Baaghi TV

Tag: کرم

  • وفاقی وزیرداخلہ   کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

    اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیرداخلہ نے مولانا فضل الرحمن کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا کے علاقے کرم میں قیام امن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کرم میں امن کے قیام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور بعض عناصر نے جان بوجھ کر کرم مسئلے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کی بہتری کے لئے گرینڈ جرگہ کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا گیا ہے۔

    محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے دیرینہ نیاز مندی ہے اور پاکستان کی سیاست میں ان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پارا چنار میں امدادی اشیاء کے قافلوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور کرم میں امن و سکون کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ملکی مفاد میں مزید تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

  • پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس اور اسپیشل فورس  بنانے کا فیصلہ

    پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس اور اسپیشل فورس بنانے کا فیصلہ

    کُرم: خیبر پختونخوا حکومت نے ٹل پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹس قائم کرنے اور اسپیشل ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دستاویز کے مطابق محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا وفاقی حکومت سے پاراچنار میں ایف آئی اے سائبر ونگ قائم کرنے کی درخوا ست کرے گی، ٹل پاراچنار روڈ کی حفاظت کیلئے اسپشل پوسٹس فورس قائم کی جائے گی پولیس چیک پوسٹوں کیلئے درکار فنڈز سے متعلق حکومت کو آگاہ کیا جائے گا، فورس میں 399 ایکس سروس مین کو بھرتی کیا جائے گا، یہ فورس ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو جواب دے ہوگی۔

    دستاویز کے مطابق حکومت کرم کے رہائشیوں سے اسلحہ خریدنے پر غور کرے گی، کرم میں اسلحہ لائسنسز کے جلد اجرا کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا، ضلع کرم میں تمام بنکرز کو یکم فروری تک ختم کیا جائے گا، بنکرز کا خاتمہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کیا جائے گا کرم سے اپیکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں یکم فروری تک اسلحہ جمع کیا جائے گا، اس اسلحہ کا ڈیجٹلائز ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، اسلحہ کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کے ذمہ ہوگی۔

  • کرم کے کشیدہ علاقوں میں کرفیو نافذ

    کرم کے کشیدہ علاقوں میں کرفیو نافذ

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے زیادہ کشیدہ علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا جب کہ غذائی اجناس کا قافلہ آج بھی علاقے میں روانہ نہیں کیا جاسکا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلع کرم کی انتظامیہ نے لوگوں کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کردی جب کہ ضلع بھر میں دفعہ 144 کے تحت ہرقسم کے اجتماعات پر پابندی پہلے ہی عائد کی جاچکی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے امدادی قافلہ جلد ازجلد پاراچنار پہنچایاجائے گا، پولیس نے ڈپٹی کمشنر پر حملے کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، مزید گرفتاریوں کے لیے علاقے میں کریک ڈاؤن کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت خیبر پختونخوا نے ضلع کرم ایجنسی کے علاقے لوئر کرم میں امن معاہدے پر دستخط کرنے والے مشران کو کہا تھا کہ وہ حملے کے مجرم اس کے حوالے کریں بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی اور ہر قسم کا معاوضہ اور امداد روک دی جائے گی۔اس کے علاوہ ضلع کرم میں موجودہ حالات کی پیش نظر دفعہ 144 کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے تحت ضلع میں اسلحے کی نمائش پر پابندی ہوگی۔یاد رہے کہ بگن چار خیل کے علاقے میں 21 نومبر کو مسافروں کے قافلے پر فائرنگ میں 50 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد کرم ایجنسی کے علاقے اپر کرم، بگن اور پارا چنار میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے، اس دوران فریقین کے مابین مسلح تصادم میں کئی درجن افراد جاں بحق ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب اسکالرشپ پروگرام 100 ارب تک بڑھانے کا اعلان

    کراچی انٹر بورڈ کا اسکروٹنی فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    سندھ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا آر بی او ڈی ٹو منصوبے پرکام بند پڑے ہونے کا نوٹس

