Baaghi TV

Tag: کانگریس

  • مودی سرکار نے بھارت کو مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست میں الجھا دیا ہے، کانگریس رہنما

    مودی سرکار نے بھارت کو مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست میں الجھا دیا ہے، کانگریس رہنما

    بی جے پی کے مسلم دشمنی ، تقسیم اور آمریت پر مبنی ایجنڈے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے کڑی تنقید کی ہے، کانگریس کے سینئر رہنما مانی شنکر آئر نے نریندر مودی کو بھارت کا ”بدترین وزیرِاعظم“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کو مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست میں الجھا دیا ہے-

    کانگریس کے سینئر رہنما مانی شنکر آئر نے نریندر مودی کو بھارت کا بدترین وزیرِاعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک بھارت کو مودی سرکار سے نجات نہیں مل جاتی، ملک کا مستقبل تاریک ہے، نصف سے زائد ہندوؤں سمیت دو تہائی بھارتی عوام نے مودی کو مسترد کیا، صرف ایک تہائی ووٹ سے منتخب ہونے والا مودی بھارت کا سب سے ”آمرانہ“ رہنما بن چکا ہے پچھلے عام انتخابات میں مودی نے 159 تقریروں میں سے 110 میں مسلمانوں پر براہ راست حملے کیے،بابری مسجد کو گرانے کی بنیاد ہی بی جے پی نے رکھی۔

    مخصوص نشستیں صرف اور صرف پی ٹی آئی کا حق ہیں،بیرسٹر سیف

    مانی شنکر آئر کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا ’ایک قوم، ایک زبان، ایک ثقافت، ایک انتخاب‘ کا نعرہ بھارت کی ثقافت کے خلاف ہے، بی جے پی معاشرے میں مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر تقسیم پیدا کر رہی ہے مودی سرکار نے بھارت کو مندر، مسجد اور نفرت کی سیاست میں الجھا دیا ہے، ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے بی جے پی بھارت کی ثقافتی اقدار پر سمجھوتا کر چکی ہے، مودی کے دور اقتدار میں نام نہاد جمہوریت کے پردے میں آمریت، نفرت اور انتہا پسندی کا راج ہے۔

    چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

  • بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج

    بھارت میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقدام قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انڈیا اتحاد نے پارلیمنٹ کے احاطے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے متعلق ریمارکس کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی اور دھکم پیل جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ پارلیمنٹ کے احاطے میں پیش آئے ہنگامے کے دوران راہل گاندھی کی مبینہ طور پر دھکا دینے کی حرکت کی وجہ سے ان کے دو ارکان پارلیمنٹ زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دونوں زخمی ارکان پارلیمنٹ کو فوری طور پر آر ایم ایل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ارکان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے زخمی ارکان سے فون پر بات کی اور ان کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کیں۔بی جے پی نے راہل گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر پارلیمانی اقدار کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی نے دہلی پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ پارٹی نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ یہ واقعہ پہلے سے ہی کشیدہ پارلیمانی ماحول کو مزید گرم کر رہا ہے۔

    وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، تجارت، سرمایہ کاری پر بات چیت

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

  • راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

    کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ایک بار پھر گوتم اڈانی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف کانگریس تک محدود نہیں بلکہ "انڈیا” اتحاد اس مسئلے پر ایک ساتھ کھڑا ہے اور پارلیمنٹ میں بھی متحد ہوگا۔

    راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گوتم اڈانی کو گرفتار کیا جائے، ان سے تفتیش کی جائے، اور جو لوگ اس سازش میں ملوث ہیں، انہیں بھی پکڑا جائے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آئے گا۔”راہول گاندھی نے مزید کہا کہ امریکہ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ گوتم اڈانی نے بھارتی اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، لیکن حیرت ہے کہ وہ ابھی بھی بھارت میں آزاد گھوم رہے ہیں۔”یہ حیران کن بات ہے کہ اڈانی جیسے شخص نے دونوں ممالک کے قوانین توڑے، پھر بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔”

    راہول گاندھی نے اڈانی کے معاملے میں جے پی سی (جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی) کے قیام کی اپنی پارٹی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے اڈانی کی مبینہ محافظ مدهابی بچ کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اڈانی کو آج ہی گرفتار کیا جائے اور مدهابی بچ، جو اڈانی کی محافظ بنی ہوئی ہیں، کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ جے پی سی کی تشکیل کا ہمارا مطالبہ اپنی جگہ برقرار ہے۔”راہول گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف کانگریس کا نہیں بلکہ پورے اتحاد کا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی تمام جماعتیں اس مسئلے پر متحد ہوں گی۔بھارت میں اڈانی کا کچھ نہیں کیا جا سکتا، چیف منسٹر دس 15 کروڑ میں اندر چلے جاتےہیں اور اڈانی نے دو ہزار کروڑ کا دھوکہ کیا لیکن کچھ نہیں ہو رہا کیونکہ مودی اسکے ساتھ ملا ہوا ہے،اڈانی پاور،مودی پاور پتہ نہیں کون سا چل رہا ہے،دونوں ایک ہیں.

