Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی سکولوں میں سوریہ نمسکارکرانےکےمودی کےفیصلے کی مذمت

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرکے اسکولوں میں سوریہ نمسکارکرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی مذمت،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کرانے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدیدمخالفت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں سوال کیا کہ آخر ہمیشہ مسلمان طلبہ کوہی یوگ سے لے کر مکر سنکرانتی تک ہندو رسومات کی ادائیگی کیلئے کیوں مجبور کیاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزارت تعلیم نے آزادی کے جشن کے تحت مکر سنکرانتی پر اسکولوں میں بڑے پیمانے پر سوریہ نمسکار کرانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے تحت جموں وکشمیر کے محکمہ تعلیم نے بھی اسکولوں میں یوگ اور سوریہ نمسکار کرانے کا حکم جاری کیاہے۔

    عمرعبداللہ نے ٹویٹ میں کہاکہ یوگ سے مکر سنکرانتی تک کیوں مسلم طلبہ کو یہ سب کرنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔ مکر سنکرانتی ہندوئوںکاایک تہوار ہے اور اسے منانا یا نا منانا ہرکسی کا نجی معاملہ ہے۔ کیا بی جے پی ایسے حکم نامے سے خوش ہوگی، جب غیر مسلم طلبہ کو عید منانے کا حکم جاری کیا جائے۔

    ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں سکولوں میں کشمیری طلبہ کو سوریہ نمسکار کرانے کے حکمنامے کو کشمیریوں کی اجتماعی بے عزتی قراردیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کشمیری طلبہ اور اسٹاف کو زبردستی طورپر ہندو رسومات کی ادائیگی پر مجبور نہیں کیاجاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے اس حکمنامے سے اس کی مذہبی انتہا پسندی ظاہرہوتی ہے ۔

    اس سے قبل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے کی شدیدمخالفت کرتے ہوئے کہاتھا کہ سوریہ نمسکار، ایک قسم سے سورج کی پوجا ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میںبھارتی حکومت سے ایسے پروگرام نہ کرانے اور مسلم طلبہ و طالبات کو اس میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔

  • بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے

    سرینگر:بھارتی عدالتی نظام بھارتی فوج کےزیراثر:تحریک آزادی کشمیراورپاکستان کے‌خلاف مشترکہ حکمت عملی ہے:حریت کانفرنس نے انکشاف کردیا ،بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے کالے قوانین کی آڑ میں علاقے میں سول انتظامیہ اور عدالتی اداروں کا مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے جس کے تحت لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بغیر کسی جرم کے قتل کیا جاتا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور تسلیم شدہ حق خودارادیت کا جائز مطالبہ اٹھانے کی وجہ سے کشمیری سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی رویے کی مذمت کی۔ ترجمان نے بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو خالصتاً ایک سیاسی اور مقامی تحریک قرار دیتے ہوئے کہ بھارتی سامراجی نظام حکمرانی عوام کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے پیش آرہا ہے اور فوج اور پیرا ملٹری دستوں کے ذریعے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے۔

    ترجمان نے فسطائی بھارتی جیل حکام کے ہاتھوں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند رہنماﺅں اور کارکنوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نظربندوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں اور انہیں تنگ و تاریک سیلوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات اور صحت بخش غذا کی عدم فراہمی کی وجہ سے نظر بند متعدد امراض کا شکار ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کوروانا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے نظربندوں کو جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    انہوں نے محمد مقبول بٹ، محمد افضل گورو، سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، علی محمد آہنگر، مشتاق احمد بٹ اور عبدالرشید سمیت جسمانی تشدد، عدالتی جانبداری یا طبی غفلت سے دوران حراست شہید ہونے والے رہنماﺅں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں بند حریت رہنماو¿ں کے خلاف مجرمانہ رویے پر بھارت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمتی رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹر جی ایم بٹ، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، الطاف فنتوش، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، مقصود احمد بٹ، شاہد یوسف، شکیل یوسف، مشہد یوسف، راشد یوسف صحرائی، اسد اللہ پرے، شوکت حکیم، معراج الدین نندا، رفیق احمد گنائی، پیر ہلال احمد، اب رشید لون، شکیل بٹ، غضنفر اقبال عابد زرگر، شوکت احمد خان، نذیر احمد شیخ، ظہور احمد بٹ، محمود ا، میر توبہ، محمد طوبیٰ، ظہور احمد بٹ۔ محمد ایوب ڈار، قادر بٹ، عاقب نجار، عارف وانی، امتیاز احمد، شیخ فاروق، نذیر پٹھانسمیت دیگر نظر بندوں کی استقامت کو سلام پیش کیا۔

    ترجمان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیموں کے بھارتی جیلوں کے دورے اور کشمیریوں نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے بھارت پر دباو ڈالے ۔

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجی صحافیوں کو بڑے پیمانے پر ہراساں کر رہے ہیں:ہیومن رائٹس واچ

    نیویارک:انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں صحافیوں کو حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر دھمکیوں اور خوف و ہراساں کا سامنا ہے جس میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت چھاپے اور گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ 2022جس میں 2021کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے کہا کہ بھارتی فوج اور پولیس نے گزشتہ برس ستمبر میں چار کشمیری صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کے فون اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میںآزادی اظہار کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور صوابدیدی حراست پر ورکنگ گروپ نے جموں و کشمیر کی صورتحال کو کور کرنے والے صحافیوں کی حراست اور دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ستمبر 2021 میںکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارت نے ان کے جنازے میں بڑے پیمانے پر لوگوںکی شرکت کو روکنے کے لیے دو دن کے لیے تقریباً مکمل مواصلاتی بلیک آوٹ نافذ کیا۔ سید علی گیلانی کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ انہیں آخری رسومات ادا کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔

    گزشتہ برس جولائی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چار ماہرین نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر محمد اشرف خان صحرائی کی دوران حریت وفات کی تحقیقات پر زور دیا تھا جنہیں جولائی 2020 میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ گزشتہ برس مارچ میں اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین کے نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر کشمیری سیاست دان وحید پری کی نظربندی، ایک دکاندار عرفان احمد ڈار کی حراست میں قتل اور نصیر احمد وانی کی جبری گمشدگی کے بارے میں معلومات طلب کیں۔

    انہوں نے جابرانہ اقدامات اور مقامی آبادی کے خلاف بنیادی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ دھمکیوں، تلاشیوں اور ضبطیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ فروری 2021 میں بھارتی حکومت نے بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 18 ماہ سے نافذ انٹرنیٹ بندش ختم کر دی جو نئی اگست 2019 میں مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد نافذ کی گئی تھی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کالا قانون آرمڈ فورسز ایکٹ جو مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں نافذ العمل ہے بھارتی فورسز اہلکاروں کو استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

  • بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارے اس وقت بہت پریشان دکھائی دے رہےہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہیں‌، اس حوالے سے بہت سے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ایک فسطائی ریاست اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہائی خطرناک بن گیا ہے جو ملک کو مکمل طور پر ایک ہندوتوا ریاست بنانا چاہتے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی بھارت کو اقلیتوں سے صاف کرنے کے مشن کے سلسلے میں ان کے خلاف آر ایس ایس کے نظریے کو مسلسل نافذ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملے معمول بن چکے ہیں اور ملک میں مسلمان، عیسائی، سکھ اور نچلی ذات کے ہندو خوف و دہشت کی حالت میں رہ رہے ہیں کیونکہ جب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے ان کے ظلم و ستم میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے ہندو انتہا پسندوں کو اس قدر شہ ملی ہے کہ وہ کھلے عام اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اتر آئے ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی کی دائیں بازو کی حکومت کے تحت ملک میں مذہبی عدم رواداری بڑھ رہی ہے جس کی پالیسیاں ہندوتوا نظریے کی عکاس ہیں اور وہ سب پر ہندو برہمن ثقافت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

    بھارت میں اقلیتوں‌کے خلاف مودی ڈاکٹرائن کے حوالے سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا فسطائی نظریہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس خطرناک ذہنیت سے نمٹنے اور بھارت میں اقلیتوں کو بچانے کے لیے مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فوج کو مزید1384 کنال زمین دی گئی ,اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت نے” سٹریٹجک ایریاز‘ ‘کے نام پر گلمرگ میں مزید 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی قابض فوج کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی کہ حکومت نے فوج کو تربیتی مقاصد کے لیے زمین کے استعمال کی اجازت دینے کی منظوری دی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ دونوں مقامات (گلمرگ اور سونمرگ) پرفوج کوتربیت دی جاتی ہے جس کے لیے فوج نے پہلے ہی وہاں زمین حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج کو تربیتی ہال وغیرہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے اور یہ ضروری انفراسٹرکچر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ اہم تھا اور انتظامیہ نے اس کی منظوری دی ہے۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے فوج کے لئے سیاحتی علاقوں میں زمین مختص کرکے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے گلمرگ میں 1034 کنال اور سونمرگ میں 354 کنال اراضی بھارتی فوج کے لیے مختص کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پرکہاکہ سیاحتی علاقوں میں ہزاروں کنال اراضی فوج کے لیے مختص کرنے سے جموں و کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرنے کے بھارتی حکومت کے عزائم کی کی تصدیق ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ”ریاستی زمین“ کے بہانے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور زخموں پرنمک چھڑکنے کے لئے مقامی لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ڈویڑنل کمشنر کشمیر Pandurang Kondbarao Pole نے تصدیق کی ہے کہ قابض حکومت نے بھارتی فوج کومذکورہ علاقوں میںزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

  • اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ

    بیلجیم :اقوام متحدہ اپنے فیصلوں کی روشنی میں‌ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دلوائے:ظہیراحمد جنجوعہ،اطلاعات کے مطابق بیلجیم میں پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے اقوام متحدہ اورعالمی برادری پرزور دیا ہے کہ اقوام عالم کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے،ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج پھر5 جنوری کا دن ہے جب جموں و کشمیر تنازعہ کے جمہوری عمل کے ذریعے اس کی سرپرستی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کی 73 ویں سالگرہ ہے۔

    ظہیر احمد جنجوعہ نے اپنے بیان میں‌کہا ہے کہ 5 جنوری 1949 کی بھارت اور پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے کمیشن کی قرارداد کشمیر کے عوام کو ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہے، جسے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح نظر اندازی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 9 لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ، بھارت نے مقبوضہ علاقے کو دنیا کی سب سے بڑی جیل اور سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر من مانی حراستوں، عصمت دری اور تشدد، حراستی قتل، جبری گمشدگیوں اور اسٹیجڈ مقابلوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل کے ذریعے ظلم و ستم میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں 5 اگست 2019 سے اب تک 500 سے زائد کشمیریوں کی شہادت ہوئی ہے۔ یہ بھارتی ریاست کے مکروہ رویے اور اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح مظہر ہے۔

    ان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے، ہندوستان اپنے غیر قانونی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بشمول زمینوں پر قبضے، غیر کشمیریوں کی آمد اور متنازعہ علاقے میں اجنبی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون بالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ یو این ایس سی کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    گزشتہ سات دہائیوں کے دوران کشمیریوں نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس کا اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ بھارتی مظالم کی جتنی بھی مقدار کشمیری عوام کو دبا یا جا سکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قربانیاں بہت جلد رنگ لائیں گی۔

    بیلجیم میں‌ پاکستانی سفیر ظہیر احمد جنجوعہ نے کہاہے کہ ہم عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ، یورپی یونین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ادراک کرے اور بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے لیے وضاحت طلب کرے

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مکمل طور پر پرعزم ہے اور اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور ان کی خواہشات کے مطابق کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول تک ان کی ہر طرح کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

    آخر میں ظہیر احمد جنجوعہ نے کہا میں آپ سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں کشمیریوں کی آواز بنیں اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا اظہار کریں۔تاکہ کشمیریوں کو جلد آزادی مل سکے

  • نواز شریف سے ڈیل کی خبریں٫ ڈی جی آئی ایس پی آر کا رد عمل آ گیا

    نواز شریف سے ڈیل کی خبریں٫ ڈی جی آئی ایس پی آر کا رد عمل آ گیا

    راولپنڈی : نواز شریف سے ڈیل کی خبریں٫ ڈی جی آئی ایس پی آر کا رد عمل آ گیا،اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے میڈیا اوردیگرذرائع سے پھیلائی جانے والی خودساختہ ، جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کونہ صرف سختی سے مسترد کردیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ایسی خبریں پھیلانے والے جھوٹ اورفریب سے عوام کو گمراہ نہیں کرسکتے

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ دیکھنے اورسننے کو بہت کچھ مل رہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ ڈیل یا اسے ڈھیل دی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے ، ایسی خبروں کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں اور نہ ہی ایسی خبریں‌ پھیلا کر قوم کو گمراہ کیا جاسکتا ہے

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ نوازشریف سے ڈیل کس بات کی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیل اور ڈھیل کا تعلق فوج سے کیوں جوڑا جارا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کے لیے نہ کوئی ڈیل ہے اور نہ ڈھیل ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بڑے بڑے جھوٹ سُن کر حیران ہوتے ہیں کہ کس طرح یکطرفہ ٹریفک چلائی جارہی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پاک فوج سے ایسی کوئی بات منسوب نہ کی جائے جس کا کوئی وجود نہ ہو

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو یہ جھوٹ اور پراپیگنڈہ پھیلارہے ہیں وہ بتائیں کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں ، بس کسی کی خواہس پرایسی من گھڑت کہانیاں گھڑی جارہی ہیں جن کی کوئی حیثیت ہی نہیں‌

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں اور حکومت اور اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے . سول ملٹری تعلقات جتنے آج اچھے اوربہتر چل رہے ہیں شاید اس سے پہلے ایسی مثال نہ ملتی ہو

    میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ یہ تعلقات آگے بھی ایسے ہی چلتےرہیں گے اورشرپسند عناصرسُن لیں کہ وہ شرارتوں اور من گھڑت کہانیوں ، تبصروں اور تجزیوں‌ سے باز آجائیں

    ادھر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک فوج کے بیرونی اوراندورنی دشمنوں کوجانتے ہیں:سب نامُراد،سازشیں ،شرارتیں ناکام ہوں گی:ڈی جی آئی ایس پی آرنے پاک فوج کے خلاف ہونے والی شرارتوں،سازشوں اور خود ساختہ کہانیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سُن لیں پاک فوج اس ملک اور اس ملک پاک کے اداروں کے خلاف بیرونی اور اندرونی سب دشمنوں کو جانتے ہیں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ سب نامُراد ہوچکے اور آئندہ بھی نامراد ہی ہوں گے

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ کچھ عرصے پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے، جس کا مقصد اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے، ہم ایسی تمام کارروائیوں سے آگاہ ہیں،اداروں کو نشانہ بنانے والے پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے، عوام اور افواج پاکستان کے درمیابن رشتے میں دراڑ ڈالنے میں ناکامی ہوگی۔

    اپنے پیغام میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ فروری 2021 میں معاہدے کے بعد ایل او سی پر پورا سال امن رہا، بھارتی الزامات ایک پولیٹیکل ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سال کی پہلی پریس کانفرنس میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘بھارت کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہاں رہنے والے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئی، لیکن ساتھ ہی بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے الزام تراشی اور جھوٹا پروپیگنڈا مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کے مخصوص ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتا ہے’۔

    پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین ماحصرہ اگست 2019 سے جاری ہے۔ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 5 جنوری کے موقع پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

    پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین ماحصرہ اگست 2019 سے جاری ہے۔ بھارتی فوج دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کررہی ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، بھارت ایل او سی کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔

    مغربی بارڈر پر صورتحال تشویشناک

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2021 میں لائن آف کنٹرول کی صورت حال بہتر رہی لیکن مغربی بارڈر پر صورت حال تشویشناک رہی۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑے۔

    امن کی باڑ ضرور مکمل ہوگی

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہوچکا ہے، باڑ لگانے کا مقصد دونوں اطراف کے لوگوں کو محفوظ بنانا ہے، یہ امن کی باڑ ہے اور یہ ضرور مکمل ہوگی، اس باڑ کو لگانے میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے۔

    ایک سال میں 60 ہزار آپریشن

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2021 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا گیا، 2021 کے دوران ملک بھر میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 60 ہزار آپریشن کئے گئے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کیا،انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 890 تھریٹ الرٹ جاری کیے، 70فیصد ممکنہ دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں مدد حاصل ہوئی۔

    افغانستان کی صورت حال

    میجر جنرل افغانستان کی موجودہ صورتحال سنگین انسانی المیہ کے جنم دے سکتی ہے، افغانستان کی صورتحال کا اثر پاکستان پر بھی پڑسکتا ہے، پاکستان افغانستان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی مسلح فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر،پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خود ارادیت منارہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یو م حق خود ارادیت اس تجدید عہدکے ساتھ منارہے ہیں کہ اپنے حق خودارادیت کے حصول تک جدوجہد آزادی کو جاری رکھا جائے گا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1949 ء میں آج ہی کے دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظورکی تھی جس میں عالمی ادارے کے زیر اہتمام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے کشمیریوں کے حق کی حمایت کی گئی تھی۔

    آج دنیا بھر میں ریلیوں ، سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کو یاد دلایا جائے کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچائے۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949ء کو منظور کی گئی قراردارتنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی ادارہ اپنی منظورکردہ قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کراسکاہے جس کی وجہ سے کشمیری مسلسل شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے، وزیراعظم

    اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے، وزیراعظم

    وزیر اعظم عمران خان نے یوم حق خوداردیت کے موقع پر پیغام‏ میں کہا ہے کہ آج کا دن منانے کا مقصد اقوام متحدہ کو اس کا وعدہ یاد دلانا ہے اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے –

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمرا ن خان‏ نے کہا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت کی جدوجہد کے لیے خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کشمیری عوام 73 برس بعد بھی دیرینہ حق کے حصول کے لیے ثابت قدم ہیں کشمیری عوام تین نسلوں سے حق خود ارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں بھارتی ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ قائم ہے-

    قابض بھارتی فوج نے مزید 3 کشمیریوں کو شہید کردیا

    عمران خان‏ نے کہا کہ نوے ہزار بھارتی فوجیوں کی موجودگی نے مقبوضہ وادی کو کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے،حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا،بھارت نے کشمیریوں کو خوراک،صحت اور آزادی جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے-

    سپریم کورٹ نے کینٹ بورڈز کو نجی اسکولز سیل کرنے سے روک دیا

    دوسری جانب وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کے حق استصواب رائے کے دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ استصواب رائے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے اقوام متحدہ کا تنازعہ جموں و کشمیر استصواب رائے سے حل کرانے کے وعدے کو 73 برس ہو گئے-

    ماضی میں سڑکیں عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلئے بنائی جاتی تھیں،وزیر اعظم

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی‏ نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ اس حق کا انکار ہے کشمیریوں کی تین نسلوں نے اپنی منصفانہ جدوجہد کے لئے عظیم قربانیاں دیں بھارت 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام کے بعد جموں و کشمیر میں فوجی تسلط کو مستحکم بنانے میں مصروف ہے-

    راولپنڈی:ایس ایچ او کہوٹہ کی گاڑی پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے جعلی مقابلوں،نام نہاد چھاپوں میں 500 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے،عالمی برادری کشمیریوں کی بنیادی آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی حمایت کرے،اقوام متحدہ کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی حمایت میں ان کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے-

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی