Baaghi TV

Tag: گندم

  • گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم سیکنڈل،تحقیقات کیلیے عدالت میں درخواست دائر

    گندم سکینڈل کی نیب سے تحقیقات کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے

    درخواست شہری مشکور حسین نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے، درخواست میں وزیراعظم بذریعہ پرنسپل سیکرٹری، سابق نگران وزیراعظم، نیب اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے پہلے دو ماہ میں 7.78 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، حکومتی سطح پر بنائی گئی کمیٹی شفاف تحقیقات نہیں کر سکتی، حکومت خود گندم سکینڈل کا حصہ ہے، میرٹ پر تحقیقات ممکن نہیں،نیب کو گندم میگا سکینڈل کی تحقیقات کیلئے درخواست دی مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نیب کو گندم کے میگا سیکنڈل کی تحقیقات کا حکم دیا جائے، گندم سکینڈل کے محرکات کا تعین کر کے رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟  انوار الحق کاکڑ

    کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ انوار الحق کاکڑ

    کوئٹہ: سابق نگراں وزیراعظم وسینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ میں نے گندم کا معاملہ کبھی صوبوں یا کسی پر نہیں ڈالا،میرے دور میں گندم کی خریداری کا جو فیصلہ ہوا اُس کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں، اٹھارہو یں ترمیم کے بعد گندم خریداری کا ڈیٹا صوبے اکٹھا کرتے ہیں۔

    انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم کی خریداری کے دو طریقے ہیں پہلا یہ کہ حکومت عالمی مارکیٹ سے خریداری کرے اور سبسیڈ ائز ریٹ پر لوگوں کو دے تاکہ مارکیٹ مستحکم رہے، دوسرا طریقہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم امپورٹ کی اجازت دینا ہےبدقسمتی سے تیسرے اور اہم نقطے پر اس بحران کے باوجود بھی کوئی بات نہیں کررہا اور وہ یہ ہے کہ اگر آر این ڈی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) تھوڑی تحقیق کرے اور سرمایہ لگایا جائے تو چار ملین ٹن سے زائد کی پیداوار کی جاسکتی ہے۔

    سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے کا اصولی فیصلہ کیا ہے،وزیر …

    اُن کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے دور میں جب گندم درآمد کی گئی تو اُس وقت میں فوڈ اینڈ سیکیورٹی کا وزیر تھا اور دوسرے صاحب تو کابینہ میں بعد میں شامل ہوئے گندم درآمد کے حوالے سے صوبوں نے پی ڈی ایم حکومت کو سمری ارسال کی گئی جس کے بعد ہماری نگراں حکومت کے پاس یہ ڈیٹا آیا اور اُسی بنیاد پر قانون کے مطابق گندم درآمد کی گئی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور کو 22 کروڑ روپے مالیت کی 17 گاڑیوں کا تحفہ

    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے تحریک انصاف دور میں جاری ہونے والے ایس آر او کے تحت گندم درآمد کی اور اب بھی وہی قانون موجود ہے، اس کے علاوہ پرائیوٹ سیکٹر کیلئے کوئی اضافی قانون بنایا گیا اور نہ ہی اجازت لی گئی دعویٰ کیا جا ر ہا ہے کہ گندم درآمد پر 85 ارب کا نفع ہوا، کیا ہم نے کوئی کوکین منگوائی تھی جو چھ ماہ میں اتنا زیادہ نفع مل گیا؟ ایک طرف ہم پر داغ لگا یا جارہا ہے تو دوسری طرف خالص قانونی چیز (ایس آر او) کو غیر قانونی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ گندم امپورٹ کے معاملے پر کاکڑ صاحب اور مجھ سے انکوائری کی جائے۔

    ٹھٹھہ: زمین کے تنازعہ پر 2 گروپوں میں تصادم،بچوں سمیت 8 افراد زخمی

  • کیڑوں والی گندم کی امپورٹ پر وفاقی وزیر رانا تنویر  کانوٹس،انکوائری کمیٹی تشکیل

    کیڑوں والی گندم کی امپورٹ پر وفاقی وزیر رانا تنویر کانوٹس،انکوائری کمیٹی تشکیل

    کیڑوں والی گندم کی امپورٹ پر وفاقی وزیر رانا تنویر نےنوٹس لے لیا،

    2024 /2023 میں امپورٹ کی جانے والی گندم جس میں کیڑوں کی نشان دہی پر رانا تنویر نے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، ترجمان فوڈ سیکیورٹی کے مطابق تین رکنی کمیٹی کی سربراہی فوڈ کمشنر سید وسیم الحسن کریں گے ،وفاقی وزیر رانا تنویر کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کیڑوں والی گندم امپورٹ ہونے کی شفاف تحقیقات کرے گی ،کمیٹی ناقص اور کیڑوں والی گندم کی امپورٹ پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے گی، ناقص اور غیر معیاری گندم کی امپورٹ میں کون ملوث ھے اس کی شفاف تحقیقات کی جائے گی،

    وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اینڈ فوڈ سیکورٹی رانا تنویر کا کہنا تھا کہ کسی صورت میں کسانوں کا استحصال قابل قبول نہیں ہے،پاسکو کی جانب سے گندم کی خریداری کو شفاف بنانے کیلیے ایک مربوط حکمت عملی تشکیل دی ہے،گندم کی خریداری کو شفاف بنانے کیلیے تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں،کسان اور کاشتکار زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،کسان خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گندم درآمد سیکنڈل، شہباز شریف کا نام بھی آنے لگا

    گند م درآمد اسکینڈل میں موجودہ حکمران بھی ملوث نکلے، موجودہ حکمرانوں‌کا نام بھی آنے لگا، وزیراعظم شہبا زشریف کے وزارت فوڈ کے وزیر ہوتے ہوئے گندم کی درآمد کا انکشاف ہوا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویز کے مطابق موجودہ دور حکومت میں گندم درآمد کے وقت فوڈ سیکیورٹی کی وزارت بھی وزیراعظم شہبازشریف ہی کے پاس تھی، رواں مالی سال مارچ تک 283 ارب روپے کی گندم درآمد کی گئی، اس وقت وزیراعظم شہباز شریف ہی وزارت فوڈ کے انچارج وزیر تھے،بعد میں 3 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے رانا تنویر کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اضافی قلمدان دیا تھا ، ایک ماہ شہباز شریف اس کے وزیر رہے، وزیراعظم شہباز شریف نے گندم درآمد معاملے پر سیکرٹری فوڈ محمد آصف کو او ایس ڈی کردیا تھا،دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے ماہ 6 لاکھ 91 ہزار 136 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی جبکہ نگران دور میں 27 لاکھ 58 ہزار 226 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی تھی، مارچ 2024 میں 57 ارب 19 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی گندم درآمد کی گئی جبکہ فروری تک 225 ارب 78 کروڑ 30 لاکھ روپے کی گندم امپورٹ ہوئی، رواں مالی سال مارچ تک کل 34 لاکھ 49 ہزار 436 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی، یوں مارچ تک 282 ارب 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی گندم درآمد کی گئی،

    انوارالحق کاکڑ نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف حکومت پر ڈال دی
    سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر انہیں گندم تحقیقات کمیٹی نے بلایا تو ضرور جائیں گے، انکی حکومت نے گندم درآمد کرنے کا کوئی نیا قانون منظور نہیں کیا،انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی ذمے داری تحریک انصاف کی حکومت پر ڈال دی اور کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر کو گندم کی درآمد کی اجازت دینے کا ایس آر او پی ٹی آئی حکومت نے جاری کیا تھا، ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہی ایس آر او 2 سال تک پی ٹی آئی حکومت میں اور 16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت اور آج کی حکومت میں بھی لاگو ہے، ای سی سی نے 30 سے 40 لاکھ ٹن گندم کی ضرورت کی بات کی، فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری خزانے کی بجائے یہ گندم پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے منگوائی جائے، 60 کمپنیوں نے یہ گندم درآمد کی، 400 ارب گندم کی بات انسپکٹر جمشید کی کہانی کی طرح ہے، تحقیقاتی کمیٹی بلائے گی تو وہ پیش ہوں گے، پرائیوٹ سیکٹر کی بڈنگ حکومت کا کام نہیں، گندم سرکاری خزانے سے درآمد کرنے کو منع کردیا تھا، گندم آرڈر چند دن کے اندر پہنچنا معمول ہے، فرانس کی کمپنی کے پاس فلوٹنگ ویسل ہیں، جو دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جہاں ڈیمانڈ ہوتی ہے، وہاں فرانس کی کمپنی اشیا فوراً بھیج دیتی ہے،

    جماعت اسلامی کا کسانوں کے مطالبات کی عدم منظوری پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان
    جماعت اسلامی نے کسانوں کے مطالبات نہ ماننے پر لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کردیا ہے، ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کسانوں کے حق کےلیے احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا ہے،جماعت اسلامی کے زیراہتمام منگل تک احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے، آئندہ 2 دن میں ملک میں احتجاجی کیمپ اور مظاہروں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو منگل تک کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ گندم خریدیں،6 مئی تک حکومت نے مطالبات نہیں مانے تو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان ہوگا

    خیبر پختونخوا حکومت نے گندم خریدنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں،وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورو کا کہنا ہے کہ گندم کا معیار جانچنے کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، گندم خریداری مہم 7 مئی سے شروع کی جائے گی، خریداری مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائے گی،گندم خریداری ایپ متعارف کروائی گئی ہے، شکایات کےلیے مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، گندم خریداری مہم میں شفافیت یقینی بنائیں گے، 24 گھنٹے کے اندر بینک کے ذریعے کاشتکاروں کو ادائیگی ہوگی، محکمہ خوراک نے ایس او پی سے متعلق تمام متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری کر دیا

    گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے’ ہمایوں اختر خان
    سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں دانستہ تاخیر کے باعث کسان مڈل مین کے رحم و کرم پر ہے ،ایسے حالات میں جب ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے گو مگو کی صورتحال کی وجہ سے کسان شدید تشویش میں مبتلا ہے ،حکومت مستقبل میں اس طرح کے حالات سے بچنے کیلئے کسانوں کیلئے وئیر ہائوسز کی سکیم کو فعال کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حلقہ این اے 97کے دورہ کے موقع پر کسانوں ، سماجی شخصیات اور علاقہ عمائدین سے ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہمایوں اختر خان نے عطا المصطفیٰ، رانا تنویر، ملک شہباز،اسد اقبال،حافظ نعیم،میاں عبد الرحمان،رانا مشتاق، غلام رسول آرائیں،ملک وریام،ملک نصیر ، ملک عمران نمبردار ،رانا محمد شہزاد،وقار حسین اور دیگر سے ملاقاتیں کر کے حلقے کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ہمایوں اختر خان نے مختلف شخصیات سے انتقال کر جانے والے ان کے عزیز و اقارب کے انتقال پر اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی ۔سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا کہ ہم کسان کے ساتھ ہیں اور اس کے استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں ، آج کسان کے پاس آئندہ فصل کاشت کرنے کیلئے سرمایہ نہیں ہے ، حکومت فی الفور اعلان کردہ نرخوں پر گندم کی خریداری شروع کرے ، حکومت نے مشکل حالات میں ہاتھ نہ تھاما تو کسان متنفر ہو جائے گا جس کے انتہائی منفی اثرات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ وئیر ہائوسز کی سکیم فعال ہو تاکہ کسان اپنی فصل رکھوا کر اس کے عوض مالی معاونت حاصل کر کے آئندہ فصل کی تیاری کر سکے ، ہم اپنے ساتھیوں کے ذریعے اس آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچائیں گے

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

  • سابق نگران وزیر فوڈ سکیورٹی کا  گندم امپورٹ کی ذمے داری لینے سے انکار

    سابق نگران وزیر فوڈ سکیورٹی کا گندم امپورٹ کی ذمے داری لینے سے انکار

    اسلام آباد: سابق نگران وزیر فوڈ سکیورٹی کوثر عبداللہ نے گندم امپورٹ کی ذمے داری لینے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کوثر عبداللہ نے کہا کہ نگران دور میں وزیر کو دکھائے بغیر سمری منظور کرنے کا کلچر فروغ پا چکا تھا،سیکرٹریز اور اسٹیبلشمنٹ ایسا یہ کہہ کر کرتے تھے کہ نگران وزیر تو 4 دن کیلئے ہیں،میں نے گندم درآمد کرنے کی مخالفت کی تھی جبکہ نجی شعبے کو گندم منگوانے کی اجازت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی تھی۔

    دوسری جانب سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ میں از خود بھاگا بھاگا کمیٹی میں نہیں جائوں گا،اگر مجھے کمیٹی باضابطہ طلب کر ے گی تو میں ضرور پیش ہوں گا،کہا جا رہا ہے ہمارے دور میں گندم امپورٹ ہوئی جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی،دوسرا چارج یہ آرہا ہے کہ ہم نے کرپشن کی اس وجہ سے گندم امپورٹ کی۔

    سعودی سرمایہ کاروں کا اعلیٰ سطحی وفد پاکستان پہنچ گیا

    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں امپورٹ بل آرڈر پی ٹی آئی کی حکومت کا ہے ،ہم نے کوئی نیا ایس آر او جاری نہیں کیا،ہم ایس آر او کے تحت تسلسل سے یہ کام کررہے تھے،جوڈیٹا جمع ہواوہ پی ڈی ایم حکومت کے آخری دنوں میں ہوا،پی ڈی ایم حکومت نے فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا،ہم نے صرف یہ فیصلہ کیا کہ پاکستانی حکومت ریاست کاپیسہ استعمال نہیں کرے گی، ہم نے فیصلہ دیا کہ ہم خریداری نہیں کریں گے پرائیوٹ سیکٹر کو کرنے دیں،ہم نے گندم امپورٹ کرنے کی پرائیوٹ سیکٹر کو خصوصی اجازت نہیں دی ،جو ایس آر او تھا اس کے تحت پرائیویٹ سیکٹر خود امپورٹ کر سکتے تھے۔

    حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،نیتن یاہو

    انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ گندم کے حوالے سے مس مینجمنٹ کے مسائل تھے،ہم نے پاکستان کی سرکار کا پیسہ بچایا،ہم نے جو فیصلہ کیا اس میں 2.4ملین ٹن کے گیپ کوسنبھالنا تھا،جو اضافی گندم کا واویلا ہے وہ صرف3،ساڑھے تین ٹن ہے،3،ساڑھے 3ٹن گندم صرف تین روز کی کھپت کیلئے ہے،3پارٹیاں ایسی ہیں 50،60فیصد امپورٹ ان کے حصہ میں آئی، سب کے سب نے ہمیں چور ڈکلیئر کیا،اگر کسی نے طلب کیا تو ہم ضرور معاونت کریں گے،میں پاکستان کے عوام کی عدالت میں ہوں،کتے کی خوراک منگوانے پر ڈالر خرچ کرنے پر کسی کواعتراض نہیں،سستی روٹی ملنے پر سب کو تکلیف ہے،اگر کسی کو پولیٹیکل اورالیکٹورل پراسس پر اعتراض ہے تو فورم موجودہیں،یہ فورم انہوں نے بنائے ہیں میں نے نہیں بنائے،بہت سارے لوگ 85ارب ،300ارب کی کہانی ہم پر تھوپی جا رہی ہے۔

    شہر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے، اسٹریٹ کرائم کے واقعات پر …

  • جماعت اسلامی کا 1.1 ارب ڈالر کی مہنگی گندم کی تحقیقات کا مطالبہ

    جماعت اسلامی کا 1.1 ارب ڈالر کی مہنگی گندم کی تحقیقات کا مطالبہ

    اسلام آباد: جماعت اسلامی نے گندم کی بنیادی قیمت میں اضافے اور 1.1 ارب ڈالر کی مہنگی گندم کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا –

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں عوامی استقبالیہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کہا کہ کسانوں کو پوری قیمت اور بار دانہ فراہم کیا جائے، ہم حکومت کو کسانوں سے گندم خریداری کیلئے 6مئی کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں نگراں حکومت نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچایاجس کی تحقیقات ہونی چاہیئے ۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والی حکومت کہتی ہے ملک میں معاشی ریفارمز کرنا چاہتے ہیں، 4 فیصد اشرافیہ کے پاس ملک کی 70 فیصد زرعی زمین ہے ،اشرافیہ گندم ایکسپورٹ اور ایمپورٹ اپنی مرضی سے کرتے ہیں،76 سال سے پاکستان آزاد نہیں، ہمیں غلام بناکر رکھا گیا ہےاب سب کو اپنی اپنی آئینی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا، ہم آئینی و قانونی جدوجہد کریں گے، سڑکوں پر آئیںگے،اے ٹی ایم، آٹا مافیا، چینی مافیا اور سوسائٹی مافیا کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔

    پی سی بی کی پی ایس ایل کے چار پلے آف نیوٹرل وینیو …

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان توڑنے والے تین کردار تھے، جنرل یحیی، بھٹو اور شیخ مجیب ،کوئی شیخ مجیب کو مظلوم بتائے نہ بھٹو کو نہ یحیی خان کو، حالانکہ ان تینوں کا ملک توڑنے میں برابر کا حصہ ہے پاکستان کے یہ حالات اس لیے ہیں کہ یہاں عدل و انصاف نہیں ہے یہ ملک اس لیے حاصل کیا گیا کہ ہم سامراج سے آزادی حاصل کریں گے، قائد اعظم کے ساتھ پوری لیڈرشپ تھی بعد میں اشرافیہ مسلط ہو گئی نفرتوں کے بیج بو کر بنگلہ دیش کو ہم سے الگ کر دیا گیا۔

    گندم اسکینڈل:تحقیقاتی کمیٹی کی انوارالحق کاکڑ اور محسن نقوی کو طلب کرنے کی خبروں …

    دوسری جانب چئیرمین کسان اتحاد کونسل خالد حسین باٹھ کا کہنا ہے کہ حکومت نے فلور ملز کو باہر سے منگوائی گئی گندم 4500 روپے فی من میں بیچی اور پنجاب گورنمنٹ کی جو گندم پڑی تھی اس کا انہوں ریٹ 4600 روپے فکس کردیا کہ فلور ملز والے وہ گندم خریدیں گے تو 4600 روپے میں خریدیں، فلور ملز طاہر سے 100 روپے کلو والی گندم ہی خریدیں گی، آج اگر آپ نے کسان کو ریلیف نہ دیا اس سے گندم نہ خریدی تو اگلے سال کسان نے گندم کاشت نہیں کرنی، جس سے آپ کو جو نقصان ہونا ہے وہ کبھی آپ پورا نہیں کرسکتے ، آپ کے پاس اتنے ڈالر نہیں ہیں کہ باہر سے گندم منگوا سکیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے بطورگورنرخیبرپختونخوا حلف اٹھالیا

  • گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمدسیکنڈل،ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے، وزیراعظم

    گندم درآمد سکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے، وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو نگران حکومت میں گندم کی درآمد کی ہر لحاظ سے مکمل شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا،وزیراعظم شہباز شریف نے دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات کو سامنے رکھ کر سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ،وزیراعظم نے سیکرٹری کابینہ کو پیر تک حتمی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجھے ذمہ داروں کا واضح تعین کرکے بتایا جائے کوئی لگی لپٹی مت رکھیں۔

    سیکرٹری کابینہ کی سربراہی میں دوسری انکوائری کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔ کمیٹی آج چھٹی کے باوجود بھی پہلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی۔

    گندم بحران کا زمہ دار کون ، قائد ن لیگ نے پیر کو وزیر اعظم کو بلا لیا,

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

    قبل ازیں گندم بحران کو لے کر مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی اور سابق وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک دوسرےپر الزامات کی بھر مار کر دی،دونوں کے درمیان گندم اسکینڈل پر تلخ کلامی ہوئی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ایک نجی ہوٹل میں ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔انوارالحق کاکڑ نے حنیف عباسی سے کہا کہ گندم معاملے پر آپ نے ہم پر انگلی اٹھائی ہے کیا گرفتار کرنے آئے ہیں؟ جس پر حنیف عباسی نے کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں آپ چور ہو اور گندم اسکینڈل میں پیسےکھائےہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ میں نے پروگرام میں جو بھی گفتگو کی وہ بالکل درست تھی۔ جواب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ فارم 47 پر بات کی تو آپ اور ن لیگ کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملےگی۔

    دوسری جانب وزیراعظم آفس کو اعلی متعلقہ حکام نے گندم کے حوالہ سے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ نگراں حکومت کے دور میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نجی شعبے کو مقررہ حد کی بجائے کھلی چھوٹ دی گئی ،گندم کے ٹریڈرزنے اربوں روپے کا کھیل کھیلا،کسٹم ڈیوٹی اور جی ایس ٹی کی چھوٹ بھی دی گئی، نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کی منظوری ملنے کے بعد وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے سمری ارسال کی ۔وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی نے وزارت تجارت اور ٹی سی پی کی اہم تجاویز کو نظرانداز کیا ،منظم منصوبے کے تحت اضافی گندم درآمد ہوئی جس سے 300 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا پاسکو اور صوبائی محکمے مطلوبہ ہدف 7.80 کی بجائے 5.87 ملین ٹن گندم خرید سکے 28.18 ملین ٹن گندم پیدا ہوئی،2.45 ملین ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    گندم درآمدی اسکینڈل کی تحقیقات کے معاملے میں اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ 13 ہزار سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجود گندم درآمد کی گئی، وزیراعظم شہباز شریف کو بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا، وزیراعظم نے لاعلم رکھنے پر سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹایا، گندم کی درآمد نگران حکومت کے فیصلے کے تحت موجودہ حکومت میں بھی جاری رکھی گئی، وزارت خزانہ نے نجی شعبے کے ذریعے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی، وزارت خزانہ نے ٹی سی پی کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی سمری مسترد کی، درآمدی گندم بندرگاہ پر 93 روپے 82 پیسے فی کلو میں پڑی، وزارت بحری امور کو درآمدی گندم کی بندرگاہوں پر پہنچ کر ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی، اجازت نامے میں ضرورت پڑنے پر سمری پر نظرثانی کا بھی آپشن رکھا گیا، گزشتہ سال صوبوں سے گندم کی خریداری کا ہدف 75 فیصد حاصل ہوا تھا، نگران حکومت کے دور میں 200 ارب روپےسے زیادہ کی گندم درآمد کی گئی

    تحریک انصاف کے رہنما عون عباسی کا کہنا ہے کہ جب نگران حکومت نے گندم امپورٹ کی اجازت دی تب حکومت کے پاس 48، پرائیوٹ سیکٹر کے پاس 65 لاکھ ٹن گندم موجود تھی، 22 اکتوبر 2023 کو گندم امپورٹ کی اجازت ملی، 1 نومبر کو پہلا، 5 نومبر کو دوسرا اور تیسرا جہاز کراچی پہنچ گیا جبکہ یوکرین سے گندم امپورٹ میں 25 دن لگتے ہیں۔ جب پرائیوٹ سیکٹر کی یوکرین سے گندم 2900 میں آئی تب پنجاب حکومت نے اپنی گندم 4600 سے کم میں بیچنے سے انکار کر دیا اور پھر کسی ایک شخص کی 2900 میں آئی گندم 4 ہزار سے 4200 میں مارکیٹ میں بکی، اسکے علاوہ مارچ، اپریل 2024 میں بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوئی ہے۔ نگران اور پی ڈی ایم حکومتوں نے systematically کسان کو تباہ حال کیا ہے۔ ن لیگ کی حکومت سوائےاپنے منظور نظروں کے کسی کو باردانہ تک نہیں دے رہی۔ نگران سیٹ اپ اور بالخصوص موجودہ حکومت گندم کے بحران کے ذمےداران ہیں،

  • وزیراعظم نے گندم کی درآمد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    وزیراعظم نے گندم کی درآمد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    اسلام آباد: ‏وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں گندم کے ذخائر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا-

    باغی ٹی وی : اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللّٰہ کے فضل و کرم سے رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے،یقینی بنایا جائے کہ گندم کی خریداری میں کسی قسم کی دیر نہ ہوگندم کی خریداری کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں،کسانوں کو ان کی محنت کا معاوضہ جلد پہنچایا جائے۔

    وزیرِاعظم نے گزشتہ برس گندم کی درآمد کے حوالے سے وزارت قومی غذائی تحفظ سے استفسار کیا کہ گزشتہ برس گندم کی اچھی پیداوار کے باوجود گندم کی درآمد کا فیصلہ کن وجوہات کی بنا پر لیا گیا،وزیراعظم نے گندم کی درآمد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی،سیکرٹری کابینہ ڈویژن انکوائری کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، جام کمال خان، وزیرِاعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضال اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    وزیراعظم نے کسانوں کی شکایات کالیا نوٹس،فوری گندم خریداری کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب روانگی سے قبل کسانوں کے لیے بڑا قدم سامنے آیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے کسانوں کی شکایات پر سخت نوٹس لیا اور فوری کارروائی کی ہدایت کی،وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی طرف سے کسانوں سے گندم کی فوری خریداری کا حکم دیا،وزیراعظم نے وفاقی حکومت کا گندم خریداری کا 1.4 ملین میٹرک ٹن کا ہدف بڑھا کر 1.8 ملین میٹرک ٹن کردیا ،وزیراعظم کی جانب سے پاسکو کو گندم خریداری کا ہدف بڑھانے اور فوری خریداری یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے،وزیراعظم نے گندم کی خریداری کے حوالے سے پاسکو کو شفافیت اور کسانوں کی سہولت کو ترجیح دینے کی ہدایت کر دی

    قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لئے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں،وزیر اعظم محمد شہباز شریف عالمی اقتصادی فورم کے عالمی تعاون، ترقی اور توانائی کے حوالے سے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لئے آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچیں گے۔وزیراعظم کو عالمی اقتصادی فورم کے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم عزت مآب محمد بن سلمان آل سعود اور عالمی اقتصادی فورم کے بانی اور چیف ایگزیکٹو کلائوس شویب کی جانب سے دی گئی ہے،وزیراعظم عالمی صحت، فنانشل ٹیکنالوجیز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جامع ترقی، علاقائی تعاون، اور عالمی ترقی کے تناظر میں توانائی کے متوازن استعمال کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھیں گے۔عالمی اقتصادی فورم کے اس خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر وزیراعظم کی اہم عالمی رہنماؤں، عالمی اداروں کے سربراہان اور دیگر اہم شخصیات سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    چنیوٹ: گندم کی قیمت 5000 فی من مقرر کی جائے،کسانوں کا مطالبہ

    دوسری جانب جنوبی پنجاب میں 18 اپریل سے جاری بارشوں کی وجہ سے 64 لاکھ ایکڑ پر کاشت کی گئی فصل بری طرح متاثر ہوگئی ہے،پنجاب حکومت نے 22 اپریل سے گندم خریداری شروع کرنا تھی، گندم خریداری میں تاخیر کے باعث کسان اپنی کاشت کی گئی گندم کو شہر کی سڑکوں پر بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں،چیئرمین کسان اتحاد حسیب انور نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی مقرر کردہ امدادی قیمت پر گندم کی خریداری یقینی بنائے ہم 29 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے، مطالبہ پورا ہونے تک بیٹھے رہیں گے

    حکومت نے گندم کی درآمد اور آٹا کی برآمد کی اجازت دیدی

    گندم کی قیمت میں مزید کمی کے امکانات موجود

  • پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا،

    پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گندم کے معاملے پر ایوان کی جانب سے خاص اقدام کے منتظر ہیں، سندھ حکومت کے ساتھ پسکو نے کوئی تعاون نہیں کیا، ہمیں درآمدات پر پابندی کا بتایا جاتا ہے، نگراں حکومت نے گندم کیسے درآمد کی؟ یہ بہت بڑا سکینڈل ہے، اس پر انکوائری کی جائے،

    حکومتی بینچز خالی ہیں، اس سیشن پر عوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے،کہاں ہیں یہ لوگ، عمر ایوب
    قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی بینچز خالی ہیں، اس سیشن پر عوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے،کہاں ہیں یہ لوگ، رینٹ اے پرائم منسٹر میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میری تقریر سنتے،بتایا جائے دو اڈے کس نے گروی رکھے؟بجلی کا یونٹ 85 روپے تک پہنچ گیا ہے۔جیب تراشوں کی حکومت ہے۔ منسٹرز کی اسمبلی میں موجودگی کے لئے رولنگ دی جائے۔شوق پورا کرنے کیلئے بچے مختلف یونیفارم پہنتے ہیں، وزیراعلی پنجاب آج پولیس یونیفارم پہن کر آگئیں، یہ کیا مذاق ہے؟، اس ملک میں کیا ہورہا ہے، دنیا مذاق اڑا رہی ہے،

    کسی بھی شہری کا نام مقدمات کی بنیادپر ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے،عطا تارڑ
    اراکین قومی، صوبائی اسمبلی کے نام سفری پابندی کی فہرست، پی این آئی ایل اور بلیک لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس ایوان میں پیش کر دیا گیا،توجہ دلاؤ نوٹس اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے پیش کیا،وفاقی وزیر عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس لسٹ کے قواعد و ضوابط بنے ہوئے ہیں، بہت سے موجودہ حکومتی اراکین کے نام بھی ای سی ایل میں موجود تھے، رکن پارلیمنٹ ہونا یا نہ ہونا معنی نہیں رکھتا، کسی بھی شہری کا نام مقدمات کی بنیادپر ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے، اگر یہ ناموں کی فہرست فراہم کریں تو ہم ای سی ایل میں ڈالے جانے کی وجہ بتا سکتے ہیں،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہم آج صبح بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ بھگت کر آ رہے ہیں،یہ سرکس والی حکومت ہے، ملک کے نظام کو بھونڈا نہ بنائیں،

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ نے قومی اسمبلی اجلاس میں گندم کی قیمت، کسانوں کے مسائل پر توجہ دلائی،خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جائے کہ پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا۔پی آئی اے کی نجکاری پر اراکین اسمبلی کو بریفنگ دی جائے۔کس کو دی جا رہی، کب دی جا رہی ، اس ضمن میں جواب ملنا چاہئے،مارچ کے مہینے میں گندم اترتی ہے، اس وقت امپورٹ کرنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے

    پارلیمانی جماعتوں کو عددی اکثریت کے حساب سے قائمہ کمیٹیوں کی صدارت دینے کا فیصلہ
    دوسری جانب پارلیمنٹ میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کو عددی اکثریت کے حساب سے قائمہ کمیٹیوں کی صدارت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو 13، پیپلز پارٹی کو آٹھ ، سنی اتحاد کونسل کو آٹھ کمیٹیوں کی‌صدارت دی جائے گی،استحکام پاکستان پارٹی کو بھی ایک قائمہ کمیٹی کی صدارت دی جائے گی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دی جائے گی تاہم نام کا فیصلہ حتمی سپیکر کریں گےایک ہفتے میں فیصلے کر لئے جائیں گے

    وزیراعظم نے گندم امپورٹ کرنے کا نوٹس لے لیا
    قبل ازیں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے گندم امپورٹ کرنے کا نوٹس لے لیا ہے گندم امپورٹ کیوں کی گئی وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا ہے،ایوان کو یقین دلاتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا چھوٹے کسانوں کو تاریخی ریلیف دینے جارہے ہیں پاکستان میں سترہ فیصد فوڈ سکیورٹی ہوتی ہے صوبوں کو کہا ہے گندم کی خریداری کا ٹارگٹ پورا کریں ان خیالات کا اظہار انہوں گندم کی خریداری میں مسائل پر جاری بحث پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گندم خریداری کی ذمہ داری صوبوں کی ہے ہمارے پاس پاسکو ہے وہ صرف سٹریٹیجک کے لیے گندم خریدتا ہے وزیر اعظم کی ہدایت پر چاروں صوبوں کو گندم کی فوری خریداری کیلئے خط لکھا ہے کوشش کررہے ہیں آنیوالے چار پانچ دن میں چیزوں کو بہتر کرلیں کسانوں کو سبسڈی دینے کا میکنزم بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مڈل مین اور افسران گندم کی قیمتوں ردو بدل میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف انکوائری کی جائے گی ،وزیراعظم نے گندم امپورٹ کرنے کا نوٹس لے لیا ہے گندم امپورٹ کیوں کی گئی وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا ہے،ایوان کو یقین دلاتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا وزیراعظم بھی اس حوالے فکر مند ہیں ہماری حکومت جب بھی آئی کسانوں کی بہتری کیلئے کام کیا چھوٹے کسانوں کو تاریخی ریلیف دینے جارہے ہیں پاکستان سترہ فیصد فوڈ سکیورٹی ہوتی ہے صوبوں کو کہا ہے گندم کی خریداری کا ٹارگٹ پورا کریں،

    کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو ،ملکر طےکرتے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی

    متروکہ وقف املاک کی 14 سو47 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے،وزیر قانون

    عمران خان کی سابق معاون خصوصی کو حکومت میں عہدہ مل گیا

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری