پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے آج کا دن بہت اہم ہے آج سے تین سال قبل 17 جولائی 2016 کو پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کرکٹ کے گھر لارڈز میں انگلش شیروں کو 75 رنز سے شکست دی اور ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کی. اس کامیابی کا جشن پاکستانی پلئیرز نے نرالا انداز میں کیا. جیت کے بعد پاکستانی پلئیرز نے گراؤنڈ کے اندر پش اپس لگا کر کیا.
Tag: کرکٹ

فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین
فاسٹ باؤلرز کی زرخیز سرزمین پاکستان نے کرکٹ میں ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد دنیائے کرکٹ کو زبردست تیز ترین باؤلرز دئی۔ فضل محمود سے شروع ہونے والا سلسلہ سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، محمد سمیع، وہاب ریاض سے ہوتا ہوا 19 سالہ نوجوان شاہین شاہ آفریدی تک بِلا تعطل جاری ہے۔ شاندار اسپین باؤلنگ اور اس میں جدت لانے کا سہرا بھی پاکستانی جادوگر باؤلرز کا کارنامہ رہا۔ گگلی ماسٹر عبدالقادر، مشتاق احمد، دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق اور جادوگر سعید اجمل کے بعد شاداب خان کی صورت میں آج بھی بیٹسمینوں پر اپنا سحر طاری کیے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف جہاں بیٹنگ پاکستان کی ہر دور میں کمزوری رہی ہے وہیں پاکستان نے ورلڈ کلاس بیٹسمین بھی پیدا کیے ہیں۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد، ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، جاوید میانداد، لفٹی سعید انور، لیجنڈری انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، مصباح الحق کے بعد فخر زمان، امام الحق اور رنز مشین بابر اعظم نمایاں ہیں۔
حالیہ ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے کیریئر کے تیز ترین 3 ہزار رنز مکمل کر کے ورلڈ ریکارڈ میں ہاشم آملہ کے بعد دوسرے نمبر اور ایشیاء سے پہلے نمبر پر نام درج کروانے والے بابر اعظم موجودہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 24 سالہ نوجوان بابر اعظم نے یہ اعزاز اپنے کیریئر کے 70 ویں میچ میں 68 اننگز کھیل کر حاصل کیا۔ شرمیلے اور دھیمے مزاج کے بابر کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق خاندان سے ملا۔ پندرہ اکتوبر 1994ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم مشہور کرکٹر اکمل برادران (کامران اکمل، عمر اکمل اور عدنان اکمل) کے کزن ہیں۔
2010ء سے زرعی ترقیاتی بنک کی ٹیم سے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کرنے والے بابر نے U19 اور پاکستان اے کی نمائندگی کی۔ اپنی پر اثر بیٹنگ سے سب کے دل موہ لینے والے نوجوان نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 31 مئی 2015ء کو پاکستان کے دورے پر آئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف قدافی اسٹیڈیم میں کھیلا۔ جہاں 60 بالز پر 54 کی اننگز کھیل کر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ بابر نے 16ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں اپنی پہلی سینچری ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 ستمبر 2016ء کو شارجہ میں اسکور کی جب وہ 131 بالز پر 120 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ایک روزہ مقابلوں کی اس سیریز کے اگلے دو میچز میں بھی بالترتیب 123 اور 117 رنز اسکور کیے جو ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم تھا۔
اس سے پہلے 7 ستمبر 2016ء کو اولڈ ٹریفٹ کے گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف T20 کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے 11 بالز پر *15 اسکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ جبکہ محدود اوورز کے اس کھیل میں پہلی ففٹی ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی T20 کیریئر کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اسکور کی جہاں 37 بالز پر ناقابل شکست *55 رنز کی اننگز کھیلی۔ ویسٹ انڈیز کے اسی دورے میں 23 اکتوبر 2016ء کو دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بابر نے پہلی اننگز میں 69 اور دوسری اننگز میں 21 رنز اسکور کیے۔ محدود اوورز کی کرکٹ کے برعکس اپنی پہلی سینچری کے لیے بابر کو زیادہ انتظار کرنا پڑا نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی میزبانی میں کھیلے گئے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اس فارمیٹ کی پہلی سینچری اسکور کی۔ 24 نومبر کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 263 بالز پر *127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو اب تک اس فارمیٹ میں اس نوجوان کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔
بابر اعظم اب تک 21 ٹیسٹ میچز کی 40 اننگز میں 5 بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ایک سینچری اور 11 ففٹیز کی مدد سے 1235 رنز اسکور کر چکے ہیں۔ جہاں ان کی اوسط 35.29 ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 144 چوکے اور 7 چھکے لگانے والے بابر فیلڈنگ کرتے ہوئے 16 کیچز بھی پکڑ چکے ہیں۔
ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت محدود اوورز کے کھیل میں بابر کی شاندار مہارت خوب نکھر کر نظر آئی۔ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اب تک 71 میچز کی 69 اننگز میں دس بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 52.83 کی شاندار اوسط اور 85.97 کے مضبوط سٹرائیک ریٹ سے 3117 رنز اسکور کیے ہیں۔ جس میں 10 سینچری اور 14 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ 268 چوکے اور 27 چھکے لگانے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور *125 ناٹ آؤٹ ہے جو 9 اپریل 2017ء پر ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا۔ اس دوران بابر نے مخالف ٹیمیوں کے 35 کیچز بھی پکڑے۔ کرکٹ ماہرین بابر اعظم کا تقابل دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ویراٹ کوہلی سے کرتے ہیں تیز ترین ایک ہزار، دو ہزار اور پھر تین ہزار رنز مکمل کرنے میں بابر اعظم ہندوستانی کھلاڑی ویراٹ کوہلی سے کہیں آگے ہیں۔ T20 انٹرنیشنل رینکنگ میں نمبر ون پر موجود بابر اعظم اب تک 30 میچز میں 7 بار ناقابل شکست رہتے ہوئے 54.22 کی بھاری اوسط سے 1247رنزجڑ چکے ہیں۔ اس فارمیٹ میں 128.96 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے بابر نے 124 چوکے اور 18 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ T20 میں 10 بار 50 کا ہندسہ عبور کرنے والے بابر کا سب سے بڑا اسکور *97 ناٹ آؤٹ رہا جو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف 2 اپریل 2018ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بنایا گیا۔ اس طرز کی کرکٹ میں 14 کیچز بھی ان کے کھاتے میں درج ہیں۔
نوجوان بابر اعظم واقعی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں اگر وہ اسی طرح لگن اور محنت سے کھیلتے رہے تو آنے والے دنوں میں بےشمار ملکی اور بین الاقوامی بیٹنگ ریکارڈ ان کے نام ہوں گے۔
کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری
گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
پاکستان ذندہ باد
کیا ٹیم پاکستان ایک اور سرپرائز دے پائے گی ؟؟؟ اسد عباس خان
انگلستان کا موسم اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بارے پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ کب °360 ڈگری کی پِھرکی لے نہ تو اعداد وشمار اور تیکنیک کی باریکیوں میں پھنسے تجزیہ نگار بتا سکتے ہیں نہ جدید ٹیکنالوجی "Unpredictable team” کی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ ہونی کو انہونی اور ناممکن کو ممکن بنانا کوئی ان سے سیکھے، غیر متوقع نتائج دینے میں ٹیم پاکستان بین الاقوامی کرکٹنگ سرکل میں ہمشیہ بریکنگ نیوز کی صورت مرکز نگاہ رہتی ہے۔
ورلڈ کپ سے قبل پہلے آسٹریلیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچز کی لگا تار دو سیریز وائٹ واش ہو گئے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان کی بے نام (بے بی) ٹیم سے ہار گئے۔ اس مایوس کن کارکردگی پر شائقین کرکٹ پریشان تو تھے ہی، رہی سہی کسر ویسٹ انڈیز کے خلاف نکل گئی جب گرین شرٹس صرف 105 رنز پر ڈھیر ہو کر باآسانی سات وکٹوں سے شکست کھا گئے تو ورلڈ کپ میں کچھ اچھا کرنے کی سب امیدیں ٹوٹ گئیں۔ لیکن دنیا اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب ٹیم پاکستان نے 3 جون کو نوٹنگھم کے کرکٹ گراؤنڈ پر اس ورلڈ کپ کی "موسٹ فیورٹ” اور ورلڈ نمبر ون انگلینڈ کو گھر میں گھس کر مار دیا تو امیدوں کے چراغ ایک بار پھر روشن ہو گئے۔ 7 جون کو سری لنکا بمقابلہ پاکستان برسٹل کے کرکٹ گراؤنڈ میں جیت بارش کے نام درج ہوئی اور 16 جون کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلے میں ہندوستان سے بری ہار پر ہر کوئی اس ٹیم کو کوسنے لگا اور معاملات کھیل سے نکل کر کھلاڑیوں کی ذاتیات اور ان کے اہل خانہ پر گالم گلوچ تک پہنچ گئے۔ غصیلے شائقین کرکٹ کا کپتان سرفراز احمد اور چیف سلیکٹرز سابقہ لیجنڈ انضمام الحق خاص طور پر نشانہ بنے۔ اور جب اگلا میچ آسٹریلیا سے بھی ہارا تو شائقین کرکٹ کا غم و غصہ بجا تھا لیکن۔۔!
