Baaghi TV

Tag: کاکروچ جنتا پارٹی

  • دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا

    دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا

    بھارتی سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد دہلی پولیس نے احتجاجی مقام سے زبردستی اٹھا کر اسپتال منتقل کر دیا ہے، اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک ہوش میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

    سونم وانگچک 28 جون سےبھارت کے امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف بھوک ہڑتال پر تھے اور وہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے، سیکڑوں طلبہ بھی نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شریک تھے،آج دہلی پولیس نے صحت بگڑنے اور ہائی کورٹ کے احکا ما ت کے بعد انہیں ضروری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ کارر وائی کے دوران مظاہرین نے مزاحمت کی جس کے با عث معمولی دھکم پیل ہوئی۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو سونم وانگچک کو زبردستی احتجاجی اسٹیج سے اٹھا کر لے جاتے دیکھا جا سکتا ہےاحتجاج کے منتظم ابھیجیت دپکے نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے 20 روز سے بھوکے کارکن کو گھسیٹ کر وہاں سے ہٹایا۔

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

    بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

    بھارت کے معروف ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ بھوک ہڑتال کے 19 روز مکمل ہونے پر ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث ملک بھر میں تشویش بڑھ گئی ہے –

    59 سالہ وانگچک گزشتہ 19 روز سے صرف نمک ملے پانی پر گزارا کر رہے ہیں ان کے معاونین کے مطابق اس دوران ان کا 9.1 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، وہ شدید جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں اور سہارے کے بغیر کھڑے ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے۔

    دہلی ہائیکورٹ نے جمعرات کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کو ہدایت کی کہ سونم وانگچک کی صحت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی سہولت فراہم کی جائے۔

    سونم وانگچک آن لائن طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی حمایت میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، جو ملک میں تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔،مظاہرین کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ طبی تعلیم میں داخلے کے لیے ہونے والے نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسو خ کیا گیا، جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

    تاہم دھرمیندر پردھان نے کاکروچ جنتا پارٹی اور اس کے حامیوں کو ’انتشار پسند عناصر کی بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت نے اب تک مظاہرین سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں کیے،’سونم سر‘ کے نام سے معروف وانگچک لداخ کی نمایا ں عوامی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور بھارت بھر میں خاصی شہرت رکھتے ہیں انہیں 2018 میں ایشیا کے نوبیل انعام کہلانے والے ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 2009 کی سپر ہٹ بالی ووڈ فلم تھری ایڈیٹس کے مرکزی کردار کی تخلیق بھی ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر کی گئی تھی، جبکہ 2017 میں وہ امیتابھ بچن کے مشہور پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں خصوصی مہمان کے طور پر بھی شریک ہوئے تھے۔

    وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت پر اپوزیشن رہنماؤں، سماجی کارکنوں، ادیبوں، فنکاروں اور موسیقاروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک مشترکہ بیان پر 1,800 سے زائد فنکاروں، ادیبوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے دستخط کرتے ہوئے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس نہ دل ہے اور نہ ہی ضمیر،سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سونم وانگچک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں، ملک کے نوجوانوں کو وانگچک کی اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے، اس لیے وہ صحت یاب ہونے کے بعد نئے جذبے کے ساتھ اپنی جدوجہد دوبارہ شروع کریں۔

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی جذباتی انداز میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، یہی کسی بھوک ہڑتال کا مقصد ہوتا ہے بھارت کو آئندہ طویل جدوجہد کے لیے آپ کی آواز کی ضرورت ہے پارلیمنٹ کا اجلاس پیر سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے، جہاں طلبہ کے مسائل مؤثر انداز میں اٹھائے جا سکتے ہیں، اس لیے وانگچک اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔

    سونم وانگچک نے اب تک اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کیا ہے انہوں نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میں نے جو جدوجہد شروع کی ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں،بدھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں انہیں ساتھیوں کے سہارے چلتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم چند لمحوں بعد وہ ٹانگ میں شدید درد کے باعث کرسی پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔

    وانگچک کی تشویشناک حالت کے بعد دہلی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ انہیں سرکاری اسپتال منتقل کر کے ضرورت پڑ نے پر زبردستی خوراک دی جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے درخواست میں الزام لگایا گیا کہ حکومت سونم وانگچک کیساتھ ایک ’سخت گیر مجرم، دہشت گرد یا ملک دشمن‘ جیسا سلوک کر رہی ہے اور ان کی زندگی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے اور اگر حالت مزید خراب ہوئی تو فوری مداخلت کی جائے گی، عدا لت نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کی جان قیمتی ہے اور حکومت پر لازم ہے کہ اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

    دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی مقام ’جنتر منتر‘ پر جاری احتجاج میں شدید گرمی کے باوجود شرکا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ موسم کی شدت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جا رہی ہے، تاہم سینکڑوں افراد احتجاج میں شریک ہیں اور ان کی سب سے بڑی تشویش سونم وانگچک کی صحت ہے۔

    وانگچک کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹر ستیش لامبا نے بتایا کہ ان کے جسم میں چربی ختم ہونے کے بعد اب پٹھوں کا وزن بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگلے مرحلے میں اگر جسم کے اہم اعضا متاثر ہوئے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج کا آغاز ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اپنے بانی ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں کیا تھا مظاہرین نے جمعرات کو ملک گیر یومِ بھوک ہڑتال منانے کا اعلان کیا، جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

  • ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

    بھارت میں سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اب باقاعدہ ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔

    امرتسر میں تعلیمی نظام کے خلاف ایک بڑے عوامی اجتماع کے بعد’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی اس بڑی نئی تنظیم نے اب بنگلورو اور جے پور میں بڑے پیما نے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ باقاعدہ بیانات کے مطابق حامیوں اور عام شہریوں کو 14 جون کو بنگلورو اور 15 جون کو جے پور میں ہونے والے پُرامن احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے،ان مظاہروں کا مقصد عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امرتسر گیٹ پر ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا،اس تحریک کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب نامور بھارتی اداکار، فلم ڈائریکٹر اور سماجی کارکن پرکا ش راج نے بنگلورو میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خود شرکت کرنے کی تصدیق کی۔

    ابتدا میں یہ مہم صرف حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے ایک طنزیہ آن لائن ٹرینڈ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی جوابدہی جیسے سنجیدہ مطالبات پر مبنی ایک وسیع قومی تحریک بن چکی ہے۔

    گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک جج سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر بعض احتجاج کرنے والے بے روزگار نوجوا نو ں کے لیے ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا بھارتی نوجو انوں نے اس توہین آمیز لفظ کو ایک گالی کے طور پر لینے کے بجائے اسے اپنی ‘مزاحمت اور استقامت’ کی علامت بنا لیا۔

    ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ سخت ترین حالات اور ہر قسم کے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح معاشی بدحالی اور بے روز گاری کے باوجود بھارت کا غریب اور مڈل کلاس نوجوان بھی حکومتی بے حسی کے خلاف ڈٹا رہے گا، تعلیمی نظام میں خرابیوں اور حالیہ امتحانی سکینڈلز کی وجہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اس تحریک کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج،نئی دہلی میں سخت سیکیورٹی

    ڈیجیٹل یوتھ موومنٹ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے کی بھارت آمد اور مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دہلی پولیس نے شہر بھر میں خصوصاً جنتر منتر کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی ہے۔

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک کے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف پُرامن احتجاج ہونے جا رہا ہے جس کی قیادت کرنے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے بھی بھارت پہنچ چکے ہیں

    رائٹرز کے مطابق بھارت کی وائرل نوجوان تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے اور انہوں نے جنتر منتر کے مقا م پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کی، یہ پہلا موقع ہے کہ اس آن لائن تحریک نے اپنی بڑی ڈیجیٹل موجودگی کو منظم عوامی احتجاج میں تبدیل کیا ہے۔

    ابھیجیت دیپکے جو گزشتہ 2 برس سے امریکا میں مقیم تھے، نے پہلے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے احتجاج کے دوران دارا لحکومت کے حساس علاقے جنتر منتر کے اطراف سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور پولیس نے کئی سڑکیں بند کر دیں، جبکہ مظاہرین نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے میں نعرے بازی کی۔

    بھارتی پولیس حکام کے مطابق مرکزی دہلی اور جنتر منتر کے گرد ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اہم مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں احتجاجی مقام تک پہنچنے والے تمام مرکزی راستوں پر کئی سطحوں پر بھاری بیریکیڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کے داخلے کو منظم اور کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینئر پولیس افسران مقام کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ممکنہ ہجوم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا رہی ہے،دہلی پولیس نے سیکیورٹی اقدامات کے تحت ڈرون یونٹس بھی تعینات کر رکھے ہیں جو نئی دہلی میں ہجوم کی تعداد، طلبہ کے اجتما عات اور نقل و حرکت کے انداز کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے عہدیداروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے تمام طلبہ حامیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر پرامن رہیں، کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، قومی پرچم (ترنگا) اپنے ساتھ رکھیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کریں۔

    حکومت کی جانب سے اس تحریک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کیا جا چکا ہے، جس پر تنظیم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے اس گروپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مخالف عناصر سے رابطے رکھتا ہے، تاہم تحریک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

    یہ تحریک مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کر چکی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور معاشی دباؤ جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے وزیرِاعظم مودی کی سیاسی شبیہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ حکمران جماعت حالیہ ریاستی انتخابات میں کامیاب رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ بھی نوجوان طبقے میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 40 کروڑ افراد موجود ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کی فراہمی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بھارت واپسی اوراحتجاج کا اعلان

    کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بھارت واپسی اوراحتجاج کا اعلان

    کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو امریکا سے بھارت واپس آ کر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے نئی دہلی کے جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کریں گے۔

    ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ملک واپس آ کر ان طلبہ کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں جو مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات اور مسائل سے متاثر ہوئے ہیں انہوں نے خاص طور پر ”نِیٹ“ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے لاکھوں طلبہ کی محنت متاثر ہوئی اور کئی طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اس بڑے بحران کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں اگر شہری متحد ہو کر اپنی بات رکھیں تو حکومت کو ان کی آواز سننی پڑے گی، نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحا نات سے وابستہ ایک کروڑ سے زائد طلبہ نظام کی ناکامیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان حالات نے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بے چینی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہےان مسائل کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟دپکے نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں اور احتجاج میں شرکت کریں اگر اتنے بڑے تنازعات کے باوجود وزیر تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو اس سے نظام میں جوابدہی کے فقدان کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

    اپنے مجوزہ دورۂ دہلی کی تفصیلات بتاتے ہوئے دپکے نے کہا کہ وہ 6 جون کی صبح دہلی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کریں، جس کے بعد وہ سب مل کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں گے اور جنتر منتر پر پرامن احتجاج کی اجازت طلب کریں گےتحریک مکمل طور پر پرامن ہوگی اور اس کا مقصد جمہوری اور آئینی طریقوں کے ذریعے اپنے تحفظات کو اجاگر کرنا ہے بھارتی آئین شہریوں کو پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرنے کا حق دیتا ہے اور وہ اسی حق کے تحت احتجاج کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ ہے کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ امید رکھتے ہیں کہ ملک کے جمہو ر ی نظام میں انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے گی دپکے نے خود کو مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر، بھگت سنگھ اور جواہر لال نہرو کے نظریات کا حا می قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی آئین اور جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتے ہیں خوف کے ماحول میں ہمیشہ نہیں جیا جا سکتا اور ملک تمام شہریوں کا ہے نوجو انوں کے مستقبل سے جڑے مسائل پر خامو ش رہنے کے بجائے پرامن اور جمہوری انداز میں آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    دپکے نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہیں امریکہ میں متعدد ملازمتوں کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن انہوں نے انہیں قبول کرنے کے بجائے بھار ت واپس آنے کا فیصلہ کیا وہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیےکچھ کرناچاہتے ہیں کیونکہ جو کچھ وہ آج ہیں، وہ اپنے ملک کی بدولت ہیں-

    واضح رہے کہ ابھجیت دپکے گزشتہ کچھ عرصے سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، خاص طور پر نیٹ یو جی 2026 امتحان کی منسوخی کے بعد، جسے مبینہ پرچہ لیک کے الزامات کے باعث منسوخ کیا گیا تھا یہ امتحان اب 21 جون 2026 کو دوبارہ مقرر کیا گیا ہے تاہم حکومت یا وزیر تعلیم کی جانب سے دپکے کے تازہ مطالبات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ سی جے پی کے قیام کے بعد یہ دپکے کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جبکہ ان کی جماعت کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تنازع  شدت اختیار کر گیا

    بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تنازع شدت اختیار کر گیا

    بھارتی کامیڈین اور اداکار ویر داس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مبینہ کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’انتہائی احمقانہ اقدام‘ قرار دیا ہے-

    بھارتی اداکار اور کامیڈین ویر داس نے’کاکروچ جنتا پارٹی‘(CJP) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بند کرنے کی کوشش نے دراصل اس تحریک کو مزید تقویت دی ہے۔

    ویر داس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا کہ تنظیم اور ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک یا معطل کر دیا گیا ہے۔

    ویر داس نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ الگ بحث ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی ایک حقیقی تحریک ہے یا نہیں، وقت اس کا فیصلہ کرے گا، لیکن جس طرح نوجوانوں نے اس بیانیے کو پذیرائی دی اور جو ردعمل سامنے آیا، وہ مکمل طور پر حقیقی تھا،اگر یہ سب کافی نہ تھا تو ان کے اکاؤ نٹس بند کرنے جیسا انتہائی احمقانہ اقدام دراصل اس تحریک کو مزید جائز حیثیت دے گیا۔

    اس سے قبل ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے انسٹاگرام پیج ہیک کر لیا گیا، میرا ذاتی انسٹاگرام بھی ہیک ہوا، ایکس اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا جبکہ بیک اپ اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیادیپکے نے عوام سے اپیل کی کہ ان اکاؤنٹس سے کی جانے والی کسی بھی پوسٹ پر اعتبار نہ کیا جائے کیونکہ ان کی ٹیم کو فی الحال اپنے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل نہیں۔

    چند روز قبل دیپکے نے ایک اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا تھا، جس میں دکھایا گیا کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں قانونی درخواست کے تحت معطل کیا گیا،اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ویر داس نے لکھا تھا، ’یہ مکمل طور پر اسٹریسینڈ ایفیکٹ جیسا لگ رہا ہے،( ’اسٹریسینڈ ایفیکٹ‘ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب کسی معلومات کو دبانے یا سنسر کرنے کی کوشش الٹا اسے مزید مقبول بنا دیتی ہے)۔

    دوسری جانب پی جے پی رہنما راجیو چندر شیکھر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ کا سوشل میڈیا ٹرینڈ دراصل ایک منظم سرحد پار اثرانداز مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو نشانہ بنانا اور بھارت میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس مہم کو سوشل میڈیا پر بوٹس اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے ’سوشل میڈیا، بوٹس اور ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والی اے آئی کے دور میں جعلی مگر بظاہر قدرتی بیانیے تخلیق کیے جا سکتے ہیں تاکہ معاشروں کو کمزور کیا جا سکے، بھارت کی ترقی اور جدیدیت بعض بیرونی قوتوں اور مفاد پرست عناصر کو قبول نہیں۔

    ادھر کانگرس رہنما دیپیندر سنگھ ہودا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی ‘ سے منسلک اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کرے اور اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں، یہ آن لائن تحریک نوجوانوں کے غصے اور حکومتی نظام سے بڑھتی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس تحریک کو اپنے مفاد کے لیے استعما ل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے تحریک کی اصل روح متاثر ہو سکتی ہے۔

  • بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پرنئی سیاسی تحریک’کاکروچ جنتا پارٹی‘

    بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پرنئی سیاسی تحریک’کاکروچ جنتا پارٹی‘

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک سامنے آگئی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا تھا کہ کچھ نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار نہیں ملتا، پھر وہ سماجی ذرائع ابلاغ، صحافت یا سرگرم کارکن بن کر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی طرف۔

    تاہم ان ریمارکس پر بالخصوص نوجوان نسل میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی تقسیم پہلے ہی بڑے مسائل سمجھے جا رہے ہیں،30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟‘ بعد ازاں انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات قائم کر دیے۔

    شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں

    رپورٹ کے مطابق 3 روز میں اس تحریک کے لاکھوں حمایتی سامنے آئے، جبکہ ہزاروں افراد نے رکنیت فارم بھی پُر کیے اس طنزیہ جماعت کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی طرزِ سیاست، ذرائع ابلاغ کے کردار اور عدالتی تقرریوں جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے،ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ طویل عرصے سے خاموش تھے، مگر اب نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پنجابی گلوکارہ شادی سے انکار پر قتل ، لاش نہر سے برآمد