Baaghi TV

Tag: کشمیر

  • آرمی چیف  سے ہارورڈ یونیورسٹی امریکا کے طلبا کی ملاقات

    آرمی چیف سے ہارورڈ یونیورسٹی امریکا کے طلبا کی ملاقات

    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا کے 38 رکنی وفد نے پاکستان میں اپنے دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے علاقائی سلامتی کے مسائل اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاک فوج کے کردار پر بات کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ وفد پاکستان میں قیام کے دوران اپنے تجربات کی بنیاد پر پاکستان کو دیکھیں اورپاکستان کے پوٹینشل اور بہتر تشخص کو اجاگرکریں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کو پاکستان کی جانب سے دی گئی بے پناہ قربانیوں کا ادراک کرنا چاہیے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف سید عاصم منیر نے مقبوضہ جموں کشمیر میں ہونے والے انسانی مصائب اور مظالم اور آبادیاتی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ طلباء نے تعمیری بات چیت کا موقع فراہم کرنے پر چیف آف آرمی سٹا ف کی تعریف کی اور انکا شکریہ ادا کیا.

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے،

  • نگران وزیراعظم سے صدر آزاد  کشمیر کی ملاقات

    نگران وزیراعظم سے صدر آزاد کشمیر کی ملاقات

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے صدر آزاد ریاست جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں صدر آزاد جموں و کشمیر نے انوار الحق کاکڑ کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ،صدر آزاد جموں و کشمیر نے نگران وزیراعظم کو آزاد جموں و کشمیر آنے کی اور قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرنے کی دعوت دی ،نگران وزیراعظم نے صدر آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کی جانب سے کشمیر کے لیے غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کی جد وجہد میں ہم ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے،پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد تب تک جاری رکھے گا جب تلک اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق استصوابِ رائے سے نہیں ہوجاتا.

    قبل ازیں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے نامزد نگران وزیراعلی بلوچستان سردار علی مردان ڈومکی کی ملاقات ہوئی ،ملاقات میں بلوچستان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے نگراں وزیر اعلی بلوچستان نامزد ہونے پر سردار علی مردان ڈومکی کو مبارکباد دی۔

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

  • عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

    بھارتی ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے کہا ہے کہ نے پاکستان کی بڑی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین کی گرفتاری کے حوالے سے بھارتی ریٹائرڈ میجر گورونے بھی سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے-


    انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں اورخالصتانیوں میں ایک چیز مشترک ہےوہ بیرون ممالک میں موجود ہیں اور صرف ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے گراؤنڈ زیرو – زمین پر صفر کی اصطلاح کو ایک نیا معنی دیا ہے۔

    میجر گورر نے کہا کہ آج 2019 میں، ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیادنیا کی "نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی” کو نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے اوردنیا کی "نمبر ون فوج” نےاس بارے میں کچھ نہیں کیا،عمران خان، امت مسلمہ کےغیرمتنازع حکمران صرف پیچھے بیٹھ گئے اور ٹویٹ کیا۔ واحد اسلامی ایٹمی ہتھیار رکھنے والی ریاست اس پر او آئی سی کو اکٹھا بھی نہیں کر سکی۔

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی


    میجر گورو نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کو 30 منٹ تک دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا اور جلد ہی ان کی بھی دلچسپی ختم ہو گئی۔ وہ ویسے بھی کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے جب تک کہ لائن کے دوسرے سرے پر کھانا نہ ہو آج پاکستانی فوج کشمیر کی بات نہیں کرتی۔ یہ "کارپوریٹ زراعت” کے لیے 10 لاکھ ایکڑ اراضی (پاکستان میں) لینے کی بات کرتا ہے جو کچھ بھی ہو۔ یہ ہے جذ بے والی قوم اور ان کو کشمیر چاہئیے-

    چئیرمین تحریک انصاف کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی ریٹائرد میجر نےکہا کہ عمران خان کی گرفتاری ہمارے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا دھچکا ہے۔ ان جیسا کوئی شخص تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہو گا، کوئی ایسا شخص جو اپنی انا میں اتنا بڑھ گیا ہو کہ پاکستان کی تباہی اس کے عزائم کی ادائیگی کے لیے ایک چھوٹی سی قیمت تھی۔

