Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کی بازیابی بارے رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کی بازیابی بارے رپورٹ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر کے لاپتہ شہری کی بازیابی کے حوالے سے اہم کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی زیر صدارت ہوئی۔ کیس میں درخواست گزار ناظمہ فتح یاب کی جانب سے ان کے وکیل ایمان زینب مزاری نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر مظفرآباد سے لاپتہ ہوئے ہیں اور اس ضمن میں متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔اس دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارتِ دفاع کے نمائندہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا شوہر مظفرآباد سے لاپتہ ہوا ہے، جہاں اس کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
    عدالت نے کیس کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کو حکم دیا کہ وہ لاپتہ شہری کے بارے میں بند لفافہ رپورٹ جمع کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ متعلقہ حکام کے ذریعہ فراہم کی جائے اور اس کی تفصیلات جلد از جلد عدالت میں پیش کی جائیں تاکہ معاملہ کی مزید تفتیش کی جا سکے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کو اہمیت دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں پی ٹی آئی کے لیڈر کا ہاتھ ہے،شرجیل میمن

    اسلام آباد:3 حلقوں سے متعلق حکم امتناع،کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

  • اقوامِ متحدہ کے قیام کو 79 سال مکمل لیکن کشمیر کے معاملے پر  مکمل خاموشی

    اقوامِ متحدہ کے قیام کو 79 سال مکمل لیکن کشمیر کے معاملے پر مکمل خاموشی

    اقوامِ متحدہ کے قیام کو 79 سال مکمل لیکن کشمیر کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی مکمل خاموشی دکھائی دی ہے

    24 اکتوبر 1945 کو اقوامِ متحدہ، سیکیورٹی کونسل اور اقوامِ متحدہ چارٹر وجود میں آئے،اقوام متحدہ اب تک مسئلہ کشمیر پر متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہیں،اپریل 1948 کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 47 کے مطابق کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کو یقینی بنایا جاۓ،نومبر 1951 کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 96 کے مطابق کشمیر میں آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کروانے کی قرارداد بھی منظور ہوئی.اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود ہندوستان کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے سکا.اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کو 1948 میں ناجائز طور پر ضم کیا گیا.آرٹیکل 370 کی تنسیخ اقوام متحدہ کی قرارداد 47 کی کھلی خلاف ورزی ہے.مقبوضہ کشمیر میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد کشمیری شہید، 7 ہزار سے زائد ماورائے عدالت قتل جبکہ ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں .مقبوضہ کشمیر میں سوا لاکھ املاک نذرِ آتش جبکہ 12 ہزار خواتین کے ساتھ زیادتی کی جا چکی ہے.2019 کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں سب سے طویل مدتی انٹرنیٹ کی بندش جاری ہے. ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اقوام متحدہ کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

    پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیر الفریقی نظام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے،صدر مملکت
    اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اقوام متحدہ کا 79 واں دن منا رہا ہے۔ یہ اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ، مساوی حقوق اور عالمی امن کیلئے مناسب اقدامات کا احاطہ کرتا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور کثیر الفریقی نظام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان پرامن اور خوشحال دنیا کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

    اقوام متحدہ کی حق خود ارادیت کی قراردادوں کے باوجود کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات اب بھی حل پذیر ہیں ،وزیراعظم
    اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج اقوام متحدہ کی 79 ویں سالگرہ کا دن ہمیں اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے عزم کے اعادہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے،بین الاقوامی تنازعات جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی، سیاسی تناؤ میں اضافہ اور گلوبل ساؤتھ کی گہری ہوتی اقتصادی مشکلات عالمی نظام کے بڑے چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں،اقوام متحدہ چارٹر کا منصفانہ طریقے سے نفاذ بھی ایک بڑا چیلنج ہے ،اقوام متحدہ کی حق خود ارادیت کی قراردادوں کے باوجود جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات اب بھی حل پذیر ہیں ،جب تک اقوام متحدہ کی بانی دستاویز کی دفعات کو نظر انداز کیا جائے گا، بحران مزید گہرے ہوتے جائیں گے ،اقوام متحدہ کے اس دن پر، میں کثیرالجہتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں،ہم اس دنیا کو سب کے لیے ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے جہاں تمام لوگوں کے حقوق بالخصوص جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو ان کے حقوق دلائے جا سکیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ امن، انسانی حقوق، اور ترقی کے لئے امید کی کرن ہے،پاکستان کی یو این کے بنیادی مقاصد سے گہری وابستگی ہے،ذمہ دار اور سرگرم رکن کی حیثیت سے قراردادوں کی پاسداری کی جا رہی ہے، پاکستان عالمی امن اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ،فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کو حق دلانے میں اپیل کرتے رہیں گے

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ  آج وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ آج وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    سری نگر:مقبوضہ جموں و کشمیر میں عمرعبداللہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔

    باغی ٹی وی : حلف برداری کی تقریب میں کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے، عمرعبداللہ دوسری باراس منصب پر فائز ہونے جا رہے ہیں،نیشنل کانفرنس کی یہ حکومت کانگریس کی حمایت سے بنے گی جس نے انتخابات سے پہلے اتحاد کیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب میں کانگریس کی جانب سے صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی (قائد حزب اختلاف)، مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن ، جھارکنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال سمیت دیگر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ قصور خود کش بمبار کی طرح خطرناک

    اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے ہوتے ہوئے آرٹیکل 370 کی بحالی ممکن نہیں ہے ملک میں کبھی نہ کبھی تو حکومت بدلے گی، کبھی نہ کبھی تو ایک نئی حکومت آئے گی اور ایسی حکومت آئے گی جس کے ساتھ بیٹھ کر ہم کم سے کم بات کر پائیں گے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں انڈین آئین سے آرٹیکل 370 کا حذف کردیا تھا جس کے تحت اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

    خیبر سپورٹس فیسٹیول 2024 کا شاندار اختتام،کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم

  • مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی کاروائیوں سے بھارتی سرکار اور بھارتی فوج پریشان ہو چکی ہے، آئے روز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیوں نے بھارتی فوج کے حوصلے پست کر دیئے ہیں، بھارتی فوج کشمیری مجاہدین کا مقابلہ کرنے سے کترا رہی ہے

    کشمیر میں فریڈم فائٹرز جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں M4 اسالٹ رائفلز اور اسٹیل کی گولیاں شامل ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان سے حاصل کیے گئے ہیں۔ یہ امریکی اسلحہ افغانستان سے ایران کے راستے ممکنہ طور پر بھارت پہنچا ،جوممکنہ طور پر سمندری راستوں کے ذریعے اسمگلنگ کے فعال نیٹ ورکس کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ہندوستانی سیکورٹی فورسز کو فریڈم فائٹرز کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے کافی چیلنجز کا سامنا ہے، جو درست حملے کرتے ہیں اور پھر ناہموار پہاڑی علاقے میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جن کو بھارتی فوج تلاش نہیں کر پاتی او رپھر سرچ آپریشن کے نام پر کشمیریوں پر تشدد کیا جاتا ہے، چادرو چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں فریڈم فائٹرز نے بہتر آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے ہتھیار،نقدی سمیت دیگر اشیا مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین تک پہنچائی جا رہی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں پائی گئی ،کشمیری عسکریت پسند اپنی کارروائیوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے باڈی کیمروں کا استعمال کر رہے ہیں، جس میں ایک بھارتی افسر کا سر قلم کرنے سمیت گھات لگانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گردش کر رہی ہیں، ہندوستانی فوجی حکام ان گروہوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواریوں کا اعتراف کرتے ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ فوج کی کوششوں کے لیے مقامی حمایت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تنازعہ نئے علاقوں میں پھیل رہا ہے، جیسے کہ جموں صوبہ، ایک ہندو اکثریتی علاقہ جس میں مجاہدین کے کم حملے ہوتے تھے تا ہم اب جموں میں مجاہدین کے حملے بڑھ چکے ہیں، مختلف مذہبی اور نسلی گروہوں میں بدامنی بڑھ رہی ہے، سکھ اور ہندو کمیونٹیز بھی بھارتی سیکورٹی فورسز سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔عسکریت پسند لچکدار حکمت عملی اپنا رہے ہیں،حملہ کرتے ہیں اور پھر تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، اور پھر دوسرے مقامات پر حملہ کرنے کے لیے دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں، ہندوستانی فوج کے عہدیداروں نے کشمیری مجاہدین کی بڑھتی ہوئی غیر متوقع کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کچھ لوگوں نے بدلتی ہوئی صورتحال پر بے چینی اور خوف کے احساس کا اعتراف کیا ہے۔

