Baaghi TV

Tag: گلگت

  • گلگت: نامعلوم حملہ آوروں کے متاز عالم دین اور ہائی کورٹ جج کی گاڑیوں پر حملے، 5 زخمی

    گلگت: نامعلوم حملہ آوروں کے متاز عالم دین اور ہائی کورٹ جج کی گاڑیوں پر حملے، 5 زخمی

    گلگت میں نامعلوم مسلح افراد نے دو علیحدہ واقعات میں فائرنگ کر کے ممتاز عالم دین اور ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کی گاڑیاں نشانہ بنائیں، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر پانچ افراد زخمی ہوئے۔

    وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے بتایا کہ پہلا واقعہ پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے پیش آیا جس میں مولانا قاضی نِثار احمد، ان کے ڈرائیور اور ایک گارڈ سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کی حالت تسلی بخش بتائی گئی ہے اور انہیں سٹی ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔دوسرا حملہ دوپہر کے وقت سٹی ہسپتال کے نزدیک پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ہائی کورٹ کے سینئر جج ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کی — تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آور حملے کے بعد دو گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہوئے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ خطیب مرکزی جامع مسجد اہلسنت مولانا قاضی نِثار احمد کی گاڑی پر فائرنگ اس وقت ہوئی جب وہ سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ چاروں زخمی معمولی چوٹیں لے کر زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔واقعے کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تمام بازار و دکانیں بند ہونے کی وجہ سے سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ حکام نے عوام کو پُر سکون رہنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کو برباد کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق سخت اقدامات کا سامنا ہوگا۔

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور گورنر سید مہدی شاہ نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اعلان کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کی جائے گی تاکہ سازشی عناصر کو عبرت دیا جا سکے۔

    بِٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    8 مسلم ممالک کا امن منصوبے پر حماس کے اعلان کا خیرمقدم

  • گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد:گلگت، اسکردو، استور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکل آیا تاہم زلزلے سے کسی بڑے نقصان کی فی الحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.7 ریکارڈ کی گئی، جس کی گہرائی زیر زمین 25 کلو میٹر تھی،زلزلے کا مرکز اسکردو سے جنوب مغرب کی جانب 34 کلو میٹر دور تھا۔

    گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    موساد نے دوحہ میں حماس قیادت پر زمینی کارروائی سے انکار کیا، امریکی اخبار

    موساد نے دوحہ میں حماس قیادت پر زمینی کارروائی سے انکار کیا، امریکی اخبار

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ، نظام زندگی متاثر

    بلتستان ڈویژن میں برفباری کے بعد سردی میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے مقامی افراد کی زندگی مزید مشکل ہوگئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ اس شدید سردی نے نہ صرف عام زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ راستوں کی بندش اور دیگر دشواریوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

    دوسری جانب، گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پہاڑی تودے گرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گلگت اسکردو روڈ پر باغیچہ کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے سڑک بند ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق، اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، تاہم سڑک کی بندش نے سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ روڈ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔استور میں برفباری کا تسلسل بدستور جاری ہے جس کے باعث پورے علاقے میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ برفباری کی شدت کی وجہ سے کئی علاقے برف سے ڈھک گئے ہیں اور عوام کو روزمرہ کے کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔ اسی طرح وادی نیلم میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے یہاں بھی نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج بھی گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں ہلکی بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، مری اور گلیات میں بھی صبح کے اوقات میں ہلکی بارش اور برفباری کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ سفر کرنے والے افراد موسم کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔سردیوں کی شدت میں اضافے اور برفباری کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔ سڑکوں کی صفائی اور برف ہٹانے کے کام میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کا سفر جاری رکھا جا سکے۔ حکام نے عوام کو بارش اور برفباری کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔اس کے علاوہ، گلیات، مری اور دیگر برفباری سے متاثرہ علاقوں میں، شہریوں کو بجلی کی فراہمی کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے لیے محکمہ برقیات نے مزید عملے کو علاقے میں تعینات کر دیا ہے۔

    ہم خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں،سعودی ولی عہد

    ہوٹل میں غیر اخلاقی سرگرمیاں،خواتین سمیت 9 ملزمان گرفتار

    نواز ، زرداری،گیلانی کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس سپیشل جج سنٹرل کو بھیج دیا گیا

  • گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا یوم آزادی،عام تعطیل،چنارباغ میں تقریب

    گلگت بلتستان کا 77 واں جشن آزادی آج قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، یوم آزادی کے موقع پر پر آج گلگت بلتستان میں عام تعطیل ہے

    گلگت بلتستان میں جشن آزادی کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، مرکزی تقریب یادگار شہدائے چنارباغ میں ہوئی جس میں گورنر گلگت بلتستان، وزیر اعلیٰ بلتستان اور فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے پرچم کشائی کی، پولیس کے چاک وچوبند دستے نے سلامی دی،آرمی ہیلی پیڈ میں بھی جشن آزادی کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے۔

    وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو گلگت بلتستان کا یوم آزادی کی مبارکباد دیتا ہوں.ہمارے آباؤ اجداد نے رنگ نسل سے بالا تر ہو کر ایک قوم کا ثبوت دیا. گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے.یکم نومبر1947 کو گلگت اور دیگر علاقے آزاد ہوئے.گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور جفا کش ہیں.آج ہم اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں.آج ہم گلگت بلتستان کو عظیم سے عظیم بنانے کا عزم کریں.آج غازیان آزادی نے شریک ہو کر تقریب کو رونق بخشی،

    یکم نومبر 1947ء وہ دن جب گلگت بلتستان کو ڈوگرا راج سے آزادی ملی، گلگت بلتستان کے عوام کی جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا، گلگت اسکاؤٹس اور مقامی جانبازوں نے ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مہاراجہ کے کنٹرول کا خاتمہ کر دیا،ڈوگرا راج کے خاتمے کے بعد گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا، 1948ء میں ایک سال کی جدوجہد کے بعد بلتستان کو ہندوستان کے تسلط سے بھی آزاد کرا لیا گیا، گلگت بلتستان سیاحتی، معاشی اور ثقافتی اعتبار سے بھی اہم مقام ہے

    1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی خواہشات کے برعکس گلگت بلتستان کو ہندوستان سے ملانے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیا،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے ڈوگرہ کمانڈر گھنسارا سنگھ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ گلگت سکاؤٹ اور غیور عوام نے گلگت، ہنزہ اور نگر میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا،گلگت کی عوام نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا اور بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف عَلَمِ بغاوت کی،گلگت سکاؤٹ اور نوجوانوں نے 72 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کروا کے پاکستان سے ملایا۔ یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان نے اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کیا،

    یکم نومبر کو گلگت بلتستان کا ڈوگرا راج سے آزادی کے موقعے پر ایک خوبصورت ملی نغمہ ریلیز کیا گیا ہے،ملی نغمہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مقامی گلوکاروں ذیشان حمزہ ، اور ہاشمی کی آواز میں ہے،ملی نغمہ نہ صرف گلگت بلتستان کی دلکش قدرتی مناظر کو پیش کرتا ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کی بہادری ، ثقافت اور روایات کو بھی اجاگر کرتا ہے،یہ ملی نغمہ اپنی دھنوں کے ذریعے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اس خطے کے لوگوں نے مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ڈوگرہ راج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا،یکم نومبر 1947 کو شروع ہونے والی اس عظیم جدوجہد کا مقصد پاکستان کے ساتھ الحاق تھا۔ 14 اگست 1948 کو ڈوگرہ راج کے خاتمے کے بعد ، گلگت کی فضاؤں میں پہلی بار پاکستانی پرچم لہرایا گیا،بے کار کبھی نہ جائے گی ، اجداد کی جو قربانی ہے ، رکھتے ہیں شہادت کا جزبہ ، یہ عشق ہماری دولت ہے،نغمہ کے یہ بول وطن سے محبت کے جزبہ کی عکاسی کرتے ہیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کے خون میں شامل ہے،یہ ملی نغمہ اتحاد ، محبت ، اور امن کا پیغام دیتا ہے ، جو کہ جی بی کے لوگوں کی روح کا حصہ ہے،آئیے اس خوبصورت لمحے کا حصہ بنیں اور اس نغمے کے ذریعے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو سراہیں۔

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • گلگت بلتستان میں ٹیکسز   نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو  ہے، وفاقی سیکرٹری

    گلگت بلتستان میں ٹیکسز نہیں، آج کل بھی گندم 20روپے کلو ہے، وفاقی سیکرٹری

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پروفیسر ساجد میر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس میں وزات امور کشمیر وگلگت بلتستان کے کام کے طریقہ کار کارکردگی کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے امور و کشمیر کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سا بقہ قائمہ کمیٹی برائے امور و کشمیر نے اپنے 28فروری کو منعقدہ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم شرکت اور وزارت کے اعلیٰ حکام کے غیر سنجیدہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا تھا قومی فنکشن کا بہانا بنا کر کمیٹی اجلاس کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی تھی اور قائمہ کمیٹی کے آزاد جموں کشمیر کے دورے کے حوالے سے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔جس پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ میں نے چند دن پہلے ہی چارج لیا ہے اور پہلے کے رویے کی معذرت چاہتا ہوں آئندہ ان امور کا خیال رکھا جائے گا آج بھی چار میٹنگز تھی لیکن پھر بھی ہم حاضر ہوئے ہیں ۔

    سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ یہ وزارت چھوٹی سی ہے اور اس کے نیچے پانچ ادارے کام کررہے ہیں وزارت امور کشمیر کا بجٹ 1388.77ملین روپے ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس سال وزارت امور کشمیر کا پی ایس ڈی پی میں کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ہے ۔وزارت امور کشمیر کا بنیادی کام گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کےلئے پالیسی اور پلاننگ کی تشکیل ہے گلگت بلتستان کےلئے فنڈز وفاق سے گرانٹ کی صورت میں ملتے ہیں ۔ پی ایس ڈی پی کےلئے سو فیصد پیسہ وفاق دیتا ہے اے ڈی پی کا بڑا حصہ بھی وفاقی حکومت کا ہے ۔ اس لئے وزارت کمیٹی کی رہنمائی بھی درکار ہے کہ مانیٹرنگ کا اختیار وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان کے پاس ہونا چاہیے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کا اپنا کوئی آمدن کا ذریعہ نہیں ہے گلگت بلتستان میں ٹیکسز بھی نہیں ہیں آج کل بھی گندم 20روپے کلو ملتی ہے۔ گلگت بلتستان کونسل اور آزاد کشمیر کونسل کا مقصد وفاق اور دونوں علاقوں میں روابط بڑھانا ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے این ایف سی کے تحت 240ارب کا حصہ مانگتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو آزاد کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان کے فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔ سینیٹر ندیم بھٹونے کہا کہ دنیا میں سیاحت کے شعبے سے بہت سی آمدن ہوتی ہے پاکستان کو قدرتی مناظر کی دولت سے مالا مال ہے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔سیاحت سے متعلق ایک الگ اجلاس ہونا چاہیے۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر ساجد میر نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی تسلط اور ظلم جاری رکھنے کےلئے بہت زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اس کو گلگت بلتستان کے لوگ دیکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کی دلجوئی کےلئے بجٹ میں زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے اگر ایسا نہ کیا تو وہ بھارتی زیر قبضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہیں، سیکرٹر ی وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسلز لیجسلیٹو ادارے ہیں وزیراعظم دونوں کونسلز کے سربراہ ہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قوانین کے نفاذ,فورسز کی تعیناتی اور ہنگامی صورتحال کے اعلان کیلئے وزارت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ کشمیر ایشو کو کمیٹی اپنے اختیار سے باہر نہیں سمجھتی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتوں کا وجود ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں منصوبوں کو فائنل کرتی ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت سمیت معدنیات میں بھی وسیع مواقع ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں وزارت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے صرف تعاون کرتے ہیں قائمہ کمیٹی نے گلگت بلتستان کے ڈویلپمنٹ کے صوبوں کا علیحدہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اراکین کمیٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان کےلئے کتنا بجیٹ طلب کیا تھا اور کتنا فراہم کیا گیا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آزاد جمعوں کشمیر کونسل کے تمام ممبران منتخب ہو چکے ہیں اگر ان ممبران میں سے بھی کچھ ممبران کو کمیٹی اجلاس میں دعوت دی جائے تو ان کے علاقوں کے مسائل موثر طور پر اجاگر ہونگے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی کل آبادی 17لاکھ کے قریب ہے جن کےلئے حکومت ان کو 140ارب روپے کا فنڈ دیتی ہے جب کہ آزاد جموں کشمیر کی کل آبادی 42لاکھ ہے ۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ نہیں ہے اس کو آزاد کشمیر سے الگ کرنے کی ضرورت ہے تاریخی طور پر اس علاقے کو برطانوی حکومت نے 1935میں لیز پر 50سال کےلئے دیا تھا مہاتماگاندھی نے مہاراجہ کو 1947میں لیز کینسل کرنے پر قائل کیا ۔ہمارے بہترین مفاد میں ہے کہ اس کو پانچویں صوبے کا درجہ دیا جائے پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کیلئے بھی یہ بہتر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ قومی ایشو ہے اس کو توجہ کی ضرورت ہے ۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ندیم احمد بھٹو ،دوست محمد خان ، فلک نازاور حامد خان کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان سیکرٹری امور کشمیر و دگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

  • کمسن یوٹیوبر شیراز نے وی لاگنگ چھوڑدی

    کمسن یوٹیوبر شیراز نے وی لاگنگ چھوڑدی

    گلگت بلتستان کے کمسن یوٹیوبر شیراز نے وی لاگنگ چھوڑ دی ہے

    گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کمسن یوٹیوبر نے انتہائی کم وقت میں اپنا مقام بنایا،شیراز اپنی بہن مسکان کے ساتھ وی لاگنگ کرتے ہوئے اپنے علاقے کے لوگوں کا طرززندگی، ثقافت دکھاتا تھا،شیراز کے وی لاگز کو نہ صرف پاکستانی عوام نے پسند کیا بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی اسے سراہا، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی کمسن شیراز کو وزیراعظم ہاؤس کے دورے کی دعوت دی تھی اور ملاقات بھی کی تھی،

    کمسن شیراز کی ویور شپ پر یوٹیوب کی جانب سے پہلے اسے سلور اور پھر گولڈن بٹن سے بھی نوازا گیا تھا، اب شیراز نے وی لاگ کرنا چھوڑ دیا ہے، شیراز نے اپنے چینل پر آخری ویڈیو ڈالی اس میں شیراز نے سفید رنگ کا گلگتی لباس اور ٹوپی پہن رکھی ہے، اس ویڈیو میں شیراز کا کہنا تھا کہ اسے وی لاگز بنانا پسند ہے تا ہم یہ اسکا آخری وی لاگ ہے کیونکہ اسکے والد نے اسے پڑھائی کی جانب توجہ دینے کی ہدایت کی ہے

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کمسن وی لاگر 6 سالہ شیراز کی ویڈیوز چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، اس وقت شیراز کے یوٹیوب چینل پر 10 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز موجود ہیں،محمد شیراز پاکستان کا سب سے کم عمر ویلاگر ہے جو اپنی ویڈیوز میں اپنے روز مرہ کے معمولات اور گاؤں کے حالات زندگی دکھاتا ہے،ماہ رمضان میں اسے ایک چینل نے رمضان ٹرانسمیشن میں بھی دعوت دی تھی.

  • پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت

    پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    واقعہ گلگت بلتستان کا ہے، پسند کی شادی کرنے والی فلک نور کے والد نے عدالت میں بیٹی کی بازیابی کی درخواست دائر کی تھی، چیف کورٹ گلگت بلتستان میں لاپتہ فلک نور کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت پسند کی شادی کرنے والی فلک نور کی میڈیکل رپورٹ پڑھ کرسنائی گئی جس میں بتایا گیا کہ لڑکی کی عمر 13 سے 16 سال کےدرمیان ہے، عدالت کے استفسار پر لڑکی فلک نور میں عدالت میں کہا کہ ” میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں”۔ فلک نور کا کہنا تھا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا اور وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھی، فرید سے شادی اپنی پسند سے کی ہے، فلک نور نے عدالت سے اپنے شوہر کے ساتھ واپس جانے کی درخواست کی ہے

    چیف کورٹ گلگت بلتستان کے 2 رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس علی بیگ نے فیصلہ سناتے ہوئے فلک نورکو شوہرکے ساتھ جانےکی اجازت دے دی،عدالت نے حکم دیا کہ فلک نورگلگت بلتستان کی حدود میں جہاں جانا چاہتی ہے وہاں پہنچا دیا جائے،بعد ازاں عدالت نے کیس کا مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فلک نور اغوا کیس کا فیصلہ جاری، عدالت نے فلک نور کو اختیار دیدیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں چلی جائیں۔

    فلک نور 20 جنوری کو گھر سے لاپتہ ہوئی تھی، لڑکی کے والد نے 17 سالہ پڑوسی کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا تا ہم فلک نور نے پسند کی شادی کر لی تھی اور گھر سے بھاگ گئی تھی،

    دنیور پولیس اسٹیشن میں فلک نور کے والد سخی احمد جان نے بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ 13 سالہ فلک نور کو 18 جنوری کو گلگت سلطان آباد سے مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد مانسہرہ لے جاکر زبردستی شادی کردی گئی ،2 اپریل کو چیف کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس علی بیگ اور جسٹس جہانزیب خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے گلگت پولیس کو فلک نور بازیاب کرکے 6 اپریل کو ان کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا.

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

  • گلگت اور گردو نواح میں زلزلےکے شدید  جھٹکے

    گلگت اور گردو نواح میں زلزلےکے شدید جھٹکے

    گلگت اور گردو نواح میں زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیےگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: گلگت بلتستان کے علاقوں غذر ، دیامر،گانچھے ،کھرمنگ اور ہنزہ اور اسکردو میں زلزلےکےجھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئےگھروں سے باہر نکل آئے، بعض علاقوں میں بجلی بھی معطل ہوگئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی، اس کی گہرائی 25 کلومیٹر اور مرکز گلگت سے 45 کلومیٹر جنوب مشرق تھا زلزلےکے باعث فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