Baaghi TV

Tag: کیف

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے  باتھ روم میں پناہ لے لی

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دو سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

    یوکرینی وزارت صحت کا کہنا ہے کی روسی فوج کے حملے میں اب تک 198 یوکرینی ہلاک ہو چکے ہیں،روسی فوج کے حملوں میں ایک ہزار200 کے قریب افراد زخمی ہوئے ،روسی فوج کے حملوں میں 33 بچے بھی زخمی ہوئے ہیں ،

    کیف میں جنگ کی سی کیفیت ہے، شہری خوف میں مبتلا ہیں، کیف چھوڑ رہے ہیں، شہریوں کو محفوظ مقامات کی تلاش ہے، ایسے میں کیف کی رہائشی ایک بچے نے جنگ سے بچاؤ کے لئے باتھ روم میں پناہ لے لیتی ہے، بچہ گھر کے باتھ روم میں گھس جاتا ہے اور اپنی ضروری چیزیں بھی باتھ روم میں جا کر رکھ لیتا ہے،بچے نے خود کو باتھ روم میں محفوظ سمجھا،

    خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق باتھ روم میں پناہ لینے والی بچے کا نام اولگا ہے اور وہ شہر کے مشرقی علاقے میں رہتی ہے،بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اسکا چھوٹا بیٹا جنگ کے آغاز کے بعد سے باتھ روم میں گھس گیا ہم گھر چھوڑنا چاہتے تھے لیکن بیٹا نہیں چھوڑ رہا، پناہ گاہیں بھی غیر محفوظ ہو سکتی ہیں اسی لئے گھر میں ہیں اور اس دوران میرے بیٹے نے باتھ روم میں پناہ لی ہے، وہ یہیں سوتا ہے، میں اسکے پاس بیٹھتی ہوں، باتیں کرتی ہوں پیار کرتی ہوں تاکہ جنگ کا خوف کم ہو

    واضح رہے کہ روس کے حملے کے بعد یوکرین میں تیسرے روز بھی لڑائی جاری ہے اور اب لڑائی دارالحکومت کیف کی گلیوں تک پہنچ گئی ہے

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

  • روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    کیف:روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ ،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کا پلڑہ بھاری ہے ، دوسری طرف یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت پر اکسانے والے اب جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ، روس اور یوکرین کے درمیان اس قدر کشیدگی کیوں پیدا ہوئی ، جنگ کے اسباب کیا ہیں اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا، اس حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں‌،

    روس اور یوکرین کے اس جغرافیائی تنازع کی جڑیں گذشتہ سو سالہ تاریخ میں ہیں۔

    آج مغرب کے ساتھ مل کر روس کو مشکل میں ڈالتا یوکرین 1920 سے 1991 تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔

    نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کا عروج ڈگمگانے لگا تو یوکرین ان پہلے ممالک میں سے تھا، جس نے 16 جولائی 1990 کو یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تقریباً ایک سال بعد 24 اگست 1991 کو یوکرین نے خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔

    یوکرین نے آزادی تو حاصل کرلی لیکن وہاں موجود 17 فیصد روسی النسل آبادی سمیت روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر پریشر گروپس اور مغرب کی حمایت کرنے والے گروہوں میں تنازعات کا آغاز ہو گیا۔

    تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

    ادھر عالمی سطح پر اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔

    روس کی طرف یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔

    کرائمیا کا کنٹرول سنبھالنے اور مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے تناظر میں یوکرین اور امریکہ اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو درست اقدام قرار دیتے ہیں۔ مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