    جموں کشمیر میں بھارتی مجاہدین کے حملوں پر دی گارڈین نے لکھا کہ انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔ ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ، ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔ گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے۔ کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے بڑھتے حملوں‌پر بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس بھی مودی سرکار پر سیخ پا ہو چکی ہے،کانگریس کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں مجاہدین کے حملوں کو روکنے میں مودی سرکارناکام ہو چکی ہے، کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے سری نگر میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مودی تیسری مدت کے لئے وزیراعظم بنے تب سے مقبوضہ کشمیر میں 98 دونوں میں 25 حملے ہو چکے ہیں،مودی سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہ کشمیر میں امن ہو گا لیکن اب امن کہاں ہے،98 دنوں میں ہونے والے 25 حملوں میں 21 سیکورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے ہیں،جموں میں امن تھا لیکن اب وہاں بھی حملے ہو رہے ہیں،

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

  • انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت  پسندوں کے حملوں کی نئی لہر  ،بھارتی افواج حیران

    انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر ،بھارتی افواج حیران

    ہائی ٹیک اور اسٹریٹجک: انتخابات سے قبل کشمیر میں حریت پسندوں کے حملوں کی نئی لہر نے بھارتی افواج کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : "دی گارڈین” کے مطابق ⁠انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی افواج اور حکومت کا بیانیہ اڑا کے رکھ دیا ⁠ایلس پیٹرسن نے گارڈین میں لکھا کہ حریت پسندوں نے بھارتی فوجیوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں۔

    ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر ہے،کشمیری مجاہدین جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ⁠ہندوستانی افواج کشمیری مجاہدین کی گوریلا جنگی حکمت عملیوں سے حیران ہو گئی ہیں جس میں عسکریت پسند اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بناتے ہیں اور ناہموار پہاڑی علاقے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠کشمیری مجاہدین اب بہت بہتر تربیت یافتہ ہیں اور جنگی ساز و سامان کی ترسیل کے لئے وادی کے اندر ڈرونز کا استعمال کرتے ہیں مجاہدین باڈی کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے گھات لگانے کی فلم بناتے ہیں ہندوستانی فوجی حکام ان عسکریت پسندوں کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے میں دشواری کا اعتراف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہےنئے علاقوں میں گھات لگا کر حملے ہو رہے ہیں، جیسے کہ ہندو اکثریتی صوبہ جموں، جہاں پہلے حملے بہت کم ہوتے تھے۔

    دی گارڈین کے مطابق ⁠عسکریت پسندوں نے فوجیوں پر حملہ کرنے، غائب ہونے اور پھر دوسری جگہ حملہ کرنے کے لیے دوبارہ ابھرنے کے نئے حربے اپنائے ہیں ⁠حریت پسند جدوجہد پر قابو پانے کے لیے ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی سر توڑ کوششیں دہلی سرکار کے ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے جنکے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد علاقے میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔

    – ⁠گارڈین میں شائع ہونے والے آرٹیکل کے مطابق حریت پسند پہلے سے کہیں زیادہ پُر عزم ہیں جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز کا مورال پست ترین سطح پر عسکریت پسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار ہیں اور وہ بہتر تربیت یافتہ ہیں، اسی لیے ہم حکومت سے اضافی مدد مانگ رہے ہیں ⁠اس بار ہم زیادہ خوفزدہ ہیں۔ بھارتی افواج

  • یوم دفاع سے قبل مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر آویزاں

    یوم دفاع سے قبل مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر آویزاں

    کشمیریوں کی پاکستان سے محبت،یوم دفاع سے قبل پاکستان کے آرمی چیف کے مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر لگ گئے

    پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے مقبوضہ کشمیر کے ہائی سیکیورٹی زونز میں پوسٹر لگنے کے بعد بھارتی فوج، سیکورٹی اداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا،نامعلوم افراد کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حساس بھارتی فوجی تنصیبات کے ارد گرد پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے پوسٹر لگا دیے گئے ہیں۔یہ پوسٹرز سری نگر جموں ہائی وے سمیت ، ہندوستانی ریلوے سٹیشنوں اور انتہائی سیکورٹی والے علاقوں میں آویزاں ہیں۔ہائی سیکیورٹی والے علاقوں میں پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی حمایت میں پوسٹرز نے ہندوستانی فوج اور دیگر ہندوستانی اداروں میں خاصی تشویش پیدا کردی ہے

    بھارتی سیکورٹی اداروں نے پاکستانی آرمی چیف کے پوسٹر لگانے والوں کی تلاش شروع کر دی ہے،

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    شرپسند عناصر عوام اور مسلح افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    مضبوط جمہوریت کے لیے درست معلومات کا فروغ لازمی ہے۔آرمی چیف

    ارشد ندیم کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں تقریب

  • جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیریوں‌کے بڑھتے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر مودی سرکار نے دو افسران کے خلاف کاروائی کی ہے، اور انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے

    مودی سرکار نے ڈی جی بارڈر سیکورٹی فورس نتن اگروال کو ڈی جی کے عہدے سے ہٹا یا ہے اور انہیں اصل کیڈر یعنی کیرالہ کیڈر میں واپس بھیج دیا گیا، اسپیشل ڈی جی وائی بی کھرانیہ کو بھی عہدے سے ہٹا کر اڈیشہ کیڈر میں واپس بھیج دیا گیاہے۔

    جموں کشمیر میں مقامی کشمیری عسکریت پسندوں کے حملوں کا الزام مودی سرکار نے پاکستان پر لگایا تھا تا ہم اب مودی سرکار نے افسران کی نااہلی تسلیم کر لی کیونکہ وہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہے اور دو افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا ہے.بارڈر سیکورٹی فورس، بی ایس ایف کی ذمہ داری بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی کی حفاظت ہے لیکن بی ایس ایف حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، آئے روز کشمیر میں حملے مسلسل بڑھ رہے ہیں

    1989 بیچ کے کیرالہ کیڈر کے آئی پی ایس افسر نتن اگروال نے گزشتہ برس جون میں بارڈر سیکورٹی فورس کے نئے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا،تاہم وہ کشمیرمیں جاری عسکریت پسندی کو ختم نہ کر سکے جس کی وجہ سے انہیں جموں سے ہٹا دیا گیا ہے.

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ماہ نتن اگروال اور کھرانیانے ایل او سی کا دورہ کیا تھا، کئی اہم اجلاسوں کی صدارت کی تھی، اور حکم دیا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں بڑھائی جائیں لیکن اسکے مقابلے میں عسکریت پسندوں نے جارحانہ انداز دکھایا اور جموں میں کوئی دن ایسا نہیں گزر رہا جس دن بھارتی فوج پر حملہ نہ ہوا ہو.

    بھارتی وزارت داخلہ نے ایس ایس بی کے ڈائرکٹر جنرل دلجیت سنگھ چودھری کو اگلے حکم تک بی ایس ایف کے ڈی جی کی اضافی ذمہ داری دے دی ہے،۔ 1990 بیچ کے آئی پی ایس افسر دلجیت سنگھ نے اس سال جنوری میں ایس ایس بی ڈائرکٹر جنرل کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا تھا،

    رواں برس جموں کے علاقوں راجوری، پونچھ، ریاسی، اودھم پور، کٹھوا اور ڈوڈہ میں بھارتی فوج کے 11 اہلکاروں سمیت 22 افراد جان سے جا چکے ہیں، سرحد پر تعینات بی ایس ایف نے کسی طرح کی دراندازی سے صاف انکار کیا ہے اس کے باوجود حملے ہو رہے ہیں،

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

  • گلگت بلتستان میں ٹیکسز   نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو  ہے، وفاقی سیکرٹری

    گلگت بلتستان میں ٹیکسز نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو ہے، وفاقی سیکرٹری

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس میں وزات امور کشمیر وگلگت بلتستان کے کام کے طریقہ کار کارکردگی کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے امور و کشمیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سا بقہ قائمہ کمیٹی برائے امور و کشمیر نے اپنے 28فروری کو منعقدہ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم شرکت اور وزارت کے اعلیٰ حکام کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا تھا قومی فنکشن کا بہانا بنا کر کمیٹی اجلاس کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی تھی اور قائمہ کمیٹی کے آزاد جموں کشمیر کے دورے کے حوالے سے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔جس پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ میں نے چند دن پہلے ہی چارج لیا ہے اور پہلے کے رویے کی معذرت چاہتا ہوں آئندہ ان امور کا خیال رکھا جائے گا آج بھی چار میٹنگز تھی لیکن پھر بھی ہم حاضر ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ وزارت چھوٹی سی ہے اور اس کے نیچے پانچ ادارے کام کررہے ہیں وزارت امور کشمیر کا بجٹ 1388.77ملین روپے ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال وزارت امور کشمیر کا پی ایس ڈی پی میں کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے ۔وزارت امور کشمیر کا بنیادی کام گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کےلئے پالیسی اور پلاننگ کی تشکیل ہے گلگت بلتستان کےلئے فنڈز وفاق سے گرانٹ کی صورت میں ملتے ہیں ۔ پی ایس ڈی پی کےلئے سو فیصد پیسہ وفاق دیتا ہے اے ڈی پی کا بڑا حصہ بھی وفاقی حکومت کا ہے ۔ اس لئے وزارت کمیٹی کی رہنمائی بھی درکار ہے کہ مانیٹرنگ کا اختیار وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے پاس ہونا چاہیے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کا اپنا کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے گلگت بلتستان میں ٹیکسز بھی نہیں ہیں آج کل بھی گندم 20روپے کلو ملتی ہے۔ گلگت بلتستان کونسل اور آزاد کشمیر کونسل کا مقصد وفاق اور دونوں علاقوں میں روابط بڑھانا ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے این ایف سی کے تحت 240ارب کا حصہ مانگتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کے فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ سینیٹر ندیم بھٹونے کہا کہ دنیا میں سیاحت کے شعبے سے بہت سی آمدن ہوتی ہے پاکستان کو قدرتی مناظر کی دولت سے مالا مال ہے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔سیاحت سے متعلق ایک الگ اجلاس ہونا چاہیے۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی تسلط اور ظلم جاری رکھنے کےلئے بہت زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اس کو گلگت بلتستان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی دلجوئی کےلئے بجٹ میں زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ کیا تو وہ بھارتی زیر قبضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہیں، سیکرٹر ی وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسلز لیجسلیٹو ادارے ہیں وزیراعظم دونوں کونسلز کے سربراہ ہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قوانین کے نفاذ,فورسز کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال کے اعلان کیلئے وزارت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کشمیر ایشو کو کمیٹی اپنے اختیار سے باہر نہیں سمجھتی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کا وجود ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں منصوبوں کو فائنل کرتی ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت سمیت معدنیات میں بھی وسیع مواقع ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں وزارت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے صرف تعاون کرتے ہیں قائمہ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ کے صوبوں کا علیحدہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اراکین کمیٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان کےلئے کتنا بجیٹ طلب کیا تھا اور کتنا فراہم کیا گیا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آزاد جمعوں کشمیر کونسل کے تمام ممبران منتخب ہو چکے ہیں اگر ان ممبران میں سے بھی کچھ ممبران کو کمیٹی اجلاس میں دعوت دی جائے تو ان کے علاقوں کے مسائل موثر طور پر اجاگر ہونگے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی کل آبادی 17لاکھ کے قریب ہے جن کےلئے حکومت ان کو 140ارب روپے کا فنڈ دیتی ہے جب کہ آزاد جموں کشمیر کی کل آبادی 42لاکھ ہے ۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ نہیں ہے اس کو آزاد کشمیر سے الگ کرنے کی ضرورت ہے تاریخی طور پر اس علاقے کو برطانوی حکومت نے 1935میں لیز پر 50سال کےلئے دیا تھا مہاتماگاندھی نے مہاراجہ کو 1947میں لیز کینسل کرنے پر قائل کیا ۔ہمارے بہترین مفاد میں ہے کہ اس کو پانچویں صوبے کا درجہ دیا جائے پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے بھی یہ بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے اس کو توجہ کی ضرورت ہے ۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو ،دوست محمد خان ، فلک نازاور حامد خان کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سیکرٹری امور کشمیر و دگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • مقبوضہ کشمیر میں بس یاتریوں پر حملہ،مودی سرکار کا جھوٹا فالس فلیگ آپریشن

    مقبوضہ کشمیر میں بس یاتریوں پر حملہ،مودی سرکار کا جھوٹا فالس فلیگ آپریشن

    مودی کے تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی پاکستان کے خلاف روایتی الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا مقبوضہ کشمیر میں یاتریوں کی بس پر فائرنگ ہوئی تو بھارتی میڈیا نے بنا کسی تحقیقات کے الزام پاکستان پر لگانا شروع کر دیا

    مودی سرکارہمیشہ کی طرح اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی،مقبوضہ کشمیر میں بس پر فائرنگ اور کھائی میں گرنے کے واقعہ میں 10 افراد کی ہلاکت ہوئی، 33 افراد زخمی ہوئے، بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح اس واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کرنا شروع کر دیا. انڈیا ٹوڈے نے مودی سرکار کی زبان بولتے ہوئے الزام تراشی کی کہ پاکستان کے حمایت یافتہ عسکری گروپس لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم نے ریاسی میں یاتریوں‌کو لے جانے والے بس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے.یہ خبر انڈیا ٹوڈے نے نشر کی تا ہم حملوں کی ذمہ داری کی خبر کہیں اور نظر نہیں آئی، اصل میں انڈیا ٹوڈے مودی سرکار کی پراپیگنڈہ مہم کو سرانجام دے رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں چڑیا بھی پر مارے تو اس کا الزام ہمیشہ مودی سرکار نے پاکستان پر عائد کیا لیکن بعد میں پھر بھارتی تجزیہ کاروں نے اس بات کو ثابت کیا کہ مودی سرکار نے ہمیشہ جھوٹ بولا.

    بھارتی یاتریوں پر مقبوضہ کشمیر میں بس حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا کے پاکستان پر الزامات مضحکہ خیز ہیں، بنا کسی تحقیقات کے ،کیسے ثابت ہو گیا ؟بھارتی میڈیا کے الزامات سے ایسے لگ رہا ہے کہ یہ پلوامہ کی طرح کا فالس فلیگ آپریشن ہے، اس آپریشن کے پیچھے مودی سرکار کے کچھ مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں، مودی کے تیسری بار حلف لینے کے ایک روز بعد ایسے وقت میں جب پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف مودی کو مبارکباد دے رہے ہیں اور بھارتی میڈیا پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہا ہے.اصل میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے دورہ چین میں حاصل ہونے والی اہم کامیابیاں مودی سرکار کو ہضم نہ ہوئیں،مودی سرکار نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں کرنا اور پراپیگنڈہ کرنا وطیرہ بنا لیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا مودی سرکار کے پروپیگنڈے میں آنے کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرے.

    باغی ٹی وی نے آج دن کو یہ خبر نشر کی تھی کہ مودی سرکار یا بھارتی میڈیا پاکستان پر بس یاتریوں پر حملے کا الزام عائد کر سکتا ہے اور چند گھنٹوں بعد وہی ہوا،پاکستان پر الزام لگ گئے،باغی ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ "مودی اپنی کمزور حکومت کے قدم جمانے اوربھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئےاس حملے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیں گے”، ماضی میں بھی بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کرچکا ہے،بالاکوٹ حملہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے یہاں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ضلع ریاسی پڑوسی علاقوں راجوری اور پونچھ کے مقابلے میں محفوظ علاقہ ہے ۔ یہاں پر اس طرح کے واقعہ کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن ہے ، جس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے گا ،نریندر مودی اپنی کمزور حکومت سے توجہ ہٹانے کیلئے اس قدر سنگدل ہو چکا ہے کہ وہ اپنے ہندو یاتریوں کو بھی قتل کرکے اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرے گا ۔ انھیں اس طرح کی چالوں کی بجائے بھارت کے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

  • مقبوضہ کشمیر،ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ،10 ہلاک ،33 زخمی

    مقبوضہ کشمیر،ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ،10 ہلاک ،33 زخمی

    مقبوضہ کشمیر میں ہندویاتریوں کی بس پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں واقعہ اتوار کو پیش آیا جب ہندو یاتریوں کی بس پر فائرنگ کی گئی،واقعہ عین اسوقت ہوا جب بھارتی وزیراعظم مودی اپنے عہدے کا حلف لے رہے تھے،فائرنگ کے بعد بس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں،بھارتی پولیس کے مطابق ہندو یاتری ریاسی میں واقع شیوکوٹری مندر سے کاٹرا واپس جا رہے تھے،پولیس نے مقامی دیہاتیوں کی مدد سے بس میں سوار ہندویاتریوں کو کھائی سے باہر نکالا اور طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا، لاشوں کو بھی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے.

    بھارتی میڈیا کے مطابق دو نقاب پوش ملزمان نے ہندو یاتریوں کی بس پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئی، ڈرائیور کو گولی لگی اور وہ زخمی ہوا جس کے بعد بس اس کے کنٹرول میں نہ رہی اور کھائی میں گری، واقعہ ریاسی اور راجوری اضلاع کے سرحد پر ہوا،پولیس کا کہنا ہے کہ بس پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے،واقعہ میں ہلاک ہونے والے ہندو یاتریوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے.

    ملزمان اچانک سامنے آئے اور فائرنگ کرنا شروع کر دی، سنتوش کمارورما
    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بس پر فائرنگ کے واقعہ میں یوپی کے رہائشی سنتوش کمارورما بھی زخمی ہوئے ہیں، سنتوش نے میڈٰیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بس پر ہم شیو کھوڑی سے کٹرا کی طرف جا رہے تھے جب بس پر گولیاں چلیں،ملزمان اچانک سامنے آئے اور فائرنگ کرنا شروع کر دی،تقریبا بیس تک فائرنگ ہوتی رہی،ڈرائیور کو گولی لگی اور بس کھائی میں گر گئی، فائرنگ کرنے والوں میں سے ایک ہمارے سامنے تھا جبکہ باقی اطرا ف سے گولیاں آئیں لیکن کوئی سامنے نہیں تھا، ملزمان نے بیس منٹ وقفے وقفے سے فائرنگ کی،اور فرار ہو گئے.

    یوپی کے ہی رہائشی نیلم گپتا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے کتنے لوگ تھے کوئی اندازہ نہیں،بس کھائی میں گرنے کی وجہ سے ہم نہیں دیکھ سکے، بس میں چالیس مسافر تھے جن میں بچے بھی شامل تھے، حملے میں میرے شوہر ،بہنوئی، بھابی بھی زخمی ہوئی ہیں.

    بس میں سوار ایک اور یاتری جو واقعہ میں زخمی ہوا نے میڈیا کو بتایا کہ کم از کم چھ سات فائرنگ کرنے والے لوگ ہوں گے، انہوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا، بس کو گھیر کر فائرنگ کی گئی، جب بس کھائی میں گری تو اسکے بعد بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا،

    لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے ہندویاتریوں کی بس پر حملے کے بعد کا صورتحال کا جائزہ لیا ہے،انہوں نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنائیں اس گھناؤنے فعل کے پیچھے جو بھی ہے اسے جلد سزا دی جائے گی۔

    ریاسی جیسے محفوظ علاقے میں بس پر فائرنگ،بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن،پاکستان پر الزام لگائے جانے کا امکان
    مقبوضہ کشمیر میں بس پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد قوی امکان ہے کہ ماضی کی طرح بھارت پاکستان پر الزام عائد کرے گا.مودی اپنی کمزور حکومت کے قدم جمانے اوربھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئےاس حملے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیں گے، ماضی میں بھی بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کرچکا ہے،بالاکوٹ حملہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے یہاں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ضلع ریاسی پڑوسی علاقوں راجوری اور پونچھ کے مقابلے میں محفوظ علاقہ ہے ۔ یہاں پر اس طرح کے واقعہ کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن ہے ، جس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جائے گا ،نریندر مودی اپنی کمزور حکومت سے توجہ ہٹانے کیلئے اس قدر سنگدل ہو چکا ہے کہ وہ اپنے ہندو یاتریوں کو بھی قتل کرکے اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرے گا ۔ انھیں اس طرح کی چالوں کی بجائے بھارت کے اندرونی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