Baaghi TV

Tag: گلگت بلتستان

  • تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے آگے

    تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے آگے

    اسلام آباد: تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے نوجوان آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے نوجوانوں سے بھی آگے نکل گئے۔

    باغی ٹی وی: وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے گلگلت بلتستان، آزادکشمیر اور اسلام آباد میں تعلیمی سروے کیا گیا۔ یہ سروے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے اسکولوں میں کیا گیا۔

    سروے کے نتائج کے مطابق گلگت بلتستان کے طلبا، اسلام آباد اور جموں و کشمیر کی نسبتاً ریاضی میں زیادہ بہتر ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں گلگلت بلتستان کے طلباء اسلام آباد سے پیچھے اور آزاد جموں و کشمیر سے بہتر رہے،گلگت بلتستان کے اساتذہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں آگے ہیں، گلگت بلتستان میں 100 فیصد اساتذہ کو سمارٹ فون تک رسائی حاصل ہے۔

    سلمان خان نے نوازالدین صدیقی کی اہلیہ کو ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنے …

    گوگل پر دستیاب معلومات کے مطابق گلگت بلتستان ایک ایسا علاقہ ہے جس کا 1948 میں پاکستان سے الحاق کیا گیا تھا۔ اس وقت اس خطے میں کوئی تعلیمی نظام نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ گلگت بلتستان کے کچھ مزید عزائم کے طالب علم بہتر تعلیم کی تلاش میں مختلف شہروں (جیسے کراچی اور لاہور ) کی طرف چلے گئے۔ ان میں سے کچھ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آگئے، اور اپنے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا، اس طرح لوگوں کو یہ معلوم ہوا کہ خواندہ ہونا کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے علاقے میں اسکولوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا، لیکن ان کے مطالبے کو نظرانداز کردیا گیا کیونکہ اس خطے کا سینیٹ یا قومی اسمبلی (پاکستان) میں کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ کئی سالوں کے بعد گلگت بلتستان میں سکول کھلے اور یوں اس کا تعلیمی نظام وجود میں آیا۔

    مئیر کراچی انتخابات: پی ٹی آئی کےمزید 6 اراکین پی ٹی آئی سے فارغ

    ابتدامیں صرف پرائمری اور مڈل اسکول دستیاب تھے۔ آہستہ آہستہ ان مڈل اسکولوں کو ہائی اسکولوں میں ترقی دے دی گئی۔ 1970 کی دہائی میں طلباء کو یونیورسٹی جانے کے لیے دیگر شہروں کی طرف جانا پڑتا تھا۔ تعلیم میں انقلاب اس وقت شروع ہوا جب جابر بن حیان ٹرسٹ کے اقدام کے تحت پرائیویٹ اسکول بننے لگے۔ پھر یکایک کئی پرائیویٹ سکولز سامنے آنے لگے۔ ایک خبر کے مطابق گلگت بلتستان میں مجموعی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ نجی شعبہ کا ہے۔ آغا خان فاؤنڈیشن بھی دوسری این جی او تھی جس نے اس علاقے میں تعلیم کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔

    قومی اسمبلی: نااہلی کی سزا 5 سال کرنے کا بل اتفاق رائے سے منظور

    پچھلی دہائی کے دوران پہلے اعلیٰ تعلیمی ادارے بنائے گئے۔ پہلی یونیورسٹی قراقرم یونیورسٹی کی بنیاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اور ریٹائرڈ فوجی جرنیل پرویز مشرف کے دور میں رکھی گئی تھی۔ یہ یونیورسٹی 2002 میں پرویز مشرف کے حکم پر وفاقی حکومت کے ایک چارٹر کے ذریعے قائم کی گئی تھی۔ اس یونیورسٹی کا ایک اور کیمپس اسکردو حسین آباد میں 2010 میں قائم کیا گیا تھا، حالانکہ موجودہ حالات میں اسے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

  • استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

    گلگت بلتستان کے علاقے استور کے ڈشکن کے جنگل میں گزشتہ روز سے لگی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

    باغی ٹی وی: استور میں ڈشکن کے مقام پر جنگل میں گزشتہ روز آگ لگ گئی تھی جو کہ پھیلتی جارہی ہے،آگ کی وجہ سے ہزاروں قیمتی درخت جل گئے ہیں جب کہ نایاب نسل کی جنگلی حیاتیات کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے آگ لگنے کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہوسکی-

    مقامی آبادی کے ساتھ محکمہ جنگلات اور دیگر ریسکیو کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں جنگل دور افتادہ اور مشکل گزار پہاڑوں کے اوپر ہونے سے امدادی کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آخری خبریں آنے تک ڈشکن کے جنگل میں لگنے والی آگ کی شدت میں کمی آنے لگی تھی، تاہم آگ کے بے قابو شعلوں کے باعث اس وقت تک جنگل کے درختوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    ضلع استور پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ گلگت بلتستان کے سب سے مشہور کھیل پولو فیسٹیول ضلع استور کے گاؤں راما میں منعقد ہوتاہے ضلع استور گلگت بلتستان کے ان خوبصورت علاقوں میں شمار کیا جاتاہے جواپنی قدرتی حُسن سے مالامال ہے۔ ضلع استور جو سطح سمندر سے 2،600 میٹر بلندی پر واقع ہے گلگت شہر سے 120 کیلومیٹر پر واقع جو گلگت سے جگلوٹ شمال کی جانب اور مشرق کی جانب اسکردو جبکہ جنوب کی جانب چترال واقع ہےوادی استور گلگت بلتستان کا ایک پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ ہے۔ انتظامی طور پر یہ وادی ضلع دیامر میں شامل تھی-

    فیصل آباد سے بدنام زمانہ انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گرفتار

    آئی ایم ایف کا اعتراض،بجٹ میں پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم واپس لے لی گئی

    انسانی اسمگلنگ میں ایجنٹ مافیا کے ساتھ اداروں کے افسرملوث ہوتے ہیں،وزیر دفاع

  • خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور گلگت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلے کے جھٹکے پشاور اور سوات سمیت گردو نواح کے علاقوں میں محسوس کیے گئے لوئر دیر اور اطراف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیےگئے ہیں-

    نگران حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    گلگت کے علاقے غذر اور گردو نواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروںسے باہر نکل آئے-

    بھارت میں ورلڈ کپ جیت کر آئیں،بھارتی کرکٹ بورڈ کیلئے بڑا طمانچہ ہو گا،شاہد آفریدی

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی، زلزلےکا مرکز افغانستان تاجکستان بارڈر تھا۔

  • وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے

    وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے

    گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے زلزلے سے ہنزہ کے علاقے گلمت کے محلہ کمرس میں زمین میں دراڑیں پڑ گئیں۔

    وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات؛ عمران نیازی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی سازش …

    ذرائع کے مطابق کئی سال سے اس علاقے میں زیرِ زمین دھماکے اور جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں تاحال زلزلے سے کوئی جانی یا مالی نقصان اور اس کی شدت کے حوالے سے اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

    ہنزہ شمالی پاکستان کا ایک علاقہ ہے۔ اسے وادی ہنزہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے 700 کلومیٹر کے فاصلے شاہراہ ریشم کے کنارے پر واقع یہ وادی سطح سمندر سی 2500 میٹر بلند ہے اسلام آباد سے اس کا راستہ حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ گلگت سے ہوتا ہوا ہنزہ آتا ہے-

    برج چیمپئن شپ، کھلاڑیوں کے اعزاز میں حویلی ریسٹورنٹ میں عشائیہ، تصاویر

    یہ وادی 7900 مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ ہنزہ میں مقامی راجا کی حکومت ہوتی تھی جسے میر آف ہنزہ کہا جاتا تھا.عام طور پر ہنزہ کو ایک شہر کا نام سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت سی چھوٹی چھوٹی وادیاں اور قصبے شامل ہیں وادی تین علاقوں پرمشتمل ہے-

    کریم آباد میں موجود میر کا پرانا گھر بلتت قلعہ کریم آباد کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔۔۔۔۔ تقریباً 700 سال پرانا یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہےکریم آباد کے قریب ہی ایک اور پرانا قصبہ التت ہے جو وادی ہنزہ کا سب سے پرانا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس میں موجود التت قلعہ 900 سال پرانا ہے۔

    اسلام آباد؛ تین بچوں کے ساتھ بدفعلی کی کال کا ڈراپ سین

  • چلاس میں گھر کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق

    چلاس میں گھر کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق

    چلاس: گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں گھر کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق چلاس کے علاقے بونرداس میں گھر کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا جس میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

    شیخوپورہ، گاؤں میں سوتے ہوئے 8 افراد کوکلہاڑی کے وار سے قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں خاتون سمیت 8 بچے شامل ہیں۔ گھر میں فراز نامی شخص رہائش پزیر تھا جس کی بیوی، 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں حادثے کا شکار ہو گئیں۔

    ملبے تلے دبے تمام افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تاہم چھت گرنے کی وجوہات معلوم نہ ہو سکیں۔

    قبل ازیں شیخوپورہ میں نارنگ کے نواحی گاؤں ہیچڑ میں مختلف مقامات سے 8 لاشیں برآمد ہوئی تھیں ڈی پی او فیصل مختار کے مطابق تمام افراد کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا ہےڈیروں یا گلیوں میں سوئے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

    شیخوپورہ : ہچڑ میں آٹھ بےگناہ افراد کے مبینہ قاتل کا پس منظر

    8 افراد کو مختلف مقامات پر کلہاڑی کے وار کرکے اس وقت قتل کیا گیا جب وہ سو رہے تھے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے، گرفتار شخص بظاہر ذہنی معذور دکھائی دیتا ہے۔ڈی پی او فیصل مختار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم نے سارے قتل رات 3 بجےکے بعد کیے جب سارا گاؤں سو رہا تھا۔

    آئی جی پنجاب نےشیخوپورہ کے نواحی گاؤں ہچڑ میں مختلف مقامات پر 8 افراد کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیا اور آئی جی پنجاب نے آر پی او شیخوپورہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔آئی جی پنجاب نے واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا شیخوپورہ پولیس نے قتل کے افسوسناک واقعات میں ملوث ملزم فیض کو گرفتار کرلیا تھا ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ذہنی مریض ہے-

    قتل، اندھے قتل اوراغواء کی وارداتوں میں ملوث13 ملزمان گرفتار

  • شہروز کاشف اور فضل علی ایک اور چوٹی سر کرنے نکل پڑے

    شہروز کاشف اور فضل علی ایک اور چوٹی سر کرنے نکل پڑے

    گلگت بلتستان: دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف پھر مہم پر نکل پڑے-

    باغی ٹی وی : شہروز کاشف نے گلگت بلتستان روانگی سے پہلے سماجی رابطے کی سائٹ پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اگلی منزل پاک چین بارڈر کے قریب گاشر برم کی چوٹی ہے جو 8 ہزار 35 میٹر یعنی (26 ہزار 360) فٹ بلند ہے۔

    شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر لی


    قبل ازیں گزشتہ دنوں نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر شہروز کاشف اور ان کے ساتھی فضل علی خراب موسم کی وجہ سے پھنس گئے تھے، رات برف میں گزارنے کے بعد صبح ہونے پر وہ تھوڑا مزید نیچے پہنچے جہاں سے آرمی ریسکیو ٹیم نے انہیں بحفاظت گلگت پہنچایا تھا۔

    پاکستانی کوہ پیما نے شمالی امریکا کی بلند ترین چوٹی سرکرلی

    عید گھروالوں کے ساتھ منانے کے بعد شہروز اب دنیا کی ایک اور 8 ہزار میٹر بلند چوٹی پر قومی پرچم لہرانے جارہے ہیں، وہ اب تک 8 بلند ترین چوٹیاں فتح کرچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گاشر برم دنیا کا 13 واں اور پاکستان کا پانچواں سب سے اونچا پہاڑ ہے جو قراقرم سلسلے میں واقع ہے۔ اس چوٹی کو 1956میں ایک آسٹریائی ٹیم کے موراویک، لارچ اور ویلن پارٹ نے سر کیا تھا۔

     

    کوہ پیما شہروز کاشف کو ایوان صدر کی جانب سے دعوت نامہ موصول

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی :ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

    گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی :ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی کے معاملے میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری کی انٹرا کورٹ اپیل پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو 27 جون تک تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنرگلگت بلتستان کا عہدہ 19 اپریل سے خالی ہے۔ گورنرکا عہدہ خالی رہنا خلاف آئین ہے۔

    ہم بتاتے ہیں کہ رانا شمیم کیا چیز ہےاوراس کے کارہائے نمایاں کیا ہیں:گلگت بلتستان…

    عدالت نے سیکریٹری کابینہ، سیکریٹری وزارت کشمیر افئیرز کو بھی نوٹس جاری کردیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے نوٹس جاری کیے۔

    عدالت نے کیس میں ریمارکس دیے کہ سنگل بنچ نے گورنرگلگت کی تعیناتی کی درخواست آبزرویشن کے ساتھ نمٹائی۔ سنگل بنچ نے کہا توقع ہے صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر تعیناتی کریں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو انٹراکورٹ اپیل میں بتایا گیا ابھی تک پراسیس شروع نہیں ہوا۔

    لانگ مارچ،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سمیت پی ٹی آئی کارکنان پر مزید مقدمے درج

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں محمد خان نامی درخواست گزار نے گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔اورعدالت سے نوٹس لینےکی درخواست بھی کی تھی

    یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کے بعد گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہےتھا

    گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ:وفاق کی طرف سےبجٹ میں50فیصدکٹوتی کی گئی:وزیراعلیٰ…

    خیال رہے کہ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے 30 ستمبر 2018 کو حلف لیا تھا۔

    راجہ جلال حسین مقپون کا بطور گورنر گلگت بلتستان تعیناتی کی مدت 3 سال 6 ماہ کا عرصہ ہوا ہے، وہ چیئرمین تحریک انصاف، سابق وزیر اعظم عمران خان کے نظریاتی اور وفادار ساتھیوں میں شامل ہیں، انہوں نے گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی مضبوطی اور حکومت سازی میں مرکزی کردار کیا۔

  • ایک اور گورنر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا:تعداد تین ہوگئی :ملک میں بے چینی بڑھنے لگی

    ایک اور گورنر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا:تعداد تین ہوگئی :ملک میں بے چینی بڑھنے لگی

    گلگت: سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد صوبائی گورنرز نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اطلاعات ہیں کہ گورنر پنجاب اور گورنر سندھ کے مستعفی ہونے کا امکان کے بعد گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے بھی استعفیٰ دینےکا فیصلہ کیا ہے۔نئےوزیر اعظم کے انتخاب کےبعد گورنر جی بی راجہ جلال حسین مستعفیٰ ہونگے۔

    گورنرگلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے30ستمبر2018کوحلف لیاتھاادھر یہ خبریں بھی سرگرم ہیں کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا مستعفی ہونے کا امکان ہے، قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے حلف اٹھاتے ہی گورنر پنجاب مستعفی ہو جائیں گے۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے، عمران اسماعیل عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں۔

    واضح رہے کہ راجہ جلال حسین مقپون گلگت بلتستان کے چھٹے گورنر ہیں جن کا تعلق وادی ہنز ہ سے ہے اور وہ گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر بھی ہیں۔

    یاد رہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مطابق گلگت بلتستان کے گورنر کے عہدے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار اسی علاقے کا رہائشی ہو۔

    گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کا مستعفی ہونے کا اعلان

    ذرائع کے مطابق گورنر شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ لینے کے دن ہی استعفی بھجوا دوں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد 174 ووٹوں سے کامیاب ہو گئی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کا اقتدار اختتام کو پہنچا۔ نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کل بروز پیر دن دوبجے ہو گی۔

    گورنرسندھ عمران اسماعیل کا مستعفی ہونے کا امکان

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر مستعفی ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کراچی پہنچ کر عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، گورنر سندھ سیاسی صورتحال کے باعث اسلام آباد میں ہیں۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر شاہ فرمان نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ لینے کے دن ہی استعفیٰ بھجوا دوں گا۔

  • 16ویں شاہ خان اسکی کپ اور نیشنل بائیتھلون چیمپئن شپ 2022  اختتام پزیر

    16ویں شاہ خان اسکی کپ اور نیشنل بائیتھلون چیمپئن شپ 2022 اختتام پزیر

    16ویں شاہ خان اسکی کپ اور نیشنل بائیتھلون چیمپئن شپ 2022 کی تقسیم انعامات کی تقریب پی اے ایف اسکی ریزورٹ، نلتر میں منعقد ہوئی۔ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) سید کوثر حسین ڈائریکٹر آپریشنز اینڈ پلانز نیشنل لاجسٹک سیل تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں پاک فضائیہ کی فیڈرل ایئر کمانڈ کے سینئر ایئر اسٹاف آفیسر، ایئر کموڈور جاوید اقبال سمیت دیگر معززین نے بھی شرکت کی۔

    پاک فضائیہ نے 16ویں شاہ خان اسکی کپ کی ونر ٹرافی اپنے نام کر لی۔ پی اے ایف اسکیرز کا کھیل کے افتتاحی دن سے ہی پلہ بھاری رہا اور انہوں نے 16ویں شاہ خان الپائن اسکی کپ میں 02 تمغے اپنے نام کر لیے۔ سلالم کیٹیگری میں سول ایوی ایشن کے ذاکر حسین نے طلائی، پاک فضائیہ کے عبید اللہ نے چاندی جبکہ پاک آرمی کے حمزہ نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ جائنٹ سلالم کیٹیگری میں پاک آرمی کے لانس نائیک شکیم نے طلائی جبکہ سول ایوی ایشن کے ذاکر حسین نےچاندی اور پی اے ایف کے شاہ زمان نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

    نیشنل بائیتھلون مقابلوں میں گلگت بلتستان کے عالم مقصود نے طلائی، گلگت بلتستان سکاؤٹس کے خان اسحاق نے چاندی جبکہ پاک آرمی کے شاہ نوران نے کانسی کا تمغے اپنے نام کر لیے۔

    پاک فضائیہ اور ونٹر اسپورٹس فیڈریشن آف پاکستان کے زیراہتمام یہ کھیل ہر سال نلتر اسکی ریزورٹ میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان سرمائی کھیلوں میں ملک بھر سے تقریباً 26 قومی اسکیرز نے حصہ لیا۔ پاک فضائیہ، پاک آرمی، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، اسلام آباد اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیموں نے نیشنل بائیتھلون چیمپئن شپ کے مختلف ایونٹس میں حصہ لیا۔

    پاکستان ایئر فورس اور ونٹر اسپورٹس فیڈریشن آف پاکستان مشترکہ طور پر ملک میں سرمائی کھیلوں کو فروغ دینے اور گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے برفیلے پہاڑوں میں کھیلوں کی سیاحت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال ان تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔

    ہمیشہ امن کے لئے کھڑے ہیں، پاکستان کے کپتان نے مودی سمیت دنیا کو دیا اہم پیغام

    ذمہ داریاں جانتے ہیں، وطن عزیز کے دفاع کیلیے ہر لمحہ تیار ہیں ،سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ نے 54 ویں کمبیٹ کمانڈرز کورس کی گریجویشن تقریب میں دشمن کو دیا اہم پیغام

    بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

    @MumtaazAwan