Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر:  بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    جنیوا:کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں جاری،بھارتی فوج اورپولیس آوازکودبا اور صحافیوں کومار رہی ہے :اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لالر Mary Lawlorنے کشمیری صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی متعدد کارروائیوں کے بارے میں بھارت کیساتھ اپنی مراسلت عام کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مراسلت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے 2 صحافیوں قاضی شبلی اور آکاش حسن اور بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن چندر بھوشن تیواری کو ہراساں کرنے کے بارے میں تھی۔میری لالر نے یہ مراسلہ رواں برس یکم اکتوبر کو بھارتی حکومت کو بھیجا تھا۔

    مراسلے میں کشمیری صحافی قاضی شبلی کے گھر پر چھاپوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قاضی شبلی ضلع اسلام آباد میں ایک نیوز ویب سائٹ کشمیریت کے ایڈیٹر ہیں۔ رواں برس6 اگست کو پولیس نے قاضی شبلی کے گھر کی تلاشی لی جب کہ وہ وہاں نہیں تھے۔ پولس زبردستی تالہ توڑ کر شبلی کے گھر میں داخل ہوئی اور کھڑکیوں کے شیشوں، ایک حفاظتی کیمرہ اور دیگر کئی اشیاءکی توڑپھوڑ کی۔

    میری لالر نے اپنے مراسلے میں کہاکہ چھ اگست کو ہی پولیس نے شبلی کے ایک رشتہ دار اور دادی کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ تلاشی کی ان کارروائیوں سے چند گھنٹے قبل” کشمیریت “نے 2017 کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کیا تھا،جس میں ایک کشمیری نوجوان کے بارے میں بتایا گیا تھا جسے بھارتی فورسز نے قتل کر دیا تھا۔ مراسلے میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے ایک فری لائنسس صحافی آکاش حسن کا بھی ذکر کیا گیا جو مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی فوجی موجودگی اور وہاں کے شہریوں پر فوجیوں کی کڑی نگرانی کے بارے میں حالیہ برسوں کے دوران رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ رواں برس17 جولائی کوجب وہ رات 9 بجے کے قریب گھر جا رہے تھے تو ضلع پولیس نے اسلام آباد میں انکی گاڑی روک دی اور ایک پولیس افسر نے انہیں مبینہ طور پرگریبان سے پکڑا اور انکے چہرے اور جسم پر ڈنڈے برسائے۔مراسلے میں کہا گیا کہ حسن نے بعد ازاں حملے کی تفصیلات اور اپنے زخمی ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد ضلع اسلام آباد کی پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے حسن سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم آکاش حسن کو ابھی تک کسی بھی تحقیقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ یہ چھاپے جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی ایک واضح مثال ہیں۔مراسلے میں بھارتی ریاست بہار کے صحافی چندر بھوشن تیواری کا بھی ذکر کیا گیا جو مبینہ پولیس بدعنوانی کو بے نقاب کر تے رہے ہیں۔چندر بھوشن تیواری ریاست بہار کے کیمور ضلع میں روزنامہ ہندی اخبار گیان شیکھا ٹائمز کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ اخبار کے لیے وسیع تر مسائل بشمول انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ بھارتی پولیس نے انہیں بھی بے رحمی سے مارا پیٹا۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ شکایات کی تحقیقات اور پیروی کی کمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ بھارتی پولیس فورسز میں بدعنوانی افسروں تک ہی محدود نہیں رہی ہے جن کے بارے میںاطلاعات ہیںکہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کے خلاف بلاجواز حملے بھارت میں انسانی حقوق کے مسائل پر اظہار رائے کی آزادی اور مسائل کے بارے میں رپورٹنگ کو روکنے کی کوشش ہو سکتے ہیں ۔

  • بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    سرینگر: بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشددکا استعمال کررہا ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکی فائرنگ سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو اپا ہج بنانے کیلئے انتہائی ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں پر امن مظاہروںاور سوگواران پرگولیوں ،پیلٹ گنز ، پا وا اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیں جبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔

  • بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی پریس کانفرنس کریں گے

    بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی پریس کانفرنس کریں گے

    اسلام آباد :29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی آج اہم پریس کانفرنس کریں گے،اطلاعات کے مطابق آج کا دن اسلام آباد میں کشمیری قیادت کوبھارت کی طرف سے لاحق خطرات سے آگاہی اورعالمی دنیا کو نوٹس لینے کے حوالے سے اہم قراردیا جارہا ہے ،

