Baaghi TV

Tag: گوادر

  • گمراہ عناصر بلوچستان کےعوام اورمسلح افواج کےعزم کومتزلزل نہیں کرسکتے،آرمی چیف

    گمراہ عناصر بلوچستان کےعوام اورمسلح افواج کےعزم کومتزلزل نہیں کرسکتے،آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بلوچستان میں سی پیک کا جائزہ لینے کے لئے گوادر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی عمائدین سے بھی ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ گوادر کے موقع پر سیکیورٹی کی صورتحال ،،پرامن اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کی کوششوں پر بریفنگ دی گئی گوادر کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور بھی موجود تھے-

    بھارتی فوجی افسران کی سرکاری فنڈزپرعیاشیاں اور شاہ خرچیاں، نوجوان نالاں،عام فوجیوں سے امتیازی سلوک …

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی منتخب نمائندوں اورمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات ہوئی آرمی چیف نے بلوچستان کے لیے پیشہ ورانہ عزم کے ساتھ کام جاری رکھنے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر گمراہ عناصر بلوچستان کے عوام اور مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اس موقع پر آرمی چیف نے علاقے کی سماجی و اقتصادی ترقی پر خاص زور دیا۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تعلیم، سولر سسٹم کی تنصیب، ماہی گیری، پانی، صحت، کھیل اور معاش سے متعلق فلاحی منصوبوں کا اعلا ن کیا۔

    الیکشن کمیشن کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں گے،راناثنا اللہ

  • گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال،کئی شہروں میں بندش میں توسیع

    گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال،کئی شہروں میں بندش میں توسیع

    چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کے گزشتہ روز کے دورہ صحبت پور کے دوران دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے سیکریٹری اجلاس میں شریک تھے ،چیف سیکریٹرینے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل جاری رکھنا وفاق کی اولین ترجیح ہے ۔وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت صوبے میں ترقیاتی عمل پر تیزی سے عملدرآمد کررہی ہے۔ وزیراعظم نے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کا وعدہ کیا ہے ۔پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کیۓ جارہے ہیں ۔صحبت پور سمیت سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کی بحالی میں وزیراعلئ میر عبدالقدوس بزنجو کی مکمل رہنمائی اور تعاون حاصل ہے وزیراعلئ بحالی کے اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم نے بدھ کے روز سیلاب سے متاثرہ ضلع صحبت پور کا دورہ کیا ۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے متاثرین اور ماڈل اسکول کی بحالی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم کی ہدایت پر کلی جیا خان ماڈل اسکول میں جنگی بنیادوں پر طلباء کے لئے ہاسٹل، گراؤنڈ اور میس بنائے جائیں ۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 24 گھنٹے کام کرم جاری رکھا جائے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ پورے بلوچستان میں 12 دانش سکول قائم کئے جائیں گے ۔ وزیراعظم بلوچستان کو دیگر صوبوں کے ساتھ مساوی ترقی دینا چاہتے ہیں ۔۔سکولوں میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام، بس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ،کیسکو متعلقہ ضلع میں لوڈ شیڈنگ کم سے کم کرے۔

    چیف سیکریٹری نے متعلقہ علاقے میں صحت کی بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی بھی ہدایت کی، اور کہا کہ رواں برس اپریل میں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بلوچستان کی ترقی اولین ترجیح رہی ۔حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد وفاقی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے کئی منصوبوں کی منظوری بھی دی

    دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے، گوادر میں صورتحال بہتر ہے شہری حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے بعد دس روز کی بندش کے بعد گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس کی بحالی اور دیگر موثر اقدامات جاری ہیں ،صوبائی حکومت گوادر کے عوام کے مسائل کا ادراک رکھتے ہوئے ترجیحی اقدامات اٹھا رہی ہے ۔حکومت بلوچستان نے گوادر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد تھری جی اور فور جی انٹر نیٹ سروسز بحال کر دیں۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے گوادر شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند کی تھیں ۔گوادر شہر میں کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہیں ۔گودار پورٹ بھی مکمل طور پر فعال ہے پورٹ پر گزشتہ ہفتے سامان سے لدے بحری جہاز لنگر انداز بھی ہوئے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے گوادر شہر میں انٹر نیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حکومت بلوچستان نے گوادر شہر میں موبائل سروس گزشتہ ہفتے ہی بحال کر دی تھی ۔ساحلی شہروں میں امان و امان کی مکمل بحالی تک انٹرنیٹ سروس کی بندش کو توسیع دی گئی حق دو تحریک کے مسلح مظاہرین کی جانب سے سرکاری دفاتر اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے باوجود حکومت اور پولیس فورس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اس امر کو مد نظر رکھا گیا کہ اپنے عوام اور ان کی مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جائے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے نہ تو امن و امان کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہو اور نہ شہریوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔ پولیس اور انتظامیہ نے مشتعل گروہ کو کنٹرول کرتے ہوئے گوادر شہر کو بے امنی اور افراتفری سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اس دوران پولیس اہلکارنے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ حکومت اشتعال پھیلانے والی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے گوادر کے عوام کے دیرنیہ مسائل کا نکال رہی ہے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں حالات معمول پرآ گئے

    پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں حالات معمول پرآ گئے

    گوادر: پاکستانی میڈیا کے مطابق گوادر کے مختلف علاقوں میں بازار کھل گئے ہیں اور حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ گوادر کے ڈپٹی کمشنر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی دستوں نے عوام کے تعاون سے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ اقدامات انجام دیئے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مطابق کارو باری مراکز دوبارہ کھل گئے ہیں اور بندرگاہی نیز شہری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوگئی ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق گوادر کے، کسی بھی علاقے سے سنیچر کو ہڑتال اور احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ اسی کے ساتھ بعض رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شہر گوادر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور لوگ گھروں ‎سے نکلنے سے گریز کر رہے ہیں ۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقے گوادر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے باوجود حق دو تحریک کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گزشتہ چار دن میں مختلف علاقوں میں پر تشدد واقعات بھی رونما ہوئے ۔ بتایاگیا ہے کہ گوادر میں اب تک سو سے زائد افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو نے خبردار کیا ہے کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انھوں نے الزام لگایا کہ پر تشدد مظاہرے کرنے والوں اور خواتین سے انسانی ڈھال کے طور پر کام لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    بھارتی کرکٹر ٹریفک حادثے میں زخمی، گاڑی جل کر ہوئی راکھ

    دوسری طرف گوادر کو حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت اللہ نے پولیس اور انتظامیہ پر طاقت کے استعمال سے مظاہرین کی سرکوبی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم موٹروے اور اورینج لائن نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق جیسے پانی بجلی اور نوکریوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم کئے جانے تک مظاہرے جاری رہیں گے ۔ انھوں نے اسی کے ساتھ اپنے سبھی گرفتار ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    کراچی؛ ڈاکوؤں نے دکاندار اور وہاں موجود دیگر لوگوں کو لوٹ لیا

  • گوادر:پاکستان کوسٹ گارڈزکی بڑی کاروائی، 50 ملین سے زائد مالیت کی منشیات پکڑ لی

    گوادر:پاکستان کوسٹ گارڈزکی بڑی کاروائی، 50 ملین سے زائد مالیت کی منشیات پکڑ لی

    گوادر: پاکستان کوسٹ گارڈز کی خفیہ اطلاع پر بڑی کاروائی ،935 کلوگرام چرس اور 80 کلوگرام کرسٹل برآمد کر لیا-

    باغی ٹی وی : ترجمان کوسٹ گارڈز کے مطابق نامعلوم اسمگلر منشیات کی بھاری کھیپ کو سمندر کے راستے سے بیرون ملک منتقل کرنا چاہتے تھے،برامد شدہ منشیات میں 935 کلوگرام چرس اور 80 کلوگرام کرسٹل شامل ہیں-


    ترجمان کوسڑ گارڈ کے مطابق پکڑی گئی منشیات کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں 50 ملین روپے سے زائد ہے.

