Baaghi TV

Tag: کرم

  • کرم میں فریقین کے تمام بنکرز گرا دیئے گئے، آئی جی  کے پی کے

    کرم میں فریقین کے تمام بنکرز گرا دیئے گئے، آئی جی کے پی کے

    پشاور: آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہےکہ کرم میں فریقین کے تمام بنکرز گرا دیئے گئے ہیں۔

    انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ کرم میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے فریقین کے تمام بنکرز مکمل طور پر مسمار کر دیے گئے ہیں امن کے اگلے مرحلے میں عوام سے رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کروایا جائے گا جبکہ اسلحہ نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ٹل تا پاراچنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے 10 سیکیورٹی چوکیاں قائم کی جائیں گی تاکہ عوام کے لیے آمد و رفت محفوظ بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کرم میں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بنکرز گرائے گئے تھے، تاہم موجودہ کارروائی کو مکمل اور حتمی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس اور دیگر ادارے علاقے میں قیام امن کے لیے مربوط کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کی جنگی ذہنیت کا کھلا ثبوت ہے،شرجیل میمن

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

  • کرم میں فریقین کے درمیان 8 ماہ کیلئے امن معاہدہ ہوگیا

    کرم میں فریقین کے درمیان 8 ماہ کیلئے امن معاہدہ ہوگیا

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں فریقین کے درمیان 8 ماہ کیلئے امن معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : جرگہ ممبر حاجی کمال نے کہاکہ فریقین کے درمیان امن معاہدے کے موقع پر ڈپٹی کمشنرکرم اشفاق احمد اور دیگر حکام موجود تھے۔

    اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اشفاق احمد کا کہنا تھاکہ فریقین میں امن معاہدہ ہونے سے عید کی خوشیاں دوبالاہوگئیں،ایک اور رکن حاجی اصغر کے مطابق سڑک کھولنے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔

    افغان حکومت کے سامنے دہشتگردی کا مسئلہ مؤثر طریقے سے اٹھانےکا فیصلہ

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،بجلی گھر کے تمام 17 پیداواری یونٹ بند

    بلوچستان میں اینٹیمنی دھات کے بڑے ذخائر دریافت

  • بگن میں قافلے پر حملہ، 4 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید، صورتحال کشیدہ

    بگن میں قافلے پر حملہ، 4 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید، صورتحال کشیدہ

    بگن: ضلع کرم کے علاقے بگن میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر گزشتہ روز کئے گئے حملے میں چارسیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک ڈرائیور جاں بحق ہو ا، جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق شہداء میں لانس نائک قابل خان، لانس نائک عبدالرحمٰن، لانس نائک یاسین، سپاہی ثقلین اور سپاہی دانش شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں حوالدار عظیم، نائک توصیف، نائک نیاز محمد اور لانس نائک ہارون شامل ہیں،حملے کے دو ران حملہ آوروں نے سیکیورٹی فورسز کی 3 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

    سیکیورٹی اہلکار علاقے میں پھنسے ہوئے ڈرائیوروں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کر رہے تھے کہ اچا نک مسلح حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی حملے کے نتیجے میں ایک ڈرائیور جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوئے فورسز کی حملہ آوروں پر جو ابی فائرنگ کے دوران دو خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ٹورنٹو میں طیارہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ،1 بچے سمیت 15 افراد زخمی

    حملے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں سیکیورٹی قافلے میں شامل 60 ٹرک ٹل سے پاراچنار جا رہے تھے، جن میں سے 9 کو بحفا ظت محصور علاقے میں پہنچا دیا گیا جبکہ 20 ٹرک واپس ٹل بھجوا دیئے گئے۔

    ڈرائیور گل فراز کے مطابق مساجد سے گاڑیاں لوٹنے اور مال غنیمت حاصل کرنے کے اعلانات شروع ہوئے تو ہر طرف سے لوگ نکلنا شروع ہوگئے اور ٹرکوں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیاپولیس کے مطابق، واپس کیے گئے ٹرکوں میں سے بیشتر کو لوٹ لیا گیا تھا اور تقریباً 30 ٹرکوں سے لوٹ مار کے بعد متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

    ملک کے بالائی علاقوں میں کل نیا موسمیاتی نظام داخل ہوگا ،محکمہ موسمیات

    صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جہاں جہاں گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہاں بھرپور کارروائی کرے گی۔

  • کرم روڈ پر 120 سکیورٹی پوسٹیں قائم کی جائیں گی،خیبر پختونخوا کابینہ

    کرم روڈ پر 120 سکیورٹی پوسٹیں قائم کی جائیں گی،خیبر پختونخوا کابینہ

    پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے کرم روڈ کی سکیورٹی کے لیے خصوصی فورس کے قیام کی منظوری دی ہے جس کے تحت 407 اہلکار بھرتی کئے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں کابینہ کو ضلع کرم میں پائیدار امن کے لیے صوبائی حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال اکتوبر سے کرم میں بدامنی کے مختلف واقعات میں 189 افراد جاں بحق ہوئے، کرم میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے صوبائی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں امن معاہدہ طے پایا، علاقے میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی کے لیے اب تک 718 گاڑیوں پر مشتمل 9قافلے بھیجے گئے ہیں اس وقت علاقے میں اشیائے ضروریہ کی قلت نہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارتی صحافیوں کو ویزے جاری

    حکام نے کابینہ کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کرم کے لیے صوبائی حکومت کی 2 ہیلی کاپٹرز کی 153 پروازوں کے ذریعے تقریباً 4 ہزار افراد کو ائیر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی، علاقے میں اب تک 19 ہزار کلوگرام ادویات کرم پہنچائی گئی ہیں، کابینہ کے فیصلے اور امن معاہدے کے تحت 151 بنکرز کو مسمار کیا جا چکا ہے 23 مارچ تک علاقے میں قائم تمام بنکرز کو مسمار کرنے کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے،کرم روڈ پر 120 سیکیورٹی پوسٹیں قائم کی جائیں گی سیکیورٹی پوسٹوں کو 764 ملین روپے مالیت کا ضروری سازو سامان فراہم کیا جائے گا۔

    ہانیہ عامر بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار

  • لوئر کرم:قافلے پر حملہ، شدید فائرنگ،امدادی گاڑیوں میں لوٹ مار

    لوئر کرم:قافلے پر حملہ، شدید فائرنگ،امدادی گاڑیوں میں لوٹ مار

    چار خیل: لوئر کرم کے علاقے چارخیل میں اشیائے ضروریہ کے قافلے پر مسلح افراد کی جانب سے آج ایک بار پھر فائرنگ کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑیوں پر فائرنگ کی اور لوٹ مار کی، اس دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری ردعمل دیا گیا اور لوٹ مار میں ملوث عناصر پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جوابی فائرنگ کی گئی عینی شاہدین کے مطابق سات مقامات سے حملہ آوروں نے قافلے پر حملہ کیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق ٹل سے 130 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ روانہ ہوا، جس میں 5 آئل ٹینکر بھی موجود ہیں، لوئر کرم میں قافلے پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے، جس کے بعد فائرنگ تاحال جاری ہے جب کہ انتظامیہ نے قافلے کو رواں دواں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    مفتی قوی مجھے نہیں سنبھال پائیں گے،راکھی ساونت

    سرکاری ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے چارخیل کے مقام پر قافلے پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد گاڑیوں کو لوٹا جا رہا ہ، ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم لوٹنے والوں پر فائرنگ کی گئی 40 گاڑیاں ٹل سے پاراچنار کی جانب جا رہی تھیں۔

    اسٹنٹ کمشنر ٹل سید احسان علی شاہ نے بتایا کہ 113 گاڑیاں ٹل سے روانہ ہوئی تھیں، جن میں سے کوئی بھی گاڑی ابھی تک واپس نہیں آئی، 17 سے 18 گاڑیاں ابھی بھی ٹل میں موجود ہیں جنہیں روک دیا گیا ہے۔

    بد تہذیبی، بدتمیزی ،بغض اور انتقام کوسیاست بنادیا گیا، نواز شریف

    جبکہ ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر کے مطابق تحصیل ٹل سے کرم کے لیے روانہ کئے گئے قافلے میں اشیائے خوردونوش سے لدی 129 سے زائد مال بردار گاڑیاں شامل ہیں، ابتدائی طور پر 40 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم کی جانب روانہ کیا گیا۔

    روانگی سے قبل ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ کانوائے کی سیکیورٹی کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ راستے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    سندھ نے ہمیشہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو مسترد کیا ہے،شرجیل میمن

    ادھر کرم میں بنکرز کی مسماری کا عمل بھی جاری ہے لوئر کرم کے علاقوں بالش خیل اور خار کلی میں اب تک 117 بنکرز جبکہ اپر کرم کے گاؤں پیواڑ اور تری منگل میں 66 بنکرز کو مسمار کیا جا چکا ہےڈپٹی کمشنر کے مطابق مجموعی طور پر اب تک 183 بنکرز گرا دیئے گئے ہیں امن معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ضلع کرم چارخیل میں قافلے پر حملے کی اطلاع پر فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

    سندھ دریا سے نہریں نکالنا نامنظور، 23 فروری کو سندھ،پنجاب بارڈر پر دھرنے کا اعلان

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ لوئر کرم میں اوچت و ڈاڈ قمر میں بھی قافلے پر فائرنگ کی گئی ہے، 64 گاڑیوں کا قافلہ ٹل سے روانہ ہوا تھا، فائرنگ سے جانی نقصان کا خدشہ ہے، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک ڈرائیور زخمی ہواہے۔

  • امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    پارا چنار کے لیے جانے والا 61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ بگن کو پار کرتے ہوئے کرم ایجنسی پہنچ گیا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 61 گاڑیوں پر مشتمل سامانِ رسد کا قافلہ پارا چنار کے لیے آج دوپہر ایک بجے روانہ ہوا جو 16 جنوری کو ہوئے حملے کے مقام بگن کو کراس کر کے کرم کے اندر داخل ہوگیا۔ قافلے میں آٹا، چینی، پھل، سبزیاں اور ادویات پر مشتمل سامان شامل ہے، قافلے کی حفاظت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز بھی معاونت کے لیے موجود ہیں۔ڈی پی او ہنگو محمد خالد کے مطابق ٹوٹل 61 گاڑیوں کا قافلہ کرم کے اندر داخل ہو گیا ہے، آر پی او کوہاٹ عباس مجید اور کمشنر کوہاٹ خود قافلے کی نگرانی کررہے ہیں، قافلے میں مال بردار گاڑیوں سمیت ادویات اور اشیائے ضرورت کی گاڑی بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کرم قافلے کیلئے بہترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن میں تمام شر پسندوں کی مکمل صفائی پر کام شروع ہو چکا ہے۔کرم کے علاقے بگن میں مسجد کی تزئین و آرائش اور علاقے کی صفائی مہم کا آغاز عوام اور انتظامیہ کے باہمی تعاون کی علامت ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم میں فریقین کے دستخط شدہ امن معاہدے کے مطابق آئندہ بھی کسی واقعے کے نتیجے میں شر پسندوں کے خلاف بلاتفریق سخت کارروائی کی جائے گی۔افواج پاکستان اور مقامی افراد کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت ہے۔ بگن میں اب تک جاری کامیاب آپریشن میں سول انتظامیہ، پولیس، سیکیورٹی اداروں اور مقامی مشران کی شاندار ہم آہنگی کے ذریعے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

    امارات کے اسکولوں میں 9 دن کی چھٹیاں ہو گئیں

    روزانہ 2ہزار پاکستانی بہتر روزگار کیلئے ملک سے جا رہے ہیں

    سیف علی خان کی جان بچانے والے رکشہ ڈرائیور سے ملاقات، بڑی پیشکش

    30 سال کے راز ثبوتوں کے ساتھ محفوظ ہیں، گواہی نہیں دوں گا،ملک ریاض

  • کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم کے علاقے بگن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے متاثرین کے لیے ہنگو میں عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو مناسب پناہ گزینی اور امدادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ بگن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے محمد خواجہ کے علاقے میں عارضی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کیمپ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ہزاروں خاندانوں کے لیے خیمہ بستی قائم کی جائے گی۔ کیمپ میں رہائش کے علاوہ دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا جائے گا، جن میں اسکول، مساجد، بی ایچ یو (بنیادی صحت مرکز) اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہوں گی۔ڈی سی ہنگو گوہر زمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے خیموں اور دیگر امدادی سامان کے 22 ٹرک فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ٹرک کا سامان ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کو موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کیمپ کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر پناہ اور ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی سی ہنگو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کرم کے متاثرین کو جو نقل مکانی کر چکے ہیں، انہیں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

    یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں کرم کے علاقے بگن میں کھانے پینے کا سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد حکام نے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جا سکے اور مقامی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    کمشنر اور آر پی او کوہاٹ کا کُرم کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے۔ کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ کرم میں شر پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو۔شر پسند کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں۔ امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

  • کرم میں آپریشن شروع، ایف سی قلعے سے فورسز کی شیلنگ

    کرم میں آپریشن شروع، ایف سی قلعے سے فورسز کی شیلنگ

    صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاقہ کرم میں آپریشن شروع ہونے کے بعد ایف سی قلعے سے فورسز کی شیلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لوئر کرم میں تجارتی قافلے پر فائرنگ اور اہلکاروں کی شہادت کے بعد سکیورٹی فورسز نے بگن میں داخل ہوکر سرچ آپریشن شروع کردیا، فورسز نے پہاڑوں پر دہشتگردوں کے مورچوں کا کنٹرول سنبھال لیا، بگن میں کرفیو نافذ کردیا گیا، کسی کو بھی باہر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی جب کہ ایف سی قلعے سے شیلنگ بھی کی گئی، آج رات تک دیگرعلاقوں میں بھی سرچ آپریشن متوقع ہے۔ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لوئر کرم کے چار ویلج کونسلز میں آپریشن کیا جائے گا جس کے لیے فورسز نے کئی مورچوں پر کنٹرول سنبھال لیا ہے.

    فورسز کی بھاری نفری لوئر کرم میں موجود ہے جب کہ لوئر کرم کے رہائشیوں نے اور قبائل نے آپریشن کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ یکطرفہ فوجی آپریشن ہرگز قبول نہیں، کسی صورت میں بھی بگن اور گردونواح میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے اور نہ نقل مکانی کریں گے، امن معاہدے کے بعد اب تک دس سے زیادہ خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں لیکن حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، اگر راستوں کو نہیں کھولا اور تحفظ کو یقینی نہیں بنایا تو امن معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے اور معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر اپنا لائحہ عمل خود تیار کریں گے۔

    معلوم ہوا ہے کہ کرم میں ٹل پاراچنار مین شاہراہ آج 110ویں روز بھی ہر قسم آمدورفت کیلئے بند ہے جس کے باعث اشیائے ضروریہ نہ ملنے سے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بنکرز کی مسماری کا عمل تاخیر کا شکار ہے، دونوں فریقین کے اب تک آٹھ بنکرز مسمار ہوچکے ہیں، لوئر کرم میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں بے گھر ہونے والوں کیلئے کیمپ قائم ہوں گے۔

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    آئی پی ایل اتنی خاص کیوں ہے؟، مارک بچر کی انگلش بورڈ پر کڑی تنقید

    گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کل ہوگا

    جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

  • کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے ہیں

    دونوں فریقین بجائے اس کے کہ امن کمیٹیوں کی بات مانتے اور لڑائی روکتے، وہ سیکورٹی فورسز کو الزام دینے میں مصروف ہیں تاکہ اصل مسئلے کے حل سے توجہ ہٹ جائے-مگر یہ بات طے ہے کہ اگر امن کمیٹیوں کام نہ کریں اور اگر مقامی لوگ امن معائدے پے عمل درآمد نہ کروائیں تو پھر ریاست سے گلہ نہیں بنتا-

    آخر شر پسند عناصر گیم کیا کھیل رہے ہیں ؟؟
    16 جنوری 2025 کو لوئر کرم کے علاقے بگن کے قریب سامان رسد لے کر جانے والے قافلے پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا- اس سے پہلے 4 جنوری 2025 کو اسی علاقے میں ڈی سی کُرم کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا-ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جو کہ جلنے والی گاڑیوں کے ساتھ تھے اور جن کو شر پسندوں نے اغوا کر کے جان بحق کر دیا -اس کے علاوہ دو سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

    لوئر کرم میں پچھلے دو ہفتے میں امن معائدے کی دو بار خلاف فرضی کی جا چکی ہے –
    اگر دیکھا جائے تو شر پسند عناصر شائد اسلحہ نہ جمع کروانے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں-شر پسند عناصر شائد قومی بنکر بھی نہیں تباہ ہونے دینا چاہتے-شر پسند عناصر درحقیقت اس افرتفری اور ان خراب حالات سے حقیقی طور پے فائدہ اٹھاتے ہیں-تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اگر ریاست نے آہنی ہاتھ کے ساتھ کاروائی شروع کر دی تو معصوم لوگوں کی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہو گی -اگر اس علاقے کی امن کمیٹیاں اپنے وعدے کا پاس نہ رکھتے ہوئے مقامی شر پسندوں کو فائرنگ سے باز نہیں رکھ سکی تو پھر امن معائدے کی شرائط پوری کرتے ہوئے ریاست اس علاقے کے لوگوں کے compensation کے پیسے روکنے اور باقی کارروائیوں کا اختیار رکھتی ہے-

    سوال یہ ہے کیا امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر اس مخصوص علاقے کے شر پسندوں کے خلاف ریاست کوئی ایکشن لے گی؟
    یاد رہے، یکم جنوری کو ہونے والے امن معاہدے میں امن کمیٹیوں نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کی گارنٹی دے رکھی ہے۔واضح رہے کہ امن معاہدے کے مطابق، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس کے علاقے میں کارروائی کی تجاویز دی گئی تھیں۔
    اب چونکہ کچھ لوگ اس معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں ، لہٰذا ریاست سے اپیل کی جاتی ہے کہ امن کے دشمنوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدِ باب کیا جا سکے۔اس سے قبل امن دشمن عناصر کی ان حرکات کی وجہ سے پاڑا چنار کی اہم شاہراہ کئی ہفتوں سے بند ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ریاست سے گزارش ہے کہ ان امن دشمنوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ سڑکیں کھولی جا سکیں اور عوام کی زندگی کو سہل بنایا جائے.

    میرپور ماتھیلو:صحافت کی آڑ میں منشیات کا کاروبار کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • کرم،امدادی سامان لے جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ حملہ

    کرم،امدادی سامان لے جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ حملہ

    پاڑا چنار سامان لیجانے والے قافلے پر بگن کے قریب راکٹ لانچرز سے حملہ کیا ہے

    سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی۔کرم میں کانوائے پر حملہ ہیلی کاپٹر سے نگرانی شروع کر دی گئی ہے، حملے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور بھی مارے گئے ہیں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کرم کے مطابق آج کرم سے بگن جانے والے تیسرے امدادی قافلے پر دہشتگردوں نے راکٹوں سے حملہ کیا اور فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید ہوگیا،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق حملے سے قافلے میں شامل 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے جب کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور 10زخمی بھی ہوئے۔

    امدادی سامان لیجانے والے قافلے میں 35 گاڑیاں شامل ہیں،بگن میں کرم جانے والے تیسرے قافلے پر راکٹ فائر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قافلے کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اس افسوسناک واقعے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق، راکٹ حملے کے بعد قافلے کی گاڑیوں نے فوری طور پر واپس ٹل روانہ ہونا شروع کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ چھپری چیک پوسٹ سے بھی مال بردار گاڑیاں واپس آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ کرم جانے والا تیسرا قافلہ تھا، اور اس میں شامل گاڑیاں مختلف نوعیت کے سامان کے ساتھ کرم روانہ ہو رہی تھیں۔ انتظامیہ نے قافلے کی سیکیورٹی کے لیے پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر رکھی تھی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر حالیہ دنوں میں مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے، ضلع کرم کی انتظامیہ کے مطابق، تیسرے قافلے کے پہلے مرحلے میں 35 مال بردار گاڑیاں روانہ کی گئیں، جن میں دوائیں، سبزیاں، پھل اور کھانے پینے کی اشیاء شامل تھیں۔ اس کے علاوہ، دوسرے مرحلے میں مزید گاڑیاں کرم روانہ ہونے کا امکان تھا، تاہم راکٹ حملے کے بعد ان گاڑیوں کی روانگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