Baaghi TV

Tag: کراچی یونیورسٹی

  • کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث

    کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث

    کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی کی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں،
    جامعہ کراچی میں ہونے والے دھماکے می استعمال ہونے والی خود کش جیکٹ جو خاتون نے پہنی ہوئی تھی اس میں بارودی مواد کے ساتھ مہلک کیمیکل فاسفورس بھی استعمال کیا گیا ہے، بم ڈسپوزبل اسکواڈ کو خودکش جیکٹ میں استعمال ہونے والی پن موقع سے ہی مل گئی تھی جس سے معلوم ہوا کہ خودکش جیکٹ میں سی 4 کیساتھ بھاری مقدار میں فاسفورس بھی استعمال کیا گیا تھا

    کسی بھی خودکش دھماکے میں پہلی بارمہلک کیمیکل استعمال کیا گیا ہے کیمیکل کی وجہ سے دھماکے کے بعد گاڑی کو آگ لگی جس سے گاڑی کے اندر موجود افراد لقمہ اجل بن گئے جائے وقوع سے ملنے والے شواہد کو فرانزک کیلئے بھیج دیا گیا ہے

    کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی، خود کش حملہ آور خاتون کا ٹویتر اکاؤنٹ بھی سامنے آیا ہے جس پر بحث جاری ہے، خاتون حملہ اور نے اپنے ٹویٹر سے گزشتہ روز ہی ایک ٹویٹ کی، شاران بلوچ کے نام سے بنائے گئے ٹویٹر اکاؤنٹ میں کہا گیا ہے کہ رخصت اف اوران سنگت

    براہوی زبان میں کی گئی اس ٹویٹ کا مطلب ہے کہ وہ جا رہی ہیں مگر یہ سنگت چلتی رہے گی،دھماکے والے روز 26 اپریل کو دو بج کر دس منٹ پر ٹویٹ کی گئی ہے جبکہ دو بج کر چھ منٹ پر دھماکا ہوا ہے،

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس خاتون کے اکاؤنٹ سےالوداعی ٹوئٹ کس نے کی؟ممکنہ طور پر خاتون نے یہ ٹویٹ اس وقت پر شیڈول کی ہو یا ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کسی اور کے زیرِ استعمال ہو

    کراچی یونیورسٹی کے اندرہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیور خالد نواز کی پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ وہ 2016 سے چینی اساتذہ کے ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا تھا خالد نواز کی رہائش گلشنِ معمار میں تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2چینی باشندوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے، دھماکہ ایک خاتون نے کیا تھا جس کی شناخت ہو چکی ہے کالعدم تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاتون خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی،

    دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر(ر) امان اللہ کنرانی نے کراچی یونیورسٹی میں المناک واقعے پر اظہار افسوس و رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی اور پس ماندگان کو صبر کی توفیق کی دعا کے ساتھ کہا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے خود کش حملے میں جانی ضیاع و املاک کا نقصان نہایت افسردگی کاباعث ہے دنیا فانی ہی اس کو نعمت سمجھ کر اپنے خاندان و بچوں کی خوشی میں گزارنا چاہیے زندگی کے مسائل و مشکلات وحالات واقعات پر اپنااپنا نکتہ نظرترویج ہرایک کاحق ہے مگرایک گھریلو،بچوں کی ماں کی قیمت پرنہیں ریاست کا رویہ یقینا والدین کی طرح برداشت و بردباری و تحمل کا ہونا چاہیے ریاست کو قانون باتھ میں نہیں لینا چاہیے جس نے جو جرم کیا ہو وہ قانون کے کٹہرے میں لایا جائے

    جامعہ کراچی ،گاڑی میں دھماکہ، تین غیر ملکیوں سمیت چار جاں بحق

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

  • پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں سی ٹی ڈی اورحساس اداروں نے کارروائی کی ہے

    سیکورٹی اداروں نے پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مہمان کے طور پر آئے ایک مشتبہ طالبعلم کو حراست میں لے لیا میڈیا رپورٹس کے مطابق زیرحراست طالبعلم کزن کے پاس پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 7میں آیا تھا ،ترجمان پنجاب یونیورسٹی نے سی ٹی ڈی کی طرف سے گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہاسٹل سے ایک گرفتاری کی گئی ہے یونیورسٹی ہاسٹل سے طالب علم کی گرفتاری پر ساتھی طالب علموں کی جانب سے وی سی آفس کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں مظاہرین نے طالب علم کی گرفتاری کی مذمت کی

    دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ تربت سے تعلق رکھنے والے طالبِ علم بیبگر امداد کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ہاسٹلز سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہےکہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جا رہا ہے،سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار مشتبہ مہمان کو سفید کلر کی گاڑی میں ڈالتے ہیں

    صحافی و اینکر حامد میر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں خودکش حملے کی تمام اہم بلوچ رہنماؤں نے مذمت کی ہے اس کے باوجود ہرطرف بلوچ طلبہ کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اسی پکڑ دھکڑ سے ریاست مخالف قوتوں کو افرادی قوت ملتی ہے یاد رکھئے کہ کراچی میں حملہ کرنے والی کوئی مِسنگ پرسن نہیں تھی یہ سوچیئے وہ ریاست کی دشمن کیوں بنی؟

    علاوہ ازیں بلوچستان اسٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں پنجاب میں یونیورسٹی کے ہاسٹل سے بلوچ طالب علم بیبگر امداد کی ریاستی اداروں کی طرف سے اغوا نما گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بلوچ طلباء کی ہراسمنٹ اور جبری گمشدگی کا تسلسل ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں بیبگر امداد نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں انگریزی ادب کے طالب علم اور تربت کے رہائشی ہیں عید کی چھٹیوں کے سلسلے میں وہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اپنے کزن کے پاس ٹھرا ہوا تھا جب 27 اپریل 2022 کی صبح 7.40 کو تین ویگو گاڑیاں پنجاب کے سی اس اوکے ہمراہ آکر انہیں بغیر کسی ایف آئی آربغیر کسی ثبوت ہاسٹل کے اندر داخل ہوکر اغوا کرتے ہیں ہم تمام انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہیں کہ بیبگر امداد کی باحفاظت بازیابی کے واسطے ہماری مدد کریں اور بلوچ قوم و بلوچ طلباء کیخلاف اس اجتماجی زیادتی کیخلاف اپنی آواز اٹھائیں

    واضح رہےکہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2چینی باشندوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے، دھماکہ ایک خاتون نے کیا تھا جس کی شناخت ہو چکی ہے کالعدم تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاتون خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی،

    جامعہ کراچی ،گاڑی میں دھماکہ، تین غیر ملکیوں سمیت چار جاں بحق

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

  • کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا

    لاہور:کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،اطلاعات کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کے بارے میں جہاں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں جاری ہیں وہاں کچھ خطرناک حقائق نے پریشان کردیا ہے

    اس حوالے سے اس حساس معاملے پرسب سے پہلے توجہ مبذول کروانے والے پاکستان کے سینیئر صحافی مبشرلقمان ہیں جنہوں نے ایک انتہائی حساس پہلوکوبیان کرکے واقعہ کی سنگینی سے آگاہ کیا

    مبشرلقمان جو کہ کھرا سچ پروگرام کے میزبان ہیں انہوں نے ایک نجی ٹی وی میں اس حوالے سے اینکرصابرشاہ سے پوچھا کہ ایک خاتون کا اس طرح حملہ کرنا اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں

    مبشرلقمان نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کسی خاتون کی طرف سے خودکُش حملہ دنیا میں کہیں دیکھنے میں نہیں آیا سوائے فلسطین میں

    اس کے جواب میں صابر شاہ نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان ایک انتہائی حساس پروجیکٹ ہے جس کوامریکہ ،بھارت اور چین اور پاکستان کے دیگرمخالف ملک پسند نہیں کرتے وہ اس بڑے منصوبے کوبرداشت بھی نہیں کرتے ، صابر شاہ کا کہنا تھا کہ ان حالات میں یقینا یہ قوتیں اس منصوبے کوثبوتاژکرنے میں کوشاں ہیں

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں اس منصوبے پراس لیے کام کی رفتار کم کردی گئی تھی کہ سیکورٹی خدشات لاحق تھے اور پھر ہوا بھی ایسے ہی تھا

