پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کیمطابق ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، گائنی اور پیڈیاٹرک ایمرجنسی سمیت، نرسری، ڈائیلاسز یونٹ مکمل طور پر فعال رہے گا جبکہ بلڈ بینک سمیت فارمیسی، انپیشنٹ ڈیپارٹمنٹ فعال رہے گا اور تمام یونٹس میں ایمرجنسی داخلے بھی ہونگے۔داخل مریضوں کا علاج بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا جس کے لئے ہر یونٹ کے ہیڈ نے ڈیوٹی روٹا بنا دیا ہے اسی طرح نرسنگ، پیرامیڈیکل، ہاؤس کیپنگ ڈیپارٹمنٹس بھی اپنی خدمات عید کی چھٹیوں میں فراہم کریں گے جبکہ انتظامی افسران بھی چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے۔ای سی جی اور ریڈیالوجی سروسز سمیت لیبارٹریز بھی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرے گی۔ عید قربان کے موقع پر قربانی کرتے وقت ممکنہ طور پر زخمی ہونے والے شہریوں کے لئے ایمرجنسی میں طبی عملہ موجود رہے گا۔
Tag: کے پی کے
-

پشاور انسداد کرپشن عدالت میں سابق صوبائی وزیر کی ضمانت درخواست پر سماعت
پشاور انسداد رشوت ستانی عدالت کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق صوبائی وزیر شکیل احمد کی ضمانت درخواستوں پر سماعت ہوئی،
سماعت اینٹی کرپشن عدالت کے جج بابر علی خان نے کی ، عدالت نے سابق صوبائی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ۔ اینٹی کرپشن کے حکام کے مطابق سابق صوبائی وزیر شکیل احمد نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ملاکنڈ میں غیر قانونی بھرتی کی تھی ۔ -

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق وزراء کے خلاف مقدمات پر سماعت
پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سنیٹر اعظم سواتی, سابق وفاقی وزیر مراد سعید اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان کے خلاف مقدمات کی تفصیل فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت میں عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرلیا
سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل دانیال چمکنی, درخواست گزار وکیل قاضی انور ایڈوکیٹ, شاہ فیصل اتمانخیل اور ندیم شاہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، کیسں قابل سماعت ہے کہ نہیں ہم دیکھیں گے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ حکومت یہ تو بتا دیں کہ ان کے گھروں پر ریڈ کیوں ہورہے ہیں۔ قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ پبلک انٹرسٹ کاکیس ہے اعظم سواتی سینیٹر ہے اور مراد سعید بھی سابق قومی اسمبلی ممبر ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہیں بتا دیں کہ ان کے خلاف کتنے کیسز ہے۔ عدالت نے کہا کہ 5 جولائی کو اس کیس کو دوبارہ سنے گے۔ اے اے جی نے کہا کہ عید کی چھٹیاں ہے 5 جولائی سے آگے تاریخ دے دیں۔جس پر عدالت نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کوئی چھٹی نہیں ہوتی جواب جمع کریں۔ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔ -

مردان کاٹلنگ میں ٹریفک حادثہ،2 افراد جانبحق
ریسکیو 1122 کے مطابق ضلع مردان کاٹلنگ کالو شاہ روڈ کے قریب موٹر کار بے قابو ہو کر نہر میں جا گری۔حادثے کے نتیجے میں 2 افراد جانبحق ہوئے،ریسکیو حکام کے مطابق اطلاع موصول ہونے پر ریسکیو 1122 میڈیکل ٹیم اور ایمبولینس جائے حادثہ پہنچ گئ۔جہاں انہوں نے حادثے میں متاثر دو افراد کو نہر سے نکال کر ٹی ایچ کیو ہسپتال درگئی منتقل کر دیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کے موت کی تصدیق کر دی۔
-

لوئر دیر میں دھشتگردی کا منصوبہ ناکام
لوئر دیر میں عیدالالضحی کے موقع پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے،ڈی پی او لوئر دیر کے علاقے زولم میں ملاکنڈ بارڈر پولیس ،سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے مشترکہ کاوائی کے دوران بڑے مقدار میں بارودی مواد قبضے میں لیا گیا ہے جن میں 5 خود کش جیکٹس ،19 ریمورٹ کنٹرول اور دستی بم،اسلحہ اور بڑے تعداد میں کارتوس برآمد کئے گئے ہے،ڈی پی او لوئر دیر نے کہا ہے کہ دھشت گردوں کو گرفتار کرنے کے لئے کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے،اور بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا،
-

چارسدہ میں نانبائیوں کی من مانی عروج پر
محکمہ خوراک خیبر پختونخواہ کے ڈاریکٹر محمد یاسر حسن صاحب اور ڈپٹی کمشنر چارسدہ عدنان فرید صاحب کی خصوصی ہدایات پرڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر طارق خٹک کی نگرانی میں ،اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سیف علی شاہ ، فوڈ انسپیکٹرز مسلم جان اور افتخار نے چارسدہ مین چوک،پشاور روڈ ، مردان روڈ اور تنگی روڈ پر واقع محتلف نان بائیوں کے دکانوں کا دورہ کیا، چکنگ کے دوران بعض نان بائیوں کا خود ساختہ نرخ مقرر کر کے 120گرام روٹی 20 کے بجائے 25 روپے میں فروخت کر رہے تھے۔ جس پر پولیس نے ایکشن لے کے آٹھ نانبائیوں کو جیل بھیج دیا،دوسری جانب چارسدہ کے مختلف نانبائیوں کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انکو اپنی مرضی کے ریٹ پر روٹی بیچنے سے روکا گیا تا تمام نانبائی اپنی دکانیں بند کر کے ہڑتال کرنے پر مجبور ہو جائے گے،
-

ضلع مردان میں ہیٹ ویو کے سبب اموات کے خبر کی تردید
ضلع مردان ہسپتال ڈاریکٹر ڈاکٹر طارق محمود نے 23 جون کو میڈیا پر گردش کرنے والے ہیٹ اسٹروک کے سبب 18 اموات کےخبر کی تردید کر دی ہے،انہوں نے کہا گزشتہ ہفتہ کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر 24 اموات ہوئی ہے لیکن ہیٹ اسٹروک کے بناء پر کوئی بھی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔ داکٹر طارق محمود نے کہا کہ 24 اموات ہاٹ اٹیک اور دیگر وجوہات کی بناء پر ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 23 جون کو ایک مقامی ٹی وی پر مردان میں ہیٹ اسٹروک کے سبب 18 افراد کی اموات کی خبر چلائی تھی جس پر ہسپتال ڈاریکٹر ڈاکٹر طارق محمود کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تردید کر دی ہے،
-

خسرہ وبا کے روک تھام کے لئے مفت ادویات فراہم کی جائیں،ڈاکٹر محمد عارف خان
خیبر پختونخوا پشاور کے پروفیسر سرجن محمد عارف خان نے پشاور سمیت صوبہ بھر کے 135علاقوں میں خسرہ کی وبا کے پھیلنے اور درجنوں بچوں کے جاںبحق ہونے اور خسرے کے مرض میں مبتلا ہو کر بے حال ہونے کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنر کے پی کے حاجی غلام علی،وزیر اعلیٰ اعظم خان اور صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور سمیت صوبہ کے تمام اضلاع و تحصیل اور بی ایچ اوز ہسپتالوں میں خسرے کی ادویات مفت فراہم کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں اور اس مرض کی روک تھام کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیئے جائیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ماہانہ منعقدہ اجلاس میں کیا ،ڈاکٹر عارف خان نے کہا کہ خسرہ کی بیماری کی روک تھام کے لئے بلدیاتی اداروں کو صفائی کی حالت بہتر بنانی ہو گی گندے پانی کی نکاسی کو بہتر کرنے کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے ،
-

حالیہ ٹارگٹ کلنگ واقعات پر دلی دکھ اورافسوس ہے، ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچایاجائیگا،گورنر کے پی کے
گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ سکھ برادری کی پاکستان کے ساتھ محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اِن کومکمل تحفظ کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔ حالیہ ٹارگٹ کلنگ واقعات پر دلی دکھ اورافسوس ہوا ہے ان واقعات میں ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچایاجائیگا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے گورنرہاؤس پشاور میں متحدہ امن کمیٹی کے سربراہ مولاناحسین مدنی، حاجی فرہاد احمدصراف اور نائب صدر گورپال سنگھ کی قیادت میں سکھ برادری کے 37 رکنی نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر نگران صوبائی وزیراطلاعات بیرسٹرفیروزجمال شاہ کاکاخیل بھی موجود تھے۔ وفد میں وزیرسنگھ،بابامکھن سنگھ، مہندرسنگھ، گورمیت سنگھ، سنتوک سنگھ، میئرسنگھ، جسونت سنگھ، گلاب سنگھ، پریتم سنگھ، مینارسنگھ، منجیت سنگھ اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں سکھ برادری کی جانب سے سکھ کمیونٹی پرحالیہ دنوں میں پے درپے قاتلانہ حملوں میں ملوث افراد کو جلدازجلد گرفتار کرنے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کامطالبہ کیاگیا۔ وفد میں شامل سکھ برادری نے گورنرسے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ 2008ء سے ٹارگٹ کلنگ سے سکھ برادری کی 35 جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ دو روز قبل ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ سے پوری سکھ برادری سوگوارہے اور پشاور کے تمام بازاروں میں سکھ تاجر برادری کی دکانیں بند ہیں۔ وفد نے اس موقع پر نگران صوبائی حکومت سے پشاور سیف سٹی منصوبہ کو بحال کرنے کامطالبہ کیا اور کہاکہ سکھ برادری کے تاجروں، دکانداروں کو پولیس سیکیورٹی فراہم کی جائے۔جس پر نگران صوبائی وزیراطلاعات نے صوبائی حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وفد سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر حاجی غلام علی نے کہاکہ سکھ برادری ایک پرامن قوم ہے اور ہمیشہ ملک وقوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیاہے۔ آپ کے غم میں برابرکا شریک ہوں۔سکھ برادری سمیت تمام اقلیتوں کیساتھ ہوں۔انہوں نے کہاکہ سیف سٹی پراجیکٹ پر کام شروع کیا گیا ہے جس سے 90 فیصد جرائم کاخاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ گورنرنے کہاکہ سازش کے تحت سکھ برادری کوٹارگٹ کیاجارہاہے جن کامقصد خوف وہراس پھیلانا ہے۔9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کیطرح ان شرپسند عناصرکو بھی بہت جلد گرفتارکرلیاجائیگا۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اور ہمیں نفرتوں کی جگہ محبت، بھائی چارے اور امن کی فضاء کو بحال کرناہے۔ گورنرنے کہاکہ بین الاقوامی سازشوں کی وجہ سے ملک اورصوبے میں ایسے واقعات رونماہورہے ہیں۔ ہمارے سیکورٹی فورسز، پولیس اورعوام بھی سینکڑوں کی تعدادمیں شہیدہوئے۔ یہ کسی کمیونٹی کے خلاف سازش نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازش ہے اوراس سازش کو ہم سب ملکر ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملکوں پر ایسا وقت آتاہے اوران مشکل حالات کا ڈٹ کرمقابلہ کیاجائیگا۔وہ وقت دور نہیں کہ دہشت گردی کامکمل خاتمہ ہوگا اور ایک بار پھر ہماراملک، صوبہ اوریہ پھولوں کا شہر پشاور امن کا گہوارہ ہوگا۔ وفدمیں شامل سکھ برادری نے گورنرکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جس تحمل وبردباری سے آپ نے ہمارے کمیونٹی کے ایک ایک فرد کی بات سنی ہم اس پرآپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہمارے دکھوں کامداوا ہوا بلکہ ہمیں یہ یقین بھی ہوگیاکہ انشاء اللہ گورنراورصوبای حکومت نہ صرف ہمارے ساتھ ہونے والے ظلم اورزیادتی کرنے والوں کومنطقی انجام تک پہنچائیں گے بلکہ سکھ کمیونٹی کو تحفظ اورسیکورٹی بھی فراہم کریں گے،
-

پی ڈی ایم اے نے 8 اضلاع کو 15 کروڑ روپے جاری کر دئے
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایت پرپی ڈی ایم اے نے مون سون سمیت تمام ناگہانی آفات سےنمٹنےکےلیے15 کروڑ روپے جاری کردیے۔ سیکرٹری ریلیف عبدالباسط کے مطابق 8 اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو ریلیف ہیڈ میں15 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری ریلیف عبدالباسط نے بتایا کہ یہ رقم ریلیف ہیڈ میں مون سون اور کسی بھی ناگہانی صورت حال سےنمٹنے کےلیےجاری کی گئی ہیں۔ مزید کہا کہ
ضلعی انتطامیہ بنوں کو چار کروڑ، بونیر کے لیے تین کروڑ، چترال لوئر اور لکی مروت کو دو دوکروڑ جاری کئے ہے ترجمان محکمہ ریلیف کے مطابق ۔ضلعی انتطامیہ کوہاٹ کو ایک کروڑ پچاس لاکھ،ہنگو اور دیر اپر کو ایک ایک کروڑ، کوہستان لوئر کو پچاس لاکھ روپے جاری کردیے گئے۔ ترجمان محکمہ ریلیف نے مزید بتایا کہ دیگر اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی رقوم جاری کر دئے گئےہیں۔
