Baaghi TV

Tag: کورونا وائرس

  • چمگادڑوں میں ایک نیا کورونا وائرس دریافت

    چمگادڑوں میں ایک نیا کورونا وائرس دریافت

    چینی محققین نے چمگادڑوں میں ایک نیا کورونا وائرس دریافت کیا ہے، جسے HKU5-CoV-2 کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق تحقیق سیل سائنٹیفک جرنل (Cell scientific journal) نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کی قیادت ایک اعلیٰ چینی سائنسدان وائرولوجسٹ نے کی جن کا نام شی زینگلی ہے، جسے ”بیٹ وومین“ بھی کہا جاتا ہے، اسے اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس نے چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس پر کافی تحقیق کی ہے۔ یہ مطالعہ گوانگزو لیبارٹری میں کیا گیا۔

    چین میں سائنسدانوں نے چمگادڑوں میں HKU5-CoV-2 نامی ایک نیا وائرس پایا۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ یہ وائرس انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن یہ سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے پھیل سکتا ہے،اگرچہ سینکڑوں کورونا وائرس موجود ہیں،لیکن صرف چند ہی انسانوں کو متاثر کر سکتے ہیں، یہ HKU5 کرونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے-

    محققین کے مطابق HKU5-CoV-2 نیا وائرس ہانگ کانگ میں چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک کورونا وائرس سے پیدا ہوا۔ یہ وائرس کے ایک گروپ سے تعلق رکھتا ہے جس میں وہ بھی شامل ہے جو MERS کورونا وائرس کی ایک قسم کا سبب بنتا ہے۔

    سائنسدانوں نے تحقیق میں پایا کہ چمگادڑ میں چھپے وائرس HKU5-CoV-2 میں ایک عجیب خصوصیت ہے جو اسے COVID-19 وائرس کی طرح خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے یہ خصوصیت وائرس کو سیل کی سطحوں پر پروٹین سے منسلک کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس سے وائرس کے لیے خلیات کو متاثر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ چمگادڑوں کے نمونوں سے الگ تھلگ وائرس انسانی خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چمگادڑوں کے وائرس براہ راست یا واسطہ کاروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہونے کا بہت بڑا خطرہ ہیں، نئے HKU5-CoV-2 وائرس میں مختلف انواع کو متاثر کرنے کی زیادہ صلاحیت ہو سکتی ہے لیکن ابھی اس حوالے سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

  • کراچی میں ایک بار پھر کورونا کیسز رپورٹ ہونا شروع

    کراچی میں ایک بار پھر کورونا کیسز رپورٹ ہونا شروع

    کراچی میں مختلف سانس کی وائرل بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگی، نزلہ اور کھانسی کے 30 فیصد مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو ماہر متعدی امراض ڈا اسپتال پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ کراچی میں بڑی تعداد میں لوگ نزلہ، کھانسی اور بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ ٹیسٹ کروانے پر 25 سے 30 فیصد مریضوں میں کورونا مثبت آ رہا ہے۔پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ 10 سے 12 فیصد مریضوں میں انفلوئنزا ایچ 1 این 1 جبکہ 5 سے 10 فیصد بچوں میں سانس کی نالی کے انفیکشن کی تصدیق ہو رہی ہے۔ان کے مطابق کورونا، انفلوئنزا ایچ 1 این 1 اور سردیوں کے دیگر وائرل انفیکشن کی علامات ملتی جلتی ہیں، اکثر مریض ٹیسٹ نہیں کرواتے جس کے باعث بیماریوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔ماہر متعدی امراض کہتے ہیں کہ ان تمام وائرسز کی علامات آپس میں ملتی ہیں، کورونا وبا کی علامات میں ذائقہ اور خوشبو کا ختم ہونا بھی شامل ہیں، سردیوں میں یہ بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وینٹیلیشن کا ناقص نظام وائرسز کے پھیلا ئوکی بڑی وجہ بنتا ہے لہذا شہری احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں، ماسک پہنیں، خود کو ڈھانپ کر رکھیں اور ہر سال انفلوئنزا کی ویکسین لازمی لگوائیں۔

    پاک بحریہ اور اطالوی بحریہ کی خلیج عمان میں مشترکہ مشق

    فلسطینی طلبا کی فیسیں معاف ،وظیفے دینے کا اعلان

    نائیجیریا میں آئل ٹینکر دھماکا، 60 افراد ہلاک

    اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے، حافظ نعیم الرحمان

  • پاکستان میں  کورونا کی نئی قسم کے پھیلاؤ میں تیزی

    پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کے پھیلاؤ میں تیزی

    اسلام آباد: قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر کورونا کیسز کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی: ملک میں سردیوں کے باعث روایتی موسمی بیماریاں میں کچھ کیسز میں علامات ان روایتی بیماریوں جیسے الرجی، نزلہ، کھانسی، بخار وغیرہ سے مخلتف ہیں ،بی بی سی کے مطابق ان مریضوں میں کورونا کی ایک نئی قسم جے این 1 اور انفلوئنزا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کی نئی قسم ”جے این 1“ کے حوالے سے ایک وارننگ جاری کی گئی تھی این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں کورونا کے ملک بھر میں 16 مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں ملک بھر میں 3 ہزار 609 کورونا ٹیسٹ 24 سے 30 دسمبر تک کیے گئے 41 ممالک میں کورونا کے نئے ویرینٹ جے این ون کے کئی کیسز سامنے آچکے ہیں۔

    قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا” ہے،علی …

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پھیپھڑوں کے امراض کے ڈاکٹر عرفان ملک نے بتایا کہ کورونا، انفلوئنزا اور آر ایس وی وائرس میں پائی جانے والے علامات کو ٹریپل ڈیکر جبکہ کورونا اور انفلوئنزا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں میں پائی جانے والی علامات کو ڈبل ڈیکر وائرس کہا جاتا ہے،ہمارے پاس اس وقت مریض کورونا کی تمام علامات کے ساتھ آ رہے ہیں ،جبکہ پاکستان کے پاس اس وقت کورونا کے نئے وائرس جے این 1 کو ٹیسٹ کرنے والی کٹس موجود نہیں،اس وائرس کی موجودگی کا پتا لگانے کیلئے انتہائی حساس کٹ چاہیے ہوتی ہیں جو اس وقت ہمارے پاس بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔

    دوسری جانب نگراں صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی ایک کیس بھی پاکستان میں جے این 1 وائرس کا رپوٹ نہیں ہوا البتہ دنیا میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے اس لیے ہم نے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے ٹیسٹنگ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ معلوم کر سکیں کہ اس کا پھیلاؤ کتنا ہے۔

    بھارت روس بڑھتے تعلقات پر مغربی ممالک کو شدید تشویش

    کورونا کی نئی قسم میں بخار، کھانسی، گلا خراب ہونا، جسم میں درد، سینے پر بوجھل پن یا تکلیف اور سانس لینے میں دشواری، بلغم اور کچھ مریضوں میں الٹی کا آنا شامل ہے، متاثرہ شخص کو کم از کم پانچ دن تک اپنے آپ کو قرنطینہ کرنا ہو گا، ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ مجمعے یا رش والی جگہ پر جانے سے گریز کریں اور متاثرہ شخص سے دور رہیں۔

    آسڑیلیا میں پادری نے 45 سال چرچ کیلئے وقف کرنے کے بعد اسلام قبول …

  • بھارت میں کوویڈ پھر سر اٹھانے لگا،حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد

    بھارت میں کوویڈ پھر سر اٹھانے لگا،حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد

    کیرالہ: بھارت میں عالمی وبا کورونا وائرس پھر سر اٹھانے لگا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ میں کورونا کے نئے کیسز میں مبتلا زیادہ تر مریضوں میں ویرینٹ JN.1 پایا گیا ہےاسپتالوں میں ایمرجنسی کے ساتھ کئی پابندیوں کا اعلان کیا گیاہے جس میں ریاستی سرحد پر نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ کورونا ٹیسٹ کی مہم چلائی جائے گی جب کہ علامات اور مشتبہ کیسز کے حامل افراد کو لازمی طور پر ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی گئی۔

    ریاستی حکومت لوگوں کی نقل و حرکت اور اجتماع پر پابندی عائد پر بھی غور کر رہی ہے جب کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گی، کیرالہ کی ریاستی حکومت نے 60 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو کہا ہے کہ کھانسی، بخار اور فلو جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسپتال سے رجوع کریں اور چند روز تک اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔

    آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ 8 دسمبر کو کیرالہ کے ترواننت پورم ضلع کے قراقلم سے RT-PCR مثبت نمونے کی تصدیق کے بعد کیس کا پتہ چلا خاتون میں انفلوئنزا جیسی بیماری (ILI) کی ہلکی علامات تھیں اور تب سے وہ کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکی ہیں۔

    نیشنل انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کوویڈ ٹاسک فورس کے شریک چیئرمین راجیو جے دیون کے مطابق، JN.1 ویریئنٹ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور استثنیٰ سے بچ سکتا ہے،"JN.1 ایک شدید مدافعتی اور تیزی سے پھیلنے والا ویرینٹ ہے، جو XBB اور اس وائرس کے دیگر تمام سابقہ ​​ورژنز سے واضح طور پر مختلف ہے یہ ان لوگوں کو متاثر کرنے کے قابل بناتا ہے جن کو سابقہ ​​کوویڈ انفیکشن تھا اور ان لوگوں کو بھی جن کو ویکسین لگائی گئی تھی-

  • بھارت میں 10 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ

    بھارت میں 10 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ

    بھارت میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 10 ہزار 158 نئے کیسز سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز 7 ہزار 830 مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ملک میں اس وقت 44 ہزار 998 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔

    بھارتی ریاست پنجاب میں فائرنگ سے ایک اور فوجی ہلاک

    رپورٹس کے مطابق بھارت میں سرکاری ذرائع نے کل کہا تھا کہ کورونا وبا بننے کی شکل میں داخل ہو چکا ہے اور اگلے 10 سے 12 دنوں تک کیسز بڑھیں گے جس کے بعد کیسز کم ہو جائیں گے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز اومیکرون کے ویرینٹ کے باعث ہیں جس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور اس کے خلاف ویکسین مؤثر ہیں۔

    لوئر دیرمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک

    دوسری جانب پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اور ملک بھر میں شرح ایک عشاریہ 3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ،بھارتی کرکٹ بورڈ  نے ایڈوائزری جاری کر دی

    کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ،بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایڈوائزری جاری کر دی

    بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کوویڈ-19 ایڈوائزری جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہندوستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ اس دوران بھارت میں انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا بھی سیزن ہے، ایسے میں بی سی سی آئی نے کوویڈ-19 ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

    کیماڑی میں زہریلی گیس سے اموات،میڈیکل بورڈ کی رپورٹ آ گئی

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے ٹیم مالکان، کھلاڑیوں اور معاون عملے سے کہا ہے کہ وہ کوویڈ-19 کے سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر کو مزید سخت کردیں جبکہ حکومت کی جانب سے سماجی فاصلے کی ہدایات سمیت جو اصول کہے جائیں گے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4,435 نئے کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کےبعد تعداد 4.47 کروڑتک پہنچ گئی ہےدارا لحکومت دہلی، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ، کرناٹک، اڈیشہ اور پنجاب میں ایک ایک جبکہ مہاراشٹرا میں 4 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

    شاہین شاہ نے اپنی 23ویں سالگرہ سسرال میں منائی،تصاویر

    دوسری جانب رواں سال بھارت میں آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ بھی شیڈول ہے جو 5 اکتوبر سے 19 نومبر تک کھیلا جائے گا، اگر کورونا وائرس کی صورتحال مزید گھمبیر ہوئی تو میگا ایونٹ کے امکانات تقریباً معدوم ہوسکتے ہیں۔

  • بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار سے زائد کیسز اور 15 اموات رپورٹ

    بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار سے زائد کیسز اور 15 اموات رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت میں کورونا وائرس پھر پھیلنے لگا 24 گھنٹوں میں 15 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 24 گھنٹوں میں کورونا کے 4 ہزار 435 کیسزاور 15اموات سامنے آئی ہیں، یہ گزشتہ سال ستمبرکے بعد کورونا کیسز میں سب سےزیادہ اضافہ ہےکورونا مثبت کیسز کی یومیہ شرح 3.38 ریکارڈکی گئی، جب کہ کورونا سے اموات مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، نئی دہلی، گجرات، ہریانہ، کرناٹک اور راجستھان میں رپورٹ ہوئیں۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    بھارت میں کورونا وائرس سے اب تک ہلاک افراد کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جو کہ دنیا میں امریکا کے بعد سب سے زیادہ ہے بھارتی حکومت نے لوگوں سے محتاط رہنےکی اپیل کرتے ہوئے انہیں عوامی مقامات پر ماسک پہننے اورفاصلہ برقراررکھنے کی ہدایت کی ہے۔

    چین کا مُودی کی سفاکی پر کرارا جواب

  • سندھ میں کورونا کیسز میں اضافہ،مثبت کیسز کی شرح 22.2 فیصد ریکارڈ

    سندھ میں کورونا کیسز میں اضافہ،مثبت کیسز کی شرح 22.2 فیصد ریکارڈ

    کراچی: سندھ میں کورونا کیسز میں اضافہ، شہریوں کو چہرے پر ماسک لگانے اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا مشورہ ۔

    باغی ٹی وی : صوبائی محکمہ صحت کے مطابق سندھ میں کورونا کے کیسز میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور صوبے میں کورونا کے مزید 16 مثبت کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 72 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جس میں سے مثبت کیسز کی شرح 22.2 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔

    کراچی: اغوا برائے تاوان میں ملوث اہلکاروں سمیت ملزمان عدالت میں پیش

    اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں کورونا کے 17 مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 4 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے اور ایک مریض وینٹی لیٹر پر ہے۔

    محکمہ صحت نے شہریوں کو ماسک اور سینیٹائزر استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور ہدایت کی ہے کہ مہلک وائرس سے بچاؤ کے لیے ہجوم والی جگہوں پر سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔

    معروف ادیب اور مترجم ستار طاہر

  • پاکستان میں کورونا کی وجہ سال 2023 کی پہلی ہلاکت رپورٹ ،الرٹ جاری

    پاکستان میں کورونا کی وجہ سال 2023 کی پہلی ہلاکت رپورٹ ،الرٹ جاری

    پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ جاری ہے،لاہور میں کورونا کی وجہ سال 2023 کی پہلی ہلاکت رپورٹ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کیسز کی شرح 3 اعشاریہ 2 فیصد ریکارڈ کی گئی گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کورونا وائرس کے مزید 5 ہزار 557 ٹیسٹ کیے گئے مزید 168 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ زیرِ علاج مریضوں میں سے 23 کی حالت تشویش ناک ہے ان میں سےمختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کورونا کے لیے مختص آئسولیشن وارڈز میں زیر علاج ہیں۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی


    این آئی ایچ کے مطابق این آئی ایچ کے مطابق پاکستان بھر میں اب تک 30 ہزار 647 کورونا وائرس کے مریض انتقال کر چکے ہیں جبکہ اس کے کُل مریضوں کی تعداد 15 لاکھ 78 ہزار 767 ہو چکی ہے، جبکہ اب تک کُل 3 کروڑ 15 لاکھ 38 ہزار 559 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے نجی اسپتال میں وحیدہ نامی خاتون کورونا سے انتقال کر گئیں بزرگ خاتون کو سانس کی تکلیف کے ساتھ لایا گیا تھا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے کورونا سےمتعلق کچھ علامات کےبعد انہیں داخل کیا گیابعد میں مریضہ میں کورونا وائرس پائے جانے کی تصدیق ہوگئی۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    صحت کے حکام نے تمام سرکاری اور نجی صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے کہ وہ مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران ہدایات پر سختی سے عمل کریں محکمہ صحت نے عوام کو بازاروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر کام کے مقامات، خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنانے کی تلقین کی ہے۔

  • سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    کورونا وائرس کے حوالے سے سائنسدان ابھی تک جاننے کی تگ و دو میں ہیں کہ آخر یہ بیماری کس طرح کیسے اور کہاں سے پھیلی،اب تک اس حوالے سے سائدسدانوں نے دو خیالات کا اظہار کیا تھا ایک تو یہ تھا کہ کسی لیبارٹری سے وائرس لیک ہوا اور دوسرا یہ کہ کسی جنگلی جانور سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کا شروع سے ماننا ہےکہ یہ وائرس چین کے شہر ووہان کی وائلڈ لائف مارکیٹ سےکسی جانورکےذریعے انسانوں میں منتقل ہوکر پھیلنا شروع ہوا مگر اب تک اس کا ثبوت نہیں مل سکا تھا۔

    مگر اب سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے اب اس وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی ہے ان سائنسدانوں نے ووہان کی اس مارکیٹ میں موجود جانوروں کےجینیاتی نمونوں کےڈیٹاکا تجزیہ کیا اور ان کےخیال میں جو جانوراس عالمی وبا کوپھیلانےوالے وائرس کا باعث بنا وہ ریکون ڈوگ نامی ایک ممالیہ جاندار ہے۔

    سائنس دانوں نے ووہان، چین کی مارکیٹ سے نئے جینیاتی شواہد دریافت کیے ہیں، جہاں 2019 کے آخر میں کوویڈ کےکیسز پہلی بار کلسٹر ہوئے تھے۔ ان نتائج سے SARS-CoV-2 کے جانوروں کی اصل میں مدد ملتی ہے، یہ وائرس جو کوویڈ کا سبب بنتا ہے۔ انہیں اس ہفتے کے شروع میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے بلائے گئے ایک مشاورتی گروپ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

    وائرل آر این اے پر مشتمل نمونے، جو 2020 کے اوائل میں ہوانان سمندری غذا کی ہول سیل مارکیٹ میں جمع کیے گئے تھے، ان میں ایک قسم کا جانور کتوں کا جینیاتی مواد بھی شامل تھا، جو بظاہر بازار میں فروخت ہونے والی لومڑی کی طرح کی کینیڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے جانوروں پر مشتمل تھا۔ جینیاتی مواد مارکیٹ کے انہی علاقوں سے آیا جہاں SARS-CoV-2 پایا گیا تھا-

    اس مارکیٹ کو وائرس کے پھیلاؤ کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کر دیا گیا تھا اور وہاں موجود جانوروں کے جینیاتی نمونے اس بندش کے 2 ماہ بعد اکٹھے کیے گئے تھے اس ڈیٹا کو گزشتہ سال چینی سائنسدانوں نے عالمی ڈیٹابیس کے لیے جاری کیا تھا۔

    تحقیقی ٹیم نے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ریکون ڈوگ کے نمونوں میں کوویڈ 19 کی تصدیق کیدیگر ممالیہ جاندار جیسے civets کے نمونوں میں بھی کورونا وائرس کو دریافت کیا گیا اس دریافت سے یہ ٹھوس طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ ریکون ڈوگ کی وجہ سے کووڈ کی وبا متحرک ہوئی مگر محققین کا ماننا ہے کہ زیادہ امکان اسی بات کا ہے۔

    سائنسدانوں نے اپنی تحقیقی کام کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ماہرین کے سامنے پیش کیا ہے اس تحقیقی ٹیم میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ اس ڈیٹا سے ووہان کی مارکیٹ سے وائرس کے آغاز کے خیال کو تقویت ملتی ہےانہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ چینی سائنسدانوں نے اس جینیاتی ڈیٹا کو پہلے جاری کیوں نہیں کیا۔

    سائنسدانوں کے مطابق وہ اس دریافت پر ایک رپورٹ مرتب کر رہے ہیں جس کو جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ریکون ڈوگ میں وائرس کی موجودگی سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اس سے وبا کے آغاز کے حوالے ٹھوس جواب تو نہیں ملتا مگر یہ ڈیٹا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ہم جواب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

    فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کی ایک ارتقائی ماہر حیاتیات فلورنس ڈیبارے نے وائرس کے جینیاتی سلسلے دریافت کیے جنہیں چین میں محققین نے جن کی سربراہی چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سابق سربراہ جارج گاؤ کر رہے تھےنے ایک عوامی جینومک ڈیٹا بیس پر اپ لوڈ کیا تھا۔