Baaghi TV

Tag: کیف

  • یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    یوکرین اور روس کا انخلا کیلئے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق

    کیف: یوکرین اور روس نے شہریوں کے انخلا کے لیے 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق یوکرین اورروس نے یوکرین کے 6 شہروں میں 12 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے تاکہ شہریوں کےانخلا کی اجازت دی جاسکے سومی، شمال مشرقی یوکرین میں میئر نے کہا ہے کہ لوگ ذاتی کاروں اور بسوں کے ذریعے شہر چھوڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اینر ہوڈر کے میئر نے کہا کہ زیادہ تر خواتین اور بچوں کے قافلے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    روس کی بچوں کے ہسپتال پر بمباری،17 افراد زخمی،یوکرین کا دعویٰ

    دوسری جانب یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو ترکی میں مذاکرات کے لیے ملاقات پر اتفاق کرلیا ہے یہ حملہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ہوا ہے اس ملاقات کی تجویز ترکی کے وزیر خارجہ نے دی تھی۔

    یو این ایچ سی آر کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کہا ہے ترجیح یہ ہے کہ سرحدوں پر موجود پناہ گزینوں کی مدد کی جائے، بجائے اس بات پر کے کہ وہ ممالک کے درمیان کیسے تقسیم ہوں گے-

    پولینڈ کی یوکرین کو مگ 29 لڑاکا طیارے کی پیشکش،اس طرح تو روس کسی کو بھی نہیں چھوڑے گا:امریکہ

    گرینڈی نے مزید کہا یوکرین پر روس کے حملے شروع ہونے کے بعد وہاں سے نکلنے والے پناہ گزینوں کی تعداد غالباً 2.1 سے لے کر 2.2 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

    واضح رہے کہ روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی شہر ماریوپول میں بمباری کی ہے جس کی زد میں میٹرنٹی اسپتال بھی آیا۔ بمباری کے نتیجے میں معصوم بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جب کہ 3 ہزار سے زائد بچے بغیر خوراک اور ادویات متاثرہ علاقوں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    امریکہ نے روس کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کیا ہے،ترجمان پیوٹن

  • بھارتی ڈاکٹر کا اپنے پالتو جانوروں کے بغیر یوکرین چھوڑنے سے انکار

    بھارتی ڈاکٹر کا اپنے پالتو جانوروں کے بغیر یوکرین چھوڑنے سے انکار

    کیف: یوکرین میں مقیم گری کمار پاٹل ڈونباس نامی بھارتی ڈاکٹر نے اپنے پالتو جانوروں کے بغیر ملک چھوڑنے سے صاف انکار کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والا شہری گری کمار 15 سال قبل طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یوکرین گیا جہاں اس نے پڑھائی مکمل کی اور یوکرینی ریجن ڈون باس میں رہائش اختیار کرتے ہوئے بحیثیت ڈاکٹر اپنی خدمات فراہم کرنے لگا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے یوکرین پر چڑھائی کے بعد عوام کو جنگی صورت حال کا سامنا ہے اور ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے ملک سے انخلا کررہا ہے لیکن بھارتی ڈاکٹر نے اپنے پالتو جانوروں بلیک پینتھر اور جیگوار (جنگلی بلیاں) کے بغیر بھارت واپس جانے سے صاف انکار کردیا۔

    گری کمار کا کہنا ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے پینتھر اور جیگوار کو کسی صورت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں کیوں کہ یہ میرے بچے ہیں، میں آخری سانس تک ان کے ساتھ رہ کر حفاظت کروں گا۔

    بھارتی ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے والدین مجھے بھارت واپس بلا رہے ہیں لیکں میں نے انہیں صاف منع کردیا ہے، جیگوار ایک چڑیا گھر میں بیمار پڑا تھا جہاں سے میں نے اسے بچوں کی طرح گود لیا ڈاکٹر پاٹل نے جانور کا نام یاشا رکھا ہےاور پھر ساتھی کے طور پر بلیک پینتھر جس کا نام سبرینا ہے کا انتخاب کیا، جنگ کی وجہ سے آج کل اپنے جانوروں کے ساتھ بیسمنٹ میں رہ رہا ہوں۔

    بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد، مسٹر پاٹل صرف اپنی بلیوں کے لیے کھانا خریدنے کے لیے اپنے تہہ خانے سے باہر نکل رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نر جیگوار کی عمر 20 ماہ ہے اور مادہ پینتھر چھ ماہ کا بچہ ہے۔

    40 سالہ نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ میری بڑی بلیاں میرے ساتھ تہہ خانے میں راتیں گزار رہی ہیں۔ ہمارے اردگرد بہت زیادہ بمباری ہو رہی ہے۔ بلیاں خوفزدہ ہیں، وہ کم کھا رہی ہیں۔ میں انہیں چھوڑ نہیں سکتا۔

    ڈاکٹر پاٹل کے پاس تین کتے بھی ہیں – اطالوی ماسٹف – اور وہ اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے ان کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے 84,000 سے زیادہ سبسکرائبر ہیں۔

    ڈاکٹر پاٹل کا تعلق آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع کے تنکو سے ہے۔ اسے امید ہے کہ بھارتی حکومت اسے اپنے تمام پالتو جانوروں کو گھر لے جانے کی اجازت دے گی۔ پچھلے ہفتے، ہندوستانی طالب علم رشبھ کوشک – جو دہرادون کا رہائشی ہے – مرکزی حکومت کے آپریشن گنگا کے ایک حصے کے طور پر اپنے بچائے گئے پالتو جانور "مالیبو” کے ساتھ انڈیا واپس گیا-

  • یوکرین نے شہریوں کے محفوظ انخلا  کی روسی پیشکش مسترد کر دی

    یوکرین نے شہریوں کے محفوظ انخلا کی روسی پیشکش مسترد کر دی

    کیف: یوکرین سے شہریوں کے محفوظ انخلا تک روس کی محدود جنگ بندی کی پیشکش یوکرین نے مسترد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق یوکرین نے شہریوں کے انخلا کی پیشکش کو غیراخلاقی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انخلا کے راستے شہریوں کو روس یا اس کے اتحادی ملک بیلاروس کی طرف لے جائیں گے۔

    یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

    روس نے یوکرین کے بڑے شہروں کیف، ماریوپول، خارکیف اور سومی کیلئے محدود جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ شہریوں کو انخلا کی اجازت دی جاسکے۔ تاہم یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویریشچک نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

    ویریشچک نے ٹیلی ویژن پر بریفنگ میں بتایا کہ یہ قابل قبول آپشن نہیں ہے شہری بیلاروس نہیں جارہے اور نہ وہاں سے فلائٹ کے ذریعے روس جائیں گے۔

    نائب وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ بات چیت کے بعد یوکرین کو پیر کو صبح روس کی تجویز موصول ہوئی۔

    نیوزی لینڈ کا روس کے خلاف پابندیوں کا اعلان،کیف کے قریب ائیرپورٹ بھی مکمل تباہ

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو روسی حملوں کی نئی لہر کے بارے میں خبردار کیا اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر عالمی رہنماؤں پر تنقید کی۔

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    اس نے نو فلائی زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ایک ایسا اقدام جسے کیف کے مغربی اتحادیوں نے اس خدشے کے پیش نظر مسترد کر دیا ہے کہ یہ تنازعہ بھیج سکتا ہے جو پہلے ہی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ کا سب سے شدید ہے ماسکو کے درمیان ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

  • روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    پیرس:روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔

    فرانس کے صدر کے ترجمان کے مطابق فرانسیسی صدر اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ یوکرین میں ’ابھی برا ہونا باقی ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان فون پر 90 منٹ طویل بات چیت ہوئی ہے۔اس بات چیت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ ’پیوٹن کے ارادے پورے ملک پر قبضے کرنے کے نظر آ رہے ہیں۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر کے ایک سینیئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کے خیال میں صدر پیوٹن نے جو کچھ بتایا اس سے لگتا ہے کہ برا وقت ابھی آنا ہے۔‘

    معاون نے مزید بتایا کہ ’صدر پیوٹن نے جو کچھ ہمیں بتایا اس میں یقین دلانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ولادیمیر پیوٹن ’پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ میں یوکرین کو آخر تک ’ڈی نازیفائی‘ کرنے کے لیے اپنا آپریشن انجام دیں گے۔‘

    معاون نے کہا: ’آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک چونکا دینے والے اور ناقابل قبول ہیں اور صدر نے انہیں بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ایمانوئل میکرون نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں سے گریز کریں اور انسانی رسائی کی اجازت دیں۔معاون نے کہا کہ اس پر ’صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ وہ کوئی وعدہ کیے بغیر اس کے حق میں ہیں۔‘

  • روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روک سکو تو روک لو:ہم فاتح بن آئے ہیں:روسی افواج دارالحکومت کیف کی دہلیز پر:روسی میڈیا کا دعویٰ

    روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو فتح کرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور روسی افواج نے دارالحکومت کیف کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع نے روسی فوج اور فوجی گاڑیوں کے قافلے کا ایک وڈیو جاری کیا ہے۔

    روس کے سرکاری میڈیا ادارے آرٹی آئی کے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کئے گئے اس وڈیو میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف روسی فوجی گاڑیوں کے لمبے قافلے، ٹینکر، ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑیاں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

    وڈیو میں یوکرین کی تباہی کا منظر بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تباہ شدہ عمارتیں، تباہ شدہ فوجی ٹینکس صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں کئی روسی فوجی بھی نظر آ رہے ہیں۔

     

    روسی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت اور دوسرے سب سے بڑے شہر خار کیف میں روسی فوج بڑی تعداد میں پہنچ چکی ہے۔

    خارکیف میں گزشتہ دو دنوں سے مسلسل گولہ باری جاری ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔یوکرین کے شہری پڑوسی ممالک پولینڈ اور ہنگری میں پناہ لے رہے ہیں، ان پناہ گزینوں میں کچھ کمزور شہری بھی شامل ہیں۔

    پولینڈ اور ہنگری کے شہریوں نے یوکرین کے پناہ گزینوں کا کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیں اور جنگ کے وقت بھی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    ہنگری کے جاہونی ریلوے اسٹیشن پر بدھ کو ایک ٹرین پہنچی، جس میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور تقریباً 200 لوگ سوار تھے۔

  • یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    کیف :یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے دارالحکومت کیف کا دفاع مضبوط کرنے کیلئے فوجی کمانڈ تبدیل کردی۔اطلاعات یہ بھی ہیں‌ کہ ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے اور جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کی جانب تیزی سے پیشقدمی کی جارہی ہے اور ایسے میں یوکرین نے بھی دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج چھٹا روز ہے اور ایسے میں دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری ہے۔

    گزشتہ روز روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سینٹرل اسکوائر پر میزائل حملہ کیا جس میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

     

    اُدھر روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوختیرکا میں بھی حملے کیے اور ایک فوجی اڈہ تباہ کیا، اس حملے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ آج روسی فوج نے ایک اور یوکرینی شہر خیرسون کو بھی گھیرے میں لیکر حملہ کیا ہے اور اب تک وہاں جنگ جاری ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق خیرسون میں روسی فوجیوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کا بڑا کانوائے یوکرینی دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانوائے کی کیف کی جانب پیشقدمی کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر کی ذریعے بھی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب روس نے حملے کے بعد سے لوہانسک اور دونیستک کے علاوہ دارالحکومت کیف کے اردگرد کے علاقے اور خارکیف کے بھی کچھ مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔روس فوج کریمیا کی جانب سے بھی پیشقدمی کرتے ہوئے متعدد مقامات کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔

  • روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی

    کیف: روسی افواج نے دارالحکومت کیف کوجانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا ہے کہ روس یافواج نے ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک گیس پائ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیئف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب یوکرینی شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ جعمرات سے حملے کے بعد تین بچوں سمیت 198 شہری ہلاک ہوئےہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ پینٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن

    کیف:روس کےیوکرین پر حملے تیز:سلامتی کونسل میں ووٹنگ:حالات عالمی جنگ کی طرف گامزن ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیئے، دارالحکومت کیف میں بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس بلانے کےلیے سلامتی کونسل میں امریکی قراردار پر ووٹنگ آج ہوگی۔

    یوکرین کےخلاف روس پوری قوت میدان میں لے آیا، یوکرینی اہداف پر حملوں میں تیزی کے بعد دارالحکومت کیف زور دار دھماکوں سے گونج اٹھا۔ روس نے دارلحکومت کیف کی ایک ائیر فیلڈ پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، روسی وزیرخارجہ کےمطابق کیف کے مغربی حصے کو بھی یوکرینی فوج سے کاٹ دیا گیا ہے۔

    یوکرین اور روس کی جانب سے ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، یوکرین حکام نے روسی پیش قدمی روکنے اور ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت اورزخمی ہونےکا دعویٰ کیا ہے، یوکرین میں تباہی کی فوٹجز بھی سامنے آئی ہیں، ایک خاتون جلتے گھر کے سامنے بیٹی کے ساتھ کھڑی طنز کررہی ہے کہ پوٹن کا شکریہ جس نے ہمارا گھر تباہ کردیا۔

    ادھر امریکا اورالبانیہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے، میٹنگ میں جنرل اسمبلی کاخصوصی اجلاس بلانے پر ووٹنگ ہو گی، اجلاس بلانے کے خلاف مستقل 5 ارکان میں سے کسی کو ویٹو کا اختیار نہیں ہو گا۔

    ادھر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات روس کے خلاف جانے لگے ہیں اور یوکرین کے باسیوں نے روسی پیش قدمی روک دی ہے ، یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیئف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

  • یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    یوکرین پرروسی حملہ :دو لاکھ یوکرینی ملک چھوڑ گئے

    نیویارک :اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق یوکرین میں نقل مکانی بھی بڑھ رہی ہے لیکن ملک میں فوجی کاروائی کی وجہ سے صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اور امداد فراہم کرنا مشکل ہورہا ہے، دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے ہفتے کے روز کہا کہ روس کے حملے کے نتیجے میں اب تک تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد یوکرین چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔ جن میں سے نصف پولینڈ اور بہت سے ہنگری، مالڈووا، رومانیہ اور اس سے آگے جا چکے ہیں۔فلیپو گرانڈی کا ٹویٹفلیپو گرانڈی کا ٹویٹاقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کو توقع ہے کہ اگر صورت حال مزید بگڑتی ہے تو 40 لاکھ تک یوکرینی باشندے ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہمسایہ ممالک پولینڈ، مالڈووا، ہنگری، رومانیہ اور سلوواکیہ جا رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ بیلاروس کی طرف بھی جا رہے ہیں جہاں سے کچھ روسی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں۔اس کے پاس ملک کے لحاظ سے تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں تھیں، لیکن اب تک سب سے بڑی تعداد پولینڈ پہنچ رہی ہے،

    جہاں حالیہ برسوں میں تقریباً 20 لاکھ یوکرینی پہلے ہی کام کرنے کے لیے آباد ہو چکے ہیں، جو 2014 میں یوکرین میں روس کی پہلی دراندازی کی وجہ سے وہاں سے پناہ لیے تھے اور مواقع کی تلاش میں تھے۔پولینڈ کی حکومت نے ہفتے کی صبح کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 100,000 سے زیادہ یوکرینی پولش-یوکرینی سرحد عبور کر چکے ہیں۔پولش براڈکاسٹر TVN24 کی رپورٹ کے مطابق، میڈیکا بارڈر کراسنگ پر پولینڈ میں داخل ہونے کے لیے گاڑیوں کی ایک قطار یوکرین میں 15 کلومیٹر (9 میل) تک پھیلی ہوئی تھی

  • روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی

    ماسکو: روس کے کیف شہر پرچاروں طرف سے حملوں نے صورتحال بدل کررکھ دی ،اطلاعات کے مطابق روس نے اب یوکرین کی راجدھانی کیف پر چاروں جانب سے حملہ کرنے کا اعلان کیاہے یعنی کہ حتمی جنگ کا اعلان کردیا ہے اور ہفتہ کی رات گئے تک شدید لڑائی کی اطلاعات آرہی ہیں‌۔

    کہا جارہا ہے کہ در اصل روسی وزارت دفاع کے مطابق ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے آر آئی اے نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوجی یونٹوں کو جمعے کے وقفے کے بعد تمام اطراف سے حملہ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع نے بھی کریملن کے جانب سے کیے گیے تبصرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو وار کیف کے درمیان مذاکرات کی امید میں جمعے کو لڑائی میں وقفہ کیا گیا لیکن یوکرین کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد حملے کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے’وحشیانہ اور بلا اشتعال حملے‘کے مقابلے کے لیے یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد دی جائے گی۔ بلنکن کے بیان کے مطابق‘امدادی پیکیج میں تباہ کن مزید دفاعی امداد شامل ہو گی جس کی مدد سے یوکرین بکتربند گاڑیوں، فضائی فورس اور دوسرے خطرات کا مقابلہ کرے گا جن کا اسے اس وقت سامنا ہے۔‘ دوسری جانب کریملن نے ہفتے کو یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات سے انکار کر کے فوجی تنازعے کو طول دے رہا ہے۔

    ادھر مغرب نواز یوکرین کے خلاف روسی فوج کی پیشدمی جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کانفرنس کال پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ’متوقع مذاکرات کے سلسلے میں روسی صدر نے کل سہ پہر روسی فیڈریشن کی مرکزی فورسز کی پیشدمی معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چونکہ یوکرین نے بات چیت سے انکار کر دیا اس لیے آج سہ پہر سے پیشقدمی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ کیئف کے میئر نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو ہفتے کی شام سے شروع ہو کر پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔ میئر آفس کے اعلامیے میں پہلے کیے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کرفیو میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔

    یاد رہے کہ روسی فوجی دستے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو گئے جہاں سڑکوں اور گلیوں میں دو بدو لڑائی شروع ہو چکی ہے۔ روسی فوجیوں کی درالحکومت میں پیش قدمی کے بعد شہر کے حکام نے کیف کے رہائشیوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے زور دیا ہے۔