی ہے ایتھیلین گلائکول ایتھنول کی طرح ایک سی این ایس ڈپریسنٹ ہے، اس کے میٹابولائٹس زہریلے ہوتے ہیں اور زیادہ میٹابولک ایسڈوسس، دماغی ورم، دل کی ناکامی ، گردوں کی ناکامی اور ممکنہ طور پر موت کا سبب بنتے ہیں۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    یہ انتباہ ہندوستان اور انڈونیشیا میں بنی اسی طرح کی آلودہ دوائیوں کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کی انتباہات کی ایک لائن میں تازہ ترین ہے، جو گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً 300 بچوں کی موت سے منسلک تھیں ایجنسی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو پاکستان میں تیار کردہ شربتوں کے حوالے سے کسی منفی واقعات کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اس نے ممالک پر زور دیا کہ وہ دسمبر 2021 سے دسمبر 2022 کے درمیان کمپنی کی جانب سے تیار کردہ مصنوعات کی نگرانی اور جانچ کریں۔

    غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے