Baaghi TV

Tag: کھرا سچ

  • لاہور پریس کلب، سالانہ انتخابات، "کھرا سچ” کے اسد جعفری گورننگ باڈی کے رکن منتخب

    لاہور پریس کلب، سالانہ انتخابات، "کھرا سچ” کے اسد جعفری گورننگ باڈی کے رکن منتخب

    لاہور پریس کلب، سالانہ انتخابات، "کھرا سچ” کے اسد جعفری گورننگ باڈی کے رکن منتخب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا، پروگرام کھرا سچ کے اسد جعفری لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے رکن منتخب ہو گئے ہیں، گورننگ باڈی کا رکن منتخب ہونے پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان ، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان، کھرا سچ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر راؤ اویس، عفیفہ راؤ، احسن، رفیع اللہ، نوید شیخ سمیت دیگر نے اسد جعفری کو مبارکباد دی ہے، باغی ٹی وی کی ٹیم نے بھی اسد جعفری کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے،

    لاہور پر یس کلب کے سالانہ انتخابات2023 ءلاہور پریس کلب میں منعقد ہوئے جس میں پائینئر پینل، پروگریسو پینل اور جرنلسٹ پینل کے امیدواروں نے حصہ لیا الیکشن میں1779ووٹرز نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔حتمی نتائج کے مطابق پائینئر پینل کے امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ، پائینئر پینل کی طرف سے اعظم چوہدری صدر منتخب ہوئے جنہوں نے1167 و وٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مد مقابل صدارتی امیدوارناصرہ عتیق نے 571ووٹ حاصل کئے ۔ شاداب ریاض 939 ووٹ حاصل کرکے سینئر نائب صدر منتخب ہوئے جبکہ انکے مدمقابل امیدواران اعجاز مرزا نے512 اور یوسف عباسی نے 256 ووٹ لئے۔ نائب صدرظہیر احمد بابر نے831ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مد مقابل طاہر خان نے 393 اور محمد سدھیر چوہدری نے 487 ووٹ حاصل کئے ، سیکرٹری کی نشست پرعبدالمجید ساجد نے کامیابی حاصل کی اور1082ووٹ حاصل کئے ان کے مد مقابل ذوالفقار علی مہتو نے652 ووٹ حاصل کئے ، جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پر حسن تیمور جکھڑ 668 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ رانا محمد اکرام نے637 اور ظہیر شیخ نے 399 ووٹ لئے۔فنانس سیکرٹری کی نشست پرحافظ فیض احمد نے895 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل قمرالزمان بھٹی نے836 ووٹ حاصل کئے۔

    گورننگ باڈی کی کل9 نشستوں کے نتائج کے مطابق محمد نواز سنگرا نے 713 ، عالیہ خان نے 699 ، حافظ عدنان طارق لودھی نے662 ، احمر کھوکھر نے660 ، محسن بلال نے 589 ، اسد جعفری نے569 ، رضا محمد نے 538 ، محمد کلیم نے 525 اور نفیس احمد قادری نے510 ووٹ حاصل کئے ۔

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    اس موقع پر نو منتخب صدراعظم چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پر امن اور مثالی الیکشن کے انعقاد پر زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اپنے تمام ووٹرز اور سپورٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے الیکشن کو پر امن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا اور کہا کہ پائینئر پینل کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور کی صحافتی برادری آئین و قانون کی بالا دستی اور جمہوری روایات پر یقین رکھتی ہے ۔ انہوں نے لاہور پریس کلب کو عامل صحافیوں کا مثالی ادارہ بنانے کیلئے ممبران کی فوری سکروٹنی کا اعلان کیا جبکہ کلب ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے برو ز پیر اور منگل کی چھٹی اور ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا بھی اعلان کیا۔

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے،عظمی کاردار

    پی ٹی آئی کی منحرف رکن عظمی کاردار نے کہا کے کہ عمران خان پچھلے سال سے کہہ رہے تھے ،کہ کچھ ہونے والا ہے –

