Baaghi TV

Tag: کراچی

  • حافظ نعیم آؤٹ، مرتضیٰ وہاب بنے میئر کراچی

    حافظ نعیم آؤٹ، مرتضیٰ وہاب بنے میئر کراچی

    میئر کراچی کے انتخابات، غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار نے اب تک 173 ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے، جماعت اسلامی کے احتجاج کے باوجود پولنگ جاری رہی، جماعت اسلامی کراچی کے امیر تحریک انصاف کی حمایت کے باجود میئر کا الیکشن ہار گئے،

    پیپلزپارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کے درمیان میئر کراچی کا مقابلہ ہوا، مرتضیٰ وہاب کو 173 ووٹ ، حافظ نعیم کو 160 ووٹ ملے ، اس طرح مرتضیٰ وہاب 13 اضافی ووٹ لے کر میئر کراچی منتخب ہوئے

    مئیر کے انتخاب ،366 میں سے 332 امیدوار ووٹ ڈالنے کے لیے موجود تھے ،گیارہ بجتے ہی دروازے بند کردیے گئے بعد میں آنے والے اراکین کو اندر آنے سے منع کردیا گیا ،کراچی میئر کے لئے کُل 366 ممبران نے ووٹ کاسٹ کرنا تھا۔ 332 ممبران کے ایم سی ووٹ دینے پہنچے ہیں، 34 ممبران سٹی کاؤنسل ووٹ کیلئے نہیں آئے جو اراکین نہیں آئے انکا تعلق پی ٹی آئی سے ہے،

    مئیر کراچی کیلئے ووٹنگ کے دوران، تحریک انصاف کی جانب سے اغواء شدہ چیئرمینز کو پیش کرنے کے نعرے لگائے گئے،

    اطلاعات ہیں کہ میئر کے الیکشن کی ووٹنگ روک دی گئی ،جماعت اسلامی کے میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان نے ووٹنگ رکوادی ہے ،بولے پہلے پی ٹی آئی کے اغوا کئے گئے ارکان کو پیش کریں جب تک ارکان پورے نہیں ہوں گے ووٹنگ نہیں ہونے دوں گا

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، ایس ایس ہی ساؤتھ موقع پر موجود ہیں انکا کہنا ہے کہ الیکشن کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں پولیس اور رینجرز کے اہلکار آرٹس کونسل کے اندر اور اطراف میں تعینات ہے مجموعی طور پر پولیس کے 500 سے زائد اہلکار تعینات ہیں تعینات نفری میں ڈسٹرکٹ ساوتھ اور کیماڑی کے مختلف تھانوں کی نفری شامل ہے ریپڈ رسپانس فورس کے اہلکار بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں،تین ایس پیز اور 12 ڈی ایس پیز بھی سیکیورٹی میں شامل ہیں

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کراچی میں مئیر اور ڈپٹی مئیر بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے جا رہے ہیں اس وقت تک مئیر اور ڈپٹی مئیر کے انتخاب کے لیے بنائے گئے پولنگ اسٹیشن میں میری اطلاعات کے مطابق 331 ارکان موجود ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کی حلیف جماعتوں کے 173 ارکان اس وقت پولنگ اسٹیشن میں موجود ہیں۔ اس حساب سے جماعت اسلامی اور اس کی حلیف جماعت پی ٹی آئی کے 158 ارکان پولنگ اسٹیشن میں موجود ہیں۔11 بجے پولنگ اسٹیشن کے تمام دروازے بند کردئیے گئے ہیں اور اس کے مطابق ایوان میں 331 ارکان ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ انشاءاللہ آج شام پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے بھرپور جشن منائیں گے۔ میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ادی فریال تالپور، نثار احمد کھوڑو اور تمام پارٹی قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    ہم صرف اپنے لیئے ووٹ مانگے سکتے ہیں کسی کو دلا نہیں سکتے، شرجیل میمن
    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ کراچی کے لوگ نفرت کی سیاست کو دفنانے جا رہے ہیں،
    جماعت اسلامی جیسی فاشسٹ جماعت نے طالب علموں کے ہاتھوں میں اسلحہ دیا،حافظ نعیم اگرمگر سے کام لے رہا اگر اس کے پاس ثبوت ہے توسامنے لاٸے، پی ٹی آٸی کے چٸیرمینز اور کونسلرز کو ووٹ دینے کے لیکر آٸے، جماعت اسلامی چاہتی ہے پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سے ووٹ دلائے ،ہم صرف اپنے لیئے ووٹ مانگے سکتے ہیں کسی کو دلا نہیں سکتے، پی ٹی آئی کے لوگ اپنے گھروں پر موجود ہیں اگر کوئی ووٹ نہیں دے رہا تو ہم کیا کر سکتے ہیں ،جماعت اسمبلی نے کراچی کیلئے کیا کیا ہے ، ہم نے کراچی کو بڑے بڑے منصوبے دیئے لوگ پیپلز کو چاہتے ہیں ، اگر پی ٹی آئی والے ہماری سنتے تو وہ ہمیں ووٹ دیتے ،حافظ نعیم کیلئے کیسے ووٹ مانگیں ،وہ سمجھ رہے ہیں کے اگر کوئی حافظ نعیم کو ووٹ نہیں کیا تو اس کو روکا گیا ہوگا، حافظ نعیم اپنی شکست تسلیم کریں، جماعت اسلامی 9 مئی کے ذمہ داران کی سپورٹ چاہتی ہے۔

