Baaghi TV

Tag: کرپٹو کرنسی

  • کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    کرپٹو کرنسی کی روک تھام: حکومت کا انٹرنیٹ پرسروس بند کرنےکا فیصلہ

    حکومت پاکستان نے کرپٹوکرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ پر کرپٹوکرنسی سروس بند کرنےکا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کرپٹو کرنسی کی روک تھام کے لیے انٹرنیٹ سے کرپٹو کرنسی سروس بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا-

    ibaad-farooq

    پی ٹی آئی کا ٹکٹ واپس، کورکمانڈر ہاؤس پرحملہ لیڈر شپ نے کرایا، میاں عباد …

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور وزارت آئی ٹی نے کرپٹو کرنسی بندکرنے پرکام بھی شروع کردیا ہے کرپٹو کرنسی سے متعلق سافٹ ویئر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کبھی بھی لیگل نہیں کیا جائےگا فیٹف نے بھی شرائط لگائی ہیں،کرپٹوکرنسی کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ 2.8 ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر 1.2 ٹریلین ڈالررہ گئی ہے،کرپٹو کرنسی ہائی رسک ہے جو صرف ہوائی کرنسی ہے، کرپٹو کرنسی میں فراڈ ہے، پاکستان میں کبھی اجازت نہیں دی جائےگی اکرپٹو ہے کیا اس کا کسی کو کچھ نہیں پتا، کرپٹو کرنسی میں پاکستانی انویسٹمنٹ پر ایف آئی اے اور ایف ایم یو کارروائی کر رہا ہے، کرپٹو کرنسی کی 16 ہزار سے زائد کرنسی بن چکی ہیں جن کو کوئی استعمال نہیں کرتا۔

    گوگل کا غیر متحرک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک حکام نے کہا کہ 2018 میں بینکوں کو کہا گیا تھا کہ کوئی اس کرنسی میں لین دین نہ کرے، اس جیسی کرنسیوں کا نشانہ ہمارے جیسے ملک ہیں، اس کرنسی کو ریگولیٹ اور مانیٹر نہیں کیا جا سکتا، چین نے بھی انٹرنیٹ پر جا کر اس کرنسی کو بند کیا۔

    چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان کے اربوں ڈالر کرپٹو کرنسی میں انویسٹ ہوئے ہیں، میں کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کرپٹو کرنسی میں کاروبار کر رہے ہیں، ہمارے روکنے سے وہ نہیں رکیں گے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو پاکستانی اس میں کام کر رہے ہیں ان کو سزا ہونی چاہیے، اس سے متعلق قانون سازی ہونی چاہیے اور کسی ادارے کی ذمہ داری لگائی جائے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےسیارچے میں پانی دریافت کرلیا

  • 5 سال میں 32 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی بنانے والے نوجوان کا حیران کن زوال:27 ارب ڈوب گئے

    5 سال میں 32 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی بنانے والے نوجوان کا حیران کن زوال:27 ارب ڈوب گئے

    واشنگٹن:سیم بینک مین فرائیڈ کو ’کرپٹو کنگ‘ کا خطاب ملے ابھی آٹھ ہی دن ہوئے تھے کہ ان کی کمپنی نے دیوالیہ ہونے کا دعویٰ کر دیا ، بس چند ہی دنوں میں 27 ارب ڈالرز سے محروم ہوگیا، شاید یہی وجہ ہےکہ فرائیڈ چیف ایگزیکٹیو کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ اب ان کو امریکا میں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔کرپٹو کرنسی ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے سابق باس ویڈیو گیمز کے شوقین ہیں

    گزشتہ پیر کی صبح سیم بینک مین فرائیڈ ایک ارب پتی تھا اورکرپٹوکرنسی کا "بادشاہ” سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جمعہ تک، کرپٹو ایکسچینج FTX منہدم ہو چکا تھا اور 30 ​​سالہ کاروباری شخص کے اثاثوں کی قیمت صفر ہو گئی تھی، بلومبرگ نے اسے "تاریخ کی دولت کی سب سے بڑی تباہی” قرار دیا۔