    انہوں نےمزید کہا کہ عمران خان اکیلے اسٹیبلشمنٹ کو ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہو گئے۔ اس نے پاکستان کی آبادی کو ملک کے سب سے معتبر ادارے فوج کے خلاف کر دیا۔ یہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ پاکستان میں فعال ادارے نہیں ہیں۔ اپنی تمام تر خرابیوں کے لیے فوج ہی وہ گلو ہے جو ملک کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔ وہ گوند تقریباً 9 مئی کو اکھڑ گیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری حیران کن ہے،صدر سپریم کورٹ بار


    میجر گورو نے کہا کہ عمران خان نے سی پیک کا پروجیکٹ روک دیا اس نے پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کو آباد کرنے کی پوری کوشش کی اور انہیں سانس لینے کی جگہ دی۔ جب آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا جا رہا تھا تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کردیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے اسٹیج کو اس انداز سے ترتیب دیا کہ اگلی حکومت کو ناکام ہونا پڑا بھارت کی سرمایہ کاری؟ صفرمیری دعا ہے کہ یہ سارا معاملہ عمران کے حق میں حل ہو جائے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ وہ ون مین اسٹرائیک کور ہے اور اس کا ہدف راولپنڈی ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے جب میجر گورو آریا نے عمران خان کو پاکستان کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہو اس سے قبل بھی رواں سال گورو آریا نے پاکستان آرمی کو ایک طاقتوراور پروفیشنل ادارہ قراردیا ہے جس نے تمام قوم کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔ میجر گوروآریا نے کہا کہ عمران خان اپنے ہی قومی اداروں کے خلاف بیان دیکر اپنی ہی فوج کا نقصان کررہے ہیں، اس لیے بھار ت کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    کیونکہ بھارت کا کام عمران خان اچھے انداز میں کررہے ہیں ۔عمران خان اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اگر پاکستان کی آرمی مضبوط ہوگی توپاکستان کے پاس کم سے کم ایک ادارہ ایسا ہے جو مضبوط ہوگا۔

    پاکستانی آرمی صرف فوج ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک گلیو(گوند) ہے جس نے پاکستان کو جوڑ کر رکھا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں ایک ہی کریڈیبل ادارہ ہے اور وہ پاکستان آرمی ہے ۔انہوں نے پھر زور دیکر کہا کہ وہ فوج ہے ہی نہیں وہ گوند ہے جس نے سب کو اکھٹا کررکھا ہو اہے گٓورو آریا نے مزید کہا کہ ’’آپ ہمیں دشمن کہتے ہو تو ہم آپ کو دشمن کہتے ہیں ، لیکن آپ کے اندر والا بندہ بنا پیسے خرچ کرے ،خود اندر( پاکستان کو ) اتنا نقصان پہنچا رہا ہے ،یہ بہت بڑی چیز ہے ۔

    سب پاور کے لیے کام کرتے ہیں سب کی قیمت ہوتی ہے ۔ عمران خان کی قیمت اس کی انا ہے ، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھار ت سے پیار کرتا ہے مگر وہ پاکستان سے بھی پیا رنہیں کرتا ۔ عمران خان کی انا اور گھمنڈ پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے اور بھارت کے لیے فائدہ مند ہے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

  • یوم استحصال کشمیر پرپاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کا  پیغام

    یوم استحصال کشمیر پرپاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کا پیغام

    آج پاکستان و کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے چار سال مکمل ہونے پر مسلح افواج، صدر مملکت، وزیراعظم سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے پیغامات جاری کئے گئے ہیں

    یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور افواج پاکستان کی جانب سے یوم استحصال کشمیر پر مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کا اعلان کیا گیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں فوجی لاک ڈاؤن اورآبادیاتی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے غیر قانونی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں ہیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزیاں ہیں بھارتی حکومت کی بیان بازی، دشمنی پر مبنی اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے لیکن پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے مسلح افواج مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو عظیم قربانیوں پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتی ہے پاکستان کی مسلح افواج کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور انسانی ہمدردی کی فراہمی کی جدوجہد میں مکمل حمایت کا اظہار کرتی ہے

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 4 سال مکمل ہو چکے ہیں

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    کوئی پگڑی والا ہے یا داڑھی والا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سب کے ایمان کا حصہ ہے،علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان میں او آئی سی کانفرنس،چودھری شجاعت نے بھی بڑی بات کہہ دی