    اب معاملہ تو ویسے ہی بہت عجیب سا ہوگیا ہے کہ احسن اقبال کے سپرد سی پیک کو کردیا گیا ہے وہ اس کو دشمن سے کس طرح پروٹیکٹ کرسکتے ہیں ، اس کے لیے سی پیک اتھارٹی ہے اس کو فعال کرنا چاہیے ،

     

    خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے، اطلاعات میں اس حوالےسے جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق خاتون کی شناخت شیری بلوچ کے نام سےکرلی گئی ہے جو دوسرے صوبے سے زولوجی میں ایم ایس کرچکی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور زولوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کر رہی تھی خاتون حملہ آور کا شوہر بھی ڈاکٹر ہے خاتون حملہ آور 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی۔

    دوسری جانب جامعہ کراچی خودکش بم دھماکےسےمتعلق رپورٹ پولیس چیف کوارسال کر دی گئی ہے۔ خودکش دھماکےسےمتعلق رپورٹ ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سےبھیجی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق وین کو دوپہر01:55 پر انسٹیٹیوٹ جامعہ کراچی میں نشانہ بنایا گیا دھماکےمیں 3چینی شہری اورپاکستانی ڈرائیورخالدنوازجان سےگئے جب کہ ایک غیرملکی، 2رینجرز اہلکاروں سمیت5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عینی شاہدین اور تکنیکی شواہد سے واقعہ خودکش دھماکامعلوم ہوتاہے۔

    ادھر انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کی وین میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو ایک خاتون نے کیا۔

    انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں دھماکا دیکی کے بعد کیا گیا، بارودی مواد لوکل نہیں لگ رہا، اسکول بیگ کی طرح کوئی ڈیوائس بنائی گئی تھی جسے خودکش بمبار نے اپنی بیک پر لگایا ہوا تھا۔

    کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    غلام نبی میمن نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ زخمیوں میں ایک غیر ملکی اور ایک رینجرز اہلکار شامل ہے۔

    بی ڈی ایس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بھاری مقدار میں اسٹیل بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا۔

    بی ڈی ایس حکام کے مطابق ایک میٹر کے فاصلے سے خودکش حملہ کیا گیا، جسم کے اور برقع کے ٹکڑے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

  • جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

    کراچی :جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے، اطلاعات میں اس حوالےسے جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق خاتون کی شناخت شیری بلوچ کے نام سےکرلی گئی ہے جو دوسرے صوبے سے زولوجی میں ایم ایس کرچکی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور زولوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کر رہی تھی خاتون حملہ آور کا شوہر بھی ڈاکٹر ہے خاتون حملہ آور 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی۔

    دوسری جانب جامعہ کراچی خودکش بم دھماکےسےمتعلق رپورٹ پولیس چیف کوارسال کر دی گئی ہے۔ خودکش دھماکےسےمتعلق رپورٹ ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سےبھیجی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق وین کو دوپہر01:55 پر انسٹیٹیوٹ جامعہ کراچی میں نشانہ بنایا گیا دھماکےمیں 3چینی شہری اورپاکستانی ڈرائیورخالدنوازجان سےگئے جب کہ ایک غیرملکی، 2رینجرز اہلکاروں سمیت5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عینی شاہدین اور تکنیکی شواہد سے واقعہ خودکش دھماکامعلوم ہوتاہے۔

    ادھر انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کی وین میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو ایک خاتون نے کیا۔

    انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں دھماکا دیکی کے بعد کیا گیا، بارودی مواد لوکل نہیں لگ رہا، اسکول بیگ کی طرح کوئی ڈیوائس بنائی گئی تھی جسے خودکش بمبار نے اپنی بیک پر لگایا ہوا تھا۔

    کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    غلام نبی میمن نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ زخمیوں میں ایک غیر ملکی اور ایک رینجرز اہلکار شامل ہے۔

    بی ڈی ایس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بھاری مقدار میں اسٹیل بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا۔

    بی ڈی ایس حکام کے مطابق ایک میٹر کے فاصلے سے خودکش حملہ کیا گیا، جسم کے اور برقع کے ٹکڑے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب وین میں دھماکے سے تین چینی باشندوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں 2 چینی اساتذہ شامل ہیں