    سیم بینکمین فرائیڈ کی ڈیجیٹل اثاثہ سلطنت، ایف ٹی ایکس کے لیے دیوالیہ پن کی فائلنگ نے 30 سالہ کاروباری اور ایک وقت کے کرپٹو کرنسی کنگ کے لیے فوری زوال پر مہر لگا دی۔ دیوالیہ پن کی فائلنگ میں 130 سے ​​زیادہ اداروں کو شامل کیا گیا ہے، بشمول ایف ٹی ایکس یو ایس اور تجارتی کمپنی المائدہ ریسرچ لمیٹڈ ہیں . یہ بات قابل غور ہے کہ صرف المائدہ10 بلین ڈالر کے اثاثے اور واجبات شامل ہیں۔

    امریکی دیوالیہ پن کوڈ کے تحت جب کوئی کمپنی باب 11 میں داخل ہوتی ہے، تو وہ کاروبار میں رہتی ہے جب کہ اپنے قرض دہندگان کی ادائیگی کے لیے ایک جارحانہ تنظیم نو کے منصوبے پر عمل کیا جاتا ہے۔ سیم بینک مین فرائیڈ نے ایف ٹی ایکس گروپ کے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کی جگہ جان جے رے III کو نامزد کیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جس میں ان کے ایک ٹیکسٹ پیغام کا حوالہ دیا گیا ہے، 30 سالہ تاجر بہاماس میں ہے۔

    بلومبرگ کے حسابات کی بنیاد پر، سیم بینک مین فرائیڈ کی دولت ہفتے کے آغاز میں 16 بلین ڈالر تھی۔ لیکن جیسے ہی FTX کرپٹو ایکسچینج گر گیا، اس کے اثاثوں کی قیمت صفر ہو گئی، اور 30 ​​سالہ کاروباری شخص کے پاس صرف $1 رہ گیا۔ بلومبرگ کے ایک مضمون میں وہ "تاریخ میں دولت کی سب سے بڑی تباہی” کی بات کرتا ہے۔

    سیم بینک مین فرائیڈ باضابطہ طور پر 2021 میں ارب پتی بن چکے تھے جس کی وجہ ایف ٹی ایکس نامی کمپنی تھی جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی کرپٹو ایکسچینج بن چکی تھی جس میں روزانہ 10-15 ارب ڈالر کی ٹریڈنگ ہوتی تھی۔

    2022 کے اوائل میں ایف ٹی ایکس کی مالیت کا تخمینہ 32 ارب روپے لگایا گیا تھا جو اس وقت تک ایک گھریلو نام بن چکا تھا اور مشہور شخصیات اس سے تعلق جوڑ رہی تھیں۔

    ان پر وال سٹریٹ جرنل نے یہ الزام بھی لگایا کہ المائدہ ریسرچ نے ایف ٹی ایکس کے صارفین کا پیسہ بطور قرض استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔ان کے اختتام کا آغاز اس وقت ہوا جب ایف ٹی ایکس کی مرکزی مدمقابل کمپنی بائنانس نے ایف ٹی ایکس سے جڑے تمام کرپٹو ٹوکن چند دن بعد فروخت کر دیے۔بائنانس کے چیف ایگزیکٹیو چینگ پینگ ژاو نے اپنے 75 لاکھ صارفین کو بتایا کہ ان کی کمپنی حال ہی میں سامنے آنے والے انکشافات کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے۔اس قدم کے بعد پریشان صارفین نے ایف ٹی ایکس کرپٹو ایکسچینج سے اپنا پیسہ نکالنا شروع کر دیا جو مجموعی طور پر اربوں ڈالر تھا۔اور یوں چند دنوں میں اربو ڈالرز ڈوب گئے

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • کرپٹوکرنسی کمپنی سیلسیئس نیٹ ورک دیوالیہ ،لاکھوں صارفین لُٹ گئے

    کرپٹوکرنسی کمپنی سیلسیئس نیٹ ورک دیوالیہ ،لاکھوں صارفین لُٹ گئے

    نیویارک:کرپٹو کرنسی لینڈنگ کمپنی ’سیلسیئس نیٹ ورک‘ کے کریش کرجانے سے صارفین مایوس ہوکر خودکشی کرنے کا سوچنے لگے۔

    رپورٹ کے مطابق سیلسیئس نیٹ ورک کے دیوالیہ ہو جانے سے دنیا بھرکے لاکھوں افراد اب خودکشیوں پرغورکرنے لگے ہیں ، آئر لینڈ سے لے کر امریکا تک شہریوں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ سرمایہ ڈوبنے کی وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات آرہے ہیں۔ یہی نہیں کمپنی کے کریش کرجانے سے لاکھوں افراد اپنے ریٹائر منٹ پلانز اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

     

    پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ مذکورہ کمپنی اربوں ڈالر مالیت کے اثاثوں کی حامل تھی، تاہم کرپٹو کرنسیوں کی قیمت میں تیزی سے کمی آنے اور دیگر کئی عوامل کے باعث یہ دیوالیہ ہوگئی۔

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    جو امریکی جج کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا تمام معاملہ دیکھ رہے ہیں، انھیں مختلف ممالک سے لوگوں کے خطوط موصول ہورہے ہیں، جن میں اس کمپنی کے متاثرین اپنی تکالیف سے جج کو آگاہ کررہے ہیں۔

    پاکستانیوں کے کرپٹو کرنسی میں ڈوبے 18 ارب کی واپسی کی امید

    یاد رہے کہ سیلسیئس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکس ماشنسکی نے اپنی کمپنی کو کرپٹو کرنسیاں ڈیپازٹ کرانے کے لیے محفوظ ترین پلیٹ فارم بتایا تھا اور کہا تھا کہ اُن کی کمپنی کرپٹو کرنسی ڈیپازٹ پر سب سے زیادہ شرح سود بھی دیتی ہے۔ کمپنی لوگوں کی طرف سے ڈیپازٹ کرائی گئی کرپٹو کرنسیوں کو آگے ادھار دیتی اور سرمایہ کاری میں لگا دیتی تھی۔کمپنی کے ذمہ اپنے کسٹمرز کے 4 ارب 70 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔

  • عرب امارات نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبارکےلیے لاسئنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا

    عرب امارات نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبارکےلیے لاسئنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا

    دبئی :عرب امارات نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبارکےلیے لاسئنس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا،اطلاعات ہیں‌ کہ متحدہ عرب امارات مارچ کے آخر تک دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کمپنیوں کو راغب کرنے کی کوشش میں ورچوئل خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے وفاقی لائسنس جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ کموڈٹیز اتھارٹی VASPs کو قائم کرنے کی اجازت دینے کے لیے قانون سازی میں ترمیم کے آخری مرحلے میں ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے Binance Holdings Ltd. کے نام سے تجارتی حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو اس سلسلے میں کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوگیا ہے

    ورچوئل کاروبار کرنے والی فرموں کے لیے ایک ملک گیر لائسنسنگ نظام متحدہ عرب امارات کو سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے حریف مالیاتی مراکز کے ساتھ بہتر مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جو کرپٹو ٹریڈنگ کے لیے مکمل طور پر ریگولیٹڈ ماحول پیدا کرنے کے کی طرف گامزن ہے

    ملک کے کچھ مالیاتی فری زونز پہلے ہی VASPs کے لیے اجازت نامے جاری کر چکے ہیں۔ بلومبرگ کی طرف سے دیکھی گئی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، دبئی ملٹی کموڈٹیز سینٹر نے 22، جبکہ ابوظہبی گلوبل مارکیٹ کے پاس چھ اور دبئی سلیکون اویسس اتھارٹی کے پاس کم از کم ایک لائسنس ہے۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، جو کہ زیادہ تر وال اسٹریٹ بینکوں کے لیے مشرق وسطیٰ کا مرکز ہے، کے پاس فی الحال کوئی نہیں ہے۔

    اس سے سلسلے میں بہتر کاروبار کی صورت حال پیدا کرنے کے لیے UAE نے پچھلے سال کے آخر میں ورچوئل اثاثوں پر ایک رسک اسیسمنٹ مکمل کیا، جس میں 14 پبلک سیکٹر ایجنسیاں اور 16 نجی شعبے کے اداکار شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایک "زیادہ خطرہ” ہے کہ VASPs کو غیر قانونی مالیاتی اسکیموں میں مشغول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،

    ذرائع کے مطابق ابوظہبی نے پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ اور سنگاپور میں کام کرنے والی حکمت عملیوں پر غور کیا۔ عہدیدار نے کہا کہ اس شعبے کا فعال کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ UAE کس طرح ٹیکنالوجی کو اپناتا ہے۔

    ملک نگرانی کے لیے ہائبرڈ طریقہ اختیار کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کے ان پٹ کے ساتھ ضابطے کو سنبھالے گا، جبکہ مقامی مالیاتی مراکز لائسنسنگ کے بارے میں اپنے روزانہ کے طریقہ کار کو قائم کر سکتے ہیں۔

  • پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فوری طور پر کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے کرپٹوکرنسی ویب سائٹس کے حوالے سے وزارت آئی ٹی سے رائے بھی مانگ لی ہے پی ٹی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے نے 1 ہزار 540 کرپٹو کرنسی ویب سائٹس بلاک کرنے کے لیے بھیجیں ہیں تاہم اس سے متعلق قانونی حوالہ کمزور ہے۔

    کیپٹن (ر) صفدر سمیت 5 لیگی رہنما اشتہاری قرار

    پی ٹی اے حکام کے مطابق اسٹیٹ بینک کےسرکلرکو بنیاد بنا کر ساری ویب سائٹس بند نہیں کی جا سکتیں، جب تک کوئی میکانزم نہیں بنا لیتے ویب سائٹس بند نہیں ہوں گی۔

    پی ٹی اے حکام کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کا مستقبل کیا ہو گا، متعلقہ اداروں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے 2021 میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی قدرریکارڈ کی جو ملکی وفاقی ذخائر سے زائد ہے پاکستان 21-2020 میں کرپٹو کرنسی کو اپنانے والا تیسرا بڑا ملک رہا ہندوستان اور ویتنام پہلے اور دوسرے نمبر رہے۔

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ رواں سال پاکستان میں کرپٹوکرنسی کی مالیت 711 فیصد بڑھی ہے چھوٹے سرمایہ کاروں کی آمد،بہت زیادہ لیوریج کی دستیابی اور لین دین کی کم لاگت کے باعث کورونا وبا کے دوران بھی کرپٹو کرنسیز کو پذیرائی ملی ہے۔

    استاد کے ہاتھوں 12 سالہ بچی قتل،ملزم گرفتار

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کے ذریعے استعمال ہونے والا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج بائننس ہے اس کے علاوہ دیگر مشہور پلیٹ فارمز جیسے کہ لوکل بٹ کوائنز ڈاٹ کام اور بائینوموو دیگرکا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں تقریباً 67 فیصد سرمایہ کار مرکزی خدمات کا استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ صرف 33 فیصد لین دین کے لیے دوسرے پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں۔

    بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والے روایتی ذرائع جیسے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز ان کرنسیوں کی خریداری کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔اس لیے زیادہ تر سرمایہ کار بینک ٹرانسفر کا استعمال کرتے ہیں یا جاز کیش اور ایزی پیسہ جیسے متبادل ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 2018 میں اعلان کیا تھا کہ بٹ کوائن جیسی ورچوئل کرنسیاں ضمانت یافتہ قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ورچوئل کرنسیوں کو تسلیم نہ کیے جانے کے باوجودکرپٹو کرنسیوں میں پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

    وزیرستان: سیکیورٹی چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش ،جوابی کاروائی میں دہشت گرد ہلاک

  • امریکی شہری محبت کے ہاتھوں لُٹ گئے

    امریکی شہری محبت کے ہاتھوں لُٹ گئے

    واشنگٹن: گزشتہ برس امریکی شہریوں کو محبت کے نام پر لوٹا گیا، ملاقات، رومانس اور ڈیٹنگ کی ویب سائٹ پر جعلی پروفائل بنا کر اربوں ڈالر لُوٹے گئے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سال 2021ء میں رومانس اسکیمنگ ویب سائٹ پر 24 ہزار سے زائد امریکی اس کا شکار ہوئے ہیں جعلی فنکاروں نے اپنے مداحوں سے کرپٹو کرنسی کی مد میں بھی رقم ہتھیائی ہے یعنی جعل سازی کی 25 فیصد رقم کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادا کی گئی ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم…

    اس طرح جن افراد نے کرپٹو کرنسی گنوائی ہے انہوں نے اوسط دس ہزار ڈالر کھوئے ہیں اس کے علاوہ لوگوں کو جعلی اور بے نام کرپٹو کرنسیوں کا لالچ بھی دیا اور اس کے بدلے اصل رقم لوٹ لی لیکن مجموعی طور پر لوگوں کے احساسات سے کھیلا گیا تھا اور انہیں جعلی محبت کے دھوکے دیئے گئے تھے۔

    پیار و محبت کی ویب سائٹ اور ڈیٹنگ ایپس پر جعلی افراد کے ہاتھوں قریباً تمام عمر کے افراد متاثر ہوئے لیکن لٹنے والوں میں سب سے زیادہ نوجوان ساتھی شامل ہیں جنہیں محبت یا جیون ساتھی کی تلاش تھی ان میں 18 سے 29 برس کے افراد شامل ہیں یہاں تک کہ بعض افراد 70 برس کے بھی تھے جو پیار کے جھانسے میں گرفتار ہو کر رقم گنوا بیٹھے یہ رجحان لاک ڈاؤن کے درمیان غیر معمولی طور پر بڑھا کیونکہ لوگ تنہا تھے اور کسی مخالف جنس سے گفتگو کرنا چاہتے تھےاسی عرصے میں دوستیوں اور ڈیٹنگ کی ویب سائٹ بھی پروان چڑھیں اور یوں فراڈ کے نت نئے راستے کھلے۔

    امریکا نے حجاب پرپابندی کومذہبی آزادی کی خلاف ورزی قراردیا

    دوسری جانب امریکی میں تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی چوری پکڑی گئی حکام نے ملزمان کے قبضے سے ساڑھے چار ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی برآمد کر لی حکام نے نیویارک میں ایک جوڑے کو گرفتار کیا ہے جو 2016 میں بٹ فینکس ایکسچینج کو ہیک کرنے میں ملوث تھا۔ جوڑے کے قبضے سے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی برآمد ہوئی ہے جس میں 3 ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی کرنسی بٹ فینکس ایکسچینج سے چرائی گئی تھی۔ ملکی محکمہ انصاف نے اسے کرپٹو کرنسی کی آج تک کی سب بڑی برآمدگی قرار دیا ہے. جوڑے کو مقامی عدالت کے سامنے بھی پیش کیا گیا-

  • کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کرپٹو کرنسی اسکینڈل: فراڈ میں ملوث ایک کمپنی کو نوٹس جاری

    کراچی: پاکستانی عوام سے کرپٹو کرنسی کے نام پر اربوں روپے کے فراڈ پر ایف آئی اے نے ایک کمپنی کو نوٹس جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی نے ہفتے کو ایف آئی اے سائبر کرائم کا دورہ کیا۔ اس موقع پر منعقدہ اجلاس میں ایف آئی اے سندھ زون عامر فاروقی، ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم عمران ریاض کے علاوہ دیگر افسران شریک ہوئے۔

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کی شکایات پر ایف آئی اے نے کام تیز کردیا ہے، تمام بینکوں کو منع کردیا ہے کہ ورچوئل کرنسی میں لین دین نہ کریں، اسٹیٹ بینک کے اعلی افسران سے بھی ملاقات میں اس بات پر زور دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی ویب سائٹ کہاں سے آپریٹ ہورہی ہیں اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، دنیا بھر میں 16 ہزار ویب سائٹ سے ورچوئل کرنسی کے ذریعے کام کیا جاتا ہے،دہشت گری کے لیے رقم کی لین دین بھی ورچوئل کرنسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 8 ماہ قبل کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کرنے والا ملزم ڈاکٹر ظفر گرفتار بھی ہوچکا ہے، ورچول کرنسی میں فراڈ کے حوالے لوگوں نے درخواستیں دی تھیں جس کی تفتیش چل رہی ہے، منگل کو اس معاملے پر اسٹیٹ بینک میں بریفنگ دی جائے گی، ہم اس اسکینڈل کو حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے۔

    صدر مملکت نے فنانس ضمنی بل 2022 کی منظوری دے دی

    واضح رہے کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک آن لائن فراڈ کی نشان دہی کی جس میں کرپٹو کرنسی کا لین دین کرنے والی کئی کمپنیاں ہزاروں پاکستانی افراد کے پیسے ہڑپ کر گئیں-

    حیران کن بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے 2018 کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لین دین سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار کا رجحان گزشتہ سالوں میں تیزی سے بڑھا ہے لین دین کے اس رجحان کے ساتھ ہی آن لائن دھوکہ دہی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں ہزاروں افراد جھانسے میں آ کر کرپٹو کرنسی کے ذریعے جلد اور با آسانی پیسے کمانے کے لالچ میں آ جاتے ہیں۔

    پاکستانیوں کے کرپٹو کرنسی میں ڈوبے 18 ارب کی واپسی کی امید

    ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پر ادائیگی کا طریقہ کار ہے اس سے آپ خریداری کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں اس وقت دنیا میں 4000 سے زائد کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ سنہ 2009 میں متعارف کروائے جانے کے بعد سے بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق بائنینس دنیا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جو 2017 میں قائم ہوئی اور کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ ہے۔ ایسی ایکسچینج کے ذریعے لوگ کرپٹو کرنسی خریدتے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے لین دین کے ذریعے منافع کماتے ہیں۔

    حریم شاہ منی لانڈرنگ معاملہ : سی اے اے حکام کا وضاحتی بیان

    عام طور پر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے یہ ایکسچینج ایک پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں وہ اپنا اکاوئنٹ کھول کر لین دین کر سکتے ہیں۔ لیکن کئی لوگ اس لین دین کے لیے موبائل فون ایپلیکیشنز اور ویب سائٹس بھی استعمال کرتے ہیں جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے کسی اور کے ذریعے سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ اس فراڈ میں بھی ایسا ہی ہوا۔

    ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شہریار احمد خان کا کہنا تھا کہ بائنینس کے کراچی میں نمائندے حمزہ خان کو بھی طلب کیا گیا اور بائنینس کے مرکزی دفتر کو بھی ان تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔

    ایف آئی اے کے سندھ سائبر کرائم کے سربراہ عمران ریاض کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنینس نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطے کے بعد کرپٹو کرنسی کے دو ماہر جو امریکی محکمہ خزانہ کے سابق ملازم رہ چکے ہیں نامزد کیے ہیں۔

    ان کے مطابق بائنینس کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ بائنینس بلاک چین ایڈریس استعمال کرتے ہوئے 11 ایپس کے فراڈ کی تحقیقات میں ایف آئی اے سے مکمل تعاون کرے گی اور اُنھیں امید ہے کہ مجرموں کی شناخت کی جا سکے گی۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا مفت لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کا اعلان

    کرپٹو کرنسی کے لین دین کا کام کرنے والی کمپنی کرپٹو برادرز کے سید عون کا کہنا تھا کہ اس آن لائن فراڈ میں ان لوگوں کو زیادہ نقصان ہوا جو کرپٹو کرنسی کو سمجھے بغیر لاکھوں اور کروڑوں روپے کمانا چاہتے تھے کرپٹو کرنسی کے لین دین سے لوگوں نے اس طرح پیسے ضرور کمائے لیکن یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس کو سمجھا اور خود لین دین کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس فراڈ میں چند لوگوں نے موبائل فون ایپلیکیشنز بنائیں جو کرپٹو کرنسی کی ایکسچینج نہیں تھی۔ ’لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے جو بائنینس میں لگائے گئے لیکن پھر اُنھوں نے وہاں سے پیسے نکلوا لیے یا ٹرانسفر کروا لیے اگر پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو ریگولیٹ کیا ہوتا تو یہ فراڈ ہونا مشکل تھا۔ ’اگر پاکستان میں قانون ہوتا تو پھر پاکستان کی جانب سے بائنینس کو اپنی شرائط دی جاتیں کہ اگر پاکستانیوں کے اکاؤنٹ کھولے جائیں تو کن شرائط پر کھولے جائیں اور کیا معلومات لی جائیں جو حکومت کو بھی مہیا کی جائیں۔‘

    عون کا کہنا تھا کہ جب یہ گروپ پاکستان کے کروڑ ڈالر یا 18 ارب روپے بائنینس کے والٹ میں ڈال رہا تھا تو ان کے کان کھڑے ہوتے اور وہ پاکستان کے ایف آئی اے کو بتاتے کہ آپ کے ملک سے فلاں شہری جو یہ کام کرتے ہیں اور جنھوں نے اتنی آمدنی بتائی ہوئی ہے وہ یکدم اتنے پیسے جمع کروا رہے ہیں۔ تب گارنٹیز ہوتیں اور ایسے فراڈ نہیں ہوتے۔

    سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا دھرنا

    خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کرپٹو کرنسی کا کاروبار غیر قانونی ہے۔ حال ہی میں سندھ ہائی کورٹ میں وقار ذکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو قانونی بنایا جائے انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے پاکستان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے۔

    سندھ ہائی کورٹ نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک سمیت وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھاجس کےبعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)،سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، وفاقی وزارت خزانہ اور فائنینشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کے نمائندوں پر مشتمل کرپٹو کرنسی کمیٹی قائم ہوئی جس کی رپورٹ بدھ کے دن سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جس میں سفارش دی گئی ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں اس وقت لوگوں کو کم مدت میں زیادہ منافع کمانے کی ترغیب دے کر پھانسا جا رہا ہے۔

    کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح ملک سے ناجائز پیسہ بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے یعنی منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔ اس سفارش کی ایک اور وجہ زرِ مبادلہ ذخائر کی ممکنہ طور پر بیرون ملک منتقلی بھی بتائی گئی ہے پاکستان میں بلااجازت کام کرنے والی بائنینس جیسی کرپٹو ایکسچینج کمپنیز کو فی الفور بند کردینا چاہیے اور ان پر جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔

    کمیٹی کی رپورٹ میں حال ہی میں سامنے آنے والے کرپٹو کرنسی فراڈ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین میں رسک پاکستان کے لیے فوائد سے کہیں زیادہ ہے بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کر چکے ہیں جن میں چین، بنگلہ دیش، مصر، مراکش، ترکی، نائجیریا، ویت نام، سعودی عرب، بولیویا اور کولمبیا شامل ہیں۔

    ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں متاثرہ کمسن بچی کا بیان بھی قابل تسلیم گواہی قراردیا

  • ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گیس پائپ لائن کو تاوان کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے ہیک کرنے والے ہیکرز سے تاوان کی بٹ کوائنز رقم واپس لے لی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ہیکرز سے 2.3 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی کی تاوانی رقم واپس حاصل کر لی ہے، یہ رقم کالونیل پائپ لائن نامی کمپنی نے ہیکرز کو ادا کی تھی۔

    ہیکرز نے ایک سائبر اٹیک کے ذریعے گزشتہ ماہ مذکورہ کمپنی کی ایسٹ کوسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ایسٹ کوسٹ میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اعلی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ یہ رقم حال ہی میں شروع کی جانے والی رینسم ویئر اور ڈیجیٹل ایکسٹوریشن ٹاسک فورس نے حاصل کی ہے ، جو سائبرٹیکس کے اضافے پر حکومت کے ردعمل کے حصے کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کالونیل پائپ لائن پر حملے کو حل کرنے کے لئے ، کمپنی نے 8 مئی کو مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کے تیل اور گیس پائپ لائنوں کو تاوان کے سامان کے ذریعے معذور کرنے کے بعد اپنے کمپیوٹر سسٹم تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لئے تقریبا$ 4.4 ملین ڈالر ادا کیے۔

    ان حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کو یہ مخصوص ہدایات دی گئیں کہ وہ رقم کب اور کہاں بھیجنی ہے ، لہذا تفتیش کاروں کے لئے بھتہ خوری کے پیچھے مجرمانہ تنظیموں کے ذریعہ قائم کردہ کریپٹوکرنسی اکاؤنٹس ، عام طور پر بٹ کوائن کی ادائیگی کی رقم کا سراغ لگانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ فنڈز کی بازیابی کے لئےان اکاؤنٹس کو غیر مقفل کرنا ہو۔

    کالونیل پائپ لائن کیس میں عدالت کے دستاویزات جاری کی گئیں کہ ایف بی آئی نے بٹ کوائن اکاؤنٹ سے منسلک انکرپشن کی بٹن استعمال کی جس میں تاوان کی رقم فراہم کی گئی تھی۔ تاہم ، عہدیداروں نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ انہیں یہ چابی کیسے ملی۔ مجرموں نے بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کارنسیس کو استعمال کرنا پسند کیا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ سارے نظام کی شناخت نہیں ہے ، اسی طرح یہ خیال بھی ہے کہ کسی بھی کریپٹو کرینسی والیٹ میں فنڈز صرف ایک پیچیدہ ڈیجیٹل کلید کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    جارج ٹاؤن لا میں انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی قانون اور پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپریل فالکن ڈاس نے کہا ، نجی کلید ، ایک ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے ، وہ چیز ہے جس نے ان فنڈز کو ضبط کرنا ممکن بنایا تھا۔

    تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے پائپ لائن بند کرنے کے بعد تاوان کی صورت میں دی جانے والی رقم واپس حاصل کر لی ہے، ہیکرز کو رقم بٹ کوائن میں دی گئی تھی جسے اب ایف بی آئی نے ایک ورچوئل کرنسی ویلٹ سے ضبط کر لیا ہے۔

    امریکی حکام نے 63.7 بٹ کوائنز واپس لیے ہیں جن کی قیمت 2.3 ملین ڈالرز ہے، یہ رقم پائپ لائن کمپنی نے گزشتہ ماہ سائبر اٹیک کے بعد ہیکرز کو ادا کی تھی، امریکی حکام نے مشتبہ افراد کے ذریعے استعمال شدہ ورچوئل والٹ کی نشان دہی کی تھی۔

    کالونیل پائپ لائن کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیک ہوئی پائپ لائن تک دوبارہ رسائی کے لیے ہیکرز کو تقریباً 5 ملین ڈالرز ادا کیے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، جو اپریل میں 63 ہزار ڈالر تھی وہ اب 36 ہزار ڈالر ہو چکی ہے۔

    سائبر حملے کا علم ہونے کے بعد کالونیل پائپ لائن نے اپنے سسٹم بند کر دیے تھے تاکہ حملے کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے، کمپنی کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے کچھ سرگرمیاں روکنا پڑیں اور چند آئی ٹی سسٹم متاثر ہوئے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر…

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا