Baaghi TV

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بنگلورو اور جے پور میں بھی بڑے احتجاج کا اعلان

india

بھارت میں سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے اب باقاعدہ ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔

امرتسر میں تعلیمی نظام کے خلاف ایک بڑے عوامی اجتماع کے بعد’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی اس بڑی نئی تنظیم نے اب بنگلورو اور جے پور میں بڑے پیما نے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔

تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ باقاعدہ بیانات کے مطابق حامیوں اور عام شہریوں کو 14 جون کو بنگلورو اور 15 جون کو جے پور میں ہونے والے پُرامن احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے،ان مظاہروں کا مقصد عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امرتسر گیٹ پر ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا،اس تحریک کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب نامور بھارتی اداکار، فلم ڈائریکٹر اور سماجی کارکن پرکا ش راج نے بنگلورو میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خود شرکت کرنے کی تصدیق کی۔

ابتدا میں یہ مہم صرف حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے ایک طنزیہ آن لائن ٹرینڈ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی جوابدہی جیسے سنجیدہ مطالبات پر مبنی ایک وسیع قومی تحریک بن چکی ہے۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک جج سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر بعض احتجاج کرنے والے بے روزگار نوجوا نو ں کے لیے ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا بھارتی نوجو انوں نے اس توہین آمیز لفظ کو ایک گالی کے طور پر لینے کے بجائے اسے اپنی ‘مزاحمت اور استقامت’ کی علامت بنا لیا۔

ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ سخت ترین حالات اور ہر قسم کے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح معاشی بدحالی اور بے روز گاری کے باوجود بھارت کا غریب اور مڈل کلاس نوجوان بھی حکومتی بے حسی کے خلاف ڈٹا رہے گا، تعلیمی نظام میں خرابیوں اور حالیہ امتحانی سکینڈلز کی وجہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اس تحریک کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔

More posts