    سندھ میں مئیر، ڈپٹی میئر، چیرمین، وائس چیئرمین کے انتخابات ، انتخابات کی مانیٹرنگ کے لئے الیکشن کمیشن میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا،مرکزی کنٹرول روم انتخابی عمل کی مانیٹرنگ اور شکایات کے ازالے کے لئے قائم کیا گیا ،مرکزی کنٹروم روم سے سینئر افسران سندھ کے انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں ،الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد میں سندھ میں مئیر ، ڈپٹی میئر، چیرمین، وائس چیئرمین کے انتخابات کی نگرانی کے لئے مرکزی کنٹرول روم شکایت سیل قائم کر دیا گیا۔ مرکزی کنٹرول روم انتخابی عمل کی مانیٹرنگ اور شکایات کے ازالے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ کنٹروم روم آج صبح 8 بجے سے کل 16 جون صبح 8 بجے تک بلا تعطل کام کرے مرکزی کنٹروم روم سے سینئر افسران بمع مانیٹرنگ ٹیم بلا تعطل سندھ میں مئیر،ڈپٹی میئر کے انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں پولنگ کے حوالے سے شکایات درج کرانے کے لئے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیجئے ۔مرکزی کنٹرول روم ، الیکشن کمیشن اسلام آبادفون نمبر 9204403-051 0519204402 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

    میئر انتخاب سے قبل پی ٹی آئی اراکین کئے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی اراکین کی گرفتاری و گھروں پر چھاپوں کی مزمت کرتے ہیں،پیپل پارٹی میئر الیکشن سے پہلے پری پول ریگنگ کر رہی ہے،پی ٹی آئی کی منتخب خواتین اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،پیپلز پارٹی نے بے شرمی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے پیپلز پارٹی چور دروازے سے میئر لانا چاہتی ہے،

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر، میئر کراچی کے امیدوار حافظ نعیم نے کہا ہے کہ آج کراچی میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ہونے جا رہا ہے، اس تحریک کو یہاں تک پہچانے میں کارکنان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کراچی کی عوام نے ہمیں بہت ساتھ دیا، ہم نے کے الیکٹرک کیخلاف آواز اٹھائی،مردم شماری میں بھی جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی،بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں لوگوں نے جماعت اسلامی کو سب سے بڑی جماعت بنا دیا،

    فردوس شمیم نقوی صاحب سے میرا ذاتی رشتہ ہے،مرتضیٰ وہاب
    میئر کے لیے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ میئر کے لیے جاری الیکشن میں ہم فتح کے قریب ہیں اور انشااللہ ہماری جیت ہوگی اراکین کے لیے گزشتہ رات عشائیہ منعقد کیا گیا جس میں ہمارے تمام اراکین موجود تھے تمام اراکین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہم اپنا نمبر ایوان میں پورا کریں گے کبھی بھی نعیم الرحمان صاحب نے یہ نہیں کہا کہ کراچی کے مسائل حل کیسے ہونگے؟ کراچی کیلئے ایجنڈا کیا ہے؟ میرا کسی بھی پی ٹی آئی رکن اسمبلی کیساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے،فردوس شمیم نقوی صاحب سے میرا ذاتی رشتہ ہے،

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

  • ایران میں منعقدہ ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس آج  روانہ ہونگے

    ایران میں منعقدہ ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس آج روانہ ہونگے

    پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن نے ایران میں ہونے والی ایشین 6 ریڈ اسنوکر چیمپئن شپ اور انڈر 21 چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس کا انتخاب کردیا۔پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عالمگیر شیخ کے مطابق ایران میں اس ماہ ہونیوالے تین ایونٹس میں دو کیوئسٹ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 16 سے 25 جون تک ہونے والے ان تین ایونٹس کیلئے احسن رمضان اور حارث طاہر کا انتخاب کیا گیا ہے، دونوں کھلاڑی آج کراچی سے تہران کیلئے روانہ ہوں گے انہوں نے مزید بتایا کہ حارث طاہر ایشین 6 ریڈ اور ایشین ٹیم چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے جبکہ احسن رمضان 6 ریڈ، ٹیم چیمپئن شپ اور انڈر 21 ایونٹ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔احسن رمضان اگلے ماہ سعودی عرب میں ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ بھی کھیلیں گے۔

  • سمندری طوفان،ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی کمیٹی تشکیل

    سمندری طوفان،ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی کمیٹی تشکیل

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بپرجوائے کے نتیجے میں پیش آنے والی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی کمیٹی تشکیل دیدی،

    کمیٹی میں وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی،وزیر پاور اور وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سید امین الحق شامل ہیں کمیٹی میں متعلقہ اداروں کے سربراہان کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر فوری اقدامات اُٹھائے جاسکیں ،کمیٹی سمندری طوفان کی صورتحال میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے گی کمیٹی سمندری طوفان بپرجوائے کے پاکستان کی ساحلی پٹی سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیدا ہونی والی صورتحال، نقصانات کا بھی جائزہ لے گی

    سمندری طوفان کے اثرات کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ ایک بار پھر جاری ہو گیا ہے،صدر ،کلفٹن ، ڈی ایچ اے میں تیز بارش ہو رہی ہے،گلشن حدید ، اسٹیل ٹاؤن ، و اطراف میں بھی تیز بارش ہو رہی ہے،سمندری طوفان بیپرجوائے کے پیشِ نظر کراچی میں ممکنہ حالات کے حوالے سے اقدامات ،سیکیورٹی ڈویژن نے اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ ایس ایس یو ہیڈکوارٹرز میں الرٹ کر دیا،

    یونٹ آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے خصوصی احکامات پر قائم کیا گیا ہے شہر میں ممکنہ بارشوں اور ہنگامی حالات کے پیش نظر سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کااربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ ہمہ وقت تیارہے، اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ بارش میں پھنسے شہریوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اربن فلڈنگ ریسکیو یونٹ خصوصی تربیت یافتہ ایس ایس یو کمانڈوز پر مشتمل ہے یونٹ جدید سازوسامان, چھوٹی کشتیوں سے لیس اور چوبیس گھنٹے الرٹ رہے گا شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مددگار 15 پر فوری رابطہ کریں

    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس، وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کی طوفان بپر جوائے پر ایوان کو بریفنگ دی گئی، شیری رحمان کا کہنا تھا کہ انخلاء کے علاوہ بچاؤ کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اب تک 62000 لوگوں کا انخلاء یقینی بنایا گیا ہے۔ تمام ایمرجنسی ادادے، پاک فوج اور سندھ پولیس طوفان سے نمٹنے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔ سائیکلون آنے کے بعد تباہ کاری کا جائزہ لے کر تعمیر نو شروع کی جائے گی۔ پریشانی انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اطلاع ہے کہ ماہی گیر اب بھی سمندر میں نکل رہے ہیں۔سمندری لہریں آج رات سے بہت تیز ہو سکتی ہیں۔ انخلاء کے مقامات پر پینے کا صاف پانی، کھانا اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے شہر قائد کراچی سے صرف 350 ،ٹھٹھہ سے 360 کلومیٹر دوررہ گیا ، ل کیٹی بندر سے ٹکرانے کا بھی امکان ہے جب کہ ساحلی علاقوں میں حالات بگڑنے لگے ہیں سجاول میں بارش، اورماڑہ میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے بدین ، ٹھٹھہ اور دیگر اضلاع میں تیز ہواؤں کے جھکڑ، ایمر جنسی نافذ کر دی گئی کراچی میں بوندا باندی، کیٹی بندر کو خالی کروالیا گیا ہے گڈانی میں بھی لہریں انتہائی بلند ہیں مزید موسلا دھار بارشوں کا بھی خطرہ ہے

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری
    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

     جوائے کے پیشِ نظر کراچی پورٹ پر الرٹ جاری

     پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل 

  • طوفان کے پیش نظر ایٹمی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں کمی

    طوفان کے پیش نظر ایٹمی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں کمی

    کراچی: ملک میں بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار 284میگاواٹ کی سطح پر پہنچ گیا،طوفان کے پیش نظر ایٹمی پاور پلانٹس سے پیداوار میں کمی کردی گئی-

    باغی ٹی وی : سمندری طوفان کے اثرات کے باعث طوفانی ہواؤں سے بجلی کے ونڈ پلانٹس سے پیداوار میں کمی ہوئی ہے،بجلی کی طلب 26 ہزار 500 میگاواٹ اور پیداوار 19 ہزار252 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی شارٹ فال بڑھنے کے باعث مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12گھنٹے تک پہنچ گیا-

    لاہورماسٹر پلان 2050 کی منظوری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

    ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک میں آج پن بجلی کی پیداوار 5ہزار 600 میگاواٹ ہے ، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس 850 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں، نجی شعبے کے بجلی گھروں سے پیداوار 10ہزار 500 میگاواٹ ہے، ونڈ پاور پلانٹس سے صرف 100 میگاواٹ سولر بجلی گھروں سے 82 میگاواٹ، بگاس سے 120 میگاواٹ نیوکلیئرپاور پلانٹس کی پیداوار 2 ہزار میگاواٹ ہے۔

    شرعی طور پر بغیر ثبوت قتل کا الزام لگانا انتہائی بھیانک گناہ کبیرہ ہے،فیاض الحسن …

    دوسری جانب ممکنہ طوفان بپر جوائے سے پہلے ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش شروع ہوگئی کراچی کے علاقوں گلستان جوہربلاک 8، ایف بی ایریابلاک 12، گارڈن ویسٹ، ڈیفنس ویو فیز ٹو، الفلاح، نارتھ کراچی، ملیرہالٹ، رفاع عام اور سعدی ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں سے بجلی بندش کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔

    "اسپیس ایکس” میں نوکری حاصل کرنےوالا 14 سالہ انجینئر

    کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ حالیہ سائیکلون میں ملک میں آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کا اثر بجلی کی پیداوارپر بھی ہوسکتا ہے، آر ایل این جی نہ ملنے پرکراچی میں 2 گھنٹے تک اضافی لوڈ مینجمنٹ کی جاسکتی ہے، لوڈ مینجمنٹ کا اطلاق مستثنیٰ صارفین پر بھی ہوگا۔

  • سمندری طوفان :کراچی میں خطرناک صورت حال نہیں،چیف میٹرولوجسٹ

    سمندری طوفان :کراچی میں خطرناک صورت حال نہیں،چیف میٹرولوجسٹ

    طوفان بائے پر جوائے کے پیشِ نظر کیٹی بندر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے-

    باغی ٹی وی: کھارو چھان کے کئی دیہات زیرِ آب آگئے، بدین کے ساحلی علاقوں میں پانی ماہی گیروں کی بستی کے قریب پہنچ گیا کراچی کےعلاقے ابراہیم حیدری میں پانی کی سطح کئی فٹ تک بلند ہوگئی جبکہ ٹھٹھہ ،سجاول اوربدین کے ساحلی علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں سے ہائی ٹرانسمیشن لائن کے پول گرگئے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    سمندری طوفان،پی آئی اے کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل

    دوسری جانب طوفان کی آمد سے پہلے کیٹی بندر شہر کو خالی کرالیا گیا جبکہ بدین کے ساحلی علاقوں،سجاول سے بھی نقل مکانی شروع ہوگئی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سجاول میں آج صبح 10 سے دوپہر 12 بجے کے درمیان کا وقت خطرے سے بھرپور ہے ۔ جاتی، کھارو چھان اور شاہ بندر کے علاقے خطرے کی زد میں ہیں-

    کراچی ضلع جنوبی کی 36 خطرناک قرار دی گئیں عمارتوں کو خالی کرالیا گیا جبکہ عمارتوں میں قائم دکا نیں سیل کردی گئیں ڈی ایچ اے فیز 8 میں ساحل پر تمام ریسٹورنٹس بند کر دیئے گئے جبکہ آرام باغ ،صدر، لیاری میں شیلٹر ہاؤس قائم کردیے گئے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان 15جون کی دوپہر یا شام کو سندھ میں کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان ٹکرائے گا، طوفان میں ہواؤں کی رفتار 100 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوسکتی ہے کراچی ، حیدرآباد میں 14 سے 16 جون کے درمیان آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    سمندری طوفان ”بائے پرجوائے“ کے پیش نظربھارت کی سات ریاستوں میں الرٹ جاری

    چیف میٹرو لوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے،کراچی میں خطرناک صورت حال نہیں سائیکلون کراچی کے جنوب سے نکل جائےگا، اس وقت سمندری طوفان کا رخ شمال کی طرف ہے جو شمال مشرق کی طرف ہوجائے گا۔ طوفان کیٹی بندر اور بھارتی گجرات سے گزرے گا یا ٹکرائے گا طوفان کے پیشِ نظر کراچی میں آج ہلکی اور درمیانی بارش کا
    امکان ہے۔

    بھارتی محکمہ موسمیات کا بھی کہنا ہے کہ طوفان کی شدت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔طوفان جمعرات کو سوراشٹرا اور پاکستانی ساحلوں کو عبور کرےگا۔

    پاکستان اور بھارت کی جانب پیش قدمی کرنے والے طوفان بپر جوائے ’انتہائی شدید سائیکلونک اسٹارم‘ سے ایک درجہ کم شدید ہوکر ’بہت شدید سائیکلونک اسٹارم‘ میں تبدیل ہوگیا ہے۔

    گزشتہ دنوں طوفان بپرجوائے میں ممکنہ شدت کے باعث کمشنر کراچی نے ساحل پر دفعہ 144 نافذ کی جبکہ مچھلی کے شکار کرنے پر بھی پابندی عائد کئی گئی تاہم منگل کوکراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر کےساحل پر جانے والے17 افراد کو گرفتار کر کے مقدمات درج کرلیے گئے-

    سمندری طوفان ’’بائے پرجوائے‘‘ کا کراچی سے فاصلہ 850 کلومیٹر رہ گیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہبحیرہ عرب میں بننے والا ہولناک طوفان ’بپرجوائے‘ حالیہ تاریخ کا سب سے طویل عرصے تک برقرار رہنے والا سائیکلون ہوسکتا ہے بائے پر جوائے توقع ہے کہ دس روز تک برقرار رہے گااس طرح حالیہ دہائیوں میں پاکستان اور بھارت کے سمندروں میں یہ سب سے زیادہ عرصے تک رہنے والا ایک بڑا اور شدید سائیکلون بھی ہوسکتا ہے۔

    گزشتہ دس برس میں بحیرہ عرب میں بننے والا پہلا سائیکلون اوکچی تھا جو سات روز تک برقرار رہا جو نومبردسمبر 2014 میں تشکیل پایا تھا۔ پھر اپریل مئی 2019 میں سائیکلون فانی کا دورانیہ بھی سات دن ہی تھاجون 2019 کو ایک اور سمندری طوفان وایو 8 روزتک برقراررہا جو بہت شدید نوعیت کا سمندری طوفان تھا۔ پھر کیارنامی سپر سائیکلون کی باری آئی جو 6 روز تک برقرار رہا تھا۔

    واضح رہے کہ صرف بحیرہ عرب میں ہی عالمی تپش، بے قاعدہ موسم اور آب وہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) سے سائیکلون بننے کی تعداد اور ان کی شدت میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

  • طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود

    طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود

    سائیکلون بائپرجوائے تازہ ترین صورتحال،بحیرہ عرب میں سمندری طوفان، پاکستان سے فاصلہ مزید کم رہ گیا،بائپرجوائے سمندری طوفان کراچی کے جنوب سے 410 کلومیٹر دور رہ گیا، محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھٹھہ سے سمندری طوفان کا فاصلہ 400 کلومیٹر دور ہوگیا ہے،بحیرہ عرب میں سمندری طوفان کےباعث 150 سے160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں کراچی سمیت سندھ بھر میں 13 سے 17 جون تک تیز بارشیں ہوں گی

    طوفان بائیپر جوائے کے پیش نظر پاک فوج اور رینجرز ساحلی علاقوں میں موجود ہے مقیمین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مسلسل مصروف ہیں طوفان بائیپر جوائے کے خطرے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ اور سول ایڈمنسٹریشن کا عملہ بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے پاک آرمی کی ریسکیو ٹیمیں دن رات عوام کے درمیان موجود ہیں، عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں پاک فوج کو اپنے درمیان پا کر تسلی اور اطمینان پہنچا،بہت قلیل وقت میں پاک فوج کے دستے ریسکیو کیلئے پہنچے،

    پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے ساحلی پٹی میں متوقع طور پر سمندری طوفان کی زد میں آنے والے دیہات کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، ۔سندھ رینجرزکی جانب سے ریسکیو کاموں میں سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر لوگوں کا انخلاء میں بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ۔بدین کے ملحقہ علاقوں میں مختلف ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔بارشوں اورسیلاب کے پیش نظر وبائی امراض سے بچاؤ اور دیگر طبی امداد کے لیے رینجرز کی جانب سے فری میڈیکل کیمپس قائم کر دیئے گئے۔عوام سے درخواست کی جاتی ہے کہ محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کے سلسلے میں رینجرز اورسول انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرے تاکہ قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سمندری سائیکلون بپرجوائے حقیقت ہے،لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ گھبرائے بغیر ساحلی علاقوں کے لیے پی ڈی ایم اے سندھ اور پی ڈی ایم اے بلوچستان کی ایڈوائزری پر سنجیدگی سے عمل کریں اب تک اس کی بلوچستان کی جانب شدت میں معمولی کمی آئی ہے لیکن سمندری طوفان بہت غیر متوقع ہوتے ہیں، برائے مہربانی حکومت کے مشوروں پر عمل اور متعلقہ مقامی اداروں سے تعاون کریں، اس کی شدت میں فرق ضرور آیا ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے، خاص طور پر سندھ کے ساحل کے قریب علاقوں میں، کراچی میں ہواؤں کے پیمانے اور شدت کے پیش نظر شہری سیلاب کا امکان ہے، چودہ سے سولہ جون تک ٹھٹہ بدین اور دیگر علاقوں میں زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے، اب تک کے موسمیاتی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں طوفان سے کیٹی بندر، ٹھٹھہ اور عمر کوٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے،ہم کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، کراچی ساحل سمندر، عمر کوٹ اور دیگر علاقوں سے لوگوں کا انخلاء کر رہے ہیں،اب تک 43 ریلیف کیمپز قائم کی گئی ہیں،اب تک 40 ہزار سے زائد لوگوں کا انخلاء کیا گیا ہے،طوفان کے رجحان اور شدت کے بارے میں آپ کو مزید آگاہ کرتے رہیں گے،ہم ان علاقوں کو خالی کرانے کوشش کر رہے ہیں، کچھ علاقوں میں ہمیں زبردستی کرنی پڑی کیوں کہ شہریوں کی جان ومال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے،1999 میں بھی ایک شدید طوفان آیا تھا، اس وقت سندھ کے تمام ادارے الرٹ ہیں ریسکیو اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں،لوگوں کی جان و مال عزیز ہے احتیاط کرنی ہوگی،ابھی تک ایویشن ایڈوائز نہیں آئی ہے، طوفان کی 8 سے 12 فٹ لہریں ہوسکتی ہیں،شہری پینک نہ ہوں احتیاطی تدابیر، احتیاط اپنائیں،حکومت سندھ مستقل اقدامات کررہی ہے،ہسپتالوں میں ہائی الرٹ ہے، سٹاف کی چھٹیاں ختم کردی گئیں، طوفان کا رخ اب نارتھ ایسٹ کی طرف ہے،جہاں جہاں پچھلے سال کی تباہ کاریاں ہوئیں وہی علاقے پھر سے متاثر ہورہے ہیں،ابھی تک سیلاب کے فنڈز لوگوں کو نہیں مل سکے تھے،وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ فنڈز منتقل کریں،

    سندھ اسمبلی اجلاس میں سپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، عبداللہ شاہ غازی سمیت کٸی بزرگوں کا تعلق سندھ سے ہے، جلد خوشخبری سنیں گے، طوفان ٹل جاٸے گا۔

    سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ 47ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانا ہے، 22 ہزار سے زاٸد لوگوں کو منتقل کرچکے ہیں تمام لوگوں کو سہولیات مہیا کی جاٸے گی، 14ہزار لوگوں کو حکومت نے منتقل کیا، لوگوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کرتے ہیں،کراچی کے شہری بھی احتیاط کریں ہم لوگوں میں ہراس نہیں پھیلا رہے، لوگ تفریح سے پرہیز کریں، ماہیگیروں کو بھی اپیل کی ہے،

    حفاظتی تدابیر پرعمل کرنا ہی قدرتی آفت کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا راستہ ہے، وزیر خارجہ بلاول
    پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سمندری طوفان کی پیش نظر عوام کو اپیل کی ہے کہ سمندری طوفان ‘بائپر جوائے’ سے کراچی، ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے ساحلی علاقوں کو خطرہ ہے حکومتِ سندھ سمندری طوفان کی پیشِ نظر چوکس ہے اور ہر ممکن حفاظتی اقدام اٹھا رہی ہے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں عوام خصوصاً ساحلی علاقوں کے لوگ انتظامیہ سے تعاون کریں اور بلاتاخیر حفاظتی مقامات پر منتقل ہوں پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں مقیم شہری بھی ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں ماحول معمول پر آنے تک ماہیگیر آئندہ چند دنوں کے لیے کھلے سمندر میں بلکل بھی نہ جائیں طوفانی بارش کے دوران سفر سے گریز کیا جائے، تمام حفاظتی تدابیر پرعمل کرنا ہی قدرتی آفت کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا راستہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان امدادی سرگرمیوں میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹائیں ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں موجود اور عوام سے رابطے میں رہیں پاکستان پیپلز پارٹی سکھ ہوں یا دکھ، عوام کے ساتھ ہے دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ پاکستان کے ہر کونے اور ہر پاکستانی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے:

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ
    سمندری طوفان کے پیش نظر ساحلی پٹی کے شہروں سے لوگوں کا انخلا رات بھر جاری رہا . وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کیٹی بندر کی 13000 آبادی خطرے میں ہے جس میں 3000 کو رات بھر منتقل کیا گیا ہے ،گھوڑا باڑی کی 5000 آبادی کو خطرہ ہے جس میں 100 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے شھید فاضل راہو کی 4000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے جس میں سے 3000 کو منتقل کیا گیا ہے بدین کی 2500 آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 540 ابھی تک محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے ہیں شاہ بندر کی 5000 آبادی سمندری طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے اس لیئے 90 لوگوں کو رات منتقل کیا گیا ہے جاتی کی 10,000 آبادی کو طوفان کا خطرہ ہے – اس لیئے رات بھر 100 لوگوں کو منتقل کیا گیا ،کھاروچھان کی 1300 کی آبادی کو خطرہ ہے جس میں سے 6 لوگ رات بھر منتقل کیے گئے ابھی تک 40800 میں سے 6836 لوگ منتقل ہو چکے ہیں باقی لوگوں کی منتقلی کا سلسلہ دن بھر جاری رہیگا ٹھٹھہ ، بدین، اور سجاول اضلاع کے لوگوں کو بھی انتظامیہ منتقل کرتی رہے گی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا لوگ اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں وزیراعلیٰ نے لوگوں کو اپیل کی کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اگر کسی کے گھر ٹوٹیں گے تو اسے مدد فراہم کرینگے ،کہا جارہابہے کہ کراچی میں کلائوڈ برسٹ ہوسکتا ہے ابھی میں شہر کے دورے سے آیا ہوں ہماری تیاریاں مکمل ہیں ،اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے ،مبل بورڈ جہاں باقی ہیں انہیں جلدی ہٹانے کی ہدایت کی ہے ،کے الیکٹرک سے بھی اپنا سسٹم بہتر رکھنے کا کہا ہے،

    پاکستانی دعا کریں، اللہ تعالیٰ سمندری طوفان سے پاکستان کی حفاظت فرمائے ، فریال تالپور
    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے سمندری طوفان کے پیش نظر عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ حکومت اور عوام کی مربوط کاوشیں قدرتی آفات سے بچنے کی آزمودہ حکمت عملی ہے قدرتی آفت کے نقصان سے بچنے کے لیے عوام پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں حکومتِ سندھ کراچی، ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے ساحلی علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے بائپر جوائے طوفان کے خطرے کے باعث تھرپارکر اور عمرکوٹ سمیت دیگر اضلاع میں بھی حفاظتی اقدام اٹھائے گئے ہیں مذکورہ اضلاع کی انتظامیہ کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، عوام کی جانب سے تعاون بھی مثالی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے تنظیمی عہدیداران و کارکنان اپنے پارٹی چیئرمین کی ہدایات کی روشنی میں انتظامیہ کی جانب سے جاری سرگرمیوں میں ماضی کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کریں مذکورہ اضلاع سے تعلق رکھںے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی بھی اپنے اپنے حلقوں میں عوام اور انتظامیہ سے ہمہ وقت رابطے میں ہیں تمام پاکستانی دعا کریں، اللہ تعالیٰ اس سمندری طوفان سے پاکستان کی حفاظت فرمائے ،آمین

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عام شہریوں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل

  • سمندری طوفان کےاثرات،کراچی میں گرد آلود تیزہواؤں کےساتھ بوندا باندی

    سمندری طوفان کےاثرات،کراچی میں گرد آلود تیزہواؤں کےساتھ بوندا باندی

    سمندری طوفان بائے پر جوائے کے اثرات سے کراچی میں گرد آلود تیز ہواؤں کے ساتھ ساتھ بوندا باندی بھی شروع ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق گرد آلود تیز ہواؤں کے ساتھ ابراہیم حیدری، گاڑڈن، شارع فیصل سمیت صدر اور اس کے اطراف میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے،مشرق اور شمال مشرق سے 40 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں،ہواؤں کی رفتار آج 36 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔

    اس سےقبل ڈائریکٹر سائیکلون وارننگ سینٹر کا کہنا تھا کہ کراچی میں 6 گھنٹے کےاسپیل میں 100 ملی میٹر بارش متوقع ہےسمندری طوفان کے باعث کراچی میں تیز ہواؤں کا بھی امکان ہے، سائیکلون کا قطر کافی بڑا ہے جس میں کراچی بھی آرہا ہے۔

    دوسری جانب وزیر مملکت برائےماحولیات سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ طوفان اس وقت کراچی کے شمال کی طرف 470 کلومیٹر دور ہے، پرانے اور کچے گھروں کو تیز ہواؤں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں چئیرمین این ڈی ایم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ایوی ایشن کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں ہے، سمندری طوفان بپرجوئے حقیقت ہے لوگ ایڈوائزری پرسنجیدگی سےعمل کریں، سمندری طوفان بہت غیرمتوقع ہوتے ہیں عوام حکومت کے مشوروں پرعمل اور متعلقہ مقامی اداروں سے تعاون کریں۔

    انہوں نے کہا کہ طوفان کی شدت میں فرق آیا ہےلیکن احتیاط بہت ضروری ہے کراچی میں ہواؤں کے پیمانے اور شدت کے پیش نظر سیلاب کا امکان ہے، طوفان سے کیٹی بندر،ٹھٹھہ اورعمرکوٹ کے علاقے متاثر ہونے کاخدشہ ہےکراچی میں بھی ہنگامی صورتحال ہےعوام طوفان کی صورتحال کو معمولی نہ سمجھیں، طوفان کےدوران سولرپینل سے دور رہیں اس سے نقصان ہوسکتا ہے، ماہی گیر طوفان کی وارننگ کو سنجیدگی سے لیں،سجاول آدھا اور کیٹی بندر کو تقریباً خالی کرالیا گیا ہے۔

    چئیرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر کا کہنا تھا کہ طوفان کے حوالے سے وقت سے پہلے آگاہ کیا گیا، طوفان 15 جون (دوپہر تقریباً 3 بجے) کیٹی بندر کےعلاقوں سے ٹکرائے گا، جس سے کراچی میں آندھی اور تیز ہواؤں کا خدشہ ہے تمام اداروں کو الرٹ جاری کردیئے گئے ہیں، تقریباً ایک لاکھ افراد کا انخلا کیا جائے گا۔

