Baaghi TV

Tag: کرونا وائرس

  • سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے  ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی سے عدالت مطمئن نہیں، آج ہم ان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کریں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ حکم تباہ کن ہو سکتا ہے، آپ ظفر مرزا کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں،عدالت میں ابھی سماعت جاری ہے. عدالت کے اس فیصلے کو لے سوشل میڈیا پر عوامی تبصے اور تجزیئے شروع ہوچکے ٹویٹر پر سپریم کورٹ اور ڈاکٹر ظفر مرزاء کے نام سے ٹرینڈز بھی پینل پر موجود ہیں. عوام ان ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے.
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے. ججز اور عدلیہ کی طرف سے یہ دخل اندازی معاملات کو بگاڑ دے گی.


    سوشل میڈیا صارف بےنظیر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی کارکردگی سے غیر متفق ہوسکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا کچھ نہیں کر رہے یہ غلط ہوگا. ہمارے ڈاکٹرز، پولیس اور دیگر سبھی ادارے اس وقت کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں


    ایک اور سوشل میڈیا صارف مریم حسین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس بحران کے موقع پر سیاسی کھیل شروع کردیا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے
    https://twitter.com/maryamacca/status/1249624730640027648?s=20
    سوشل میڈیا صارف اویس گیلانی کا کہنا تھا کہ قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے مجھے لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزاء کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا حکم نامناسب ہے اور کرونا کے خلاف جنگ میں عدالتی مداخلت ہے


    عاطف نامی سوشل میڈیا صارف نے ڈاکٹر ظفرمرزا کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی آئی اے کے سی ای او کام نہیں کرسکتے کہ وہ اس عہدے کے لیے ناموزوں ہیں، اب ظفر مرزا بھی ناموزوں ٹھہرے، کل کو یہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائیں گے، پھر یہ لوگ وزیراعظم کی قابلیت پر بھی سوال جر دیں گے
    https://twitter.com/PTI_Achievement/status/1249618223684870146?s=20
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ڈاکٹر ظفر مرزا بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں.
    https://twitter.com/oyaDrAQ/status/1249628009608278016?s=20
    واضح رہے کہ حکم نامہ عدالت نے ابھی تک نہیں لکھوایا حتمی حکمنامے میں عدالت حتمی فیصلہ دے گی. سپریم کورٹ نے ظفر مرزا کی کارکردگی پر آج بھی اور گزشتہ ایک سماعت میں بھی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی کیا ہے

  • وزیراعظم کا ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے خلاف کارؤائی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب، عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا

    وزیراعظم کا ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے خلاف کارؤائی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب، عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا

    ایمز میں مریض میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد "وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے انتظامیہ کو سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی” ایمز میں غفلت کے مرتکب آفیسران کے حوالے سے فوری رپورٹ طلب اعلی سطحی اجلاس طلب کر لیا راجہ محمد فاروق حیدر خان نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتال کے تمام عملے جو متعلقہ مریض سے رابطے میں رہے کے ٹیسٹ کروائے جائیں اور نتائج آنے تک انہیں قرنطینہ میں رکھا جاے اس شخص سے ملنے عیادت کرنے کے لیے آنیوالے ہر شخص کو ٹریس کیا جائے اور اس کے رابطے والوں کو بھی قرنطینہ کیا جاے اس معاملے میں کوئی غفلت اور لاپرواہی کی گنجائش نہیں.
    وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ جب عوام تعاون نہیں کریگی ہم کچھ نہیں کرسکتے خدارا ہسپتالوں میں نا جائیں عیادت بعد میں بھی ہو جائیگی میں دست بدستہ آپ سے عرض کرتا ہوں ہدایات پر عمل کریں ہمارے ساتھ تعاون کریں اب کسی سے نرمی نہیں برتی جائیگی وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر بدر منیر اور ایس ایس پی نے ایمز کا دورہ کیا اور ہسپتال میں عملے اور مریضوں کی صورتحال کا جائزہ لیا علاقے میں مکمل لاک ڈاون کر دیا گیا ہے مظفرآبادایمز میں کورونا کا مریض سامنے آنے کے بعد اس سے رابطے میں رہنے اور عیادت کرنے والے علاج کرنے والے تمام ڈاکٹرز کو قرنطینہ منتقل کیا جارہا ہے ہسپتال کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے سپرے جاری ہے.
    متاثرہ مریض کا ٹیسٹ امبور میں ہی لیا گیا تھا اور پہلی بار ہی پازیٹیو آیا وزیراعظم نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں عیادت کے لیے آنے والے افراد پر پابندی کو مزید سخت کیا جاے امبور میں پیش آنے والے واقعے کو ٹیسٹ کیس سمجھتے ہوے اس کے تمام رابطوں کو بھی سکرین کیا جاے وزیراعظم نے عملے کو حفاظتی کٹس کی باقاعدگی سے فراہمی اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا.

  • کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری

    اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔

    ۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
    ۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
    ۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
    ۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
    ۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
    ۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
    ۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
    ۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
    ۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
    ۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
    ۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
    ۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
    ۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
    ۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
    ۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
    ۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
    ۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
    ۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔

    دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم

  • اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔

    ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔

    مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

    (فیصل بخاری )

  • کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    جب ٹائٹینک TITANIC جہاز ڈوب رھا تھا تو اس میں چار طرح کے لوگ سوار تھے:
    ۱۔ امیر ترین لوگ جنہوں نے ٹکٹ کے ساتھ ھی حفاظتی جیکٹ اور ریسکیو والی کشتیوں کا بندوبست کررکھا تھا۔
    ۲۔ مڈل کلاس جنہوں نے کم از کم حفاظتی جیکٹس کا بندوبست کر رکھا تھا۔
    ۳۔ غریب ترین مزدور مفرور اور معتوب طبقہ جن کی اکثریت تھی مگر کسی تباھی سے بچاؤ کا کوئ سلسلہ نہیں تھا ان کے پاس۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
    ۴۔ اس جہاز کا اپنا عملہ اور کپتان جن کی ڈیوٹی ان تمام مسافرو ں کو بچانا تھا اور آخر دم تک جہاز سے نہ کودنا ان کی ذمہ داری تھی۔

    ھمارےمعاشرہ میں آج کل کے بحران میں کیا آپ کو من و عن یہی تفریق نظر نہیں آ رھی؟ ماریہ بی پہلے طبقہ کی روشن مثال ھے۔ ھم سب فیس بک اور ٹویٹر والے دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ جبکہ دھاڑی والا ریڑھی والا مزدور تیسرا طبقہ ھے۔ جمھوریت میں اکثریت ترجیح ھوتی ھے مگر یہاں الٹ نظام چل رھا ھے۔
    آخری طبقہ آپ کی حکومت اور سرکاری ملازم، افواج، پولیس اور ڈاکٹر نرس اور تمام لوگ ھیں جو جہاز سے نہیں کودیں گے آخری دم تک۔ کہتے ھیں اگر افراتفری نہ ھوتی اور تقسیم متوازن ھوتی تو شاید اتنی جانوں کا ضیاں نہ ھوتا۔ بے شک جہاز نے ڈوبنا تھا۔ بے شک لوگوں نے مرنا تھا مگر اس سانحہ کو تاریخ طبقاتی ناانصافی کے حوالے سے یاد رکھتی ھے۔

    میرے بہت پیارے دوست اس افراتفری میں میری نظروں میں ایکسپوز ھوے ھیں۔ بزدلی، نفرت اور تقسیم کا اظہار کر رھے ھیں۔ اگر آپ کو یاد ھو تو اس جہاز پر ایک گروپ وائلن بجانے والا بھی تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آخری سانس تک وائلن بجائیں گے تاکہ لوگوں میں امید پیدا ھو۔ مجھے وہ وائلن والا سمجھ لیجئے۔ آئیں اپنا اپنا وائلن اٹھائیں اور لوگوں کی ھمت باندھیں!!

    (فیصل بخاری)

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    تعلیمی ادارے، پارک اور گراؤنڈز بند، بچے سارا دن گھر پر، والدین کی اک بڑی مشکل کا حل کہ بچوں کو کیسے مصروف کیا جائے

    کرونا وائرس اس وقت اپنی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوچکا ہے. اس وقت دنیا کے 188 ممالک میں کرونا وائرس کے تین لاکھ آٹھ ہزار چار سو تریسٹھ کیسز ہیں اور یہ تعداد لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے. اس خطرناک وائرس سے اب تک تیرہ ہزار انہتر لوگ وفات پاچکے ہیں صرف اٹلی میں ایک دن میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اٹلی میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوچکی ہے اب تک چار ہزار آٹھ سو پچیس لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں. جبکہ چین میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزار دو سو اکسٹھ تھی.
    وطن عزیز پاکستان میں بھی صورتحال لمحہ با لمحہ بگڑتی چلی جا رہی ہے لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے یہ موذی وائرس بڑی تعداد میں پھیلتا چلا جا رہا ہے کہاں پانچ چھ دن قبل پاکستان میں پچیس تیس کیسز تھے اور اب تعداد ساڑھے سات سو سے اوپر ہوچکی ہے. سماجی تنہائی کے لیے بنائے سینٹرز کی حالت نہایت تباہ کن ہے اور وہ بجائے کرونا وائرس کو روکنے کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں نرسریز کا کردار ادا کررہے ہیں دوسری طرف پاکستان میں بعض علماء کا کردار بھی نہایت ہی منفی ہے علماء کا یہ طبقہ بجائے لوگوں کو احتیاط اور سماجی تنہائی پر قائل کرنے کے ان کو گھل مل کر رہنے اوف اجتماعات وغیرہ منعقد کرنے پر اکسا رہا ہے ان علماء کے نزدیک یہ وائرس فقط میڈیا کی پیدا کردہ ہائپ ہے.
    اسی طرح کرونا وائرس کے مریض بھی خاص احتیاط نہیں برت رہے کوئی اسلام آباد پمز سے چھپ چھپا کر بھاگ رہا ہے تو کوئی ائرپورٹ پر رشوت دے کر چھپ کر نکل کر بیسیوں اپنے ہی رشتہ داروں میں کرونا وائرس کو پھیلا رہا ہے. سکھر سے بڑی تعداد میں لوگ جن میں کرونا وائرس کے کنفرم مریض بھی تھے وہ نکل کر بھاگ گئے ہیں. انتظامیہ بھی ان معاملات کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور صورتحال خطرناک حد تک سنجیدہ ہورہی ہے. لوگوں کے ان رویوں کو لے کر پاکستان بھر میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن ہوچکا ہے تعلیمی ادارے ، مارکیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ بند کو بند کرنے کا اعلان ہوچکا ہے.
    تعلیمی اداروں میں چھٹیوں اور ٹیویشن سینٹرز کے بند ہونے کی وجہ سے بچے سارا دن فارغ ہیں. پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو بچے پارکس، گراؤنڈز ،رشتہ داروں کے ہاں اور مختلف علاقوں کی سیر و تفریح کو جاتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں سبھی آپشنز ختم ہوچکے ہیں بچے سارا دن گھر ہیں اور مائیں اپنے بچوں سے سخت عاجز آچکی ہیں اور بچے بھی سارا دن والدین اور بالخصوص ماؤں کی ڈانٹ ڈپٹ سے چڑچڑے اور ضدی ہورہے ہیں جو کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہے یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے جس کو حل نہ کیا جاسکے ہم آپ کو کچھ ٹپس دیتے ہیں جن کے مطابق آپ بچوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کرسکتے ہیں اور ان کی تعلیمی ضروریات کو بھی ان چھٹیوں میں باآسانی پورا کرسکتے ہیں.

