Baaghi TV

Tag: کانگو

  • کانگو:دو مختلف کشتی حادثات میں 193 افراد جاں بحق ، درجنوں لاپتہ

    کانگو:دو مختلف کشتی حادثات میں 193 افراد جاں بحق ، درجنوں لاپتہ

    افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں دو مختلف کشتی حادثات کے نتیجے میں کم از کم 193 افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتہ ہوگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پہلا حادثہ 10 ستمبر کو صوبہ ایکواٹور کے علاقے بسنکسو میں پیش آیا، جہاں ایک موٹرائزڈ کشتی کے الٹنے سے 86 افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد طلبہ کی تھی، حادثے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    دوسرا بڑا حادثہ 11 ستمبر کو دریائے کانگو کے کنارے کولیلا کے مقام پر پیش آیا، جہاں 500 افراد سوار کشتی میں آگ بھڑکنے کے بعد کشتی الٹ گئی اس حادثے میں 107 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد افراد کو زندہ بچا لیا گیا، تاہم اب بھی تقریباً 150 افراد لاپتہ ہیں۔

    وزارتِ انسانی امور کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ کانگو میں کشتی حادثات عام ہیں جن کی بڑی وجہ اوور لوڈنگ اور حفاظتی انتظامات کی کمی بتائی جاتی ہے۔

  • کانگو میں کیتھولک چرچ پر فائرنگ، 21 سے زائد افراد ہلاک،متعدد مکانات اور دکانیں نذر آتش

    کانگو میں کیتھولک چرچ پر فائرنگ، 21 سے زائد افراد ہلاک،متعدد مکانات اور دکانیں نذر آتش

    مشرقی کانگو میں ایک چرچ پر دہشتگرد گروپ کے حملے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے۔

    مشرقی کانگو کے قصبے کومانڈا میں علیحدگی پسند مسلح گروہ الائیڈ ڈیموکریٹک فورس (ADF) کے ارکان نے ایک کیتھولک چرچ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 21 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد مکانات اور دکانیں نذر آتش کر دی گئیں۔

    امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الائیڈ ڈیموکریٹک فورس (اے ڈی ایف) نامی گروپ سے تعلق رکھنے والوں نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے کیتھولک چرچ پر حملہ کیاKomanda کے سول سوسائٹی کو آرڈینیٹر Dieudonne Duranthabo نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ چرچ کے اندر اور باہر 21 سے زائد افراد کو گولیوں سے نشانہ بنایا گیا، ہم نے چند جلی ہوئی لاشوں کو نکالا ہے جبکہ متعدد گھروں کو بھی جلا دیا گیا، مگر ابھی سرچ آپریشن جاری ہے۔

    بہاولنگر:مریضوں کا آپریشن کرنے والے 2 جعلی ڈاکٹرگرفتار

    صوبے میں موجود کانگو فوج کی جانب سے اس حملے میں 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہےکئی شہری اس حملے کے بعد خوف کے باعث علاقے سے بھاگ کر بونیا کی طرف روانہ ہو گئے ہیں،فوجی ترجمان نے بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ آج مسلح افراد نے ایک چرچ پر حملہ کیا جس میں 10 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ کچھ دکانوں کو بھی جلا دیا گیااس گروپ کی جانب سے جولائی کے شروع میں بھی اسی صوبے میں درجنوں افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

    یہ حملہ اے ڈی ایف کی جانب سے رواں ماہ کا دوسرا خونی واقعہ ہے اس سے قبل اسی ماہ صوبہ ایتوری میں اسی گروہ نے درجنوں افراد کو قتل کیا تھا، جسے اقوام متحدہ کے ترجمان نے ”خونی قتل عام“ قرار دیا تھا، یہ دہشت گرد گروپ داعش سے منسلک ہے۔

    کراچی: رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، کالعدم تنظم کے 2ملزمان گرفتار

  • چمگادڑ کھانے کے بعد کانگو میں پراسرار بیماری پھیل گئی، 53 افراد ہلاک

    چمگادڑ کھانے کے بعد کانگو میں پراسرار بیماری پھیل گئی، 53 افراد ہلاک

    شمال مغربی کانگو میں ایک مہلک اور نامعلوم بیماری کے نتیجے میں 50 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق متاثرین علامات شروع ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر اندر ہلاک ہوجاتے ہیں یہ وبا پہلے 21 جنوری کو کانگو کے بولوکو میں شروع ہوئی تھی جو اب تک 419 افراد کو متاثر کر چکی ہے جن میں 53 اموات بھی شامل ہیں، یہ سب اس وقت شروع ہوا جب تین بچوں نے چمگادڑ کھائی تھی اور ہیمرج بخار کی علامات کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر ان کی موت ہوگئی تھی۔