  • تحریک انصاف سندھ کے رہنماؤں میں پھوٹ پڑگئی

    تحریک انصاف سندھ کے رہنماؤں میں پھوٹ پڑگئی

    تحریک انصاف اختلافات کا شکار,تحریک انصاف سندھ کے رہنماؤں میں پھوٹ پڑگئی

    پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکریٹری مبین جتوئی اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے، مبین جتوئی نے استعفی صدر پی ٹی آئی سندھ حلیم عادل شیخ سے اختلافات کی بنا پر دیا ،مبین جتوئی نے اپنا استعفیٰ سیکریٹری جنرل عمر ایوب کو بھیج دیا،مبین جتوئی کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ من مانے فیصلہ کررہے ہیں، کسی فیصلے میں مشاورت نہیں کی جارہی،جنرل سیکریٹری کو مشاورت کے عمل میں شامل نہ کرنا پارٹی آئین کی خلاف ورزی ہے،آئین میں واضح لکھا ہے کہ پارلیمانی بورڈ جنرل سیکریٹری نوٹیفائی کرے گا، حلیم عادل شیخ کی جانب سے پارٹی کے سینئر اور مختلف عہدوں پر خدمات دینے والوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے، چیئرمین عمران خان کا مشکور ہوں جنہوں نے اعتماد کیا، پارٹی کے لیے ذاتی حیثیت میں اپنی خدمات پیش کرتا رہوں گا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے بعد سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے پارٹی چھوڑنے کا بھی سلسلہ جاری ہے، کراچی سے بھی تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں یہاں تک کہ سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل اور عمران خان کے قریبی علی ذیدی بھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور نئی پارٹی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں،

    دوسری جانب صدر تحریک انصاف سندھ حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ اپنے تمام منتخب چئیرمینز ریزرو سیٹس پر کونسلر کوحافظ نعیم الرحمن کوووٹ دینے کی واضح ہدایات کردی ووٹ نہ دینے یاغیرحاضررہنے والے چئیرمینز کے خلاف کارروائی ہوگی اور ڈی سیٹ کردیا جائے گا

    "استحکام پاکستان پارٹی” نام سے متعلق عون چودھری کی وضاحت

    چھینہ گروپ بھی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کو تیار

    جہانگیرترین کی پارٹی کا نام الیکشن میں رجسڑیشن سے پہلے ہی الیکشن کمیشن اور اعلی عدلیہ میں چیلنج

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کی پریس کانفرنس، فواد چودھری "منہ” چھپاتے رہے، تصاویر وائرل

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔

  • وومن پولیس اسٹیشن سے بھاگنے والی ملزمہ گرفتار

    وومن پولیس اسٹیشن سے بھاگنے والی ملزمہ گرفتار

    نیو کراچی صنعتی ایریا پولیس کی کارروائی، لیاقت آباد وومن پولیس اسٹیشن سے مفرور ملزمہ گرفتار کر لی گئی،

    18 مئی کو وومن تھانہ سے ایک چوری کی الزام میں گرفتار ملزمہ فرار ہوگئی تھی ، ترجمان پولیس کے مطابق افسران بالا کے احکامات پر انکوائری کے بعد ایس ایچ او وومن ارم امجد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ 2 لیڈی کانسٹیبل اور ایک کانسٹیبل سنتری کے خلاف غفلت لاپرواہی کا مقدمہ نمبر 16/2023 دفعہ 223/225 ت پ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا تھا ،مقدمہ الزام نمبر 258/2023 دفعہ 380/454 ت پ میں گرفتار ملزمہ بڑی چالاکی سے پولیس کسٹدی سے فرار ہوئی تھی امروز ایس ایچ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ مسکان دختر عبدالجبار کو گرفتار کر لیا ،ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جا کر ملزمہ کو وومن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    عدالت میں جمع کرائی گئی بیان حلفی کی خلاف ورزی عدالت کی توہین کے مترادف ہو گی،

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیںَشہر میں انسداد جرائم کے دوران ڈاکوؤں سے ضلعی پولیس کے 23 مقابلے ہوئے، فائرنگ کے تبادلے میں 04 ڈاکوؤں کو هلاک جبكہ 30 زخمی ڈاکوؤں سمیت 41 ڈاکوؤں کو گرفتارکیا گیا، گرفتار ملزمان سے 36 مختلف اقسام کا غیر قانونی اسلحہ اور 17 موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں جبکہ برآمدہ اسلحہ کو فارنزک کیلئے روانہ کر دیا گیا ہے۔پولیس نے گزشتہ ہفتے کے دوران کراچی کے ایسٹ، ویسٹ اور ساوتھ ذونز میں چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 1331 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا۔پولیس کیجانب سے منشیات کیخلاف جاری مہم کے دوران مختلف علاقوں سے لاکھوں روپے مالیت کی 58 کلو 337 گرام چرس، 01 کلو 834 گرام ہیروئین، 75 شراب کی بوتلیں اور آئس/کرسٹال برآمد کی گئی۔گرفتار اسٹریٹ کرمنلز سے شہریوں سے لوٹ مار اور دیگر وارداتوں میں استعمال شدہ 149 سے زائد مختلف اقسام کا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن تحویل میں لیا گیا۔کراچی پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر چھینی و چوری شدہ 54 موٹرسائیکلیں اور 07 گاڑیاں برآمد کر کے تحویل میں لی گئیں۔