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی افواج کا انتہائی ظلم وجبر کشمیریوں کے جذبہ حریت کو نہیں توڑ سکا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں وکشمیر کے تنازعہ کا حل ،خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے،کشمیریوں، پاکستان اور عالمی برادری نے5 اگست کے بھارتی یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا ہے، ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لئے جواب دہ بنائے اوراس دیرینہ تنازعہ کے پرامن حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل جاری کیے ہیں موجودہ ووٹر فہرستوں میں رد و بدل کے لیے لاکھوں عارضی رہائشیوں کو شامل کیا، پاکستان تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتا ہے بھارت کشمیر میں ظلم جاری رکھے ہوئے ہے، عالمی برادری کو مزید خاموش نہیں رہنا چاہیے پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدو جہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جنوبی ایشیا کے لوگ امن اور استحکام کے خواہاں ہیں

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے 5 اگست2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کی مثال قائم کی ہے اور کشمیری تشخص کو مسخ کیا ہے۔بھارت کا یہ غیر انسانی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی نہ صرف کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کے علمبردار ممالک، اداروں اور تنظیموں کیلئے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔5اگست 2019کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور سینکڑوں بے گناہ کشمیروں کو شہید اور لاپتہ کیا گیا ہے۔پاکستان،بھارت کے اس تقسیم کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس کی بدولت لاکھوں کشمیریوں کو اْن کے بنیاد ی حق سے محروم کیا گیا ہے۔اقوام عالم اور خاص طور پر مسلم ممالک اس غیر آئینی قد وبند کے تدارک کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور مظلوم، نہتے اوربے گناہ کشمیریوں کو اْن کی اْمنگوں کے مطابق آزاد ماحول فراہم کریں۔گزشتہ چار برسوں سے مظلوم کشمیری اقوام عالم سے اپنے حقوق کے تحفظ اور بھارتی جارحیت کے خاتمے کے لئے مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے یک زباں اور ایک صفحہ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ادارے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نہ صرف معصوم نہتے کشمیریوں کی بھر پور حمایت کرتے ہیں بلکہ ان کی آزادی کے حصول تک کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر آج دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے ،عالمی دنیا مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی ہونے والی خونریزی کو روکنے کیلئے کردار ادا کرے ،مقبوضہ کشمیر کے عوام کا خون رائیگاں نہیں ہوگا

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کےقیام کے لئے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا جائے

    پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ چار سال پہلے آج کے دن مودی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کے حق پر شب خون مارا اور استحصال اور بربریت کی نئی تاریخ رقم کی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا جیل بنایا ہوا ہے جہاں بغاوت کے ڈر سے بھارتی افواج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر ابھی تک مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ مودی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے والے سینکڑوں کشمیری رہنماء تاحال بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی تاریخ کی نااہل ترین حکومت کے سربراہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے گزشتہ مذمتی بیانات کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں تاہم 5 اگست کے سیاہ دن کو تاریخ میں پی ٹی آئی کی لیگیسی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے بھارت کے خلاف مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے بجائے ہر جمعہ کو 2 منٹ کی خاموشی کا اعلان کیا۔ ان کی نااہلی اور کشمیر دشمنی کو کسی بھی صورت پر معاف نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر پیغام میں کہا ہے کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم انسانیت سوز ہیں؛بھارت اپنے جارحانہ اقدامات سے کشمیریوں کو اُن کے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں رکھ سکتا؛پاکستان کشمیریوں کی آواز بن کر پوری دنیا میں گونجے گا؛ بھارت کا مکرو چہرہ دنیا پر واضح ہوچکا ہے ، پوری دنیا کو کشمیرپر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی؛ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے؛ 5 اگست 2019 کے اقدام نے بھارت کے دوغلے سیکولرازم کا بھانڈا پھوڑ دیا؛پاکستان ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنے گا؛

  • مذہبی انتہا پسندی،اقلیتوں کیساتھ ناروا سلوک کیخلاف اقدامات کرنا ہوں گے،وزیراعظم

    مذہبی انتہا پسندی،اقلیتوں کیساتھ ناروا سلوک کیخلاف اقدامات کرنا ہوں گے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایس سی او سمٹ میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس سی او اجلاس میں تمام سربراہان کو خوش آمدید کہا اور ایس سی او کی چیئرمین شپ ملنے پر قازقستان کو مبارکباد پیش کی ،وزیراعظم نے ایرانی صدر کو ایس سی او ممبر بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایس سی او فیملی میں خوش آمدید کہتے ہیں اور بیلاروس کی بھی شمولیت پر مبارکباد دیتا ہوں

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں ترقی،خوشحالی اور امن کیلئے کوشاں ہے معاشی روابط بڑھانےسے خطے میں ترقی اورامن کوفروغ ملے گا پاکستان یورپ اورایشیا کو منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اورسی پیک میں شامل بندرگاہیں خطے کوملانے میں کردار ادا کرسکتی ہیں ، خطے میں ہونیوالی ہر دہشتگردی قابل مذمت ہے ریاستی دہشتگردی کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے ریاستی دہشتگردی کی کہیں بھی کوئی گنجائش نہیں ہے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا اور مختلف ممالک میں مذہبی انتہا پسندی،اقلیتوں کیساتھ ناروا سلوک کیخلاف اقدامات کرنا ہوں گے پاکستان ایس سی او کے عزم کا بھرپور اعادہ کرتا ہے لیکن عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانا ہوگی ہمیں تعصب اورامتیاز پر مبنی تقسیم کی پالیسیوں کیخلاف کھڑا ہونا ہوگا اور مذہبی بنیاد پر نفرت کو فروغ دینے سے روکنا ہوگا مذہبی بنیاد پر جان بوجھ کر اشتعال انگیزی ، نفرت پر اکسانے کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے،خطے میں سیکیورٹی اورامن تمام ایس سی او ممبر کا مشترکہ معاملہ ہے افغانستان میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے مدد فراہم کرنا ہوگی اورعالمی برادری اورایس سی او کنٹیکٹ گروہ کوافغانستان میں بحران حل کرنے کیلئے کردارادا کرنا ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی اہم مسئلہ ہے پاکستان کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو مل کر اقدامات کرناہوں گے کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا کورونا کی وجہ سےدنیا بھر میں سپلائی چین اور مہنگائی کا سامنا ہے

    وزیرخارجہ کا فسطائی نظریات روکنے کیلئے ایس سی اورکن ملکوں پرملکرکام کرنے پرزور

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • انٹرنیٹ کی بندش، بھارت کا دنیا بھر میں پہلا نمبر

    انٹرنیٹ کی بندش، بھارت کا دنیا بھر میں پہلا نمبر

    انٹرنیٹ کی بندش کے حوالہ سے بھارت کا دنیا بھر میں پہلا نمبر ہے، بھارت میں انٹرنیٹ بند کرنے کا سلسلہ 2016 سے شروع ہوا تھا، بھارت کو انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے 1.9 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے،بھارت میں رواں چھ ماہ میں انٹرنیٹ منی پور اور پنجاب میں طویل عرصہ بند رہا ہے

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹ لاس نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں 118 ملین ڈالر کا نقصان ہوا،21 ہزار سے زائد نوکریاں چلی گئیں، حکومت اگر یہ کہتی ہے کہ نیٹ بند ہونے سے امن رہے گا تو یہ ممکن نہیں، غلط اطلاعات کی تشہیر وقتی رک جائے گی لیکن یہ معیشت کے لئے انتہائی خطرناک ہے، بھارتی حکومت اور مقامی ریاستی حکومتیں انٹرنیٹ کی بندش کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں، بھارت نے نیٹ بندش کے حوالہ سے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے، بھارت میں 2021 میں 1157 گھنٹے انٹرنیٹ بند رہا، جس سے 582.8 ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا، 2021 میں 84 بار نیٹ بند کیا گیا تھا، نیٹ کی بندش کی وجہ احتجاجی مظاہرے، تشدد، الیکشن،اور امتحان قرار دیا جاتا ہے

    جنوری 2022 میں جموں کشمیر میں 49 بار انٹرنیٹ بند کیا گیا ،راجھستان میں ایک سال میں 12 مرتبہ نیٹ بند کیا گیا، مغربی بنگال میں سات بار نیٹ بند کیا گیا،

    2021 میں پوری دنیا میں مجموعی طور پر 30000 گھنٹے انٹرنیٹ بند ہوا تھا جس سے 5.45 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ جن ممالک کو اس شٹ ڈاؤن سے سب سے زیادہ نقصان ہوا، اس لسٹ میں بھارت تیسرے نمبر پر تھا۔ بھارت میں 2021 میں 1157 گھنٹے انٹرنیٹ بند رہا، نئی دہلی میں بھی کسان تحریک کے دوران طویل انٹرنیٹ بند رہا تھا،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور

    پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور

    پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور منعقد ہوا، ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان ایران دوطرفہ سیاسی مشاورت (BPC) کا 12 واں دور 17-18 جون 2023 کو تہران میں منعقد ہوا۔ سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان اور ایران کے نائب وزیر خارجہ جناب علی باقعی کانی نے متعلقہ فریقوں کی قیادت کی،ملاقات میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی اور دونوں اطراف کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی،

    ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام دائرہ کار پر بات چیت کی اور گزشتہ بی پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا ،دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور متنوع بنانے اور توانائی، ٹرانسپورٹ روابط، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ،دونوں فریقین نے علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ،دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن اور مشترکہ تجارتی کمیٹی سمیت مختلف ادارہ جاتی میکانزم کے باقاعدہ اجلاس کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ تشویش کے عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا خیرمقدم

    سیکرٹری خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا خیرمقدم کیا ،سیکرٹری خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت حال سے آگاہ کیا ،سیکرٹری خارجہ نے کشمیر کاز کے لیے ایران کی ثابت قدم حمایت کو سراہا ،سیکرٹری خارجہ نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ سے ملاقات کی ،دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی دوطرفہ تبادلوں کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور مختلف شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،رکن پارلیمنٹ ،چیئرمین پاکستان-ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ احمد امیرآبادی فرحانی کے ساتھ ایک الگ ملاقات میں دونوں فریقوں نے پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ،سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان نے اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کے سیکرٹری جنرل خسرو نوزیری سے ملاقات کی سیکرٹری خارجہ نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی رابطوں اور تجارتی فروغ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تہران میں سیکرٹری خارجہ نے معروف ایرانی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (IPIS) کے ایرانی دانشوروں اور اسکالرز سے بھی بات چیت کی ،ملاقاتوں کے دوران خطے میں امن اور ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیا گیا

  • چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
    چین اور بھارت کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ، جو 3,440 کلومیٹر (2,100 میل) پر پھیلا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدی علاقے میں ایک بلند و بالا فضائی اڈے کی حالیہ تعمیر نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 20 سال کی تعمیر کے بعد 2019 میں لداخ میں دربک-شیوک-دولت بیگ اولڈی (DSDBO) سڑک کی تکمیل کے بعد، تنازع کی صورت میں وسائل اور عملے دونوں کو متحرک کرنے کی ہندوستانی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2022 کے آخر میں، ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں پہلی بار دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
    2021 میں چین نے ہندوستان پر اپنے فوجیوں پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا جس کی ہندوستان نے زوردار تردید کی تھی۔ اگر درست ہے، تو یہ واقعہ 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی خلاف ورزی ہو گی. اس معاہدہ کا مقصد سرحد کے قریب ہتھیاروں کے استعمال کو روکنا تھا۔

    سری نگر میں 2023 میں طے شدہ G20 سربراہی اجلاس تنازعات میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین اور سعودی عرب نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی اور 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ ڈی شان اسٹوکس نے اشارہ کیا، "ناحق حاصل شدہ مراعات کے حامل افراد اکثر چیزوں کو ‘سیاسی درستگی’ کے طور پر گھماتے ہیں، ظلم کرنا چاہتے ہیں۔”
    چین، جو پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، اس اجلاس میں شرکت نہیں کرنا چاہتا، جسے وہ کشمیر پر بھارت کے "غیر قانونی قبضے” کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب متنازعہ علاقہ پر منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے ہر تنازع سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

    ترکی، جو کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے پہچانا جاتا ہے، اجلاس میں شرکت نہ کرنے میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ شامل ہے۔ مصر نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارت کی جانب سے متنازعہ خطے میں اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کوایسے دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے ان سفارت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش. جو اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چین، پاکستان اور ترکی خطے پر قبضہ کے خلاف ہیں۔ کشمیر پر عوامی موقف کی بنا پر شرکت کا کوئی امکان نہیں۔

  • مصراور سعودی عرب نے بھی جی20 کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا

    مصراور سعودی عرب نے بھی جی20 کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا

    مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی جی 20 کانفرنس میں چین اور تُرکی کے بعد مِصر اور سعودی عرب نے بھی بائیکاٹ کردیا ہے جس کی رواں برس میزبانی بھارت کے پاس ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارت کی جانب سے سری نگر میں 22 سے 24 مئی تک جی 20 رکن ممالک کے ’’ٹورازم ورکنگ گروپ‘‘ کا اجلاس بلایا گیا ہے چین کے انکار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے اجلاس کا انعقاد ایک متنازعہ علاقے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہے جس پر چین کو شدید تحفظات ہیں۔

    انٹرنیٹ سروس چیٹ بوٹ نے نئی ایپ متعارف کر ادی

    ترکی، سعودی عرب اورمصر، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کےتمام ارکان جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جس پر بھارتی وزارت خارجہ نے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم علاقہ ہے کسی دوسرے ملک کو اس معاملے پرتبصرہ کرنے کا اختیار نہیں ہے-

    پاکستان میں پہلی ہوائی ٹیکسی متعارف کرانے کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل

    دوسری جانب او آئی سی کے دیگر اراکین ممالک جیسے کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، عمان اور متحدہ عرب امارات نے اس تقریب میں شرکت کی تصدیق کی ہے حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس کا انعقاد شیر کشمیرانٹرنیشنل کنونشن سینٹر کیا جائے گا جس کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    جن میں ایلیٹ این ایس جی (نیشنل سیکیورٹی گارڈ)، پولیس کے ساتھ میرین کمانڈوز، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور دیگر نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

    ایشیا کپ:ہائبرڈ ماڈل منصوبے بے بھارت کو مشکل میں ڈال دیا

  • اب سمجھ آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی بھارتیوں نے مدد کیوں کی،سعید غنی

    اب سمجھ آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی بھارتیوں نے مدد کیوں کی،سعید غنی

    پیپلزپارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ چٸیرمین بلاول بھٹو کو مبارکباد دینا چاہتا ہو، انہوں نے کشمیر کا ایشو وہاں پر اُٹھایا،بھارتی وزیرخارجہ کے بیان کو غیرپارلیمانی سمجھا جا رہا ہے،پی ٹی آٸی اور بھارت کی ایس ایس آر کے رہنماٶں کی چینخیں سنائیں دے رہی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کو مبارکباد دیتا ہوں، انہوں نے شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی اور بھارتی میڈیا کے سامنے پاکستانی مؤقف رکھا،بھارت میں نہ چاہتے ہوئے بھارتیوں اورپاکستان میں بھارتی سوچ رکھنے والوں نے انٹرویو دیکھا ہوگا، بھارتی وزیرخارجہ کے غیر سفارتی بیان کی دنیا مذمت کر رہی ہے، اب سمجھ آتا ہے کہ پی ٹی آئی کی بھارتیوں اور اسرائیلیوں نے مدد کیوں کی، اتنی چیخیں بھارتیوں کی نہیں نکلی جتنی پی ٹی آئی والوں کی نکلی، عمران خان نے اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کو جو ہدایات دی اس کا عکس نظر آیا،

    سعیدغنی کا کہنا تھا کہ کل کراچی میں بلدیاتی ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں، ہم امید کر رہے کہ کل پیپلز پارٹی اکثریتی نشستوں پر کامیابی حاصل کریگی، کل حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن سے پہلے ہی دھاندھلی کی باتیں کی، کہیں پرکوئی شکایت نہیں آئی، ہم نے ان علاقوں میں بھی کام کیا ہے جہاں پیپلزپارٹی کمزور سمجھی جاتی ہے، شہید بھٹو کے کیس کا دوبارا ٹرائل ہونا چاہیئے، جو ججز دنیا سے چلے گئے ہیں ان سے بھی حساب لینا چاہیئے ، جو زندہ ہیں ان کو چوکوں پرپھانسی دی جائے، دوتین دن سے خواجہ آصف کچھ باتیں کررہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سیاستدانوں سے ان کاموں کا بھی حساب مانگا جارہا ہے جو انہوں نے کئے ہی نہیں،

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ آئین میں 90 روز کے بعد نگران حکومتیں قائم نہ رہنے کی کوئی پابندی نہیں،2008میں خیبر پختونخواہ اسمبلی ٹوٹنے کے بعد نگران حکومت 90 روز سے زائد موجود رہی،پاکستان پیپلز پارٹی آئینی اور سیاسی معاملات کا پائیدار حل مذاکرات میں ہی سمجھتی ہے،انتخابات سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار عمران خان ہے،تمام اداروں کو آئین کی طے شدہ حدود میں رہنا چاہیئے، آئین ساز ادارہ پارلیمنٹ ہی سب سے بالادست ہے،آئین عوام کے منتخب نمائندوں نے بنایا، عوامی نمائندگان ہی ترمیم کا حق رکھتے ہیں،ماضی میں اعلٰی عدلیہ نے آئین شکنوں کو عدالتی تحفظ فراہم کیا، انتخابات کا انعقاد حکومت نہیں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،