Baaghi TV

Tag: ڈی جی آئی ایس پی آر

  • ڈی جی آئی ایس پی آر   کی طلبا اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبا اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے طلبا اور اساتذہ نے خصوصی ملاقات کی جس میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی-

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے طلبا اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست میں نوجوانوں کی ملک کے لیے کاوشوں کو نہایت اہم قرار دیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابیاں دراصل امن کی فتح ہیں، اور وطن عزیز ایک پرامن اور مستحکم ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے موجود ہے،ترجمان پاک فوج نے پوچھے گئے سوالوں کے جواب بھی دیئے، انہوں نے پورے ملک کے اساتذہ کو پاک فوج کا سلام پیش کیا-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوم کو متحد رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے دشمن کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے متحد رہنے کی تلقین کی اور طلبا سے کہا کہ وہ سچائی، جذبے اور ذمہ داری کے ساتھ ملک کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔

    ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ تمام بچے اپنے اساتذہ کا احترام کریں، ہمیں اپنے اساتذہ کو سیلوٹ کرنا چاہیے انہوں نے ملک بھر کے اساتذہ کو پاک فوج کی جانب سے سلام بھی پیش کیا اور کہا کہ تعلیمی ادارے قومی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں،نشست کے اختتام پر اساتذہ اور طلباء نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے سیشنز کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ غلط معلومات اور غلط فہمیوں کا موثر تدارک کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کو لوگ کہتے تھے یہ اپنا کام نہیں کرتے، آپ اُن سے سوال کریں کہ فوج نے اپنا کام کیا یا نہیں کیا؟ کیا ایسے لوگوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیےتم کون ہوتے تھے جو اپنی فوج، افسروں اور جوانوں کے خلاف باتیں کرتے تھے پاکستان کی فوج عوام سے ہے اور عوام فوج سے ہیں یہ سیسہ پلائی دیوار آپ ،اس ملک کے بچے اور بچیاں ہیں،یہ نسل کبھی بھی اس ملک کی حفاظت سے پیچھے نہیں ہٹے گی پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت ہے،اس آہنی دیوار کو اب ہم نے اکٹھا ہو کر دہشتگردی کی طرف موڑنا ہےعوام اورفوج اکٹھے ہوں گے تو اس ملک میں کوئی دہشتگرد نہیں بچے گا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان زندہ باد کا اسٹیج سے جبکہ بچوں کے ساتھ ملکر نعرہ لگوایا کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ بھی لگوایا۔

  • آج ڈی جی آئی ایس پی آر، پاک فضائیہ، بحریہ کے سینئر افسران کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    آج ڈی جی آئی ایس پی آر، پاک فضائیہ، بحریہ کے سینئر افسران کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے سینئر افسرا کے ہمراہ آج شام اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آج شام 7 بج کر 15 منٹ پر اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

    اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کے پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے سینئر افسران بھی موجود ہوں گےپاک فوج کے افسران اپنی پریس کانفرنس میں آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے اہم تفصیلات پیش کریں گے۔

  • بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک افواج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انٹرنیشنل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے، اور انہی الزامات کی بنیاد پر شہری علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے سینئر افسران کے ساتھ نیوز کانفرنس کرترے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر اس واقعے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ناقابلِ یقین، غیر منطقی اور ثبوت سے عاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ بھارتی زمین پر پیش آیا، جہاں سے سرحد کا فاصلہ 230 کلومیٹر ہے اور پولیس کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور فوری ایف آئی آر کا اندراج انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعے کے صرف 10 منٹ بعد پولیس پہنچتی ہے، تفتیش مکمل کرتی ہے اور ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے، یہ سب کچھ ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ اتنا اچانک تھا تو بھارت نے اتنی جلدی الزام کیسے عائد کر دیا؟، انہوں نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے چند ہی منٹوں بعد پاکستان کو ملوث قرار دینا پہلے سے طے شدہ بیانیے کا حصہ ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے ماضی کے واقعات جیسے چتی سنگھ پورہ (2000) اور پلوامہ حملہ (2019) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ دہشتگردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ بیانیہ نیا نہیں، ہر بار الیکشن یا داخلی سیاسی فائدے کے لیے بھارت پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔”انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنے سوشل میڈیا پر ہزاروں اکاؤنٹس بند کیے اور پاکستان کے بیانیے کو دبانے کے لیے ڈیجیٹل سنسرشپ کا سہارا لیا۔ ساتھ ہی، پاکستان نے شفاف تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کی پیشکش کی، مگر بھارت نے اسے مسترد کر دیا۔

    پاکستان میں بھارتی مداخلت اور دہشتگردی

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کر رہا ہے بلکہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو ہتھیار، تربیت اور فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو اور جعفر ایکسپریس حملے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ثبوت واضح ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بھیجے گئے 100 سے زائد دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوئے، جن میں سے 71 کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام کارروائی کا مقصد پاکستان میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا تھا۔

    6 اور 7 مئی کے حملے: 33 شہید، 62 زخمی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 افراد شہید اور 62 زخمی ہوئے۔ شہداء میں 7 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے حملے کیے، جن میں سے تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 طیارہ مار گرایا گیا۔ پاکستان نے صرف بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور شہری آبادی کو بچانے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لیا۔

    نتیجہ: سچ کو تسلیم کریں، الزام تراشی بند کریں

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ "ڈرامے بازی” بند کرے اور اگر واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ آزاد کمیشن کے سامنے پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

  • بھارت کو اب تھیٹر اور سینیما سے نکل کر اصل کی طرف لوٹنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کو اب تھیٹر اور سینیما سے نکل کر اصل کی طرف لوٹنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ہندوتوا کی سوچ سکھوں کو بھڑکانا چاہتی ہے، ہندوتوا کی ذہنیت پاکستان مخالف سوچ پیدا کرنا چاہتی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نیوز کانفرنس کر رہے ہیں،نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے رات کے پہر حملے کیے، امرتسر میں حملے کیے گئے، ہندوتوا کی سوچ سکھوں کو بھڑکانا چاہتی ہے، ہندوتوا کی ذہنیت پاکستان مخالف سوچ پیدا کرنا چاہتی ہے بھارت سے داخل ڈرون مار گرائے گئے، بھارت نے بھارتی پنجاب میں سکھوں کی زندگی خطرے میں ڈالی، متعدد بھارتی ڈرونز نے مختلف جگہوں پر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، راولپنڈی میں بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔

    اسحاق ڈارنے کہا کہ سپر لیگ کے وینیو کو بھی ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی، بھارت نے اپنے ڈرونز کے ذریعے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو نشانہ بنایا تاکہ بین الاقوامی کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جائے پاکستان بھارت کو جواب دینے کا حق رکھتا ہے، ہم اپنے متعین، وقت، جگہ اور طریقہ کار کے مطابق جواب دیں گے، بھارت نے پاکستانی میزئل حملے کا جھوٹ بولا، اسلام آباد سے کراچی تک 2 درجن جگہوں پر حملے کیے۔

    سحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کر کے پروپیگنڈا کیا کہ پاکستان نے امرتسر پر حملہ کیا ہے، یہ جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے جس کو ہم نے مسترد کردیا بھارت نے ایک بے بنیاد کہانی گڑھی گئی کہ پاکستان نے بھارت پر حملہ کیا جس کے جواب میں ڈرونز فائر کیے، یہ الزام انتہائی شرمناک ہے قوم مطمئن رہے کیونکہ ہماری مسلح افواج ہر گھڑی و دم تیار ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ تمام مسلح افواج، حکومت الرٹ ہے، اگر انڈیا نے کوئی ایڈونچر کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا کہ اللہ کی مدد سے ہم نے 36 گھنٹوں قبل بھرپور جواب دیا اور آئندہ بھی رب کی رحمت سے نصرت ملے گی آئندہ بھی بھارت نے اگر کچھ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ شب چار میزائل امرتسر پر فائر کیے اور اپنی ہی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک پاکستان کی طرف آیا اور ہم نے اس پر نظر رکھی ہوئی تھی پاک فوج اور فورسز نے کڑی نگرانی رکھی ہوئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اُس نے 15 مقامات کو نشانہ بنایا ہے، یہ محض ایک کہانی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں اس دعوے پر بھارتی حکومت سے سوال کرتا ہو کہ وہ 21ویں صدی میں جی رہا ہے تو ایسے بے بنیاد الزامات سے گریز کرے بھارت کو اب تھیٹر اور سینیما سے نکل کر اصل کی طرف لوٹنا ہوگا، جو تصاویر پاکستان کے حملے سے جوڑی جارہی ہیں اتنی فیک ہیں کہ انہیں آگ ہی لگادی جاتی پاکستان بھارت سے آنے والی ہر شے کو مانیٹر کررہا ہے، آج گرائے جانے والے بھارتی ڈرونز کا معائنہ اور فرانزک کروایا جارہا ہے۔