    کرم امن معاہدے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر 3 افراد کیخلاف مقدمہ درج

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    کرام (خیبر پختونخوا) میں 4 جنوری کو ڈی سی کرم سمیت 7 افراد پر حملے میں ملوث دو مبینہ شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    4 جنوری کو لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر کے ڈی سی کرم سمیت 7 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس حملے کے بعد، کوہاٹ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4 جنوری کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ فرقہ ورانہ انتشار کی حمایت کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے مجرموں کی حوالگی میں عدم تعاون کیا گیا تو اس کے خلاف کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ اس دوران، مقامی آبادی کو عارضی طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ کارروائی کے دوران شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مختلف خوارج (دہشت گرد) کے سر کی قیمت بھی مقرر کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔ یہ اقدام علاقے میں قانون کی بالادستی اور امن قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب، 4 جنوری کے حملے کے بعد کرم کے علاقے میں ایک قافلہ جو تین ماہ بعد علاقے میں کھانے پینے کا سامان لے کر آ رہا تھا، اسے روک دیا گیا۔ اس قافلے میں شامل افراد اور سامان کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

  • کرم میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    کرم میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    خیبر پختونخوا حکومت نے کرم میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی ،اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نےقبائلی ضلع کرم میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا۔ دفعہ 144 کرم میں سرکاری قافلے پر فائرنگ اور ناقص امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔ کرم میں دفعہ 144 کا اعلامیہ محکمہ داخلی امور خیبر پختونخوا نے جاری کر دیا۔جس میں کہا گیا ہے کہ کرم میں ہر قسم اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہوگی، پانچ سے زائد افراد ایک جگہ پر جمع نہیں ہو سکیں گے ، دفعہ 144 دو ماہ کے لیے مکمل طور پر نافذ العمل ہوگا۔دوسری جانب کوہاٹ اعلی سطح اجلاس ختم ہوگیا، ضلع کرم میں نامزد دہشت گردوں کو ہر صورت گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سہولتوں کاورں کی بھی نشاندہی کرکے شامل مقدمہ کیا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فورسز کے ساتھ اس معاہدہ پر من وعن عمل کیا جائے گا ، جلد ازجلد ٹل تہ پارہ چنار رو ڈ کو محفوط بنانے کے لیے ایپکس کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق عمل ہوگا، پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادروں کے تعاون سے امن وامان قائم کرنے کے لیے ٹھوص اور سخت اقدامات اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔فیصلہ کیا گیا کہ کرم میں جاری کشیدگی میں ملوث عناصر کو کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑا جائے گا۔

    سیالکوٹ نے قائداعظم ٹرافی جیت لی

    ٹریفک کی روانی میں بہتری کیلئے لاہور میں نئے چھ ٹریفک سیکٹرز

  • ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود تبدیل، محمد اشفاق نئے ڈی سی تعینات

    ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود تبدیل، محمد اشفاق نئے ڈی سی تعینات

    پشاور:لوئر کرم کے علاقے بگن میں فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کی جگہ محمد اشفاق کو نیا ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: خیبر پختونخوا کے اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے نئے ڈپٹی کمشنر محمد اشفاق کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود اور 3سکیورٹی اہل کار زخمی ہوگئے تھے،فائرنگ کا نشانہ بننے والے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کو زخمی حالت میں تحصیل لوئر علیزئی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، انہیں ایک گولی کندھے اور دو ٹانگوں پر لگی تھیں۔

    سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    دوسری جانب، سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کرکے ڈپٹی کمشنر اور 3 سیکیورٹی اہل کاروں کو زخمی کرنے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گری (سی ٹی ڈی) میں درج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہےپولیس کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

    حکومت کا پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی پر عمل درآمد سخت کرنے کا فیصلہ

  • ڈپٹی کمشنر کرم پر حملہ کرنے والے 5 افراد کی شناخت ہوگئی

    ڈپٹی کمشنر کرم پر حملہ کرنے والے 5 افراد کی شناخت ہوگئی

    کرم: ڈپٹی کمشنر کرم پر حملہ کرنے والے 5 افراد کی شناخت ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : حکام کے مطابق ڈی سی کرم پر حملہ کرنے والے ملزمان کی تعداد 5 ہے جبکہ ملزمان کے علاوہ سہولت کار بھی ملوث ہیں جن کی شناخت ہوگئی ہے جس کے بعد کے پی حکومت نے پانچوں ملزمان اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے کوہاٹ میں آج اتوار کے روز اہم سیکورٹی اجلاس منعقد ہوگا، جس کی صدارت آئی جی پی کریں گے، آر پی او اور ڈی پی او بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، علاوہ ازایں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری بھی آج کوہاٹ کا دورہ کریں گے، اہلیان علاقہ اور جرگہ مشران سے بھی ملزمان کی گرفتاری میں مدد لی جائے گی۔

    خدارا ! مساجد کو چرچ نہ بنائیں

    اس سے قبل وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کرم کی صورتحال پر رات گئے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن معاہدے کے بعد علاقہ مکین معاہدے کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، فائرنگ کے واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے فوری گرفتار کیا جائے گا۔

    امریکہ میں کوئی بھی ادارہ ٹیسلا کا سائبر ٹرک نہیں خرید رہا

    اجلاس میں دہشتگردوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیاکہ کسی دہشت گرد سے نہ رعایت کی جائے گی نہ اُن کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔

    خیال رہے کہ آج صبح لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے ڈی سی کرم سمیت سات افراد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد کرم کیلئے تین ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا تھا۔

    کمرے میں جلتے کوئلوں کی وجہ سے دم گھٹنے سے پانچ بچے جاں بحق

  • خیبرپختونخوا حکومت کا  ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت کا ڈی سی پر حملے کے ذمے داروں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر کُرم پر حملے کے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت کرم کی صورتحال پر رات گئے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی خیبر پختونخوا اور دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں بگن واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بگن میں ڈپٹی کمشنر کُرم اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کا نوٹس لیا گیا۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ امن معاہدے کے بعد علاقہ مکین معاہدے کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، فائرنگ کے واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے فوری گرفتار کیا جائے گااجلاس میں دہشتگردوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیاکہ کسی دہشت گرد سے نہ رعایت کی جائے گی نہ اُن کی معاونت کرنے والوں کو چھوڑا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کرم کے علاقے بگن میں سرکاری گاڑی پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور علاقے میں مکمل امن کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ، علی امین گنڈا پور نے کرم امن معاہدے کے بعد اس طرح کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کرم میں امن کے لئے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ اور مذموم لیکن ناکام کوشش ہے اور یہ ان عناصر کی کارستانی ہے جو کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے لیکن صوبائی حکومت کرم میں امن کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

    علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کرم کے لوگ پرامن ہیں اور وہ علاقے میں امن چاہتے ہیں، کچھ شرپسند عناصر کرم میں امن کی بحالی نہیں چاہتے اور ان عناصر کی کوشیں کامیاب نہیں ہوں گی، صوبائی حکومت اور علاقے کے لوگ مل کر ایسے شرپسند عناصر کی مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے، علاقے کے لوگوں ان عناصر کی نشاندہی اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، اس افسوسناک واقعے سے کرم میں امن کی بحالی کے لئے حکومت اور علاقہ عمائدین کی کوششیں متاثر نہیں ہوں گی اور صوبائی حکومت علاقہ عمائدین کے تعاون سے علاقے میں مکمل امن کی بحالی تک کوششیں جاری رکھے گی۔

    واضح رہے کہ آج صبح لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے ڈی سی کرم سمیت سات افراد زخمی ہوگئے، کرم کیلئے تین ماہ بعد کھانے پینے کا سامان لے جانے والا قافلہ روک دیا گیا،حکومت کو موصول ابتدائی رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران شرپسندوں نے ڈی سی اور سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کی، بیرسٹر سیف نے کہا کرم امن معاہدہ برقرار ہے، مقامی لوگوں کے ملوث ہونے پر حتمی طور پر ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا-

  • پوری کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کیا جائے،سربراہ اہل سنت والجماعت

    پوری کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کیا جائے،سربراہ اہل سنت والجماعت

    کراچی: سربراہ اہل سنت والجماعت مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے پوری کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کیا جائے۔

    باغی ٹی وی: لسبیلہ چوک پر اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنماؤں نے اہم پریس کانفرنس کی، مرکزی صدر اہل سنت والجماعت پاکستان مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ہمارے دھرنوں کا مقصد پارا چنار کرم کا مسئلہ تھا، ہمیں تو پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ کرم میں ظالم کون اور مظلوم کون ہے،کرم ایجنسی میں تین سب ڈویژن ہیں، دو سب ڈویژن میں اہل سنت برادری کی بڑی تعداد موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج تک اپر کرم میں فوجی آپریشن نہیں ہوا، کرم ایجنسی میں بشیرہ گاؤں ہے جہاں شدت پسندوں نے حملہ کیا، ہمارے بچوں، عورتوں اور نوجوانوں کو قتل کیا گیا، ہمارے کانوائے پر حملہ کیا گیا، بگن گاؤں کو پورا جلا دیا گیا، بگن گاؤں کو لوٹا گیا، بچوں کو ذبح کیا گیا، عورتوں کی عزتوں کو لوٹا گیا، کرم ایجنسی میں مساجد کو جلایا گیا، قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی، میں صحافیوں کو دعوت دیتا ہوں، آئیں میرے ساتھ کرم ایجنسی چلیں۔

    مریم نواز مساوی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

    مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ہماری ایپکس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کرم ایجنسی سے اسلحہ جمع کیا جائے، کچھ لوگوں نے وہ اسلحہ دینے سے انکار کردیا اور اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کیا، شہر کراچی بند کردیا، لوگوں کی زندگی مفلوج کردی، کچھ لوگوں نے غیر ملکی اسلحہ چھپانے کے لیے دھرنوں کی آڑ لی، میں کہتا ہوں یہ ملک کو بدنام کرنے کے لیے پوری سوچی سمجھی سازش ہے، یہ لوگ پاکستان کو عراق اور شام بنانا چاہتے ہیں۔

    مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی اور خیبرپختونخوا حکومت میں شامل مجلس وحدت المسلمین نے کراچی کو جام کیا، کراچی لاوارث نہیں کسی کو بدمعاشی کی اجازت نہیں دیں گے، شام کی تنظیم کے جھنڈے پارہ چنار میں لہرائے گئے، کراچی میں دھرنے ختم نہیں مؤخر کر رہے ہیں۔

    ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کر سکتے ہیں، سست نہیں کر سکتے،چیئرمین پی ٹی اے

    مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی پرچم کو پاؤں تلے روندا، ہمارے بزرگوں نے اس ملک پاکستان کو بڑی قربانیاں دینے کے بعد حاصل کیا، ایم کیو ایم کے لوگوں نے پاکستان کے پرچم کی بے حرمتی کی، پی ٹی آئی نے نو مئی کو پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی، جنہوں نے اس ملک سے غداری کی آج ملک میں ان کا حال کیا وہ پاکستانی عوام کے سامنے ہے، انہوں نے پاکستان میں غیر ملکی کالعدم تنظیموں کا پرچم لہرایا ہےانہوں نے اس ملک پاکستان سے غداری کی ہےہمارا مطالبہ ہے پوری کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن کیا جائے۔

    گلوکار ارمان ملک اور فیشن بلاگر آشنا شروف نے شادی کر لی