Baaghi TV

Tag: کشتی

  • اوچ شریف:سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی

    اوچ شریف:سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی

    بہاولپور: تحصیل اوچ شریف کے علاقے بیٹ بکھری میں کشتی الٹ گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق اوچ شریف میں الٹنے والی کشتی میں 3 افراد سوار تھے جنہیں بروقت ریسکیو کرلیا گیا جب کہ نجی کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے،نجی کشتی میں سوار لوگ اپنے گھروں میں مقیم لوگوں کے لیے کھانا لے کرجارہے تھے۔

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کا بتانا ہے کہ جلال پورپیروالا سے آنے والاسیلابی پانی تحصیل احمدپور شرقیہ کے دریائی علاقوں میں داخل ہورہا ہے اور احمد پور شرقیہ کے 100 سے زائد دیہات زیر آب ہیں، متاثرہ علاقوں میں ابھی بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم بہت سے لوگ اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں اورنکلنے کو تیار نہیں ہیں۔

    تنقید سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، مرتضیٰ وہاب

    قبل،ازیں،ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی،تھی،کشتی میں 19 افراد سوار تھے، 18 افراد کو بچا لیا گیا تھا،کشتی اوباڑو جنوبی قائد ملت اسکول کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، حادثےکا شکار ہونے والی کشتی نے سیلاب متاثرین کو موضع دراب پور سے ریسکیو کیا تھامظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کےعلاقےلتی ماڑی میں بھی سیلاب متاثرین کی کشتی الٹی تھی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، مزید ایک شخص نےکشتی میں لٹکنے کی کوشش کی تو کشتی اپنا توازن کھو کر الٹ گئی، خوش قسمتی سےکوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا،ادھر بہاولنگر کی بستی کلر والی کےمقام پردریائےستلج میں 12 سال کابچہ ڈوب کرجاں بحق ہو گیا۔

    خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی سے متعلق آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی

  • نائیجریا میں کشتی حادثے میں 60 افراد ہلاک، متعدد لاپتا

    نائیجریا میں کشتی حادثے میں 60 افراد ہلاک، متعدد لاپتا

    نائیجیریا کی شمالی ریاست نائیجر میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کشتی ریاست نائیجر کے ضلع ملالے کی بستی تُنگان سُولے سے دوگّا کے لیے روانہ ہوئی تھی کہ شمالی وسطی علاقے کے قریب دریا میں درخت کے تنے سے ٹکرانے کے بعد حادثے کا شکار ہو گئی،کشتی کو حادثہ اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے پیش آیا مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ، 17 خواتین اور چار بچوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق کشتی میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے جن میں سے 60 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہےجبکہ کچھ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ، لاپتہ کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واضح رہے کہ نائیجیریا میں خستہ حال کشتیوں اور گنجائش سے زائد افراد کے کشتی میں سوار ہونے کے باعث اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں،ان میں سے اکثر کشتیاں بغیر لائف جیکٹ کے چلتی ہیں، اس سے قبل جولائی میں بھی 22 نائیجیرین تاجر کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سیلاب سے تباہیاں ، 4 ہزار بستیاں ڈوب گئیں ، 35 لاکھ افراد متاثر

  • اٹلی کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 26 افراد ہلاک

    اٹلی کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 26 افراد ہلاک

    اٹلی کے جزیرے لمپیڈوزا کے نزدیک تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 26 افراد ہلاک ہوگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق تارکین وطن کی کشتی جزیرے لمپیڈوزا کے قریب الٹ گئی جس میں 90 سے زائد افراد سفر کر رہے تھے، کشتی ڈوبنے سے 26 افراد ہلاک ہوگئے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈوبنے والے 60 افراد کو ریسکیو بھی کیا گیا ہے جن میں 56 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں،کشتی میں سوار افراد نے لیبیا سے سفر کا آغاز کیا تھا تاہم ان کا تعلق کن کن ممالک سے تھا اس بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں ہے۔

    کراچی: یوم آزادی پر ہوائی فائرنگ سے بچی سمیت 3 افراد جاں بحق، 100 سے زائد زخمی

    سرحدوں کی حفاظت کےلیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،عاصم منیر

    حکومت نے عام شہری کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی ہے، وزیر اعظم

  • بنگلہ دیش: عوامی لیگ کا انتخابی نشان ’کشتی‘ الیکشن فہرست سے خارج

    بنگلہ دیش: عوامی لیگ کا انتخابی نشان ’کشتی‘ الیکشن فہرست سے خارج

    عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے جماعت کے تاریخی انتخابی نشان ’کشتی‘ کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے، جو کئی دہائیوں سے عوامی لیگ کی سیاسی پہچان رہا ہے۔

    لیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر عوامی لیگ کو ’رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں (رجسٹریشن معطل)‘ کے تحت چھٹی جماعت کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز تک جماعت کے نام کے ساتھ ’کشتی‘ کا نشان بھی موجود تھا، تاہم آج صبح اسے ہٹا دیا گیا،الیکشن کمیشن کے سسٹم مینیجر محمد رفیق الحق نے بنگلہ دیشی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ اقدام اعلیٰ حکام کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 12 جولائی کو نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے مطالبہ کیا تھا کہ عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل ہونے کے بعد ’کشتی‘ کے انتخابی نشان کو بھی فہرست سے نکال دیا جائے۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، ای او بی آئی پینشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری

    حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن کے کمشنر عبد الرحمان مسعود نے یہ بیان دیا تھا کہ نشان کبھی ممنوع نہیں ہوتے، اور کشتی کا نشان عوامی لیگ کو دیا گیا تھا، تاہم یہ نشان الیکشن کمیشن کی ملکیت ہوتا ہے اور اگر پارٹی تحلیل ہو جاتی ہے تو نشان بھی کمیشن کے پاس ہی رہتا ہے-

    فی الحال بنگلہ دیش میں 50 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور الیکشن کمیشن نے ان جماعتوں کے لیے 69 انتخابی نشانات مختص کیے ہیں۔ تاہم یہ تعداد 115 تک بڑھانے کی تجویز بھی قانون وزارت کو ارسال کی جا چکی ہےعوامی لیگ کے انتخابی نشان ’کشتی‘ کو ہٹایا جانا بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست میں ایک اہم موڑ کی علامت ہے، جو جماعت کے مستقبل پر گہرے سوالات اٹھا رہا ہے۔

    پی آئی اے کی برطانوی فضائی حدود میں واپسی پاکستان کی فتح ہے،شہباز شریف

  • تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا

    تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا

    کیلیفورنیا کے سمندر میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 3 افراد ہلاک اور متعدد لاپتا ہوگئے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے(بی بی سی) کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل سان ڈیاگو میں ایک چھوٹی کشتی کے ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 2 بچوں سمیت 16 افراد سوار تھے۔

    کوسٹ گارڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا گیا جس میں ہیلی کاپٹر کی مدد بھی لی گئی،آپریشن کے دوران 4 افراد کو ریسکیو کرکے طبی امداد کیلئے اسپتال روانہ کیا گیا جبکہ حادثے میں 3 افراد ہلاک اور 7 افراد لاپتا ہوگئے ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے، یہ نقصان تارکین وطن کی اسمگلنگ کی بظاہر کوشش معلوم ہوتی ہے۔

  • مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے،

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں ایک نیا اور خوفناک پہلو سامنے آیا ہے، جس میں زندہ بچ جانے والوں نے انسانی اسمگلروں کے ذریعے تاوان لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 44 پاکستانیوں کی جانیں گئیں، اور اب یہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے ایسے مجرمانہ آپریشنز کی حمایت کی یا ان میں ملوث رہنے کے لیے آنکھیں بند کیں۔وہ زندہ بچ جانے والے افراد جو اس خوفناک تجربے سے بچ کر مراکش میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آئے، انہوں نے اس سانحے کے حوالے سے ہولناک تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق، 66 پاکستانیوں کو لے کر جانے والی کشتی کو اسمگلروں نے کھلے سمندر میں جان بوجھ کر روک دیا۔ اسمگلر پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف ان افراد کو رہا کرتے گئے جو ادائیگی کر سکے – جو کہ 21 افراد تھے۔ باقی تارکین وطن کو چھوڑ دیا گیا، جنہیں قدرتی آفات، بھوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا، "انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا۔ جو لوگ پیسے نہ دے سکے، انہیں مارا پیٹا اور مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔”

    اس انکشاف نے پاکستان میں غصہ اور غم کی لہر دوڑادی ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، جن میں سے بیشتر گجرات کے ضلع کے نوجوان تھے۔ عوامی غصے میں اضافے کی وجہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے افسران پر غفلت اور ممکنہ طور پر اسمگلروں کی حمایت کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسران انسانی اسمگلنگ کے آپریشنز پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، رشوتیں لے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور مجرمانہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ایک وزارت کے ذرائع نے الزام لگایا، "یہ افسران اسمگلروں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وہ اہم شواہد دفن کرنے اور ان مجرموں کو بچانے کے لیے ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں۔”

    اس ممکنہ غفلت نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے سینکڑوں جانیں داؤ پر لگی ہیں۔جیسے ہی قوم اس سانحے پر غم و غصے میں ڈوبی ہوئی ہے، انصاف اور احتساب کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث اسمگلروں کے خلاف شفاف اور جامع تحقیقات کرے، ساتھ ہی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں موجود غفلت اور کرپشن کی تحقیقات بھی کرے۔

    واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے ایک حکومتی ٹیم بھیجنے کا حکم دیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔

    دوسری جانب موریطانیہ میں حالیہ کشتی حادثے کے متاثرہ خاندانوں کا غم بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ اس حادثے میں کئی پاکستانی شہریوں کی جانیں گئی ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔گوجرانوالہ کے دو سگے بھائی ہارون اور عزیر بھی اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ عزیر تو کسی طرح بچ گیا لیکن اس کے بھائی ہارون اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ عزیر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن حالات اتنے زیادہ سنگین تھے کہ وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان اجمل کا بھی موریطانیہ میں کچھ عرصہ سے کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اس کے والدین ابھی تک نہیں جان پائے کہ ان کا بیٹا کشتی حادثے کا شکار ہوا ہے یا وہ زندہ ہے۔ اجمل کے اہلِ خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مدد کی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کرے اور دیگر تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے۔

    انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایک اور ملزم گرفتار
    موریطانیہ کے کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا رکن تھا۔ اس ملزم کی گرفتاری سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس پورے نیٹ ورک کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کے درمیان متاثرین کے خاندانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے، اور ان کی جانب سے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

  • جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

    جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

    لاہور: جامعہ نعیمیہ کے دارالافتاء نے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے والوں کے لیے فتویٰ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "ڈنکی” یعنی غیر قانونی راستے اختیار کر کے بیرون ملک جانا نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ شرعی لحاظ سے بھی جائز نہیں۔

    دارالافتاء نے بیرون ملک جانے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قانونی طریقوں اور محفوظ راستوں کو اپنائیں تاکہ ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق نہ ہو۔دارالافتاء کی جانب سے جاری کیے گئے فتویٰ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ غیر قانونی طریقے سے پیسے وصول کرنا ایجنٹوں کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔ مزید برآں، فتویٰ میں کہا گیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے ایجنٹوں کے خلاف سخت قانون سازی کرے جو انسانی جانوں کے دشمن بن کر غیر قانونی طور پر افراد کو بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ جمعرات کو افریقی ملک موریطانیہ سے اسپین جانے والی غیر قانونی کشتی حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ خبرایجنسی کے مطابق یہ کشتی 2 جنوری کو موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی جس میں کل 86 تارکین وطن سوار تھے، جن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ حادثے کے دوران 36 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 44 پاکستانیوں میں سے 12 افراد گجرات کے رہائشی تھے جبکہ دیگر افراد سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھتے تھے۔ اس واقعے نے غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے والوں کی مشکلات اور انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایک سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

    دارالافتاء نے اس فتویٰ کے ذریعے عوامی آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ایسے ایجنٹوں اور غیر قانونی راستوں کے ذریعے زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے بچا جا سکے۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    تین بہن بھائیوں کے والدین کی شناخت میں مدد کے لیے £20,000 انعام

  • مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ 20 افراد فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے سینیگال گئے تھے، جن میں سے 8 جاں بحق ہوگئے جبکہ 12 کو بچایا گیا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) حکام نے اس سانحے کے متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ان افراد کا تعلق مختلف شہروں سے ہے، اور ان میں سے کچھ افراد وزٹرز اور ٹورسٹ ویزا پر سفر کر رہے تھے، جبکہ کچھ عارضی رہائشی ویزا پر سینیگال گئے تھے۔ 7 افراد فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جن میں 1 فرد عارضی رہائشی ویزا پر تھا، جبکہ 6 افراد ٹورسٹ ویزا پر ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے کراچی سے سینیگال روانہ ہوئے۔ علاوہ ازیں، 2 افراد نے عمرہ ویزا پر 18 ستمبر کو لاہور سے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ 9 افراد کا تعلق گجرات سے تھا، جن میں سے 5 کو بچا لیا گیا جبکہ 4 افراد حادثے کا شکار ہوئے۔ منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی اس حادثے میں شامل تھے، جن میں سے 3 جاں بحق ہوگئے جبکہ 3 کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح، شیخوپورہ کے 3 افراد اور سیالکوٹ کا ایک شخص بھی بچا لیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ کے ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔

    یہ تمام افراد مئی سے ستمبر کے دوران سینیگال اور سعودی عرب کا سفر کر رہے تھے۔ ان مسافروں میں سفیان، غلام مصطفی، مہتاب الحسن، رئیس افضل جیسے افراد شامل ہیں، جو فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جبکہ علی حسن اور حامد شبیر بھی اسی سفر پر فیصل آباد سے روانہ ہوئے تھے۔

    حکومت نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی میں 4 ارکان شامل ہوں گے، جو اس حادثے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور اس پر رپورٹ مرتب کریں گے۔

    یاد رہے کہ یہ کشتی حادثہ جمعرات کو موریطانیہ کے ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جب غیرقانونی طور پر اسپین جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور کشتی میں سوار 86 تارکین وطن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ مراکشی حکام کے مطابق، اس حادثے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔یہ سانحہ ایک اور سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

  • یونان کشتی حادثہ،مقدمہ درج،دو سہولت کار گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،مقدمہ درج،دو سہولت کار گرفتار

    یونان کی سمندری حدود میں غیرقانونی تارکین وطن کی کشتیاں اُلٹنے کے واقعتاً ایف آئی اے گوجرانوالہ نے پہلا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ بڑھایا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں 2 سہولت کاروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس کشتی حادثے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک ملزم کو گوجرانوالہ سے جبکہ دوسرے کو گجرات سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلرز کے نام سامنے آ گئے ہیں اور ان کے خلاف گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ اس حادثے میں ملوث مرکزی انسانی اسمگلر کا نام قمر الزمان عرف خرم ججہ ہے۔ خرم ججہ کا تعلق لیبیا سے ہے اور وہ عالمی انسانی اسمگلنگ کے گروہ کے ساتھ منسلک ہے۔ خرم ججہ اور اس کے بھائی عثمان سمیت ان کے خاندان کے چار افراد ایک اسمگلنگ گروہ چلاتے ہیں، جو غیرقانونی طور پر افراد کو یورپ لے جانے کے لیے مختلف راستوں کا استعمال کرتا ہے۔

    ایف آئی اے نے یہ بھی کہا کہ خرم ججہ کا گروہ خاص طور پر گجرات کے سنیارا گروہ کے خلاف کارروائی کے بعد فعال ہو گیا تھا۔ سنیارا گروہ کی گرفتاری کے بعد سے خرم ججہ اور اس کے ساتھیوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی تھیں۔ایف آئی اے کے مطابق، آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی سے تعلق رکھنے والے شمریز کا بھی نام مرکزی ملزمان میں شامل ہے، جو اس اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ایف آئی اے نے ان تمام افراد کے خلاف مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے عوام سے درخواست کی ہے کہ اگر انہیں اس نیٹ ورک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوراً متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔

    ایف آئی اے کے حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور اس جرم میں ملوث افراد کو سزا دلوانے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے۔ اس وقت یونان اور دیگر یورپی ممالک میں غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ان غیرقانونی اسمگلروں کا نیٹ ورک انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ:مرنے والوں میں ایک پاکستانی شہری کے شامل ہونے کی تصدیق

    کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

  • یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    13 دسمبر کو یونان کے جزیرہ کریٹ کے جنوب میں ایک افسوسناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے اپنی دردناک کہانیاں اور حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر اس حادثے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    حادثے کے حوالے سے بچ جانے والے پاکستانیوں نے بتایا کہ یہ حادثہ 13 دسمبر کی رات، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا۔ ان کے مطابق سمندر میں حالات انتہائی خراب تھے اور کشتی پر 84 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی غیر قانونی طور پر لیبیا سے یونان جا رہی تھی، اور بدقسمتی سے اس حادثے میں کئی پاکستانیوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ متاثرین کے مطابق حادثے کے دوران درجنوں پاکستانیوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔متاثرین نے مزید بتایا کہ جس کشتی پر وہ سوار تھے، اس کا نہ انجن صحیح کام کر رہا تھا، نہ واکی ٹاکی (رابطہ کے آلات) درست تھے، اور نہ ہی کشتی کے کپتان کا رویہ مناسب تھا۔ ان کے مطابق کشتی کے حادثے کے بعد ایک کارگو شپ نے انہیں بچایا، لیکن اس دوران ان کے کپڑے، موبائل اور جوتے سمندر میں بہہ گئے۔ اس وقت ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں، نہ جوتے، اور نہ ہی ضروری سامان۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یونان کے ایک پناہ گزینی کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں انہیں عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے، جہاں وہ ڈیڑھ دو ماہ تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ پھر 11 دسمبر کو ان کی کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، اور 13 دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    یونان میں پاکستان کے سفیر، عامر آفتاب قریشی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی اب بھی لاپتا ہیں، اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، مگر بچ جانے کی امیدیں کم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا تاکہ ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات کے لیے آرام دہ حالات فراہم کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ یہ پانچ کشتیاں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے روانہ ہوئی تھیں، جن پر پاکستانی شہری سوار تھے۔ ان کشتیوں کو ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ان کشتیاں میں پاکستانی بچے بھی شامل تھے، جو اس خوفناک حادثے میں شامل ہوئے۔یونان میں ہونے والا یہ کشتی حادثہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس میں پاکستانیوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات اور بچ جانے والوں کے انکشافات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے سفر کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے،

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک