Baaghi TV

Tag: کراچی یونیورسٹی

  • چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے طلبا کے لیے لباس سے متعلق نئی گائیڈلائنز جاری کر دی ہیں۔

    اس ضمن میں ایک نوٹفکیشن جاری کیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبا کو جسم کو ظاہر کرنے والے، اشتعال انگیز یا نفرت پھیلانے والے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طلبا کو صاف ستھرے اور مہذب لباس پہننا ضروری ہے، جو یونیورسٹی کے ماحول کے مطابق ہو۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ طلبا چھوٹی آستینوں والے، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں۔ اس کے علاوہ، قابل اعتراض پرنٹ یا گرافکس والے کپڑوں کو بھی یونیورسٹی میں پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔یونیورسٹی کے اس نئے ضابطہ اخلاق میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ طلبا کو عام چپلیں پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے، تاکہ کیمپس میں ایک باوقار اور مناسب ماحول قائم رکھا جا سکے۔

    یہ اقدام جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کی ثقافتی اور تعلیمی اقدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ طلبا اپنے تعلیمی ماحول میں بہتر طور پر توجہ مرکوز کر سکیں اور ان کی ظاہری حالت سے کسی بھی قسم کی منفی تاثرات نہ پیدا ہوں۔یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبا سے اس گائیڈلائنز کی پیروی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کیمپس میں ایک مثبت اور پروفیشنل ماحول قائم رکھا جا سکے۔

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • لائیو اسٹاک سندھ جامعہ کراچی میں لیبارٹری قائم کریگا

    لائیو اسٹاک سندھ جامعہ کراچی میں لیبارٹری قائم کریگا

    محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز، حکومتِ سندھ نے جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علومکے باہمی تعاون سے مویشیوں کی افزائش میں ترقی کے لیے ایک لیبارٹری قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیے گئے اس منصوبے کے تحت جینیاتی انتخاب کے ذریعے مویشیوں کی اقسام کو بہتر بنانے کے لیے جینومکس کا استعمال کیا جائے گا، جس سے مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔یہ فیصلہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ جامعہ کراچی میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیرِ اعلی سندھ کے مشیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سید نجمی عالم، سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ڈی جی لائیو اسٹاک ڈاکٹر نظیر حسین کھولڑو، آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹرفرزانہ شاہین، سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی اور پروفیسرامریطس ڈاکٹر عطا الرحمن اور سینئر ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منصور نے شرکت کی۔اس اجلاس کے دیگر شرکا میں سندھ حکومت سے ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو، ڈاکٹر عبداللہ سیتھر، بین الاقوامی مرکز سے پروفیسر ڈاکٹر عابد علی، پروفیسر ڈاکٹر سید غلام مشرف، پروفیسر ڈاکٹر شبانہ سمجی، پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم، پروفیسر ڈاکٹر ظہیر الحق، ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈاکٹر عمران ملک، ڈاکٹر شکیل احمد و دیگر شامل تھے۔اجلاس میں سید نجمی عالم نے کہا کہ غذائی تحفظ کے لیے نسل کی بہتری پر زور دینے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا اس تعاون کا مقصد آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے فریم ورک میں ویٹنری ادویات، ویکسین اور متعدی امراض کی نگرانی کے معیار کی یقین دہانی کو شامل کرنا ہے۔
    ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی نے آئی سی سی بی ایس کے ایس ایف ڈی ایل کے اعلی معیار کو سراہا جو صحت کے مسائل کے لیے سستا اور موثر حل فراہم کرتا ہے۔پروفیسر عطا الرحمن نے ادارے کی کارکردگی پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی، انھوں نے کہا سندھ حکومت اور تحقیقی ادارے کے درمیان موثر شراکت موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی کامیابی اور ترقی ادارے کے تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے۔
    پروفیسر شاہد منصور نے اجلاس میں تجویز پیش کی کہ نسل کی شناخت اور انتخاب کو بہتر بنانے کے لیے سندھ لیبارٹری برائے لائیو اسٹاک جینومکس قائم کی جائے۔اجلاس کے دوران لیبارٹری کے قیام کے لیے مفاہمت کی یاد داشت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ویٹرنری دوائیوں کے معیار کی یقین دہانی اور ایک ون ہیلتھ لیبارٹری کے قیام کے لیے مزید ایم او یو کی بھی منصوبہ بندی کی گئی جس کا مقصد جراثیم کی جینومکس پر توجہ مرکوز کرنا ہے، وفد نے آئی سی سی بی ایس کی مختلف تحقیقی سہولیات کا دورہ کیا اور سندھ میں تحقیق، صحت اور زراعت کے شعبوں میں مرکز کی خدمات کو سراہا۔ آئی سی سی بی ایس کو علاقائی ترقی کے لیے ایک اہم اثاثے کے طور تسلیم کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا اجلاس، بڑے فیصلے

    سندھ حکومت کا جعلی نمبر پلیٹ اور کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون

    ایم کیو ایم کے دفتر میں مسٹر یونیورس رمیز ابراہیم کی آمد،سید مصطفی کمال سے ملاقات

    جے یو آئی کی 16 نومبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی،علامہ راشد محمود

  • جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیم کی جانب سے اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل پر چھٹے روز بھی شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ جامعہ میں بھاری فیسیں، پوائنٹس کی کمی، اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کیا گیا۔

    طلباوطلبات نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے ساتھ وی سی آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور شدید نعرے بازی کی، طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے مذاکرات کیے جو کہ جزوی طور پر قبول کیے گئے جبکہ طلبہ تنظیم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کل جامعہ میں سرکاری دفاتر کے کام بند کرنے کی دھمکی دے دی۔اسلامی جمعیت طلبہ اور طلبہ الائنس جامعہ کراچی کی جانب سے طلباوطلبات نے چھٹے روز بھی وی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی، اس سے قبل طلبہ نے احتجاج کے دوران پوائنٹس روک دیے جس سے طلباوطلبات کو پریشانی کا سامنا ہوا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے واپسی کے پوائنٹس کا آپریشن روک دیا جس کی وجہ سے طلبہ اپنے طور پر گھر پہنچے، مظاہرین کا کہنا تھا اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے، ہاتھوں میں کلاسز کی ابتر صورتحال اور بھاری فیسوں کے خلاف بینرز اٹھا کر مظاہرین نے نعرے لگائے۔

    طلبہ رہنماؤں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ وائس چانسلر کو پیش کیا مذاکرات کے بعد طلبہ تنظیم نے اپنا موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جزوی طور پر مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیٹ فیس میں پچاس فیصد اضافے والا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے ، مسئلے کا حل دینے کے بجائے حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔آج جامعہ کراچی کی کینٹینز بند کی ہیں کل جامعہ کراچی کی ورکنگ نہیں ہونے دیں گے، انتظامیہ ہمیں مجبور نہ کرے جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ہم سراپا احتجاج رہیں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیٹ فیس میں پچاس فیصد کا اضافہ سمیت امتحانات کی فیس کو فی الفور ختم کیا جائے، ری ایڈمیشن کے نام پر طلبہ سے پانچ ہزار روپے لیے جا رہے ہیں اس عمل کو ختم کیا جائے اور خستہ حال پوائنٹس کی فل فور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے۔

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

  • جرمن سائنسدانوں کے وفد کا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا دورہ

    جرمن سائنسدانوں کے وفد کا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا دورہ

    جرمنی کے سائنسدانوں پر مشتمل تین رکنی وفد نے یونیورسٹی ہاسپٹل آف ٹیوبنجن جرمنی کے معروف سائینسدان پروفیسرڈاکٹر تھامس اِفنر کی سربراہی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور ادارے کے انفرااسٹرکچر اور یہاں کی سائینسی اور تحقیقی سرگرمیوں کی تعریف کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر فرزانہ شاہین نے بین الاقوامی مرکز کے دیگر آفیشل کے ہمراہ جرمنی کے سائینسدانوں کی ادارے میں آمد کا خیر مقدم کیا۔ جرمنی کے سائینسدانوں کے وفد میں پروفیسر تھامس اِفنرکے علاوہ پروفیسرڈاکٹر ڈینیل ساوٹر اور ڈاکٹر سنبلا شیخ بھی شامل تھے۔انٹر نیشنل پروگرام کی کوارڈینیٹرپروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم اور ڈاکٹر اقبال قریشی نے اس دورے کو منظم کیا۔جرمنی کے سائینسدانوں کے دورے کا مقصد آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی کا حصول اور تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ بعد ازاں پروفیسر تھامس اِفنر نے وفد کے ہمراہ پروفیسر فرزانہ شاہین کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پروفیسر فرزانہ شاہین نے ایک پریزینٹیشن کے دوران آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں ہونے والے سائینسی اور تحقیقی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
    اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کے اسٹاف اورڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ,جامعہ کراچی کے فیکلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں گفتگو کے دوران پروفیسر فرزانہ شاہین نے وائرولوجی کے میدان میں تعاون کے ممکنہ عنوانات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا وائرس اور پھیلے ہوئے وائرل انفکیشن سے متعلق تازہ ترین معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ رہنامقامی اور وبائی امراض کے دوران وائرل کے پھیلاو کو روکنے کے لیے اہم ہے۔انھوں نے جرمن سائینسدانوں کو بتایا کہ وبائی امراض سے متعلق مختلف باہمی تعاون کے منصوبے جاری ہیں اور جلد ہی نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ پروفیسر فرزانہ شاہین نے آئی سی سی بی ایس اور بالخصوص نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی کی ترقی میں پروفیسر تھامس افنر کے تعاون کو سراہا۔ جرمن ماہرین نے تحقیقی مرکز میں تحقیق کے معیار کو بلند کرنے کے لے قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔فیکلٹی ممبران اور طالبِ علموں سے ملاقاتوں کے علاوہ جرمن ماہرین نے بین الاقوامی مرکز کے دیگر سائینسی و تحقیقی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ پروفیسرڈاکٹر ڈینیل ساوٹر نے پریون امراض، ابھرتے ہوئے وائرسوں کی ابتدااور ارتقا پرکلیدی لیکچر دیے جس میں پاکستانی محققین نے بے حد دلچسپی کا اظہار کیا۔

    میئر کے انتخاب کیخلاف درخواستوں کی سماعت پر 18اکتوبر تک ملتوی

    رینجرز اور کسٹمز کی مشترکہ چیکنگ، بھاری تعداد میں گٹکا ماوا اور سفینہ گٹکا برآمد

  • کراچی یونیورسٹی، گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش،خوف و ہراس

    کراچی یونیورسٹی، گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش،خوف و ہراس

    کراچی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں نامعلوم افراد کے داخلے کی کوشش، طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا، طالبات کا احتجاج،رات بھر خوف کے مارے سو نہ سکیں

    جامعہ کراچی کے گرلز ھاسٹل میں گزشتہ رات، تقریباً 3:45 بجے، ایک پریشان کن واقعہ پیش آیا، کاریڈور میں زور دار دستکوں کا ایک سلسلہ گونجتا رہا جس سے سب طالبات نیند سے بیدار ہو گئیں،طالبات کے مطابق ایسا لگا جیسے کچھ لوگ اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے ہوں،خوف اور بے یقینی نے پورے ہاسٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ہم سب کو رات بھر نیند نہیں آئی۔ اس واقعے نے ہمیں اپنی حفاظت اور سلامتی کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے

    طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ سے جوابدہی مانگتے ہوئے کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا- ہاسٹل کے احاطے میں سی سی ٹی وی ناکارہ ہے، کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ ہونے والے واقعے میں کون ملوث تھے ،جامعہ کراچی میں طلبہ اور طالبات سیکڑوں مسائل میں مبتلا ہیں، طلباء کی حفاظت اور ذہنی سکون اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی ترجیحات کیا ہیں سمجھ سے بالاتر ہے؟

    جامعہ کراچی گرلز ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم بحیثیت اسٹوڈنٹس جامعہ کی انتظامیہ سے کئی بار درخواست کرچکے ہیں کہ ہاسٹل میں طالبات کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے َاور ہاسٹل کے کیمرے جو کہ کئی عرصے سے خراب ہیں ان کو تبدیل کیا جائے مگر انتظامیہ کی جانب سے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے

    جامعہ کراچی گرلز ہاسٹل مسائل کا گڑھ بن گیا ہے جہاں پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات میسر نہیں، ہم نے ہاسٹل پرووسٹ اور وائس چانسلر کو کئی بار ان مسائل سے آگاہ کیا مگر بجائے مسائل کو حل کرنے اور طالبات کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کے انتظامیہ کی جانب سے ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے کہ اگر آپ میڈیا کو رپورٹ کریں گے یا ان مسائل کیخلاف آواز اٹھائیں گے تو آپ کو ہاسٹل سے نکال دیا جائے گا

    نوجوان کی برقعہ پہن کر گرلز ہاسٹل میں‌ داخل ہونے کی کوشش، کیا سلوک ہوا؟ جانیے تفصیل میں‌

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    یونیورسٹی طالبات کی نازیبا ویڈیو بنا کر وائرل کرنیکا کیس، بھارتی فوج کا اہلکار ملوث نکلا

    چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کا آپریشن جاری

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • یونیورسٹی حملہ، دہشت گرد کونسی "ایپ” سے رابطے میں ہوتے ہیں؟ شرجیل میمن کا انکشاف

    یونیورسٹی حملہ، دہشت گرد کونسی "ایپ” سے رابطے میں ہوتے ہیں؟ شرجیل میمن کا انکشاف

    کراچی یونیورسٹی خود کش حملہ، دہشت گرد کونسی "ایپ” سے رابطے میں ہوتے ہیں؟ شرجیل میمن کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے سے متعلق ہے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں ایک خاتون استعمال ہوئی تھی، واقعہ کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت مکمل الرٹ تھی،طے کیا گیا تھا کہ اس کیس کا سراغ لگایا جائے گا، دن رات ہونے والی محنت سے کافی کامیابیاں ملیں،کراچی یونیورسٹی میں ہونے والا حملہ خود کش تھا،خود کش حملے میں ایک خاتون استعمال ہوئی،سی ٹی ڈی نے کراچی میں کارروائی کے دوران کالعدم بی ایل ایف کمانڈر کو گرفتار کیا،کالعدم بی ایل ایف کمانڈر کو ہاکس بے سے 4 جولائی کو گرفتار کیا گیا،بی ایل ایف کمانڈر نے دوران تفتیش ملزم نے بہت کچھ بتایا حملے کا ماسٹر مائنڈ پڑوسی ملک سے پاکستان میں داخل ہوا، دہشت گردوں کا ٹیلی گرام کے ذریعے رابطہ ہوتا تھا،دہشت گردوں کا نیٹ ورک دیگر ممالک میں بھی پھیلا ہوا ہے، ملزم نے چینی انجینئرز کی گاڑی پر فائرنگ کا بھی اعتراف کیا،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ریاست سے بڑا کوئی نہیں ہے،حساس تنصیبات دہشتگردوں کا اگلا ہدف تھیں،تفتیش میں بہت کچھ سامنے آیا ،مزید پیش رفت کا بھی امکان ہے،حکومت نے چینی حکومت کو بھی اعتماد میں لیاتھا کہ ہم کیس حل کریں گے،

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے تھے خاتون تنہا نہیں تھی ، ماسک پہنا ایک شخص مسلسل ساتھ تھا،چارافراد کو شناخت کرلیا گیا،

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے کراچی یونیورسٹی حملہ کیس میں ملوث اہم دہشت گرد کو گرفتار کرلیا ہےکراچی یونیورسٹی حملے میں ملوث دہشت گرد کو ٹیکنیکل اور دیگر شواہد کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔گرفتار دہشت گرد سے ابتدائی تفتیش مکمل کرلی گئی، دہشت گرد کا کراچی یونیورسٹی حملے کی خودکش بمبار کے شوہر سے تعلق تھا،دہشت گرد کو گلشن اقبال کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، دہشت کرد دو چینی انجنیئرز کے قتل میں بھی ملوث ہے، دہشت گرد کا تعلق قوم پرست جماعت سے ہے جو قانون نافذ کرنے والے ادارون کو مطلوب تھا.

  • کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی یونیورسٹی حملے کے حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں

    قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں اور تحقیقات کا سلسلہ وسیع تر کیا گیا ہے، تحقیقات میں نئے انکشافات بھی سامنے آ رہے ہیں، نجی ٹی وی کے مطابق کراچی یونیورسٹی خودکش دھماکے میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے، سیکورٹی اداروں نے گزشتہ شب کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں کاروائی کی ہے اور ایک ایم فل کے طالب علم کو گرفتار کیاہے،ملزم کے زیراستعمال لیپ ٹاپ اور غیرملکی لٹریچر بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے، حملے کی تحقیقات کرنے والے تحقیقای ٹیم نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے بھی رابطہ کیا جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے متعلق مواد بھی ملا ہے حملے میں ملوث افراد سوشل میڈیا سے رابطہ کرتے تھے

    دوسری جانب خاتون خود کش حملہ آور کےبارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دھماکے سے ایک روز قبل بھی اس مقام پر آئی تھی جہاں دھماکہ ہوا ،وہ برقعے میں ہی تھی اور گاڑی کا انتظار کرتی رہی، جب گاڑی آئی تو خاتون حملہ آور اس کے قریب آئی تا ہم وہ دھماکہ نہ کر سکی، جس کے بعد وہ اسی مقام پر ٹہلتی رہی ، واقعہ کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں سارا واضح دیکھا جا سکتا ہے،

    تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے مختلف کارروائیوں میں اہم دستاویزات برآمد کی ہیں جس میں خود کش بمبار خاتون کی اہلخانہ کے ہمراہ تصاویر ملی ہیں کارروائی میں خاتون کے شوہر کا قومی شناختی کارڈ بھی ملاہے جب کہ رات گئے کارروائی میں غیرملکی سمیں بھی برآمد کی گئیں

    سیکورٹی اداروں نے شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران ایک درجن سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی دو افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے خودکش حملہ میں ملوث خاتون شاری بلوچ کے گھر سمیت تین رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں کارروائی میں لیپ ٹاپ سمیت اہم دستاویزات کو قبضے میں لے کر گھروں کو سیل کر دیا گیا ہے

    علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کا دورہ کیا اور کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2چینی باشندوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے، دھماکہ ایک خاتون نے کیا تھا جس کی شناخت ہو چکی ہے کالعدم تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاتون خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی،

    جامعہ کراچی ،گاڑی میں دھماکہ، تین غیر ملکیوں سمیت چار جاں بحق

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث

  • کراچی خود کش دھماکے کے بعد یونیورسٹی کھول دی گئی،تعلیمی سرگرمیاں شروع

    کراچی خود کش دھماکے کے بعد یونیورسٹی کھول دی گئی،تعلیمی سرگرمیاں شروع

    کراچی: جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد یونیورسٹی ایک بار پھر کھول دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو گئیں تاہم سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، انتظامیہ نے مسکن گیٹ کو آمد و رفت کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ سلور جوبلی گیٹ سے طلبا کو پیدل اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    انتظامیہ نے یونیورسٹی میں داخل ہونے کے لیے اسٹو ڈنٹ کارڈ ہونا لا زمی قرار دیا ہے-

    گزشتہ روز جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کرنے والی سی ٹی ڈی کی ٹیم نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا تھا، ذمہ دار ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی سندھ کی ٹیم نے مشتبہ شخص کو موبائل فون لنک سے گرفتار کیا جس کے بعد گرفتار مشتبہ شخص کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل جامعہ کراچی میں خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں چینی باشندوں سمیت پاکستانی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ چار زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا حملے میں تین سے چار کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور اسٹیل کے بال بیرنگ استعمال کیے گئے۔

    بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے بم دھماکے کے حوالہ سے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دھماکہ خود کش تھا جس میں تین سے چار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا دھماکے کی جگہ سے بال بیرنگ ملے ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے حملہ آور خاتون کے برقعے کے ٹکڑے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں

    ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی حملے میں دھماکا خیزمواد ممکنہ طور پر یونیورسٹی کے اندر ہی فراہم کیا گیا،جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی ہے خاتون جامعہ کراچی کی طالبہ اور ہاسٹل میں ہی رہتی تھی اور خاتون نے ایجوکیشن میں ماسٹرزکیا اور ایم فل فرسٹ ائیر میں تھی-

    یاد رہے کہ گزشتہ روز خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی کراچی پولیس کے خدشات درست نکلے، کراچی یونیورسٹی وین پر حملہ خاتون نے کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کالعدم تنظیم کے پیغامات سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ،کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کراچی میں چینیوں پر فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ فدائی حملہ پہلی بلوچ خاتون فدائی شاری بلوچ عرف برمش نے سر انجام دیکر بلوچ مزاحمت میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے-

  • اساتذہ کم اور دوست زیادہ تھے،ابھی تک سب سکتے کی کیفیت میں ہیں،چینی اساتذہ کے شاگردوں کے تاثرات

    اساتذہ کم اور دوست زیادہ تھے،ابھی تک سب سکتے کی کیفیت میں ہیں،چینی اساتذہ کے شاگردوں کے تاثرات

    کراچی میں خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والے چینی اساتذہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ وہ اساتذہ کم اور دوست زیادہ تھے، اساتذہ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے، عید ملن پارٹی کا اہتمام کررکھا تھا مگر موقع نہیں ملا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر ہوانگ گیپنگ نے منگل کو کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خود کش دھماکے سے چند دن قبل ہی دوبارہ بحیثیت ڈائریکٹر اپنے کام کا آغاز کیا تھا پروفیسر ہوانگ گیپنگ کا شمار کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے مرکز یعنی کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے بانی استادوں اور ڈائریکٹر میں ہوتا تھا،انہوں نے سنہ 2013 میں اس ادارے کا آغاز کیا تھا کچھ عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد وہ واپس چین چلے گئے تھے۔

    جامعہ کراچی دھماکے میں ملوث دہشتگردوں کوقیمت چکانا پڑے گی، چین


    کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے ابتدائی طالب علموں میں شامل رانا جواد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سنہ 2013 میں کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سے چینی زبان کا کورس کیا تھااس کورس کے دوران وہ تقریباً ایک سال تک پروفیسر ہوانگ گیپنگ سے رابطے میں رہے، وہ انتہائی شفیق اور زبردست شخصیت کے مالک تھے ایک نئے انسٹیٹیوٹ کو چلانا بہرحال ایک چلینج ہوتا ہے پروفیسر ہوانگ کیپنگ اس چلینج پر نہ صرف پورے اترے بلکہ انھوں نے اس کو ایک شاندار ادارہ بنایا تھا۔

    رانا جواد نے بتایا کہ پروفیسر ہوانگ کیپنگ کے ہاتھوں کئی پاکستانیوں نے چینی زبان میں عبور حاصل کیا اور وہ اس وقت باعزت روزگار کما رہے ہیں نہ صرف یہ کہ برسر روزگار ہیں بلکہ وہ اپنے خاندانوں کو اچھی زندگی بھی فراہم کررہے ہیں۔ یہ سب لوگ اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہیں۔

    رانا جواد کے مطابق پروفیسر ہوانگ کیپنگ اپنے شاگردوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے انھوں نے پورے ادارے کا ماحول مکمل طور پر دوستانہ بنا رکھا تھا وہ ہر ایک طالب علم کو اس کے نام سے جانتے تھے ہر ایک سے بات کرتے تھے ہر ایک کا حال احوال پوچھتے تھے۔

    خاتون کو دھماکا خیزمواد یونیورسٹی کے اندر ہی فراہم کیا گیا،ایڈیشنل آئی جی کا…

    رانا جواد کے مطابق پروفیسر ہوانگ طالب علموں سے زیادہ سے زیادہ چینی زبان میں بات کرتے تھے اس طرح ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ طالب علم جلد ازجلد چینی زبان پر عبور حاصل کریں۔ اس کے لیے وہ سختی نہیں کرتے تھے بلکہ گپ شپ کے ماحول میں کوئی موضوع چنتے اور اس پر بات چیت شروع ہو جاتی تھی انھوں نے ہمیں چینی حروف تہجی سکھانے کے لیے تصاویر کا سہارا لیا تھا۔ وہ روایتی طور پر صرف لیکچر نہیں دیتے تھے بلکہ وہ مختلف طریقے استعمال کرکے عملی تربیت کے مواقع فراہم کرتے تھے اور اس کے لیے اکثر اوقات وہ چھوٹی موٹی پارٹی رکھتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد تقریباً اپنے تمام کلاس فیلوز سے بات ہوئی ہے ہر ایک کی رائے تھی کہ یہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہیں اس طرح ایک استاد کا مارا جانا بہت افسوسناک ہے سب ہی لوگ مارے جانے والوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

    کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے طالب علم محب اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی طالب علم چینی لیکچرار چن سائی کے طالب علم ہیں وہ شاندار شخصیت کی مالک اور محبت کرنے والی استاد تھیں اور ان کی ہلاکت پر ہم سب سکتے کی کیفیت میں ہیں.

    جامعہ کراچی دھماکا پاک چین دوستی پر حملہ ہےاس سے پوری قوت سے نمٹیں گے،رانا ثنا…

    محب اللہ نے بتایا کہ ہمارے تمام چینی اساتذہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے وہ تمام تھے تو ہمارے استاد لیکن ان سے دوستی تھی، ہم لوگ کلاس کے بعد بھی ملتے تھے یہ مواقع چینی اساتذہ خصوصاً چن سائی مہیا کرتی تھیں ان ملاقاتوں کے لیے مختلف تقریبات یا پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا جس میں ہم لوگ پاکستانی کھانے پکاتے اور وہ چین کے پکوان تیار کرتے تھے ان پارٹیوں کا ایک مقصد یہ ہوتا تھا کہ ہم طالب علموں کو چین کی ثقافت اور کلچر سے روشناس کروایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے یہ اساتذہ پاکستان کے بارے میں بھی زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے۔

    محب اللہ کا کہنا تھا کہ ادارے میں افطاری کا بھی پروگرام ہوا تھا۔ اس میں کئی طالب علم شریک نہیں ہوسکے تھے کیونکہ یہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے کئی طالب علموں کی عدم شرکت پر چن سائی نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عید کے موقع پر عید ملن پارٹی رکھی جائے۔ جس پر ہم سب بڑے پر جوش تھے۔

    محب اللہ اپنے شفیق اساتذہ کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد چینی زبان کے مرکز کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘اب اس حادثے کے بعد ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔ ہمارا ادارہ دوبارہ کھل بھی سکے گا کہ نہیں اور اگر یہ کھل بھی گیا تو اس کا ماحول کیسا ہو گا۔’

    کراچی یونیورسٹی کے چینی زبان کے ایک اور طالب علم نثار اشتیاق کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والی چینی لیکچرار ڈنگ میوپینک اکثر ہمیں کہتی تھیں کہ ون بیلٹ ون روڈ کی وجہ سے آنے والے وقت میں چینی زبان پر عبور رکھنے والوں کی بہت مانگ ہوگی۔ اس لیے اگر ہم لوگوں کو اپنا مستقبل اچھا کرنا ہے تو ہمیں خوب محنت کرنی چاہیےلیکچرار ڈنگ میوپینک اور لیکچرار چن سائی کو دیکھیں تو دونوں ایک دوسری کی بہنیں لگتی تھیں مگر ایسا نہیں تھا۔ دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا


    ‘ہمیں لگتا تھا کہ لیکچرار ڈنگ میوپینک بہت زیادہ پیشہ ورانہ انداز میں پڑھاتی تھیں۔ ان کا انداز کلاس کے اندر نو کمپرومائز والا ہوتا تھا جبکہ چن سائی کھلے ڈھلے انداز میں اپنا کام کرتی تھیں مگر ایک بات دونوں میں مشترک تھی کہ وہ اپنے فرائض مکمل طور پر دیانت داری سے ادا کرتی تھیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا وہ کبھی تاخیر سے پہنچی ہوں۔ جس وجہ سے ہم لوگ بھی کلاس کی پابندی کرتے تھے۔’

    نثار اشتیاق اس حملے میں زخمی ہونے والے چینی استاد لیکچرار وانگ یو پلیز کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

    واضح رہے کہ پروفیسر ہوانگ گیپنگ منگل کے روز کراچی یونیورسٹی کی حدود میں ایک خود کش حملے کے نتیجے میں دیگر دو چینی اساتذہ ڈنگ میوپنگ اور چن سائی کے ہمراہ موقع پر ہلاک ہوئے گئے تھے۔ دہشت گردی کے اس حملے میں پاکستانی ڈرائیور خالد سمیت مجموعی طور پر چار افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ان زخمیوں میں سے ایک اور چینی استاد وانگ یو پلیز اور پاکستانی محافظ حمید گل شامل ہیں۔

    چین کے یہ استاد کراچی یونیورسٹی اور چین کی سیچوان نارمل یونیورسٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت چینی زبان کی تعلیم دینے کے لیے کراچی یونیورسٹی میں موجود تھے سیچوان نارمل یونیورسٹی نے یہ منصوبہ چین کی حکومت کے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت دیا ہے جس میں سیچوان نارمل یونیورسٹی نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ سنٹر قائم کیے ہیں۔ جہاں پر پاکستانی طالب علموں کو مختصر اور لمبے دورانیہ کے چینی زبان کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔

  • کراچی دھماکے کا مبینہ سہولت کار شہر قائد سے ہی گرفتار

    کراچی دھماکے کا مبینہ سہولت کار شہر قائد سے ہی گرفتار

    کراچی دھماکے کا مبینہ سہولت کار شہر قائد سے ہی گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کے تعلیمی ادارے میں ہونے والے خود کش حملےکے بعد تحقیقاتی اداروں نے سر جوڑ لئے ہیں

    قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں، حملہ کیسے ہوا؟ خاتون کہاں سے آئی، بارود کیسے پہنچا، خاتون کو کس نے استعمال کیا، اور کون کون شامل ہے،تحقیقاتی ادارے تحقیقات میں مصروف عمل ہیں وہیں، کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشتبہ کار سوارکو گرفتارکیا ہے،سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر،سکیم 33میں چھاپے مارے جس میں مشتبہ کار سوار کو شامل تفتیش کر لیا کار سوار کو خودکش بمبارخاتون کی مبینہ سہولت کاری میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں دو کاریں داخل ہوئی تھیں ، ایک بغیر نمبر پلیٹ کے کار تھی جبکہ دوسری کار پر نمبر پلیٹ تھی، جس شخص کو گلستان جوہر سے گرفتار کیا گیا ہے وہ اس کار کا مالک ہے جس کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی،

    دوسری جانب کراچی کے بعد اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کو سکیورٹی خدشات سامنے آ گئے، نمل یونیورسٹی کو دہشت گرد مبینہ طور پر ٹارگٹ کر سکتے ہیں اسلام آباد پولیس نے نمل یونیورسٹی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر لئے ایک ایس پی۔ڈی ایس پی اور پولیس 11 اہلکار تعینات کر دیئے گئے،. سیف سٹی کی فالکن گاڑی نمل کے ارد گرد گشت کرے گی اسلام آباد پولیس کی سمارٹ کار نمل یونیورسٹی کے ارد گرد رہے گی نمل یونیورسٹی کے گردو نواح میں کسی مشکوک شخص کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2چینی باشندوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے، دھماکہ ایک خاتون نے کیا تھا جس کی شناخت ہو چکی ہے کالعدم تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاتون خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی،