Baaghi TV

Tag: کپتان

  • وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    اسلام آباد :وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن بھی کپتان کے فین نکلے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن نے کابینہ سے استعفے کے بعد اے آر وائی نیوز کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سب کہتےہیں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے توپھر نیوٹرل ہی ہوگی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوتوپھر بہت کچھ ہوجاتا ہے۔

    سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ تاریخ مجبوروں کو نہیں بہادروں کو یاد رکھتی ہے، خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے، بعد میں بندہ کہتا ہے یہ مجبوری وہ مجبوری تھی،ایسے لوگ یاد نہیں رہتے۔

    انہوں نے حکومت کے موجودہ ماحول میں خود کو اَن فٹ قرار دیتے ہوئے کہا پی ٹی آئی میں عہدہ نہیں لینا چاہتا کیونکہ اگر اختیارات نہ ہوں تو ڈلیور نہیں کرسکوں گا۔

    ندیم افضل چن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صنعت کی وزارت ٹاپ ٹین میں ہے مگر ملک میں کھاد کی قلت ہے، صرف سیاست دانوں پر الزامات نہیں لگنےچاہئیں،

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سےمیسجنگ ہوتی ہےمگراب عہدہ نہیں چاہتا کیونکہ ڈلیورنہ کرسکتا، موجودہ ماڈل میں اچھی انگریزی ، سلجھے اور قابل لوگ فٹ ہوتے ہیں، ہم سلجھے ہوئےنہیں ، سیاسی انگریزی توآتی ہے مگر درباریوں والی نہیں۔

    سابق ترجمان نے کہا کہ کسی سے ناراضی نہیں لیکن پیچھے پیچھے دوڑنے کا قائل نہیں، دولت مند اورتگڑے لوگ وزیراعظم کےقریب ہیں، اگلا الیکشن کس کے ساتھ لڑنا ہے یہ ابھی فیصلہ نہیں کیا

  • پی ٹی آئی کے ورکرز گالی دیکر مجھے بلاتے تھے ،مریم نواز کا انکشاف

    پی ٹی آئی کے ورکرز گالی دیکر مجھے بلاتے تھے ،مریم نواز کا انکشاف

    پی ٹی آئی کے ورکرز گالی دیکر مجھے بلاتے تھے ،مریم نواز کا انکشاف
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز عدالت پیش ہوئیں،نیب کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے ،نیب پراسیکیوٹر نے تیاری کے لیے 4 ہفتے کی مہلت مانگ لی،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میری تعیناتی کا نوٹیفکیشن گزشتہ روز ہوا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو کتنا وقت چاہیے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مجھے چار ہفتے کا وقت دیدیا جائے،اسلام آبادہائیکورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کو تیاری کے لیے چار ہفتے کی مہلت دے دی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 21 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت پیشی کے بعد مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر کو تیاری کے لیے چار ہفتے کی مہلت مانگی عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو تیاری کے لیے چار ہفتے مہلت دی انصاف میں تاخیر کا مطلب انصاف کی فراہمی سے انکارہے عدالت ثبوت مانگتی ہے تو نیب مہلت مانگ لیتا ہے ،عمران خان کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے پرویز مشرف کا دوریاد آتا ہے ،عمران خان نے گزشتہ روزشہری کےخلاف ریاستی ادارے کو استعمال کیا،عمران خان کی ذہنی حالت پر ترس آتا ہے خاتون اول کا احترام کرتے ہیں مگر معیار سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے ،لندن میں پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہمارے گھر پر حملہ کیا،لوگوں کے گھروں میں دیواریں پھلانگ کر جانا افسوسناک ہے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام آپ کو کن الفاظ سے یاد کرتی ہے مجھے ڈیتھ سیل میں قید کیا گیا ،کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟عمران خان کی جرائم کی فہرست طویل ہے عمران خان نے سرکاری خرچ پر انتقام کے سوا کچھ نہیں کیا، عمران خان نے ریاستی اداروں کو استعمال کیا اور انتقام کی سیاست جاری رکھی عمران خان ریاستی نواب یا بادشاہ نہیں ،آپ کا بھی احتساب ہوگا،عمران خان چین میں اولمپکس دیکھنے گئے یہاں جوان شہید ہوئے، عمران خان تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھیں

    https://twitter.com/Rafaqat43811133/status/1494226885563273216

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران نیازی کو وزیراعظم ہاوس کے ایک کمرے میں بند کردینا چاہئے کیونکہ وہ جس ملک میں بھی جاتے ہیں اپنے ہی ملک کا تماشا بنا دیتے ہیں پاکستان کے بنے بنائے تعلقات کو خراب کردیتے ہیں پاکستان آج اکیلا اور تنہا کھڑا ہے کل عمران خان نے شہری کے خلاف ریاستی ادارے کو استعمال کیا۔ لوگ عمران خان کو بد دعائیں دے رہے ہیں کیا ان لوگوں کے پیچھے بھی ایف آ ئیں اے کو لگائیں گے ،عمران خان کی ذہنی حالت پر ترس آتاہے عمران خان کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے پرویز مشرف کا دور یاد آتاہے جب ہم اپنی والدہ کی عیادت کے لیے لندن میں موجود تھے تو جب ہم ہاسپٹل میں جا رہے ہوتے تھے تو اپارٹمنٹ کے نیچے پی ٹی آئی کے تین چار ورکرز گالی دیکر مجھے بلاتے تھے ۔جنید صفدر کو ماں کی گالی دی جاتی تھی دنیا کا پہلاوزیراعظم ہے جو بنی گالہ سے آفس تک ہیلی کاپٹر میں آتا ہے عوام کو سرکاری پٹرول کی سہولت میسر نہیں،عمران خان کو لندن بھاگنے کی اجازت نہیں دیں گے،اپنی غلطیاں نہیں دیکھتے ،غلطیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ تمام اتحادیوں سے کہوں گی عوام کی اواز پر لبیک کہیں،کوئی قانون خراب نہیں ہوتا اس کا استعمال اسے بدنام کرتا ہے،عمران خان کو کسی بھی ملک کے دورے سے روکنا چاہیے ایمپائر وہ ہوتے ہیں جو نیوٹرل ہو،عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگی ایم این ایز اور ایم پی ایز فارورڈ بلاک بنا کربیٹھے ہیں

    ان تصاویر کو دیکھ کر خودبخود جنت کی یاد آجاتی ہے،مریم نواز کی ٹویٹ پر صارف کا تبصرہ

    ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعظم عمران خان کا دنیا کو پیغام

    ایک طرف انسانیت، دوسری طرف بربریت،مسلم امہ کا امتحان ہے، وزیر خارجہ

    آن لائن کلاسز .اب امتحان بھی آن لائن ہی لیں، طلبا سڑکوں پر آ گئے

    طلبا خبردار، پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا شیڈول تیار

    امتحانات کے معاملے پر سستی سیاست بند کی جائے، شفقت محمود

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    نواز شریف کی بیماری کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا، ڈاکٹر کا انکشاف

    شہباز شریف اور مریم پہنچے کوٹ لکھپت، شہباز شریف کی گاڑی کی ٹکر سے کارکن ہوا زخمی

    کرونا کے باوجود ، باؤ جی ، لندن میں علاج کرواتے ہوئے

    توشہ خانہ ریفرنس، زرداری، گیلانی پر فرم جرم عائد،نواز شریف اشتہاری قرار

    ایون فیلڈ ریفرنس،مریم نواز کی بریت کی درخواست پر نیب نے جمع کروایا جواب

    والد نے جائیداد غیر قانونی بھی بنا کر بیٹے کو دی تو کیا بیٹی قصور وار ہوگی؟ عدالت

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی،اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ مریم نواز بول پڑیں

  • مریم کو اسکے چچا بھی چھوڑ چکے تھے، حسان خاور

    مریم کو اسکے چچا بھی چھوڑ چکے تھے، حسان خاور

    مریم کو اسکے چچا بھی چھوڑ چکے تھے، حسان خاور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ عوامی وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار نے قوم کے دل جیت لیے ہیں,

    حسان خاور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار قوم کے دلوں میں گھر کر چکے ہیں, وزیراعظم عمران خان نے قوم کو ملکی معیشت اور کرپٹ ٹولہ کی حقیقت آشکار کردی ہے,کپتان نے قوم کو اچھے دنوں کی نوید دی ہے ,کپتان کے ملکی ترقی و خوشحالی اور اچھے دنوں کے بیانیے پر ن لیگ کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں,کپتان کے اگلی حکومت بنانے کے حوالے سے بیان سے کرپٹ اپوزیشن کے کیمپ میں بھونچال آچکا ہے,30 سالوں میں قوم کو گدھ کی طرح نوچنے والے بھی پھر اقتدار کے خواب دیکھ رہے ہیں,قوم ان کے کالے کرتوتوں سے پوری طرح آگاہ ہو چکی ہے,پی ٹی آئی نے محض ساڑھے تین سالوں میں ملکی بنیادوں کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں ,یہ مافیا تیس برسوں میں بھی عوام کیلئے کچھ نہ کرسکا,

    حسان خاور کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت ترقی کے ریکارڈ توڑ رہی ہے پی ٹی آئی حکومت ریکارڈ قانون سازی سے عوامی خدمت کے ریکارڈز قائم کر رہی ہے,ہر شعبہ میں جدت کا حسین امتزاج شروع ہوا ہے,ترقی و خوشحالی ملک و قوم کا مقدر بن رہی ہے ,ملکی ترقی دیمک کی طرح چاٹنے والے مافیا کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی,مریم صفدر ,ن لیگی نااہل ترجمانوں کے رونے دھونے کا وقت شروع ہوگیا ہے,ن لیگی زہریلا پراپیگنڈا اور جھوٹ اپنی موت آپ مرچکا ہے,قوم انکے جھوٹے پراپیگنڈا میں نہیں آرہی,ن لیگی جغادریوں کو اب کہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی عثمان بزدار جم کر ڈٹ کر کھڑے ہیں,پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے اپوزیشن میں دم خم نہیں پوری قوم کپتان کیساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کرکھڑی ہے,مریم صفدر بھول چکی ہیں کہ نواز شریف اور وہ جب لاہور پہنچے تھے تو صرف چار لوگ موجود تھے مریم کو اسکے چچا بھی چھوڑ چکے تھے اور چند بندوں کیساتھ مال روڈ پر ٹہل رہے تھے ,سچ ہے کہ کرپٹ مافیا ایک دن انجام کو پہنچتا ہے ,ن لیگی مافیا بھی آہستہ آہستہ اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے,مریم بی بی قوم صرف اسکے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جو قوم کیساتھ کھڑا ہوتا جس کا جینا مرنا قوم کیساتھ ہوتا اقتدار میں صرف ملک و قوم کو لوٹنے اور اقتدار کے بعد بیرون ملک فرار ہوجانے والے کا قوم صرف پیچھا کرتی ہے,کپتان اس ملک کی آن اور شان ہے ,کرپٹ تارکین وطن سے موازنہ اس عظیم لیڈر کی توہین ہے,

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    لاہور دھماکہ، جاں بحق اور زخمی افراد کے ناموں کی فہرست جاری

    انار کلی دھماکہ، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے دہشت گرد کی شناخت ہو گئی

    انار کلی دھماکہ،جگہ کی ریکی کرنے والے مبینہ 2 دہشت گردوں کی نشاندہی

  • ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    ضمنی ترامیمی بل پراپوزیشن کوشکست پرشکست:لندن میں زلزلہ:چھوٹےمیاں‌ کی ڈیل پربڑے میاں بیمار

    اسلام آباد:سابق اسپیکرکی بولتی بند:ضمنی ترامیمی بل پراپوزیش کو شکست پرشکست:لندن میں زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کی گیڈربھبکیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب قومی اسمبلی میں کپتان کے وفادار کھلاڑیوں نے لندن والوں کی خواہشات پرپانی پھیردیا،

    ادھر اطلاعات کے مطابق آج جب قومی اسمبلی میں کپتان کے کھلاڑیوں نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپوزیشن کی تمام سازشوں کو مسل دیا تو سُنا ہے کہ لندن میں سیاسی شکست نے زلزلہ برپا کردیا ہے ، جس پر میاں نوازشریف کی طبعیت خراب ہوگئی ہے

    دوسری طرف مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ میاں شہبازشریف کی طرف سے حکومت کودرپردہ حمایت حاصل تھی جو کہ ہراہم موقع پر پہلے بھی ملتی رہی ہے ،

    اسلام آباد سے اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن راستہ روکنے میں ناکام ہو گئی، ضمنی مالیاتی بل پر اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

    قومی اسمبلی ایوان اس وقت 342 ارکان پر مشتمل ہے، حکومت کے پاس 182 ارکان جبکہ اپوزیشن کے پاس 160ارکان ہیں، اپوزیشن کے 12 اور حکومت کے 12 ارکان ایوان سے غیر حاضر ہیں۔ حکومت کو اس وقت ایوان پر 18 ارکان کی برتری حاصل ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔ ان کی آمد پر ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا جبکہ اپوزیشن نے وزیراعظم کیخلاف نعرے لگائے۔

    اجلاس کے دوران ضمنی بجٹ پر پیپلز پارٹی نے ترمیم پیش کی جبکہ سپیکر نے ترمیم پر زبانی رائے شماری دی جسے اپوزیشن نے چیلنج کیا، سپیکر کی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، سپیکر کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کی ترمیم پر گنتی کی گئی ہے۔ ترمیم کےحق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔

    اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ شوکت ترین بتائیں منی بجٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی،

    وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ شاہد خان عباسی اور دیگر اراکین نے پوچھا کہ یہ بل کیوں لے کر آ رہے ہیں تو میں انہیں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں جب آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ آپ ان پٹ اور آؤٹ پُٹ کو میں توازن لائیں، اگر آپ نہیں کرے گیں تو جی ایس ٹی پورا نہیں ہو گا، ہم اس کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری 18 سے 20 ٹریلین کی ریٹیل سیلز ہیں، اس میں سے صرف ساڑھے تین ٹریلین کو دستاویزی شکل دی جاتی ہے، جب بھی دستاویزی شکل دینے کی بات کی جاتی ہے تو شدید واویلا مچ جاتی ہے کیونکہ سب نے بندر بانٹ کی ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 343ارب میں سے 280ارب ری فنڈ ہوجانا ہے اور بقیہ صرف 71 ارب رہ جاتا ہے تو یہ ٹیکس کا طوفان نہیں بلکہ اس کو دستاویزی شکل دینا ہے لیکن اس سے سب بھاگتے ہیں کیونکہ ان کی آمدن کو دستاویزی شک دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں آمدن اور کھپت پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن یہاں انکم پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور وہ اس لیے نہیں ہورہا کیونکہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آ رہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انہوں نے کیا طوفان مچایا ہوا ہے کہ غریب کو کیا ہو جائے گا، یہ دودھ اور ڈبل کی بات کررہے ہیں لیکن ہم نے ان پر سے ٹیکس ختم کردیا ہے، ہماری حکومت تو صرف تین سال سے ہے، پچھلے 70سال سے کیا ہوا ہے، جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کب 18 سے 19فیصد پر گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم ٹیکس کو 18 سے 19 فیصد نہیں کریں گے اس وقت تک چھ سے آٹھ شرح نمو نہیں دکھا سکتے، یہ سب جانتے ہیں لیکن شتر مرغ بنے ہوئے ہیں۔

    اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری نہیں ہوئے، اپوزیشن نے مشترکہ طور پر پروڈکشن آرڈر کیلئے درخواست دی تھی، آپ نے وزیرستان کو ایوان میں حق سے محروم رکھا۔

    احسن اقبال اور اسپیکر اسد قیصر میں ایوان میں گنتی کے معاملے پر بحث ہوئی لیکن اسپیکر قومی اسمبلی نے دوبارہ گنتی کرانے سے انکار کردیا۔

    احسن اقبال دیگر اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو ووٹنگ کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا البتہ وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیم منظور کر لی گئیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرخزانہ کہتے ہیں کیوں اتنا شورہورہا ہے، شوکت ترین کو خود سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگائی کیوں ہو رہی ہے، وہ خود کو کراچی کا نمائندہ کہتے ہیں، وزیرصاحب کراچی میں گھومیں اورعوام سے اس منی بجٹ بارے پوچھیں، عوام سے پوچھیں وہ کیوں شور مچا رہے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ ہم نے یہ ترمیم پاکستان میں کاروبار اور صنعتی ریل پیل کو بڑھانے کے لیے تجویز کی ہے، کسٹمز ایکٹ پہلے بینک گارنٹی دی جاتی تھی لیکن اب اس کی جگہ کارپویٹ گارنٹی مانگ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امپورٹر کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

    اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا تنویر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بنیاد ٹھیک کررہے ہیں لیکن یہ کیسی بنیاد ٹھیک کررہے ہیں جو اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔

    سابق سپیکر ایاز صادق نے بھی ووٹنگ نہ کرناے پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے جواب دیا کہ آپ کے دور کا ریکارڈ بھی نکال لیں گے تاہم وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ سپیکر تھے تو آپ نے کئی مرتبہ ووٹنگ کو بلڈوز کیا لہٰذا اسپیکر صاحب آپ رولنگ دیں، ان کا کام وقت ضائع کرنا ہے، جس پر سابق اسپیکر کی بولتی بند ہوگئی ہے

  • کفایت شعاری،کفایت شعاری:خود کھاتانہیں اورہماراخیال نہیں کرتا:گورنرشاہ فرمان روپڑے

    کفایت شعاری،کفایت شعاری:خود کھاتانہیں اورہماراخیال نہیں کرتا:گورنرشاہ فرمان روپڑے

    پشاور:کفایت شعاری،کفایت شعاری:عمران خان خود کھاتانہیں اورہماراخیال نہیں کرتا:گورنرشاہ فرمان روپڑے ،اطلاعات کے مطابق کے پی کے گورنرشاہ فرمان اپنے ہی کپتان پرغصہ نکالنےلگے، کہتے ہیں‌ کہ وزیراعظم عمران خان کو ہمارا بھی احساس نہیں ، یہ کفایت شعاری کا حکم ہمیں دُکھ دے رہا ہے ،

    شاہ فرمان کہتے ہیں کہ نہ خود کھاتا ہے اور نہ پھر ہمارا خیال کرتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے تو عام سرکاری ملازم ہی زیادہ خوش نصیب ہیں جن کو بہت کچھ ملتا ہے

    خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں باربر نہیں رکھا، اپنی شیو بھی خود کرتا ہوں۔

    اپنے بیان میں گورنر شاہ فرمان کا کہنا تھاکہ گورنر ہاؤس میں مسالچی کچن میں باروچی کی مدد کیلئے ہوتا ہے، حیران ہوں کہ لوگوں کو مسالچی اور مالشی میں فرق نہیں پتا۔

    ان کا کہنا تھاکہ میں نے گورنر ہاؤس میں باربر بھہی نہیں رکھا، اپنی شیو خود کرتا ہوں، گورنر ہاؤس کا خرچ 2 کروڑ سے 70 لاکھ روپے پر لائے، بحیثیت گورنر میری تنخواہ 86 ہزار اور میرے پی اے کی تنخواہ ایک لاکھ 72 ہزار روپے ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ گورنر ہاؤس سے اسلام آباد آتا ہوں، کبھی یہاں سے لاہور یا کراچی بھی نہیں گیا، کئی سال سے سرکاری یا غیرسرکاری دورے پر نہیں گیا، عوامی مفاد کے کام کے سوا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا، میرے اثاثوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ کم ہوئے ہیں۔

    بلدیاتی الیکشن سے متعلق گورنر شاہ فرمان کا کہنا تھاکہ تین امیدواروں میں رضوان بنگش کی نامزدگی کے فیصلے پر قائم ہوں، رضوان بنگش نے یو اے ای میں پارٹی کیلئے بہت کام کیا، وہ جتنے ووٹوں سے ہارے اس سے دگنا سے زائد ووٹ مسترد ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ارباب محمد علی کے الزامات پر قانون نوٹس دے چکا ہوں، ماضی میں ارباب محمد علی کے پارٹی ٹکٹ کیلئے لڑا تب بھی یہ الزام لگایا گیا، امیدوار سے متعلق مجھے سے رائے لی گئی اور جو فیصلہ ہوا میں نے اس کی توثیق کی۔

    گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھاکہ سیاست عمران خان کے ساتھ شروع کی اور ان کے ساتھ ہی ہوگی ورنہ سیاست نہیں کروں گا، گورنرشپ سے ہٹا دیں تب بھی عمران خان کے ساتھ رہوں گا، مجھے اپنے نظریات سے کوئی نہیں ہٹاسکتا چاہے کوئی اس سے خوش ہو نہ ہو۔

    شاہ فرمان کا کہنا تھاکہ تنخواہ کم ہے، کئی دفعہ صدرسے درخواست کی کہ تنخواہ بڑھا دیں، 2 اکتوبر کو 9 کروڑ 60 لاکھ روپے اس فنڈ کے واپس کیے جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا، جو فنڈ میں نے واپس کیا وہ نقد تقسیم کیا جاسکتا تھا، ایک روپیہ نہیں لیا۔ان کا کہنا تھاکہ ایم پی اے کی تنخواہ بھی 3 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ        وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرزاہم توقعات کے ساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے وفد نے ملاقات کی، امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد میں سینیٹرز اینگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارن اور بینجمن ساس شامل تھے، چاروں سینیٹرز سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے رکن ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹرز کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط شراکت داری خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے باہمی طور پر مفید اور اہم ہے۔

     

     

    وزیراعظم نے افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے افغان عوام کی مدد کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

     

     

    عمران خان نے وفد کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیاں علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • دورہ پاکستان سے قبل ویسٹ انڈیز ٹیم کو بڑا جھٹکا

    دورہ پاکستان سے قبل ویسٹ انڈیز ٹیم کو بڑا جھٹکا

    ویسٹ انڈیز: ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے کپتان دورہ پاکستان سے باہر ہوگئے-

    باغی ٹی وی : ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان کیرون پولارڈ انجری کے باعث دورہ پاکستان سے باہر ہو گئے ہیں ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹی 20 ورلڈ کپ میں انجری کا شکار ہوئے تھے اور اب تک صحتیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دورہ پاکستان سے آؤٹ کردیا گیا ہے۔


    ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مطابق کیرون پولارڈ کے متبادل کے طور پر رومین پاؤل کو ٹی 20 اور ڈیون تھامس کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    سری لنکا کا پاکستانی کرکٹرز اورکوچزکی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان تین ٹی 20 اور تین ون ڈے میچز 13 سے 22 دسمبر تک کراچی میں ہوں گے ، پی سی بی کے مطابق ویسٹ انڈیز ٹیم کراچی میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز کھیلنے کے لیے 9 دسمبر کو کراچی پہنچے گی۔

    شیڈول کے مطابق 9 دسمبر کو ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کراچی پہنچے گی 13، 14 اور 16 دسمبر کو ٹی ٹوئنٹی میچز ہوں گے جبکہ ون ڈے میچز 18، 20 اور 22 دسمبر کو ہوں گے۔

    ٹی 20 سیریز ،پاکستان کی شاندار کامیابی

    اس حوالے سے اپنے بیان میں چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کا کہنا ہے کہ ہوم سیریز کی منسوخی کے بعد فینز کو سنسنی خیز میچز دیکھنے کا موقع ملے گا ویسٹ انڈیز پاکستان کی پسندیدہ ٹیم رہی ہے۔

    ونٹر اولمپکس 2022 شیڈول کے مطابق ہوں گے، چین کا اعلان