حوثی باغیوں کے بعد عراقی تنظیم کے یو اے ای پر ڈرون حملے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں ہے، حوثی باغیوں کے بعد اب ایک نئی تنظیم نے یو اے ای پر ڈرون حملے کئے تا ہم یو اے ای کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تین ڈرون مار گرائے ہیں،
یو اے ای کی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کو یواے ای پر ڈرون حملوں کی مذموم کوشش کو ناکام بنایا ہے،حالیہ ہفتوں میں یو اے پر یہ چوتھا حملہ ہے اس سے قبل تین ڈرون اور بیلسٹک میزائل کے حملے ہوئے،حالیہ حملہ کی ذمہ داری ایک غیر معروف گروپ اولیا واعد الحق نے قبول کی، حکام کا کہنا ہے کہ جس تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی وہ عراق میں سرگرم ہے
اولیا واعد الحق نے یو اے ای پرڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح متحدہ عرب امارات پر ہم نے چار ڈرون سے حملہ کیا،اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، ہم یہ حملے اسوقت تک جاری رکھیں گے جب تک متحدہ عرب امارات یمن اور عراق میں مداخلت بند نہیں کرتا ،اب نئے حملے مزید خطرناک اور شدت سے ہوں گے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ "کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے” اور اس ملک کی حفاظت کے لیے "تمام ضروری اقدامات” کر رہا ہے، حکام نے اعلان کیا ہے کہ یو اے ای کی طرف آنیوالے تمام ڈرون کو تباہ کر دیا گیا ہے
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے تین حالیہ حملوں کے بعد اب متحدہ عرب امارات کو اس کے شمال اور جنوب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کئی ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جنہوں نے یمن میں سات سالہ خانہ جنگی میں اضافے اور علاقائی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
یو اے ای پر ڈرون حملے کرنے والئ تنظیم نے 23 جنوری کو سعودی دارالحکومت ریاض میں یمامہ محل پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کو دھمکی دی تھی۔ امارات کو عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ متحدہ عرب امارات نے عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کی تھی
تہران نے متحدہ عرب امارات کے حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن یمن کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز اپنے اماراتی ہم منصب سے ٹیلیفون پر یمن پر بات چیت کی۔
دوسری جانب بہت سے عربوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک حوثیوں کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دوبارہ کیوں نامزد نہیں کیا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں، ایک طرف امریکہ یو اے ای کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن یو اے ای پر حملے کرنے والے حوثی باغیوں کو دہیشت گرد قرار نہیں دے رہا،
عربوں کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے غلطی کی جب اس نے گزشتہ سال حوثیوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں سب سے خطرناک دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کی حوصلہ افزائی کی ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
عرب لیگ کے 22 ارکان نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرے، بین الاقوامی امور کے ماہر عاطف سعداوی کا کہنا ہے کہ "بائیڈن انتظامیہ اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا وہ تماشائی بننا جاری رکھنا چاہتی ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے متضاد موقف کو ختم کرے یمن میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری امریکہ پر ہے. بائیڈن انتظامیہ کا پہلا فیصلہ حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنا تھا، اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔
یمن کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے۔ امریکی ساختہ بموں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں اسکول کے بچے اور عام شہری مارے گئے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ملک کی خانہ جنگی کے دوران اندھا دھند بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔
کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب
فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف