Baaghi TV

Tag: گندم

  • سال 2026 کیلئے گندم کی فی من قیمت مقرر

    سال 2026 کیلئے گندم کی فی من قیمت مقرر

    سال 2026 کیلئے گندم کی فی من قیمت مقرر کر دی گئی-

    گندم پالیسی 2026کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق سٹریٹجک گندم ذخائر سٹیک ہولڈرز کے ذریعے خریدے جائیں گے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ رواں سال نئی گندم خریداری فی من 35سو روپے رکھی گئی ہے،2025میں گندم اوپن مارکیٹ کی قیمت کے برابر رکھی گئی تھی،حکومت پنجاب 25لاکھ میٹرک ٹن تک گندم کے ذخائر خریدے گی۔

    سٹریٹجک گندم ذخائر کا انتظام خریدار بینکوں کے ذریعے کرے گا،حکومت پنجاب فنانسنگ لاگت کا 70فیصد حصہ برداشت کرے گی،ڈی جی فوڈ ،ایگریکٹر اور متعلقہ بینک کے مابین سہ فریقی معاہدہ کیا جائے گا،منتخب سٹیک ہولڈرز کو سرکاری گودام بلا معاوضہ دیئے جائیں گے،کسان کو گندم کا 35سو روپے فی من کا سو فیصد معاوضہ موقع پر ملے گا۔

  • حکومت پنجاب کا گندم کی کاشت سے قبل  بلاسود قرضے دینے کی تجویز پر اتفاق

    حکومت پنجاب کا گندم کی کاشت سے قبل بلاسود قرضے دینے کی تجویز پر اتفاق

    حکومت پنجاب نے گندم کی کاشت سے قبل 100 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے کی تجویز پر اتفاق کر لیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازکی زیر صدارت گندم کے کاشتکاروں کی سپورٹ سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنجاب میں گندم کی بوائی سے قبل زرعی مداخل کی لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کا حکم دیا گیا،وزیراعلیٰ پنجاب نے گندم کی بوائی سے قبل کھاد کی وافر دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گندم کے چھوٹے کاشتکار کو ریلیف کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ پنجاب میں بہتر پیدوار کیلئے گندم کی بروقت بوائی ضروری ہے، پنجاب میں 2 ماہ کے دوران کاشتکاروں کو 63 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں نے 50 ارب روپے کے بلاسود قرضے حاصل کئے ہیں۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب گندم سپورٹ پروگرام کے تحت 13 ارب روپے سبسڈی دی گئی ہے، جس پر مریم نواز نے کہا کہ گندم کے کاشتکار کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، حکومت پورا ساتھ دے گی، پنجاب کے کاشتکاروں کو سب سے زیادہ سہولت اور حکومتی معاونت حاصل ہے۔

  • مریم نواز  کا  گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب روپے کے  پیکج کا اعلان

    مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب روپے کے پیکج کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کے کاشتکاروں کے لیے 110 ارب روپے کے ریکارڈ پیکج کا اعلان کر دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت گندم کے کاشتکاروں کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاس میں کسان دو ست اقدامات کا اعلان کیا گیا اجلاس میں گندم کے کاشتکاروں کے لیے 110 ارب روپے کے مجموعی پیکج کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیراعلیٰ نے ”ویٹ فارمر سپورٹ پروگرام“ کے تحت 25 ارب روپے کے امدادی پیکج کی منظوری دی، جس کے تحت گندم کے پانچ ایکڑ پر کاشت کرنےوالے کسانوں کو فی کسان 25 ہزار روپے مالی امداد دی جائے گی،صوبے اور اضلاع کی سطح پر گندم اگانے کے مقابلے ہوں گے اور کاشتکاروں کو ٹریکٹرز اور رقم دی جائے گی۔

    سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا

    اجلاس میں فلور ملوں کو کم از کم 25 فیصد گندم خریداری کا پابند بنانے کے لیے لازمی ترمیم، ”الیکٹرونک وئیر ہاؤسنگ ری سیٹ“ پالیسی اور بنک آف پنجاب کو 100 ارب روپے کی کریڈٹ لائن قائم کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبائی وزیر زراعت کو گندم خریداری مہم کی مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی، پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ بھی گندم خریداری مہم میں معاونت کرے گا اجلاس میں بتایا گیا کہ گندم کے کاشتکاروں کو 2.5ارب روپے کی لاگت سے 1000 ٹریکٹر مفت دیئے گئے اور 8 ارب روپے ٹیوب ویل سولرائزیشن کی مد میں سبسڈی دی گئی۔

    وزیراعظم کا ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں اضافے کا خیرمقدم

  • پنجاب حکومت کی گندم کے حوالے سے کسانوں کیلئے بُری خبر

    پنجاب حکومت کی گندم کے حوالے سے کسانوں کیلئے بُری خبر

    لاہور: پنجاب حکومت نے رواں سال بھی گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی کاشت کاروں سے گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے گندم کی امدادی قیمت جاری نہ کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔

    پنجاب حکومت نے ایک بار پھر گندم خریدنے سے انکار کردیا اور فصلوں کی امدادی قیمت دینا بھی بند کردی، جس سے کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، پہلے سے گوداموں میں موجود گندم کو اب طویل عرصے کے بعد فلور ملز کو جاری کرنا شروع کیا ہے۔

    حکومتی فیصلے پر گندم کے کاشتکاروں نے سر پکڑ لیے، ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کا اسٹاک اب تک گوداموں میں ہے، نئی فصل کی بویائی ہوچکی، خریداری نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟محکمہ خوراک پںجاب اور وفاقی حکومت محکمہ پاسکو کو بند کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، حکام کے مطابق فیصلہ محکمے میں کرپشن کے باعث کیا گیا-

    دوسری جانب کسان اتحاد کے رہنما خالد باٹھ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کسانوں سے گندم نہ خریدی تو کسان تباہ و برباد ہوجائیں گے۔

  • کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    کرم میں ستی گندم دینے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی اجلاس طلب

    خیبر پختون خوا حکومت نے کرم میں شہریوں کو سستی گندم دینے کا فیصلہ کر لیا۔، گندم فلور ملز کے بجائے شہریوں کو براہِ راست ملے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ چالیس کلو آٹے کا تھیلا اٹھائیس سو روپے میں دیں گے، کرم میں مزید چھتیس سو کلو ادویات ہیلی کاپٹر سے پہنچا دی گئیں۔دوسری جانب ضلع کرم میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے 20 دسمبر کو صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کرلیا۔صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہوگا جس میں اعلیٰ سول وعسکری قیادت، متعلقہ اراکین صوبائی کابینہ، ڈویڑنل اور ضلعی انتظامیہ کے حکام شریک ہونگے۔اجلاس میں کرم میں امن و امان کی تازہ صورتحال،صوبائی حکومت کے اقدامات اور دیگر معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اجلاس کے دوران کرم میں اشیائے ضروریہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن کے قیام کے لئے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں متعلقہ شراکت داروں کی مشاورت سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، کرم میں امن کے قیام کے لئے حکومتی گرینڈ جرگے کی طرف سے اب تک کی پیشرفت سے شرکاء کو آگاہ کیا جائے گا۔صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل طلب، قیام امن اور گرینڈ جرگے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا، خیبر پختون خوا کابینہ کا اجلاس تیئس دسمبر کو ہو گا.

    ٹیکس پالیسی ٹیکس کلیکشن سے بہتر بنائیں گے،وزیر خزانہ

    گوجرہ: چوہدری خالد جاوید وڑائچ کی مرزا طارق محمود کو بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

  • پیپلز پارٹی  کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے ضلع سانگھڑ کے تعلقہ سنجھورو کا دورہ کیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دورے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پیغام میں سحر کامران کا کہنا تھا کہ گندم کی بوائی کا عمل دیکھنا ایک متاثر کن تجربہ تھا۔ مقامی کاشتکار تمام چیلنجز کے باوجود پیپلز پارٹی کی قیادت پر مضبوط یقین رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کا تحفظ کرے گی۔ سحر کامران نے سنجھورو کی کمیونٹی کی جانب سے ملنے والی محبت اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ یہ دورہ نہایت حوصلہ افزا تھا۔ گندم کی بوائی کے عمل کو قریب سے دیکھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں کے کاشتکار تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اپنے کام سے جڑے ہوئے ہیں اور زراعت کے شعبے میں اپنی محنت اور لگن کے ذریعے ملک کی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ کاشتکاروں کا پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر یقین اور اعتماد ان کے مسائل کے حل کے لیے ہماری جماعت کی سنجیدگی اور کوششوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    انہوں نے سنجھورو کی کمیونٹی کی گرمجوشی اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور خلوص نے اس دورے کو مزید یادگار بنا دیا۔ سحر کامران نے کہا کہ ایسے دورے نہ صرف عوامی مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ پارٹی قیادت اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • روٹی 25 روپے اور نان 30 روپے فروخت کیا جائے گا، نان بائی ایسوسی ایشن

    روٹی 25 روپے اور نان 30 روپے فروخت کیا جائے گا، نان بائی ایسوسی ایشن

    کیپیٹل نان بائی ایسوسی ایشن اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد کے اندر بہت جلد نئے ریٹ کا اعلان کر دیا جائے گا،

    صدر نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ روٹی 25 روپے اور نان 30 روپے فروخت کیا جائے گا، کیونکہ موجودہ صورتحال میں روٹی اور نان پرانے ریٹ پر فروخت کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، آٹا فائن اور میدہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے 10 تاریخ کے بعد نئے ریٹ کا اعلان کیا جائے گا، 7300 فائن کی 80 کلو کی بوری کا موجودہ ریٹ 9000 روپے کر دیا گیا، لال آٹے کی 79 کے جی کی بوری کا ریٹ 6800 سے بڑا کر 8400 روپے کر دیا گیا.فی بوری پر فلور مل اور آٹا ڈیلر 250 سے زائد رقم تندور والے سے ٹیکس کی مد میں بٹور رہے ہیں، ایل پی جی کے ریٹ میں پر کے جی 50 روپے اضافے کے ساتھ بڑھا دیا گیا،

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے میں گندم آٹا کی قیمت مقرر کر دی ، تمام اضلاع کے لئے نجی گندم آٹا کی زیادہ سے زیادہ قیمت مقرر کی گئی ہے،لاہور راولپنڈی کے لیے 20 کلو آٹے کی قیمت 1840 مقرر کی گئی ہے، لاہور کے لیے گندم کی قیمت 3 ہزار ،راولپنڈی کے لئے 3050 روپے فی من مقرر کی گئی،اٹک ،جہلم میں 20 کلو آٹا 1820 روپے ، چکوال ، قصور ، شیخوپورہ میں 1780 روپے قیمت مقرر کی گئی ہے، پنجاب کے دیگر اضلاع میں 20 کلو آٹا تھیلا قیمت 1600 تا 1680 روپے مقرر کی گئی ہے، گجرات ، منڈی بہاوالدین ، وزیر اباد ، حافظ آباد ، ملتان کے لیے گندم 2900 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، رحیم یار خان ، خوشاب ،چنیوٹ ، سرگودھا ، فیصل اباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لئے گندم قیمت 2850 روپے فی مقرر کی گئی ہے،بہاولنگر ، لیہ ، مظفر گڑھ ،راجن پور ،بھکر ، جھنگ میں گندم 2800 روپے من مقرر کی گئی ہے،

    اربوں روپے کی گندم موجود، روٹی مہنگی نہیں کرنے دیں گے، بلال یاسین

    روٹی ہمیں 21روپے میں پڑ رہی،20 میں بھی بیچنے کو تیار ہیں،نان بائی ایسوسی ایشن

    روٹی کی قیمت کم نہ کرنے پر مقدمہ درج،کاروائیاں بند کی جائیں، فاروق چوہدری

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    بلوچستان ہائیکورٹ میں گندم کی خریداری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سماعت کی، عدالت نے وزیراعلی بلوچستان کو کیس میں ذاتی طور پر طلب کرلیا .ایڈوکیٹ جنرل آصف ریکی نے عدالت میں وضاحت کی کہ وزیراعلی بلوچستان آج کوئٹہ میں نہیں اسلئے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، وزیراعلی کی اسلام آباد سے واپسی کل ہوگی، عدالت نے درخواست کی سماعت 12جون بروز منگل تک ملتوی کردی،عدالت نے ڈی جی خوراک ظفر اللّٰہ کے تبادلے کےنوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے کا حکم بھی دے دیا۔واضح رہے کہ گندم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق درخواست اوستہ محمد کے ایک شہری محمد صادق نے دائر کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے محکمے میں گندم کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا جس پر معزز عدالت نے محکمے کو گندم کی خریداری سے فوری طور پر روک دیا تھا ۔ دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے سیکرٹری خزانہ حکومت بلوچستان کو محکمہ خوراک کے حق میں 2.5 بلین روپے جاری کرنے سے بھی روکا تھا ۔ اسی طرح سیکرٹری محکمہ خوراک اور پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو مڈل مین یا کوئی اور شخص کو اگلی سماعت تک آگے کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو آئندہ سماعت تک باردانہ کی تقسیم فوری طور پر روکنے کی بھی ہدایت کی اور انہیں گندم کی خریداری کے سلسلے میں بڑے زمینداروں کے ساتھ ساتھ مڈل مین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

    سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائیریکٹر جنرل نے خریداری کے متعلق کرپشن کے انکشاف کے متعلق دستاویزات فراہم کئے ۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ محکمہ خوراک نے اسٹریٹجک ذخائر ہونے اور اندرون خانہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود 50000 میٹرک ٹن اضافی گندم کی خریداری کا یہ اقدام صرف چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے کیا تھا لیکن پروجیکٹ ڈائیریکٹر کی ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے نصیر آباد ڈویژن کے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں اور چھوٹے حقیقی کاشتکاروں کے بجائے مڈل مینوں اور بروکرز سے غیر قانونی مطالبات، بدعنوانی اور باردانہ کی تقسیم غیر شفافیت کی اطلاعات ہیں جب ڈائریکٹر جنرل خوراک کو کیس کے اس پہلو کا سامنا ہوا تو انہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا اور کہا کہ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے، محکمے کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی اور بے قاعدگیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے، انہوں نے چیف سیکریٹری ، سیکریٹری محکمہ خوراک ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی کمشنرز کو خطوط لکھے ۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے بتایا کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مبینہ طور پر گندم کی خریداری کا طریقہ کار ناقص اور غیر منصفانہ ہے۔ گندم غریب کسانوں کی بجائے درمیانی آدمی ، بیوپاریوں یا بڑے زمینداروں سے خریدی جارہی ہے اس نے کہا کہ ایک سادہ طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل شفاف طریقے سے سر انجام دینا چاہیے۔ محکمہ خوراک نے چھ سال گزرنے کے باوجود کمرشل بینکوں کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری ابھی تک صاف نہیں کی ہے جو کہ 2.5 بلین روپے ہے۔ اس کمرشل بینک کے قرض کی ادائیگی کو جلد از جلد کلیئر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ محکمہ کو 20 لاکھ روپے یومیہ سود 2018 کے بعد سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اسٹریٹجک ذخائر، ڈی جی، خوراک کی طرف سے حکومت بلوچستان کے پاس فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریبا 815,000 تھیلے ہیں، جب کہ گودام کی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش 01 ملین سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں گندم خریدنے کی ضرورت نہیں ہے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان کو 500,000 تھیلوں کی ضرورت کیوں ہے جب کہ 01 ملین سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے

  • گندم درآمد سیکنڈل،چار افسران کے خلاف کاروائی کی منظوری

    گندم درآمد سیکنڈل،چار افسران کے خلاف کاروائی کی منظوری

    نگران دور حکومت میں اضافی گندم درآمد کرنے کے اسکینڈل میں ذمہ داروں کا تعین کرلیا گیا ہے

    گندم درآمد سیکنڈل کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے چار افسران کو معطل کرنے کی سفارش دی تھی جو وزیراعظم نے منظور کر لی ہے.سابق وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی محمد آصف کے خلاف باضابطہ کارروائی کی منظوری دی گئی ہے ،سابق ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن اے ڈی عابد کو معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے،فوڈ سکیورٹی کمشنر ون ڈاکٹر وسیم اور ڈائریکٹر سہیل کو بھی معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق گندم درآمد سیکنڈل کیس میں ذمہ دار افسران پر ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے کا چارج لگایا گیا ہے

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے گندم خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے اور غفلت برتنے پر پاسکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر پروکیورمنٹ کو معطل کردیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کی خریداری کا عمل شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور موبائل فون ایپلی کیشن تیار کرنے کی تاکید کی ، وزیراعظم نے پاسکو کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی بھی ہدایت کی۔

    دوسری جانب وفاقی سطح پر اب تک کتنی گندم خریدی گئی ، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے اہم اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں کسانوں کو درپیش مسائل اور اب تک دیے گئے ریلیف پر غور ہوگا

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب کے کاشتکاروں سے گندم کی خریداری جاری ہے،اب تک پنجاب کےکاشتکاروں سے 37 ہزار میٹرک ٹن ،پاسکو سے ایک لاکھ 35 ہزارمیٹرک ٹن گندم خریدی گئی ہے،بلوچستان میں گندم کی خریداری اب تک شروع نہ ہوسکی۔

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • گندم خریداری میں غفلت،وزیراعظم کا ایکشن،پاسکو افسران معطل

    گندم خریداری میں غفلت،وزیراعظم کا ایکشن،پاسکو افسران معطل

    گندم خریداری میں غفلت، وزیراعظم کا ایکشن، پاسکو کے ایم ڈی اور جی ایم پروکیورمنٹ کومعطل کردیا

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت گندم کی طلب، رسد اور خریداری پروگرام سے متعلق اجلاس ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ،اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے استفسار کیا کہ گندم کی خریداری کے عمل کے لیے موبائل ایپلی کیشن تیار کیوں نہیں کروائی گئی ؟ وزیراعظم شہباز شریف نے گندم خریداری کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ہدایات پر عمل نہ کرنے اور غفلت برتنے پر پاسکو کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر پروکیورمنٹ کو معطل کردیا،وزیر اعظم شہباز شریف نے گندم کی خریداری کا عمل شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال اور موبائل فون ایپلی کیشن تیار کرنے کی تاکید کی ، وزیراعظم نے پاسکو کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے کی بھی ہدایت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں گے، حکومت ملک میں غذائی تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن کوششیں کررہی ہے، کسان کے معاشی تحفظ کے لیے اجناس کی انشورنس کو یقینی بنایا جائے، پاسکو 4 لاکھ میٹرک ٹن اضافی گندم کی شفاف اور مؤثر طریقے سے خریداری کرے، کسان کا نقصان کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ،اچھی کارکردگی دکھانے والے پاسکو مراکز اور افسران کا انتخاب کیا جائے گا اور ان کی حکومتی سطح پر پذیرائی کی جائے گی۔

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی