Baaghi TV

Tag: ہلاکتیں

  • اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    اسپین،طوفان سے 200 ہلاکتیں،2 ہزار سے زائد لاپتہ،ہر طرف تباہی

    سپین کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں تین روز پہلے ہونے والی طوفانی بارشوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے ، ان طوفانی بارشوں کی وجہ سے202 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتہ ہیں ۔

    سپین میں ان طوفانی بارشوں سےکئی علاقے زیرِ آب، سڑکیں، موٹروے، ریلوے کی پٹڑیاں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں،خصوصاً مشرقی شہر بالینسیا کے مضافاتی علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں،سپین کی افواج کی ایمرجنسی یونٹ اور دیگر امدادی اداروں کے ہزاروں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مسلسل مصروف ہیں۔سپین کے شہر والینسیا میں حالیہ مہلک طوفان کے نتیجے میں تقریباً 2,000 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ طوفان، جسے مقامی زبان میں "مونسترو طوفان” کا نام دیا گیا ہے، شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید نقصانات کا باعث بنا ہے۔جزیرہ بھر میں طوفان کی پیشگوئی کے پیش نظر لاک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔مقامی افراد اور سیاحوں کو اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ شہر طوفان کی شدت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ ہسپانیہ کی قومی موسمیاتی سروس نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسم کے نظام کی وجہ سے بڑے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    اب تک ہسپانیہ بھر میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔پالما میں شہر کی مرکزی سڑکوں کو ریڈ ٹیپ سے بند کیا گیا ہے، اور سڑکیں تقریباً سنسان نظر آ رہی ہیں۔ عوامی پارک، باغات اور قبرستان اتوار تک بند رہیں گے، جبکہ بے گھر افراد کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالا جا رہا ہے۔پالما کے پہلے نائب میئر، خاویر بونٹ نے کہا کہ لوگوں کو صرف اسی صورت میں اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے جب یہ "بہت ضروری” ہو۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم ریڈ الرٹ پر نہیں ہیں، لیکن آبادی کو مزید خطرات سے بچانے کے لیے آگاہ کرنا ضروری ہے۔”

    پالما میں حکام نے شدید موسمی انتباہات جاری کیے ہیں جو آج صبح 10 بجے سے نافذ ہو چکے ہیں اور یہ پورے ہفتے کے آخر تک جاری رہیں گے۔ اس دوران کئی عوامی مقامات بند رہیں گے۔اسی دوران، والنسیا میں بچاؤ کی ٹیمیں پھنسے ہوئے گاڑیوں اور متاثرہ عمارتوں میں لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مقامی رہائشی اپنی برباد شدہ گھروں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں، بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،منگل کے روز آنے والے خوفناک طوفانی سیلابوں نے کم از کم 205 جانیں لے لی ہیں، جن میں سے 155 ہلاکتیں مشرقی والنسیا کے علاقے میں ہوئی ہیں۔آج کوسٹا ڈی لا لوز کے تفریحی مقام آئسلا کریسٹینا میں ایک خوفناک پانی کی مہیب لہریں ساحل پر آئی ہیں۔ اس موسمی مظہر نے چھوٹی کشتیوں کو ہوا میں پھینک دیا اور درختوں کو اکھاڑ دیا۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے آج کہا کہ برطانیہ "ہسپانیہ کے ساتھ ہے”، انہوں نے اپنے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز سے رابطہ کرکے تعزیت پیش کی۔سر کیئر نے کہا: "میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ان کے خاندانوں کے ساتھ اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ جو ہسپانیہ میں شدید سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ برطانیہ اس مشکل وقت میں ہسپانیہ کے ساتھ ہے۔”

    جمعہ کی رات آنے والے اس طوفان نے زوردار ہواؤں اور شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ شہر کی سڑکیں زیر آب آ گئیں، اور کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو طوفان کے دوران اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکلے تھے۔ریسکیو ٹیمیں اور امدادی ادارے تیزی سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی معلومات فراہم کریں تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد مل سکے۔ ریسکیو عملے نے بتایا کہ متعدد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، مگر نقصانات کی شدت کے باعث مزید مدد کی ضرورت ہے۔سپین کی حکومت نے طوفان کے بعد ایمرجنسی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے لئے ہنگامی فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے نجکاری،خیبر پختونخوا حکومت کی بولی کا حصہ بننے کی خواہش

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

  • بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش میں طلبا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا،پرتشدد جھڑپوں کے دوران چھ طلبا ہلاک ہو گئے ہیں جنکی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، طلبا کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا ہے

    پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر ہونے والے احتجاج کے درمیان حریف طلباء گروپوں میں پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک ہو گئے،جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں،یونیورسٹی کے طلباء کی حکمران عوامی لیگ کی حمایت کرنے والےاحتجاج مخالف مظاہرین کے ساتھ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑائی کے درمیان پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور اور ربڑ کی گولیاں چلائیں ، طلبہ نے اپنے ساتھیوں ہلاکت پر ریلوے اور بڑی شاہراہیں بلاک کر دی ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،طلباء کا مطالبہ ہے کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر دی جائیں اور صرف 6 فیصد کوٹہ جو اقلیتوں اور معذور افراد کے لئے مختص ہے اسے برقرار رکھا جائے۔

    بنگلہ دیش میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک جن 6 چھ افراد کی موت ہوئی، ان کا تعلق ڈھاکہ، چٹاگانگ اور شمال مغربی رنگ پور سے ہے ،ہلاک ہونے والوں میں 3 طلبا بھی شامل ہیں۔ ریزرویشن کے خلاف زیادہ تر تحریکیں یونیورسٹی کیمپس میں چل رہی ہیں،یونیورسٹیوں کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے خطرے یا تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرے،پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اہل ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور حکومت کو ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

    بنگلہ دیش میں اس ماہ تقریبأ روزانہ ہونے والےمظاہروں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہاہے جس میں سول سروس کی نصف سے زیادہ پوسٹیں مخصوص گروپوں کے لیے ریزروڈ ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ آزادی کے ہیروز کے بچے بھی شامل ہیں،

    چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال کے ڈائریکٹر محمد تسلیم الدین نے اے ایف پی کو بتایا، تینوں کو گولیوں کے زخم آئے تھے، 35 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں،

    انسپکٹر بچو میا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈھاکہ کالج کے باہر ایک طالب علم کو ہلاک کر دیا گیا اور کم از کم 60 افراد زخمی ہوئے،منگل کو کچھ اہم شاہراہوں کو مظاہرین نے بلاک کر دیا، حکام نے ڈھاکہ اور چٹاگانگ سمیت پانچ بڑے شہروں میں نیم فوجی بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) فورس کو تعینات کر دیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے حکومت کے حامی گروپوں کے بچوں کو فائدہ ہوتا ہے جو 76 سالہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پشت پناہی کرتے ہیں

    بدھ کو ڈھاکہ یونیورسٹی اور ملک کے دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے کیمپس میں پولیس تعینات تھی، جبکہ نیم فوجی سرحدی دستے ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے،کوٹہ سسٹم کو 2018 میں عارضی طور پر عدالتی حکم کے بعد روک دیا گیا تھا، جس کے بعد 2018 میں بڑے پیمانے پر طلباء کے احتجاج کی ایک لہر سامنے آئی تھی لیکن پچھلے مہینے، بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا،

    بنگلہ دیش میں پاکستانی طلبا کو اپنی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت
    دوسری جانب بنگلہ دیش میں احتجاج کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں بنگلہ دیش میں مقیم طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں اور اپنے کمرو‌ں سے باہر نہ نکلیں،دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے طلبہ کو اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنےاور احتجاج سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کیمپس میں رہنے والوں کو اپنے ہاسٹل کے کمروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے،وہیں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید معروف سے ٹیلی فون پر بات کی اور وہاں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی،سفیر سید معروف نے وزیر خارجہ کو سیکیورٹی کی صورتحال اور بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہائی کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ سفارت خانے نے مصیبت میں مبتلا افراد کی سہولت کے لیے ایک ہیلپ لائن کھولی ہے،اسحاق ڈار نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بنگلہ دیش میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی، انہوں نے سفیر سید معروف کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستانی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں۔

  • افغانستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی،60 ہلاکتیں

    افغانستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی،60 ہلاکتیں

    افغانستان میں بارشوں کے بعد سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، سیلاب سے 60 ہلاکتیں ہو گئی ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے

    افغانستان کے صوبے بغلان میں شدید طوفانی بارشیں ہوئی جس کے بعد سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی،سیلاب سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں وہیں 60 اموات ہوئی ہیں، درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں،افغان وزارت داخلہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں دو سو سے زائد افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جن کو نکالنے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیجے تھے ،

    افغان نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس کے نمائندے کا کہنا ہے کہ صوبہ بغلان کے 3 اضلاع میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کی کوششیں کررہے ہیں،طوفان اور سیلاب نے گزرگاہ نور، جیلگاہ، ناہرین، بغلان مرکزی اور برکہ کے اضلاع کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت پل خمری کو بھی متاثر کیا ہے، تخار، بدخشان اور سمنگان سمیت دیگر شمالی صوبوں کو بھی سیلاب نے متاثر کیاہے،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک

    غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جو زخمیوں اور پناہ کی تلاش میں موجود دیگر فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ 2008 کے بعد سے لڑی جانے والی پانچ جنگوں میں اسرائیل کا اب تک کا سب سے مہلک فضائی حملہ ہوگا۔ الاہلی اسپتال کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ نے اسپتال کے ہال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں اور جسم کے اعضاء پورے علاقے میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ وزارت کا کہنا ہے کہ کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ شہر کے متعدد ہسپتال سینکڑوں افراد کے لیے پناہ گاہ بن گئے ہیں، امید ہے کہ وہ بمباری سے بچ جائیں گے کیونکہ اسرائیل نے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے تمام رہائشیوں کو جنوبی غزہ کی پٹی میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

    اے پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آیا یہ اسرائیلی فضائی حملہ تھا یا نہیں۔ جنوب میں جاری حملوں میں درجنوں شہری اور حماس کے کم از کم ایک سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں جن کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف عسکریت پسند ہیں۔ امریکی حکام نے اسرائیل کو اس بات پر قائل کرنے کے لیے کام کیا کہ وہ محصور شہریوں، امدادی گروپوں اور اسپتالوں کو رسد کی فراہمی کی اجازت دے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے حماس کے وحشیانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں پانی، ایندھن اور خوراک کے داخلے پر پابندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں علاقے کے 2.3 ملین افراد کو امداد کی فراہمی کے طریقہ کار کی تشکیل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ فائدہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ تاہم پھر بھی، منگل کی دیر تک، کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا. اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند کسی بھی امدادی سامان پر قبضہ نہیں کریں گے۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ طزہی حنگبی کا کہنا ہے کہ امداد کے داخلے کا انحصار حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی واپسی پر بھی ہے۔

    تاہم اس حملہ کی ترکیہ کے صدر طیب اردوان اور کنیڈا کے وزیر اعظم سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مزمت ہے اور اسے قتل عام کہا ہے ، اور قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے غزہ کے اس ہسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں تمام انسانیت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ میں اس بے مثال بربریت کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ جبکہ جسٹن ٹروڈو نے کہا میں اس کی سخت مزمت کرتا ہوں اور اسرائیل کو چاہئے کہ جنگی اصول کا خیال رکھے.

    دوسری جانب فلسطین نیشنل انیشی ایٹو پارٹی (پی این آئی) کے رہنما مصطفی برغوتی نے کہا ہے کہ الاہلی عرب اسپتال پر حملے سے عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ فتح اور حماس فلسطینی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر پی این آئی کے شریک بانی برغوتی نے کہا، "میرے خیال میں اب کسی بھی عرب حکومت کے لیے اپنے ملک میں اسرائیلی سفیر رکھنا انتہائی شرمناک ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان معمول پر لانے کے تمام اقدامات کو ختم اور منسوخ کیا جانا چاہیے۔ یہ کم از کم اتنا ہی ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔ لیکن انہیں امریکہ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عرب دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ بہت سے ممالک امریکہ کو تیل اور گیس اور مدد اور مارکیٹوں اور ہر چیز فراہم کرتے ہیں۔ اب امریکہ اس اسرائیلی جنگی جرم کی حمایت کر کے عملی طور پر ہمیں قتل کر رہا ہے۔ اور یہ بند ہونا چاہئے. جبکہ فلسطینی صدر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور عالمی رہنماؤں سے کہا ہے اسرائیل کے ظلم کیخلاف آواز بلند کریں.

    خیال رہے کہ پاکستان نے بھی اس کی مزمت ہے اور وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان غزہ کے الاہلی الممدانی ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ہسپتال پر حملہ، جہاں شہری پناہ اور ہنگامی علاج کی تلاش میں تھے، غیر انسانی اور ناقابل دفاع ہے۔ شہری آبادی اور تنصیبات کو اندھا دھند نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور محاصرے کے فوری خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے اور گزشتہ چند دنوں میں اسرائیلی حکام نے جس بے رحمی کے ساتھ کارروائیاں کی ہیں۔

  • لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    لیبیا میں طوفان اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے، جس کے نتیجے میں اموات کی تعداد 5 ہزار 200 ہوگئی، ان ہی حالات کے پیش نظرسڑکیں لاشوں سے بھر گئیں ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے، بڑی تعداد میں اموات ہونے کے ساتھ سیلابی ریلوں میں 10 ہزار افراد لاپتا ہوگئے ہیں طوفان اور سیلاب کی تباہی کے 36 گھنٹے بعد منگل کو ہی ساحلی شہر تک بیرونی امداد پہنچنا شروع ہوئی تھی سیلاب نے ڈیرنا تک رسائی کی کئی سڑکوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا۔

    مشرقی لیبیا کے وزیر صحت نے بتایا کہ ایک ہزار سے زیادہ لاشیں جمع کی گئیں، جن میں 700 لاشیں بھی شامل ہیں جنہیں اب تک دفنایا جا چکا ہےدیرنا کی ایمبولینس اتھارٹی نے موجودہ ہلاکتوں کی تعداد 2,300 بتائی ہے، دیرنا شہر کی متعدد کالونیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، دیرنا اور قریبی علاقوں میں زیادہ تباہی ڈیم ٹوٹنے سے ہوئی۔

    چین میں سیلاب سے فارم سےدرجنوں مگر مچھ فرار،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین

    یہ تباہی اتوار کی رات دیرنا اور مشرقی لیبیا کے دیگر حصوں میں ہوئی جیسے ہی طوفان نے ساحل کو ٹکرایا، دیرنا کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی اور محسوس کیا کہ شہر کے باہر ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔

    طوفان مشرقی لیبیا کے دیگر علاقوں سے ٹکرایا، جن میں بیدا قصبہ بھی شامل ہے۔حکومت کی جانب سے فیس بک پر شیئر کی گئی فوٹیج کے مطابق مرکزی اسپتال بیدا کا میڈیکل سینٹر سیلاب میں ڈوب گیا اور مریضوں کو وہاں سے نکالنا پڑا،جن دیگر قصبوں کو نقصان پہنچا ان میں سوسا، المرج اور شحط شامل ہیں۔ بن غازی اور مشرقی لیبیا کے دیگر مقامات پر سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے اور اسکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    لیبیا کے وزیر داخلہ عصام ابوزریبہ نے بتایا کہ سمندری طوفان کی تباہ کاریوں کے باعث حکومت نے بین الاقوامی اور مقامی ایجنسیوں سے فوری امداد کی اپیل کی ہے،سمندری طوفان کے باعث لیبیا کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔

  • بیجنگ میں شدید بارشیں، ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی

    بیجنگ میں شدید بارشیں، ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی

    بیجنگ: چین کے دارالحکومت میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی جب کہ 18 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں میں مزید 33 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 18 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بیجنگ کے مئیر نے بتایا تھا کہ بیجنگ میں مسلسل ہونے والی بارشوں میں انفراسٹر کچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی،جبکہ چین ایک ماہ کے دوران بارشوں میں ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 147 ہوگئی، بارشوں میں ہلاک ہونے والوں میں ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں تاہم انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    قبل ازیں 2 اگست کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والی بارشوں سے 140 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور اس دن 22 ہلاکتیں ہوئی تھیں،چینی محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کے مضافات میں واقع آبی ذخائر میں 744.8 ملی میٹر (29.3 انچ) بارش ریکارڈ کی گئی جو 1891 کے بعد ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے بیجنگ میں سمندری طوفان ڈوکسوری کی وجہ سے ہونے والی شدید بارشوں نے 140 سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔ مسلسل ہونے والی بارشوں نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی،پانی کے ریلے نے اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ سڑکیں زیر آب آگئیں۔ نشیبی علاقے ڈوب گئے۔ درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بل بورڈز گر پڑے۔

    تہران میں غیرقانونی بلڈنگ کو گرانا مہنگا پڑگیا،5 افراد ہلاک

    یجنگ میں جولائی کے ماہ میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جار رہا جس سے ڈیم بھر گئے تھے، ندیاں ابل پڑیں اور پانی کا ریلا رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا تھا جس کے بعد ان علاقوں سے ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جولائی 2012 کے بعد سے اتنا برا سیلاب نہیں دیکھا۔

  • خیبرپختونخوا میں  22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں 22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں خسرہ کیسز میں اضافہ،رواں سال 22 بچے خسرے سے جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں خسرہ سے سب سے زیادہ 462 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 بچے جاں بحق ہوئے۔چارسدہ میں 317، پشاور میں 226، باجوڑ میں 166 اور مردان میں خسرہ کے 161 کیسز سامنے آئے جبکہ صوابی 136، نوشہرہ، لکی مروت، اور کرک میں 171 بچے متاثر ہوئے ذرائع محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں باقاعدہ ویکسینیشن نہ ہونے سے خسرہ وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب کے محکمہ صحت نے بھی خسرہ کے کیسز کی تفصیلات بتائی تھیں، صوبائی محکمہ صحت نے کہا تھا کہ اپریل سے مئی کے دوران 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاہور میں 580 سے زائد بچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ راولپنڈی سے 521، حافظ آباد 114، جھنگ 99، شیخوپورہ 72 کیسز رپورٹ ہوئےقصور56، سیالکوٹ 49، ٹوبہ ٹیک سنگھ 43، فیصل آباد سے 42 بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ صوبے کی 265 یونین کونسلز میں کیس رسپانس کیا جارہا ہے 265 متاثرہ یونین کونسلز میں چھ ماہ سے پانچ سال بچوں کی ویکسینیشن ہورہی ہے، خسرے سے بچاؤ کی اضافی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بجھوائی جارہی ہیں-

    امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات

    خسرہ ایک ایسی انفیکشن ھے جو وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ِ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتی ہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینک مارتا ہےتو نہایت چھوٹےآلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیاء پر گر جاتے ہیں۔ آپکا بچہ یا تو ڈائیرکٹ سانس کے ساتھ اندر لے لیتا ہے یا پھر آلودہ اشیاء کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانون لگاتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیرمعمولی اضافہ

    خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ھیں اور جو کہ دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ مین انفیکشن ہوتی ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کےاوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دانے بازوں، ہاتھوں، ٹانگوں،اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرح دانے بڑھے تھے اسی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں-

    خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع

  • یونان:تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 117 افراد ڈوب گئے

    یونان:تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 117 افراد ڈوب گئے

    یونان کے سمندر میں تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں 117 افراد ڈوب گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی کے مطابق یونان کےسمندرمیں تارکین وطن کی کشتی گنجائش سے زیادہ افراد کے سوار ہونے کے باعث تیز ہواؤں کے تھپیڑوں اور بلند لہروں کا مقابلہ نہ کرسکی کشتی کا توازن بگڑا اور وہ الٹ گئی کشتی میں 117 افراد سوار تھے جو پانی میں ڈوب گئے۔ فوجی طیارے، ہیلی کاپٹر اور 6 کشتیوں کے ساتھ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ریسکیو اہلکاروں نے 100 افراد کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا جب کہ 17 افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔

    پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے ،بلوم برگ

    ترجمان کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ حادثہ بحیرہ آیونی میں پیش آیا تھا۔ 4 تارکین وطن کی حالت نازک ہے جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑے اسپتال منتقل کر دیا گیاکشتی میں کسی نے بھی لائف جیکٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔ حادثے کی شکار کشتی کے تارکین وطن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ تارکین وطن لیبیا سے اٹلی جا رہے تھے۔

    یونان کی بندرگاہ کی پولیس کے مطابق 80 تارکین وطن کو لے جانے والی ایک بادبانی کشتی کو بھنور میں پھنس جانے پر کوسٹ گارڈ کی کشتی نے بچالیا۔ کشتی کو کھینچ کر بندرگاہ لایا گیا۔

    واٹس ایپ میں نئے فیچر کا اضافہ

    دوسری جانب نائیجیریا میں دریا میں کشتی الٹنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے خلیجی میڈیا کے مطابق شمالی نائیجیریا میں مقامی افراد کشتی میں سوار ہوکر شادی سے واپس آرہے تھے کہ دوران سفر کشتی حادثے کا شکار ہوکر الٹ گئی کشتی میں متعدد افراد سوارتھے جن میں سے 100 سے زائد افراد کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ دریا میں ڈوبنے والے دیگرافراد کی تلاش جاری ہے-


    پولیس کے مطابق یہ حادثہ پیر کی صبح کوارا اسٹیٹ کے دریائے نائیجر میں پیش آیا جس میں 103 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 100 سے زائد افرد کو ریسکیو کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے جب کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو ایک قریبی گاؤں میں ہونے والی شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے حادثہ مقامی وقت کے مطابق رات 3 بجے پیش آیا اور رات کے اندھیرے کی وجہ سے حادثے کا علم نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

    طوفان کے پیش نظر ایٹمی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں کمی

  • سندھ میں ایچ آئی وی سے 300 سے زائد بچے جاں بحق ہوئے،محکمہ صحت سندھ

    سندھ میں ایچ آئی وی سے 300 سے زائد بچے جاں بحق ہوئے،محکمہ صحت سندھ

    سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 324 بچوں کے جاں بحق ہونےکا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 324 بچے چار سال میں جاں بحق ہوئے ہیں، ایک سال کے دوران ایچ آئی وی سے متاثرہ 164 بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

    پشاور پولیس لائن مسجد دھماکہ کے دو سہولت کار گرفتار

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہےکہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 2 ہزار 865 ہو چکی ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران ایچ آئی وی سے17 مز ید بچے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ جاں بحق بچوں میں لڑکوں کی تعداد 207 ہے، چارسال میں جاںبحق ہونے والے بچوں میں لڑکیوں کی تعداد 117 ہے۔

    چین میں 49 فٹ سے زائد لمبی گردن والا ڈائنوسار دریافت

    بچوں کے متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ میرکا کہنا ہےکہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے مرنےکی بڑی وجہ ٹی بی تھی، ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں میں خون کی کمی اور ویکسینیشن نہ ہوناعام ہے، ایچ آئی وی سےمتاثرہ بچوں میں ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی عام ہے۔

    تحریک انصاف اتوار کو مینار پاکستان جلسہ نہیں کرے گی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم

  • این ای ڈی یونیورسٹی کے طالبعلم بلال ناصر کا قاتل افغان شہری نکلا:انکشافات

    این ای ڈی یونیورسٹی کے طالبعلم بلال ناصر کا قاتل افغان شہری نکلا:انکشافات

    کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر این ای ڈی یونیورسٹی کے طالبعلم بلال ناصر کا قاتل افغان شہری نکلا۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ملزم کی عمر 16 سال ہے۔ گرفتار ملزم تاجک افغان ہے۔

    کراچی پولیس چیف نے کہا کہ واردات میں ملوث دوسرے ملزم کو بھی شناخت کرلیا گیا ہے، ملزم کا ساتھی بھی تاجک افغان ہے۔ ملزم کے قریبی دوست عزیز کو شامل تفتیش کرلیاگیاہے۔

     

    جاویدعالم اوڈھو نے کہا کہ 15 دسمبر کو یونیورسٹی روڈپرنوجوان کوڈاکوؤں نےقتل کیا۔ سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کو زخمی حالت میں گرفتارکیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز 15 دسمبر کو این ای ڈی یونیورسٹی کے سامنے چائے خانے پر ڈکیتوں نے دھاوا بولا تھا، اس موقع پر چائے کے ہوٹل پر بیٹھے این ای ڈی کے طالبعلم بلال ناصر نے ایک ڈکیت کو دبوچنے کی کوشش کی جس پر ملزم کے ساتھی کی فائرنگ سے بلال زندگی کی بازی ہارگیا تھا۔

    پولیس کے مطابق بلال ناصر کے قتل کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں مبینہ ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں 2 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

    دوسری جانب مقتول بلال ناصر کی نماز جنازہ دستگیر میں ادا کردی گئی جس میں این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علموں، مقتول کے دوستوں، عزیز و اقارب سمیت اہل محلہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واقعے کیخلاف این ای ڈی کے طلباء نے یونیورسٹی روڈ پر احتجاج کیا اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا ذمہ دار پولیس اور حکومت کو قرار دیا۔

    احتجاج میں شریک امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہفتے کو یوم سیاہ اور پیر کو این ای ڈی میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان بھی تعزیت کیلئے مقتول بلال ناصر کے گھر پہنچے اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