Baaghi TV

Tag: گلگت بلتستان

  • گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 7 انتخابی حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے 7 حلقوں میں دائر انتخابی اعتراضات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن جی بی نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا جو آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجوں کے بعد الیکشن کمیشن نے 7 حلقوں کے نتائج روک لیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے گئے غیر حتمی/ غیر سرکاری نتائج میں جی بی اے-19 غذر II میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان کامیاب قرار دیے گئے جی بی اے-19 غذر I میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے نشست جیتی-

    اسی طرح جی بی اے-3 گلگت III میں آزاد امیدوار سہیل عباس کامیاب ہوئے، جی بی اے-10 اسکردو IV میں پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر علی خان نے کامیابی حاصل کی ،جی بی اے-15 دیامر I سے آزاد امیدوار محمد دل پذیر فاتح قرار پائےمجی بی اے-5 نگر I میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد کامیاب ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلوں کے اعلان کے بعد ان حلقوں کے نتائج سے متعلق حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

  • گلگت بلتستان میں  ن لیگ کیلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ہو گا ،خواجہ سعد رفیق

    گلگت بلتستان میں ن لیگ کیلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ہو گا ،خواجہ سعد رفیق

    رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق نے پارٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پارلیمانی نظام چلانے کیلئے حکومت سازی میں پیپلز پارٹی سے تعاون کرے لیکن کوئی وزارت نہ لے-

    انہوں نے ایکس پر کہا کہ پچھلے 48 گھنٹے میں تواتر کے ساتھ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مسلم لیگ ن کو گلگت بلتستا ن انتخابات میں بڑی شکست ہونے کا تاثر درست نہیں ہےمسلم لیگ ن نے 6 نشستیں جیتی ہیں جبکہ ہمارے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق ( گھانچے )جی بی 24 اور سیٹھ انور ( گھانچے ) جی بی 23 کامیاب ہوۓ ہیں ، پیپلزپارٹی 10 اور مسلم لیگ ن 8 کے نمبرز پر کھڑی ہیں ۔

    خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے انتخابی مہم ہم سے بہت پہلے شروع کی، گلگت بلتستان میں انکا تنظیمی ڈھانچہ ھم سے بہتر تھا، انکی مرکزی قیادت وہاں دو ماہ سے مصروف عمل تھی ، انکی مرکزی قیادت کی جانب سے مہیا کردہ اخراجات کا بے محابا استعمال کیا گیا ، انھیں اخراجات کی کوئی فکر نہیں تھی –

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن حسب ِ روایت کافی تاخیر سے حرکت میں آئی ، کوئی پارٹی فنڈ دستیاب نہیں تھا ، مقامی اندرونی گروپنگ نے پہلے ہی صور ت حال کمزور کر رکھی تھی جس کی طرف مرکز نے کبھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ، امیدوار موجود تھے لیکن electable s بہت کم تھے ،دوسری طرف پی ٹی آئی کے ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنی جماعت کو میدان میں نہ پا کر مسلم لیگ ن کی بجاۓ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے بھی ن لیگ کی مقبولیت پر اثر ڈالا –

    خواجہ سعد نے کہا کہ اس سب کے باوجود آٹھ نشستیں جیت لینا، کامیاب عوامی جلسے ، ریلیز ، کارنر میٹنگز کا انعقاد کرنا جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ، تقریباً ہر حلقے میں موثر انتخابی مہم چلا کر متاثر کُن ووٹ حاصل کرنا بڑی کامیابی ہے ، ہمارے چند امیدوار بہت ہی کم مارجن سے ہارے برادرم امیر مقام ، کیپٹن صفدر ، مرتضے جاوید عباسی ، ڈاکٹر عباد ، عابد رضا کوٹلہ خصوصی شاباش کے مستحق ہیں ، یہ لوگ دن رات محنت کرتے رہے-

    خواجہ سعد نے اپنی رائے دیتے یوئے کہا کہ پارلیمانی نظام چلانے کیلئے مسلم لیگ ن حکومت سازی میں پیپلز پارٹی سے تعاون کرے لیکن کوئی وزارت نہ لے ،گلگت بلتستان میں ن لیگ کیلئے اپوزیشن کا کردار ادا کرنا زیادہ بہتر ہو گا ۔

  • گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے  5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے منع کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں، فیصلے کے تحت ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 کے نتائج روک دیے گئے ہیں اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی اسکروٹنی اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں، اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    گلگت:صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نےگلگت بلتستان میں کام نہیں کیا، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا-

    گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

    انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو، گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔

    صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا،کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے

    انہوں نے کہا کہ یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی،لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے-

    انہوں نے کہا کہ سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی،دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

  • بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے

    بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے

    گلگت: الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کو یکم سے 5 جون 2026 تک انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی مہم اور دیگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گی،نوٹیفکیشن چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے جبکہ دورہ الیکشن ایکٹ اور جنرل الیکشن 2026 کے ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی سے مشروط ہوگا۔

    الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں امیدواروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو پہنچ گئے، جہاں گورنرپنجاب،گورنرگلگت بلتستان اورپارٹی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا بلاول بھٹو زرداری آج تحصیل گلاب پور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے جبکہ اپنے دورے کے دوران وہ چلاس ، غذر اور گلگت میں بھی انتخابی جلسوں سے خطاب کریں گے۔

  • گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع

    گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم شروع ہو گئی ہے، جس کے لیے ووٹنگ 7 جون کو ہوگی، جبکہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے مختلف اضلاع میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون کو ہوں گے اور مجموعی طور پر 24 جنرل نشستوں کے لیے 664 امیدوار میدان میں ہیں،گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 33 نشستیں ہیں جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق گلگت حلقہ 1 سے 34، حلقہ 2 سے 58 اور حلقہ 3 سے 32 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں نگر 1 سے 38 اور نگر 2 سے 30 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے، ہنزہ کے واحد حلقے سے 38 امیدوار سیاسی قسمت آزمائی کریں گے، اسکردو 1 سے 33، اسکردو 2 سے 23، اسکردو 3 سے 18 اور اسکردو 4 سے 25 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

    اسی طرح کھرمنگ سے 21 اور ضلع شگر سے 19 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں گانچھے 1 سے 15، گانچھے 2 سے 29 اور گانچھے 3 سے 15 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں استور 1 سے 19 جبکہ استور 2 سے 57 امیدوار مدمقابل ہوں گے، اسی طرح دیامر 1 سے 29، دیامر 2 سے 15، دیامر 3 سے 14 اور دیامر 4 سے 11 امیدوار میدان میں ہیں، غذر 1 سے 20، غذر 2 سے 42 اور غذر 3 سے 25 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں، گلگت 2 میں سب سے زیادہ 58 امیدواروں کے درمیان بڑا مقابلہ ہوگا، جبکہ دیامر 4 میں سب سے کم 11 امیدوار انتخابی معرکے میں شریک ہوں گے۔

    گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 2009 میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت منعقد ہوئے تھے اور پہلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی جبکہ موجودہ گورنر مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے اس کے بعد 2015 میں مدت ختم ہونے پر دوسرے عام انتخابات ہوئے جن میں ن لیگ کو اکثریت ملی اور حافظ حفیظ الرحمان دوسرے وزیراعلیٰ بنے ن لیگ کی حکومت نے بھی مدت پوری کی اور سال 2020 میں تیسرے عام انتخابات ہوئے جن میں اس وقت وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی اور خالد خورشید تیسرے وزیراعلیٰ بن گئے۔

    تاہم پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہ کر سکی اور 2023 میں خالد خورشید جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہو گئے، جس کے بعد پی ٹی آئی حکومت ختم ہو گئی، بعد ازاں حاجی گلبر خان کی سربراہی میں نیا گروپ سامنے آیا اور مخلوط حکومت قائم ہوئی، جس میں حاجی گلبر خان وزیراعلیٰ بن گئے اب حاجی گلبر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد چوتھے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔

  • گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب کرلی گئی۔

    پنجاب پولیس کے 5000 اہلکار گلگت بلتستان بھجوائے جائیں گے،رائٹ مینجمنٹ فورس کے 1500 اہلکار گلگت بلتستان الیکشن کی سکیورٹی پر تعینات ہو ں گے،اس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری کے 1242 ،پنجاب ہائی وے پٹرول کے 1958 اہلکارگلگت بلتستان بھیجے جائیں گے۔

    لاہور پولیس کے 300 اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے بھجوائے جائیں گے،اس حوالے سے اے آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی ایم ٹی کو مراسلہ جاری کر دیاجس میں کہاگیاہے کہ اہلکاروں کو بھجوانے کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے،ٹرانسپورٹ اور عملے کی تفصیلات بھی سی پی او کو بھجوا نے کا حکم دیاگیاہے۔

  • سہیل آفریدی کا انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط

    سہیل آفریدی کا انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت کیلئے چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کو خط لکھ دیا-

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے، اور خط کی کاپی چیف جسٹس آف پا کستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

    خط میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، انتخابی مہم اور پارٹی قیادت و کارکنان کی نقل و حرکت میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہےسیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے، غیر قانونی گرفتار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو اگر نہ روکی گئیں تو انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر سیاسی جماعت اور شہری کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات میں حصہ لینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ ان آئینی اور جمہوری اصولوں سے انحراف نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔

    وزیراعلیٰ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کے آزاد، منصفانہ، شفاف اور غیر جانبدار انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں،سیاسی کارکنوں اور جماعتی قیادت کے خلاف غیر قانونی ہراسانی، گرفتاریوں اور پابندیوں کو فوری طور پر روکا جائے،تمام سیاسی جماعتوں کو بلاامتیاز اپنی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق دیا جائے،انتخابی عمل کے دوران آئینی اور جمہوری حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

    وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کے تحفظ اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احکامات جاری کرےانہوں نے امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بروقت مداخلت گلگت بلتستان میں شفاف، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے گی اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کا مکمل تحفظ ہوگا۔