Baaghi TV

Tag: کانگریس

  • بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل،مودی سرکار کیلئے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا، بھارتی انتخابات میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم مغربی بنگال اور منی پور میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق2019 کے پہلے مرحلے کےمقابلے میں اس بار ووٹر کے ٹرن آؤٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

    بھارت میں سات مراحل میں انتخابات ہو رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 21 ریاستوں کے 102 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے،جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں اتر پردیش، تمل ناڈو، اتراکھنڈ، منی پور، میگھالیہ، آسام، مہاراشٹر، راجستھان، مغربی بنگال اور نئی دہلی کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے حلقے شامل ہیں،بھارت کے نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے سمیت بیشتر میڈیا اداروں نے بتایا کہ رات نو بجے تک مجموعی طور پر62.37 فیصد ووٹ پول ہوئے،2019 میں پہلے مرحلے میں 69.43 فیصد ووٹ پڑے تھے، بہار میں سب سے کم 48.5 فیصد پولنگ ہوئی،ریاست تمل ناڈو میں جہاں تمام 39 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، 67.2 فیصد پولنگ ہوئی ، 2019 میں 72.4 فیصد ہوئی تھی۔ راجستھان میں 57.3 فیصد ہوئی ،2019 میں 64 فیصد ہوئی تھی،بھارتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.6 فیصد مغربی بنگال میں دیکھاگیا، الیکشن کمیشن کے مطابق بھارت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 97 کروڑ ہے۔ ایوانِ زیریں ،لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 543 ہے جن پر کامیاب ہونے والے ارکان آئندہ پانچ سال کے لیے منتخب ہوں گے،لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی

    بھارت میں انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں برسراقتدار جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ بی جے پی کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے،جس پر پولیس نے مداخلت کی اور دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو منتشر کیا،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اترپردیش میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوئی جس میں ووٹر کا رجحان حکمران جماعت بی جے پی کے لئے اچھا نہیں رہا، بلکہ پریشانی کا باعث بن گیا ،ووٹ ڈالنے کے بعد شہریوں سے جو گفتگو ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ بھارتی شہری اب بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے بھی بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے، ووٹنگ کا رجحان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے یوپی میں اب بی جے پی جو سوچ رہی ہے ویسا کچھ نہیں ہونے والا،اسی ریاست مین بی جے پی لوک سبھاکی اسی میں سے اسی سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہی ہے، 2019میں بی جے پی کو لوک سبھا سے 63 اور 2014 میں 73 سیٹیں ملی تھیں اس بار سیٹیں مزید کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ بھارتی عوام بی جے پی سے مایوس ہو چکے ہیں،

    نوجوانوں کا استحصال،بے روزگاری،کسانوں کی حق تلفی،مودی کیا جیت پائیں گے؟
    بھارتی نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ہمارے لئے کیا کیا ہے؟ بی جے پی کو یقین تھا کہ عوام انکو ووٹ دیں گے اور ہر فیصلے کو مانیں گے لیکن اب ایسا نہیں رہا، بھارتی نوجوان بی جے پی پر اعتماد نہیں کر رہے ،کیونکہ مودی سرکار کے دورمیں نوجوانوں کا استحصال کیا گیا، بے روزگاری عروج پر رہی، کسانوں کو حق نہیں ملا، خواتین کو تحفظ نہیں ملا،سہارنپور سے سیاست میں سرگرم نوجوان سندیپ رانا کا دعویٰ ہے کہ جمہوری سیاست میں کسی ایک پارٹی کا حد سے زیادہ پراعتماد ہونا مہلک ہے بی جے پی کو یقین تھا کہ اگر وہ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو عوام اسے آنکھ بند کر کے قبول کر لیں گے، اب ایسا ممکن نہیں ہے جمہوریت میں سوال اٹھتے ہیں اور حکمران جماعت کو ان کا جواب دینا پڑتا ہے ، سہارنپور میں کانگریس اتحاد کے امیدوار عمران مسعود کو اکثریتی برادری کے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اس میں راجپوت، سینی اور دلت ووٹ شامل ہیں حکومت کے کام کاج سے ناخوش نوجوانوں نے بھی کانگریس امیدوار کو ووٹ دیا ہے پہلے مرحلے میں ان 8 سیٹوں میں سہارنپور کا ووٹنگ فیصد سب سے زیادہ رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم نہیں ہوئے،تاہم راجپوت ووٹر اپنی ناراضگی کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں گئے،راجپوت اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی ہے ،مظفر نگر میں کئی طبقے بی جے پی کے سنجیو بالیان کے خلاف کھڑے نظر آئے، ان میں خاص طور پر راجپوت، برہمن اور انتہائی پسماندہ طبقات شامل تھے، انڈیا الائنس کے امیدوار ہریندر ملک یہاں اپنی جیت یقینی سمجھ رہے ہیں