    قبل ازیں اینٹی نارکوٹکس فورس نے لاہورمیں ادویات تیارکرنے والی فیکٹری پرچھاپا مارا ملزمان ممنوعہ کیمیکل کیٹامائن سے منشیات تیار کررہے تھے، فیکٹری سے 50 کلو کیٹا مائن اور دو گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی،ملزمان دیگر فارما کمپنیوں سے دواسازی کی آڑ میں کیٹامائن خرید کر منشیات بناتے اور اسمگلرز کو بیچتے تھے ادویات کی آڑ میں تیار ہونے والی منشیات تعلیمی اداروں میں طلباء کو فروخت کی جاتی تھی، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

  • پاکستان میں تعنیات جرمن سفیر کا گوادر کا دورہ ، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    پاکستان میں تعنیات جرمن سفیر کا گوادر کا دورہ ، سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    گوادر : پاکستان میں تعنیات جرمن سفیر الفریڈ گرنیس نے گوادر کے دورے کے دوران سرمایہ کاری کےمختلف ذرائع میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان میں تعنیات جرمن سفیر الفریڈ گرنیس نے گوادر کا دورہ کیا ، کراچی میں تعینات جرمن قونصل جنرل ڈاکٹر رو ڈیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    اس موقع پر ڈاٸریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی مجیب الرحمن قمبرانی نے جرمن سفیر کو گوادر میں ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے متوقع زراٸع سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ گوادر اپنی قدرتی جغرافیاٸی محل وقوع کے بدولت عالمی سطح پر معاشی اور اسٹریٹجک کے لحاظ سے ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔

    مجیب الرحمن قمبرانی کا کہنا تھا کہ گوادر کی عالمی اہمیت کے پیش نظر جی ڈی اے نے اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان مرتب کرکے اس پر عملدرامد کررہی ہے، جس کے تحت شہر میں انٹرنشنل لیول کی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    کاغذات نامزدگی کیساتھ نیا حلف نامہ،زیرکفالت افراد کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب

    ڈی جی گوادر نے مزید کہا گوادر ایک سیاحتی و معاشی حب کے طور پر ابھرے گا، جہاں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع دستیاب ہوں گے گوادر انٹرنشنل اٸیرپورٹ اگلےسال مکمل ہوجاٸے گا، جو دنیا کو گوادر تک رساٸی فراہم کرنے کا مختصر ترین زریعہ ہوگا۔

    جرمن سفیر جرمن سفیر نے سرمایہ کاری کے مختلف ذراٸع پر بات چیت کرتے ہوئے دلچسپی کا اظہار کیا اور گوادر ماسٹرپلان کے تحت شہر کی بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی اور معاشی منصوبوں کی تعریف کی۔

    گوجرہ : مسلح ڈاکو آڑھتی سے موٹر سائیکل،نقدی وغیرہ چھین کرفائرنگ کرتے ہوئے فرار

  • چینی کمپنی نے گوادر میں 4.5 بلین ڈالر کے آئل ریفائنری منصوبے کا آغاز کر دیا

    چینی کمپنی نے گوادر میں 4.5 بلین ڈالر کے آئل ریفائنری منصوبے کا آغاز کر دیا

    گوادر: چینی فرم ایسٹ سی گروپ لمیٹڈ (ای ایس جی ایل) نے گوادر میں 4.5 بلین ڈالر کی آئل ریفائنری قائم کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا –

    باغی ٹی وی : ویب سائٹ گوادر پروکی رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ کی سالانہ آئل پروسیسنگ صلاحیت 8 ملین ٹن ہو گی گوادر پرو کے مطابق یہ منصوبہ 2مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں ریفائننگ کی سالانہ صلاحیت 5 ملین ٹن ہوگی۔

    برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے،وزیر خارجہ

    ایسٹ سی گروپ پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر ہر ماہ کم از کم 6خام تیل کی ترسیل کے جہاز رکھے گاجو کہ اپنے تیل کے ذرائع کے کاروبار سے شروع ہو کر اس کی حمایت کرے گا اور مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے تیل کی ترسیل کی خدمات بھی فراہم کرے گا۔

    آئل ریفائنری کی تعمیر کا خیال جون 2022 میں چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی (سی او پی ایچ سی) کے چیئرمین ژانگ باؤ زونگ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پیش کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایسٹ سی گروپ کے سی ای او فانگ یولونگ جو کہ پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PCJCCI) کے سینئر نائب صدر بھی ہیں، نے گزشتہ ہفتے پی سی آئی سی سی آئی سیکرٹریٹ میں تھنک ٹینک سیشن میں بریفنگ کے دوران گوادر پیٹرولیم سٹوریج اینڈ ٹرانسپورٹیشن ٹریڈنگ سینٹر کی تعمیر کے میگا پراجیکٹ کے آغاز کی خبر سناتے ہوئے ایک خوشگوار لہر دوڑادی۔

    ریفائنری کے قیام کو آسان بنانے کے لیے 27 جون کو کمیٹی کے پہلے اجلاس میں، جس کے بعد سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کی زیر صدارت متعدد اجلاس ہوئے، تمام اسٹیک ہولڈرز نے ریفائنری کی سہولت کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تیاری کا اظہار کیا۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے میگا پراجیکٹ کو گرین لائٹ کرنے کے لیے، متعلقہ ادارے تفصیلی بزنس پلان اور مزید کارروائی کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کی جانچ پڑتال کے لیے کمر بستہ ہیں۔ منصوبہ بندی اور تعمیرات کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اوگرا آرڈیننس 2022 کے تحت لائسنسنگ کی ضروریات پوری کرے گی۔

    دفاعی نمائش ’آئیڈیاز 2022‘ آج سے کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع

    گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ناگمان عبدل نے آئل ریفائنری منصوبے کو ”ترقی کے ایک نئے باب کو کھولنے کے لییعمل انگیز” قرار دیا روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے نہ صرف کاروبار کے مزید راستے کھلیں گے بلکہ پاکستان کا تیل کا بل بھی سکڑ جائے گا۔

    ایسا لگتا ہے کہ چینی آئل ریفائنری شروع کرنے کے اقدام سے دیگر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی جو ماضی قریب میں آئل ریفائنری کے شعبے میں کئی وجوہات کی وجہ سے رک گئی تھی۔

    جنوری 2019 میں سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے اعلان کیا تھا کہ عرب قوم پاکستان کی گہرے پانی کی بندرگاہ گوادر میں 10 بلین ڈالر کی آئل ریفائنری قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تاہم یہ منصوبہ واپس لے لیا گیا۔ بعد میں مبہم انداز میں یہ اشارہ دیا گیا کہ گوادر کے بجائے پاکستان میں کہیں اور آئل ریفائنری قائم کی جا سکتی ہے۔

    چند روز قبل سعودی عرب گوادر میں نئے سرے سے مصروفیت کا اشارہ دے کر ایک بار پھر حرکت میں آیا۔ 27 اکتوبر کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ سعودی – پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کی پہلی مشترکہ اقتصادی ذیلی کمیٹی کی ایک ورچوئل میٹنگ بھی کی۔

    پنجاب و خیبرپختونخوا صارفین کیلیے گیس مزید مہنگی ہونے کا امکان

    دریں اثنا، متحدہ عرب امارات نے بھی ایک گہری تبدیلی، جدید ترین ریفائنری قائم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کی پیداوار حب (بلوچستان کا ایک قصبہ) میں پاک-عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو) میں یومیہ 500,000 بیرل ہو گی۔

    اس وقت پاکستان میں آئل ریفائننگ کے شعبے میں پانچ مقامی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ( این آر ایل)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) اور Cnergyico Pk Limited شامل ہیں۔ (سی پی ایل)۔ تمام ریفائنریز ہائیڈرو سکیمنگ ریفائنری ہیں، سوائے پارکو کے جو کہ ایک ہلکی تبدیلی والی ریفائنری ہے۔

    گوادر پرو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئل ریفائننگ کی صلاحیت تقریباً 450,000 بیرل یومیہ (bpd) ہے، جو 20 ملین ٹن سالانہ کے برابر ہے۔ مقامی ریفائنریوں نیملک کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد ڈیزل ، 30 فیصد موٹر پٹرول ، اور 100 فیصد جیٹ ایندھن فراہم کیا ہے۔ باقی کو بہتر مصنوعات کے طور پر درآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرو کیمیکل کی پیداوار کی کوئی بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ 2 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کے پیٹرو کیمیکلز درآمد کر رہا ہے۔

    عمران خان کے ہنگاموں سے 2014 میں چینی صدر جبکہ 2022 میں سعودی ولی عہد کا دورہ منسوخ

  • الیکشن کمیشن کی طرف سے ضلع گوادر میں ون ونڈو سینٹر کا قیام کر دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی طرف سے ضلع گوادر میں ون ونڈو سینٹر کا قیام کر دیا گیا

    گوادر:ضلعی الیکشن کمشنر گوادر ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع گوادر میں ون ونڈو سینٹر کا قیام کر دیا گیا جہاں پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت کی روشنی میں الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت پورے ملک کی طرح ضلع گوادر میں بھی حتمی انتخابی لسٹیں عام عوام کے لیے رکھ دی گئی ہیں اور ضلعی الیکشن کمشنر آفس میں ‘ون ونڈو سینٹر ‘ کا قیا م عمل میں لایا جا چکا ھے۔

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    اس کے ساتھ ساتھ ضلع بھر کے مختلف اسسٹنٹ رجسٹریشن آفیسر (اے-آر-او ) کے دفاتر میں بھی ‘فارم سبمیشن سینٹر’ کا قیام عمل میں لایا گیا ھے۔ جہاں تمام شہری اپنا فارم بآسانی جمع کرواسکتے ہیں ان سنیٹرز پرمناسب تعداد میں فارم نمبر 21 برائے ووٹ اندرج و تبدیلی، فارم 22 برائے ووٹ اخراج و اعتراض اور فارم نمبر 23 برائے درستگی کوائف ووٹران رکھوا دیے گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    تمام شہری ووٹر لسٹوں میں اپنا ووٹ چیک کرنے کے بعد اپنے ووٹ کا اخراج، تصحیح اور نیا اندراج بھی کروا سکتے ہیں۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

    اس ضمن میں تمام شہریوں سے پر زور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ *ضلعی الیکشن کمشنر گوادر کی طرف سے قائم شدہ اپنے گھر کے قریب ترین واقع مندرجہ بالا سینٹرز پر اپنے ووٹ کے اندراج، تصحیح و اخراج کیےفارمز جمع کروائیں اور اپنے بروقت ووٹ کے اندراج کو یقینی بنائیں .کیونکہ ووٹ ھمارا حق بھی ھے اور ھماری قومی ذمہ داری بھی۔

  • ڈپٹی کمشنر گوادر کی بینک اور نجی اداروں کے ساتھ اہم میٹنگ

    ڈپٹی کمشنر گوادر کی بینک اور نجی اداروں کے ساتھ اہم میٹنگ

    ڈپٹی کمشنر گوادر کی بینک اور نجی اداروں کے ساتھ اہم میٹنگ

    ڈپٹی کمشنر گوادر عزت نزیر بلوچ نے ھے کہا کہ گوادر میں بینک اور دیگر نجی ادارے جو کام کررہے انہیں چائیے کہ وہ گوادر کی ترقی اور سماجی کاموں سمیت مختلف سماجی شعبوں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھر تعاون کرکے علاقے کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار ادا کریں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع بھر مختلف بینک منیجروں کے اجلاس کی صدارت کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا ھے انہوں نے کہا کہ گوادر میں کام کرنے والے نجی ادارے عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مضبوط روابط بنانے میں اپنا بھر پور کر دار ادا کریں اور ضلعی انتظامیہ نجی اداروں کے سماجی کاموں کی ادائیگی میں ان کی ہر ممکنہ معاونت کرے گی انھوں نے کہا کہ آپس میں مضبوط رابطہ، عوامی و تعاون اورنجی شعبہ کی سماجی خدمات سے مقامی افراد کو بھر پو ر فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے انہوں نے بتایا کہ بینک اور نجی ادارے گوادرمیں ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خدمات انجام دیں سکتے ہیں

    انہوں نے نجی و سرکاری بینکوں کے نمائندوں پر زور دیا وہ گوادر کے عوام خاص کر تاجر برادری اور سٹوڈنٹس کے لیے آسان وبلاسود قرضے فراہم کریں تا کہ مقامی لوگ انکے فراہم کردہ رقم سے اپنے کاروبار میں وسط لائیں اور طالب علم طبقہ اپنی تعلیمی اخراجات پورا کرکے اپنی تعلیم مکمل کریں

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • جامعہ گوادرمیں علم کی شمع کو روشن رکھنے کےلیے مخلصانہ کوششیں شروع

    جامعہ گوادرمیں علم کی شمع کو روشن رکھنے کےلیے مخلصانہ کوششیں شروع

    گوادر :جامعہ گوادر کی دوسری سینڈیکیٹ کمیٹی اجلاس زیر صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر یکم اکتوبر 2022 کو جامعہ گوادر کے لائبریری میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، پی ایس ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی ، رجسٹرار جامعہ گوادر دولت خان، ڈائریکٹر فنانس شفیع محمد، قائم مقام کنٹرولر امتحانات مجاہد حسین، ڈین فیکلٹی آف منیجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز ڈاکٹر جان محمد ، ڈین فیکلٹی آف سائنس، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر دھنی بخش تالپور اور ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر قمبر فاروق شرکت کی۔

    جامعہ گوادر کے رجسٹرار نے اجلاس کا ایجنڈا غور و خوض اور فیصلے کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا۔

    غور و خوض اور بحث کے بعد مختلف تعلیمی اور انتظامی معاملات کو حل کرنے کے علاوہ، ایوان نے سنڈیکیٹ کے پہلے اجلاس، اکیڈمک کونسل کے دوسرے اجلاس، مالی سال 2022-23 کے بجٹ تخمینوں کے لیے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے منٹس کے علاوہ سالانہ رپورٹ کی بھی توثیق کے علاوہ سابق کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور پی سی ون کے مطابق نئے تدریسی شعبوں کے علاوہ سی پیک سٹڈی سینٹر اور سمندری امور سے متعلق شعبے کے قیام کی منظوری دی گئی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی کے آئینی اداروں کی میٹنگ بروقت منعقد کرنے اور یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق اُن کے کام کرنے کی وجہ سے جامعہ گوادر کا شمار ملک کے بہترین ابھرتے ہوئے اعلی تعلیمی اداروں میں کیا جا رہا ہے۔
    وائس چانسلر نے مختصر وقت میں یونیورسٹی کی تیز رفتار ترقی کی کوششوں میں یونیورسٹی کے آئینی اداروں کے معزز اراکین کی بے مثال شراکت اور خدمات کو سراہا۔ سنڈیکیٹ کے معزز ممبران نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کے مفاد اور استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے ادارے کے اہم تعلیمی اور انتظامی معاملات کو متعلقہ اداروں کے فیصلوں کے مطابق حل کیا جا رہا ہے جس سے مزید ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