    ادھر ذرائع کے مطابق آج اسی سلسلے میں ڈاکٹر مجاہد گیلانی آپا آسیہ اندرابی کے بھانجے صدر کشمیر یوتھ الائنس گزشتہ 29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے نیشنل پریس کلب آئی ایس بی میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ میڈیا کو پیغام جاری کردیا گیا ہے کہ وہ آج اس اہم پریس کانفرنس کی کوریج کرے اورعالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز کو پہنچانے کا سبب بنے اس لیے تمام میڈیا کو آج کی اہم پریس کانفرنس سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے

     

    ڈاکٹر قاسم فکتو
    حریت رہنما ڈاکٹر محمد قاسم فکتو 1967میں پیدا ہوئے، آپ کا حقیقی نام عاشق حسین فکتو تھا، تاہم اپنے قلمی نام قاسم فکتو سے ہی مقبول ہوئے اور جانے جاتے ہیں، آپ ابھی 17برس کے ہی ہوئے تھے کہ آپ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں مزاحمتی تحریکوں میں عملی شرکت شروع کردی، آپ نے نوجوانی میں ہی اس حقیقت کو تسلیم کرلیا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلاء، حق خودارادیت اور آزادی کے بغیر مسلمانان کشمیر یہاں چین سے زندگی بسر نہیں کرسکتے،1987میں ہی آپ مزاحمتی تحریک کے سرگرم کارکن، فریڈم فائٹر اور نوجوان سکالر کے طور پر ابھرے،

    1990میں آپ کا سیدہ آسیہ اندرابی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، آسیہ اندرابی بھی اس وقت خواتین میں اپنے جذبہ حریت کی وجہ سے یکساں مقبول تھیں، بدقسمتی سے سید ہ آسیہ اندرابی کے ساتھ آپ کا ازدواجی سفر محض تین سال تک رہا اس کے بعد روحیں تو ایک رہیں مگر جسم جدا ہوگئے، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو قابض انتظامیہ کے کالے قانون کے تحت آزادی کیلئے جدوجہد کی پاداش میں فروری1993میں پابند سلاسل کردیا گیا۔ اس دوران آپ کے دو بیٹوں کی ولادت ہوئی جن کے نام محمد اور احمد رکھے گئے۔ آپ سے آزادی کی جستجو، پاکستان سے محبت اور حصول تعلیم کا جذبہ جیل کی سلاخیں بھی نہ چھین سکیں، آپ نے جیل کے اندر سے ہی ڈاکٹریٹ مکمل کی اور جوانی کے ایام سے ہی شعبہ تصنیف کے ساتھ بھی منسلک ہوگئے، آپ نہ صرف مسلمانان کشمیر کے سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے بلکہ ایک مذہبی سکالر بھی بنے،

    قید کے بعد آپ کو محض 1999میں ایک بار جیل سے ضمانت پر رہائی ملی جو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک نہ چل سکی اور آپ کے عظیم ارادوں کو دیکھتے ہوئے قابض انتظامیہ نے انہیں پھر پابند سلاسل کردیا، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے 29 سال ہونے کو ہیں، اس عرصے کے دوران انہوں نے19کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ایک کتاب مقبوضہ جموں کشمیر کی تحریک اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرتی ہے جسے ”بانگ“ کا عنوان دیا گیا۔ بھارت کے مذموم ہتھکنڈے آپ کے جذبہ آزادی کی آگ کو بجھا نہ سکے تو کٹھ پتلی عدالتوں نے آپ کے مخصوص کیس میں آپ کو ”تاحیات قید“ کی سزا سنادی جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔دوران قید قابض انتظامیہ اور انسانیت دشمن فورسز کا آپ پر ہرجبر جاری ہے، ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ حال ہی میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ آپ کو جس بلاک میں رکھا گیا ہے وہاں سے دوسرے قیدیوں کو نکال لیا گیا ہے اور آپ کو تنہا کردیا گیا ہے، و

    اضح رہے کہ آپ جیل کے جس بلاک میں قید ہیں وہیں پر شہید اشرف صحرائی قید تھے جنہیں بھارت نے کووڈ کا بہانہ بناکر قتل کردیا۔ اب جیل کے اس بلاک میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو بھی تنہا کرنے کے پیچھے بھارت کے مذموم مقاصد یا چال نظر آتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، دفتر خارجہ پاکستان اور ریاست پاکستان اس حوالے سے بھرپور آواز اٹھائیں، تاکہ اس عظیم حریت رہنما کی زندگی کو بھارتی درندوں سے محفوظ کیا جاسکے۔ انسانی حقوق کے علمبردار 29سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے ایشیا کے سب سے طویل مدت تک رہنے والے قیدی کی رہائی کیلئے عملی اقدامات کریں۔

     

     

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی

  • بھارتی فوج  کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651 کشمیریوں کو شہید کیا

    سرینگر:بھارتی فوج کے مظالم جاری :گزشتہ 3برس کے دوران 651کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 2019سے اب تک گزشتہ تین سال میں13خواتین سمیت 651کشمیریوں کو شہید کیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 99کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے حراست کے دوران جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ اس عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور بدنام زمانہ اتحقیقاتی ادارے این آئی نے مقبوضہ علاقے میں کم سے کم 12ہزار694 محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں 18سے زائد حریت رہنمائوں، کارکنوں،کشمیری نوجوانوں، طلبا، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کو گرفتار کیا۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور ڈیموکریٹک پولٹیکل موومنٹ کے چیئرمین خواجہ فردوس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم وتشدد اور بدترین ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے ہرگز دستبردار نہیں ہو ں گے اور اپنی جدوجہد کو اسکے منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور فوجی اہلکار ترقی اور انعامات کی لالچ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میںملوث ہے ۔

    خواجہ فردوس نے کہا کہ بھارتی فوج چھاپوں کے دوران دانستہ طورپرچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کررہی ہے تاکہ کشمیری عوام کو اپنی حق پر مبنی تحریک سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اوریہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قام ہوسکے۔

    حریت رہنما نے جموںو کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظر بند وں کو جیل مینول کے مطابق کوئی سہولیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کشمیری قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جنہیں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں نظر بند کشمیریوں کی فوری رہائی کیلئے اپنی آوازبلند کریں ۔

     

  • بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے ،شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ،وزیر خارجہ مخدوم شاہ قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کو نرمی دکھانا کشمیر سے غداری کے مترادف ہے-

    باغی ٹی وی : پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خصوصی طور پر شریک ہوئے، اجلاس میں اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے سخت سوالات اٹھائے، جس پر وزیر خارجہ سے تحمل سے جوابات دیئے-

    خرم دستگیر نے اعتراض اٹھایا کہ وزیراعظم پاکستان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی واضح نہیں ہے بلکہ حکومت خود تذبذب کا شکار ہے، کبھی کہتے ہیں کہ پہل نہیں کریں گے، کبھی مذاکرات نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہیں تو کبھی مذاکرات کرنے کے حوالے سے انتہائی کمزور بیان جاری کردیتے ہیں-

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 3ارب ڈالر ڈپازٹ کے معاہدے پر دستخط

    انہوں نے وزیر خارجہ سے وضاحت طلب کی کہ بتایا جائے کہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی کیا ہے؟ اور کیا حکومت کے عالمی سطح پر اٹھائے گئے اقدامات سے بھارت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے آیا؟

    اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جمہوریت اور انسانیت کے علمبردار بھارتی شہری بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کررہی ہیں تاہم مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری پالیسی دو ٹوک اور واضح ہے کہ بھارت سے مذاکرات تبھی ہوں گے جب کم از کم 5 اگست کے اقدام کو واپس لے کر بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی لئے تیار ہوگا۔

    بھارت میں چین نمبر ون، امریکہ بھی پیچھے رہ گیا

    انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے نہ ہی حکومت بھارت سے متعلق نرم رویہ رکھتی ہے، بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہے۔

    سیز فائر معائدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر سیز فائز کا معائدہ 2003 میں ہوا تھا جس کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے تھے سیز فائر کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیری عوام کو ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے معصوم کشمیری شہید ہورہے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس معائدے کے باوجود بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 13600 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، صرف گزشتہ سال میں 397 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور 255 کو زخمی کیا۔

    انہوں نےبتایا کہ ہم ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کیلئے بنکرز بنانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران وہ خود کو محفوظ کرسکیں۔

    میرا سندھ ترقیاتی پلان کا مقصد 14اضلاع کے باسیوں کی معاشی ترقی ہے: وزیراعظم

  • بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم

    کراچی :بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے:بھارت ظلم سے باز آجائے:وزیراعظم کا کراچی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا ہےکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں بھی بربریت جاری ہےاور عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لے۔

    سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا تھا کہ میں سندھ والوں کا مشکور ہوں، پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، ہندوستان میں مودی اقلتیوں پر ظلم کررہا ہے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان کےمزار پر حاضری کا فریضہ دینا ہے،جذبے کے ساتھ استقبال پر شکرگزار ہوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جارحیت اور گولا باری جارہی ہے، ایسے خطے سے وزیراعظم ہوں جسے ایل او سی کہتے ہیں، میرا گھر ایک ہزار گز بھارتی توپوں کے سامنے ہیں اورمیں آج بھی اس ایل او سی پر چلتا ہوں۔

    دوسری طرف کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں بار بار وحشیانہ مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے جعلی مقابلوں میںبے گناہ لوگوں کو شہید کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے اپنی فوجی طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے دہشت گردی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے لیکن بھارتی مظالم کشمیریوں کے عزم کو توڑنہیں سکتے کیونکہ ان مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کا عنوان شہداءکے لہو سے لکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے لیکن دنیا کی خاموشی سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنے مظالم بڑھانے کے لئے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ کشمیر کے بہادر عوام بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ علاقے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور دنیا کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کو بھارتی قبضے کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کو علاقے میں اپنی ریاستی دہشت گردی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

     

     

     

     

  • حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش

    سری نگر: حریت کانفرنس کا جیلوں میں نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہارتشویش ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی بدنام زمانہ جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماوں اور کارکنوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کشمیری نظربندمتعدد امراض کا شکارہوچکے ہیں۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے کے طول وعرض میں اندھا دھند گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی مزاحمتی تحریک سے وابستہ ساڑھے چھ ہزار سے زائد رہنماﺅں اور کارکنوں کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات پر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے جبری گرفتاریوں کو سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جابرانہ پالیسیوں کا مقصد کشمیر ی عوام کے آزادی کے بیانیے کو تبدیل کرنا ہے جو علاقے پر غیر قانونی قبضے کے بعد فسطائی بھارتی حکومت کا خواب رہاہے۔

    ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، وائس چیئرمین شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ، محمد یوسف فلاحی، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، شکیل یوسف، ظہور وٹالی، طارق احمد ڈار، نذیر احمد ڈار، ظہور بٹ، رفیق گنائی، مقصود بٹ، ایوب میر، ایوب ڈار، نذیر پٹھان، غضنفر اقبال، عاقب نجار، عارف وانی، بشیر احمد، فاروق شیخ، ممتاز احمد، مظفر احمد ڈار، طارق پنڈت، حکیم شوکت، اسد اللہ پرے، معراج الدین نندا، عبدالرشید لون، ہلال احمد پیر، عابد زرگر، آصف سلطان، مولوی ناصر، مجاہد صحرائی اور راشد صحرائی سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماﺅں اور کارکنوں کی استقامت اور بہادری کو سراہا ۔

    انہوں نے کہا کہ ان نظربندوں نے کشمیر کاز کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔حریت ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام تمام ”ضمیر کے قیدیوں‘ ‘کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طبی دیکھ بھال اور بنیادی سہولیات کے بغیربھارت اور مقبوضہ علاقے کی تمام جیلوں میں ڈیتھ سیلوں میں نظر بند کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لے۔ترجمان نے علاقائی اور عالمی امن و خوشحالی کے لئے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پراظہار تشویش:حالات مزید بگڑگئے

    سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر: کل جماعتی حریت کانفرنس کا بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہار تشویش ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیریوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لیے علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال پر نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے کے بعد سے ہماری تحریک آزادی کا عنوان شہداکے خون سے لکھا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تحریک کو فوجی طاقت کے بہیمانہ استعمال سے کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے سیاست دانوں، تاجروں، وکلائ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، طلباءاور علمائے دین سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل تحقیقاتی ایجنسی کے مسلسل چھاپوں میں اضافے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جابرانہ ہتھکنڈے ماضی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی انکاکشمیریوں کی مضبوط اور پرامن مزاحمتی تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    ترجمان نے تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں اور ہم غیر قانونی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ترجمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں نسل کشی، بلا جواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کو روکنے اور علاقائی اور عالمی امن کے لیے تنازعہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بار پھر سرینگر کی تاریخی مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر بھارتی قابض انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ آج صبح ایک بار پھر قابض انتظامیہ اور بھارتی پولیس نے جامع مسجد کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

     

     

    انجمن جامع مسجد سے متعلق قابض انتظامیہ کی پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ قابض انتظامیہ نے مرکزی جامع مسجد کی جبری بندش کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور طاقت کے بل پر مذہبی حقو ق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں۔

    انجمن اوقاف نے تنظیم کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی 5اگست2019سے مسلسل گھر میں غیر قانونی نظربندی کی بھی شدید مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے مذہبی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ انجمن نے جامع مسجد کو نماز جمعہ کیلئے بھی کھولنے کا مطالبہ کیا ۔

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بی بی سی کے دفتر کے باہر بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے عالمی شہرت یافتہ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرین نے بی بی سی کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سرینگر میں قائم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر خرم پرویز کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالے۔

     

     

     

    انہوں نے نہتے کشمیریوں کی نسل کشیُ پر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ این آئی اے نے 22نومبر کو خرم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں نئی دلی منتقل کردیاگیا۔

    انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مودی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب ، خواجہ محمد سلیمان ، ٹرید کونسل برمنگھم کے صد ر Ian Scott ،سٹاپ دی وار کولیشن برمنگھم کے سیکریٹری جنرل سٹورٹ رچرڈسن ،رانا رب نواز، چوہدری اکرام الحق اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