Baaghi TV

Tag: ہندوستان

  • اردو اپنانے سے ہی انگریز کی باقیات سے جان چھوٹے گی. حمزہ شفقات

    اردو اپنانے سے ہی انگریز کی باقیات سے جان چھوٹے گی. حمزہ شفقات

    ‏ماہر لسانیات ٹام مکارتھر کے مطابق پاکستان میں انگلش لکھنے والے لوگ  چار فیصد سے بھی کم ہیں۔ 

    پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 251 کے مطابق سپریم کورٹ اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ لیکن ابھی تک اس کو عملی جامہ پہنانے میں بیوروکریسی کامیاب نہ ہو پائی۔

    ماضی قریب میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر رہ چکے حمزہ شفقات نے اپنے ٹوئیٹر تھریڈ میں ماہر لسانیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں انگریزی زبان لکھنے والے چار فیصد ہیں۔

    وہ مزید کہتے ہیں: ‏مقابلے کے تمام امتحانات، سرکاری محکموں کی فائلیں سبھی انگلش میں ہیں۔ اس وجہ سے اکثریت کام کرتے وقت الجھی رہتی ہے۔ اور انہیں %4 کی اجارہ داری رہتی ہے۔ شاید یہ بھی طبقاتی تقسیم کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ رسولوں کو ان کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا تاکہ ‏پیغام صحیح پہنچے۔


    انکے مطابق: اردو زبان پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے اور ہمارے قومی تشخص کی ضامن ۔ زندہ قومیں اپنی زبان کو بولتی بھی ہیں، سیکھتی بھی ہیں اور اس پر فخر بھی کرتی ہیں۔ انگلش کو سٹیٹس سمبل نہ بنائیں ۔ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس کی حاکمیت سے انکار ضروری ہے۔

    شفقات نے کہا: ‏اردو اپنانے سے ہی انگریز سرکار کی باقیات سے جان چھٹے گی۔ ہماری زبان تو عربی اور فارسی کا حسین امتزاج ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی پہلی دس زبانوں میں ہے۔ داغ دہلوی کیا اچھا فرماگئے ہیں
    انہوں نے آخر میں ایک شعر کہا کہ:
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ​

    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    حمزہ شفقات کے تھریڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد پریس کلب کے صدر انور رضا کہتے ہیں: ‏‎بلاشبہ آپ نے درست نشاندہی کی لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بیوروکریسی جب کوئی کام کرنا چاہتی ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت  نہیں روک سکتی اور جب اگر بیوروکریسی نے کوئی کام نہ کرنا ہو تو کوئی طاقت ان سے وہ نہیں کروا سکتی۔

    ان کا کہنا تھا: یقیناً ہمیں اردو کو فروغ دینے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    انجینئر محمد شہزاد نے توجہ دلائی کہ: ہمارا وفاق اور صوبے آزاد کشمیر کے اردو کے پروٹوکول کی پیروی کیوں نہیں کرتا کیونکہ وہاں سرکاری طور قومی زبان اردو میں اعلامیے جاری کئے  جاتے ہیں۔

    یہاں پر انہوں نے آزاد کشمیر حکومت کا جاری کردہ اعلامیہ جو اردو میں ہے بھی پیش کیا۔

  • بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین کااطلاق:کیاعملدرآمد بھی ہوگا؟

    بھارت میں سزاکےطورپرمسلمانوں کےمکانات کی مسماری اوراُن پربین اقوامی قوانین کااطلاق:کیاعملدرآمد بھی ہوگا؟

    🔺بھارت میں سزا کے طور پر مسلمانوں کے مکانات کی مسماری اور اُن پر بین اقوامی قوانین کا اطلاق:
    کیا عالمی برادری ان قوانین پرعمل کرپائے گی
    یا
    پھرجبر،ظلم اوردہشت گردی کے سامنے ڈھیرہوجائے گی: ایک سوال ہے جس کے جواب کا اتنظار رہے گا

    ▪️بطور سزا مکانات کی مسماری:
    بغیر مطلوبہ عدالتی کارروائی کے ایک انتظامی فیصلے کے تحت، بے گناہ لوگوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخل کرنا، اور دوسروں کے مبینہ ‘جرائم’ کی اجتماعی سزا کے طور پر ان کی نجی املاک کو تباہ کرنا۔

    آسامی مسلمانوں کی زندگیاں مشکل میں :پولیس چُن چُن کرمسلمانوں کوقتل کرنے لگی

    ▪️رہائش کا حق – تسلیم شدہ بین الاقوامی انسانی حقوق:
    :- انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل 25 – ہر ایک کو اپنی اور اپنے خاندان کی صحت اور بہبود کے لیے مناسب معیار زندگی بشمول خوراک ، لباس رہائش اور طبی دیکھ بھال کا حق دیتا ہے۔

    :- اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICESCR) کا آرٹیکل 11.1 – ہر شخص کو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مناسب خوراک، لباس اور رہائش سمیت مناسب معیار زندگی اور اپنی حالاتِ زندگی میں مسلسل بہتری لانے کا حق دیتا ہے

    :- تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق، جیسے کہ مناسب رہائش کا حق، کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا

    ▪️نجی املاک کا تحفظ – تسلیم شدہ بین الاقوامی انسانی حقوق
    :- انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل (2)17- کے مطابق کسی کو بھی اپنی مرضی سےنشانہ بنا کر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    :- انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کا آرٹیکل 8 – نجی اور خاندانی زندگی، گھر اور خط و کتابت کے احترام کا حق دیتا ھے۔

    ‏:- شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 17 – ہر شخص کو بذات خود یا دوسروں کے ساتھ مل کر جائیداد کی ملکیت کا حق حاصل دیتا ہے اور کسی کو زبردستی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

    :-ظالمانہ، غیر انسانی، ذلت آمیز سلوک، اور سزا کے خلاف تحفظ – بین الاقوامی انسانی حقوق‏- تشدد کے خلاف کنونشن کا آرٹیکل 16 – صریحا بطور سزا جائیداد کے انہدام کی ممانعت کرتا ہے۔

    :-انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (UDHR) کا آرٹیکل 5 – تشدد یا ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک یا سزا کی ممانعت کرتا ہے۔

    :-قانون عمل پر مناسب عمل داری کی ضرورت – بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون
    :-یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) کا آرٹیکل 11 – کسی بھی فرد جس پر تعزیری جرم کا الزام عائد ہو اسے معصوم تصور کرنے کا حق دیتا ہے جب تک کہ کسی عوامی مقدمے میں قانون کے مطابق مجرم ثابت نہ ہو جائے اور مقدمہ بھی وہ جس میں اسے اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری ضمانتیں حاصل ہو چکی ہوں۔

    ‏:- شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل (2)14: جرم ثابت ہونے تک بے گناہ متصور ہونے کا حق۔

    مسلح تصادم کے دوران ممنوعات:
    مقبوضہ علاقوں میں بھی نجی املاک کا تحفظ – بین الاقوامی انسانی قانون۔ جس کے مطابق:
    :- سٹیٹس قو۔ لیگ قوانین کا آرٹیکل 43 – قابض قوت مقبوضہ علاقے کی جنگ سے پہلے والی حالت کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

    :- کم از کم انسانی ہمدردی کی ضمانتیں: چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 64 – قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے میں ایسے قوانین میں ردوبدل کرنے کی اجازت ہے جو جنیوا کنونشن میں پیش کی گئی کم از کم انسانی ہمدردی کی ضمانتوں پر پورا نہیں اترتے۔

    :- نجی املاک کا تحفظ: دی ہیگ ریگولیشنز کا آرٹیکل 46 – نجی املاک کو ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”505811″ /]

    :- املاک کی تباہی کی ممانعت: چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 53 – مقبوضہ آبادی کی املاک کی تباہی ممنوع ہے "سوائے اس کے جہاں ایسی تباہی فوجی کارروائیوں کے ذریعے بالکل ضروری ہو”۔

    ▪️اجتماعی سزا کی ممانعت
    :- دی ہیگ ریگولیشنز کا آرٹیکل 50
    :- چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 33
    :-ایڈیشنل پروٹوکول 1 کا آرٹیکل 75
    :-روایتی بین الاقوامی قانون
    :-چوتھے جنیوا کنونشن پر ICRC کمنٹریز: انسانیت کے بنیادی اصولوں کی بر خلاف افراد یا افراد کے مجموعے پر ایسے افعال کی وجہ سے جو انھوں نے نا کیے ہوں عائد جرمانے

  • بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

    بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

    وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے ہفتہ کو بتایا کہ ہندوستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2,858 نئے کوویڈ 19 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ 11 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ CoVID-19 کی وجہ سے نئی اموات کے اضافے کے ساتھ، ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد اب 5,24,201 ہے۔

    وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 3,355 بازیافتیں ہوئیں، جس سے صحت یابی کی کل شرح 98.74 فیصد ہوگئی۔ صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 4,25,76,815 تک پہنچ گئی۔ وزارت نے کہا کہ ملک میں کوویڈ 19 کے کل فعال کیس کم ہو کر 18,096 ہو گئے ہیں۔ ہفتہ کو یومیہ مثبتیت کی شرح 0.59 فیصد تھی جبکہ ہفتہ وار مثبتیت کی شرح 0.66 فیصد تھی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کل 4,86,963 ٹیسٹ کیے گئے جس سے مجموعی ٹیسٹوں کی تعداد 84.34 کروڑ ہو گئی۔ وزارت نے کہا کہ ملک گیر ویکسینیشن مہم کے تحت اب تک کل 191.15 کروڑ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

    ادھر شمالی کوریا نے کورونا کے باعث 6 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی ملک میں موجودگی سے انکارکرنے والی شمالی کوریا کی حکومت نے وائرس سے 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔شمالی کوریا حکام کے مطابق ہلاک افراد میں ایک شخص اومیکرون میں مبتلا تھا جبکہ ساڑھے 3 لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ ان افراد میں نزلہ، بخار سمیت کورونا کی دیگرعلامات پائی گئی ہیں۔

  • ہندوستان میں قیامت خیزگرمی؛آسمان سے پرندوں کی بارش

    ہندوستان میں قیامت خیزگرمی؛آسمان سے پرندوں کی بارش

    نئی دہلی :ہندوستان میں قیامت خیزگرمی؛آسمان سے پرندوں کی بارش،اطلاعات کےمطابق بھارت میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر نے فضاؤں میں اُڑان بھرنے والے پرندوں پر قہرڈھادیا۔

    پاکستان کی طرح بھارت اور خطے کے دیگر ممالک بھی ان دنوں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔ بھارت کی کئی ریاستوں میں گرمی اس قدر شدید ہے کہ اڑتے پرندے بھی آسمان سے گرنے لگے ہیں۔

    ریاست گجرات میں امدادی کارکن روزانہ کی بنیاد پر زمین پر گرنے والے درجنوں پرندوں کو اُٹھار ہے ہیں۔ سڑکوں پر پڑے پیاسے پرندے موت کے دہانے پر آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔

    ویٹرنری ڈاکٹرز اور جانوروں کو بچانے والے امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ گرمی کی بدترین شدید لہرکی وجہ سے پانی کے ذخیرے خشک ہورہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں چلچلاتی گرمی سے دوچار ہونے ہزاروں پرندوں کا علاج کیا گیا ہے۔

    گجرات میں صحت کے حکام نے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دوسری بیماریوں کے لئے اسپتالوں میں خصوصی وارڈز قائم کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت میں آگ برساتی گرمی کی لہر نے 66 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کرگیا ہے جب کہ شدید حبس کی وجہ سے گرمی کی شدت اس سے کئی درجے زیادہ محسوس ہورہی ہے۔

  • بھارت:جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو

    بھارت:جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو

    راجھستان :جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست راجھستان کے شہر جودھ پور میں جاری ہندو مسلم فسادات عید کے دن بھی تھم نہ سکے، جنونی ہندوؤں نے عید گاہ سے لاؤڈ اسپیکر اتار دیا۔اس سے قبل جنونی ہندؤوں نے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو جماعت کا جھنڈا لگا کر شرپسندی کو ہوا دی۔

    انتہا پسند ہندوؤں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آج عید کے دن عید گاہ پر لگے جھنڈے کا اتار کر اپنا جھنڈا لگا دیا اور لاؤڈ اسپیکر اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔

    جنونی ہندوؤں کی اشتعال انگیز حرکت پر عید کی نماز پڑھنے کے لئے آنے والے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا، مسلمانوں نے عید کی نماز کے بعد اس واقعے پر احتجاج کیا۔مظاہرین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی ایم ایل اے کے گھر پر کھڑی موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔

    پولیس نے احتجاج کرنے والے نہتے مسلمانوں پر لاٹھیوں کی بارش کر دی اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا، پولیس نے 10 افراد کو حراست میں لے لیا۔اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی برقرار ہے ، انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔

    اس افسوسناک واقعہ کے بعد ابھی تک حکمراں جماعت بی جے پی کا موقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اس ظلم پر کوئی بیان دیا ہے۔

  • لاؤڈ سپیکر پر پابندی ۔ممبئی کی گلیوں میں مسلمانوں کی اجتماعی اذان

    لاؤڈ سپیکر پر پابندی ۔ممبئی کی گلیوں میں مسلمانوں کی اجتماعی اذان

    اترپردیش : بھارت میں مسلمانوں کا لہو پانی سے بھی سستا تو تھا ہی لیکن انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی مسلمانوں کیلئے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی ادائیگی مشکل بنا دی تو انڈین مسلمانوں نے بھی اسکا انوکھا توڑ نکال لیا۔

    ممبئی شہر کی بیشتر مساجد نے نے نما ز فجر کے وقت لاؤڈاسپیکر کا استعمال ترک کردیا ہے لیکن انہوں نے اب سڑک پر کھڑے ہوکر باجماعت اذان دینا شروع کردی ہے ۔

    یادرہے ہندو انتہا پسند رہنما راج ٹھاکرے نے لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کے معاملے میں اشتعال انگیزی کرتے ہوئے 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈاسپیکر کو ہٹانے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ مساجد سے لاؤڈاسپیکر نا ہٹانے کی صورت میں راج ٹھاکرے نے مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ بجانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

    جس پر ممبئی کی 72 فیصد مساجد نے فجر کی اذان کے وقت لاؤڈاسپیکر کی آواز کو از خود کم کر لیا ہے اور بیشتر مساجد نے فجر کی اذان لاؤڈاسپیکر پر دینے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔

    یادرہے اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے 2005 کے صوتی آلودگی سے متعلق اپنے فیصلے میں رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججمنٹ کی روشنی میں مساجد نے فجر کی اذان کے وقت لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر قابو پاتے ہوئے صوتی آلودگی قانون پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    بھارتی گجرات کی ریاستی حکومت نے بھی مذہبی مقامات پر لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے لئے اجازت نامے کو لازمی قرار دیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے گزشتہ دنوں ریاست مہاراشٹر کے ڈی جی پی اور کمشنر سمیت اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے متعلق رہنمایانہ خطوط کو طے کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  • زیادہ بچے پیدا کریں، ورنہ ہندوستان سے ہندوختم ہو جائیں گے

    زیادہ بچے پیدا کریں، ورنہ ہندوستان سے ہندوختم ہو جائیں گے

    متھرا: ہریدوار نفرت انگیز تقریر کیس میں ضمانت پر باہر آنے والے متنازعہ شخصیت نرسنگھ نند نے ہندوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والی دہائیوں میں ملک کو ہندو کم ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ بچے پیدا کریں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق متنازعہ شخصیت نرسنگھ نند نے کہا کہ ریاضی کے حساب سے کہا گیا ہے کہ 2029 میں ایک غیر ہندو وزیر اعظم بنے گا، غازی آباد کے ڈاسنا مندر کے بڑے پجاری نے جمعرات کو گووردھن میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچا-

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    اس نے کہا کہ اگر ایک بار کوئی غیر ہندو وزیر اعظم بن جاتا ہے تو 20 سالوں میں یہ ملک ‘ہندو وہین’ (ہندو سے کم) قوم بن جائے گاہندوتوا کو بیدار کرنے کے لیے متھرا-گووردھن خطہ میں 12 اگست سے 14 اگست تک دھرم سنسد کا انعقاد کیا جائے گا۔

    نرسنگھ نند کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر گزشتہ سال 17 سے 19 دسمبر تک ہریدوار میں دھرم سنسد کا اہتمام کیا تھا، جہاں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی گئی تھیں۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    اس نے قبل ازیں دہلی کے بروری گراؤنڈ میں ایک ‘ہندو مہاپنچایت’ میں بھی حصہ لیا اور کہا تھا کہ ہ اگر بھارت میں کوئی مسلمان وزیر اعظم بن جاتا ہے، تو آئندہ بیس برس کے دوران آپ میں سے 50 فیصد اپنا عقیدہ بدل دیں گے اور باقی 40 فیصد ہندو مار دیئے جائیں گے جس کے بعد اس نے مزید کہا تھا کہ تو یہ ہے ہندوؤں کا مستقبل، اگر آپ اسے بدلنا چاہتے ہیں تو مرد بنو۔ اور مرد ہونا کیا ہے؟ وہ شخص جو ہتھیاروں سے لیس ہو۔

    انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ،…

  • بیٹی کی لاش کندھےپراٹھا کر10کلومیٹرپیدل سفرکرنےوالےباپ کی دردناک کہانی نےسب کورُلا دیا

    بیٹی کی لاش کندھےپراٹھا کر10کلومیٹرپیدل سفرکرنےوالےباپ کی دردناک کہانی نےسب کورُلا دیا

    نئی دہلی: بھارت میں بیٹی کی لاش کندھے پراٹھا کرپیدل گھرلے جانے والے باپ کی ویڈیو نے دیکھنے والوں کورلا دیا۔

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے رہائشی ایشورداس نے تیز بخار میں مبتلا اپنی 7سالہ بیٹی کو ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کیا تھا جہاں چند گھنٹوں بعد وہ چل بسی۔سرکاری اسپتال کی انتظامیہ نے بچی کے باپ کو ایمبولینس فراہم نہ کی تومجبورا باپ کو بیٹی کی لاش کندھے پررکھ کرگھرلے جانا پڑا۔ باپ نے بیٹی کی لاش کولے کر10کلومیٹرپیدل سفرکیا۔

    مجبورباپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔سوشل میڈیا صارفین نےاسپتال اورمقامی انتظامیہ کوہٹانے کا مطالبہ کیا۔مقامی وزیرصحت نے استعفیٰ دینےکےبجائے ذمہ دارباپ کے اوپرکے ڈال دی کہ انہیں لاش لےجانےکےلئے ایمبولینس کا انتظارکرنا چاہئیے تھا۔

     

    یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بھارت میں درجنوں ایسے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جس میں بےبس ماں باپ اپنے دنیا سے کوچ کرجانےوالے بچوں کو ایسے ہی کندھوں پر اٹھاکرمیلوں‌ لمبا سفرپیدل طئے کرکے گھرواپس پہنچتے ہیں

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کےبرابرہیں اور صحت کا نظام صرف طاقتوروں کو ہی سپورٹ کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امیروں کے لیے تمام ترسہولیات ہیں جبکہ غریبوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں

     

  • بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    بھارت: حجاب پرپابندی : چار سو سے زائد مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی

    ممبئی: بھارت: حجاب معاملہ ،مسلمانوں‌ کے لیے مزید مشکلات آنے لگیں ، ہرطرف خوف وہراس کی کیفیت ہے ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خلاف بطور احتجاج اب تک 4سو مسلم طالبات نے پڑھائی چھوڑ دی دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حجاب کی عظمت کی برقرار رکھنے کیلئے اپنی پڑھائی ترک کرنے والی ان طالبات کاکہناہے کہ ہم اپنا مستقبل داﺅ پر لگا سکتی ہیں لیکن حجاب معاملے میں سود نہیں کرسکیں۔ سینئر بھارتی سیاسی رہنما اور وی کے انگلش سکول کے چیئرمین وکیل خان نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ایسی طالبات کی ہمت افرائی ضروری ہے اور ایمان و عقیدہ کی نگہبان لڑکیوں کے روشن مستقبل کیلئے جنگی بنیادوں پر تعلیمی اداروںکا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکوں نے گزشتہ کچھ عرصے سے تعلیمی محاذپر جو نمایاںکامیابی حاصل کی ہے اس سے بوکھلا کر آر ایس ایس کی حکومت بے تکے اور اوچھے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے باضمیر اور امیر طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمان طالبات کے لیے تعلیمی ادارے قائم کریں کیونکہ اندیشہ ہے کہ حجاب کا معاملہ اب پورے بھارت میں پھیلے گا۔ وکیل خان نے کہا کہ اگر ہم نے بروقت زخم کا علاج نہیں کیا تو یہ ناسور کی شکل اختیار کر جائے گا۔

    ادھر ذرائع کے کے مطابق ریاست کے ساحلی شہر منگلورو کے دو مندروں کے میلوں میں مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کیا جا جا رہا ہے ۔ منگلا دیوی مندر اور بپاناڈو درگاہ پر میشوری مندر کے سالانہ میلوں میں مسلمان تاجروں کو دکانین لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں مندروں کے باہر بینر لگائے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ غیر ہندوﺅں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیںہوگی۔ ایک بینر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک کے دستور کی مخالف اور گاﺅ کشی کرنے والوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مسلمان تاجروں کا بائیکاٹ کرنے کے حوالے سے ہندو تنظیمیں مندروں کی انتظامیہ پر دباﺅ ڈال رہی ہے ۔

    کرناٹک کے ایک اور شہر شیموگہ میں بھی اس طرح کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ماری کنمبا مندر کے میلے میں ہر سال دکانوں کا ٹینڈر ایک غیر ہندو کے نام ہوتا تھا لیکن ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کے ایک رہنما نے غیر ہندوﺅں کو ٹینڈر دینے کی مخالف کرتے ہوئے خود نو لاکھ سے زائد رقم دیکر ٹینڈر اپنے نام کر لیا ہے ۔

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