    کانگو میں موجود ڈاکٹروں اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرین میں علامات ظاہر ہونے کے صرف 48 گھنٹوں میں جان کی بازی ہار گئے، یہ ایک تشویشناک پہلو ہے جس نے صحت کے حکام کو جلد سے جلد بیماری کا پتہ لگانے پر مجبور کردیا ہے۔

    بیکورو اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر، سرج نگلیباٹو نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ زیادہ تر معاملات میں علامات کے آغاز اور موت کے درمیان وقفہ صرف 48 گھنٹے رہا ہے اور یہ واقعی پریشان کُن بات ہے، بیماری کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے جس سے ایک اور جان لیوا زونوٹک بیماری کے اندیشے پیدا ہو رہے ہیں، علاوہ ازیں متاثرین سے لیے گئے خون کے تمام نمونے ایبولا، ای موروائرس اور ماربرگ وائرس ٹیسٹ کے حوالے سے منفی آئے ہیں۔

  • کانگو میں 102 مسلح ڈاکوؤں کو پھانسی دے دی گئی

    کانگو میں 102 مسلح ڈاکوؤں کو پھانسی دے دی گئی

    وسطی افریقہ کے ملک کانگو میں 102 مسلح ڈاکوؤں کو قتل، لوٹ مار الزامات میں پھانسی دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق وسطی افریقہ کے ملک کانگو کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ 102 مسلح افراد کو پھانسی دے دی گئی جبکہ 70 مزید افراد کو پھانسی دی جائے گی 18 سے 35 سال کی عمر کے افراد مسلح ڈاکو اور شہری ڈاکو تھے، جنہیں مقامی طور پر کلونا کے نام سے جانا جاتا ہے، جنہیں شمال مغربی کانگو میں اینجینگا جیل میں پھانسی دی گئی دسمبر کے اواخر میں 45 ڈاکو مارے گئے، اور باقی 57 کو پچھلے 48 گھنٹوں کے اندر پھانسی دی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کنشاسا سے مزید 70 افراد کی پرواز اینجینگا پہنچی ہے لیکن حکومت نے قیدیوں کی حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا وزیر انصاف مطمبا، جو پھانسیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، نے اتوار کو دیر گئے کہا کہ ”تیسرے بیچ کو پھانسی دی جائے گی، اس لیے پہلے دو سزائے موت کے ذریعے پھانسی کی پیمائش سے گزر چکے ہیں۔“

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کا حملہ، 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

    کانگو میں سزائے موت کے نفاذ کا حکومتی فیصلہ تفرقہ انگیز ثابت ہوا ہے کچھ لوگوں نے شہروں میں امن و امان کی بحالی کے ایک ذریعہ کے طور پر اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، جب کہ دوسروں کو بدسلوکی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خطرات پر تشویش ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    واضح ر ہے کہ کانگو میں سزائے موت ایک حساس مسئلہ ہے ملک نے اسے 1981 میں ختم کر دیا تھا، لیکن اسے 2006 میں بحال کر دیا گیا تھا آخری پھانسی 2003 میں ہوئی تھی لیکن مارچ 2024 میں کانگو کی حکومت نے پھانسی کی سزا کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم، سزائے موت کو بحال کرنے کا مقصد غدار فوجی اہلکاروں پر لاگو کرنا تھاکانگو میں گزشتہ مئی میں 8 فوجیوں کو میدان جنگ سے بھاگنے پر سزائے موت سنائی گئی اور جولائی میں، 25 فوجیوں کو ایسے ہی جرائم میں سزا سنائی گئی، ان میں سے کسی کو پھانسی دی گئی معلوم نہیں ہے۔

    سیالکوٹ :سفید پوش طبقہ کیلئے گوشت خریدنا خواب بن گیا

  • پراسرار بیماری  وائرل، کورونا کے بعد ایک اور نئی وبا کی شروعات؟

    پراسرار بیماری وائرل، کورونا کے بعد ایک اور نئی وبا کی شروعات؟

    افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو (DRC) میں ایک پراسرار بیماری پھیل رہی ہے، ابھی تک اس بیماری کی تشخیص نہیں ہوسکی ہے لیکن عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تحقیقات میں مدد کے لیے ماہرین کو تعینات کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :کورونا وائرس کی وبا کے بعد اسے ایک اور عالمی وبا کہا جا رہا ہے جس نے آہستہ آہستہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے جس میں کئی افراد کے ہلاک ہونے کو امکان ظاہر کیا گیا ہےاکتوبر کے آخر سے کانگو میں پراسرار بیماری کے تقریباً 400 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، متاثرہ افراد میں زیادہ تر 5 سال سے کم عمر بچے شامل ہیں۔

    ہیلتھ پالیسی کی رپورٹ کے مطابق اس کی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، ناک بہنا، جسم میں درد، سانس لینے میں دشواری اور خون کی کمی شامل ہیں ، اس وقت یہ بیماری صوبہ کوانگو کے ضلع پنزی میں مرکوز ہے، جو دور دراز ہے اور صحت کا غیر معیاری نظام ہے ڈبلیو ایچ او نے تحقیقات میں مدد کے لیے ایک ماہر ٹیم تعینات کر دی ہے۔
    virus
    وزارت صحت نے لوگوں کو بڑے اجتماعات سے گریز کرنے اور صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا ہے۔ وزارت صحت نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک بیماری یا غیر معمولی اموات کی اطلاع دیں، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ملیریا ہو سکتی ہے یا یہ ایک سے زیادہ بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتی ہے، اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ جاری ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسرار بیماری کی علامات میں بخار، سردرد اور کھانسی کے علاوہ خون میں سرخ خلیوں کی کمی نمایاں ہیں،اس بیماری کی جتنی بھی علامات ہیں وہ موت سے کچھ دن قبل مریض میں تیزی سے ظاہر ہوتی ہیں۔

    محققین کی ایک ٹیم اس مرض کے پھیلنے کی وجوہات تلاش کر رہی ہے وہ علاقے میں ملیریا، نمونیا اور خسرہ جیسی عام بیماریوں کو دیکھ رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا انہیں کوئی سراغ مل سکتا ہے مشکل یہ ہے کہ علامات کی بنیاد پر روک تھام یا علاج کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بیشتر طور پر اس طرح کی پراسرار وبا خوفناک ثابت ہوتی ہیں، لیکن یہ عام طور پر اس علاقے میں پہلے سے موجود بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے یہ بیماریاں اس وقت بدتر ہو سکتی ہیں جب لوگ غذائی قلت کا شکار ہوں یا انہیں ویکسین نہ لگائی جاتی ہو۔

    ایک ریسرچ کے مطابق اس پراسرار بیماری کا شکار تقریباً 96.5 فیصد تمام مریضوں نے بخار ہونے کی اطلاع دی ہےاس صورتِ حال کا عالمی ادارہ صحت نے بھی نوٹس لیا ہے چند مریضوں سے لیے گئے نمونے تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اس حوالے سے باضابطہ طور پر کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،کانگو کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دواؤں اور دیگر ساز و سامان کی شدید قلت ہے، دیہی علاقوں میں معقول اور بروقت علاج ممکن نہیں ہو پارہا کیونکہ میڈیکل سپلائیز بروقت نہیں مل پاتیں۔

  • سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم  پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 افراد ہلاک

    سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 افراد ہلاک

    افریقی ملک کانگو میں سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملے میں دو چینی شہریوں سمیت 4 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: کانگو حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک کانگو فوجی اور مقامی ڈرائیور شامل ہے زخمیوں میں سونے کی کان میں کام کرنے والے چینی، مقامی کارکن اور ایک کانگو فوجی شامل ہے حملہ آور گاڑیوں میں موجود سونا بھی لوٹ کرلےگئے، حملہ آور مقامی تھے-

    دوسری جانب عراق میں ہونے والے ٹریفک حادثے میں ایرانی زائرین سمیت 18افراد ہلاک ہوگئے برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ عراق کے شمالی صوبے صلاح الدین میں دو شہروں کو ملانے والی مصروف سڑک پر پیش آیا۔

    شمالی وزیرستان: نامعلوم افراد کی گاڑی پر فائرنگ،ایک شخص جانبحق ، ایک زخمی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینس پہنچ گئی تھی جنہوں نے لاشوں اور زخمیوں کو ریسکیو کیا حادثے کے نتیجے میں 18افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران سے ہے جبکہ 13 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کریں گے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ

    ایک مقامی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑیوں میں سے ایک کا ڈرائیور سو گیا تھا جس کی وجہ سے 18 زندگیاں ضائع ہو گئیں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں افراد عراق میں زیارت کے لیے آتے ہیں جن میں زیادہ تعداد ایران سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہوتی ہے، رواں برس بھی اب تک 2.6 ملین زائرین عراق جا چکے ہیں۔

    حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر چھٹی کا اعلان

  • برطانیہ نے شامی وزیر دفاع اورچیف آف سٹاف پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے شامی وزیر دفاع اورچیف آف سٹاف پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے شام کے وزیر دفاع اور شامی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : "وائس آف امریکا” کے مطابق فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (FCDO) نے کہا کہ پابندیوں کے تحت شام کے وزیر دفاع علی محمود عباس اور شام کے آرمی چیف آف سٹاف عبدالکریم محمود ابراہیم کے اثاثوں کو منجمد کیا جائے گا اور انہیں سفر سے روک دیا جائے گا علی محمود عباس کا شام کی فوج اور مسلح افواج کی قیادت کرنے میں ایک کردار تھا جنہوں نے منظم طریقے سے شہریوں کے خلاف عصمت دری اور جنسی یا صنفی بنیاد پر تشدد کی دیگر اقسام کا استعمال کیا ہے۔

    بورس جانسن پر پارلیمنٹ میں داخلے پرپابندی

    انہوں نے مزید کہا کہ عبد الکریم جو شامی فوج اور مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ ہیں، "ملٹری فورسز کی کمانڈنگ کے ذریعے شامی آبادی پر جبر میں ملوث رہا ہے وہ عصمت دری اور جنسی اور سماجی تشدد کی دیگر اقسام کے منظم استعمال کا سہارا لینے والے فوجی دستوں کو کمانڈ کرکے شامی شہریوں کو دبانے میں ملوث تھا-

    ملائشیا نے بھی بھارتی تیجا طیارے خریدنے سے انکار کر دیا

    مزید برآں برطانیہ نے مشرقی کانگو میں دو باغی رہنماؤں ديزيری ندجوكپا اور ولیم یاکو ٹومبا پر بھی اسی طرح کی پابندی عائد کردی ہے ندجوكپا کوآپریٹو فار ڈیولپمنٹ آف کانگو (CODECO) ملیشیا کے سربراہ ہیں جبکہ یاکو ٹومبا مسلح Mai-mai Yakutumba باغی گروپ کا رہنما ہے۔ کامن ویلتھ آفس نے مزید کہا کہ دونوں گروپوں نے انفرادی اور اجتماعی عصمت دری کا سہارا لیا اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی۔

    ٹائی ٹینک کی سیاحت کیلئےگئی لاپتہ آبدوز کی تلاش تاحال جاری

    جونیئر وزیر خارجہ طارق احمد نے کہا کہ تصادم میں ایک ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد کی دھمکیوں کو روکنا چاہیے اور زندہ بچ جانے والوں کو آگے آنے کے لیے تعاون کرنا چاہیےیہ پابندیاں مجرموں کو ایک واضح اشارہ دیتی ہیں کہ برطانیہ آپ کو آپ کے ہولناک جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گا۔

    امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات

  • کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ

    کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ

    افریقی ملک کانگو میں بارش کے بعد سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے قریب لاپتہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:سی این این کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے مشرقی علاقے میں سیلاب سے کم از کم 176 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ایک علاقائی گورنر نے جمعہ کے روز بتایا کہ صوبے کیوو میں شدید بارش سے اسکول اور اسپتالوں سمیت کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ سیلاب کئی دیہات کو بہا لے گیا۔

    سعودی عرب، دبئی اور مشرق وسطیٰ ممالک میں ہیڈ آفسز میں موجود عہدوں میں 18 …

    امدادی کارکنوں نے مٹی میں دبی لاشوں کو نکالا ساتھ ہی درجنوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 130 سے ​​زائد افراد لاپتہ ہیں۔

    جنوبی کیوو صوبے کے کیووعلاقے میں ہونے والی بارش کی وجہ سے جمعرات کو دریا بہہ گئے، جس سے بشوشو اور نیاموکوبی کے دیہات زیر آب آ گئے جنوبی کیوو کے گورنر تھیو نگوابیڈجے کاسی نے مرنے والوں کی تعداد 176 بتائی اور کہا کہ دیگر ابھی تک لاپتہ ہیں۔

    سول سوسائٹی کے ایک مقامی رکن کیسول مارٹن نے کہا کہ 227 لاشیں ملی ہیں لوگ کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں، اسکول اور ہسپتال بہہ گئے ہیں-

    اوچ شریف :طوفانی آندھی، موسلا دھار بارش سے میلے کے انتظامات متاثر، ٹینٹ، شامیانے اکھڑ …

    ریڈ کراس کے کارکنوں نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد گھر تباہ ہوگئے۔

    جنوبی کیوو میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، جس کی سرحد روانڈا کے ساتھ ملتی ہے۔ رواں ہفتے روانڈا میں بھی شدید بارشوں نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا، جس میں 130 افراد ہلاک اور 500 سے زائد گھر تباہ ہوئے۔

    کانگو میں اسی پیمانے کا آخری واقعہ اکتوبر 2014 میں پیش آیا تھا جب شدید بارشوں نے 700 سے زائد گھر تباہ کر دیے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت 130 سے ​​زائد افراد لاپتہ تھے۔

    بھارتی حکومت نے منی پورمیں قتل عام کیلئے مزید کمانڈوز بھیج دئے،انٹرنیٹ سروس معطل

  • منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگو وائرس کے مریض کی موت ہو گئی ہے، مریض فاطمہ جناح اسپتال میں زیر علاج تھا

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کانگو وائرس سے مرنے والے متاثرہ مریض کا تعلق بلوچستان کے ضلع چمن سے تھا اور مریض فاطمہ جناح اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیر علاج تھا ،انتظامیہ کے مطابق فاطمہ جناح ہسپتال میں کانگو وائرس کا ایک متاثرہ مریض زیر علاج ہے

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں منکی پاکس کے تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں منکی پاکس کے تین کیس سامنے آئے، دوران اسکریننگ مسافروں میں علامات پائی گئیں، مسافروں کی مزید جانچ پڑتال آئسولیشن سینٹرز میں جاری ہے اور تصدیق ہونے پر مسافروں کو ایک سے دو ہفتے تک آئسولیشن سینٹر میں رکھا جائےگا

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

  • سیلاب نے گاؤں کے گاؤں ملیا میٹ کردیئے؛ 141 ہلاکتیں

    سیلاب نے گاؤں کے گاؤں ملیا میٹ کردیئے؛ 141 ہلاکتیں

    کنشاسا: افریقی ملک کانگو میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس میں 141 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جب کہ 10 سے زائد لاپتہ ہیں۔

     

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک کانگو میں بارشوں کے بعد سیلابی ریلہ دارالحکومت کے رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا۔ سیلابی نے ریلے نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔

    زیادہ تر جانی اور مالی نقصان نشیبی علاقوں میں ہوا جہاں سیلابی نے ریلے نے ایک ہزار کے قریب گھر تباہ کردیئے جب کہ کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ سیلابی پانی میں مٹی اور کیچڑ بھی شامل ہوگئی۔ ہائی وے ٹوٹ کر سیلابی ریلے میں بہہ گئی اور گلیاں کیچڑ والے پانی میں ڈوب گئیں۔

    کانگو میں بجلی کی ہائی ٹینشن لائن بازار اور گھروں پر گرگئی، 26 افراد ہلاک

    وزارت صحت کے مطابق امدادی کاموں کے درمیان 120 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جب کہ 50 سے زائد زخمی ہیں اور 14 افراد لاپتہ ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔

    کانگو: سونے کی کان بیٹھنے سے50 افراد ہلاک

    دارالحکومت کا بندرگاہ سے رابطہ کٹ گیا۔ سڑکیں آمد و رفت کے لیے بند کردی گئیں۔ دارالحکومت کو صاف کرنے میں 4 دن لگ سکتے ہیں تب تک معمولات زندگی معطل رہیں گے۔

    پنجاب میں کانگوں وائرس پھیلنے کا خطرہ،محکمہ صحت نے خبردار کر دیا

    تاریخ کے اپنی نوعیت کے ہلاکت خیز سیلاب میں قیمتی جانوں کے نقصان پر ملک بھر میں تین دن سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ بزرگ شہریوں نے عالمی میڈیا کے نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ اپنی زندگی میں ایسی بارشیں اور سیلاب نہیں دیکھا۔