سوشل میڈیا سے ریگولر میڈیا تک عوام، ریٹائرڈ سابقہ پلیئرز، تجزیہ نگار، سیاست دان غرض ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نہایت منفی انداز میں نکالنے لگے جو من حیث القوم ہمارے لیے واقعی قابل تشویش بات ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے نیچے صرف افغانستان کی ٹیم تھی اور ٹیم پاکستان کا ورلڈ کپ میں سفر تمام ہونے کے تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ جبکہ کچھ سر پِھرے اب بھی 92 کے ورلڈ کپ کے ساتھ مماثلت ڈھونڈ ڈھونڈ کر اعلان کناں تھے۔ ٹویٹر پر کسی دیش بھگت نے لکھا کہ میری والدہ بتاتی ہیں جب 92 میں پاکستان اپنا پانچواں میچ ہارا تھا تو اس دن ہم نے ٹینڈے پکائے ہوئے تھے اور آج 2019 میں بھی پانچویں میچ کی ہار اور ٹینڈے ہی پکے ہیں۔
اور پھر ابھی تک ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے۔ شاہینوں نے اونچی پرواز لی اور 23 جون کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ساوتھ افریقہ کی ٹیم کو پھینٹا لگانے کے بعد 26 جون کو اب تک ورلڈ کپ میں ناقابل شکست نیوزی لینڈ کو بھی رگید ڈالا تو ایک بار پھر دنیا ورطہ حیرت تھی۔ لیکن ابھی عشق کے دو امتحان اور بھی ہیں افغانستان اور بنگلادیش کے خلاف باقی بچے دو میچز میں کامیابی حاصل کر کے ہی ٹیم پاکستان سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ جہاں بالخصوص بنگلادیش کے خلاف پوری طاقت لگانی ہو گی وہ ٹیم 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے شاندار کرکٹ کھیل رہی ہے۔ اور ٹیم پاکستان کو گزشتہ چار میچز میں لگا تار شکست کا مزہ بھی چکھا چکی ہے جہاں سال 2015ء میں اظہر علی کی کپتانی میں دورہ بنگلادیش پر تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور گزشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ایشیاء کپ مقابلوں میں سرفراز احمد کی کپتانی میں شکست بھی شامل ہے۔ اس ورلڈ کپ میں بھی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم پاکستان کے برابر جبکہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر وہ ہم سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ لیکن یہاں بھی اگر مگر کی صورتحال کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ انگلینڈ کو اپنے آئندہ دو میچز (بمقابلہ ہندوستان و بمقابلہ نیوزی لینڈ) میں سے کم از کم ایک میچ ہارنا بھی ہو گا۔ جو کہ پاکستان سے پِٹنے کے بعد سری لنکا اور آسٹریلیا سے بھی شکست کھا کر شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔
کون کہاں کھڑا ہو گا یہ تو اگلے ہفتے ہی پتہ چلے گا البتہ دنیا اس بات کی قائل ہے کہ پاکستان کو جب بھی "Underestimate” کیا گیا تو ہمیشہ ٹیم پاکستان نے "Strike” کرتے ہوئے مخالف کو "Surprise” دیا ہے اور یہ رِیت کھیل کے علاوہ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی شامل ہے۔
1992ء کا ورلڈ کپ ہو یا 2017ء کی چیمپیئن ٹرافی ٹیم پاکستان ہمیشہ ایسے سرپرائز دینے کے لیے مشہور ہے۔ کیا اس بار بھی ایسا ہونے والا ہے۔۔۔۔ یا سرفراز دھوکہ دے گا۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ چند روز تک سب سامنے آ جائے گا لیکن ایک بات تو طے ہے "تم جیتو یا ہارو سنو ہمیں تم سے پیار ہے” کے نغمے گاتے شائقین کرکٹ کو اس ٹیم سے بے لوث محبت ہے۔
بوم بوم کے بعد ایک اور آفریدی کی دھوم ۔۔۔ سلمان آفریدی ۔۔۔
ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے بعد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر دنیا میں ہونے والے چرچوں کا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان بلاشبہ دنیا کو ہر طرح سے سرپرائز دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کی 360 درجے کی Unpredictibility کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا , ہارنے پر آئیں تو برادرانہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت آئ سی سی رینک بورڈ پر پڑی دسویں نمبر کی افغان ٹیم سے ہار جائیں اور اگر دھول چٹانے کا ارادہ کر لیں تو نمبر ون کو بھی اڑا کے رکھ دیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس کم بیک کی تعریف دوست دشمن ہر ایک کی زبان پر ہے۔ اپنے اتحاد اچھی پلاننگ اور کھلاڑیوں پر اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے ایک ایسی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا جو اس ورلڈ کپ میں ایک بھی میچ نہیں ہاری تھی ۔ آئ سی سی سکور بورڈ پر پوائنٹ سکورنگ کا یہ سفر بطور ٹیم ایک ساتھ پرفارم کرنے سے ہی ممکن ہوا۔ حارث سہیل اور اور
بابر اعظم کی پائیدار بیٹنگ اور محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی کی جنہیں شہنشاہ آفریدی کہا جا رہا ہے کی خوبصورت باؤلنگ نے اس میچ کو یادگار بناتے ہوے ٹیم کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیے۔ یہ میچ ایک Must Win میچ تھا جس میں ہار یا جیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے یا اس دوڑ کاحصہ بنے رہنے کا فیصلہ کرتی۔ اس میچ نے جہاں ٹیم سلیکشن اور اس کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا وہیں ٹیم کی جانب سے پاکستان کو جتانے کے لیے پیش کیاجانیوالا جذبہ بھی قابل قدر قرار پایا۔اگر بیٹنگ لائن کی بات کریں تو پاکستان کی جانب سے بابر اعظم نے پریشر کے باوجود شاندار سینچری مکمل کی اور مشکل پچ پر جہاں بال ڈیڑھ ڈیڑھ گز تک سپن ہو رہی تھی نہایت عقلمندی سے پریشر پوائنٹس کھیلے۔ ایسی مشکل پچ پر حارث سہیل کی بابر اعظم کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ اور Run Chase نے پاکستان کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاندار بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جاندار باؤلنگ نے اس وکٹری کے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 19 سالہ شاہین شاہ آفریدی کی جانب سے سات لگاتار اوورز جن میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو باندھ کر رکھا اور تین وکٹیں حاصل کیں کمال کے تھے۔فریدی کی جانب سے Maiden Overs , نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو دھبڑدوس کرنا , بہترین باؤلنگ ٹیکنیکس کا استعمال اور ہارڈ لیگ پر بے مثال باؤلنگ کا مظاہرہ اس ورلڈ کپ کے بہترین باؤلنگ سپیلز میں شمار کیا جا رہا ہے ۔
اس بہترین کارکردگی سے جہاں کھلاڑیوں کے اپنے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان کرکٹ ٹیم اجتماعی طورپر بھی مزید پر اعتماد ہوئی ہے۔ بابر اور حارث کی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آفریدی صاحب کی باؤلنگ نے گیم پر قوم کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں جب ٹیم نے ان پر اعتماد کیا اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھایا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر محو گردش ایک خوبصورت اور محظوظ کرنے والا جملہ جو اس بلاگ کے لکھنے کا باعث بھی بنا نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا کہ
"نیوزی لینڈ والے تیاری عامر کی کر کے آئے تھے پیپر میں آفریدی آ گیا ”
اس جملے کو پڑھنے کے بعد چہروں پر ابھرنے والی دلکش مسکراہٹوں کو ہمارا سلام ۔۔۔
میری فٹنس کا راز پانچ وقت کی نماز ہے سینیئرکھلاڑی کا بیان
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سینیئر کھلاڑی شعیب ملک جو 1999 سے ایک روزہ کرکٹ کھیل رہے ہیں وہ اس وقت ورلڈ کپ کھیلنے والے دو سب سے سینیئر کرکٹرز میں سے ایک ہیں. غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری فٹنس کا راز پانچ وقت کی نماز ہے.
شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ زیادہ کھیلتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اپنے آپ کو کیسے فٹ رکھنا ہے.
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان کرکٹرز سے زیادہ فٹ رہنا چاہتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں.
شعیب ملک کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خود پر اور پاکستانی ٹیم پر مکمل بھروسہ ہے کہ ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے.
انگلینڈ سے پے درپے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم آج کس کے مدمقابل ہونے جارہی ہے
دورہ انگلینڈ کی تلخ یادیں لیے پاکستانی ٹیم آج ورلڈ کپ کے وارم اپ میچ میں افغانستان سے ٹکرائے گی. دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ ورلڈ کپ جوکہ اسی ماہ میں شروع ہو رہا ہے. اس کے وارم اپ میچز کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں آج پاکستان اور افغانستان مدمقابل ہوں گے. افغانستان کی نسبت پاکستان کی ٹیم زیادہ مضبوط نظر آتی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایک روزہ میچز میں پے درپے 10 میچز میں شکست کھانے والی ٹیم آج افغنستان کے خلاف کیا رنگ دکھاتی ہے. محمد عامر اور وہاب ریاض کی شمولیت سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں.

ورلڈ کپ میں اہم کردار کون ادا کرے گا کلائیو لائڈ نے پیش گوئی کردی
(مانیٹرنگ ڈیسک) ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان اور 1975 کے ورلڈ کپ کے فائنل کے مین آف دی میچ کلائیو لائڈ نے آئی سی سی کی ویبسائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ رواں ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں آل راؤنڈر نہایت اہم کردار ادا کرسکیں گے.
کلائیو لائڈ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کی فلیٹ پچز باؤلرز کے لیے مشکل جبکہ بیٹنگ کے لیے موزوں ہیں لہذا اس صورتحال میں آل راؤنڈرز فیصلہ کن کردار ادا کرسکیں گے.
کلائیو لائڈ کا مزید کہنا تھا کہ اس ورلڈ کپ میں ہر ٹیم کے پاس بہترین آل راؤنڈرز موجود ہیں جس کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ یہ ورلڈ کپ آل راؤنڈرز کا ہوگا.
ورلڈ کپ میں صرف بارہ دن اور پاکستانی ٹیم کی تیاریاں
(مانیٹرنگ) گزشتہ روز ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے میں انگلینڈ نے پاکستان کو ہرا کر ایک روزہ میچز کی سریز 0-3 سے اپنے نام کرلی. جس کے ساتھ ہی قومی ٹیم کی ایک روزہ میچز میں مسلسل شکست اضافہ ہوگیا ہے قومی ٹیم عین ورلڈ کپ سے قبل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرکے جہاں تنقید کا نشانہ بن رہی ہے وہیں اس کی ورلڈ کپ کے لیے تیاریوں کا بھی پول کھل رہا ہے. سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ قومی ٹیم کی اس ناقص کارکردگی پر نہایت مایوس ہیں دوسری طرف ورلڈ کپ 2019 میں صرف بارہ دن رہ گئے ہیں اور قومی ٹیم اس ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے.

کونسے دو مشہور پاکستانی ورلڈ کپ میں کمنٹری کریں گے
آئی سی سی نے رواں ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ کیلیے کمنٹیٹرز کے پینل کا اعلان کردیا جن میں پاکستانی وسیم اکرم اور رمیز راجہ بھی شامل ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ورلڈ کپ کیلیے پاکستانی وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو پینل میں شامل کرلیاہے ۔
یہ بھی پڑھیں کس کو ملیں گے چار ملین ڈالر کھیلوں کی دنیا کی بڑی خبر
ان کے ساتھ اس میگا ایونٹ کے دوران کمنٹری باکس سنبھالنے والوں میں ناصرحسین، ای ین بشپ، ساروگنگولی ، میلین جونز، کمارسنگاکارا، مائیکل ایتھرٹن، الیسن مچل، برینڈن میک کولم، گریم اسمتھ، شان پولاک، مائیکل سلیٹر، مارک نکولس، مائیکل ہولڈنگ، ایشا گوہا، پومی ایمبانگوا، سنجے منجریکر، ہرشا بھوگلے، سائمن ڈول، ای ین اسمتھ، اطہر علی خان اور ای ین وارڈ بھی شامل ہیں شامل ہیں۔









