اوکاڑہ (علی حسین) حویلی لکھا میں۔کورونا جیسی موذی مہلک اور عالمی وباء سے متاثرہ خاتون رضیہ بی بی جاں۔بحق ہو گئی جسے مقامی انتظامیہ نے حکومتی ایس او پیز کے مطابق سپردخاک کر دیا گیا جاں۔بحق ہونےوالی خاتون ڈی ایچ کیو اوکاڑہ ساوتھ سٹی کے قرنطینہ میں زیر علاج تھی جو جانبر نہ۔ہو سکی خاتون کے انتقال پر حویلی لکھا میں کورونا وباء کے حوالے سے شہریوں۔میں خوف وہراس پایا جا رہا ہے اس حوالہ سے تحصیل انتظامیہ کی جانب سے لاک ڈون میں مزید سختی کر دی گئی ہے تمام دکانوں اور کاروباری مراکز کو بند کر دیا گیا ہے شہریوں۔کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ۔نکلنے کی ہدایات جا ری کی گئی ہیں اور ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ اس موذی وباء کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
Tag: کرونا وائرس
-

اوکاڑہ میں کرونا کا ایک مریض سامنے آگیا
اوکاڑہ (علی حسین مرزا) ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ میں ایک شخص کرونا وائرس کا شکار ہوگیا۔ منیر احمد نامی 45 سالہ شخص کو ٹانگ ٹوٹنے کی بنا پر ہسپتال میں داخل کیا گیا بعد ازاں جب اسکا ٹیسٹ کیا گیا تو کرونا ٹیسٹ پازیٹیو (مثبت) آیا۔ ڈاکٹر عمرانور نے سرجری سے پہلے تین مریضوں کے کرونا ٹیسٹ کے سیمپل بھجوائے جن میں سے منیر احمد کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال مریض کو قرنطینہ وارڈ میں شفٹ نہیں کیا گیا۔
-

نادرا ہیڈ کوارٹر میں بھی کرونا وائرس پہنچ گیا
نادرا ہیڈ کوارٹر میں بھی کرونا وائرس پہنچ گیا نادرا کے آٹھ ملازمین میں کرونا ٹیسٹ کا رزلٹ پازٹیو نکل آیا. کرونا پازٹیو پائے جانے والے نادرا کے ملازمین کو قرنطینہ کرنے کیلئے انکے گھروں کو بھیج دیا گیا.نادرا ہیڈ کوارٹر میں ملازمین پچاس روز کے لاک ڈاؤن کے بعد دفتر آنا شروع ہوئے ہیں،نادرا ہیڈ کوارٹر میں روزانہ کی بنیاد پر سو ملازمین اور افسران کے کرونا ٹیسٹ کئے جارہے ہیں. نادرا ہیڈ کوارٹر کے ہر شعبے میں روزانہ جراثیم کش اسپرے بھی کروایا جاتا ہے.
-
کسی طبقہ کی بیوقوفی اور اس پر حکومتی مجرمانہ غفلت کب سے ہمارے لیے معیار ہو گئی ؟ تحریر، طہ منیب
ہم ردعمل کا شکار ہی کیوں ہوں ؟ کیا ہم میں عقل خرد سمجھ بوجھ نہیں رہی جو ہم کسی کے عمل کے ردعمل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کریں؟ کسی کا کنویں میں کودنا ہمارے لیے کب سے کودنے کی دلیل بن گیا؟ جو جس نے جتنا غلط کیا اسکی سزا خود کو دینا کسی صورت دانش مندی کا تقاضہ نہیں۔ وائرس پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ان کے ان جلوسوں سے یقیناً بڑھے گا اور اسکے ردِعمل کا شکار ہم ہونگے تو پھلے پھولے گا جسکا نتیجہ پوری قوم بھگتے گی،
وائرس نا رکا تھا نا رکا ہے، کسی کے جاننے والے کو ہوا یا نہیں سے اب اکثر کو یہ لگ چکا ہے، اب ہر طبقہ میں اسکے متاثرین موجود ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے حکومتی وسائل اب ناکافی ہوچکے، قرنطینہ مراکز بھر چکے، اب یہ آپ پر ہے آپ ردِعمل کا شکار ہوکر سب سے پہلے خود، اپنی فیملی، حلقہ احباب ، ملک و قوم کو اسکا شکار بناتے ہیں یا عقلمندی و خرد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزباتیت اور ردعمل کا شکار ہوئے بغیر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے سب کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی کو بروئے کار کر درست فیصلوں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
-

ASI عبدالکریم کے اہل خانہ بازیاب ہوگئے
(عبدالغفار شاکر ، قصور)
کھڈیاں خاص محلہ شکیل ٹاون کے اے ایس آئی عبدالکریم کے اہلخانہ کی کروناوائرس رپورٹ نیگٹو آگئی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تھانہ صدر پھولنگر کے اے ایس آئی گزشتہ دنوں کرونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جس پر ان کے اہل خنہ کے ٹیسٹ بھی کرواۓ گئے تھے اور محلہ شکیل ٹاؤن کی گلی اور ان کے گھر کو سیل کر دیا گیا تھا اور گھر کے باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق اہل خانہ کی رپورٹ منفی آنے پر گھر کے باہر تعینات پولیس نفری ہٹادی دی گئیہے۔
کھڈیاں خاص محلہ شکیل ٹاون کے رھائشی اے ایس آئی عبدالکریم جو تھانہ صدر پھول نگر میں تعینات تھے کو کروناوائرس کے سلسلہ میں دیگر پولیس ملازمان کے ھمراہ قرنطینہ سنٹرمنتقل کردیا گیا تھا۔..
گذشتہ روز انتظامیہ نے انکے اہلخانہ کے سمپل لیکر بھیجے تھے جو آج ان تمام افراد کی کروناوائرس رپورٹ نیگٹو آئی ھے۔گھر کے باہر تعینات نفری ہٹادی گئی۔.. -

لوئردیر/ کرونا اپڈیٹس
پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران لوئر دیر کے مزید 20 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جس کے بعد یہاں کرونا کے کنفرم مریضوں کی مجموعی تعداد 130 ہوگئی ہے، اب تک کرونا سے سات افراد جاں بحق جبکہ کل 35 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں . قرنطینہ مراکز میں 38 افراد مقیم ہیں جبکہ آئسولیشن وارڈز میں داخل مریضوں کی تعداد 33 ہے۔
-

بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان
کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان
کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔
امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟

-

کرونا وائرس کے اثرات، انٹر نیشنل سائیکل ریس ملتوی۔
ٹورڈی خنجراب انٹرنیشنل سائیکل ریس ملتوی کردی گئی. ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس 18 سے 21 جون تک شیڈول تھی.
ریس میں ملک کے تمام یونٹس کے سائیکلسٹس نے حصہ لینا تھا. ریس میں سری لنکا، افغانستان، نیپال ، ایران اور بھوٹان کے سائیکلسٹ نے بھی شرکت کرنا تھی. ریس انٹرنیشل سائیکلنگ یونین کے احکامات کی روشنی میں ملتوی کی گئی، صدر پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن.

کرونا وائرس کے باعث انٹر نیشنل سائکلنگ یونین نے تمام ایونٹس ملتوی کرنے کا اعلان کررکھا ہے، سید اظہر علی.
-

ضلع اوکاڑہ میں لاک ڈاون کی خلاف ورزیاں
ضلع اوکاڑہ(علی حسین مرزا) ضلع اوکاڑہ میں لاک ڈاون پر عمل نہیں ہورہا۔ بہت سی ایسی دکانیں ہیں جنہیں بند رکھنے کا حکم ہے لیکن ان کو کھول لیا جاتا ہے اور گاہک بھگتا کر ان کو بند کردیا جاتا ہے اور نظر بچا کر پھر کھول لیا جاتا ہے۔ کھولنے اور بند کرنیکا یہ عمل شام 5 بجے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ دیگر پابندیوں اور احتیاطوں کو بھی خودبخود جواز ملتا جارہا ہے۔
-

اوکاڑہ صدرگوگیرہ کرونا کے پیش نظر مفت ماسک تقسیم کیے گئے
ضلع اوکاڑہ (علی حسین مرزا) اوکاڑہ کے نواحی قصبے صدرگوگیرہ میں النساء ویلفئیر سوسائٹی کے زیر اہتمام ڈی ایس پی ٹریفک پولیس ریاض احمد نے عوام میں کرونا وائرس وبا کے پیش نظر مفت ماسک اور سینیٹائزرز تقسیم کیے۔ اس موقع پر صدرگوگیرہ پریس کلب کے صحافی حضرات بھی موجود تھے۔ ڈی ایس پی ٹریفک پولیس نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام الناس میں حفظان صحت کے بنیادی اصولوں کا نفاذ ہماری اہم ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرونا وبا سے نبردآزما ہے اور کارکردگی کے حساب سے پاکستان کئی مغربی ممالک پر سبقت لے رہا ہے اور جلد پاکستان اس وبا سے محفوظ ہوجائیگا۔