Baaghi TV

Tag: گھناؤنا کام

  • ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں غربت اور بے حسی کی انتہا،ماں مر گئی، بیٹے کے پاس ایمبولنس کو دینے کے پیسے نہیں، کسی کو ترس نہ آیا، بیٹا ہسپتال سے اسی کلو میٹر دور ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے کر گیا

    واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں آیا، شہڈول کے علاقے میں میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے ماں کے مرنے پر بیٹے کو ایمبولینس نہیں دی، پرائیویٹ ایمبولینس والوں نے پانچ ہزار روپے مانگے، بیٹے کے پاس وہ بھی نہیں تھے، بیٹا ماں کی لاش کو گھر پہنچانے کے لئے ایمبولینس کی فراہمی کے لئے سب کی منتیں کرتا رہا مگر کسی نے کوئی مدد نہ کی، بالآخر بیتے نے ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے جانے کا فیصلہ کیا، اس واقعہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں اور صارفین ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی پر تبصرے کر رہے ہیں

    بیٹے نے ماں کی لاش موٹر سائیکل پر رکھی اور اسی کلو میٹر کا فاصلہ موٹر سائیکل پر ہی طے کیا، شہڈول سے گڈارو کا سفر اسی کلو میٹر بنتا ہے،جس خاتون کی موت ہوئی وہ گڈارو کی رہائشی تھی، اسے ایک روز ہسپتال میں رکھا گیا تھا، سینے میں درد کی تکلیف کی وجہ سے اسے ہسپتال لایا گیا تھا، نوجوان نے اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ طبی عملے نے علاج میں غفلت برتی جس کی وجہ سے ماں کی موت ہوئی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے انتہائی غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کیا اسی کلومیٹر کے سفر میں کوئی ایک انسان بھی نہیں تھا جو اسکو گاڑی دے دیتا یا ایمبولینس کا کرایہ دے دیتا، صارفین نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مریضوں کو لوٹنے والے ایسے ہسپتالوں جہاں ہر روز بے حسی دیکھنے کو ملے انکے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت ہے

  • چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چار برس تک 14 سالہ بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنے والے سفاک باپ کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے

    واقعہ خیبر پختونخواہ کا ہے ، خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کی مقامی عدالت نے ملزم کو سزا سنائی، ملزم چار برس تک اپنی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، واقعہ کا مقدمہ دسمبر 2020 میں تھانہ کینٹ میں درج کروایا گیا تھا، متاثرہ لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اسکے والد چار برس سے اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور مسلسل دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر کسی کو بتایا تو مار دوں گا، دھمکیوں کی وجہ سے خاموش تھی ،والد فروخت کرنے کی دھمکی بھی دیتے اور کہتے کہ اگر کسی کو جنسی زیادتی بارے بتایا تو میں تمہیں فروخت کر دوں گا

    پولیس کے مطابق چار سال تک باپ کا ظلم سہنے والی بیٹی نے والدہ کو چار برس بعد بتایا تو پولیس میں مقدمہ درج کروایا گیا.پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے جنوری 2021 میں ملزم کو گرفتارکر لیا تھا، جس کے بعد عدالتی کاروائی کا اغاز ہوا،اب عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزائے موت سنائی ہے،ملزم کا نام سلطان محمود ہے اور کوہاٹ کے علاقے جرونڈ کا مکین ہے، عدالت نے ملزم کو تین سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

  • ریلویز پولیس لاہور نے ایمانداری اور فرض شناسی کی مثال قائم کردی

    ریلویز پولیس لاہور نے ایمانداری اور فرض شناسی کی مثال قائم کردی

    ریلویز پولیس لاہور نے ایمانداری اور فرض شناسی کی مثال قائم کردی

    ترجمان ریلوے پولیس کے مطابق ہندو خاتون مسافر کا گمشدہ پرس بحفاظت اس کے حوالے کر دیا کانسٹیبل محمد اسلم کو ٹرین 13 اپ عوام ایکسپریس میں دورآن گشت ایک لاوارث لیڈیز پرس ملا ،پرس میں 41 ہزار روپے نقد اور دوائیاں وغیرہ تھیں ٹرین میں پرس کے مالک کی تلاش کرنے پر معلوم ہوا کہ پرس نرملا دیوی نامی خاتون مسافر کا ہے خاتون مسافر اپنی فیملی کیساتھ کراچی سے لاہور سفر کر رہی تھی

    ترجمان ریلوے پولیس کے مطابق ریلویز پولیس ہیلپ ڈیسک لاہور میں ضروری کاروائی کے بعد پرس اور نقدی خاتون مسافر خاتون کے حوالے کر دیا خاتون مسافر نے ریلویز پولیس کی بروقت امداد اور ایمانداری پر شکریہ ادا کیا ریلویز پولیس مسافران کی جان اور مال کے تحفظ اور سلامتی کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    قبل ازیں گزشہ ماہ پی آئی اے عملے نے فرض شناسی اور دیانت داری کی مثال قائم کردی،جہاز میں چھوڑی جانے والی اشیاء مسافر کو واپس کر دیں جدہ سے ملتان پہنچنے والی پرواز میں خاتون مسافر زیورات، سعودی ریال، پاکستانی کرنسی اور اقامہ بھول گئیں تھیں پی آئی اے عملے کو سرچ کے دوران مذکورہ اشیا ملیں۔انتظامیہ نے سیٹ نمبر سے مسافر کی شناخت کے بعد رابطہ کیا اور ضروری کارروائی و شناخت کے بعد مذکورہ رقم اور کاغذات مسافر کے حوالے کردیئے۔مسافر نے پی آئی اے عملے کی فرض شناسی کی تعریف کی اور پی آئی اے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے عملے کے رکن کی ایمانداری کو سراہا سی ای او پی آئی اے ائر وائس مارشل نے عملے کے رکن کے لئے تعریفی سند کا اعلان کیا ہے۔

  • دعا زہرہ کے شوہر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    دعا زہرہ کے شوہر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے بھاگ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کے شوہر کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی

    کراچی کی مقامی عدالت نے دعا زہرہ کے شوہر ظہیر اور اسکے بھائی شبیر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے اور 17 اگست تک ضمانت میں توسیع کر دی ہے ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کراچی نے دعا زہرا کیس میں ملزم ظہیر اور شبیر کی درخواست ضمانت کی سماعت کی ،دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ دعا زہرہ کیس کے مقدمے کا چالان تاحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکا. عدالت نے چھ اگست تک چالان جمع کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت میں توسیع کر دی

    ظہیر کے خلاف دعا زہرا کے اغوا کا مقدمہ کراچی کے الفلاح تھانے میں درج ہے،عدالت کے حکم پر دعا زہرا دارالامان میں رہائش پزیر ہے

    دعا زہرا کو کراچی منتقل کردیا گیا۔

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

     دعا زہرہ کی پرائیویٹ تصاویر لیک کر دی گئیں

  • جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    پچھلی چند دہائیوں سے جنسی جرائم کے ارتکاب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنسی جرائم جیسے خطرناک فعل میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے ۔جن کے براہ راست اثرات خواتین اور بچوں پر ہیں ۔معاشرے کے ہر فرد بالخصوص خواتین اور بچوں میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے کہ کسی بھی وقت اُنھیں جنسی حملے کا شکار بنا یا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے ذہن میں ایک خوف طاری رہتا ہے ۔اور اُسے معمول کا جرم ماننے لگے ہیں حلانکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے ۔جسکی زندہ مثال رواں ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں چار سالہ مریم کا قتل ہے ۔پولیس کو معصو م بچی کی گردن کٹی لاش ملی اور وقوعہ کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی جنسی درندے نے یہ حرکت کی ہوگی مگر بعدمیں پولیس کے تفتیش کی بدولت معلوم ہوا کہ قتل کا محرک کچھ اور تھا اور چار سالہ معصوم مریم کا قاتل بچی کا باپ ہی نکلا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ایسے واقعات کو عوام فوراً کسی جنسی حملہ یا جنسی تشدد کے فعل کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں کیوں کہ عوام کے ذہن میں یہ ایک تصور رچ بس چکی ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تشدد ،جنسی حملہ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ۔

    جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو "جانور ” وحشی درندہ "جیسے مقبول عرف سے پکارا جاتا ہے حالانکہ معاملہ کی نوعیت اِس کہیں بڑھ کر ہے لیکن اِس قسم کے واقعات کے تناسب میں بڑھتی ہوئی تعداد اور آئے روز میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وجہ سے ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ تا ثر دیا جاتا ہے کہ دیگر جرائم کی طرح یہ بھی ایک عام جرم ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں سال 2018ء میں 4326سال 2019ء میں 4377سال 2020ء میں 3887اور سال 2021ء میں 1866زنا بالجبر کے مقدمات رجسٹرد ہوئے ۔یہ اعدادو شمار نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کئے گئے اور وزارت انسانی حقوق نے پارلیمنٹ آف پاکستان میں پیش کیے۔ یعنی گزشتہ چار سالوں میں کل ملا کر 14456ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ اُن تمام واقعات کا کل ملا کر نصف حصہ بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں اِس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں ایک خاتون کی مستقبل ، عزت ،غیرت وغیرہ وغیرہ جیسے سوچ ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسگی کے رجسٹر  شدہ واقعات کی تعداد 16153ہے حلانکہ یہ تعداد اُ ن تمام واقعات کا ایک چوتھا ئی حصہ بھی نہیں جو گزشتہ چار سال کے دوران رونما ہو چکے ہیں ۔ بیشتر خواتین اِس قسم کے واقعات معاشرے  میں خاندان کی عزت کی پامالی، معاشی مسائل ، پولیس کا منفی رویہ کی وجہ سے بیان کرنے یا رجسٹر کرنے سے کتراتے ہیں ۔
    کام کی جگہ پر ہراسگی کے روک تھام کے لیے سال 2010ء میں قانون متعارف کرایا گیا اور سال 2020ء میں اسے مزید فعال بنانے کی خاطر ترامیم کی گئی ۔مگر تا حال اس سے کسی قسم کی کامیابی نہ مل سکی جس کی سب سے بڑی وجہ ایسے قوانین کو عام لوگوں سے دور رکھنا ہے۔ قانونی اصطلاحات اتنی پیچیدہ رکھی گئی ہے۔کہ عام خواتین کی سمجھ سے بالاتر ہیں ۔دوسری بڑی وجہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ معاشرے میں بدنامی کاڈر ،پولیس کا خواتین کے ساتھ منفی برتاؤ وغیرہ جیسی وجوہات کی وجہ سے اپنے مسائل کو بیان کرنے سےکتراتی ہیں۔

    ایک جاننے والی خاتون جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں آئے روز ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زبانی فقرہ بازی ،اشارہ بازی سے لےکر بسا اوقات جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔مذکورہ خاتون کا مؤقف تھا کہ اگر یہ واقعہ خاندان کے کسی فرد کو بتاؤں گی تو یا تو وہ کام کرنے سے منع کریں گے یا دفتر کے مرد اہلکاروں سے لڑائی  جھگڑے کی نوبت آسکتی تھی۔ بدیں وجہ اپنے آپ کو یہ مسئلہ بیان کرنے سے روکی مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو پولیس میں شکایت درج کرائی جو بعد میں علاقہ عمائدین کی کوششوں سے صلح کے ذریعے مسئلہ وقتی طور پر ختم ہوا مگر اس کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنی طرف اٹھنے والی تمام نظروں کو مشکوک سمجھتی ہوں۔

    یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔خیرپختونخوا ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ضلع دیر لوئر میں چند ماہ قبل ایک خاتون نے سول جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مقامی پولیس کو دیکر جس پر باقاعدہ سول جج کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر بعد میں مدعیہ اپنی ابتدائی بیان سے مکر کر بیان کیا کہ یہ تو مقامی پولیس نے مجھے ورغلا پھسلا کر جج صاحب کے خؒاف شکایت درج کرانے کا کہا۔یہاں غلطی جس کی بھی ہومگر جھوٹ پر مبنی ایسے الزامات کسی کی بھی پیشہ ورانہ زندگی ،معاشی و معاشرتی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

    زنا بالجبر ،جنسی ہراسانی کے علاوہ ایک اور اخلاقی برائی جو ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے وہ Paedophilia ہے۔یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے کئی وجوہات ہے،جن میں سرفہرست وجہ یہ ہے کہ اس میں مبتلا افراد بچپن میں کسی قسم کے استحصال (خواہ والدین کی توجہ ،اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد،معاشی احساسی کمتری وغیرہ)کا شکار ہوا ہوتاہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کئی مہینوں سے جنسی Fantasy میں رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر  ایسا شخص سراب خیالی میں کسی اداکارہ ،جاننے والی عورت کے ساتھ جنسی عمل کر رہا ہوتا ہے مگر بعد میں وہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کسی کمزور فرد بالخصوص بچہ/بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اس ہیجان میں مبتلا شخص کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے اور تمام مشکلات کا سامنا کرنے کی بناء پر وہ تصور کر لیتا ہے کہ تمام مسائل کا جڑ یہی ایک عمل ہے اور آسانی سے نشانہ بننے والے بچے /بچیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔عام طور پر قریبی رشتہ دار ، ہمسائے  ایسے شخص کی درندگی کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔اور بعض اوقات بچے ڈر کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جو بعد میں معمول بن جاتا ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر بچہ/ بچی اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی ، تشدد کا شکار ہوا ہوتا ہے مگر بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ کم کمیونیکیشن  اور خوف کی وجہ سے ایسے واقعات وہ بیان نہیں کر سکتے ۔خواتین اور بچوں کے علاوہ مرد بھی ایسے ہراسگی ،جنسی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جن کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہو مگر اُسکی تعداد کافی کم ہے۔ یہ عمل عمر، رنگت ،مذہب اور معاشرتی رُتبے کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کے موافق حالات  دیکھے جاتے ہیں۔چلتی شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے اولے موٹروے کیس اس نوعیت کا پہلا وقوعہ تھا مگر اس کے بعد ابھی ابھی ایک خاتون کی چلتی ریل گاڑی میں اجتماعی زیادتی  کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔

    جنسی درندگی کے مجرمان کو عام طور پر "اکیلے پن سے شکار ، دماغی امراض میں مبتلا ،پاگل ،دیوانہ”وغیرہ جیسے ناموں سے منسوب کیا جاتاہے۔حالانکہ یہ بات کسی  حد تک درست ہے مگر رجسٹرشدہ شکایات میں نامزد ملزمان کی ہسٹری اُٹھا کر دیکھی جائے تو تقریباً  تمام افراد ذہنی  طور پر درست ہوتے ہیں اور قبل ازیں  بھی کسی بڑے جرم میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں  ۔ایسے واقعات میں آئے روز اضافے کی وجوہات  میں سب سے بڑی وجہ جسٹس سسٹم کی ناکامی ، قوانین پر من وعن عمل درآمد نہ کرنا ۔سزاؤں کی کمی ،جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی علاج کی عدم فراہمی جیسے اسباب ہیں۔تقریباً 2 سال قبل خیبر پختونخوا میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو ایک ماہ کے اندر عدالت سے ضمانت مل گئی۔جو ہمارے  تفتیش کے معیار اور جسٹس سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے عوام با لخصوص خواتین اور بچوں میں سرکاری  سطح پر منظم آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ سکول ،کالجز ،یونیورسٹیز میں سیمینار منعقد کراکر  خواتین ،بچوں کو یہ باور کرایا جائے  اگر کسی کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بلا جھجک پولیس ،خاندان کے کسی بڑے کو شکایات بیان کر کے کیوں کہ ایسے واقعات کو چھپانا مستقبل میں اُن کی ناکامی کی موجب بن سکتی ہے۔

    پولیس کو تفتیش بہتر بنانے ،عوام  با لحصوص خواتین کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کے لیے جدید خطوط پر استوار  ورکشاپس سرکاری سر پرستی میں منعقد کرائے جائیں ۔حال ہی میں پاس ہونے والے اینٹی ریپ(انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ) ایکٹ 2021 کو پوری طرح نافذ العمل کرنے اور خواتین کے خفاظت کے لیے عملی اقدامات اٹھانا  ناگزیرہے ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئےفرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔قوانین کو عام عوام تک پہنچانے ، عام فہم زبان میں شائع کرنے کے عملی اقدامات اُٹھانا  ضروری ہے ۔والدین اور بچوں کے درمیان دوستا نہ تعلقات ہو جو بلا جھجک والدین کو اپنے مسائل بیان کر سکے ۔بچوں پر نگرانی ، غیر افراد پر اعتماد کو کسی حد تک کم کرکے والدین اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں ۔ایسے مقدمات میں بہتر تفتیش کو یقینی بنانا ۔عدالتوں کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں اور جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی تربیت کرکے ہی ایسے افعال ، جرائم کا خا تمہ ممکن ہے ۔

  • طلاق دینے اور سامان واپس لانے کے مسئلہ پر گولیاں چل گئیں

    طلاق دینے اور سامان واپس لانے کے مسئلہ پر گولیاں چل گئیں

    طلاق دینے اور سامان واپس لانے کے مسئلہ پر گولیاں چل گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان کی صورتحال آئے روز مخدوش ہوتی جا رہی ہے، ملت پارک کی حدود میں دو پارٹیوں میں رشتہ کے تنازعہ پر جھگڑا اور فائرنگ ہوئی ایس ایچ او ملت پارک سمیت پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، فائرنگ کے نتیجے میں بلال شدید زخمی ہو گئے،۔ شہباز بھی زخمی ہو گئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمارہ شیرازی نے فائرنگ کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی، ایس ڈی پی او سمن آباد کو ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی،

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمر بٹ کی بھانجی کی شادی افتخار بٹ کے بیٹے سے ہوئی تھی جن میں طلاق ہو چکی افتخار بٹ کی جانب سے پولیس کو درخواست موصول ہوئی جسکی بابت دونوں پارٹیوں سے پوچھ کر آج تھانہ میں 05 بجے کاوقت دیا گیا دونوں فریقین نے گھر پر دوبارہ جھگڑا کیا اور فائرنگ ہوئی طلاق دینے اور سامان واپس لانے پر فریقین آپس میں جھگڑے اور فائرنگ ہوئی ،ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمارہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

    قبل ازیں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف ایکشن تیز کر دیا گیا ہے، انویسٹی گیشن پولیس نصیرآباد نے کارروائی کی 2 رکنی ڈکیت گینگ گرفتارکر یلا، گرفتار ملزمان میں عمران اور ہاشم شامل ہیں ملزمان نے دوران تفتیش 11 وارداتوں کا اعتراف کیا، ملزمان کے قبضہ سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقدی،ناجائز اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    علاوہ ازیں بچوں کے معمولی جھگڑے پر شہری کو فائرنگ کر کے قتل کرنیوالا ملزم گرفتارکر لیا گیا گرفتارملزم نعمان عرف چیتا نے معمولی جھگڑے پر شہری دانیال عرف دانش کو فائرنگ کا نشانہ بنایا،مقتول سروسز ہسپتال پہنچایا گیا جوبعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہو گیا،ملزم نعمان عرف چیتا کو گرفتار کر کے آلہ قتل پسٹل برآمد کر لیا گیا،

  • بین الاضلاعی نقب زن گینگ کا سرغنہ گرفتار،ایک کروڑ مالیتی سامان برآمد

    بین الاضلاعی نقب زن گینگ کا سرغنہ گرفتار،ایک کروڑ مالیتی سامان برآمد

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور نے لاہور میں جرائم کے حوالہ سے پریس کانفرنس کی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالہ سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے،

    ایس پی انویسٹی گیشن صدر محمد عمران،ایس ڈی پی اوز، انچارج انویسٹی گیشنز سمیت دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صدر ڈویژن میں مجموعی طور پر 70 گینگز کے 171ملزمان گرفتارکر لیے،1493مقدمات ٹریس کئے گئے، گرفتار ملزمان سے 3 کروڑ44 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا، مجموعی طور پر اے کیٹگری کے 182 خطرناک اشتہاریوں سمیت 1099 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا،صدر ڈویژن میں 26989 مقدمات کے ملزمان کو گرفتار کر کے8567 چالان عدالتوں میں جمع کروائے گئے،

    انویسٹی گیشن پولیس ستو کتلہ نے دردِ سر بننے والا بین الاضلاعی نقب زن گینگ کا سرغنہ گرفتار کر کے تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر لیا گرفتار ملزم شفقت رسول کے خلاف مختلف اضلاع میں نقب زنی کے درجنوں مقدمات ٹریس ہوئے ہیں، ملزم کی نشاندہی پرتقریباً ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا ہے، ملزم سے 2 کاریں، 11 تولے زیورات، 20موٹر سائیکلیں، آرٹیفشل جیولر برآمد کی گئی ہے، 1461 ڈالر،261 پانڈ، ملائشیاء، سنگا پور ڈالر، سعودی ریال اور درہم برآمد کئے گئے ہیں، ملزم کے قبضے سے کیمرے، گھڑیاں، لیپ ٹاپ، نقدی، دیگر قیمتی اشیاء اورناجائز آتشیں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نقب لگا کر خالی گھروں میں داخل ہوتا اور قیمتی اشیاء چرا کر رفو چکر ہو جاتا تھا،

    ایس پی انویسٹی گیشن صدر محمد عمران کا کہنا تھا کہ عوام کے لیے درد سربننے والے گینگ کے سرغنہ کی گرفتاری سے نقب زنی کی وارداتوں کے گراف میں واضح کمی آئے گی،انویسٹی گیشن پولیس رائیونڈ نے ہیڈ کانسٹیبل مظہر حسین کو شہید کرنیوالے ملزمان تیمور عرف چاند اور عبدالغفور کو گرفتارکیا،انویسٹی گیشن رائیونڈنے ہی شہری ندیم اور احسن بھٹی کے قتل میں ملوث 8ملزمان کو گرفتار کیا،ملزمان کو مضبوط پراسیکیوشن کی مدد سے سخت سزائیں دلوائی جائیں گی،

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

  • ایف آئی اے کی کاروائی، بچوں کی فحش ویڈیو وائرل کرنیوالے ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کی کاروائی، بچوں کی فحش ویڈیو وائرل کرنیوالے ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کی کاروائی، بچوں کی فحش ویڈیو وائرل کرنیوالے ملزمان گرفتار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر اور ویڈیو اپلوڈ کرنے والے ملزم ایف آئی اے نے گرفتار کر لئے

    ایف آئی اے سائبر کرائم نے کاروائی کی اور اس دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا ، ایف آئی اے نے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں کاروائی کی، کاروائی کے دوارن دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا، دونوں کاروائیاں الگ الگ کی گئیں، ایف آئی اے نے محمد شہزاد اور محمد عاصم کو گرفتار کیا ہے، ملزمان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ،اس کی ویڈیو اور تصاویر بناتے اور پھر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتے

    ایف آئی اے حکام کے مطابق کاروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ملزم شہزاد سے 194 جبکہ عاصم سے 300 سے زائد چائلڈ پورنو گرافک ویڈیو، تصاویر ملی ہیں،ملزمان کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی تھے، ملزمان ویڈیو اور تصاویر کی وجہ سے بلیک میلنگ کا کام بھی کرتے تھے، ملزمون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے مزید تحقیقات جاری ہے

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کا آپریشن جاری

    قبل ازیں ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے اسلام آباد سے چائلڈ پورنو گرافی مواد تیاری میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم چائلڈ پورنوگرافی مواد ڈارک ویب کو فروخت کرتا تھا، قانونی کاروائی سے بچنے کے لیے قابل اعتراض مواد مختلف گوگل اکاؤنٹس میں اسٹور کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے ملزم کے تمام اکاونٹس کا سراغ بھی لگا لیا ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے بتایا کہ گرفتار ملزم چائلڈ پورنو گر افی جیسے گھناوٴنے جرائم میں ملوث تھا-

    ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کا مختلف چائلڈ پورنوگرافی گروپوں سے رابطہ تھا جو انٹرنیٹ اور ڈارک ویب پر چائلڈ پورنوگرافک مواد تیار اور فروخت کرنے میں ملوث ہیں گرفتار ملزم سے بڑی مقدار میں چائلڈ پورنوگرافک مواد اور متعدد سوشل میڈیا اور گوگل اکاوٴنٹس برآمد کئے گئے جو چائلڈ پورنوگرافی مواد کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے

    واضح رہے کہ ڈی جی ایف آئی اے سائبرکرائم ونگ  نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے،پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کے سرے بین الاقوامی مافیا تک جاتے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اسلام آباد میں چائلڈ پروٹیکشن بل 2018، ملک بھر میں جرائم پیشہ کم عمر بچوں کیلئے علیحدہ عدالتوں کے قیام اور چائلڈ پورنو گرافی کے قانون میں ترمیمی بل منظور کیا ہوا ہے.جس کے تحت چائلڈ پورنو گرافی پر 14 سال، جنسی ہراسگی پر7 سال قید و جرمانہ ہو گا.

  • بہو نے ساس کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا

    بہو نے ساس کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا

    بہو نے ساس کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بہو نے ساس کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا

    واقعہ وحدت کالونی تھانے کی حدود میں پیش آیا، پولیس کو اطلاع ملی کہ 66 سالہ خاتون کو گھر میں قتل کر دیا گیا ہے، ایس ایچ او وحدت کالونی اور پولیس کی بھاری نفری موقعہ پرپہنچی،پولیس کو بتایا گیا کہ 66 سالہ کنیز بی بی کوارٹر میں موجود تھی 03 نامعلوم افراد گھر میں گھسے مقتولہ نے روکنے کی کوشش کی تو فرش پر سر پٹخ دیا جس سے جاں بحق ہو گئیں

    وحدت کالونی پولیس اور فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کئے اور ایس پی اقبال ٹاؤن نے ملزم کی گرفتاری کی ہدایات جاری کیں، بعد ازاں پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو 66 سالہ کنیز بی بی کے قتل کا ڈراپ سین ہو گیا ،ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمارہ شیرازی کی ابتدائی تحقیقات وتفتیش میں ہی حقیقت سامنے آ گئی ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمارہ شیرازی نے گھر کے افراد سے خود تفتیش کی

    ڈاکٹر عمارہ شیرازی کا کہنا ہے کہ 66 سالہ کنیز بی بی کو اسکی بہو ماریہ نے قتل کیا اور ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ ملزمہ ماریہ بی بی نے قتل کا اعتراف کر لیا ملزمہ ماریہ بی بی کو حراست میں لے لیا گیا ملزمہ کے قبضہ سے لوٹی گئی چیزیں 03 لاکھ نقدی ،پرائز بانڈز،موبائل فونز اور جیولری برآمد کر لی گئی ہے، ایس پی اقبال ٹاؤن ڈاکٹر عمارہ شیرازی نے پولیس ٹیم کو بھی شاباش دی

    پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں کہیں بھی کوئی غیر قانونی کام ہوتے دیکھیں تو متعلقہ تھانے میں آگاہ کریں، جرائم میں کمی لائے اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیوں کے لئے لاہور پولیس کا ساتھ دیں

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    علاوہ ازیں بچوں کے معمولی جھگڑے پر شہری کو فائرنگ کر کے قتل کرنیوالا ملزم گرفتارکر لیا گیا گرفتارملزم نعمان عرف چیتا نے معمولی جھگڑے پر شہری دانیال عرف دانش کو فائرنگ کا نشانہ بنایا،مقتول سروسز ہسپتال پہنچایا گیا جوبعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہو گیا،ملزم نعمان عرف چیتا کو گرفتار کر کے آلہ قتل پسٹل برآمد کر لیا گیا،

  • شادی کی دوسری سالگرہ پر بیوی غائب،شوہر نے تلاش کیلئے لگائے ایک کروڑ روپے

    شادی کی دوسری سالگرہ پر بیوی غائب،شوہر نے تلاش کیلئے لگائے ایک کروڑ روپے

    شادی کی دوسری سالگرہ پر بیوی غائب،شوہر نے تلاش کیلئے لگائے ایک کروڑ روپے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شادی کی دوسری سالگرہ پر بیوی شوہر کو چھوڑ کر چلی گئی، شوہر نے بیوی کے تلاش کے لئے ایک کروڑ روپے خرچ کر دیئے،دو ہفتے بعد بیوی کا پیغام آیا کہ میں دوسری شادی کر رہی ہوں میری تلاش بند کی جائے

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشا کھاپنٹم میں ایک جوڑا شادی کی دوسری سالگرہ منانے گیا تو بیوی غائب ہو گئی، جوڑا سمندر میں سالگرہ منانے گیا تھا، شوہر نے سمجھا کہ بیوی سمندر میں ڈوب گئی ہے ،شوہر نے بیوی کی تلاش کے لے مدد طلب کی، پولیس کو اطلاع دی،پولیس، ریسکیو ٹیمیں مدد کے لئے پہنچ گئیں، بھارتی بحریہ کو بھی مدد کے لئے طلب کیا گیا، غوطہ خوروں، میرین پولیس سمیت دیگر اداروں نے سرچ آپریشن کیا کہ خاتون کی کہیں سے لاش مل جائے لیکن نہیں ملی، اس سرچ آپریشن پر تقریبا ایک کروڑ روپے خرچ آیا

    21 سالہ خاتون سائپریہ وشاکھاپٹنم کی رہائشی ہے جس کی شادی دو برس قبل سریکا کولم کے رہائشی سری نواس راؤ سے ہوئی تھی، سب ٹھیک چل رہا تھا، شادی کو دو برس ہوئے اور دونوں سالگرہ منانے سمندر چلے گئے، وہاں سے بیوی نے شوہر کو سالگرہ کا تحفہ دیتے ہوئے فرار ہونے کی راہ لی،خاتون جب فرار ہوئی اسوقت اسکے شوہر کو فون کالز آئی ہوئی تھی اسی کا موقع اٹھاتے ہوئے خاتون چلی گئی،

    خاتون اپنے دوسرے دوست کے ساتھ ٹرین میں سفر کر کے نیلور کے علاقے کاوالی میں پہنچ گئیں، خاتون نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیئے تھے،اور اپنا موبائل فون بھی بند کر دیا تھا، خاتون نے دوسری سم خریدی اور دو ہفتے بعد اپنے والدین اور پہلے شوہر کو پیغام بھیجا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میری تلاش بند کی جائے، میں محفوظ ہوں اور اپنے دوست روی کے ساتھ ہوں اور اسکے ساتھ ہی میں شادی کر رہی ہوں

    خاتون نے اپنے والدین کو یہ پیغام بھی بھجوایا کہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی جائے، اگر وہ اسے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے، اگر مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی تو میں خود کشی کر لوں گی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”