Baaghi TV

Tag: کشیدگی

  • ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس پر آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم کو خط لکھ دیا گیا ہے۔

    پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کی جانب سے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے باعث پیٹرول پمپس کو مطلوبہ مقدار میں تیل فراہم نہیں کیا جا رہا آرڈرز دینے کے باوجود آئل سپلائی تاخیر کا شکار ہے اور ٹینکرز گھنٹوں انتظار پر مجبور ہیں خط کے مطابق اس صورتحال کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہونے سے عوام میں خوف و ہراس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    ایسوسی ایشن نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل کمپنیوں کو کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے سے قبل مشاورت کا پابند بنایا جائے پیٹرول پمپ مالکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی فوری طور پر بہتر بنانے کی اپیل بھی کی ہے تاکہ ممکنہ قلت اور عوامی پریشانی سے بچا جا سکے۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں ملک میں تیل کمپنیوں نے پٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی محدود کرنا شروع کر دی ہے، جس کے باعث ممکنہ قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر گیارہ سینٹ یا تقریباً 1.4 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 82 ڈالر 53 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 79 سینٹ اضافے کے ساتھ 75 ڈالر 37 سینٹ فی بیرل ہو گیاماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    ایران پر حملے سے قبل دورہ اسرائیل:مودی کو کڑی تنقید کا سامنا

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی اور امریکی افواج کی جانب سے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے ہیں عراق، جو اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس نے ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور برآمدی راستوں کی کمی کے باعث اپنی پیداوا ر میں تقریباً پندرہ لاکھ بیرل یومیہ کمی کر دی ہے اگر برآمدات بحال نہ ہوئیں تو عراق کو مزید پیداوار بند کرنا پڑ سکتی ہے۔

    ادھر آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے ایران نے چند ٹینکروں کو نشانہ بنایا جس کے بعد کئی روز تک جہاز رانی متاثر رہی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکی بحریہ ضرورت پڑنے پر ٹینکروں کو سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے، قیمتوں میں مزید تیزی وقتی طور پر محدود رہی۔

    ایران پر آئندہ چند روز میں مزید تباہ کن حملے ہوسکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

    انہوں نے خلیج میں بحری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کی انشورنس اور مالی ضمانتوں کی ہدایت بھی دی،اس کے باوجود جہاز مالکان اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فوجی سکیورٹی اور انشورنس سے اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکتا کئی ممالک اور کمپنیاں متبادل راستے اور توانائی کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔

    بھارت اور انڈونیشیا نے دیگر سپلائرز سے رابطے شروع کر دیے ہیں جبکہ چین کی بعض ریفائنریاں عارضی بندش یا مرمت کے منصوبے آگے بڑھا رہی ہیں،سعودی آرامکو بھی کچھ برآمدات کو آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    گھر سے سودا لینے کیلئے جانے والے 14 سالہ بچے کیساتھ زیادتی، ملزم گرفتار

  • امریکہ کا  نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں  قونصل خانے چھوڑنے کا حکم

    امریکہ کا نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم

    امریکہ نے نان ایمرجنسی عملے کو کراچی، لاہور میں قونصل خانے چھوڑنے کا حکم دے دیا-

    امریکہ نے دہشت گردی اور اغوا کے خطرات سمیت پورے پاکستان میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے، نان ایمرجنسی اہلکاروں کو کراچی اور لاہور میں اپنے قونصل خانے خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں اب تک مجموعی طور پر 20 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہےکراچی، لاہور اور اسلام آباد میں امریکی سفارتی مشنز کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے قونصل خانے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    گھر سے سودا لینے کیلئے جانے والے 14 سالہ بچے کیساتھ زیادتی، ملزم گرفتار

    امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کراچی میں امریکی قونصل خانے پر مظاہرین کے حملے کے دوران وہاں تعینات امریکی میرینز نے فائرنگ کی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ دی تھی، جس کے بعد سیکیورٹی پر مامور میرینز نے فائرنگ کی، واضح نہیں میرینز کی گولیاں کسی کو لگیں یا اس سے کوئی ہلاکت ہوئی اس ہنگامہ آرائی کے دوران اب تک 10 افراد کی جاں بحق کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ہلاکتیں میرینز کی گولیوں سے ہوئیں یا وہاں موجود نجی سیکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس کی فائرنگ سے۔

    خطے کی‌صورتحال: وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ کو ان کیمرا بریفنگ

    مشتعل مظاہرین ‘امریکا مردہ باد’ کے نعرے لگا رہے تھے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مظاہرین کی جانب سے قونصل خانے پر فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں اندر سے گولیاں چلائی گئیں۔ کراچی پولیس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ قونصل خانے کی حدود کے اندر سے کی گئی۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان سکھدیو اسرداس ہیمنانی نے سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکار کس ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔

    یو اے ای میں پاکستانی سفارتخانے کی سروسز معطل

  • اس وقت پورا خلیجی خطہ صورتحال کی زد میں ہے، ڈپلومیسی ہی مسئلے کا حل ہے،اسحاق ڈار

    اس وقت پورا خلیجی خطہ صورتحال کی زد میں ہے، ڈپلومیسی ہی مسئلے کا حل ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے اور پاکستان نے بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطے کی بگڑتی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر وزیر اعظم شہباز شریف نے مذمت کرتے ہوئے بیان جاری کیا انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے اور پاکستان نے بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے معاملہ سلجھانے کی بھرپور کوشش کی ہے، آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے-

    انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا جس کی پاکستان نے شدید مذمت کی پاکستان نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق ایران کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور ایرانی قیادت پاکستان کی کاوشوں سے بخوبی آگاہ ہے ڈپلومیسی ہی مسئلے کا حل ہے اور اس ضمن میں وہ یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے رابطہ کر چکے ہیں۔

    مائیکل ہیسن کی غیر معمولی مداخلت، علیم ڈارقومی سلیکشن کمیٹی سے مستعفی

    اسحاق ڈار نے کہا کہ اس وقت پورا خلیجی خطہ صورتحال کی زد میں ہے تاہم سعودی عرب اور عمان پر حملے نہیں ہو رہے اور ان دونوں ممالک کو پاکستان کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کوششیں وقتی نہیں بلکہ مسلسل جاری ہیں، ایران پر حملے کی خبر سامنے آتے ہی انہو ں نے فوری طور پر دفتر خارجہ سے رابطہ کیا اور 28 فروری کو پاکستان نے اس صورتحال پر پہلا باضابطہ ردعمل دیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ جون میں بھی ایران پر حملہ ہوا تھا جس پر پاکستان نے کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی تھی، جبکہ گزشتہ 3 روز کے دوران متعدد ممالک سے رابطے کیے جا چکے ہیں تاکہ سفارتکاروں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکےڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    برطانوی عدالت سے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کی سزا

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان کی عمان کے وزیر خارجہ سے رات گئے بات ہوئی جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہ راست اور غیر رسمی رابطہ ہے اور وہ واٹس ایپ کے ذریعے بھی مسلسل مشاورت میں ہیں، دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی لیڈرز کو بھی بریفنگ دی جائے گی جبکہ افغا نستان کے حوالے سے بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

    آپریشن غضب للحق:پاک فوج کی کارروائی میں ننگرہار خوگانی بیس تباہ

  • امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

    امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ کے14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے قونصلر امور مورا نامدار کے مطابق امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سے کمرشل ذرائع کے ذریعے فوری روانہ ہوجائیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں حملوں کی شدت، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور کسی واضح اخراجی منصوبے کی عدم موجودگی نے طویل اور وسیع اثرات کی حامل جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے،صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھیں اور سفری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

    ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق

    دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری چھوڑنے کی ہدایت دی ہے کینیڈین حکام نے کہا ہے کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستے سے سعودی عرب یا سلطنت عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

    عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔

    خطے میں کشیدگی: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان قبل ازوقت ختم

  • ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی

    ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے پیغام جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمزکوبند کردیا ہے اس وقت کسی جہاز کوآبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق دنیا کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائےہرمز کےراستے سے گزرتا ہے، آبنائے ہرمز صرف 40 کلومیٹر چوڑا ہے آبنائے ہرمز سے سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہےدنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہےاوپیک رکن ممالک عودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق ایشیائی ممالک کو زیادہ تر خام تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہی برآمد کرتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کشیدگی:عالمی ہوا بازی اور معشیت مفلوج ،دبئی بند

    قطر، دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں سے، اپنی تقریباً تمام ایل این جی آبنائے ہرمز کے ذریعے بھیجتا ہےاوپیک پلس کے سرفہرست پروڈیوسر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہنگامی منصوبوں کے تحت حالیہ دنوں میں تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے دوسرے راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ سال جون میں کہا تھا کہ موجودہ یو اے ای اور سعودی پائپ لائنوں سے تقریباً 2.6 ملین بیرل یومیہ (بیرل پر ڈے) غیر استعمال شدہ صلاحیت ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہےبحرین میں مقیم امریکی پانچویں بحری بیڑے کو علاقے میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے-

    پاکستان ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے، دفترخارجہ

    قبل ازیں جنوری 2012 میں، ایران نے امریکی اور یورپی پابندیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی، مئی 2019 میں، آبنائے ہرمز کے باہر، متحدہ عرب امارات کے ساحل پر، چار جہازوں، جن میں دو سعودی آئل ٹینکرز بھی شامل تھےپر حملہ کیا گیا تین بحری جہاز، دو 2023 میں اور ایک 2024 میں، ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب یا اس میں قبضے میں لیا تھا کچھ قبضے ایران سے متعلق امریکی ٹینکرز کے قبضے کے بعد ہوئے،گزشتہ برس ایران نے اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کیا تھا۔

    رہبر اعلٰی سمیت اہم کمانڈرز اور شخصیات محفوظ ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

  • عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

    ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوااگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیابعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیاجنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہےحالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

    ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائےایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

  • امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

    برطانوی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی ساز و سامان کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے امریکی بحری بیڑا، جس میں طیارہ بردار جہاز اور جدید جنگی سازوسامان شامل ہے، ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پہلے یہ فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر تھا جو اب کم ہو کر 240 کلومیٹر رہ گیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے اور وہ خود بھی بالواسطہ طور پر اس عمل میں شامل رہیں گے۔

    باجوڑ میں چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 12 خوارج ہلاک

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب عسکری دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ خطے میں ہر نئی پیش رفت کو نہایت باریکی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

  • ایران اسرائیل کشیدگی کم کروانے کیلئے امریکا، برطانیہ متحرک

    ایران اسرائیل کشیدگی کم کروانے کیلئے امریکا، برطانیہ متحرک

    ایران ،اسرائیل کشیدگی رکوانے کے لئے امریکا سرگرم ہو چکا ہے، امریکا نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ ایران کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرے

    ترکی میں امریکا کے سفیر جیف فلیک نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ترکی سمیت دیگر اتحادی ایران سے بات کریں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ایران کو آمادہ کریں، ترک رابطہ کار کوشش کر رہے ہیں کہ حالات مزید کشیدہ نہ ہوں،

    دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مشترکا بیان پر ایران کا ردعمل سامنے آیا ہے،ایران نے کشیدگی پر تحمل کے یورپی ممالک کے مطالبے کو مسترد کردیا،ایران نے جواب میں کہا کہ ” ایران سے تحمل کا مطالبہ سیاسی شعور کا فقدان ہے، ایران سے تحمل کا مطالبہ بین الاقوامی قانونی اصولوں سے بھی متصادم ہے، ایران ایک بار پھر فرانس، جرمنی اور برطانیہ سے غزہ جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے”۔ تین یورپی ممالک کے رہنماؤں کا یہ بیان اس وقت شائع ہوا جب اسرائیلی حکومت کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کی بے حسی کے اثرات، اس حکومت کی طرف سے نسل کشی اور ہر قسم کے جنگی جرائم بے دفاع فلسطینی قوم پر جاری ہیں، اور صہیونی حکام کے سزا سے استثنیٰ نے انتہائی گھناؤنے جرائم اور بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب میں ان کی ہمت کو بڑھا دیا ہے،اگر متذکرہ ممالک واقعی خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں تو انہیں اسرائیل کی نسل پرست حکومت کی جنگی مہم جوئی اور غزہ کے خلاف جنگ اور خواتین، بچوں اور شہریوں کے گھناؤنے اور خوفناک قتل کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

    علاوہ ازیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے،سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اسرائیل پر حملے سے باز رہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، برطانیہ کے وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا،برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر 30 منٹ تک بات چیت کی۔

    واضح رہے کہ برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے،مشرق وسطیٰ میں حکام سمجھتے ہیں کہ اسرائیل پر حملے کا وقت آگیا ہے،

    اسماعیل ہنیہ کے قتل پر ایران کے یقینی ردعمل اور اس کے سینئر کمانڈر شہید فواد شکر کے قتل پر لبنان کی اسلامی مزاحمت کے ردعمل کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کی بے چینی اور ذہنی الجھنوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے،صہیونی ریڈیو نے اعتراف کیا ہے کہ شہید ھنیہ کے قتل کے بعد صہیونی اس قاتلانہ کارروائی کے جواب کے منتظر ہیں،اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس سروسز بھی اپنے اتحادیوں کی مدد سے حملے کی نوعیت، ٹارگٹ اور وقت جاننے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں اور حزب اللہ کے اہم عسکری کمانڈر فؤاد شکر کی بیروت کے جنوبی نواح میں ہلاکت کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی شدت عروج پر پہنچ چکی ہے ،اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو ایران میں اس وقت شہید کیا گیا تھا جب وہ ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب کے لئے ایران میں موجود تھے.

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اتوار کے روز اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ ایران کی فوجی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اسرائیل پر وسیع پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے چند دنوں میں ہو گا، ایرانی صدر شدید جوابی کارروائی سے گریز چاہتے ہیں جب کہ پاسداران انقلاب وسیع پیمانے پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،کئی ممالک کااپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت

    مشرق وسطیٰ ميں کشيدگی کم کرنے کی علاقائی و عالمی کوششیں جاری ہیں،اردن کے وزير خارجہ ايران کا دورہ کر رہے ہيں تاکہ ايران کو اسرائيل کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب امريکہ اور کئی عرب ممالک بھی اس وقت کشیدگی میں کمی کے لیے متحرک ہیں۔

    امریکا کا کہنا ہے کہمشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے،وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر جوناتھن فنر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی اقدامات کا مقصد حملوں کو روکنا، دفاع کرنا اور علاقائی تنازعات سے بچنا ہے، امریکا اور اسرائیل ہر ممکن تیاری کر رہے ہیں، اپریل میں علاقائی تصادم کا امکان بہت قریب پہنچ گیا تھا، امریکا چاہتا ہے دوبارہ ایسی صورت پیدا ہوتی ہے تو اس کیلئے تیاری کی جائے۔

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ،جاپان، اٹلی اور ترکیہ سمیت کئی ممالک نے لبنان کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کی ہے اور اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے،اطالوی وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان کے جنوبی حصے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے،ترک وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے اور لبنان کے کشیدگی والے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے، جاپان نے بھی اپنے شہریوں کو فوری لبنان چھوڑنے کی ہدایت کر دی،جاپانی وزارت خارجہ نے ٹریول الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو لبنان چھوڑنے پر زور دیا ہے، امریکا،برطانیہ،سوڈان، اردن بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں،لبنان میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی شہری فوری طور پر کسی بھی میسر ایئرلائن سے واپسی کر لیں،دوسری جانب کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، فرانس نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے خطرے کے پیش نظر فرانسیسی شہری لبنان کا سفر نہ کریں۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان میں گاڑی پر فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے اہم کمانڈر علی عبد علی شہید ہوگئے، جواب میں حزب اللّٰہ نے اسرائیلی اہداف کو راکٹوں اور توپوں سے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف حملہ آج ہو سکتا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے حملے کے پیشں نظر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایران پر قبل از وقت حملے کی منظوری دے سکتے ہیں،اسرائیل نے بھی ایران پر جوابی حملے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے،یہ تیاری اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ کے بعد کی گئی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے علاوہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف ہرزی حلوی نے بھی شرکت کی تھی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کے علاوہ امریکی ویب سائٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور بیروت میں اسرائیلی حملوں کا جواب ایران آج دے سکتا ہے،امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے امریکی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی پراکسیز پیر تک اسرائیل پر حملہ کرسکتے ہیں، جو 13 اپریل جیسا لیکن پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر ہوگا، اس حملے میں ایران لبنان سے حزب اللہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرسکتا ہے

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کئی ایئر لائن نے تل ابیب جانے والی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ منسوخی سے سینکڑوں اسرائیلی پھنسے ہوئے ہیں اور اس نے خطے میں پروازوں کی حفاظت اور حفاظت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اضافی لڑاکا طیارے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایران اور اس کے پراکسیوں کے متوقع حملوں کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی جا سکے۔ صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک تناؤ بھرا فون کیا، جس میں ان پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے معاہدے پر عمل کریں۔

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ، جو ایران میں ایک حملے میں شہید ہوئے، کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دفن کیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد، حماس کے سابق رہنما خالد مشعل، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے، اور فلسطینی تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے لوسیل قبرستان میں علامہ یوسف القرضاوی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات نے عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد نے ان کے عالمی مقام اور فلسطین کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • سعودی عرب  کے ساتھ تعلقات  سے یمن میں جنگ کے خاتمےکی راہ ہموار ہوگی،ایران

    سعودی عرب کے ساتھ تعلقات سے یمن میں جنگ کے خاتمےکی راہ ہموار ہوگی،ایران

    تہران: ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے یمن میں جنگ کے خاتمے اور تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے جنگ بندی میں تیزی آئے گی، قومی بات چیت شروع کرنے اور یمن میں ایک جامع قومی حکومت تشکیل میں مدد ملے گی۔

    مودی سرکارمیں مسلمانوں پرزمین مزید تنگ،بھارتی میڈیانےہندوستانی پولیس اورگاؤرکشک گٹھ جوڑکا پردہ فاش کر دیا

    اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تین طرفہ تعاون، پورے خطے اور بین الاقوامی سطح پر اہم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی مغربی ایشیا اور عالم اسلام پر مثبت اثر ڈالےگی۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے جمعہ کے روز ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا جس میں سات سال کی کشیدگی کے بعد، چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات بحال کرنے اور سفارتخانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

    خلیجی ممالک طویل عرصے سے ایران پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ خطے میں خاص طور پر عراق، لبنان، شام اور یمن میں اپنے شیعہ پراکسی نیٹ ورک کی مالی اور فوجی امداد کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں تشدد کے شعلوں کو ہوا دے رہا ہے۔

    سعودی عرب کا”ریاض ایئر” کے نام سے نئی قومی ایئرلائن کے قیام کا اعلان

    یمن 2014 سے ایک میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں دونوں فریقوں کو ایک طرف ریاض اوردوسری طرف تہران کی حمایت حاصل تھی سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کی اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف عسکری طور پر اس کی حمایت کے لیے ایک عرب اتحاد تشکیل دیا۔

    عرب ممالک اور مغربی دنیا طویل عرصے سے اس دعوے پر قائم ہے کہ ایران حوثی ملیشیا کو ہتھیار فراہم کرتا ہے جو کہ سرحد پار سے حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے ہیں۔

    سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطلب تہران کے ساتھ تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں،شہزادہ فیصل