    بھارت میں انتخابات مسلمانوں کے تحفظات
    بھارت میں ہونے انتخابات پر مسلمانوں کے تحفظات کے حوالہ سے الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ نشر کی ہے،رواں ماہ بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مودی سرکار کی انتہا پسندی بھی عروج پر پہنچ چکی ہے،الجزیرہ کے مطابق بی جے پی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتے ہوئے ان کے مکانات، مذہبی مقامات کو مسمار کرتے ہوئے روزگار کے حصول کو بھی شدید مشکل بنا دیا، الجزیرہ کی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے اۤیا کہ انتخابات کو لے کر بھارتی مسلمان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں،بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ "ہم مسلسل ڈرے ہوئے رہتے ہیں”، نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست ملک میں غالب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے،”اگر دوبارہ بی جے پی حکومت اقتدار میں آگئی تو مسلمانوں کے لئے بہت مشکل ہو جائے گی”، "پچھلے 10 سالوں سے بھارت میں مسلم آبادی حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے”، "غیر قانونی تجاوزات کی آڑ میں بغیر نوٹس دیئے انتہا پسند مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں کی رہائش گاہوں کو گرا دیا جاتا ہے”، ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میرا بوتیک دو سال قبل حکومتی احکامات پر گرا دیا گیا”، بھارت میں مسلمان تاجروں کے لئے بھی مودی سرکار نے بے معنی احکامات جاری کیے ،ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ "میری گوشت کی دکان اس لئے بند ہے کیونکہ ابھی نوراتری کا تہوار چل رہا ہے”، "بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہر سال نوراتری کے موقعے پر دو بار نو دنوں کے لئے گوشت کی دکانیں بند کرائی جاتی ہیں”، مودی کے زیرِ حکومت حقیقی جمہوریت بھارت میں ناپید ہو چکی ہے جبکہ حکومت کا عوامی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت میں انتخابات سے قبل اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندانہ اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے.

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارت میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں،مدھیہ پردیش، راجستھان، اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کودھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا بلاک کے اندر اقتدار کی تقسیم کی حرکیات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ ان ریاستوں کے نتائج نے نہ صرف کانگریس کو مایوس کیا بلکہ اس کے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں،جو خود کو نظر انداز کر رہے ہیں

    کانگریس کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعاون نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کانگریس کو ناکامی ہوئی،بھارت میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے شراکت داروں نے انتخابات میں جیت کی صورت میں اقتدار کی تقسیم کے حوالہ سے قبل از وقت مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم کانگریس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا،کانگریس وقت سے قبل سودے بازی نہیں کر رہی تھی،بلکہ انکی توجہ انتخابات کے نتائج پر تھی،اتحادیوں کی جانب سے عدم اطمینان اور اقتدار کی تقسیم کو لے کر کانگریس کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

    انتخابات کےبعد اتحادیوں نے کانگریس کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا اشارہ کیا، کانگریس کو حزب اختلاف کی سب سے کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے تین ریاستوں کرناٹک،ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کی یہ کامیابی بعض علاقوں میں پارٹی کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے

    دوسری جانب بھارت میں اس وقت کی حکمران جماعت بی جے پی نے راجھستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، بی جے پی نے 114 اسمبلی حلقے اور تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں،میواڑ، برج، مارواڑ اور ہراوتی جیسے علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔مروجہ رائے یہ ہے کہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی بری رائے سامنے نہیں آئے گی، کانگریس کو امید تھی کہ وزیراعلی گہلوت کی مقبولیت، انکی فلاحی سکیمز کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی ملے گی تا ہم اس کے برعکس نتائج آئے،ووٹرزامن و امان کی صورتحال، کرپشن، خواتین پر مظالم سمیت دیگر اہم مسائل کو دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کانگریس کو نتائج توقع کے برعکس ملے،وزیراعلیٰ گہلوت نے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کہا کہ شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا،ہمارے منصوبے اچھے تھے اور پورے بھارت میں انکا تذکرہ تھا تاہم کامیابی نہیں ملی.

    بھارت میں ان انتخابات کے بعد کانگریس کو ایک مشکل دور کا سامنا ہے، اس لیے اس کی سیاسی حکمت عملی کے از سر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔کانگریس کو ووٹر کے خدشات کو دور کرنا چاہئے اور انکی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ،کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تازہ نقطہ نظر اور تخلیقی حل ناگزیر ہیں۔ کانگریس پارٹی کی انتخابی ناکامیوں نے انڈیا بلاک کے اندر اس کے کردار پر نظر ثانی کرنے پر تحریک دی ہے۔ جیسا کہ اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں،اب کانگریس پارٹی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے، اور اتحاد کے مقاصد میں بامعنی حصہ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کی تعمیر نو کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے۔

  • ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    بھارت میں ریاستی انتخابات میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی تین مرکزی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی جبکہ کانگریس صرف تلنگانہ میں جیت حاصل کرسکی۔

    باغی ٹی وی : مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کرتے ہوئے مخالف کو آسانی سے شکست دی بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں 164 نشستوں حاصل کرکے آگے ہے، بی جے پی کو حکومت بنانے کیلئے 116 سیٹیں درکار ہیں، اسی طرح کانگریس اسمبلی میں 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    بی جے پی چھتیس گڑھ میں 55 سیٹیں حاصل کرچکی ہے جو کہ 90 کے اکثریتی نمبر سے صرف چند ہی قدم دور ہے کانگریس، اس دوران 35 سیٹوں حاصل کرچکی ہے راجستھان میں بی جے پی اس وقت 115 سیٹوں سے آگے ہے جبکہ کانگریس 69 سیٹوں پر ہے جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں کانگریس فی الحال 64 سیٹیں حاصل کرپائی ہے جبکہ بھارتیہ راشٹریہ سمیتھی (بی آر ایس) 40 سیٹوں پر ہے۔

    ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    واضح رہے کہ 2018 میں کانگریس نے تین اہم ریاستی انتخابات راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کامیابی حاصل کی، تین ماہ بعد بی جے پی نے قومی سطح پر اور تینوں ریاستوں میں عام انتخابات میں کلین سویپ کیا، ہندوستان میں ریاستی انتخابات ریاست یا علاقے کے مخصوص خدشات پر لڑے جاتے ہیں، جبکہ عام انتخابات زیادہ قومی سطح کے مسائل کے گرد گھومتے ہیں بی جے پی ریاستی انتخابات میں اکثر ناکام رہی ہے،آج تک، پارٹی نے بھارت کی 28 ریاستوں میں سے 15 پر حکومت کی ہے اور ان میں سے صرف نو پر براہ راست حکومت ہےباقی چھوٹے شراکت دار ساتھ اتحاد میں تھے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • بھارت نے شمسی مشن سورج کی جانب کیا روانہ

    بھارت نے شمسی مشن سورج کی جانب کیا روانہ

    بھارتی نے چندریان تھری چاند پر کامیابی سے اترنے کے بعد سورج کی جانب شمسی مشن آدتیہ ایل ون روانہ کر دیا ہے

    اسرو نے خلائی مشن لانچ کیا ہے، سری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز میں شمسی مشن کی روانگی کے وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے، ادتیہ ایل ون سورج تک پہنچنے میں چار مہینے لگیں گے، یہ زمین نے تقریبا 15 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا

    اسرو کے مطابق شمسی مشن کو زمین سے 1.5 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر لینگریزین پوائنٹ 1 (ایل ون) کے گرد ہالو آربٹ میں داخل کیا جائے گا سیٹلائٹ اور پے لوڈ سورج کے گرد ایک ساتھ گھومتے رہیں گے اور بغیرکسی گرہن کے سورج کا مسلسل مشاہدہ کریں گے، اس سے شمسی سرگرمیوں اورخلائی موسم پران کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے میں مدد ملے گی

    آدتیہ ایل ون کو آج ہفتہ کی صبح 11.50 پر روانہ کیا گیا ، آدتیہ ایل ون کا وزن 1480 کلوگرام ہے، انڈیا سے قبل امریکہ، روس اور یورپی خلائی ایجنسی اس قسم کی تحقیق کے لیے اپنے مشن بھیج چکے ہیں۔

    چندریان کے بعد شمسی مشن کی روانگی پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اسرو کے سائنسدانوں کو مبارکباد دی ہے اور کہا کہ اس کامیابی پر کانگریس خاندان کو فخر ہے

    خلائی ایجادات؛ بھارت بمقابلہ پاکستان

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    بھارت کا خلائی مشن چندریان تھری چاند کے سفر پر روانہ ہ

    مشن کو کامیاب بنانے والے پریشان ہیں کیونکہ انہیں کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملی

    چندریان تھری کے سفر میں کوئی رکارٹ نہیں آئی

  • قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا،امریکی وزیرخزانہ

    قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا،امریکی وزیرخزانہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی: امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو کانگریس کے چار اعلیٰ رہنماؤں کو اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں طلب کیا جب ٹریژری نے خبردار کیا کہ حکومت جون تک اپنے بلوں کی ادائیگی کے لیے نقد رقم کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔

    ہم یقینی طور پرپاکستان کی داخلی یا ملکی سیاست پر کچھ نہیں کہیں گے،امریکا

    امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ کانگریس قرض کی حد بڑھائے یا حد کو معطل کردے دوسری جانب صدر جوبائیڈن امریکا کو دیوالیہ ہونے سے بچانےکے لیے 9 مئی کو اراکین کانگریس سےملاقات کریں گے۔

    ٹریژری سکریٹری جینیٹ ییلن نے کانگریس کو لکھے ایک خط میں کہا کہ ایجنسی کی طرف سے کانگریس کی کارروائی کے بغیر "ممکنہ طور پر یکم جون تک” امریکی حکومت کی تمام ادائیگیوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا امکان نہیں ہوگا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    اس اندازے سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ ایک بے مثال ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا ہے جو عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا، جس سے واشنگٹن میں سیاسی حساب کتاب میں نئی ​​عجلت کا اضافہ ہو گا، جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک مہینوں سے جاری تعطل کے لیے کمر بستہ تھے۔

    بائیڈن نے ریپبلکن ہاؤس کے اسپیکر کیون میکارتھی کو 9 مئی کو وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں مدعو کرنے کے لیےیروشلم میں بلایا، جہاں وہ ایک سفارتی دورے پر ہیں،دونوں رہنما فروری سے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا میں سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

    ہمارےگھر پر ریڈ کسی اندر کے بندے نے کروائی. چوہدری سالک حسین کا دعویٰ

  • نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے پنجاب کے رہنما و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کوجیل سے رہا کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس سدھو کو 34 برس پرانے روڈ ایکسیڈینٹ کے کیس میں ایک برس جیل کی سزا سنائی تھی اس حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا سدھو 10 ماہ سے پٹیالہ کی جیل میں قید تھے تاہم انہیں سزا پوری ہونے سے 2 ماہ قبل ہی آج رہا کردیا گیا۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …


    جیل حکام نے بتایا کہ سدھوکی دو ماہ قبل رہائی جیل میں اچھے برتاؤ کے باعث عمل میں آئی رہائی پر کانگریس کے کارکنوں نے دھول کی تھاپ پر جیل کے باہر رہنما کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 کے روڈ ریج کیس میں سپریم کورٹ نے ایک سال قید کی سزا سنائی تھی روڈ ریج مقدمے میں یہ الزام شامل تھا کہ 27 دسمبر 1988 کو سدھو نے گرنام سنگھ کے سر پر مکّا مارا تھا جس سے ان کی موت ہوئی تھی۔

    پولیس کی طرف قتل قراردی گئی لڑکی 9 سال بعد زندہ لوٹ آئی،قتل کے الزام …

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال مئی میں نوجوت سنگھ سدھو کوایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی بھارتی سپریم کورٹ نےسدھو پر 1000روپے جرمانہ عائد کر کے انہیں رہا کردیا تھا تاہم اس حوالے سے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی جس میں ان کو سزا سنائی گئی تھی۔

    ٹوئٹر میں کمپنیوں سے منسلک اکاؤنٹس کو ویری فائیڈ کرنے کا فیچر متعارف کروا دیا …

  • راہول گاندھی کی نااہلی کیخلاف کانگریس کا ملک گیر دھرنا

    راہول گاندھی کی نااہلی کیخلاف کانگریس کا ملک گیر دھرنا

    بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کی نااہلی کے خلاف کانگریس کا ملک گیر دھرنا جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق دھرنے میں کانگریس کے صدر ملک ارجن کھڑگےاورپارٹی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی بھی موجود ہیں،تمام ریاستوں،ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں گاندھی کے مجسمے کے سامنے 5 بجے تک دھرنا جاری رہے گا، دھرنے کے شرکا کی جانب سے مودی سرکار کے خلاف نعرے بازی بھی کی جارہی ہے۔

    جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،راہول گاندھی

    گزشتہ روز راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے کاروباری اتحادی کے خلاف تحقیقات کے مطالبے کی پاداش میں مجھے پارلیمنٹ سے نکالا گیا جمہوریت کی بقا کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا،میں اس ملک کی جمہوری کے دفاع کے لیے جو بھی کرنا پڑے گا کروں گانریندر مودی کے اہم مخالف کی پارلیمنٹ سے برطرفی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہےجب بھارت کے سب سے طاقتور صنعت کاروں میں سے ایک گوتم اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کےتعلقات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے مجھے نااہل قرار دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی گوتم اڈانی پر آنے والی اگلی تقریر سے خوفزدہ ہیں، میں یہ سوال پوچھتا رہوں گا کہ مسٹر اڈانی کے ساتھ وزیر اعظم کا کیا تعلق ہے؟-

    خالصتان تحریک پراحتجاج،بھارت نے نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کم کردی

    واضح رہے کہ ہتک عزت کیس میں مجرم قرار دیئے جانے کے بعد بھارتی پارلیمنٹ نے راہول گاندھی کو نااہل کیا تھا دوسری جانب عدالت نے راہول گاندھی کو دو سال قید کی سزا سنانے کے فوری بعد ان کی ضمانت بھی منظور کر لی تھی سزا کے 26 گھنٹے بعد جمعہ کو ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی راہول گاندھی کو عدالتی فیصلے کےبعد 24 مارچ کو ان کی پارلیمانی نشست سے ہٹا دیا گیا تھا، 2019 میں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کےدوران کیےگئے تبصرے میں انہیں ہتک عزت کا مجرم قرار پایا گیا تھا جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی توہین کے طور پر دیکھا گیا –

    امریکی ریاست مسی سپی میں تباہ کن طوفان اور بگولہ،23 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا

  • امریکی امداد کو سراہتے ہیں ،شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات

    امریکی امداد کو سراہتے ہیں ،شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی.وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد نے کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکسن لی(Sheila Jackson Lee) کی قیادت میں آج ملاقات کی. کانگریس وومن لی کے علاوہ وفد میں کانگریس مین تھامس سوزی (Thomas Souzzi) اور کانگریس مین آل گرین (Al Green) شامل تھے۔

    باز شریف،امریکی،کانگریس،ملاقات،

    اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کوماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جس میں ترقی پذیر دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے موسمیاتی مالیات (Climate Finance) کی فراہمی بھی شامل ہے.سب سے کم کاربن اخراج کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہےامریکی کانگریس وفد کے دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہم اسے سراہتے ہیں،حکومت ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں میں پوری طرح مصروف ہے.

    وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہےامریکی کانگریس وفد کے دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہم اسے سراہتے ہیں .انہوں نے کہا کہ حکومت ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں میں پوری طرح مصروف ہے۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب سے 33 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں, 1,300 سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور زراعت، مویشیوں، املاک اور اہم انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہوں گے اور اس کے لیے بے پناہ وسائل کی ضرورت ہوگی۔ اس تناظر میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے مسلسل حمایت، یکجہتی اور مدد اہم ہے ۔

    پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے باہمی احترام، اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی دونوں ممالک کے درمیان تعمیری اور پائیدار روابط کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ کاربن کے سب سے کم اخراج کرنے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ ممالک کوماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جس میں ترقی پذیر دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے موسمیاتی مالیات (Climate Finance) کی فراہمی بھی شامل ہے۔

    وزیر اعظم نے امریکہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیلاب سے متعلق امداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے وفد کا دورہ پاکستان میں سپر فلڈ سے ہونے والی تباہی کے پیمانے کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ امداد کو متحرک کرنے میں مدد دے گا۔

    کانگریس کا 3 رکنی وفد 4 سے 6 ستمبر 2022 تک پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ وفد نے صوبہ سندھ کا دورہ کیا تاکہ نقصانات اور انسانی تکالیف کا مشاہدہ کیا جا سکے اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتیں کیں تاکہ بحالی کی کوششوں میں مدد کرنے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔

    کانگریس ویمن لی نے سیلاب متاثرین خصوصاً اپنے پیاروں سے محروم ہونے والوں کے لیے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی قوم اس آفت سے ہمت اور عزم کے ساتھ نمٹے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکی کانگریس اور انتظامیہ اس زبردست چیلنج کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور متاثرہ لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے اور ان کی زندگیوں اور کمیونٹیز کی تعمیر نو میں مدد کے لیے اہم مدد فراہم کرے گی۔

  • حکومت کیخلاف احتجاج،راہول گاندھی گرفتار ہو گئے

    حکومت کیخلاف احتجاج،راہول گاندھی گرفتار ہو گئے

    دہلی:بھارتی اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو بی جے پی کی ایما پر دھرنے کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے گزشتہ روز وجے چوک میں راہول گاندھی اور پارٹی کے کئی دیگر ارکان کو حراست میں لے لیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطبق کانگریس رہنما سونیا گاندھی کی ای ڈی میں پیشی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ راہول گاندھی اور دیگر ارکان نے ایوان صدر جانے کی کوشش کی۔جس کے بعد پولیس نے راہول گاندھی ودیگر ارکان کو گرفتار کر لیا۔

    راہول گاندھی کا کہنا ہے مودی سرکار کی جانب سے تحقیقاتی ایجنسیوں کا مبینہ غلط استعمال کیا جا رہا ہےانہوں نے دیگر کانگریس ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ کے احاطے میں واقع گاندھی کے مجسمے سے وجے چوک کی طرف احتجاجی مارچ نکالا تھا۔

    گرفتاری کے وقت میڈیا سے گفتگو میں راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارت پولیس اسٹیٹ ہے اوروزیراعظم نریندر مودی بادشاہ ہیں۔

    واضح رہے کہ سونیا گاندھی سے نیشنل ہیرالڈ اخبار سے منسلک منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں دوسری بار پوچھ گچھ کی جا رہی تھی، پہلی بار ان سے پوچھ گچھ 21 جولائی کو کی گئی تھی۔

  • امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کی صدر مملکت سے ملاقات

    امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کی صدر مملکت سے ملاقات

    صدر مملکت عارف علوی سے امریکی رکن کانگریس الہان عمر کی ملاقات ہوئی ہے

    صدر ممکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےدونوں ممالک کے درمیان تعمیری روابط خطے میں امن اور ترقی کو فروغ دیں گے، باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے،دو طرفہ تبادلوں سے دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم میں بہتری آئے گی،
    مودی حکومت کی طرف سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مظالم ڈھائے جا رہے ہیں،بھارت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہے،

    صدر مملکت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ آئی ٹی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم شعبہ ہے اور امریکی تاجر اس شعبے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں،

    الہان عمر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید بہتر اور مضبوط کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، انہوں نے اسلاموفوبیا کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا

    امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر پاکستان پہنچ گئی ہیں امریکی کانگریس کی مسلمان رکن الہان عمر کے پاکستان پہنچنے پر دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے امریکا محمد مدثر ٹیپو نے الہان عمر کا استقبال کیا ، الہان عمر آج سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقتں کریں گی، الہان عمر آزاد کشمیر کا دورہ بھی کریں گی الہان عمر لاہور کا دورہ بھی کریں گی

    ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی الہان عمر امریکی کانگریس کی رکن بننے والی پہلی دو مسلمان خواتین میں سے ایک ہیں

    سال 2018 میں ہونے والے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں الہان عمر نے منی سوٹا سے 72 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار نے صرف 22 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے امریکی کے صدارتی انتخابات 2020 میں الہان عمر نے منی سوٹا سے 2 لاکھ51 ہزار820 ووٹ حاصل کیے جو ڈالے گئے ووٹوں کا64.6 فیصد بنتا ہے۔

    الہان عمرکے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے الہان کے خاندان نے 1997 میں منی سوٹا میں رہائش اختیار کی، جہاں صومالی افراد کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ الہان عمر کو امریکہ میں کئی بار امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں قتل کی دھمکیاں بھی دی گئی ڈیموکریٹ پارٹی کی رکن الہان عمر صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور مسلم مخالف بیانات کی سخت مخالف ہیں۔ڈیمو کریٹ امیدوار راشدہ طلائب اور الہان عمر سے قبل کوئی مسلم خاتون کبھی کانگریس سے منتخب نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں خواتین نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات2018 میں پہلی بار کامیابی حاصل کی تھی۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعصبانہ بیانات کی مخالفت کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خلاف شدید ردعمل دینے پر انہیں دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہوئی بھارتی میڈیا اور صیہونیت کے خلاف بیانات دینے پر الہان عمر کو شدید تنقید اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    فلسطین پر حملے،ترکی نے اسرائیل کے خلاف کونسا قدم اٹھا لیا؟

    اسرائیل کی بربریت جاری، شہادتیں 36 ہو گئیں،ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    سعودی عرب سے کتنی مزید امداد ملے گی؟ وزیر خارجہ نے حقیقت بتا ہی دی

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام

    وزیر خارجہ سے فلسطینی سفیر کی ملاقات،فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،قریشی

    ایک طرف انسانیت، دوسری طرف بربریت،مسلم امہ کا امتحان ہے، وزیر خارجہ

    اسرائیلی مظالم اور بربریت کیخلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    سب دیکھتے رہ گئے، فیصل ایدھی بازی لے گئے، فلسطین بارے بڑا اعللان

    مجھے ہراس بچے کے درد کا احساس ہے جوخوف کے مارے بستر میں چھپ جاتا ہے،الہان عمر امریکی صدر پر برس پڑیں