    انہوں نے بھارت کے ایئرڈیفنس سسٹم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل آپ اپنی مرضی اور اپنے وقت پر آئے، سارا ایئرڈیفنس لگایا ہوا تھا تو پھر کیسے 5 جہاز گر گئے پاکستان جب اپنے وقت پر حملہ کرے گا تو ہمیں اور آپ کو بھارتی میڈیا کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ دنیا اس کو نشر کرے گی اور نہ صرف یہ نظر آئے گا بلکہ اس کی گونج بھی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ آج بھارت نے بہت چھوٹے ڈرونز فائر کیے اور یہ سوچا کہ شاید ایئرڈیفنس میں یہ نظر نہیں آئیں گے تو ہم نے انہیں پک کیا، ہم نے اپنی حکمت عملی کے تحت انہیں انگیج کیا اور پھر بہت احتیاط کے ساتھ انہیں نشانہ بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے بہت احتیاط کے ساتھ کام لیتے ہوئے 29 ڈرونز کو نشانہ بنایا، صرف ایک ڈرون ایسا تھا جس کے پھٹنے سے 4 جوان زخمی ہوئے اور دفاعی نظام کو معمولی نقصان پہنچا، بھارت اپنی شکست کی ہزیمت چھپانے کیلیے اب الزام تراشی کررہا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے ڈرون حملوں میں 3 سویلین شہید ہوئے ہیںڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چھ اور 7 مئی کی رات کو ہم نے چائے بھجوائی تھی بھارت کا 15 مقامات پر حملے کرنے کا الزام بے بنیاد ہے، ہم ایمان کی قوت سے مالا مال ہیں اس لیے عوام کو کوئی پریشانی نہیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری ہے، پاکستانی قوم ڈرنے اور پریشان ہونے والی نہیں ہے، پاکستا نی فوج کے ارد گرد، دائیں بائیں عوام کھڑے ہیں، ہمیشہ حق کی فتح ہوئی اور اب بھی حق کی ہی فتح ہوگی۔

  • ہمارا دشمن بزدل اور کم ظرف ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ہمارا دشمن بزدل اور کم ظرف ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کا جواب کب اور کیسے دینا ہے اس کے لیے وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے۔

    بھارتی حملے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے پاکستانی قوم کو للکارا لیکن اس کی غلط فہمی کو دور کردیں گےبھارتی جارحیت کا جواب کب اور کیسے دینا ہے اس کے لیے وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے ہمارا دشمن بزدل اور کم ظرف ہے، بھارتی طیاروں کو تب گرایا گیا جب انہوں نے پاکستان پر حملہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنایا لیکن قوم کی بھرپور حمایت سے مسلح افواج نے دشمن کو چند لمحوں میں بھرپور جواب دیا پاک فوج نے بھارت کے 5 طیاروں کو گرایا جن میں 3 رافیل، ایک مگ 29 اور ایک سنحوئی طیارہ شامل ہے جبکہ 7 ڈرونز بھی مار گرائے بھارتی حملے کے وقت پاکستانی فضائی حدود میں 57 بین الاقوامی طیارے موجود تھے، بھارت نے کئی ملکوں کے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالابھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو نقصان پہنچایا اور ہائیڈرو پروجیکٹ کو نشانہ بنانا ناقابل قبول اور خطرناک ہے۔

  • وزیراطلاعات ،ڈی جی آئی ایس پی آر کل سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے

    وزیراطلاعات ،ڈی جی آئی ایس پی آر کل سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دیں گے

    وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کل تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو موجودہ قومی سلامتی کی صورتحال پر اہم بریفنگ دیں گے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر شرکاء کو افواج پاکستان کی دفاعی تیاریوں، سفارتی اقدامات اور ریاستی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔موجودہ صورتحال میں یہ بریفنگ قومی یکجہتی اور اتحاد واتفاق کی اعلی مثال ہے۔ یہ بریفنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ قومی سلامتی کی کی صورتحال اور اس کے مضمرات کے حوالے سے ہو گی۔

    واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں مقامی سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے بے جا الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور سفارتی عملے کو 30 اپریل 2025 تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ بھی مودی سرکار نے پاکستان کے حوالے سے کئی جارحانہ فیصلے کیے، جن میں پاکستانیوں کے ویزوں کی منسوخی بھی شامل ہے جبکہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    جس کے جواب میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت سے تجارت اور واہگہ بارڈر کی بندش کرنے کا فیصلہ کیا، علاوہ ازیں بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بھی بند کردی گئی، اور بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ’’ہم تیارہیں ، آزمانا نہیں‘‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارت کے متنازع اور بے نقاب پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جارحانہ اور دوٹوک پریس کانفرنس نے بھارتی بیانیے کو بھرپور انداز میں چیلنج کر دیا اور اُن کے ایک جملے نے گویا پوری قوم کی ترجمانی کی: ’’ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں… 2019ء میں ہم نے یہی بتایا تھا‘‘۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی زوردار پریس کانفرنس نے بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیدیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ہم تیار ہیں ، آزمانا نہیں، 2019ء میں ہم نے یہی بتایا تھا‘‘ ہم وہ نہیں جو محاذ آرائی شروع کریں، ہم ذمہ دار ملک ہیں۔

    بھارتی گیدڑبھپکیوں پر خاموشی،مشی خان پاکستانی اداکاروں پر پھٹ پڑیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر وہ(دشمن) یہ سمجھتا ہے کہ جارحیت ہی راستہ ہے تو ہم تیار ہیں ، اس کی آزمائش نہ کریں، ہم نے ہر ڈومین میں جوابی کارروائی کے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، ہم ہر وقت اور ہر جگہ تیار ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی خودمختاری اور سالمیت کا ہرقیمت پر دفاع کرے گی، فوجی تصادم کا راستہ بھارت نے چنا تو یہ اس کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہے، ہم بار بار بتا رہے ہیں ہم تیار ہیں ہمیں آزمانا نہیں۔

    پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی،مریم اورنگزیب

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا پیغام’’ہم تیار ہیں، ہمیں آزمانا نہیں‘‘ عوام کی آواز بن گیا، تمام سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان کو راتوں رات پاپولر ہیش ٹیگ بنا دیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر راتوں رات #ہم_تیار_ہیں_آزمانا_نہیں کا ہیش ٹیگ وائرل ہو گیا، جس میں عوام، صحافی، دفاعی تجزیہ کار اور سیاسی شخصیات سب نے حصہ لیا سوشل میڈیا پر یہ تاثر نمایاں رہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکنا اور تیار ہیں، اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    پاکستانی سرحد پار کرنا بھارت کی تاریخی بھول ثابت ہوگی،مریم اورنگزیب

    ماہرین کے مطابق یہ پریس کانفرنس صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اور سفارتی پیغام بھی تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے بعد اب پاکستان نے عالمی سطح پر بھی اپنے مؤقف کو جارحانہ انداز میں پیش کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ کے خلاف سچائی، اتحاد اور تیاری کا پیغام اب محض اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی زبان پر ہے ’’ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں!‘

    پہلگام ڈرامہ،سیکورٹی کی ناکامی،بھارت میں بھی سوال اٹھنے لگے

  • پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ وزارت خارجہ میں اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے آغاز پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد سب کو آگاہ کرنا ہے، واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا اسلام میں واضح احکامات ہیں کہ ایک انسان کا قتل سارے عالم کا قتل ہے، پہلگام میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کے عمل کی پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کررہے ہیں پاکستان بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی کا شکار ہے، ہم نے بھارتی اقدامات کے بعد مختلف ممالک سے رابطے کر کے دنیا کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشتگردی اور خونریزی پر خوشیاں مناتا ہے، دہشتگردی کی جنگ میں 150 ارب ڈالرز اور ہزاروں جانوں کا نقصان کرچکے ہیں ہماری بہادر ایجنسیز اور شہریوں نے امن کیلئے قربانیاں دیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت مسلسل الزام تراشی کر رہا ہے، پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت نے یہ ہرزہ سرائی کی ہو، بھارت کشمیریوں کے حقوق، سیکیورٹی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے، بھارت دہائیوں سے ریاست دہشتگردی کر رہا ہے، اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے دوسرے ممالک پر انگلیاں اٹھاتا ہے، کشمیریوں پر مظالم کیلئے ڈریکولین قوانین لاگو کیے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کا اقدام یو این سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں، بھارت بتائے کہ یہ واقعات ہمیشہ اعلی سطح کےدوروں پر ہی کیوں ہوتے ہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بین الاقوامی برادری کیلئےباعث تشویش ہونا چاہئے، کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف اسلام و فوبیا کا استعمال ہو رہا ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ تہلگام حملے کے بعد بغیر ثبوت کو الزام دھر دیا گیا، تہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ہم ٹی او آرز میں ہر ممکن تعاون کریں گے، بھارت اچانک یہ صورتحال کیوں پیدا کررہا ہے، مقصد کیا ہے، سندھ طاس معاہدہ کی منسوخی غیر قانونی ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مشاورت کے بغیر منسوخ نہیں ہوسکتا، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی برادری کی کوئی پرواہ نہیں، قومی سلامتی کی کمیٹی نے واضح کیا کہ پانی روکنا جنگ سمجھا جائے گا، پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے کوئی حرکت ہوئی تو اپنے ملک کی سالمیت کا دفاع کریں گے، ہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے جن ممالک سے بات کی انہوں نے تحمل کی تلقین کی، پاکستان کبھی پہل نہیں کرے گا، لیکن بھارت نے کوئی حرکت کی تو سخت جواب دیں گے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ سوالوں کے جواب ضروری ہیں، کیا یہ ایسے وقت نہیں ہو رہا جب بھارت پر مختلف ممالک میں قتل کے الزامات ہیں، ہماری مسلح افواج چوکنا ہیں، ہم اپنے وقت اور مرضی کی جگہ پر وار کریں گے، کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟ کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟ کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملےکے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟ کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟ کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟ کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟

    بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پہلگام ایل او سی سے 230 کلو میٹردور ہے، یہ علاقہ پہاڑی ہے، ایف آئی آر 10 منٹ کے اندر درج کرائی گئی، 8 دن ہوگئے، نہ حملہ آوروں کا کچھ بتایا، نہ ثبوت دیئے، بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، واقعہ کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگا دیا گیاجائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں کم از کم 30 منٹ لگتے ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی جلدی ایف آئی آر کیسے درج ہو گئی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حقیقت پر بات کریں، الزام ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والوں نے حملہ کیا، یہ ناہموار اور پہاڑی علاقہ ہے، جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں 30 منٹ لگتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ پولیس جائے وقوعہ پہنچی اور پھر پولیس اسٹیشن واپس آکر ایف آئی آر درج کر لی، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ہینڈلرز سرحد پار سے آئے، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہےکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے،کہا جا رہا ہےکہ مسلمانوں نے فائرنگ کی،کہا جارہا ہےکہ ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی، بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے، ہمارا مؤقف واضح ہےکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جارہا ہےکہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ کرایا، بھارتی الزامات واقعےکے چند منٹ بعد ہی سامنے آنا شروع ہوگئے، زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ، بھارتی میڈیا نے واقعےکے فوری بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کی-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جن بھارتی اکاؤنٹس سے پہلگام حملے کو رپورٹ ہوئیں، ان میں سے ایک اکاؤنٹ میں لکھا گیا کہ کل ایک بڑا دن ہے اس لیے جلدی سو رہا ہوں، فتنہ الخواج کے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، لکھا گیا گڈ مارننگ میانوالی، جعفرایکسپریس حملے سے پہلے بھی اسی اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوئی، لکھا گیا پاکستان میں آج اور کل نظریں رکھو۔

    پریس کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا کے وہ کلپس دکھائے گئے جن میں خود بھارتی شہریوں نے پہلگام حملے پر حکومت، فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔

    ویڈیو کلپ میں ایک شہری کہتا دکھائی دیا کہ یہاں دس لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج قابض ہے، اگر ہم کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کریں تو ہمیں راتوں رات اٹھا لیا جاتا ہے، شہری نے سوال کیا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں فوج موجود ہے تو وہ کیا کر رہی ہے، کیا وہ جھک مار رہی ہے؟ جہاں حملہ ہوا وہاں فوج کیوں نہیں تھی، اور وہاں موجود افراد کو بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟

    ایک اور شہری نے براہِ راست سوال کیا کہ ”پہلگام کی ذمے داری کس کی ہے؟ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں؟“ اس نے کہا کہ ”27 لوگوں کی جان گئی، وہاں سیکیورٹی کیوں نہیں تھی؟“

    کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”پہلگام پر اتنا بڑا حملہ ہوا اور کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا“ اسی دوران ایک اور فرد نے نشاندہی کی کہ پورے علاقے میں قدم قدم پر فوج تعینات ہے، اگر یہ واقعی بارڈر کے قریب تھا تو حملہ آور کہاں سے آئے؟ اور واپس کیسے گئے؟“ یہ چھوٹا سا علاقہ ہے، جہاں گاڑی بھی نہیں جا سکتی، اور سیکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، پھر حملہ آور وہاں کیسے پہنچے؟“

    پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری کا بیان بھی سنایا گیا کہ ”کہیں نہ کہیں ہماری اپنی ایجنسی ہی یہ حملے کرواتی ہے“ دوسرے شہری نے کہا کہ کافی لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلگام کہاں ہے، امرناتھ کہاں ہے، چندن واڑی کہاں ہے خاتون نے کہا کہ آج اتنے دن ہو گئے ملک کے رہنما کہاں ہیں؟ وہ یہاں کیوں نہیں آئے یہ لوگ کیا سرکار اور کیا ڈیفینس منسٹری چلائے رہے ہیں ان سے اب تک حملہ آر پکڑے نہیں گئے ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعےکو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وتیرہ ہے، بھارت پچاس سال سے اسی ڈگر پر چل رہا ہے، پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو، یہ ہے ان کا مقصد۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے، اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، درحقیقت وہ معصوم شہری تھا، بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے، بھارت خود ایک دہشت گرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان کے بیان دلواتا ہے۔

    گزشتہ روز بھی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اہم پریس بریفنگ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنے اور ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہے –

    واضح رہے کہ بھارت نے 22 اپریل مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے اور اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے علاوہ پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

    بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی کا عندیہ دیتے ہوئے بھارت کے لیے فضائی حدود، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سلامتی کمیٹی نے جوابی اقدام کے طور پر بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتی عملے کو 30 ارکان تک محدود کرنے کے علاوہ بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے لمز یونیورسٹی لاہور میں طلباء کے ساتھ ایک خصوصی نشست کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامیہ اور طلباء نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس نشست کے دوران سیکیورٹی صورتحال سمیت مختلف موضوعات پر طلباء اور اساتذہ سے مفصل گفتگو کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلباء کے سوالات اور تحفظات کے مدلل اور تفصیل سے جوابات دیے، جس سے طلباء کو مختلف مسائل اور ان کے حل کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی۔یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء نے اس خصوصی نشست کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی اس طرح کے سیشنز کے انعقاد کی خواہش کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر طلباء اور اساتذہ نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا اور اس ملاقات کو نہایت مفید اور اہم قرار دیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی مزید نشستوں کے انعقاد کے لیے کوشاں رہیں گے تاکہ طلباء کو ملکی سیکیورٹی اور دیگر اہم مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔

    نرگس فخری کی بوائے فرینڈ کیساتھ خاموشی سے شادی ؟تصاویر وائرل

    آسٹریلوی کپتان نے پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف کر دی

    54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

    نیپال کے نائب وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ،بھارتی شہری گرفتار

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی کراچی کے طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کراچی کے طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی آئی بی اے کراچی کے طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، آئی بی اے آمد پر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس خصوصی نشست میں پاکستان کی ترقی اور خوش حالی میں طلبا کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوںنے ابتدائیہ کلمات میں اس بات کا اظہار کیا کہ آئی بی اے لرننگ کا سسمبل ہے اور میں اس کامیابی پر آئی بی اے کے اساتذہ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آئی بی اے اپنی طرز کا نہ صرف بہترین ادارہ ہے بلکہ یہاں کا نظام تعلیم بھی دنیا کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے آئی بی اے کے طلبا و طالبات کے سوالات کے جواب انتہائی خوش اسلوبی سے دیئے اور طلبا کی سوچ کو سراہا۔

    طلبا و طالبات نے پاک افواج کی قربانیوں اور خدمات کو سراہا۔ اساتذہ اور طلبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تحفظات کے تفصیلی جوابات دیئے گئے جو انتہائی تسلی بخش تھے۔اس موقع پر طلبہ نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈا کی مکمل نفی کرتے ہیں، طلبہ اور اساتذہ نے سیشن کو سراہا اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے کہا کہ اس طرح کے مزید سیشن منعقد کئے جائیں۔

    دو روز میں سونے کی قیمت میں 3 ہزار900 روپے کا اضافہ

    ڈرامائی موسمی تبدیلیاں، تھر صحرا قصہ پارینہ بن جائے گا

    سری لنکا کیخلاف جوش انگلس کی ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین سنچری

    افغانستان سے مذاکرات کے لیے پختونخوا حکومت کا وفد بھیجنے کا فیصلہ

    تنگوانی: ایس ٹی پی کی دریائے سندھ پر نہر کی تعمیر اور بدامنی کے خلاف ریلی