Baaghi TV

Tag: کراچی

  • کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی :کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی لیب کی گارڈر اور سلیب سے بنی چھت گر گئی۔

    وائس چانسلر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ لیب کی چھت گرنے سے سامان کا نقصان ہوا ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    رپورٹ کے مطابق واقعے میں دو سے 3 اسپلٹ ایئر کنڈیشن، 24 سے زائد کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

    ادھر دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی: نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خواجہ سراء کے قتل کی واردات کراچی کے علاقے شیرشاہ میں رونما ہوئی، جہاں نامعلوم افراد نے جناح روڈ پر ایک شخص کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔

    دبئی سے آنیوالا طیارہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پرخوفناک حادثے سے بال بال بچ گیا

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور مقتول کی لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا
    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 45 سالہ ماجد ولد سعید کے نام سے کی گئی ہے جو شیرشاہ جناح روڈ کا رہائشی تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے مقتول کی لاش نیم برہنہ حالت میں ملی تھی، واقعے مختلف پہلوؤں سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب کراچی کے علاقے کورنگی نمبر ایک میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر شہری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لےکر ہسپتال منتقل کر دیا –

    پولیس کا چھاپہ،ڈیرے سے 3 لڑکیوں سمیت 13 ملزمان گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    علاوہ ازیں سیلاب کے باعث سندھ میں مزید 15 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ نوابشاہ میں نالے کا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کے حملے سے اسسٹنٹ کمشنر کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہو گیا۔

    نواب شاہ میں علی رضا موری سیم نالےکا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کا ریونیو اہلکاروں پر حملہ ہوا جس سے اسسٹنٹ کمشنر قاضی احمد کی سکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہوگیا پولیس نے واقعے میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے مقامی افراد نےعلی رضا موری سیم نالےمیں غیر قانونی کٹ لگایا تھا۔

    دوران پرواز کاک پٹ میں پائلٹ اورمعاون کے درمیان ہاتھا پائی,دونوں معطل

  • کراچی سےکوئٹہ کےدرمیان خضدارکےمقام پرٹریفک حادثہ،7افرادجاں بحق

    کراچی سےکوئٹہ کےدرمیان خضدارکےمقام پرٹریفک حادثہ،7افرادجاں بحق

    خضدار:کراچی سےکوئٹہ کےدرمیان خضدارکےمقام پرٹریفک حادثہ،7افرادجاں بحق،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے علاقہ خضدار جو ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے ، اسی علاقے میں ایک خوفناک اور دلوں کو دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا ہے

    خضدار سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کراچی اور کوئٹہ قومی شاہراہ پر خضدار کے مقام پر ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ریسکیوحکام کے مطابق امدادی ٹیموں کے مطابق حادثہ مسافر وین اور پک اپ گاڑی کے درمیان خضدار میں کورک کے مقام پر پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مرنے والوں میں چار خواتین اور تین مرد شامل ہیں۔ حادثے میں 10 سے زائد مسافر زخمی بھی ہوئے۔ان میں سے بعض مسافروں کی حالت بھی بہت زیادہ خراب ہے ،

    خضدار سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ لاشوں کو ضروری کارروائی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے خضدار ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر خضدار میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی اور ایم پی اے میر یونس عزیز زہری بھی زخمیوں کی عیادت کیلئے اسپتال پہنچ گئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے زخمیوں کو بہترین سہولت اور طبی امداد دینے کی ہدایت بھی کی۔

  • شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    شیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید فلم انڈسٹری بچ جائے:انورمقصود

    لاہور: معروف فنکار اور ڈراما نگار انور مقصود کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت عوام کی مدد نہیں کر رہی تو فلم کو کیا کرے گی۔اب تو بس ایک ہی حل ہےکہ اگرشیخ رشید ،ریما اور شہباز شریف، میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید حکومت فلم انڈسٹری کونئی زندگی مل سکے ورنہ حالات کچھ بہتر نظرنہیں آرہے

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انورمقصود نے فلم انڈسٹری کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کو حکومت کی حمایت حاصل ہوتی ہے ہمارے یہاں نہیں ہے۔انورمقصود نے کہا کہ ہمارے یہاں عوام کو نہیں ہے تو فلموں کو کیا کریں گے، وزیر کے لئے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی ہیروین کے ساتھ فلموں میں کام کریں۔ اگر شیخ رشید ، ریما اور شہباز شریف اور میرا جیسی کاسٹ ہو تو شاید پاکستانی فلم انڈسٹری کے حالات بہتر ہو جائیں۔

     

     

    لقمان ولا میں انور مقصود کی آنر میں تقریب کا اہتمام

    پاکستان کی موجودہ صورت حال پر خوبصؤرت تبصرہ کرتے ہوئے کراچی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ بعض شہراجڑنے کے لئے بنائے جاتے ہیں کراچی ان میں سے ایک ہے۔ لوگ کراچی سے نکل کر لاہور اور اسلام آباد جا رہے ہیں، کچھ دن بعد لوگ لاہور اور اسلام آباد سے بھی نکل کر کہیں اور جائیں گے ۔

    انور مقصود کو معافی مانگنی پڑ گئی لیکن کیوں؟

    انورمقصود شہروں میں ویرانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ک ڈیفنس کی خراب صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ ڈیفنس کی حالت تو 1947 سے بہت اچھی ہے لیکن ہاں ڈیفنس سوسائٹی کی حالت خراب ہے۔ وہ خیابان بخاری میں رہتے ہیں جہاں ہفتوں تک ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ تک پانی ان کے گھر کے باہر کھڑا رہا۔

    عمران خان کے نو حلقوں سے بیک وقت انتخابات لڑنے کے حوالے سے انور مقصود نے کہا کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی ہیں گیارہ سے بیک وقت لڑسکتے ہیں۔ مگر غلطی سے عمران خان ہاکی کے اسٹیڈیم میں آگئے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے لوگوں کو کبھی نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو عمران کی طرف جا رہے ہیں وہ کسی اور کے خلاف اس کے طرف جا رہے ہیں۔

  • وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    خضدار:سیلاب اوربارشوں کے بعد صوبہ بلوچستان میں جس طرح عوام الناس سخت مشکلات کا شکار ہیں وہاں‌ ان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب سندھ میں مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے کے باعث بلوچستان کے وسطی علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے، موبائل سگنلز بھی متاثر ہیں۔

    خضدار دادو 220 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن کا ایک ٹاور سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں گر گیا، جس کے باعث وسطی بلوچستان کے علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے سے خضدار، وڈھ، قلات، منگچر اور سوراب گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق وسطی بلوچستان میں بجلی نہ ہونے سے ذرائع مواصلات بھی بری طرح متاثر ہوگئے، موبائل سگنلز بھی معطل ہیں۔

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے، سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث کئی شہروں اور دیہات کا رابطہ منقطع ہے، حادثات میں سیکڑوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

    دوسری طرف بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کے جنرل آفیسرز نے ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کی مدد کیلئے عطیہ کردی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل آفیسرز کی طرح دیگر فوجی افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پرمالی عطیات دے رہے ہیں جبکہ عوام سے عطیات جمع کرنے کیلئے تمام بڑے شہروں میں عطیہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں منظم امدادی سرگرمیوں کیلئے ریلیف اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن قائم کردیا گیا ہے۔ پاک فوج نے عوام کو سیلاب متاثرین کی مدد میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کی اپیل بھی کردی ہے۔

  • کراچی والوں کو بھی خوشخبری سنادی گئی

    کراچی والوں کو بھی خوشخبری سنادی گئی

    کراچی :کراچی والوں کو بھی خوشخبری سنادی گئی ،اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے حکومت پاکستان کے اعلان کی روشنی میں 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین کیلئے نظرثانی شدہ بل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق وہ تمام نان ٹی او یو (جن کا منظور شدہ لوڈ 5 کلوواٹ سے کم ہو) رہائشی صارفین جن کا استعمال 200 یونٹ سے کم ہے ان کو فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے حوالے سے ترمیم شدہ بلوں کا اجراء 26 اگست سے کیا جائے گا۔

    کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ متعلقہ صارفین اپنے نظر ثانی شدہ بل کے اجراء کیلئے قریبی کسٹمرز کیئر سینٹر سے رابطہ کریں، صارفین کی سہولت کیلئے کے الیکٹرک کے کسٹمر کیئر سینٹرز جمعہ اور ہفتہ رات 8 بجے جبکہ اتوار کو شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے۔

    کے الیکٹرک نے ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کے اگست کے بلوں کی آخری تاریخ میں بھی 30 اگست تک توسیع کردی گئی ہے۔

    حکومت پاکستان کے اعلان اور بل کی آخری تاریخ میں اضافے کا اطلاق 200 یونٹ سے زائد استعمال کرنیوالے رہائشی صارفین، ٹائم آف یوز اور کمرشل و انڈسٹریل صارفین پر نہیں ہوگا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دو روز قبل ملک بھر کے ایک کروڑ 70 لاکھ بجلی صارفین کو بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔

  • مہنگی بجلی مگرپھربھی میسرنہیں‌:کراچی والے بھی سڑکوں پر نکل آئے

    مہنگی بجلی مگرپھربھی میسرنہیں‌:کراچی والے بھی سڑکوں پر نکل آئے

    کراچی:شہرقائد کے کئی علاقوں میں رہائشی بجلی کی طویل بندش اور بجلی کے مہنگے بلوں کے خلاف جمعرات کو سڑکوں پر نکل آئے اور کے الیکٹرک کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔

    کراچی کے علاقے کورنگی میں آج مکینوں نے کے الیکٹرک کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، خواتین، مردوں اور بچوں پر مشتمل لوگوں کے ایک گروپ نے دارالعلوم کے قریب کے کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، کورنگی انڈسٹریل ایریا کی مرکزی سڑک بلاک کر دی اور کمپنی کے خلاف نعرے لگائے۔ایک بیان میں، کورنگی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ مظاہرین کے ای بلڈنگ کے باہر مہنگے بلوں کی شکایات پر جمع تھے۔

    مظاہرے کے دوران مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں سنگر چورنگی کے قریب دونوں ٹریکس پر ٹریفک میں خلل پڑا۔ مظاہرین نے پاور یوٹیلیٹی کے پرائیویٹ گارڈز کو بھی زیر کیا اور بعد میں زبردستی اس کے دفتر میں گھس گئے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے لانڈھی ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور عوامی کالونی اسٹیشن ہاؤس آفیسر اپنی نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور ہجوم کو منتشر کیا۔اس کے علاوہ شہر کے شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشیوں نے جوگی موڑ کے قریب نیشنل ہائی وے کو بجلی کی بندش کے خلاف احتجاجاً بلاک کر دیا۔

    ملیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عرفان بہادر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ رہائشی اپنے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس میں گزشتہ ماہ اضافہ کیا گیا تھا مظاہرین نے پاور یوٹیلیٹی حکام کے سامنے ایک میمورنڈم پیش کیا اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہو گئے، افسر نے مزید کہا کہ شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی۔اسی طرح ناظم آباد کے مکینوں نے بھی کے الیکٹرک آفس کے باہر احتجاج کیا۔

  • عامر لیاقت کی نشست این اے 245  قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی

    عامر لیاقت کی نشست این اے 245 قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی

    عامر لیاقت حسین کی موت سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 کراچی موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی-

    باغی ٹی وی : دی نیوزکے مطابق قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 کراچی موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے اختتام تک خالی رہے گی-
    جہاں پی ٹی آئی کے محمود مولوی گزشتہ ہفتے انتخابی معرکے میں منتخب ہوئے تھے۔

    عمران خان کے حق میں ٹوئیٹ کرنے والی ‘انسانی حقوق’ کی تنظیم بھارتی پراپیگنڈا نکلا

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی کے تین ارکان قومی اسمبلی نے رکنیت کا حلف اٹھانا تھا لیکن انہوں نے اس کا انتخاب نہیں کیا اگر منتخب اراکین رکنیت کا حلف اٹھاتے ہیں اور پارٹی کی پالیسی کے مطابق انہیں استعفیٰ دینا پڑے تو ان کی متعلقہ نشستیں دوبارہ خالی ہو جائیں گی اور پارٹی کو الیکشن لڑنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگرعمران خان اپنے اعلان کے مطابق 9 نشستوں سے الیکشن لڑیں اور اگر وہ واپس آجائیں تو یہ نشستیں قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک خالی رہیں گی۔

    پی ٹی آئی نےرواں سال اپریل میں این اے 33 ہنگو (کے پی کے) کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی جہاں ندیم خان خیال کامیاب امیدوار کے طور پر واپس آئے جنہوں نے رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا جب کہ اس دوران قومی اسمبلی کے تین اجلاس ہو چکے ہیں، وہ پی ٹی آئی کے مرحوم رکن خیال الزمان کے بیٹے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے واپس آنے والے امیدوار کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی ہمدردیاں کس بنیاد پر عمران نیازی کے ساتھ ہیں؟،فضل الرحمان

    ذرائع کے مطابق کراچی سے پی ٹی آئی کے امیدوار کے انتخاب کا نوٹیفکیشن آئندہ ہفتے جاری ہونے کا امکان ہےمحمود مولوی بھی ندیم خیال کی طرح رکنیت کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی ایک اور رکن قومی اسمبلی آسیہ عظیم چوہدری پارٹی کی پالیسی کے مطابق حلف نہیں اٹھائیں گی۔

    وہ پنجاب سے خواتین کی نشستوں پر منتخب ہونے والی ڈاکٹر شیریں مزاری کی خالی کردہ نشست پر ایم این اے بنیں۔ انہوں نے 9 اپریل کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور بعد میں اسے قومی اسمبلی کے اسپیکر نے قبول کرلیا۔ خالی ہونے والی نشستوں کے حلقے این اے کے آخری دن تک NA میں نمائندگی نہیں کریں گے، اس حقیقت کے باوجود کہ انہوں نے 2018 سے اپنی نمائندگی کے لیے اپنے اراکین کو دو مرتبہ منتخب کیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے فیک اور خفیہ اکاؤنٹس میں کاروباری گروپس نے کروڑوں روپے چندہ دیا ،ایف آئی اے

  • سندھ میں بارشوں سے تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

    سندھ میں بارشوں سے تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

    کراچی:ملک کےمختلف علاقوں میں غیر متوقع بارشوں اور اس کےنتیجےمیں آنے والےسیلاب کی وجہ سےصورت حال دن بدن ابتر ہورہی ہے۔سندھ میں سیلاب سے صورتحال خوفناک ہے۔ بارشوں سے شہر کے شہر ڈوب گئے جس کے باعث صوبے کے 23 اضلاع آفت زدہ قراردے دیے گئے۔

    صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے دور دور تک بستیاں اورکھیت پانی میں ڈوبے ہیں۔ لوگ خیموں میں پناہ لیے مدد کے منتظرہیں۔ جیکب آباد میں چھتیں اوردیواریں گرنے سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    نوشہروفیروزمیں گھروں میں 6،6 فٹ پانی جمع ہے۔ لوگ کشتیوں پر سفرکررہے ہیں، گاؤں ہاشم کے مکینوں نے جانوروں کو کاندھے پرلاد کرمحفوظ مقام پرنقل مکانی شروع کردی۔

    بھریا سٹی میں متاثرین نے مقامی ایم پی اے مرادعلی شاہ سینئرکے بنگلے کے سامنے خیمے لگالئے۔ ستم تویہ ہوا کہ رکن صوبائی اسمبلی نے اپنے بنگلے اور زمین کا پانی بھی آبادی کی طرف نکال دیا۔ جس سے غریبوں کے بچے کچھے مکان بھی ڈوب گئے۔

    مورو کے قریب کئی دیہات پانی میں ڈوبے ہیں۔ لوگوں نے ہائی وے کے قریب پناہ لے رکھی ہیں اور بچے بھوک سے بے حال ہیں۔خیرپور بھی دریا کا منظر پیش کررہاہے۔ متاثرین نے پانی کی نکاسی نہ ہونے پرڈپٹی کمشنرآفس کا گھیراؤ کرلیا۔

    سانگھڑ کے نواحی علاقے ورکشاپ میں سیلابی صورت حال ہے۔ مکین اپنی مددآپ کے تحت محفوظ مقامات پرمنتقل ہورہے ہیں۔ صوبائی وزیر شبیربجارانی نے کندھ کوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا لوگوں نے شکایتوں کے انبار لگادیے۔

    ٹنڈوالہ یارزرعی اراضی بھی ریلوں کی زد میں ہے۔ ادھر گڈو بیراج کے بعد سکھر بیراج پر بھی ہائی فلڈ ڈکلیئر کردیا گیا ہے۔ تینوں بیراجوں سے نکلنے والی 15 کینال بند ہیں۔ریسکیو اور امدادی کاموں میں مشکلات کے باعث سندھ حکومت نے پاک فوج سے مدد طلب کرلی ہے۔

    سندھ حکومت نے این ڈی ایم اے اور عسکری حکام کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ فوجی جوان امدادی سرگرمیوں اورریسکیوآپریشن کیلئے بھیجے جائیں۔

    مون سون بارشوں کے نئے اسپیل کے پیش نظر سندھ حکومت نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں 2 روزکی تعطیلات کا اعلان کردیا۔محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ رین ایمرجنسی کےباعث بدھ 24 اگست اور جمعرات 25 اگست کو صوبہ بھرکےتمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں عام تعطیل ہوگی۔

    صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے تناظر میں کیا گیا۔

    انٹر امتحانات ملتوی
    چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ ڈاکٹر سعید الدین کا کہنا ہے کہ موسم کی صورتحال کے پیش نظر کل و پرسوں ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے، 24 اور 25 اگست کو ہونے والے امتحانات کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    ڈی سی حیدر آباد کا نوٹیفکیشن
    ڈی سی حیدرآباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں بدھ 24 اگست اور جمعرات 25 اگست کو سرکاری و نجی تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    کراچی میں ایک طرف بارش نے اہل کراچی کا بھرکس نکال دیا ہے تو دوسری طرف کے الیکٹرک نے بھی کراچی والوں کو معاف نہیں کیا بلکہ اس سخت پریشان والی کیفیت میں بجلی کو غائب کردیا ہے اور لوگ اس دوران ان دونوں تکالیف کی وجہ سے کراہ رہے ہیں‌ ،

    ادھر کراچی سے تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ آج کراچی سمیت سندھ کے زیریں علاقوں میں تیز بارشیں شروع ہوچکی ہیں،تھوڑی دیر پہلے کراچی سے متعلق حالات سے باخبر رکھنے والے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اج یعنی منگل کو بارش کا سلسلہ ٹھٹہ اور بدین سے شروع ہوا جس کے بعد اس سے کراچی کے مختلف علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    آنکھیں کھول دینے والی بات ہے،دیکھیں کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

    ادھر کراچی میں اس ہیجانی کیفیت میں کراچی والے دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، کراچی والوں کا کہنا ہے کہ بارش کی چند بوندیں گرنے کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی ہے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کا شدید کم دباؤ بھارتی ریاست راجستھان پر موجود ہے جو مغرب/شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے اور منگل کی رات کو مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ پاکستان کے جنوبی اور بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی۔

    کراچی:بینک کے باہر ڈکیتی ،ملزمان پیٹرول پمپ مینیجر سے 36 لاکھ روپے چھین کر فرار

    یاد رہےکہ کل بھی محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی تھی کہ ان مون سون ہواؤں کے باعث 23 سے 26 اگست کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب اور شمال مشرقی بلوچستان میں تیز جب کہ 23 اگست کی رات سے 26 اگست کے دوران خیبر پختونخوا، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقا مات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    کراچی ائیرپورٹ پر دو طیارے خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 24 اور 25 اگست کے دوران موسلادھار بارش کے باعث کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو جام، ٹھٹہ، بدین، میرپور خاص، سانگھڑ، خیرپور، شہید بینظیر آباد،دادو، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ،جیکب آباد اور سکھر میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا اندیشہ ہے۔

  • سلیم معراج کہاں چھٹیاں گزارنا پسند کرتے ہیں ؟‌

    سلیم معراج کہاں چھٹیاں گزارنا پسند کرتے ہیں ؟‌

    ورسٹائل اداکار سلیم معراج نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ مجھے لاہور شہر بہت پسند ہے،یہاں وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے.انہوں نے بتایا کہ مجھے جب بھی چھٹیاں ہوتی ہیں میں لاہور چلا جاتا ہوں وہاں وقت گزارتا ہوں اور مجھے بہت مزا آتا ہے. سلیم معراج نے کہاکہ کراچی شہر بھی میرے دل کے بہت قریب ہے بلکہ میں تو اس شہر کو اپنا دل کہوں گا. سلیم معراج نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ میرا کیا تاثر ہے میں کیسا لگتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں بہت ہی کم گو ہوں ، کسی سے زیادہ اور جلدی گھلتا ملتا نہیں ہوں کوئی بلائے تو بہت اچھے طریقے سے بات کرتا

    ہوں. انہوں نے کہا کہ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے شوبز کے لوگ کم ہی اپنی پارٹیوں میں بلاتے ہیں بلکہ میں‌یہ کہوں گا کہ مجھے کوئی اپنی پارٹی میں بلاتا ہی نہیں. اگر کوئی بلائے تو یقینا میں جائوں بھی. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ذاتی طور پر میں بہت زیادہ ہجوم میں جانا پسند نہیں کرتا میں زرا تنہائی میں زیادہ اچھا محسوس کرتا ہوں. یاد رہے کہ سلیم معراج رواں برس ریلیز ہونے والی فلم گھبرانا نہیں ہے میں بھی نظر آئے تھے اس میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا جسے شائقین کی طرف سے خاصا سراہا گیا. سلیم معراج کا شمار بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے.