Baaghi TV

Tag: کرم

  • کُرم کشیدگی: کوہاٹ گرینڈ جرگے میں  فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے

    کُرم کشیدگی: کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے

    پشاور: کُرم کے معاملے پر کوہاٹ گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :کوہاٹ میں ضلع کرم کی صورتحال پر جاری گرینڈ جرگہ ختم ہوگیا ہے اور فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں، جرگہ رکن ملک ثواب خان نے تصدیق کی ہےکہ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، فریقین کی جانب سے45 ،45 افراد نے دستخط کیے ہیں، فریقین 14نکات پر مشتمل معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں، معاہدے کے تحت فریقین کےدرمیان سیز فائر کا فیصلہ ہوا ہے، فریقین مورچے ختم اور اسلحہ جمع کرائیں گے۔

    وفاقی کابینہ اجلاس:میڈیکل آلات کی قیمتوں کی تعین کیلئے کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری

    ثواب خان کا کہنا ہےکہ راستےکھولنے اور قیام امن کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو حکومت کے حوالےکیا جائےگا، امن و امان کو یقینی بنانےکے لیے قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مل کرکام کیا جائےگامعاہدے کے تحت نقصانات کا ازالہ کیا جائےگا اور بڑا اسلحہ حکومتی تحویل میں دیا جائےگا، فریقین کی جانب سے بنائےگئے مورچے ختم کیے جائیں گے۔

    نئےسال کے پہلے روز سونے کی قیمت میں اضافہ

    ثواب خان کا کہنا تھا کہ اہل تشیع کی جانب سےانجمن حسینیہ کی سربراہی میں ارکان نے معاہدے پر دستخط کیے جب کہ اہل سنت کی جانب سےانجمن فاروقیہ کی سربراہی میں ارکان نے دستخط کیے۔

    کمشنر کوہاٹ کا کہنا ہےکہ کرم مذاکرات فریقین کے درمیان کامیاب ہوگئے ہیں، تین دستخط رہتے ہیں، باقی دستخط ہوگئے ہیں-

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

  • گرینڈ امن جرگہ ضلع کُرم میں قبائل کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں ناکام

    گرینڈ امن جرگہ ضلع کُرم میں قبائل کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں ناکام

    پشاور:گرینڈ امن جرگہ ضلع کُرم میں قبائل کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں تاحال ناکام ہے-

    باغی ٹی وی: حکومتی اور جرگہ ممبران کے دعوؤں کے باوجود ہفتے کو بھی کوئی فیصلہ نہ ہوسکا،تنازع کے ایک فریق کے مشران نے امن معاہدے پر تاحال دستخط نہیں کیے، ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ 2اکتوبر سے بند پڑی ہے پاراچنار سمیت اپر کرم کے 100 سے زائد علاقوں کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہےکھانے پینے کا ذخیرہ ختم ہوئے کئی دن گزر گئے، اسپتال میں ادویات کی قلت مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

    دہشتگردی میں 130 افراد کی جانیں گئیں جبکہ راستوں کی بندش اور ادویات کی قلت کے باعث بچوں اور بڑوں سمیت درجنوں لوگ علاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں، مرکزی سڑک کی بندش کے خلاف کُرم پریس کلب سمیت مختلف مقامات پر متا ثرین کا دھرنا جاری ہے۔

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کُرم کے مظاہرین سے یکجہتی کے لیے کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور، جھنگ، گلگت اور مظفرآباد سمیت ملک ککراچہی میں دھرنے کے باعث ایم اے جناح روڈ نمائش چورنگی کے دونوں ٹریک بند ہیں، ٹریفک کو پیپلز چورنگی، گرومندرسے سولجر بازار کی طرف موڑا جارہا ہے۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق، سوسائٹی سگنل سے کوریڈور تھری، بریٹو روڈ سے سولجر بازار اور گرو مندر کی طرف ڈائیورشن دی گئی ہے ابو الحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کے سامنے دونوں سڑکیں بند ہیں اور ٹریفک کو پیراڈائز بیکری سے فاریہ چوک کی طرف بھیجا جا رہا ہے،نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی پر بھی دھرنے کے باعث سروس روڈ سے ٹریفک کی روانی جاری ہے۔
    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    شارع فیصل کالا چھپرا ملیر روڈ پر بھی دھرنا جاری ہے اور ٹریفک کو کارساز، ڈرگ روڈ، ملینیئم، جوہر چورنگی کی جانب پہلوان گوٹھ سے ایئرپورٹ کی طرف موڑا جا رہا ہے ملیر، کورنگی انڈسٹریل ایریا، کلفٹن، ڈیفنس سے ائیرپورٹ جانے والے افراد سنگر چورنگی سے شاہ فیصل کالونی روڈ استعمال کرسکتے ہیں،شمع شاپنگ سینٹر شاہ فیصل کالونی پُل سے ائیرپورٹ کا راستہ بھی کھلا ہے۔

    نیشنل ہائی وے ملیر 15 پُل کے دونوں ٹریک بند ہیں اور ٹریفک کو ملیر ہالٹ سے ماڈل کالونی کی طرف ڈائیورشن دی گئی ہے، منزل پمپ سے یونس چورنگی اور داؤد چورنگی سے انڈسٹریل ایریا کی طرف راستہ کھلا ہےانچولی سے سہراب گوٹھ جانے والا ٹریک بھی دھرنے کے باعث بند ہے، جہاں سے ٹریفک کو واٹر پمپ چورنگی سے کارڈیو اسپتال اور گلبرگ چورنگی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔

    قومی ایئرلائن کا ایک اور طیارہ آپریشنل ہو کر بیڑے میں شامل

    کامران چورنگی ٹریفک کے لیے بند ہے، جہاں سے متبادل راستہ موسمیات سے یونیورسٹی روڈ اور منور چورنگی ہے، ناظم آباد چورنگی کے دونوں ٹریک پر دھرنا ہے اور ٹریفک کو لسبیلہ سے تین ہٹی کی طرف موڑا جارہا ہے، مین نیشنل ہائی وے ٹاؤن شپ کے دونوں اطرا ف سڑکیں بند ہیں اور متبادل راستہ ٹھٹھہ والی لنک روڈ اور پورٹ قاسم ہے دیگر شہروں میں بھی دھرنے جاری ہیں جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے اور لوگ پریشان ہیں۔

    ڈیرہ غازیخان: ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

  • پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستان کے اپنے دفاع میں دہشتگردوں کے مراکز پر حملے، طالبان کا دوہرا معیار

    پاکستانی فضائی حملوں میں سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا.پاکستانی فضائیہ کے حالیہ حملے ٹی ٹی پی "فتنہ الخوارج” کے تربیتی کیمپوں پر کیے گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان یا آئی اے جی (اسلامی امارت افغانستان) کی افواج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے مراکز کے خلاف تھے۔

    1. پاکستان نے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا، جنہیں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
    2. پاکستان کی مسلسل شکایت رہی ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کر رہی ہے، لیکن آئی اے جی نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے۔
    3. یہ کیمپ سرحد پار دہشت گردی کا منبع تھے، جو پاکستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
    4. چار اہم دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش حملہ آور، اہم کمانڈر، اور بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
    5. مارے جانے والوں میں اہم کمانڈر شامل ہیں:
    شیر زمان المعروف مخلص یار
    ابو حمزہ (خودکش بمباروں کے تربیت کار)
    اختر محمد المعروف خلیل
    شعیب اقبال (ٹی ٹی پی کے عمر میڈیا کا سربراہ)
    6. افغانستان، بطور ایک غیر مستحکم ریاست، اپنی داخلی مسائل میں الجھا ہوا ہے، لیکن آئی اے جی کو سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    7. عالمی قانون کسی بھی ریاست کو اپنی سرزمین سے باہر موجود خطرات کے خلاف دفاع کا حق دیتا ہے.

    افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ٹی ٹی پی خوارج کے خلاف کارروائی

    پاکستان افغانستان کو برادر ملک تصور کرتا ہے اور فضائی حملے افغان عوام یا افواج کے خلاف نہیں تھے۔
    1. پاکستان نے سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے خلاف دفاعی اقدامات کیے۔
    2. مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے خوارج وہ تھے جو حال ہی میں پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا جشن منا رہے تھے۔
    3. ان فضائی حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ تھا جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
    4. پاکستان کی جانب سے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    کرّم میں سیکیورٹی صورتحال: افغان فورسز کے ساتھ کشیدگی

    آئی اے جی کی جانب سے یہ غلط دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان افواج نے پاکستانی افواج پر حملہ کیا، حالانکہ حقیقت میں 28 دسمبر کی صبح سرحد پار سے ٹی ٹی پی اور افغان فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی۔
    1. پاکستانی افواج نے جوابی کارروائی میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
    2. افغان فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان "فرینڈلی فائر” کے نتیجے میں متعدد جانی نقصان ہوا۔
    3. رپورٹس کے مطابق، ٹی ٹی پی کی فائرنگ سے ایک افغان ہیلی کاپٹر تباہ ہوا۔
    4. پاکستان کی متعدد درخواستوں کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

    کرّم میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی افغان کوششیں

    افغان طالبان کی جانب سے کرّم میں غیر مستحکم حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    1. افغانستان کی غیر اشتعال انگیز فائرنگ نے کرّم میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
    2. افغان طالبان کا یہ رویہ پاکستان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے، جو ہمیشہ افغان عوام کا حامی رہا ہے۔
    3. پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن طالبان کی جانب سے جوابی طور پر صرف ناشکری اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

    1. افغان چینلز پر پاکستان کے فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے ہیں۔ یہ تصاویر پرانے زلزلے کی ہیں۔
    2. کرّم میں پاکستانی افواج کی 19 ہلاکتوں کے دعوے غلط ہیں؛ حقیقت میں صرف 4 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 25 ٹی ٹی پی شدت پسند مارے گئے۔
    3. پاکستانی حملوں کے بعد ٹی ٹی پی کی قیادت میں مکمل رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور خوف کی وجہ سے ان کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔

  • ضلع کرم میں ریلیف ایمرجنسی نافذ

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ریلیف ایمرجنسی نافذ کردی۔

    باغی ٹی وی :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں کرم میں امن و امان اور مجموعی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا خیبرپختونخوا کابینہ نے ضلع کرم کے لیے ریلیف ایمرجنسی کی توثیق کردی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق ریلیف ایمرجنسی پہلے سے نافذ اورکرم میں ہلاک شدگان اورزخمیوں کوادائیگی کی جاچکی ہےصوبائی کابینہ نے قانونی تقاضا پوراکرنے کے لیے ریلیف ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی ہے اس کے علاوہ کابینہ نے انسداد منی لانڈرنگ و مالی دہشتگردی کے نفاذ، اقلیتوں کے حقوق کے لیے نیشنل کمیشن فار مینارٹی کی منظوری دے دی ہے۔

    کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کُرم میں قیام امن کے لیے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ایسے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ایف آئی اے کے ذریعے نشاندہی کی جائے گی، کُرم میں زمینی راستےکی بحالی کے لیے اسپیشل پولیس فورس قائم کی جائے گی، راستہ محفوظ بنانے کے لیے 399 پولیس اہلکار بھرتی کئے جائیں گے-

    وزیر اعلیٰ کو اجلاس میں ضلع کرم کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کرم مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے مختلف سطح پر متعدد جرگے کئے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریباً 10 ٹن ادویات پہنچائی گئیں، ادویات کرم کے تمام علاقوں کو فراہم کی گئی ہیں۔

    علی امین خان گنڈاپورکو بتایا گیا کہ علاقے میں غذائی اجناس کی دستیابی کے لئے رعایتی نرخوں پر گندم فراہم کی جارہی ہے، کرم میں جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لئے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں علاقے کے عوام کو درپیش آمدورفت کے مسائل کے حل کے لئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کی گئی، 2 دنوں میں 220 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ فریقین کے معاہدے کے بعد سڑک کھولی جائے گی، علاقے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کے لئے ایف آئی اے سیل قیام کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں صوبائی کابینہ نے گردے اور جگر کے ٹرانسپلانٹ اور کرک میں جوان مراکز کی قیام جبکہ صوبے کی جامعات کیلئے گرانٹ اور اکیڈمک سرچ کمیٹی کے ممبران کی تعیناتی کے ساتھ ڈی آئی خان میں گرلز کیڈٹ کالج کے قیام کی منظوری دے دی۔
    ٹرمپ کا امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ
    وفاقی وزیر تجارت کی کینیا کے ہائی کمشنر سے اہم ملاقات
    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا
    نوکری کے نام پر اجتماعی زیادتی اور تشدد،24 سالہ لڑکی دم توڑ گئی

  • وزیر داخلہ کی آفتاب شیر پاؤسے ملاقات

    وزیر داخلہ کی آفتاب شیر پاؤسے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی چئیرمین قومی وطن پارٹی آفتاب احمدخان شیرپاؤ کی رہائشگاہ آمد ہوئی ہے

    آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کا خیر مقدم کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی کی آفتاب احمد خان شیر پاؤ سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی و سیاسی امور اور ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا خصوصا کرم میں پائیدار امن کے لئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آفتاب احمدخان شیر پاؤ بزرگ سیاستدان ہیں ۔خیبرپختونخوا میں آفتاب احمدخان شیر پاؤ کی سیاسی خدمات کا ہر کوئی معترف ہے۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کے پی کے خصوصا کرم میں قیام امن کیلئے اہم فیصلے کئے گئے۔خیبرپختونخوا میں امن کی آبیاری کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ کرم ایجنسی ایشو پر کسی بھی سیاسی جماعت یا گروپ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے ، یہ بہت حساس معاملہ ہے ۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مشیر بیرسٹر سیف نے کہا ہےکہ کرم میں بنکرز گرانے اور اسلحہ جمع کرانےکے بعد راستے مکمل طورپرکھول دیے جائیں گے، ایپکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ضلع کرم کو اسلحے سے پاک کیا جائےگا، پائیدار امن کیلئے ضلع میں بنکرز کوگرانےکو یقینی بنایا جائے گا، کرم میں راستوں کی بندش کے باعث درپیش عوامی مسائل کا ادراک ہے، امن معاہدے کے بعد معمولات زندگی بحال ہو جائیں گے، بنکرز گرانے اور اسلحہ جمع کرانےکے بعد راستے مکمل طورپرکھول دیے جائیں گے،ہ حکومت کرم میں پائیدار اور دیرپا امن چاہتی ہے، بعض عناصر کرم میں دیرپا امن کے دشمن ہیں، کچھ عناصر کرم سے متعلق سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈا کررہے ہیں، کچھ عناصر صوبائی حکومت کی مخلصانہ کوششوں کوغلط رنگ دے رہے ہیں۔

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

    چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے جو بھی ہوگا پاکستان کے لیے بہتر ہو گا،محسن نقوی

  • پشاور: اپیکس کمیٹی  اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں تمام بنکرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ پشاور میں ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری کے پی، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کرم میں قیامِ امن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو کرم میں امن و امان کی صورت حال اور وہاں کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں گرینڈ جرگے کی جانب سے کرم میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا گیا، جس نے علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اجلاس میں کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکمتِ عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمتِ عملی میں علاقے میں اسلحے کے خاتمے اور اسلحہ کی غیر قانونی موجودگی کے معاملے پر خاص توجہ دی گئی۔ مزید برآں، کرم میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے اقدامات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی، تاکہ علاقے میں عوامی مشکلات کم کی جا سکیں۔کرم میں بنکرز کے خاتمے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ یہ بنکرز غیر قانونی طور پر استعمال ہو رہے تھے اور علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے تھے۔ اس فیصلے کے تحت تمام بنکرز کو بند کیا جائے گا تاکہ علاقے میں مزید امن قائم کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں اسلحہ کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ کرم کے عوام کو ایک پرامن اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا اور غیر قانونی اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پشاور کے اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس میں کیے گئے فیصلے کرم میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے علاقے میں طویل عرصے تک پائیدار امن قائم رہے گا۔

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

  • کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    خیبر پختون خوا حکومت نے کرم میں شہریوں کو سستی گندم دینے کا فیصلہ کر لیا۔، گندم فلور ملز کے بجائے شہریوں کو براہِ راست ملے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ چالیس کلو آٹے کا تھیلا اٹھائیس سو روپے میں دیں گے، کرم میں مزید چھتیس سو کلو ادویات ہیلی کاپٹر سے پہنچا دی گئیں۔دوسری جانب ضلع کرم میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے 20 دسمبر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کرلیا۔صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہوگا جس میں اعلیٰ سول وعسکری قیادت، متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ کے حکام شریک ہونگے۔اجلاس میں کرم میں امن و امان کی تازہ صورتحال،صوبائی حکومت کے اقدامات اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اجلاس کے دوران کرم میں اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کے قیام کے لئے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، کرم میں امن کے قیام کے لئے حکومتی گرینڈ جرگے کی طرف سے اب تک کی پیشرفت سے شرکاء کو آگاہ کیا جائے گا۔صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل طلب، قیام امن اور گرینڈ جرگے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا، خیبر پختون خوا کابینہ کا اجلاس تیئس دسمبر کو ہو گا.

    ٹیکس پالیسی ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    گوجرہ: چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    کرم کشیدگی پر جرگہ: امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں۔

    باغی ٹی وی: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی صوبے کی سیاسی قیادت کے ہمراہ کوہاٹ جرگہ کے لیے پہنچے انہوں نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرگے میں آنے پر سیاسی قائدین اور مشران کا مشکور ہوں،امن وامان کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قیام امن کی کوششوں میں ہم سب ایک ہیں، 5 دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس بلا رکھی ہے، اس اے پی سی میں کرم کی صورتحال پر غور ہوگا کسی بھی مسئلے کا پہلا حل مذاکرات ہیں۔

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں امن کیلئے ہم سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت کو کرم کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے،ہم امن وامان کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لوگ ملک میں امن وامان چاہتے ہیں، لوگ ملک میں بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ سیاسی قائدین کا قافلہ بھی گورنر ہاؤس پشاور سے کوہاٹ پہنچا، جرگہ وفد میں مسلم لیگ کے صوبائی صدر وفاقی وزیر امیر مقام ، اے این پی کے میاں افتخار حسین شامل ہیں،جرگے میں قومی وطن پارٹی کے سکندر شیرپاؤ ، جے یو آئی (س) کے حافظ عبدالرافع بھی شامل ہیں، وفد میں جے ہو آئی (س)، جماعت اسلامی، شیعہ علمائے کونسل، مسلم لیگ ق اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما موجود ہیں۔

    لکی مروت میں تھانے پر دہشتگردوں کا حملہ،ایک پولیس اہلکار شہید

  • کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    کرم میں قبائلی جھڑپوں کا 11 واں روز،ہلاکتوں کی تعداد 130 اور 186 زخمی ہو چکے

    پاراچنار : ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں گیارہویں روز بھی جاری ہیں جس میں مزید 6 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعات میں اب تک 130 افراد جاں بحق اور 186 زخمی ہو چکے ہیں قبائلی جھڑپوں کے باعث پشاور پاراچنار مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے دیگر راستے بھی بند ہیں جبکہ مرکزی شاہراہ اور پاک افغان خرلاچی بارڈر پر آمدورفت بھی معطل ہے،شاہراہوں کی بندش سے تیل، اشیائے خورونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرجاویداللہ محسود کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے مختلف مقامات پر پولیس، فورسز کے دستے تعینات ہیں، باقی علاقوں میں بھی آج فائر بندی کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں کرم میں امن امان سے متعلق گرینڈ جرگے سے خطاب میں ضلع کرم کے عوام کو پرُامن رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام غیرت مند اور پُرامن ہیں، امن و امان کے لیے حکومت کسی بھی حد جانے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدا یت دی کہ جو بھی امن کو خراب کرے گا اس کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جائے صوبائی حکومت کی درخواست پر فوج علا قے میں امن کے لیے تعینات ہے، فوج، پولیس اور انتظامیہ مل کر علاقے میں پائیدار امن کے لئے مربوط کوششیں کر رہے ہیں، علاقے میں قائم تمام کے تمام مورچے بلا تفریق ختم کیے جائیں۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، علاقے میں امن کے لئے وفاقی حکومت ایف سی کے پلاٹونز فراہم کرے، گرینڈ جرگہ مکمل امن کے قیام تک علاقے میں رہے، صوبائی حکومت ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی، جو لوگ علاقے میں امن خراب کر رہے ہیں مقامی کمیونٹی اس کی نشاندہی کرےفریقین کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کرنے کے لئے مقامی عمائدین اپنا کردار ادا کریں انہوں نے ہدایت دی کہ علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً جمع کیا جائے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جو بھی ہتھیار اٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا، دہشت گردوں کا انجام جہنم ہے، علاقے کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کئے جائیں، صوبائی حکومت ان بے گھر افراد کی باعزت واپسی یقینی بنائے گی۔