    واضح رہےکہ بھارتی معروف بزنس ٹائیکون، امیر ترین شخصیت گوتم اڈانی، ان کے بھتیجے ساگر اڈانی اور دیگر پر امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی شہر بروکلین، نیویارک میں درج مقدمے میں اڈانی اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی حکومت سے شمسی توانائی کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے دو سو پچاس ملین ڈالر رشوت دی۔

  • مودی سرکارکے 100 دن،خواتین کی عزتیں لٹتی رہیں،معیشت تباہ ،بے روزگاری بڑھ گئی

    مودی سرکارکے 100 دن،خواتین کی عزتیں لٹتی رہیں،معیشت تباہ ،بے روزگاری بڑھ گئی

    بھارتی وزیراعظم مودی کے تیسرے بار وزارت عظمیٰ کے سو دن مکمل ہونے پر کانگریس نے رپورٹ کارڈ جاری کیا ہے جس میں کانگریس نے مودی کو ناکام ترین وزیراعظم قرار دیا اور کہا کہ مودی کے سو دنوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھے،ریلوے تباہ ہوئی، بارشوں سے تباہی ہوئی لیکن مودی سرکار نے ریلیف نہ دیا، مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے ہوئے مودی سرکار کچھ نہ کر سکی، مودی سرکار کے سو دن بھارتی خواتین، نوجوانوں بھر بھاری پڑے ہیں، بے روزگاری،کرپشن میں اضافہ ہوا ہے

    کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے مودی سرکار کے سو دن مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ سو دنوں میں مودی سرکار نے ثابت کر دیا کہ انکے پاس کسی مسئلہ کا نہ حل ہے نہ ویژن،مودی نے انتخابی تشہیر میں سو دنوں کے منصوبوں کا ذکر کیا تھا ایک بھی پورا نہ ہوا، ریلوے تباہ ہو چکی ہے انفراسٹرکچر مخدوش حالت میں ہے، خواتین محفوظ نہیں ، بے روزگاری عروج پر ہے، سو دنوں میں بھارت میں ریلوے کے 38 حادثات ہوئے جن میں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ریل پٹڑی سے نہ اتری ہو،مودی نے جن ایئر پورٹ کا افتتاح کیا ان کی چھتیں بارشوں سے ٹپکتی رہیں،نئی پارلیمنٹ کی عمارت بھی غیر محفوظ ہے وہ بھی بارشی پانی سے محفوظ نہ رہ سکی،ملک میں کئی بڑے پل گرے،چھترپتی شیواجی مہاراج کی مورتی 8 مہینے میں ٹوٹ کر گر گئی

    کانگریس ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جموں کشمیر میں 100 دنوں میں مجاہدین نے 26 بڑے حملے کئے،ان حملوں میں 21 جوانوں کی موت ہوئی، 30 فوجی زخمی ہوئے، 15 شہری بھی مارے گئے، اب زیادہ کاروائیاں جموں میں ہو رہی ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا محفوظ ترین علاقہ ہے، مودی سرکار کے دور میں مجاہدین کے حملےبڑھ چکے ہیں.

    بھارت میں زیادتی کے واقعات پر کانگریس ترجمان کا کہان تھا کہ 100 دنوں میں خواتین کے خلاف 104 مقدمے رپورٹ ہوئے، جو رپورٹ نہ ہوئے وہ الگ ہیں،100 دنوں میں 157 خواتین سامنے آئیں جن کے ساتھ زیادتی ہوئی، 100 دنوں میں لگاتار پرچے بھی لیک ہوتے رہے، نیٹ پیپر لیک ہوا، نیٹ پی جی کا امتحان رد کیا گیا، یو جی نیٹ کا پیپر لیک ہوا ، جوائنٹ سی ایس آئی آر کا پیپر لیک ہوا۔سو دنوں میں‌بھارتی معیشت بھی تباہی کی جانب گامزن رہی، بے روزگاری بڑھی،ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا، سی این جی کی قیمت بڑھائی گئی،

    کانگریس ترجمان نے اس دوران مودی سرکار کے سامنے چار سوال رکھے اور کہا کہ بتایا جائے کہ بی جے پی کا 5 سال کا کوئی ویژن ہے؟پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟سیبی اور اڈانی پر کب بولیں گے؟بدعنوانی، خواتین کے تحفظ، معیشت پر کب بولیں گے؟

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

  • گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں کانگریس رہنما  گرفتار

    گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں کانگریس رہنما گرفتار

    کانگریس لیڈر مفتی مہندی، جنہیں پرینکا گاندھی کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے، کو گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے

    اتر پردیش کے جونپور کے رہنے والے مفتی مہندی نے جھوٹے وعدے کرکے خاتون کو ورغلایا،ملزم نے اپنی نوکرانی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اسے یقین دلایا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے اور وہ اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس نے خاتون کو ساڑھیاں اور جوتے تحفے میں دے کر اپنی طرف راغب کرنے کی بھی کوشش کی۔ خاتون کی عمر 15 سال تھی جب مفتی مہندی نے پہلی بار اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔خاتون نے بتایا کہ ملزم کئی سالوں تک شادی کے جھوٹے وعدے کرتا رہا۔ شادی کے بارے میں پوچھنے پر وہ باتوں کو یکسر ٹال دیتے۔ تاہم، وہ ہر وقت اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا رہا۔

    بعد ازاں کانگریس رہنما نے خاتون کو اور اس کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دینا شروع کر دیں۔،خاتون کا کہنا تھا کہ ملزم نے میری مباشرت کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کی تھیں اور وہ مجھے یہ کہتے ہوئے دھمکی دیتا تھا کہ اگر میں اس کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا تو وہ انہیں وائرل کر دے گا۔ اس نے مجھ سے دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کو بھی کہا،یہ سلسلہ برسوں جاری رہا لیکن 27 اگست کی شام سات بجےخاتون کے مطابق مفتی نے اسے گھر بلایا اور اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا لیکن خاتون نے انکار کردیا۔ اس نے خاتون کو مارا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کیم اس نے خاتون کو دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے پولیس کو کچھ بتایا تو وہ اس کے گھر والوں کو جان سے مار دے گا۔

    سٹی کانگریس صدر وشال سنگھ کے مطابق، مفتی پہلے سٹی کانگریس کے نائب صدر تھے، لیکن انہوں نے 26 مارچ 2022 کو استعفیٰ دے دیا۔ مفتی مہندی کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کئی سالوں سے کانگریس کی پرینکا گاندھی ے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔

    بھارت میں خواتین اب سڑکوں پر بھی غیر محفوظ،ہراسانی کا واقعہ

    بھارت کے ایک اور ہسپتال میں 15 سالہ لڑکی کاریپ

    دوست نے دوست کی 4 سالہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    بھارت،قبرستان بھی محفوظ نہ رہے،قبرستان میں 9 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی

    بھارت میں 70 سالہ خاتون سے 35 سالہ ملزم کی زیادتی

    کمسن طالبہ سے زیادتی کا ملزم پولیس حراست سے فرار ہو کر تالاب میں کود گیا

    بھارت،سکول کے واش روم میں دوچار سالہ بچیوں کے ساتھ زیادتی

  • بھارتی انتخابات،نتائج مکمل،مودی کو وزیراعظم بننے کیلئے اتحادیوں کی مدد درکار

    بھارتی انتخابات،نتائج مکمل،مودی کو وزیراعظم بننے کیلئے اتحادیوں کی مدد درکار

    بھارت میں سات مرحلوں کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، بی جے پی سمیت کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکی، حکومت بنانے کے لئے اتحادیوں کی ضرورت ہو گی،

    نتائج کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 240 نشستوں کے ساتھ سب سے آگےرہی، انڈین نیشنل کانگریس 99 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور سماج وادی پارٹی 37نشستوں کے ساتھ تیسری نمبر پر رہی،آل انڈیا ترینامول کانگریس کزاغم 29 اور تیلگو دیسام 16 اور جنتا دل نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) نے 9 نشستیں اپنے نام کیں۔

    بی جے پی لوک سبھا میں سادہ اکثریت کے لیے درکار 272 نشستیں اکیلے حاصل کرنے میں ناکام رہی، تاہم اتحاد 295 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ سادہ اکثریت کی بنیاد کی حکومت بنالے گا، اس کے برعکس کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد انڈیا نے 231 نشستیں حاصل کرلی ہیں

    بھارت کے سابق حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی میٹنگ آج ہوگی جس میں بی جے پی نریندر مودی کو تیسری بار وزیراعظم نامزد کرانے کی کوشش کرے گی۔ وہیں اپوزیشن اتحاد کا بھی اجلاس ہو گا جس میں اہم فیصلے ہوں گے اب وزیراعظم کا فیصلہ پارلیمان کرے گا ، مودی تیسری بار وزیراعظم بن پائیں گے یا نہیں یہ ایک دو روز میں پتہ لگ جائے گا،

    دہلی میں بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں ایک تقریب کے دوران بے جے پی کی قیادت میں بننے والے اتحادی گروپ ’این ڈی اے‘ نے جیت کا دعویٰ کیا اور اسی تقریب سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ وہ اپنی تیسری مدت میں کرپشن کو جڑ سے ختم کریں گے۔میں اس نعمت کے لیے تمام ہم وطنوں کا مقروض ہوں۔ آج کا دن بہت مبارک ہے۔ اس مبارک دن پر، این ڈی اے کا مسلسل تیسری بار حکومت بنانا یقینی ہے،آج کی جیت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جیت ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین کے ساتھ اٹوٹ وفاداری کی جیت ہے۔ یہ ترقی یافتہ ہندوستان کے وعدے کی جیت ہے۔ یہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس منتر کی جیت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کا نام بھی لیا

    وارانسی سیٹ سے مودی ڈیڑھ لاکھ کی لیڈ سے جیت گئے
    بھارتی وزیراعظم مودی وارانسی کی سیٹ سے الیکشن جیت گئے ہیں، مودی نے چھ لاکھ 12 ہزار 970 ووٹ لئے ہیں،مودی ایک لاکھ 52 ہزار 513 کی لیڈ سے جیتے ہیں، مودی کے مقابلے میں کانگریس کے اجے رائے امیدوار تھے جنہوں نے تقریبا ساڑھے چار لاکھ ووٹ لئے ہیں، مودی 2014 اور 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اسی سیٹ سے جیت کر وزیراعظم بنے تھے۔

    مودی حکومت کے 15 وزیر الیکشن ہار گئے
    اسمرتی ایرانی کو امیٹھی سیٹ سے کانگریس امیدوار کشوری لال شرما سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کیرلہ کی سیٹ پر مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر کانگریس کے ششی تھرور سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کو سماج وادی پارٹی کے اتکرش ورما کے ہاتھوں شکست ہوئی،ریاستی وزیر تعلیم سبھاش سرکار مغربی بنگال بھی ہار گئے۔مرکزی قبائلی امور کے وزیر اور موجودہ ایم پی ارجن منڈا جھارکھنڈ کی سیٹ سے ہار گئے ، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت کیلاش چودھری بھی ہار گئے ہیں۔ مرکزی وزیر ایل مروگن تمل ناڈو سے ہار گئے۔مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نستھ پرمانک کوچ بہار سیٹ پر ہار گئے۔ مرکزی وزیر سنجیو بالیان سماج وادی پارٹی کے ہریندر سنگھ ملک سے 24,000 سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کو بیدر میں کرناٹک کے وزیر ایشور کھنڈرے کے بیٹے ساگر کھنڈرے سے ہار گئے، ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت کوشل کشور سماج وادی پارٹی کے امیدوار آر کے سے ہار گئے۔مرکزی وزیر مہندر ناتھ پانڈے ایس پی کے بیریندر سنگھ سے ہار گئے۔ پنچایتی راج کے وزیر مملکت کپل پاٹل کو بھی شکست ہوئی، وزیر مملکت برائے ریلوے راؤ صاحب دانوے بھی ہار گئے،وزیر مملکت برائے صحت اور خاندانی بہبود بھارتی پوار بھی انتخابات نہ جیت سکے.

    بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، راہول گاندھی
    کانگریس کا کہنا ہے کہ واضح ہے انتخابات میں مینڈیٹ ہمیں ملا ہے ،انتخابی نتائج بی جے پی کی واضح ہار ہے ، عوام نے مودی اور اس کے نظریے کو مسترد کردیا ،راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کا شکر گزار ہوں کہ آئین بچانے کا پہلا قدم اٹھا لیا ہے ، مجھے یقین تھا بھارتی عوام ایک ساتھ کھڑے ہو کر لڑیں گے ،لڑائی آئین کو بچانے کی تھی اور عوام نے مودی کو جواب دے دیا ،مودی کو واضح شکست ہوئی ہے، ہم نے بی جے پی نہیں ریاستی مشینری کے خلاف الیکشن لڑے، خفیہ ایجنسیاں ، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی ،بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، عوام مودی اور ان کے حواریوں کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے،

    بھارتی انتخابات،کروڑ پتی افراد، مقدمات میں نامزد، جیلوں میں گرفتار بھی جیت گئے
    2024 کے بھارتی انتخابات میں ہزاروں امیدواروں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا،کروڑ پتی امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا تو مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد نے بھی قسمت آزمائی۔2573کروڑ پتی امیدوار میدان میں اترے۔ جن میں سے 503 کروڑ پتی کامیابی حاصل کرپائے۔ بھارتی ہدایتکارہ اور اداکارہ ہیمامالنی دو سو اٹھہتر کروڑ روپے کے اثاثوں کی مالکہ ہیں۔4013گریجویٹس امیدواروں میں سے390 امیدوار اپنی نشست لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔2019میں کامیاب ہونے والے لوک سبھا کے ارکان میں سے324نے 2024کے الیکشن میں حصہ لیا جن میں سے212 ممبران اپنی کامیابی کو یقینی بنا پائے۔1643 ایسے امیدواربھی تھے جنہیں مقدمات کا سامنا تھا، جن میں سے کامیاب امیدواروں کی تعداد 250ہے۔آسام جیل میں قید خالصتان تحریک کے رہنما امرت پال سنگھ بھی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کانگریسی رہنما راہول گاندھی کو بھی انیس مقدمات کا سامنا ہے۔

    راہول گاندھی نے اتر پردیش کی نشست رائے بریلی سے تقریبا 4لاکھ کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی وارانسی کی نشست سے جیتے مگر برتری کا مارجن صرف ڈیڑھ لاکھ ووٹ رہا۔ ایودھیا(فیض آباد) جہاں بابری مسجد کو شہید کیا گیا وہاں سے بھی بی جے پی کو بری طرح ناکامی کا سامنا رہا۔ سماج وادی پارٹی کےآودھیش پرساد ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی نے استعفیٰ دے دیا
    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، مودی تیسری بار الیکشن جیتےہیں اور وہ اب تیسری بار وزیراعظم بنیں گے، مودی 8 جون کو تیسری بار وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے، کابینہ کی میٹنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نے صدر کی رہائش گاہ جا کر لوک سبھا تحلیل کرنے کے لیے سفارشی خط پیش کیا۔مودی کا استعفیٰ بھارتی صدر نے منظور کر لیا ہے

    بھارتی انتخابات، مسلمان امیدوار بھی الیکشن جیت گئے
    بھارتی انتخابات میں کم از کم 78 مسلمان امیدوار وں نے الیکشن لڑا،2019 میں بھارتی انتخابات میں 115 مسلمان امیدوار تھے،کئی مسلمان امیدوار جیت چکے ہیں ،سہارنپور سے کانگریس کے امیدوار عمران مسعود جیتے ہیں، کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی نوجوان امیدوار اقرا حسن چودھری نے بی جے پی کے پردیپ کمار کوشکست دی ہے،غازی پور کے افضال انصاری نے سیٹ جیت لی، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حیدر آباد سے سیٹ جیتی،لداخ میں آزاد امیدوار محمد حنیفہ ،عبدالرشید شیخ نے جموں و کشمیر کی بارہمولہ سیٹ سسے کامیابی حاصل کی،نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف احمد نے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے خلاف 281794 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ سری نگر میں این سی امیدوار آغا سید روح اللہ مہدی جیتے ہیں،اتر پردیش میں، سماج وادی پارٹی کے محب اللہ ، سنبھل سے ضیا الرحمان،مغربی بنگال سے یوسف پٹھان، بہار سے محمد جاوید ، کٹیہار میں طارق انور ، دھوبری، آسام میں رقیب الحسین جیت چکے ہیں،

    بھارتی انتخابات میں چار کم عمر امیدوار بھی الیکشن جیت گئے ہیں،چاروں امیدواروں کی عمریں 25 برس ہیں،بھارتی میڈیا کے مطابق پشپیندر سروج، پریا سروج، سنجنا جاٹو اور شمبھاوی چوہدری کی عمریں 25 سال ہیں اور وہ لوک سبھا الیکشن جیت چکے ہیں،پشپیندر سروج، پریا سروج نے سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔ سنجنا جاٹو کو کانگریس اورشمبھاوی چودھری کو لوک جن شکتی پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • بھارتی انتخابات،نتائج آنا شروع،مودی کے بیانیے کو بڑا دھچکا،دوتہائی نہ ملی

    بھارتی انتخابات،نتائج آنا شروع،مودی کے بیانیے کو بڑا دھچکا،دوتہائی نہ ملی

    بھارتی لوک سبھا انتخابات ،نتائج کی آمد جاری ہے، بھارتی وزیراعظم مودی ایک بار پھر وزیراعظم بننے والے ہیں، مودی بھارتی تاریخ میں تیسری بار بھارت کے وزیراعظم بنیں گے،بھارتی عام انتخابات میں مود ی کے بیانیے کو بڑا دھچکا لگا ہے بی جے پی زیادہ نشستیں نہ جیت سکیں ،400 نشستیں لینے کے دعویدار بی جے پی اتحاد کو 300 سے بھی کم سیٹوں پر برتری حاصل ہے، بی جے پی اتحاد کر کے حکومت بنائے گی، کیونکہ اکیلےبی جے پی اب حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے.

    وارانسی سیٹ سے مودی ڈیڑھ لاکھ کی لیڈ سے جیت گئے
    بھارتی وزیراعظم مودی وارانسی کی سیٹ سے الیکشن جیت گئے ہیں، مودی نے چھ لاکھ 12 ہزار 970 ووٹ لئے ہیں،مودی ایک لاکھ 52 ہزار 513 کی لیڈ سے جیتے ہیں، مودی کے مقابلے میں کانگریس کے اجے رائے امیدوار تھے جنہوں نے تقریبا ساڑھے چار لاکھ ووٹ لئے ہیں، مودی 2014 اور 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اسی سیٹ سے جیت کر وزیراعظم بنے تھے۔

    نتیش کمار سے بہتر وزیر اعظم کوئی نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر خالد انور
    مودی وزیراعظم بنیں گے یا نہیں، فیصلہ بہار کے نتیش کمار اور آندھرا پردیش کے چندرا بابو نائیڈو کریں گے۔ نتیشں کی جنتا دل یونائیٹڈ نے 12، نائیڈو کو تیلگو دیشم پارٹی نے 16 سیٹیں جیتی ہیں۔ بی جے پی کو اکثریت کے لئے 272 سیٹیں چاہئے، اسکے بغیر مودی وزیراعظم نہیں بن سکتے،اپوزیشن الائنس نے نتیش کمار کو آفر کی ہے تو مودی بھی ان سے رابطے میں ہیں،وہیں دوسری جانب جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمارکے بارےمیں کہا ہے کہ ” وہ ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں جو ملک کو سمجھتے ہیں اور نتیش کمار سے بہتر وزیر اعظم کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ تمام جمہوری اداروں کا احترام کرتے ہیں ہم ابھی تک این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن پہلے اور آج، لوگ چاہتے تھے کہ نتیش کمار وزیر اعظم ہوں۔ آج کے نتائج کے بعد عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں،جس طرح سے انہوں نے ریاست بہار کو آگے بڑھایا ہے۔ جب وہ وزیر زراعت تھے تو انہوں نے ملک کے لیے جو زرعی روڈ میپ بنایا تھا اس پر آج تک عمل کیا جاتا ہے۔ انکے ملک کے ریلوے سیکٹر کے لیے کیے گئے کام کے لیے بھی یاد کیے جاتے ہیں۔‘‘

    بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، راہول گاندھی
    کانگریس کا کہنا ہے کہ واضح ہے انتخابات میں مینڈیٹ ہمیں ملا ہے ،انتخابی نتائج بی جے پی کی واضح ہار ہے ، عوام نے مودی اور اس کے نظریے کو مسترد کردیا ،راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کا شکر گزار ہوں کہ آئین بچانے کا پہلا قدم اٹھا لیا ہے ، مجھے یقین تھا بھارتی عوام ایک ساتھ کھڑے ہو کر لڑیں گے ،لڑائی آئین کو بچانے کی تھی اور عوام نے مودی کو جواب دے دیا ،مودی کو واضح شکست ہوئی ہے، ہم نے بی جے پی نہیں ریاستی مشینری کے خلاف الیکشن لڑے، خفیہ ایجنسیاں ، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی ،بھارت نے فیصلہ دے دیا مودی نہیں چاہیے، عوام مودی اور ان کے حواریوں کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے،

    بھارت میں سات مرحلوں میں انتخابات ہوئے تھے، سادہ اکثریت کے لئے 543 نشستوں میں سے 272 پر کامیابی درکار ہے۔اب تک کے نتائج کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی سب سے آگے ہے، تا ہم بی جے پی کو ابھی تک 2018 کے انتخابات سے کم نشستیں ملی ہیں ، لوک سبھا کی کل سیٹیں 543 ہیں،انتخابات میں 8360 امیدوارمیدان میں تھے، 28 ریاستوں و 8 مرکز کے زیر انتظام خطوں کی لوک سبھا سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے،بھارتی انتخابات میں ووٹنگ کی مجموعی طور پر شرح 65.14 رہی.بی جے پی کو 239 نشستوں پر برتری حاصل ہے اور بی جے پی اتحاد این ڈی 293 نشستوں پر آگے ہے جب کہ کانگریسی اتحاد انڈیا 233 نشستوں پر آگے ہے اپوزیشن جماعت کانگریس 97 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کو راجھستان میں 11 سیٹیں جاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، راجھستان میں لوک سبھا کی 25 سیٹیں ہیں،2019 میں بی جے پی 24 سیٹیں جیتی تھی لیکن حالیہ انتخابات میں بی جے پی صرف 13 سیٹوں پر آگے ہے،

    کانگریس کے امیدوار راہل گاندھی رائے بریلی سیٹ پر مدمقابل امیدوار سے ابھی تک آگے ہیں،راہل گاندھی 2 لاکھ 18 ہزار ووٹ حاصل کر چکے ہیں اور بی جے پی کے دنیش پرتاپ سنگھ ایک لاکھ 16 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔

    انتخابی نتائج کے اعلان سے قبل بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ، بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں 2000 سے 6000 تک پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے،

    بھارتی انتخابات ،اندرا گاندھی کے قاتل کے بیٹے سربجیت سنگھ خالصہ کو بڑی برتری حاصل
    بھارتی انتخابات میں اندرا گاندھی کے قاتل کے بیٹے سربجیت سنگھ خالصہ کو بڑی برتری حاصل ہوئی ہے، سربجیت سنگھ کو فریدکوٹ نشست پر 48 ہزار ووٹوں سے سبقت حاصل ہے،سابق وزیر لالوپرسادکی بیٹی میسا بھارتی کی پلتی پترا میں 26 ہزار سے زائد ووٹوں سےسبقت ہے

    بھارتی انتخابات،اب تک کے نتائج، بی جے پی اتحاد 293، کانگریس اتحاد کو 233 سیٹوں پر سبقت حاصل
    بی جے پی سورت، جےپور اور کرناٹکا کی نشست سے کامیاب ہو گئی،کانگریس پنجاب کی 2 سیٹوں سے کامیاب ہو گئی ہے، بی جے پی اتحاد این ڈی اے کو 293 نشستوں پر برتری ہے،کانگریس اتحاد کو 233 نشستوں پر سبقت حاصل ہے، مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کو واضح برتری حاصل ہے،کانگریس رہنما راہول گاندھی کو آبائی نشست رائے بریلی اور وایاناڈ میں برتری حاصل ہے،نریندر مودی وارانسی سے کامیابی کے قریب ہیں، رہنما خالصتان تحریک امرت پال سنگھ کھدور پنجاب کی نشست پر آگے ہیں،رہنما خالصتان تحریک امرت پال سنگھ آسام جیل میں قید ہیں ،اداکارہ ہیما مالینی متھورا، کنگنا رناوت ہماچل پردیش کی نشست پر آگے ہیں،اداکار شتروگن سنہا مغربی بنگال اور راج ببر گرو گرام کی نشست پر آگے ہیں.حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہیں

    بھارتی انتخابات، امت شاہ جیت گئے، محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ کو شکست
    لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، گجرات کے گاندھی نگر سیٹ سے امت شاہ کامیاب ہو گئے ہیں، انہوں نے پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں ،مقبوضہ کشمیر کے سابق وزراء اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھارتی انتخابات میں شکست ہو چکی ہے،عمر عبداللہ بارہمولہ اور محبوبہ مفتی اننت ناگ سے ہاری ہیں، عمر عبداللہ کو انجینئر راشد شیخ نے شکست دی ہے، انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں ایک مقدمے میں قید ہیں،محبوبہ مفتی کو نیشنل کانفرنس کے رہنما میاں الطاف نے شکست دی ہے

    آسام،بدرالدین اجمل کو شکست، کانگریس امیدوار جیت گیا
    آسام میں کانگریس امیدوار رقیب الحسین نے اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ بدرالدین اجمل کو شکست دے دی ہے، کانگریس امیدوار نے بدرالدین اجمل کو 6.4 لاکھ ووٹوں سے شکست دی ہے،2019 کے لوک سبھا انتخابات میں دھوبری سیٹ پر بدرالدین اجمل اور کانگریس کے ابو طاہر کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ اس الیکشن میں بدرالدین نے ابو طاہر کو 2 لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی تا ہم اس الیکشن میں بدرالدین اجمل ہار گئے،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • بھارت میں  صاف اور شفاف  انتخابات ایک سوالیہ نشان

    بھارت میں صاف اور شفاف انتخابات ایک سوالیہ نشان

    الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات کو متنازعہ قرار دیا گیا

    ایک طرف مودی سرکار انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشا نہ بنا رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں پر دباؤ ڈال کر جماعت چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے،الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متعدد اپوزیشن امیدواروں پر دباؤ ڈالا گیا جس سے وہ اپنی پارٹی رکنیت سے دستبردار ہوگئے، بہت سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے تا کہ بی جے پی کو اکثریت مل سکے،الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پہلے ہی کانگریس کے امیدوار اور پانچ دیگر کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے تھے،

    پرنس پٹیل نامی بھارتی شہری نے مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ،”میں بی جے پی کو ووٹ دینے کے بجائے کبوتر کو ووٹ دوں، میرے بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہیں” بھو جن ریپبلکن سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار وجے لوہار نے کہا کہ،”مودی سرکار کے تسلط کے باعث اپوزیشن امیدواروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں”بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار ماضی میں بھی متنازعہ حالات میں انتخابی جیت کا اعلان کرتی رہی ہے ،ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ 2014 سے 2019 میں بی جے پی نے گجرات کے حلقے سے تمام سیٹیں جیتیں اور 2019 میں مدھیہ پردیش کے حلقے سے 28 سیٹیں حاصل کیں یہ دھاندلی کی واضح مثال ہے، آزاد امیدوار چوہان نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ،”مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا اور ذہنی طور پر اذیت دی گئی یہاں تک کہ میں نے ہار مان لی”

    گجرات میں مقیم سیاسی تجزیہ کار کے مطابق، "بھارتی انتخابی عمل میں مودی سرکار کی جانب سے دھاندلی بھارتی انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے” مودی سرکار نے انتخابات کی آڑ اور اقتدار کی حوس میں بھارت کے ہر ادارے کو نقصان پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسکی شدید جگ ہنسائی ہوئی،اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین جو دیگر ممالک میں تو انتخابات کے بعد فوری طور پر اپنا ردعمل دیتے ہیں، کیا انہیں بھارت میں ہونے والے متنازعہ انتخابات نظر نہیں آرہے جہاں مودی نے تمام طبقوں کو خو_فز_دہ کرکے جیت حاصل کرنے کی کوشش کی

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • بھارت میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل،ووٹنگ کی شرح 60 فیصد رہی

    بھارت میں انتخابات کا دوسرا مرحلہ مکمل،ووٹنگ کی شرح 60 فیصد رہی

    بھارت میں انتخابات کا سلسلہ جاری ہے، دوسرے مرحلے کے انتخابات گزشتہ روز ہوئے ،لوک سبھا کی 88 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی، پولنگ کا وقت شام چھ بجے تک مقرر تھا،بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کی مجموعی شرح 60 فیصد رہی،

    لوک سبھا انتخاب کے دوسرے مرحلہ میں بھارت کی 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کی 88 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے. لوک سبھا کے انتخابات میں کانگرس رہنما راہول گاندھی، ششی تھرور اور بالی ووڈ کی سابق اداکارہ بی جے پی کی رہنما ہیما مالنی بھی میدان میں ہیں، انتخابات 7 مراحل میں یکم جون تک ہوں گے، بھارت میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان چار جون کو کیا جائے گا۔

    دوسرے مرحلہ کے انتخابات میں کیرالہ کی وائناڈ سیٹ سے راہل گاندھی اور تروونت پورم سے ششی تھرور میدان میں تھے۔ ششی تھرور کا مقابلہ مرکزی وزیر اور بی جے پی امیدوار راجیو چندرشیکھر سے ہے۔ دیگر امیدواروں میں متھرا سے ہیما مالنی، راج نندگاؤں سے بھوپیش بگھیل، بنگلورو دیہی سے ڈی کے سریش اور بنگلورو جنوب سے تیجسوی سوریہ شامل ہیں۔ راجستھان کی کوٹہ سیٹ سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا بی جے پی امیدوار ہیں اور بہار کے پورنیہ سے پپو یادو نے بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑا ہے۔

    مودی گھبرائے ہوئے،چند دنوں میں مودی اسٹیج پر ہی رونے لگ جائیں گے،راہول گاندھی
    کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ ان دنوں مودی اپنی تقریروں میں بہت گھبرائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، شاید اگلے چند دنوں میں اسٹیج پر ہی وہ رونے لگ جائیں گے،مودی 24 گھنٹے آپ سب کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کبھی وہ پاکستان اور چین کی بات کرنے لگ جاتے ہیں تو کبھی وہ آپ کو تالی و تھالی بچانے اور موبائیل کی فیلش لائٹ جلانے کے لیے کہتے ہیں مودی نے پچھلے دس سالوں میں غریبوں سے صرف پیسہ چھینا ہے جتنا پیسہ نریندر مودی نے ارب پتیوں کو دیا ہے، اتنا پیسہ ہم ہندوستان کے غریبوں کو دیں گے۔

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    بھارتی انتخابات،دی گارڈین نے مودی سرکار کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا

    مودی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر بھارتی الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

  • بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، بھارتی انتخابات میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم مغربی بنگال اور منی پور میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق2019 کے پہلے مرحلے کےمقابلے میں اس بار ووٹر کے ٹرن آؤٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

    بھارت میں سات مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 21 ریاستوں کے 102 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے،جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں اتر پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، آسام، مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال اور نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حلقے شامل ہیں،بھارت کے نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے سمیت بیشتر میڈیا اداروں نے بتایا کہ رات نو بجے تک مجموعی طور پر62.37 فیصد ووٹ پول ہوئے،2019 میں پہلے مرحلے میں 69.43 فیصد ووٹ پڑے تھے، بہار میں سب سے کم 48.5 فیصد پولنگ ہوئی،ریاست تمل ناڈو میں جہاں تمام 39 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، 67.2 فیصد پولنگ ہوئی ، 2019 میں 72.4 فیصد ہوئی تھی۔ راجستھان میں 57.3 فیصد ہوئی ،2019 میں 64 فیصد ہوئی تھی،بھارتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.6 فیصد مغربی بنگال میں دیکھاگیا، الیکشن کمیشن کے مطابق بھارت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 97 کروڑ ہے۔ ایوانِ زیریں ،لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 ہے جن پر کامیاب ہونے والے ارکان آئندہ پانچ سال کے لیے منتخب ہوں گے،لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی

    بھارت میں انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ بی جے پی کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے،جس پر پولیس نے مداخلت کی اور دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو منتشر کیا،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اترپردیش میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوئی جس میں ووٹر کا رجحان حکمران جماعت بی جے پی کے لئے اچھا نہیں رہا، بلکہ پریشانی کا باعث بن گیا ،ووٹ ڈالنے کے بعد شہریوں سے جو گفتگو ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ بھارتی شہری اب بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے بھی بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے، ووٹنگ کا رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے یوپی میں اب بی جے پی جو سوچ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہونے والا،اسی ریاست مین بی جے پی لوک سبھاکی اسی میں سے اسی سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی ہے، 2019میں بی جے پی کو لوک سبھا سے 63 اور 2014 میں 73 سیٹیں ملی تھیں اس بار سیٹیں مزید کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ بھارتی عوام بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،

    نوجوانوں کا استحصال،بے روزگاری،کسانوں کی حق تلفی،مودی کیا جیت پائیں گے؟
    بھارتی نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ بی جے پی کو یقین تھا کہ عوام انکو ووٹ دیں گے اور ہر فیصلے کو مانیں گے لیکن اب ایسا نہیں رہا، بھارتی نوجوان بی جے پی پر اعتماد نہیں کر رہے ،کیونکہ مودی سرکار کے دورمیں نوجوانوں کا استحصال کیا گیا، بے روزگاری عروج پر رہی، کسانوں کو حق نہیں ملا، خواتین کو تحفظ نہیں ملا،سہارنپور سے سیاست میں سرگرم نوجوان سندیپ رانا کا دعویٰ ہے کہ جمہوری سیاست میں کسی ایک پارٹی کا حد سے زیادہ پراعتماد ہونا مہلک ہے بی جے پی کو یقین تھا کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو عوام اسے آنکھ بند کر کے قبول کر لیں گے، اب ایسا ممکن نہیں ہے جمہوریت میں سوال اٹھتے ہیں اور حکمران جماعت کو ان کا جواب دینا پڑتا ہے ، سہارنپور میں کانگریس اتحاد کے امیدوار عمران مسعود کو اکثریتی برادری کے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اس میں راجپوت، سینی اور دلت ووٹ شامل ہیں حکومت کے کام کاج سے ناخوش نوجوانوں نے بھی کانگریس امیدوار کو ووٹ دیا ہے پہلے مرحلے میں ان 8 سیٹوں میں سہارنپور کا ووٹنگ فیصد سب سے زیادہ رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم نہیں ہوئے،تاہم راجپوت ووٹر اپنی ناراضگی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں گئے،راجپوت اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی ہے ،مظفر نگر میں کئی طبقے بی جے پی کے سنجیو بالیان کے خلاف کھڑے نظر آئے، ان میں خاص طور پر راجپوت، برہمن اور انتہائی پسماندہ طبقات شامل تھے، انڈیا الائنس کے امیدوار ہریندر ملک یہاں اپنی جیت یقینی سمجھ رہے ہیں

    بھارت میں انتخابات مسلمانوں کے تحفظات
    بھارت میں ہونے انتخابات پر مسلمانوں کے تحفظات کے حوالہ سے الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ نشر کی ہے،رواں ماہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مودی سرکار کی انتہا پسندی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے،الجزیرہ کے مطابق بی جے پی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتے ہوئے ان کے مکانات، مذہبی مقامات کو مسمار کرتے ہوئے روزگار کے حصول کو بھی شدید مشکل بنا دیا، الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے اۤیا کہ انتخابات کو لے کر بھارتی مسلمان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں،بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ "ہم مسلسل ڈرے ہوئے رہتے ہیں”، نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست ملک میں غالب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے،”اگر دوبارہ بی جے پی حکومت اقتدار میں آگئی تو مسلمانوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی”، "پچھلے 10 سالوں سے بھارت میں مسلم آبادی حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے”، "غیر قانونی تجاوزات کی آڑ میں بغیر نوٹس دیئے انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کی رہائش گاہوں کو گرا دیا جاتا ہے”، ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میرا بوتیک دو سال قبل حکومتی احکامات پر گرا دیا گیا”، بھارت میں مسلمان تاجروں کے لئے بھی مودی سرکار نے بے معنی احکامات جاری کیے ،ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ "میری گوشت کی دکان اس لئے بند ہے کیونکہ ابھی نوراتری کا تہوار چل رہا ہے”، "بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر سال نوراتری کے موقعے پر دو بار نو دنوں کے لئے گوشت کی دکانیں بند کرائی جاتی ہیں”، مودی کے زیرِ حکومت حقیقی جمہوریت بھارت میں ناپید ہو چکی ہے جبکہ حکومت کا عوامی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت میں انتخابات سے قبل اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے.

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری