Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد :ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہمسایہ ممالک اور دیگر علاقائی و عالمی پارٹنرز کیساتھ مشاورت سے حل کیا جائیگا۔سی پیک میں سماجی و اقتصادی منصوبوں پر بھر پور توجہ دیا جا رہا ہے۔پاکستان ،حق خودارادیت کے حصول تک مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کی سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ ابو ظہبی میں حوثی باغیوں کی جانب سے ڈرون حملے میں جاں بحق پاکستانی کی میت کو گزشتہ روز پاکستان منتقل کر دیا گیا باچا خان انٹر نیشنل ائر پورٹ پر او پی ایف حکام نے میت وصول کی۔ترجمان دفتر خارجہ نے جاں بحق ہاکستانی کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔

    حوثی باغیوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کیلئے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کریگا۔سی پیک کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ نومبر 2018 میں وزیر اعظم کے پہلے دورہ چین سے سی پیک میں سماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے،جس سے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ27 منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔سی پیک منصوبوں میں ٹیکنالوجی،زراعت،سائنس اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو بھی شامل کیا گیا ہے،اس کے علاوہ بڑے انفرا سٹرکچر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جبکہ جی سی سی نے نئے میگا انفراسٹرکچر منصوبوںکی بھی توثیق کی ہے،ان میں آزاد پتن اور کوہالہ ہائیڈرو پاور کے منصوبے شامل ہیں۔ان منصوبوں سے پاکستان کی فوڈ سیکورٹی اور توانائی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

    ترجمان نے 21جنوری 1990گائوکدل سری نگر میں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کی برسی کے موقع پر کہا کہ آج سے تین دہائی قبل بھارتی قابض فورسز نے بھارتی تسلط سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے پر امن احتجاج کرنے والے 52 بے گناہ کشمیریوں کو گائو کدل سری نگر میں وحشیانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔پاکستان بھارت کے اس وحشیانہ عمل کیخلاف کشمیری عوام کیساتھ اظہار یکجہتی اور واقعہ کےذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔یہ بات انتہائی قابل مذمت ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہو سکا۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بتدریج توجہ دے رہی ہے۔ترجمان نے عالمی برادری،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیلئے بھارت کا احتساب کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم اور دہشت کشمیری عوام کے حوصلوں کو کبھی بھی دبا نہیں سکتا۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اپنے بہن بھائیوں کو حق خودارادیت کے حصول تک تمام سفارتی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی، تعمیری اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،تاہم یہ ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مذاکرات کیلئےسازگار ماحول پیدا کرے۔پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد سے تعلقات مزید بگڑ گئے،انہوں نے کہا کہ بھارت غیر قانونی اقدامات سے مقبوضہ وادی کی آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرا رہاہے، جس کے نتیجے میں عالمی برادری نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا نوٹس لیا۔تاہم ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے معصوم لوگوں کے خلاف مظالم کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی طلباءکی چین واپسی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ وزیر خارجہ ،سیکرٹری خارجہ نے اپنے چینی ہم منصبوں کیساتھ اٹھایا ہے جبکہ پاکستانی حکام بھی اس معاملے کو متعلقہ چینی حلقوں کے ساتھ اٹھا رہے ہیں تاکہ پاکستانی طلباء اپنی تعلیم کے حصول کے لیے واپس چین جا سکیں۔

  • بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک

    بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک

    اسلام آباد:بھارتی فوج ظالم ،قاتل اوردرندہ:بھارتی جرنیلوں کوسزائیں ملنی چاہیں:مشعال ملک نے ایک بارپھردنیا کو بھارتی فوج کے مظآلم سے آگاہ کردیا،اطلاعات کے مطابق پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی 9 سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ سٹاک وائٹ کے سامنے اہل خانہ اور جیل میں بند شوہر کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کو تیار ہیں۔

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے جمعہ کو جنگی جرائم پر ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئ انہوں نے لندن میں قائم قانونی فرم سٹوک وائٹ کی برطانوی پولیس کے سامنے ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نروانے اور امور داخلہ کی گرفتاری کے لیے قانونی اپیل جمع کرانے کی تعریف کی۔

     

    تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتہائی مطلوب مجرم وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی فہرست میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ تمام مجرمانہ اور غیر انسانی کارروائیاں ان کی سرپرستی میں بھارتی حکام کر رہے ہیں۔

    حریت رہنما نے کہا کہ وہ اور ان کی بیٹی فرم کے سامنے اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یاسین ملک بھارتی بدنام زمانہ تہاڑ میں پڑے ہیں، جہاں وہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ شدید بیمار ہونے کے باوجود دوائیوں سے محروم ہیں،

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لندن میں قائم قانونی فرم سٹوک وائٹ نے برطانیہ کی پولیس کو 2000 شہادتوں سمیت شواہد جمع کرائے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں ہندوستانی فوجی کارکنوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے۔

    سٹاک وائٹ میں بین الاقوامی قانون کے ڈائریکٹر ہاکان کاموز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ رپورٹ برطانوی پولیس کو تحقیقات شروع کرنے اور بالآخر ان اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر راضی کرے گی جب وہ برطانیہ میں قدم رکھیں گے۔

    جیل میں بند کشمیری رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعل نے کہا کہ کشمیر 900 دنوں سے بھارتی فوجی محاصرے میں ہے کیونکہ یہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل اور ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکا ہے لیکن عالمی برادری مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فرم نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ تقریباً تین دہائیاں گزر چکی ہیں اور مقبوضہ وادی میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافے کے باوجود IIOJK میں ہندوستانی فوج کے ایک بھی رکن کے خلاف غیر قانونی طرز عمل کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

    چیئرپرسن نے کہا کہ رپورٹ نے ہندوتوا حکومت کے بدصورت اور فاشسٹ چہرے کو مزید بے نقاب کیا ہے، جیسا کہ گزشتہ سال تشدد کے 450 واقعات؛ پیلٹ گن سے متاثرین کے 1,500 واقعات؛ 100 جبری گمشدگی اور جنسی تشدد کے 30 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    اس رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے 10 شہادتیں، تشدد سے متعلق 4 شہادتیں، پیلٹ گن کے تشدد سے متعلق 3 شہادتیں، جبری گمشدگی کے حوالے سے ایک گواہی اور خواتین کے خلاف زیادتی اور جنسی تشدد کے 2 واقعات درج کیے گئے ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ رپورٹ نے ایک بار پھر دستاویزی ثبوت کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہندوستانی حکام کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم کی منظم نوعیت کو بے نقاب کیا ہے، اس کے علاوہ سیکورٹی پالیسیوں کے وسیع تناظر میں دہلی اور تل ابیب کے درمیان ملی بھگت کے نئے شواہد کو بے نقاب کیا ہے۔

    چیئرپرسن نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کی حکومت کو نہ صرف درخواست پر تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے بلکہ دنیا میں کہیں بھی قانونی شکلوں میں نریندر مودی کی گرفتاری کے لیے "عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت اپنی متعلقہ حکومتوں کو ایسی اپیلیں دائر کرنی چاہئیں کیونکہ یہ واحد علاج ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گاؤ کدل قتل عام کے متاثرین کو دیکھوجہاں انصاف 32 سال گزرنے کے باوجود متاثرین کو نہیں مل رہا کیونکہ سفاک فوج کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے جب سے مودی نے کشمیریوں کے قتل عام کو قانونی حیثیت دی ہے اور عالمی برادری کی بے حسی دنیا کی بدترین انسانی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بالادست مودی کی حکومت نے کشمیری عوام کے سماجی، مذہبی، سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ کشمیر جل رہا ہے اور کشمیر میں خون بہہ رہا ہے لیکن ان کا مالی مفاد انہیں بھارت کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے روکتا ہے۔

    حریت رہنما نے کہا کہ دنیا کو اب بھارت کے جرائم اور استثنیٰ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اور دوغلے پن سے باز آنا چاہیے اور تلخ حقیقت کو قبول کرتے ہوئے لندن کی فرم کی طرح جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ تنازعہ کشمیر کا حلکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر لندن اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 2 ہزار شہادتوں کو مدنظر رکھ کر رپورٹ تیار کی لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 41 صفات پر مبنی رپورٹ ایک سال کی تحقیقات پر بنائی ،اسٹوک وائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے 450 کیسز رپورٹ ہوئے ،پیلٹ گن سے متاثرہ 1500 اور جبری گمشدگیوں کے100 کیسز ریکارڈ کئے گئے، مقبوضہ کشمیر میں جنسی ہراسگی کے 30 کیسز سامنے آئے ہیں استثنیٰ کلچر سے جنگی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی کا فقدان ہے، شہدا کے خاندان کو تدفین کے لیے رسائی نہیں دی جاتی،کیسز میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، رات گئے بھارتی پولیس کے چھاپے بھی شامل ہیں بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،

    واضح رہے کہ برطانوی لا فرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے پیچھے بھارتی آرمی چیف اوروزیرداخلہ کا ہاتھ ہے لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے برطانوی پولیس سے بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مظالم کے شواہد ہمارے پاس ہیں بھارتی آرمی چیف اور امیت شاہ مقبوضہ کشمیرمیں سماجی کارکنوں پر تشد اوراغوا میں ملوث ہیں،

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

  • مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

    برطانوی لا فرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے پیچھے بھارتی آرمی چیف اوروزیرداخلہ کا ہاتھ ہے

    لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے برطانوی پولیس سے بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مظالم کے شواہد ہمارے پاس ہیں بھارتی آرمی چیف اور امیت شاہ مقبوضہ کشمیرمیں سماجی کارکنوں پر تشد اوراغوا میں ملوث ہیں،

    لندن کی ایک قانونی فرم نے برطانوی پولیس کو ایک درخواست دی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم میں مبینہ کردار پر بھارت کے آرمی چیف اور ہندوستانی حکومت کے ایک سینئر اہلکار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔لا فرم سٹوک وائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے برطانیہ کی پولیس کو 2,000 شہادتوں سمیت ثبوت جمع کرائے ہیں جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کس طرح بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں مبینہ جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث تھیں۔

    لا فرم سٹوک وائٹ کا کہنا ہے کہ اس نے میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ کو ثبوت جمع کرائے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں بھارتی فوج کشمیر میں کارکنوں، صحافیوں اور شہریوں کے تشدد، اغوا اور قتل کے ذمہ دار تھے ،قانونی فرم کی رپورٹ 2020 اور 2021 کے درمیانی عرصے میں بنائی گئی ہے، جس میں دو ہزار سے زائد ثبوت مہیا کئے گئے ہیں، اس میں آٹھ نامعلوم سینئر بھارتی فوجی اہلکاروں پر کشمیر میں جنگی جرائم اور تشدد میں براہ راست ملوث ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا تھا،

    لندن پولیس کو یہ درخواست "عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت کی گئی تھی، جو دنیا میں کہیں بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار دیتا ہے۔ لندن میں بین الاقوامی قانونی فرم نے کہا کہ اس کا خیال ہے کہ کشمیر میں مبینہ جنگی جرائم پر بھارتی حکام کے خلاف بیرون ملک قانونی کارروائی کی درخواست پہلی بار دی گئی ہے، اسٹوک وائٹ کے بین الاقوامی قانون کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ کہ انہیں امید ہے کہ رپورٹ برطانوی پولیس کو تحقیقات شروع کرنے اور بالآخر ان اہلکاروں کو گرفتار کرنے پر راضی کرے گی جب وہ برطانیہ میں قدم رکھیں گے۔ ہم برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور ان کی تحقیقات کرے اور ان کو گرفتار کیا جائے

    2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے انہیں دائمی استثنیٰ حاصل ہے۔

    برطانوی قانونی فرم کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا ہے کہ کرونا وبا کے دوران بھارت کی خلاف ورزیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔رپورٹ میں گذشتہ سال بھارتی حکام کے ہاتھوں خطے کے سب سے ممتاز سماجی کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کے بارے میں تفصیلات بھی شامل ہیں 42 سالہ پرویز نے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے لیے کام کیا۔ اس سوسائٹی نے بھارتی فوجیوں کی جانب سے کیے گئے تشدد اور طاقت کے استعمال کے بارے میں وسیع رپورٹس لکھی ہیں۔

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    برطانوی فرم نے ضیا مصطفیٰ کے اہلخانہ کی جانب سے دی گئی درخواست بھی ثبوتوں میں شامل کی جس کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا، 2021 میں بھارتی فوج نے جیل سے نکال کر شہید کر دیا گیا تھا،

    کاموز نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ برطانوی پولیس کو بھارتی اہلکاروں کی گرفتاری کی درخواست کے بعد کشمیر میں دیگر قانونی اقدامات کی جانب بھی توجہ مرکوز کی جائے گی انہوں نے کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ آخری اقدام نہیں ہو گا شاید اور بھی بہت سی درخواستیں دائر کی جائیں گی

  • چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا لیگ سے تنخواہ اور الاؤنس نہ لینے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے پاکستان کی سب سے اہم لیگ جسے کشمیرپریمیئر لیگ کے نام سے دنیا جانتی ہے سے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے کشمیرپریمیئر لیگ کے ساتھ محبت اور اس کی کامیابی کے لیے اپنے خلوص کا زبردست انداز میں اظہار کیا ہے ،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں کشمیر پریمیئر لیگ سے کوئی تنخواہ اور الاؤنس نہیں لوں گا،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کشمیر پریمیئر لیگ کے تمام وسائل صاف اور شفاف طریقے سے استعمال کیے جائیں گے،

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ کشمیر میں کرکٹ اور کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کی جائے۔

    چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ ارشد خان تنولی کا کہنا ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک مشن اور ایک مقصد ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں تمام فرنچائز مالکان کا شکر گزار ہوں کہ جس طرح سے تمام چھ فرنچائزز نے میرے چیئرمین، چیئرمین کشمیر پریمیئر لیگ بننے کے بعد مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

  • درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی،قریشی

    ‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد(ISSI) اور انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے محققین کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں اسپیشل سیکرٹری خارجہ رضا بشیر تارڑ، ڈائریکٹر جنرل (آئی ایس ایس آئی) ایمبیسڈر اعزاز چوہدری اور صدر انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، ایمبیسڈر ندیم ریاض اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی ،دوران اجلاس خطے میں روابط کے فروغ، کووڈ 19 کے بعد بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور سفارتی محاذ پر درپیش چیلنجز زیر بحث آئے ،‏وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج اس بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی منظر نامے میں خارجہ پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں، تھنک ٹینکس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ہمیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی سطح کی تحقیق کو منظرعام پر لانا ہوگا پاکستان، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔آج بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال ہماری خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا، پاکستان، نے ناقابل تردید شواہد پر مبنی "ڈوزیر "کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کی جانب مبذول کروائی،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مخدوش معاشی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی ،ہماری اہم سفارتی کامیابی ہے، تیزی سے بدلتے ہوئے، عالمی منظر نامے میں ہمیں،درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ہم اپنے تحقیقی اداروں کو مزید فعال بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے ہر ممکن کوششیں اور وسائل بروئے کار لانے کیلئے پر عزم ہیں۔

  • کشمیر پریس کلب پر مبینہ قبضے اور صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں :پاکستان

    کشمیر پریس کلب پر مبینہ قبضے اور صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں :پاکستان

    اسلام آباد :کشمیر پریس کلب پر مبینہ قبضے اور صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں :ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کشمیر پریس کلب ( کے پی سی) پر مبینہ قبضے اور صحافیوں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف بڑھتی ہراسانی، غیر قانونی گرفتاریوں اور جعلی فوجداری مقدمات کے اندراج کی مذمت کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں پریس کلب پر ہونے والا حملہ بھارتی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتا ہے جب کہ بھارت نے گھناؤنے اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو زبردستی خاموش کرانے کے لیے وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا۔

    ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ سمیت سخت اور غیر انسانی قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال بھارت کی ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے عزم کو کبھی کمزور نہیں کر سکتی۔

    دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سول سوسائٹی کے دیگر کارکنوں کو ’ہراساں کرنے اور غیر قانونی گرفتاریوں‘ کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔

    واضح رہے مقبوضہ کشمیر میں مقامی انتظامیہ کی مبینہ مدد سے صحافیوں کے ایک گروپ نے کشمیر پریس کلب پر ’زبردستی اور غیر قانونی قبضے‘ کرلیا ہے۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

    بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

    یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

    مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

    مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

     

     

    چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

  • پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے

    پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے

    مظفرآباد:پاکستان کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے:لوگ اپنی کوٹھیاں،بنگلے چھوڑ کربھاگ نکلے ،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیراور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں 5 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    تفصیلات کےمطابق آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں ملاکنڈ ،وادی نیلم ، شادرہ، دودنیال، تہجیاں اور متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    سوات،بونیر،چترال ،خیبر پختوانخواہ کے مختلف علاقوں ،گلگت بلتستان ،ملاکنڈ ،مردان اور باجوڑ،پشاور، صوابی، اسلام آباد ، نوشہرہ اور بالاکوٹ و گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی جبکہ گہرائی زیر زمین 100کلومیٹر ریکارڈ کی گئی اور زلزلے کا مرکز افغانستان تاجکستان بارڈر ہے۔

    ادھر آج اطلاع کے مطابق انڈونیشیا میں 6.6 شدت کا زلزلہ رونما ہوا ہے۔امریکی جیولوجیکل ریسرچ سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ 6.6 شدت کا زلزلہ 37 کلومیٹر کی گہرائی میں ریکارڈ کیا گیا۔

    بتایا گیا ہے کہ زلزلے کا مرکز لابوان کے علاقے سے 88 کلومیٹر جنوب میں تھا۔کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہ دیے جانے والے زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

    یاد رہے کہ تین دن پہلے صوبۂ بلوچستان کے ضلع گوادر اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جبکہ محکمۂ موسمیات کی جانب سے مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے اور سونامی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق گوادر میں آنے والے زلزلے کی شدت 5 تھی، جس کی گہرائی 25 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی تھی ۔زلزلہ پیما مرکز کا مزید کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز گوادر کے ساحل کے قریب زیرِ سمندر تھا۔

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلہ گزشتہ رات 2 بج کر 22 منٹ پر گوادر سے 50 کلو میٹر دور بحیرۂ عرب میں آیا تھا۔

    محکمۂ موسمیات کے ڈی جی محمد ریاض کے مطابق محکمۂ موسمیات مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے کے خدشے کا اظہار کئی دفعہ کر چکا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ مکران سب ڈکشن زون میں اتنی توانائی جمع ہو چکی ہے کہ کسی بھی وقت شدید زلزلہ آ سکتا ہے، مکران سب ڈکشن زون میں شدید زلزلے سے سونامی کا بھی خطرہ ہے۔

    ڈی جی میٹ محمد ریاض کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمۂ موسمیات نے کچھ عرصہ قبل گوادر میں سونامی سے نمٹنے کی مشقیں بھی کی ہیں۔

    ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سندھ اور مکران کے ساحل پر سونامی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، 1945ء میں مکران کے ساحل سے تباہی پھیلانے والا سونامی ٹکرایا تھا۔

    ماہرین کے مطابق یہ آفت اب اپنا قدرتی ٹائم اسکیل مکمل کر چکی ہے، مکران کے سمندر میں موجود سبڈکشن زون کافی سرگرم ہے اور شدت پکڑ رہا ہے جس کے باعث ایک اور طاقتور سونامی پیدا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا کب تک متوقع ہے، یہ پیشگوئی ممکن نہیں۔محکمۂ موسمیات تمام متعلقہ اداروں کے ہمراہ اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ

    سری نگر:جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:اہل کشمیرکافیصلہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ۔راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔

    کشمیری قوم کا کہنا تھا کہ جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں دو بھارتی فوجی فائرنگ کے پراسرارواقعے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ کنٹرول لائن کے ساتھ راجوری کے علاقے Hanjanwaliمیں پیش آیا جس میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے بعدازاں و ہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں اس واقعے کو فوجیوں کی آپس میں فائرنگ کا نتیجہ قراردیاگیا ہے ۔