Baaghi TV

Tag: کوئٹہ

  • کوئٹہ:  ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ڈیوٹیز سے بائیکاٹ کر رکھا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ کہ کوئٹہ میں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بھی مطالبات میں شامل ہے۔

    بلوچستان حکومت نے پہلے ہی ایم آر آئی میشن کے لیے 250 ملین روپےجاری کر دیئے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے رقم جاری کردی ہے بہت جلد ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں کام شروع کر دیں گی۔

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    لوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کا احتجاج اب ایک معمول بن چکا ہےاور حالیہ احتجاج دو ماہ قبل شروع ہوا تھا لیکن 23 نومبر سے شدید سردی کے باوجود انھوں نے گورنر ہاﺅس کے قریب دھرنا دیا تھا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو مطالبات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے وہ 24 نکات پر مشتمل ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سپریم کونسل کے رکن ڈاکٹر ارسلان کے مطابق ان 24 مطالبات میں سے دو تین کے سوا باقی تمام مطالبات مریضوں کی بھلائی کے لیے ہیں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بلوچستان میں سرکاری ہسپتال کھنڈرات بنے ہوئے ہیں اور ان میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جب مریض ہسپتال آتے ہیں تو ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے پر وہ اپنا سارا غصہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے پر نکالتے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے 8 افراد جاں بحق، 904 مریضوں کی حالت تشویشناک

    ہسپتالوں میں ادویات اور جدید مشنری کو یقینی بنانا ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا کام نہیں ہوتا بلکہ یہ کام حکومت کا ہے لیکن چونکہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے سامنے ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ ہوتا ہے اس لیے انھیں لوگوں کے اشتعال اور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ینگ ڈاکٹروں کے ذاتی فائدے کے جو مطالبات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور جو پوسٹ گریجوایٹ سٹوڈنٹس ہیں ان کو ملک کے دیگر اچھے اداروں میں پڑھنے کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے کی اجازت دی جائے۔ 2016 میں ان کی تنخواہ 80 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 8 نومبر کو کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت میں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟ نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت دی تھی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

  • سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔

    سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔

    کوئٹہ :سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات۔اطلاعات کے مطابق بلوچستان حکومت نے سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی کو ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی تعینات کرکے ان کو جلد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے

    سابق ڈی جی لیویز بلوچستان مجیب الرحمان قمبرانی ایک باصلاحیت اور محتنی افسر کی حیثیت سے مشہور ہیں اور کافی عرصے سے ڈی جی لیوز کی حیثیت سے بہترین خدمات سرانجام دے رہیں ،

     

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی بحیثیت ڈی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی منظوری باہم مشاورت سے طئے پائی ہے اورامید کی جارہی ہےکہ وہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر گوادر اتھارٹی کو ترقی کیطرف لے کرجائیں گے

    دوسری طرف کوئٹہ میں گفتگو کرتےہوئے میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ کوئٹہ کے کونے کونے میں جائینگے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سست کاموں کو تیز کرنے کی کوشش کررہے ہیں‌، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے،

    وزیراعلی بلوچستان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارلحکومت کی بہتری کیلئے ہر کوشش کرینگے،صفائی پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے،عوام صفائی کے حوالے سے تعاون کریں،کوئٹہ مسائل استان بنا ہوا ہے،گیس پریشر میں بہتری کے حوالے سے وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی،وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ ایسا ماسٹر پلان لانا چاہتے ہیں جس سے کوئٹہ کا نقشہ بدل جائے،

     

     

  • گورنر بلوچستان  سے  بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات

    کوئٹہ:گورنر بلوچستان سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات،اطلاعات کے مطابق گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا سے عبدالمالک کاکڑ کی قیادت میں بلوچستان سول سیکریٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ملاقات کی ہے

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو درپیش مشکلات، وفاق میں بلوچستان کیلئے مختص کوٹہ پر تعینات ہونے والے جعلی ڈومیسائل کی منسوخی کے عمل کو تیز کرنے، وفاق اور صوبوں کے درمیان ملازمین میں توازن قائم کرنے کے امور زیر غور آئے.

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ معاشرے کے صاحب اختیار اور ذمہ دار افراد میں اپنی احساس ذمہ داری سے غفلت سب بڑی تباہ کن سوچ ہے.

    اس موقع پر گورنربلوچستان نے کہا کہ گوڈ گورنینس کو قائم اور برقرار رکھنے میں سرکاری آفیسروں کا کلیدی کردار ہے. ہمیں ماضی کی غلط روایات اور فرسودہ طریقہ کار کے مکمل خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھانے ہونگے. آفسرز کو کسی دباﺅ میں آنے کی بجائے ایک سچے خادم کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔

    گورنر بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ ذہن نشین رہے کہ تمام سرکاری آفسرز عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہوتے ہیں.بعض سرکردہ افراد اپنے حقیر ذاتی مفاد کے حصول کیلئے مفاد خلق اور پورے اجتماعی نظام کو داو پر لگا دیتے ہیں.گڈ گورننس قائم کرنے اور معاشرے کو ناجائز سفارشوں اور کرپشن سے پاک رکھنے میں آفیسرز حضرات اپنا کرد ار ادا کریں‌، گورنر بلوچستان نے بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز کو ان کے تمام قانونی حقوق دلوانے کی یقین دہانی کرائی.

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے

    کوئٹہ :وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آج بڑے اہم فیصلے کردیئے ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو آسکانی ہاؤس کوئٹہ پہنچے ، ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر فشریز و محکمہ حیوانات میر حاجی اکبر آسکانی سے ملاقات بھی کی ہے

    اطلاعات کے مطابق حاجی اکبر آسکانی نے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کو حلقے کے مسائل اورعوامی ضروریات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر ماہیگیری نے بیروزگاری, گڈ گورننس اور محکمہ ماہیگیری کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جس میں غیر قانونی ٹرالنگ اور گوادر کے مقامی ماہی گیروں کے مسائل زیرِ بحث لائے گئے۔

    وزیر فشریز میر اکبر آسکانی نے یقین دلایا کہ محکمہ فشریز میں جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں ان تمام مسائل کا ادراک کیا جائیگا اور انہیں پوری طور پر حل کریں گے۔ صوبائی وزیر فشریز نے غیر قانونی ٹرالنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ فشریز کے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ بلوچستان کے ساحلی پٹی کو غیر قانونی ٹرالنگ سے پاک کیا جائے اور غریب ماہی گیروں کے مسائل کا تصفیہ کیا جائے۔

    ادھر آج وزیراعلئ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نےاہم اقدام کرتے ہوئےصوبائی سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی ریکارڈ وقت میں منظوری دے دی ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلئ کی منظوری سے 232 افسران ترقی پا گیۓ

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بورڈ کا اجلاس چئیرمین چیف سیکریٹری بلوچستان کی زیر صدارت 5 نومبر 2021 کو منعقد ہوا تھا،بورڈ میں مختلف محکموں کے افسران کے گریڈ 17 سے 18 گریڈ 18 سے 19 اور گریڈ 19 سے 20 میں ترقی کے کیسز زیر غور آئے

    چیف سیکریٹری کی جانب سے بورڈ کی سفارشات کی سمری 22 نومبر کو حتمی منظوری کے لیۓ وزیراعلئ کو ارسال کی گئی تھی، وزیراعلئ کی جانب سے بلا تاخیر منظوری دی گئی

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری مزید کاروائی اور ترقیوں کے نوٹیفیکیشن کے اجراء کے لیۓ آج واپس چیف سیکریٹری کو بھجوا دی گئی

    واضع رہے کہ اس قبل سلیکشن بورڈ کی سمری کی منظوری میں وزیراعلئ سیکریٹریٹ میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی تھی،کئی مرتبہ اعتراضات کے ساتھ سمری واپس بھیج دی جاتی تھی ،غیر ضروری اعتراضات سے افسران کی ترقیوں کے کیسز غیر ضروری التواء کا شکار ہو جاتے تھے

    ۔وزیراعلئ نے سمری کی فوری منظوری دیکر افسران کو بروقت انکی ترقی کا حق دیکر ایک نئی روایت قائم کی ہے،ترقی پانے والے افسران نے خوشی اور اطمینان کا ااظہار کرتے ہوۓ وزیراعلئ کا شکریہ ادا کیا ہے

  • "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    "بلوچستان یونیورسٹی کی طلبا تنظیموں کا دھرنا:مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل”

    بلوچستان یونیورسٹی کے لاپتہ طالبعلموں کا معاملہ، طلبا تنظیموں کی جانب سے دھرنا جاری ہے،احتجاج کے باعث کوئٹہ کے یونیورسٹیز اور کالجز پر تالے لگ گئے ۔کوئٹہ کے تمام یونیورسٹیز، کالجز کے بعد احتجاج کو صوبہ بھر میں وسعت دی گئی ہے۔اس کے علاوہ کوئٹہ کے بعد ضلع مستونگ، تربت، زہری، کوہلو اور نوشکی میں بھی کالجز بند کردیئے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم طلبا کو مطمئن نہ کرسکی، مذاکرات ناکام ہوگئے۔طلبا تنظیمیں کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ دو طلبا کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل طلبا تنظیموں کی جانب سے 2 طلبا کے اغوا کے معاملے پر بلوچستان یونیورسٹی کا مین گیٹ آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق 5 نومبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے 2 طلبا لاپتہ ہوئے تھے جس کے باعث بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ کو طلبا تنظیموں کی جانب سے بند کیا گیا تھا اور جاری پیپرز کا بھی بائیکارٹ کردیا گیا تھا۔طلبا تنظم کا کہنا تھا کہ جب تک طلبا کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔خیال رہے کہ رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی میں تعلیمی و انتظامی معاملات نئے احکامات ملنے تک معطل رہیں گے۔

    دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے جامعہ بلوچستان کے دو طلبہ سمیت دیگر افراد کے اغوا کے واقعات کے خلاف کھڑے ہو کر متفقہ طورپر مذمت کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے لاپتہ طلبہ کی بازیابی کیلئےکوشش کررہے ہیں۔

    اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی سے مبینہ لاپتہ طلبہ کے بارے میں اطلاع کے حوالے سے محکمہ پولیس کی جانب سے اشتہارجاری کردیا گیاہے ۔اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ کل تک معاملات بہتر ہوجائیں گے

    اشتہارمیں دونوں مغویوں کی برآمدگی میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔واضح رہے کہ طلبا 5 نومبر کو یونیورسٹی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

     

  • کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی  ،عمل سستی کا شکار

    کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی ،عمل سستی کا شکار

    کوویڈ ویکسین کا پاکستان میں آنے کے باوجود کوئٹہ میں ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے- بلوچستان میں 8روز کے دوران اب تک صرف 133 ہیلتھ ورکرز کو ویکسینیت کیا گیا ہے-

    پہلے مرحلے میں 5 ہزار کورونا ویکسن کوئٹہ پہنچے تھے- اس وقت بلوچستان بھر میں 44 ویکسینیشن سینٹر قائم ہیں- کوئٹہ میں ویکسینیشن لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں- کورونا ویکسینشن کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہیں- حکومت کی ہدایت کع مطابق ویکسین ابھی صرف ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کئیر ورکرز کو لگائی جانی تھیں البتہ یہ عمل کوئٹہ میں صحیح طریقے سے انجام نہیں پارہا ہے اور ویکسینیشن کا یہ عمل سست روی کا شکار ہے-

  • صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نےکوئٹہ سی ایم ایچ اسپتال، اور ٹراما سینٹر سول ہسپتال کادورہ کیا

    صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نےکوئٹہ سی ایم ایچ اسپتال، اور ٹراما سینٹر سول ہسپتال کادورہ کیا

    کویٹہ :
    دورے میں صوبائی وزیر داخلہ نے گزشتہ روز کوٹیہ اور سبی  بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی فرداًا فرداً عیادت  اور انتظامات کا جائزہ لیا، ڈپٹی کمشنر کوٹیہ اورنگزیب بادینی صوبائی وزیر کے ہمراہ 
    دہشت گردوں نے عوامی مقام پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر بزدلی کی مظاہرہ کیا ہے۔ فوج ،پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے مل کر دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔
    وزیر داخلہ نے موقع پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی.موقع پر وزیر داخلہ نے زخمیوں سے دھماکے کی تفصیلات بھی معلوم کیں.دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنا یا گیا ۔ پاکستان میں دہشتگردی ہمارے ہمسائے ملک افغانستان کے راستے ہو رہی ہے ۔دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ افسوس کا اظہار اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا ۔ وزیر داخلہ

  • کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانےسے متعلق  اقدامات جاری

    کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانےسے متعلق اقدامات جاری

    کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
    کوئٹہ، اب تک 4 ہیلتھ کیئر ورکرز و ڈاکٹرز کو ویکسین لگائی جاچکی ہے، کوئٹہ میں ویکسین لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں، پروانشل کوارڈینیٹر ای پی آئی بلوچستان
    کوئٹہ، کورونا ویکسین کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، کوئٹہ، رجسٹرڈ افراد موبائل پر پیغام موصول ہونے کے بعد مقررہ سینٹر جاکر ویکسین لگواسکیں گے، صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی آئی
    کوئٹہ، ویکسین مضر اثرات سے پاک اور کورونا سے بچاو کا تناسب 95 فیصد ہے ، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
    کوئٹہ، کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، کوئٹہ، بلوچستان بھر میں 44 ویکسین سینٹرز قائم ہوں گے، کوئٹہ، مرحلہ وار دیگر اضلاع میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کریں گے، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی

  • بلوچستان میں کورونا وائرس کی پھیلتی وباء تشویش ناک ہے، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان

    بلوچستان میں کورونا وائرس کی پھیلتی وباء تشویش ناک ہے، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان

    عید الفطر کے موقع پر عوام کی اکثریت نے سوشل ڈسٹینس اور احتیاطی تدابیر کو بالا طاق رکھ دیا جس کے منفی نتائج آئندہ ایک دو روز میں برآمد ہونا شروع ہو جائیں گے .عوام کی جانب سے کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا حکومت کی جانب سے مروجہ ایس او پیز کو عوامی سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے .اس وقت پھیلاؤ کا تناسب لگ بھگ 30 سے 35 فیصد تک ہے  .عوام نے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا تو اکتوبر نومبر تک پھیلاؤ کا یہ تناسب 79 فیصد تک جاسکتا ہے . کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو .

     

    دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ھوے اب تک صورتحال کو سنبھالا ہوا ہے عوام نے احتیاطی تدابیر کو مسلسل نظر انداز کیا تو وباء کے پھیلاؤ کا تناسب غیر معمولی حد تک  بڑھ  جائے گا. لاک ڈاون میں نرمی عوامی مشکلات کے مدنظر کی گئی تاہم عوام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہے .عوامی سطح پر غیر سنجیدگی برقرار رہی تو مزید سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا. ایس او پیز پر عمل درآمد کے فقدان کے باعث معاملات زندگی کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر ہو سکتی ہے.  صورتحال کے تناظر میں محکمہ صحت بلوچستان نے صوبائی حکومت کو سفارشات مرتب کردی ہیں، ڈی جی ہیلتھ بلوچستان ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو.

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