    آپ کو کرنا یہ ہے کہ بچوں کا چوبیس گھنٹے کا ٹائم ٹیبل بنائیں. کس ٹائم اٹھیں گے کس ٹائم سوئیں گے کیا کھائیں گے کیا پیئیں گے مطلب ہر چیز آپ کے چارٹ میں لکھی ہونی چاہیے. یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے کہ آپ اپنی ہر چیز کو کیلکولیٹ کریں لیکن موجودہ دنوں میں اس پر عمل درآمد کرنا بہت آسان ہے اور یہ آپ کی اور آپکے بچوں کی ساری زندگی کے لیے بہت کارآمد اور منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے. جن والدین اپنے بچوں کی بری صحبت اور بری عادات کی شکایت رہتی ہے وہ ان دنوں میں وہ سب عادات اور بری صحبتیں چھڑوا کر اپنے بچوں کی بہترین روحانی اور جسمانی تربیت کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے معاشرے میں بچوں اور والدین کے درمیان بہت بڑا ذہنی فرق ہوتا ہے اس کو ان دنوں میں دور کرکے آپ اپنے بچوں کو اپنا دوست بنا سکتے ہیں.
    آپ نے ان کا چوبیس گھنٹے کا شیڈول اور ٹائم ٹیبل بنا لیا ہے، ان کی ڈائٹ کا چارٹ بھی تشکیل دے دیا ہے تو اب آپ ایکٹیویٹز ، گیمز، لرننگ اور ایکسرسائز وغیرہ پر آجائیں.
    ایکسرسائز
    سب سے پہلے تو آپ اپنے بچوں کو ایکسرسائز کی عادت ڈالیں اس کے لیے کسی پارک جم یا کلب کو جوائن کرنا ضروری نہیں ہے ان دنوں میں ویسے بھی کہیں بھی جانے یا بچوں کو بھیجنے سے احتیاط برتیں کہ گھر رہنے میں ہی آپ کی بقاء ہے. اس کے لیے یوٹیوب پر بےشمار چینلز ہیں جو آپ کو بچوں اور بڑوں کی انڈور ایکسرسائز کروا سکتے ہیں آپ ان ویڈیوز کو دیکھ کر خود بھی اور بچوں کو بھی ایکسرسائز کروائیے. اسی طرح آپ اپنے بچوں کو حفاظت کی غرض سے سیلف ڈیفینس تیکنیکس لازمی سکھائیے.
    ایکٹیویٹیز
    آپ گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو آپ گھر کے کسی کمرے یا کونے کو پارٹیشن کرکے بچوں کا ایکٹیویٹی روم بناسکتے ہیں اس میں بچوں کی دلچسپی کے لیے وال پیپرز، غبارے، لائٹس وغیرہ کا اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اس ایکٹیویٹی روم میں آپ بچوں کو ڈرائنگ، ایلفابیٹک گیمز، پینٹنگ وغیرہ کی صورت بہترین ایکٹیویٹز میں مصروف کرسکتے ہیں بچوں کو رنگوں سے کھیلنا سکھائیے.
    گیمز
    آپ گھر کی چھت یا صحن میں بچوں کے ساتھ فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں. لیکن ایک بات یاد رکھیے کہ اس کے لیے محلے بھر کے بچوں کو ہرگز جمع نہ کیا جائے بلکہ ہر گھر والے اپنے اپنے بچوں کے ساتھ یہ گیمز کریں.
    تیراکی یا نہانا
    مارکیٹ سے بچوں کے لیے انڈور پولز باآسانی میسر ہوتے ہیں ویسے بھی موسم کی حدت میں اضافہ ہورہا ہے اور گرم موسم میں بچہ پانی کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے تو آپ گھر کے صحن میں یا کسی کونے میں اس پول میں پانی ڈال کر اپنے بچے کو گھنٹوں تک مصروف کرسکتے ہیں پانی میں جراثیم کش ڈیٹول کو بھی ملایا جاسکتا ہے لیکن اس بات کا خیال آپ نے رکھنا ہے کہ بچہ نہانے کے دوران پول سے پانی نہ پیئے.
    دینی تربیت
    گھر میں آپ بچوں کو خود سے قران سکھا سکتے ہیں اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے واقعات سنا کر ان کی دینی تربیت بہترین انداز سے کرسکتے ہیں. الرحیق المختوم سے روزانہ ایک دو پیجز بچوں کو پڑھ کر سنائے جاسکتے ہیں اگر آپ نہیں بھی پڑھ سکتے تو انٹرنیٹ پر آڈیو بکس میسر ہیں یہ اسٹوریز کی صورت بچوں کو اسلامی واقعات سناتے ہیں جن میں بچے خاصی دلچسپی لیتے ہیں.
    ڈاکیومینٹریز
    بچوں کی ذہنی بلوغت اور جنرل نالج میں اضافے کے لیے مختلف موضوعات پر ڈاکیومینٹریز انٹرنیٹ سے دکھا سکتے ہیں جن میں اسلامی ڈاکیومینٹریز، قیام پاکستان، نظریہ پاکستان، انسانی تاریخ وغیرہ
    کارٹونز
    شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے کارٹونز نہ دیکھتے ہوں اور بچے پھر ہر طرح کے کارٹونز دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے عقائد اور اخلاقیات متاثر ہوتے ہیں آپ اپنے بچوں کے لیے کارٹونز کی سلیکشن خود کریں بے شمار صحیح العقیدہ اور اسلامی اور اخلاقی تربیت کرنے والے کارٹونز بھی ہیں مثال کے طور پر عمر اینڈ ہنہ کی سیریز ہے عبدالباری کی سیریز ہے اسی طرح کچھ ایسی کارٹونز کی سیریز ہیں جو بچوں کو قران سکھاتے ہیں تو آپ بچوں کو خود سے کارٹونز سلیکٹ کرکے دیں.
    لرننگ اور تعلیمی ضروریات
    اسکولز اور ٹیویشن سینٹرز بند ہوجانے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ مکمل رک گیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بے شمار تعلیمی ویب سائٹس ہیں جن پر بچوں کا سارا تعلیمی نصاب میسر ہے اور آپ اپنے بچوں کے تعلیمی سلسلے کو ان ویب سائٹس کی مدد سے جاری رکھ سکتے ہیں مثال کے طور پر
    سبق ڈاٹ پی کے
    ای لرن پنجاب
    خان اکیڈمی
    بی بی سی لرننگ
    فیوچر لرن
    وغیرہ وغیرہ
    ہم امید کرتے ہیں ان ٹپس پر عمل کرکے آپ بچوں کو بہترین انداز میں مصروف بھی کرسکتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیمی، روحانی اور جسمانی تربیت بھی کرسکتے ہیں.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پرھیے

  • جہاں بڑے ملک صحت کی بہترین سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ طہ منیب

    سلام ہے حکومتی عہدیداران کو جو کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر صحافیوں اور لوگوں کے جھرمٹ میں بیان کر رہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ گیدرنگ میں کھڑے ہو کر بیان کی جا رہی۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    لوگ کرونا سے متعلق احتیاط کی بجائے سیر سپاٹے اور رشتہ داروں ، میکے و سسرال کے پروگرام بنا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر میمز اور شغل لگ رہے، فرقہ فرقہ کھیلا جا رہا ہے، پارکوں، بازاروں میں رش ویسے کا ویسا ، ریسٹورینٹ، اڈے ، بسیں، ٹرینیں سب روٹین کے مطابق، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، توکل کے ساتھ احتیاط اور عمل بھی ضروری ہے، علماء سنجیدہ ہونے کی بجائے مقابلے بازی پر اتر آئے ہیں، پیر فقیر آن لائن دم درود کی دکانیں چلا رہے،

    اللہ نا کرے کے یہ وبا پھیلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظام صحت اس سب کو برداشت کرنے کے قابل نہیں، جہاں اٹلی، امریکہ، سپین ، جرمنی سمیت بڑے بڑے ملک بہترین صحت کی سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ "او کچھ نہیں ہوتا” سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کریں، یہ علاج سے بہتر ہے۔