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں چینل پر معروف شو ” کھرا سچ ” کے میزبان مبشر لقمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی منحرف رکن عظمی کاردار نے کہا کہ جہاں نا شوکت ترین کو پتہ تھا نہ فنانس سیکرٹری کو پتہ تھا اس کا مطلب ہے کہ جو ذمہ داری ہے یہ ٹاپ مین پر ہے یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا-


    عظمیٰ کارادار نے کہا کہ خان صاحب بار بار کہتے ہیں کہ مجھے یہ پچھلے سال سے پتہ ہے کہ یہ کچھ ہونے والا ہے یہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا 1 ارب ڈالر ریلیز کرا کے آئے آئی ایم ایف سے اس کے بعد یہ ساری سبسڈیز دی گئیں اس کے بعد انہوں نے پیٹرول کی ایک دم سے قیمت اتنی کم کی جبکہ اربوں کا نقصان ہو رہا تھا ملک کو یہ اس لئے کیا گیا تھا کہ جو اگلی حکومت آئے اس کے گلے میں رسی ڈال کر میں جاؤں اگر میں نہیں تو وہ بھی نہیں میں آج ریٹائرڈ تجزیہ کاروں پر حیران ہوں-

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا میرا پکا ارادہ ہے،یہ آدمی نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے،رانا ثناءاللہ

    شو کے میزبان مبشر لقمان نے کہا کہ آپ ان ریٹائرڈ تجزیہ کاروں کو چھوڑیں ان سے حساب کرٰیں گے ان کیمراد کا جو وہ لے کر بیٹھے ہیں تو پھر اپنا الگ الگ حساب نکلے گا ساتھ انہوں نے عظمی کاردار سے سوال پوچھا کہ آپ اب پی ٹی آئی کے 20 منحرف راکینا کسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں؟ –

    جس پر انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کیوں سیاست میں آئے تھے عمران خان کی طرح اللہ تعالیٰ کی دیہوئی ہمارے پاس بھی ہر چیز تھی لیکن ہم صرف دو باتوں کے لئے سیاست میں آئے سب سے بڑی بات عزت کہ انسان عزت کے لئے آٹا اور نمبر 2 کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی موقع دے کہ ہم ملکو قوم کے لئے کچھ کر سکیں انہوں نے کہا کہ ہم اس پارٹی کے لئے الیکشن لڑیں گے جو ہمیں عزت دے گی اور اللہ کا شکر ہے کہ بہت ساری پارٹیز ہمیں عزت دے رہی ہیں-

  • شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ شیریں مزاری بہت زیادہ زہریلی ہوئی ہوئی ہیں۔ اور نہ صرف اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے الزامات بھی لگا رہی ہیں وہ نیوٹرلز سے براہ راست پوچھ رہی ہیں کہ بتاو انہوں نے امریکہ کی سازش کیوں کامیاب کروائی، جو اس وقت تحریک انصاف کا بیانیہ ہے اس کے مطابق ان کی حکومت کو ہٹانا امریکہ سازش ہے اور اب یہ اس سازش میں فوج کو بھی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے چند دن پہلے نیوٹرلز کے بارے میں کیا بات کی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یقینا انہیں یہ ڈیوٹی عمران خان نے دی ہے، لیکن کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے اداروں کو نشانہ بنائے اور ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالے۔دراصل ہم اکثر سنتے ہیں کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا۔لیکن ہمارے لیڈر رنگ بدلنے میں گرگٹ سے بھی زیادہ تیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ دن پہلے جب محترمہ شیریں مزاری وزیر تھی اور سرکار کے پیسے پر عیاشیاں جاری تھی تو وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ان ادارون کے لیے اپنی بیٹی کو سوشل میڈیا پر جھاڑ پلا رہی تھی۔ ویسے تو پاکستانی معاشرے میں یہ بات بڑی معیوب ہے کہ ماں اور بیٹی پوری دنیا کے سامنے ٹویٹر پر ایک دوسرے سے دھینگا مشتی کریں۔ جبکہ وہ ایک ہی گھر میں موجود ہوں اور ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھٹکٹا کر ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے، قوم کو تماشا دیکھائیں، یقینا اس کے پیچھے بھی کوئی کہانی ہو گی لیکن آج میں اس ویڈیو میں بہت سی کہانیاں کھولنے والا ہوں۔

    شیرین مزاری کی بیٹی تحریک انصاف اور بشرہ بیگم کے بارے میں کیا خیال رکھتی تھی ۔ یہ دیکھیں ایمان مزاری کی ٹویٹ
    اگر ملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھر اس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ھو رہا ہے۔ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں کے جادو کرنے والوں پر بات بھی نا ہو۔۔۔ ایسا تو ہر گز نہیں ھو گا۔

    اب جن لوگوں کی گھر میں ان کے بچے نہ سنتے ہوں کیا ان کا قوم کو درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے۔ان کے کنٹرول میں خود ان کے بچے بھی نہیں ہیں۔ جب شیریں مزاری ہیومن رائٹ کی وزیر تھی تو انکی بیٹھی ان کی سب سے بڑی Criticتھی اور صبح شام اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی تھی اس وقت شیریں مزاری کے کیا تاثرات تھے۔شیریں مزاری نے اٹھائیس نومبر کو ٹویٹ کی کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنی بیٹی کے تاثرات سے متفق نہیں، اور میں اس زبان کی سختی سے مذمت کرتی ہوں جو اس نے ملٹری کے خلاف استعمال کی۔یہی نہیں۔ بلکہ شیریں مزاری نے اپنی بیٹی کو ایک وٹس ایپ بھی کیا اور ان کی بیٹی نے اپنی ماں کا پرائیویٹ پیغام ٹویٹر پر شیئر کر دیا ۔

    ایمان تم مسلسل آرمی کے خلاف پاگل ہوئی ہوئی ہو، اگر بھارتی فوج کا سربراہ کوئی بیان دے گا تو اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر ہی دے گا، تم دوبارہ میرے لیے شرمندگی بن رہی ہو، تمھیں پاک فوج کے خلاف اپنی نفرت کو روکنا ہو گا۔ تم اپنی دلیل کو کھو چکی ہو اور اس سے تمھاری ساکھ کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ میرے لیےبلکل احمقانہ اور شرمندگی کا باعث ہے۔

    اب آپ دیکھیں کہ جب ان کی نوکری کو خطرہ ہوتا ہے تو ان کا کیا رویہ ہوتا ہے اور جب دوباری نورکری چاہیے ہوتی ہے تو یہ کیسے اداروں کو بلیک میل کرتے ہیں۔شیرین مزاری نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی جس میں اس نے ذکر کیا کہ سرکار کا ملازم۔ یعنی احمد قریشی کس کی مرضی سے اسرائیل گیا ہے اور کیا اسے سرکار کی رضا مندی حاصل ہے، اور ساتھ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹیگ کر کے جواب مانگ لیا۔ اس وقت شیریں مزاری جو کچھ کر رہی ہیں وہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ایک سویلین سیاسی معاملات ہر ہر روز فوج کے ترجمان سے کوئی نہ کوئی الزام لگا کر جواب مانگ لے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک تویٹ انہوں نے احمد قریشی سے سوشل میڈیا پر لڑائی میں کی۔ احمد قریشی نے ٹویٹ کی کہ
    عمران خان اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار تھے، اور اس کے لیے اپنے ذاتی اور فیملی تعلقات بھی استعمال کیے، لیکن جب ان کی حکومت بری کارکردگی کی وجہ سے ناکام ہو گئی تو انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس ٹویٹ کہ جواب میں شیریں مزاری پھر فوج کو گھسیٹ لائی۔ اور ٹویٹ کی کہ بھڑاس نکالنے سے پہلے حقائق پرکھیں۔ہم بہت سے حساس معاملات پرخاموش ہیں مگرہمیں دیوارسے مت لگاؤ۔ایک برس تک ہم اس شخص کو بیہودہ الزامات کے ذریعےخان اوراسکی آزادخارجہ پالیسی کو ہدف بناتے دیکھتے رہے اور جواب نہیں دیا کیونکہ اس میں کچھ خاص جان نہ تھی @OfficialDGISPR ہمیں مجبور مت کرو

    اب دیکھیں کہ کہنے کو یہ امریکی غلامی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ان کا جینا مرنا پردیس میں ہے، جب توہین مذہب کا معاملہ آیا تو شیرین مزاری نے فوری اقوام متحدہ کو خط لکھ ڈالا کہ ہمیں بچاو۔ اب کسے نہیں پتا کہ اقوام متحدہ امریکہ کے اشاروں پر ناچتا ہے اور امریکہ کی مرضی کے بغیر ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا اور انہوں نے تو ویسے ہی قوم کو بیرونی آقاوں سے نجات دلانی ہے پھر یہ خود کیوں اپنے بیرونی آقاوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    جب امریکہ میں ہم جنس پرستی پر قانون پاس ہوا تو حمزہ علی عباسی کے مقابلے میں ایمان مزاری ہم جس پرستی کی حمایت میں سامنے آگئی۔
    محترمہ لکھتی ہیں کہ
    کسی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اس سے شادی کرے جسے وہ محبت کرتا ہو، اس سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور تو اور اس میں مذہب کو بھی استعمال کر ڈالا، اور کہا کہ کوئی مذہب اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ آپ نفرت پھیلائیں، ویسے تو ان کی والدہ کی جو جماعت ہے وہ امر بالمعروف کی بات کرتی ہے لیکن ان کی والدہ نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ مذہب میں کس چیز کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔ ہم جس پرستی اور اس کی حمایت کسی بھی صورت میں اسلام میں جائز نہیں ہے۔ یہاں تو قوم لوط پر عذاب نازل ہو گیا اور یہ مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے غلط استعمال کر رہی ہیں ظاہری سی بات ہے جب امریکہ کی این جی اوز اور عورت مارچ کے رکھوالے بھاری فنڈنگ کرتے ہیں تو بڑے بڑوں کا ایمان ڈول جاتا ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آُ کا تو اپنا نام ہی ایمان ہے۔ اور آپ کی والدہ تو سیاست ہی اسرائیل کے نام پر کر رہی ہیں۔ کم از کم اپنی والدہ کی عزت کا ہی خیال رکھ لیا ہوتا،

    بحر حال یہاں آپ جس جگہ ہاتھ ڈالیں گے گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہو گی۔تحریک انصاف کو انصاف کی بات کرتی ہے ایسے ایسے مفاد پرست اس پر قابض ہو چکے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔مثال کے طور پر تحقیقات کے بعد شیریں مزاری اور ان کے والد کا نام ایف آئی آر میں شامل ہوگیا ہے کیا خبر ہے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔۔
    تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر اور کرپشن کے خاتمے کی دعویدار تحریک انصاف کی مرکزی رہنما سابق رکن اسمبلی شیریں مزاری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقہ بنگلہ اچھا دوئم میں نہ صرف خود بلکہ انکے خاندان کے دیگر افراد دو سو سے زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری35000ہزار کنال اراضی پر قابض ہیں۔اور ان کا مزارعین کے ساتھ غیر انسانی رویہ ہے، شیریں مزاری اور انکا خاندان دو سو زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری اراضی پر قابض ہے ڈیرہ غازیخان میں شیریں مزاری کے والد سردار عاشق مزاری نے لینڈ ریفارمز ایکٹ سے بچنے کےلیے جعلسازی کی اورجعلسازی کا یہ سلسلہ عاشق مزاری کے بعد شیریں مزاری نے بھی جاری رکھا عاشق مزاری نے بارہ ہزار کنال زمین مختلف کمپنیوں کے نام پر منتقل کی اس منتقلی کا واحد مقصد اس زمین کو بحق سرکار ضبط ہونے سے بچانا تھا چئیرمین فیڈرل لینڈ کمیشن نے اس اقدام کو جعلسازی اور جھوٹ سے تعبیر کر دیا ہے ان جعلی انتقالات میں سے ایک انتقال کے تحت شیریں مزاری کے نام بھی 800 کنال زمین منتقل کی گئی ڈپٹی لینڈ کمشنر ڈیرہ غازیخان نے شیریں مزاری کے بھائی سردار ولی محمد مزاری کے نام 770 ایکڑ زمین ایسی ہی بے ضابطگی ثابت ہونے کے بعد ضبط کرنے کا حکم دیالیکن ۔بااثر مزاری سرداروں نے اس فیصلے پر عملدرامد نہ ہونے دیا 9 مارچ دوہزار بائیس کو ڈپٹی کمشنر عدنان محمود نے جعلسازی کے خلاف اور صوبائی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے خاندانی جعلسازی کے تحفظ کےلیے ڈاکٹر شیریں مزاری اور انکی بھتیجی کرن مزاری نے ڈپٹی کمشنر عدنان محمود پر دباو ڈالا مزاری خاندان لینڈ ریفارمز کے تحت الاٹ کی گئی ہزاروں کنال زمین پر بدستور غیر قانونی قابض ہے اور مزارعین ریکارڈ میں مالک لیکن عملا دربدر ہیں لینڈ ریفارمز ایکٹ کے تحت سردار عاشق مزاری کی 35000 کنال زمین کو دو سو سے زائد مزارعین کے نام منتقل کیا گیا اورمزاری خاندان نے ان الاٹی مزارعین کو انکا حق دینے کی بجائے الٹا ان پر دباوڈالا بے گناہ مزارعین کے خلاف وقتاً فوقتاً جھوٹی ایف آئی آرز کرائی گئیں اوراور مزاری خاندان کے پالتو غنڈوں سے تشدد کا نشانہ بھی بنوایا جاتا رہا ڈیرہ غازیخان ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کے بہنوئی اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شوکت مزاری نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مزارعین کی تین بستیوں کو اور انکی کاشتہ فصلات کو مکمل طور سے تباہ کردیا دراصل شیریں مزاری اور انکے خاندان نے زمینوں کو بحق سرکار ضبطگی سے بچانے کےلیے لینڈ ریفارمز ایکٹ کا تمام ریکارڈ غائب کرادیا اورجعلسازی سے دوبارہ ریکارڈ تیار کرا کے اپنی جعلسازی کو چھپانے کی کوشش کی۔

  • تحریک انصاف کے دعوے،کتنی حقیقت کتنا افسانہ،شبرزیدی اور اسد عمر آج ہونگے کھرا سچ میں آمنے سامنے

    تحریک انصاف کے دعوے،کتنی حقیقت کتنا افسانہ،شبرزیدی اور اسد عمر آج ہونگے کھرا سچ میں آمنے سامنے

    تحریک انصاف کے دعوے،کتنی حقیقت کتنا افسانہ،شبرزیدی اور اسد عمر آج ہونگے کھرا سچ میں آمنے سامنے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی حکومت جانے کے بعد اپوزیشن اتحاد کی حکومت آئی تو شہباز شریف وزیراعظم بن گئے اور اتحادی جماعتیں بھی وفاقی کابینہ میں شامل ہو گئیں

    عوام کو کیسے ریلیف دینا ہے، اس حوالہ سے حکومت ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکی، ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اشیاء خورو نوش مہنگی ہو رہی ہیں، شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد کہا تھا کہ اپنے کپڑے بیچ دوں گا لیکن غریب کے لئے آٹا سستا کروں گا لیکن آٹا مہنگا ہو گیا حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں ملا

    ملک کی معاشی صورتحال کیسی ہے؟ اخبارات میں حکومت کی جانب سے اشتہارات دیئے جا رہے ہیں، ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو قرار دیا جا رہا ہے، جس طرح تحریک انصاف پچھلی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیتی تھی، اب ن لیگ بھی وہی کام کر رہی ہے، معاشی ایمرجنسی لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں اور مشورے دیئے جا رہے ہیں

    ایسی صورتحال میں ملکی معیشت کی کیا صورتحال ہے، تحریک انصاف نے جو دعوے کئے تھے کیا وہ صحیح تھے،اس پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں آج بدھ کی شب دس بجے پی این این ٹی وی پر تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر اور شبر زیدی آمنے سامنے ہوں گے،

    شبر زیدی جو تحریک انصاف کی حکومت میں چیئرمین ایف بی آر بھی رہ چکے ہیں، وہ ایف بی آر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ایک تقریب میں کہہ چکے ہیں کہ ملک کو دیوالیہ کردیا گیا ہے، شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ہم کہتے رہے کہ بہت اچھا ہے ہم تبدیلی لے آئے یہ غلط ہے پاکستان دیوالیہ ھو چکا ھے لوگوں کو دھوکہ نہ دیں میں یہ کر دوں گا یہ لے آوں گا دھوکہ دینے والی بات ہے ہم لاکھ کہتے رہیں کہ سب کچھ بہت اچھا ہے، سب ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے

    آج رات مبشر لقمان کے سوالوں کا جواب اسد عمر اور شبر زیدی دیں گے، اور ملکی معیشت پر بات کریں گے، تحریک انصاف نے ملک کی معیشت بہتر کی یا معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا، تو انتظار کیجیے آج رات دس بجے کا

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    نواز شریف واپس کب آ رہے ہیں؟ مبشر لقمان نے اندر کی خبر دے دی

    :عمران خان ہی تمام چور ڈاکووں کو تحفظ دینے والے ہیں

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

  • محبت ہوتو ایسی ہو:معروف صحافی کے چاہنے والے کی محبت کا عجب انداز

    محبت ہوتو ایسی ہو:معروف صحافی کے چاہنے والے کی محبت کا عجب انداز

    محبت ہوتو ایسی ہو:معروف صحافی کے چاہنے والے کی محبت کا عجب انداز، فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل

    باغی ٹی وی : پاکستان میں جہاں ہرشخص کی اپنی ہی پسند ہے کوئی کسی سیاسی شخصیت کا چاہنے والا ہے تو کوئی کسی مذہبی شخصیت کوپسند کرتا ہے ، کچھ ایسے بھی ہیں جو کہ صحافت کے میدان کے شہبسواروں سے بھی محبت کرتے ہیں –

    یہ محبت سچ اور حقیقت کی وجہ سے ہوتی ہے ، یہ سچ اصل میں معروف پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشرلقمان کے متعلق ہے جن کی محبت ایک رکشہ ڈرائیو کے دل میں گھرکرگئی-

    ویسے تو یہ محبت دل میں موجزن تھی مگراس غریب رکشہ ڈرائیور نے اپنے رکشے کی پچھلی طرف ایک تحریر لکھ کرسب کےسامنے پیش کردی ، اس میں رکشہ ڈرائیور لکھتا ہےکہ مبشرلقمان کو سلام-

    یہ رکشہ ڈرائیور سلام پیش کرتے ہوئے اپنی محبت کا اظہارکررہا ہے ، پھرا س کے ساتھ ساتھ یہ پردیسی مبشرلقمان کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہیے کہ اپنے جزبات کو اس طرح پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایسا دل کہاں سے لاؤں جو سب کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے-

  • جمشید اقبال چیمہ لائیو شو کے دوران غصے میں آگئے، شو چھوڑ کر چلے گئے

    جمشید اقبال چیمہ لائیو شو کے دوران غصے میں آگئے، شو چھوڑ کر چلے گئے

    جمشید اقبال چیمہ لائیو شو کے دوران غصے میں آگئے، شو چھوڑ کر چلے گئے
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب آپ لوگ کب معافی مانگیں گے قوم سے ،کاوے موسوی نے معافی مانگ لی ہے، موسوی کو ٹیکس کا پیسہ ادا کیا گیا جو قوم کا تھا اس نے معافی مانگ لی

    پی این این پر پروگرام کھرا سچ کے اینکر مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ دیکھیں مبشر صاحب مجھے نہیں سمجھ ائی کہ آپ نے یہ سوال کیسے کیا،دنیا میں ایک ہی طریقہ ہے کسی کی کرپشن کو ناپنے کا ،وہ ایسڈ ہیں، ایسڈ کا ہی پوچھا جاتا ہے، دنیا کے 193 ملکوں میں کرپشن کی نہ فوٹو ہوتی ہے نہ نوٹوںً کے نشان ہوتے ہیں، اسکی آمدنی اور وسائل کو دیکھا جاتا ہے، اگر نواز شریف کو تین عدالتوں نے سزا دی ہے تو آپ مجھ سے کیا بات کر رہے ہیں کہ میں معافی مانگوں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے طعنہ مارا،اب سن لیں کاوے موسوی کو میاں صاحب نے اپائنٹ نہیں کیا تھا، براڈ شیٹ کو میاں صاحب نے اپائنٹ نہیں کیا تھا ،براڈ شیٹ کوپیسے آپکی حکومت نے دیئے، آپ بھول رہے ہیں، اگر آپ نے بات کرنی ہے تو ٹھہر جائیں مجھے بات مکمل کرنے دیں، یہ اسمبلی نہیں ہے ، جمشید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے بات کرنے دیں ،بلایا ہے تو بات کرنے دیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ سوال سن لیں پھر اسکے بعد جواب دیں، جمشید اقبال چیمہ مسلسل بولتے رہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ یہ پارلیمنٹ نہیں کہ مسلسل بولتے رہیں، آپکے شہباز گل صاحب لوگوں کو ٹی وی پر گالیاں دیتے ہیں پھر ان گالیوں کا مطلب سمجھاتے ہیں، وہ بھی گالیوں سے یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے

    سینیٹر کامران مرتضیٰ کا پروگرام کھرا سچ میں کہنا تھا کہ ووٹ پڑیں گے تو وہ کاؤنٹ ہوں گے، تحریک انصاف کی باڈی اسوقت الیکٹڈ ہے یا نہیں؟ اسکا پتہ ہے،اب تو سارے سیلکٹڈ ہیں اس میں،اسد عمر کوئی سیکرٹری جنرل الیکٹ ہوئے تھے؟ یہ الیکٹڈ پارٹی نہیں،

    علی گوہر بلوچ کا کہنا تھا کہ معاملات اب منطقی انجام کی طرف پہنچ چکے ہیں، انکے پاس اب کوئی جواز نہیں ،اتنے لاکھ بندوں کا اعلان کیا، شیخ رشید نے بڑھکیں ماریں، فواد چودھری نے دھمکی دی، اب سب ختم ہونے والا ہے، میں بتاؤن کہ شیخ رشید کا پتہ ہو گا اس نے کافی بار کوشش کی ن لیگ میں آ جاؤں، اس پر نواز شریف نے سٹینڈ لیا، فواد چودھری کے بارے میں جو چہ میگوئیاں ہیں وہ مارکیٹ میں آ چکیں، سیلفیاں انکی سب کے ساتھ ہیں لیکن ن میں فواد چودھری کی جگہ نہیں، میاں صاحب اصولی سیاست کرتے ہیں، عدم اعتماد میں محدود چوائس ہوتی ہے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ ہم ووٹ دیں گے

  • عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-

    باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-

    پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –

    پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-

    میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-

    10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟

    اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-

    مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-

    مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –

    ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-

    سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –

    انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .

    مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-

    مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-

    اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-

    مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟

    چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-

    مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-

    ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟

    جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث‌ ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –

    انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –

    عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-

    انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-

    لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-

    انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –

    انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-

  • لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان

    لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان

    لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان ,اطلاعات کے مطابق پاکستان کی بڑی اور ممتازیونیورسٹی جسے جی سی یونیورسٹی کےنام سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے بڑے بڑے نام جانتے ہیں ، اس ہفتے یعنی فروری کی 2 تاریخ کو ایک بہت بڑے ایونٹ کا مرکز بننے جارہی ہے

     

     

    اس حوالے سے جی سی یونیورسٹی کی طرف سے ایک بہت بڑی  تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں بک کلب کی طرف سے "میٹ دی آتھر”کے سیشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے مہمان خصوصی سینئرصحافی مبشرلقمان ہیں

     

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق جی سی یونیورسٹی کے بخاری آڈیٹوریم میں 2 فروری کی شام ساڑھے تین بجے سے لیکر شام ساڑھے پانچ بجے تک یہ سیش چلے گا جس میں پاکستان کی بڑی بڑی نامورشخصیات بھی شرکت فرما رہی ہیں

     

     

    ذرائع کے مطابق اس سیشن میں جہاں مبشرلقمان کھرا سچ کےحوالے سے گفتگو فرمائیں گے وہاں وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر زیدی بھی گفتگو فرمائی گے

     

    2 فروری کی شام اس اہم پروگرام   ڈاکٹراحتشام علی جو کہ بک کلب جی سی یونیورسٹی لاہور کے ایڈوائزر ہیں وہ بھی حصہ لے رہے ہیں ، ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرکنیتا شاہ بھی اس اہم تقریب سے خطاب فرمائیں گی جو کہ جی سی یونیورسٹی نمز کی ایڈوائرز ہیں

     

     

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے انعقاد میں بک کلب اور نذیراحمد میوزک سوسائٹی کی کنٹری بیوشن ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ اس موقع پرتقریب کو ذائقہ دار بنانے کےلیے میوزک کی پھلجھڑیاں بھی پیش کی جائیں

     

     

  • "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    لاہور:”کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی ،فیک نیوز اور فیک تجزیوں اور تبصروں کا شاید ختم ہونے والا ہے کہ سچ نے اپنی حقیقت ثابت کردی ہے، جو کچھ بھی ہے سچ ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے اور صحافت کے میدان میں تواس کی بڑی ہی اہمیت ہے،چند دن پہلے سُنا تھا کہ فیک کے مقابلے میں‌ سچ آرہا ہے اورآج سُنا ہےکہ سچ چھا گیاہے

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت گفتگو ہورہی ہے جس میں‌ شائقین کہتے ہیں‌ کہ معروف صحافی سنیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان جو کہ ہمیشہ سچ کی دعوت کے ساتھ میدان صحافت میں اترتے ہیں اور اس سچ کی بنیاد پران کا خصوصی پروگرام جسے "کھرا سچ” کے نام سے دنیا جانتی ہے ،آتے ہی سب کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے

    "کھراسچ "پروگرام جو کہ پی این این پر اپنا رنگ جماتے ہوئے تیسرے ہفتے میں‌ داخل ہوگیا ہے اور اس وقت کم ترین وقت میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اس کی ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے

    اس وقت پی این این پراس کی ابتدا تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی ہے اور اس کی ریٹنگ 0.3 کی حد کو پارکرنے والی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگرقومی ٹی وی چینلز جو کہ پہلے ہی بہت زیادہ انویسٹمنٹ کے ساتھ اپنی ریٹنگ بڑھانے میں لگے ہیں‌ ایسے لگ رہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں تک پی این این کی ریٹنگ ان معروف میڈیا برانڈز کو پار کرجائے گی

    دیگر ٹی وی چینلز کی ریٹنگ کچھ اس طرح ہے دنیا نیوز اس وقت 0.38 ،ایکسپریس ٹی وی 0.41 ، اے آر وائی 0.73 اور جیو نیوز1.17 ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ معروف صحافی نے پی این این پر کچھ زیادہ نہیں‌ بلکہ دو ہفتوں میں چند پروگرام ہی کیئے جن میں سے ایک پروگرام مری پر سپیشل کیا، ایک منی بجٹ پر، ایسے شاہد خاقان عباسی کا انٹرویو کیا اور اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا انٹرویو کیا تھا

    پی این این پر "کھرا سچ ” پروگرام میں حنا پرویز بٹ اور مسرت جمشید چیمہ تھیں جبکہ ایک میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی تھے اور ایسے ہی ایک میں بلاول زرداری کا ترجمان ۔مسرت جمشید تھیں